اردو دائرہ معارف القرآن
یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
سورۃ النحل کا ایک تجزیاتی مطالعہ : نعمتوں کے ہجوم میں گم ہوتی ہوئی حقیقت
دنیا آٹومیشن پر نہیں، سنتِ الٰہیہ پر چلتی ہے
حضرت داؤدؑ کے نغمے: قرآن اور زبور کا ایک تقابلی مطالعہ
انسانی خواہشات: قرآن کا نفسیاتی تجزیہ
جہنم کے کنارے کھڑا ہوا دوست۔۔۔۔۔۔۔
حق و باطل کا قرآنی میزان
"لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ قرآن مجید کے مختلف سیاق وسباق میں
"لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ ہے، جو توحید (اللہ کی وحدانیت) اور رسالت (محمد ﷺ کی رسالت) پر ایمان کا اعلان ہے۔ اس کلمہ کے دو بڑے اجزاء ہیں:
-
لا إله إلا الله – اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
-
محمد رسول الله – محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
قرآن مجید میں یہ دونوں اجزاء مختلف سیاق و سباق میں بہت مرتبہ آئے ہیں۔ ذیل میں ان سے متعلقہ آیات کی ایک اشاریہ (index) یا فہرست پیش کی جا رہی ہے، تاکہ ان دونوں حصوں کی تفہیم قرآن کی روشنی میں کی جا سکے:
حصہ اول: لا إله إلا الله (توحید - اللہ کی وحدانیت)
1. سورہ البقرہ (2:255) – آیت الکرسی
اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ...اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے۔
2. سورہ آل عمران (3:18)
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ...اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
3. سورہ طہ (20:14)
إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي...میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔
4. سورہ الانبیاء (21:25)
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِہر رسول کو یہی وحی کی گئی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔
5. سورہ الصافات (37:35)
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَجب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں" تو وہ تکبر کرتے۔
حصہ دوم: محمد رسول الله (رسالتِ محمد ﷺ)
1. سورہ الفتح (48:29)
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ...محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں...
2. سورہ محمد (47:2)
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ...اور جنہوں نے ایمان لایا اور نیک عمل کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کیا گیا...
3. سورہ آل عمران (3:144)
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ...محمد تو ایک رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں۔
4. سورہ احزاب (33:40)
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ...محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔
عنوان : قرآن حکیم اور ہماری زندگی
آج ہمارا ملک اور معاشرہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ہم دشمن کی سازشوں، ستم ظریفیوں اور بیرونی دباؤ کا شکار ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنے کردار کی پستی، اخلاقی انحطاط، اور اجتماعی بداعمالیوں سے اس وطن کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ گویا ہم بیرونی دشمن سے زیادہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن ، یعنی نفس، حرص، جھوٹ، ظلم اور ناانصافی کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔
کیا فہم، ترجمہ اور تفسیر قرآن میں مداخلت ہے؟ ایک فتنہ انگیز مغالطے کا علمی رد
قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، جس میں کسی تحریف یا تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ اس بات پر ایمان ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ تاہم بعض افراد یہ فتنہ انگیز دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر، ترجمہ یا فہم پیش کرنا "قرآن میں مداخلت" ہے، اور اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔ اس دعوے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ خود قرآن کو "مہجور" کرنے کے مترادف ہے، نہ کہ اس کا دفاع۔
فہمِ قرآن کا انکار، قرآن کے مقصد کا انکار ہے
اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ذکر، ہدایت، نور، فرقان اور "بیان للناس" کے طور پر نازل فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ" (ص: 29)
اگر قرآن صرف تلاوت کے لیے ہوتا، اور اس کا مفہوم سمجھنا "مداخلت" ہوتا، تو یہ آیت تدبر کی دعوت کیوں دیتی؟ کیا اللہ نے اپنی کتاب کو فقط غیرسمجھ دار مخلوق کے لیے نازل فرمایا؟ ہرگز نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فریضہ صرف تلاوت نہ تھا، بلکہ "تبیین" بھی تھا
قرآن فرماتا ہے:
"وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ" (النحل: 44)
یہ آیت واضح طور پر رسول ﷺ کے فہم، بیان، اور تفسیر کو اللہ کا مأمور عمل قرار دیتی ہے۔ اور یہ عمل رسول کے بعد صحابہ، تابعین اور امت کے علماء کے ذریعے جاری رہا، جنہوں نے اصولوں کے ساتھ تفسیر کا علم مدون کیا۔
قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول ( قاعدہ ۔ ۱۵)
قاعدہ : ۱۵ اللہ تعالیٰ نے جو اسباب بلند مطالب (یعنی بڑی نعمتوں اور عظیم کامیابیوں) کے لیے مقرر فرمائے ہیں، وہ دراصل "بشارتیں" ہیں، تاکہ دلوں کو اطمینان حاصل ہو، اور ایمان میں اضافہ ہو۔
یہ اصول قرآن کریم کی مختلف آیات میں واضح طور پر بیان ہوا ہے۔
نصرت (مدد) کی بشارت:
اللہ تعالیٰ نے جب ملائکہ کو مومنین کی مدد کے لیے نازل فرمایا، تو اس کا مقصد یوں بیان فرمایا:
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ (الأنفال: 10)
"اور اللہ نے اسے صرف ایک خوشخبری بنایا، اور تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں۔"
رزق اور بارش کی بشارت:
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ (الروم: 46)
"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہواؤں کو خوشخبریاں دے کر بھیجتا ہے، تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ چکھائے۔"
