سورۃ النحل کا ایک تجزیاتی مطالعہ : نعمتوں کے ہجوم میں گم ہوتی ہوئی حقیقت

قرآنِ مجید کی بعض سورتیں انسان سے صرف مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ اسے آئینہ دکھاتی ہیں۔ سورۃ النحل بھی ایسی ہی سورت ہے۔ یہ سورت ایک ایسے معاشرے میں نازل ہوئی جہاں نعمتیں موجود تھیں مگر شعور مفقود تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کا جدید انسان بھی اسی تضاد کا شکار نظر آتا ہے—وسائل کی فراوانی، مگر مقصد سے دوری۔

سورۃ النحل سب سے پہلے انسان کو اس کے گرد و پیش کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جانور، دودھ، شہد، بارش، فصلیں اور لباس—یہ سب محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ توحید کی خاموش دلیلیں ہیں۔ قرآن سوال اٹھاتا ہے: کیا یہ سب کچھ خودبخود ہو گیا، یا اس کے پیچھے ایک حکیم ارادہ کارفرما ہے؟ (سورۃ النحل 5–11، 68–69)

لیکن انسان اکثر دلیل کو نظرانداز کر دیتا ہے، اس لیے قرآن تمثیل کا سہارا لیتا ہے۔ ایک بے اختیار غلام اور ایک صاحبِ اختیار انسان کی مثال دے کر بتایا جاتا ہے کہ جو خود محتاج ہو وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک گونگے، ناتواں فرد اور ایک صاحبِ عدل انسان کا تقابل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ حق اور باطل، روشنی اور اندھیرا کبھی برابر نہیں ہو سکتے (سورۃ النحل 75–76)۔

پھر قرآن فرد سے آگے بڑھ کر قوموں سے بات کرتا ہے۔ ایک خوشحال بستی کا ذکر ہے جو امن، رزق اور آسودگی میں تھی، مگر ناشکری نے اسے خوف اور بھوک میں مبتلا کر دیا۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک سماجی قانون ہے: جب نعمت شکر سے خالی ہو جائے تو زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے (سورۃ النحل 112)۔

اسی تناظر میں قرآن ایک ایسی حقیقت بیان کرتا ہے جسے کوئی فلسفہ رد نہیں کر سکا:
جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ فنا ہو جاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہتا ہے۔ دولت، طاقت، منصب اور شہرت—سب عارضی ہیں، اصل بقا اقدار کی ہے (سورۃ النحل 96)۔

دنیا آٹومیشن پر نہیں، سنتِ الٰہیہ پر چلتی ہے

قرآنِ مجید جب جنت کی زندگی کا ذکر کرتا ہے تو ایک ایسی دنیا کا تصور سامنے آتا ہے جہاں انسان کی خواہش ہی اس کی تکمیل کا سبب بن جاتی ہے۔ وہاں نہ محنت کی مشقت ہے، نہ اسباب کی دوڑ، نہ ناکامی کا خوف۔ انسان جو چاہے گا، وہی اس کے سامنے حاضر ہوگا۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جو گویا مکمل آٹومیشن پر قائم ہے؛ ارادہ، اور فوراً اس کی تکمیل۔

لیکن قرآن یہی اسلوب دنیا کے لیے اختیار نہیں کرتا۔ دنیا کے باب میں قرآن کی زبان بدل جاتی ہے، لہجہ سنجیدہ ہو جاتا ہے، اور قانون بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں خواہش نہیں، سعی فیصلہ کن ہے۔ یہاں دعویٰ نہیں، عمل معیار ہے۔ یہاں نسبت نہیں، نظام غالب ہے۔ قرآن واضح اعلان کرتا ہے کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو جنت اور دنیا کو الگ کرتا ہے، اور یہی فرق آج ہماری اجتماعی غلط فہمی کی جڑ بن چکا ہے۔

یہ کائنات کسی جذباتی کیفیت پر نہیں چل رہی، بلکہ ایک ہمہ گیر نظم کے تحت سرگرم ہے۔ قرآن اس نظم کو کبھی “تسبیح” کہتا ہے اور کبھی “تسخیر”۔ آسمان و زمین کی ہر شے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے، مگر یہ تسبیح الفاظ کی نہیں بلکہ فرمانبردارانہ حرکت کی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، زمین کی زرخیزی، موسموں کی گردش، وقت کا بہاؤ—سب ایک مقررہ قانون کے تحت رواں ہیں۔ یہاں کسی شے کو رعایت نہیں دی گئی کہ وہ محض نیت یا نسبت کے سہارے اپنا کام چھوڑ دے۔

دنیا کی کامیابی کا یہی اصول انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن دنیا میں کامیابی کو کسی خاص مذہبی شناخت کے ساتھ مشروط نہیں کرتا، بلکہ ایک درست نظریۂ حیات اور اس کے مطابق جدوجہد سے جوڑتا ہے۔ جو قومیں علم، نظم، منصوبہ بندی اور عمل کو اختیار کرتی ہیں، وہ دنیا میں آگے بڑھتی ہیں، چاہے ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ اور جو قومیں محض دعووں، تمناؤں اور جذباتی نعروں پر اکتفا کرتی ہیں، وہ پیچھے رہ جاتی ہیں، چاہے ان کے پاس آسمانی کتاب ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت داؤدؑ کے نغمے: قرآن اور زبور کا ایک تقابلی مطالعہ


اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو ایسی روحانی خصوصیات عطا فرمائیں جو محض ان کی ذات تک محدود نہ رہیں بلکہ پوری کائنات کو اپنے دائرے میں لے لیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام ان ہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں۔ قرآنِ کریم ان کی ایک غیر معمولی صفت کو نمایاں کرتا ہے: نغمہ سنج ذکرِ الٰہی—ایسا ذکر کہ پہاڑ اور پرندے بھی اس میں شریک ہو جاتے تھے۔ یہی حقیقت ہمیں زبور (Psalms) میں بھی مختلف اسالیب اور شعری پیکروں میں ملتی ہے۔ 

قرآنِ کریم حضرت داؤدؑ کو ایک ایسے نبی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہیں اللہ نے حسنِ صوت اور روحانی تاثیر عطا فرمائی۔ جب وہ اللہ کی تسبیح کرتے تو ان کا ذکر محض الفاظ نہ ہوتا بلکہ ایک زندہ نغمہ بن جاتا تھا:

“اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا کہ وہ تسبیح کرتے تھے، اور پرندوں کو بھی۔” (الانبیاء: 79)

ایک اور مقام پر فرمایا:

“اے پہاڑو! اس کے ساتھ رجوع کرو، اور اے پرندو!” (سبأ: 10)

اور سورۃ ص میں اس منظر کو وقت کے تعین کے ساتھ بیان کیا گیا:

“ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر دیا، وہ شام اور صبح تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی جمع ہو جاتے تھے۔”
(ص: 18–19)

قرآن کے مطابق  کائنات اللہ کی حمد میں مصروف ہے، تو گویا حضرت داؤدؑ کا ذکر اس کائناتی تسبیح کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا تھا۔

زبور، جو حضرت داؤدؑ کی روحانی کیفیت کو شاعرانہ اور تمثیلی زبان میں بیان کرتی ہے۔ یہاں کائنات کو بولتے، گاتے اور خوشی مناتے دکھایا گیا ہے۔

مثلاً زبور میں ایک جگہ  ہے:

“آسمان خدا کے جلال کا اعلان کرتے ہیں،
اور فلک اس کے ہاتھوں کے کام کو ظاہر کرتا ہے۔”
(Psalm 19)

ایک اور مقام پر:

“دریا تالیاں بجائیں،
اور پہاڑ مل کر خوشی کے نغمے گائیں۔”
(Psalm 98:7–8)

اور سب سے جامع انداز ہمیں Psalm 148 میں ملتا ہے جہاں آسمان، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور پرندے—سب کو خدا کی حمد میں شامل دکھایا گیا ہے۔

زبور کا انداز تصویری، جذباتی اور نغماتی ہے۔ یہاں حضرت داؤدؑ کی آواز پس منظر میں ہے، مگر پوری کائنات ایک عظیم حمدیہ نغمہ بن جاتی ہے۔
تقابلی جائزہ: اسلوب مختلف، حقیقت ایک

اگر قرآن اور زبور کے بیانات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو چند اہم نکات نمایاں ہوتے ہیں:

اوّل: قرآن واقعے کو براہِ راست اور قطعی انداز میں بیان کرتا ہے: پہاڑ اور پرندے واقعی حضرت داؤدؑ کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔

دوم: زبور اسی حقیقت کو استعارہ، شاعری اور نغمے کی زبان میں پیش کرتی ہے: پہاڑ گاتے ہیں، دریا تالیاں بجاتے ہیں، پرندے نغمے چھیڑتے ہیں۔

سوم: دونوں کتابوں میں مشترک تصور یہ ہے کہ کائنات جامد نہیں بلکہ ذاکر ہے، اور حضرت داؤدؑ اس کائناتی ذکر کے مرکزی نغمہ گر ہیں۔

چہارم: قرآن ہدایت اور عقیدے کو مرکز بناتا ہے، جبکہ زبور دل، احساس اور جمالیاتی شعور کو بیدار کرتی ہے—لیکن منزل دونوں کی ایک ہے: حمدِ الٰہی۔

حضرت داؤدؑ کی تسبیحات  اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ وحیِ الٰہی مختلف ادوار اور اسالیب میں نازل ہوئی، مگر اس کا پیغام ایک ہی رہا۔ قرآن جس حقیقت کو عقیدے اور ہدایت کی زبان میں بیان کرتا ہے، زبور اسی کو نغمہ، دعا اور شاعری میں ڈھال دیتی ہے۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ذکرِ الٰہی محض زبان کا عمل نہیں بلکہ کائنات کی فطرت ہے—اور حضرت داؤدؑ اس فطری اور کائناتی ذکر کی سب سے خوبصورت انسانی آواز تھے۔

انسانی خواہشات: قرآن کا نفسیاتی تجزیہ

سورۂ آلِ عمران ( آیت :14)

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
ترجمہ :
لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے، جیسے عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں۔ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے۔

اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ قرآن انسان کے لے خواہشات کی محبت یعنی عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی اور دیگر دنیاوی سازوسامان کیوں خوشنما بنادی گئی ہے؟ یا قرآن میں کیوں عورت، مال اور سونا چاندی جیسی چیزوں کا ذکر بار بار آتا ہے؟ اس کا جواب ہمیں سورۂ آلِ عمران کی  مذکورہ آیت میں ملتا ہے، جہاں قرآن انسانی نفسیات کا نہایت حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔

اللہ فرماتا ہے کہ لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے—عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر، طاقت کی علامت گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں۔ غور کیجیے، قرآن یہاں کسی اخلاقی وعظ سے بات شروع نہیں کرتا بلکہ انسان کی فطرت کو تسلیم کرتا ہے۔ لفظ “زُيِّنَ” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ میلان انسان کے اندر ودیعت ہے، یہ مصنوعی نہیں بلکہ فطری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خواہشات کی فہرست میں سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسانی جذبات، محبت، کشش اور خاندان کا پورا نظام اسی جبلت کے گرد گھومتا ہے۔ قرآن یہاں نہ تو جنس کو گناہ کہتا ہے اور نہ ہی انسان کو فرشتہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ انسان کو انسان ہی رہنے دیتا ہے—باشعور اور ذمہ دار انسان۔

اس کے بعد سونا اور چاندی کا ذکر آتا ہے، جو محض دولت نہیں بلکہ طاقت، تحفظ اور سماجی برتری کی علامت ہیں۔ قرآن سرمایہ کو برا نہیں کہتا، مگر یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ اصل سوال دولت کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی حاکمیت ہے۔ کیا انسان مال کا مالک ہے یا مال انسان کا؟

یہاں قرآن ایک نہایت اہم فکری نکتہ بیان کرتا ہے: مسئلہ خواہشات کا ہونا نہیں، مسئلہ انہیں زندگی کا مرکز بنا لینا ہے۔ اسی لیے فوراً فرمایا جاتا ہے کہ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے—عارضی، محدود اور فانی۔

آیت کا اختتام ایک غیر معمولی نفسیاتی توازن کے ساتھ ہوتا ہے: “اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے”۔ گویا انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ خواہشات سے لڑنے کے بجائے انہیں ایک بڑے مقصد کے تابع کر دو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انسان کو حیوانیت سے نکال کر اخلاقی بلندی تک لے جاتا ہے۔

قرآن کی نظر میں فرعونی ذہن خواہش کو اقتدار بنا لیتا ہے، قارونی ذہن دولت کو مقصد سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ مومن خواہشات کو امتحان اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہی فرق انسانی تاریخ کے عروج و زوال کی اصل بنیاد ہے۔

آخرکار قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسانی خواہشات کو نہ مارا جائے، نہ آزاد چھوڑا جائے، بلکہ ان کی قیادت اللہ کے سپرد کر دی جائے۔ یہی توازن انسان کو سکون بھی دیتا ہے اور مقصد بھی۔

