قرآن مجید جب نازل ہو رہا تھا تو وہ محض ایک کتاب کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک زندہ انقلاب کے طور پر صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں اتر رہا تھا۔ ان کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہ تھی بلکہ ایک ایسی کیفیت تھی جو دل کو ہلا دیتی، آنکھوں کو نم کر دیتی، اور زندگی کے رخ کو بدل دیتی تھی۔ آج جب ہم اپنی تلاوت کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک گہرا خلا محسوس ہوتا ہے—الفاظ تو ہیں، مگر اثر نہیں؛ آواز تو ہے، مگر انقلاب نہیں۔
قرآن خود صحابہؓ کی تلاوت کی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل کانپ اٹھتے، اور جب آیات سنائی جاتیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا۔ یہ اضافہ محض ایک جذباتی کیفیت نہ تھا بلکہ یقین، اعتماد اور عمل کی قوت میں اضافہ تھا۔ گویا ہر تلاوت ان کے لیے ایک نئی زندگی، ایک نیا عزم، اور ایک نیا شعور لے کر آتی تھی۔
ان کی ایک نمایاں کیفیت یہ تھی کہ قرآن سن کر ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ یہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ معرفت کے آنسو تھے—حق کو پہچان لینے کا اثر۔ جب دل پر حقیقت منکشف ہوتی ہے تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ آج ہماری آنکھیں خشک کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے قرآن کو صرف پڑھنے کی چیز بنا دیا ہے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی نہیں۔
صحابہؓ کی تلاوت کا ایک اور پہلو ان کا عملی ردِعمل تھا۔ قرآن کی آیات سنتے ہی وہ سجدے میں گر پڑتے، عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے۔ ان کے لیے تلاوت ایک روحانی تجربہ تھی جو جسم پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ ان کے دل نرم ہو جاتے، ان کے رویے بدل جاتے، اور ان کی زندگیاں سنور جاتی تھیں۔
