انسان کی زندگی میں بہت سی مصروفیات اور ترجیحات ہوتی ہیں، مگر ایک مؤمن کی اصل پہچان اس کا اپنے رب سے تعلق ہے۔ یہ تعلق دو بنیادی ستونوں پر قائم ہے: نماز اور قرآن۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک دوسرے سے گہرا اور لازمی رشتہ رکھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح نماز کو فرض قرار دیا، اسی طرح نماز کے اندر قرآن کی تلاوت کو بھی لازم قرار دیا۔ کوئی نماز ایسی نہیں جس میں قرآن کے بغیر ادائیگی ممکن ہو۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ تلاوت عربی زبان میں ہی معتبر ہے۔ اس میں ایک بہت بڑا پیغام پوشیدہ ہے:
جس رب کا کلام قرآن ہے، اس کلام کو اسی زبان میں پڑھنا اور سمجھنا بندے کے لیے ضروری ہے۔
اگر ایک انسان قرآن کو صرف ترجمے کے ذریعے سمجھے لیکن اصل زبان سے ناواقف رہے تو وہ اس کلام کی اصل تاثیر، اس کی لطافت، اور اس کے براہِ راست پیغام سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ قرآن صرف معلومات کی کتاب نہیں، بلکہ کلامُ اللہ ہے—اور کلام ہمیشہ اپنے اصل الفاظ میں زیادہ زندہ اور مؤثر ہوتا ہے۔
درحقیقت نماز ایک ایسا لمحہ ہے جب بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ کھڑا ہوتا ہے، قرآن پڑھتا ہے، جھکتا ہے، سجدہ کرتا ہے—یہ سب ایک زندہ مکالمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
نبی کریم ﷺ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ نبوت کے ابتدائی دور میں ہی اللہ تعالیٰ نے سورہ المزمل میں حکم دیا کہ رات کے ایک بڑے حصے میں قیام کریں، قرآن کی تلاوت کریں—کبھی آدھی رات، کبھی اس سے کم، کبھی اس سے زیادہ۔ یہ کوئی معمولی حکم نہیں تھا، بلکہ اس کے ذریعے ایک عظیم حقیقت سکھائی جا رہی تھی:
قرآن سے تعلق وقتی نہیں بلکہ مسلسل اور زندہ ہونا چاہیے۔
نبی ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر، غور و فکر کے ساتھ پڑھتے، آیات پر رکتے، دعا کرتے، روتے—یعنی قرآن آپ کی زندگی کا مرکز تھا۔ یہی تعلق صحابہ کرامؓ میں منتقل ہوا، اور اسی تعلق نے انہیں دنیا کا امام بنا دیا۔
آج ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس قرآن نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا قرآن سے تعلق کمزور ہو چکا ہے۔ ہم اسے کبھی کبھار پڑھتے ہیں، جلدی جلدی ختم کرتے ہیں، اور پھر بند کر کے رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جسے ایک بار مکمل کر کے چھوڑ دیا جائے، بلکہ:
یہ ایک مؤمن کا ہمیشہ کا ساتھی ہے—زندگی کے آخری سانس تک۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن صرف دنیا تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ قبر سے لے کر حشر کے میدان تک انسان کے ساتھ ہوگا۔ یہ یا تو ہمارے حق میں گواہی دے گا یا ہمارے خلاف۔
اگر ہم نے اسے پڑھا، سمجھا، اس پر عمل کیا—تو یہ ہمارا وکیل بنے گا۔
اور اگر ہم نے اسے نظر انداز کیا—تو یہی قرآن ہمارے خلاف حجت بن جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے ایک سنجیدہ سوال کرنا چاہیے:
کیا ہمارا قرآن سے تعلق صرف الفاظ تک محدود ہے یا ہم واقعی اس کے پیغام سے جڑ رہے ہیں؟
کیا ہم نماز میں جو پڑھتے ہیں، اسے سمجھتے بھی ہیں؟
اگر ہم واقعی قرآن کے حق کو ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی زبان، یعنی عربی سے بھی ایک حد تک واقفیت حاصل کرنی ہوگی۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، بلکہ ایک عظیم سعادت ہے—کیونکہ اس کے ذریعے ہم براہِ راست اپنے رب کے کلام کو سمجھ سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہے کہ:
نماز جسم کی عبادت نہیں، بلکہ اللہ سے روح کا اتصال ہے۔اور قرآن اس اتصال کی زبان ہے۔
جب یہ دونوں چیزیں جمع ہو جاتی ہیں—یعنی نماز بھی ہو اور قرآن کا شعور بھی—تو انسان کی زندگی بدل جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سیکھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو قرآن کے ساتھ جیتے ہیں اور قرآن کے ساتھ ہی اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔ آمین
آخر میں یہ حقیقت دل کو جھنجھوڑ دینے والی ہے کہ آج ہمارا قرآن سے وہ زندہ اور بامقصد تعلق باقی نہیں رہا۔ ایک بڑا طبقہ—حتیٰ کہ ہمارے معاشرے میں اندازاً 90 فیصد افراد—یا تو قرآن کی تلاوت سے دور ہے، یا صرف الفاظ پڑھ لیتا ہے مگر اس کے معانی اور مطالب سے ناواقف رہتا ہے۔ نتیجتاً قرآن ہماری زندگیوں کی رہنمائی کے بجائے محض ایک رسم بن کر رہ گیا ہے۔ اسی خلا کو دور کرنے کے لیے آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ آج ہی سے قرآن اور نماز کے ساتھ اپنا زندہ تعلق قائم کریں—قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، نماز میں شعور کے ساتھ تلاوت کریں، اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