جہنم کے کنارے کھڑا ہوا دوست۔۔۔۔۔۔۔

آپ کبھی قرآن کھول کر دیکھیں… یہ محض احکامات کی کتاب نہیں، یہ ایک زندہ اسکرین ہے۔ آپ پڑھتے ہیں اور منظر چلنے لگتا ہے۔ آوازیں سنائی دیتی ہیں، کردار سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور انسان محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ کسی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک حقیقی دنیا میں داخل ہو گیا ہے۔ سورۃ الصافات کی آیات 51 - 61 میں ایک ایسا ہی منظر ہے— ایسا منظر جسے پڑھ کر آدمی لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
جنت کا ایک رہائشی اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے اچانک کسی پرانی یاد میں گم ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
"میرا ایک دوست تھا… جو مجھے کہا کرتا تھا: کیا واقعی تم یقین کرتے ہو؟ کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے؟"
یہ آواز کتنی مانوس ہے! آج ہمارے اردگرد بھی بے شمار لوگ اسی لہجے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ آخرت کا ذکر سن کر ہنستے ہیں، ایمان کو پرانی کہانیوں کا حصہ سمجھتے ہیں، اور مرنے کے بعد کی زندگی کو خیالِ خام قرار دیتے ہیں۔
پھر جنتی ایک حیران کر دینے والی بات کرتا ہے:
"کیا تم جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟"
اور جب وہ جھانکتا ہے تو دیکھتا ہے کہ دنیا میں اسے ایمان سے روکنے والا وہی دوست آج جہنم کے عین درمیان کھڑا تڑپ رہا ہے۔
یہ کیسا لمحہ ہوگا؟
جسم تو جنت میں ہے مگر آنکھ جہنم کا وہ منظر دیکھ رہی ہے جس کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔
جنتی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے:

حق و باطل کا قرآنی میزان

امتِ مسلمہ کی تاریخ پر اگر تدبر کی نظر ڈالی جائے تو ہمیں ایک عجیب مگر سبق آموز حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہر دور میں دین کی خدمت کے نام پر مختلف تحریکیں، جماعتیں، ادارے اور افراد نمودار ہوئے۔ ہر ایک نے اپنی تعبیر، اپنا زاویہ نظر، اور اپنا راستہ چنا۔ کچھ نے سچائی کے کچھ گوشے پالئے، کچھ نے اخلاص سے سفر کا آغاز کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ تحریکیں تاریخ کی دھول میں دفن ہوگئیں، کچھ کے صرف نام رہ گئے، اور کچھ حقیقتاً تاریخ کی نفع بخش وراثت بن گئیں۔ سوال یہ ہے: کیا قرآن نے حق و باطل کی پہچان اور ان کی تاریخی حیثیت کے بارے میں کوئی اصول بیان کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ سورہ رعد میں ایک نہایت پراثر تمثیل کے ذریعے حق و باطل کے فرق کو واضح کرتا ہے:
"فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءًۭ ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَـٰلَ" (الرعد: 17)
"جو جھاگ ہے وہ تو زائل ہو جاتا ہے، اور جو لوگوں کو نفع دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔"

یہ آیت محض ایک فطری مشاہدہ نہیں بلکہ ایک الہیٰ قانون بیان کرتی ہے:
 باطل عارضی ہوتا ہے، وہ جھاگ کی طرح ابھرتا ہے، مگر جلدی ہی مٹ جاتا ہے۔
حق وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع مند ہو، وہی زمین میں باقی رہتا ہے، تاریخ اسی کو محفوظ رکھتی ہے۔

"لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ قرآن مجید کے مختلف سیاق وسباق میں

 "لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ ہے، جو توحید (اللہ کی وحدانیت) اور رسالت (محمد ﷺ کی رسالت) پر ایمان کا اعلان ہے۔ اس کلمہ کے دو بڑے اجزاء ہیں:

  1. لا إله إلا الله – اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

  2. محمد رسول الله – محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

قرآن مجید میں یہ دونوں اجزاء مختلف سیاق و سباق میں بہت مرتبہ آئے ہیں۔ ذیل میں ان سے متعلقہ آیات کی ایک اشاریہ (index) یا فہرست پیش کی جا رہی ہے، تاکہ ان دونوں حصوں کی تفہیم قرآن کی روشنی میں کی جا سکے:

حصہ اول: لا إله إلا الله (توحید - اللہ کی وحدانیت)

1. سورہ البقرہ (2:255) – آیت الکرسی

اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ...
اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے۔

2. سورہ آل عمران (3:18)

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ...
اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

3. سورہ طہ (20:14)

إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي...
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔

4. سورہ الانبیاء (21:25)

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
ہر رسول کو یہی وحی کی گئی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔

5. سورہ الصافات (37:35)

إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں" تو وہ تکبر کرتے۔

حصہ دوم: محمد رسول الله (رسالتِ محمد ﷺ)

1. سورہ الفتح (48:29)

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ...
محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں...

2. سورہ محمد (47:2)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ...
اور جنہوں نے ایمان لایا اور نیک عمل کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کیا گیا...

