قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کا ذکر تقریباً 40 سے زائد مقامات پر آیا ہے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام تمام انبیاء میں سب سے زیادہ (136 بار) لیا گیا ہے۔
بنی اسرائیل کا ذکر قرآن میں محض ایک قوم کی تاریخ نہیں بلکہ "بنیادی دعوتی ضرورت" تھی۔ مدینہ کے یہودی قبائل کا نبی ﷺ کے زمانے سے متصل ہونا اور بڑی مدنی سورتوں کا ان کے تذکرے سے بھرا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ان کے بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح کرنا چاہتا تھا اور مسلمانوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے سے خبردار کرنا چاہتا تھا۔
1. مدنی زندگی اور براہِ راست مخاطبین
ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا واسطہ ایک ایسی قوم سے پڑا جو "اہلِ کتاب" تھی۔ جس طرح مکہ میں مشرکینِ مکہ اولین مخاطب تھے، مدینہ میں یہودی قبائل (بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ) اسلام کے بڑے مخاطب بن کر ابھرے۔ سورۃ البقرہ، آلِ عمران، اور المائدہ جیسی بڑی مدنی سورتوں میں بنی اسرائیل کا تفصیلی ذکر اسی لیے ہے کہ وہ اس وقت کی ایک اہم سماجی اور سیاسی قوت تھے۔