3. سورہ آل عمران (3:144)

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ...
محمد تو ایک رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں۔

4. سورہ احزاب (33:40)

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ...
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

عنوان : قرآن حکیم اور ہماری زندگی

آج ہمارا ملک اور معاشرہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ہم دشمن کی سازشوں، ستم ظریفیوں اور بیرونی دباؤ کا شکار ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنے کردار کی پستی، اخلاقی انحطاط، اور اجتماعی بداعمالیوں سے اس وطن کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ گویا ہم بیرونی دشمن سے زیادہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن ، یعنی نفس، حرص، جھوٹ، ظلم اور ناانصافی کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔

یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کیا ہماری بربادی کا سبب صرف بیرونی سازشیں ہیں؟ نہیں! اصل زوال تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب قومیں اپنے اخلاق، عدل، دیانت، حیاء اور امانت کو کھو بیٹھتی ہیں۔ اور یہی کچھ آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔

ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں، وہاں جھوٹ، فریب، حسد، حرص، بےحیائی، رشوت، ظلم، ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی، غیبت، بدگمانی، اور نفس پرستی جیسی بیماریاں جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ یہ برائیاں صرف انفرادی اخلاق کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی زوال کی علامت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ اور کس روشنی سے اپنی راہوں کو منور کریں گے؟

قرآن مجید، جو سراسر ہدایت ہے، ہمیں ان تمام برائیوں سے بچنے اور ایک صالح معاشرہ قائم کرنے کے لیے واضح رہنمائی دیتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39 کو اگر ہم غور سے پڑھیں، تو ہمیں ایک مکمل ضابطۂ حیات ملتا ہے — ایک ایسا اخلاقی آئین جو کسی بھی معاشرے کو امن، عدل اور خیر کی بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے۔

آیات کی تلاوت کریں

کیا فہم، ترجمہ اور تفسیر قرآن میں مداخلت ہے؟ ایک فتنہ انگیز مغالطے کا علمی رد

قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، جس میں کسی تحریف یا تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ اس بات پر ایمان ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ تاہم بعض افراد یہ فتنہ انگیز دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر، ترجمہ یا فہم پیش کرنا "قرآن میں مداخلت" ہے، اور اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔ اس دعوے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ خود قرآن کو "مہجور" کرنے کے مترادف ہے، نہ کہ اس کا دفاع۔

فہمِ قرآن کا انکار، قرآن کے مقصد کا انکار ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ذکر، ہدایت، نور، فرقان اور "بیان للناس" کے طور پر نازل فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ" (ص: 29)

اگر قرآن صرف تلاوت کے لیے ہوتا، اور اس کا مفہوم سمجھنا "مداخلت" ہوتا، تو یہ آیت تدبر کی دعوت کیوں دیتی؟ کیا اللہ نے اپنی کتاب کو فقط غیرسمجھ دار مخلوق کے لیے نازل فرمایا؟ ہرگز نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فریضہ صرف تلاوت نہ تھا، بلکہ "تبیین" بھی تھا

قرآن فرماتا ہے:

"وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ" (النحل: 44)

یہ آیت واضح طور پر رسول ﷺ کے فہم، بیان، اور تفسیر کو اللہ کا مأمور عمل قرار دیتی ہے۔ اور یہ عمل رسول کے بعد صحابہ، تابعین اور امت کے علماء کے ذریعے جاری رہا، جنہوں نے اصولوں کے ساتھ تفسیر کا علم مدون کیا۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول ( قاعدہ ۔ ۱۵)

قاعدہ : ۱۵ اللہ تعالیٰ نے جو اسباب بلند مطالب (یعنی بڑی نعمتوں اور عظیم کامیابیوں) کے لیے مقرر فرمائے ہیں، وہ دراصل "بشارتیں" ہیں، تاکہ دلوں کو اطمینان حاصل ہو، اور ایمان میں اضافہ ہو۔

یہ اصول قرآن کریم کی مختلف آیات میں واضح طور پر بیان ہوا ہے۔

نصرت (مدد) کی بشارت:

اللہ تعالیٰ نے جب ملائکہ کو مومنین کی مدد کے لیے نازل فرمایا، تو اس کا مقصد یوں بیان فرمایا:

وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ  (الأنفال: 10)

"اور اللہ نے اسے صرف ایک خوشخبری بنایا، اور تاکہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں۔"

رزق اور بارش کی بشارت:

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ  (الروم: 46)

"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہواؤں کو خوشخبریاں دے کر بھیجتا ہے، تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ چکھائے۔"