قرآنِ مجید جب انسانی تاریخ کے آئینے میں مذہبی طبقوں کا جائزہ لیتا ہے تو وہ محض تاریخ بیان نہیں کرتا بلکہ ایک زندہ تنبیہ پیش کرتا ہے—ایسی تنبیہ جو ہر دور کے علماء، مشائخ اور مذہبی پیشواؤں کے لیے آئینہ ہے۔ بنی اسرائیل اور نصاریٰ کے علماء و صوفیاء پر قرآن کی تنقید دراصل ایک طرزِ فکر اور ایک بگڑے ہوئے مذہبی رویّے کی نشاندہی ہے، جو جب بھی جنم لے، دین کی روح کو مسخ کر دیتا ہے۔
قرآن بتاتا ہے کہ بنی اسرائیل کے بعض علماء علم کے حامل ہونے کے باوجود اس کی روح سے خالی ہو گئے تھے۔ ان کے پاس کتاب تھی، الفاظ تھے، مگر شعور اور عمل ناپید تھا۔ اسی کیفیت کو ایک نہایت بلیغ مثال سے واضح کیا گیا:
“مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا” (سورۃ الجمعہ 62:5)
یعنی جن لوگوں کو تورات کا بوجھ دیا گیا مگر انہوں نے اس کا حق ادا نہ کیا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ یہ تشبیہ محض تحقیر نہیں بلکہ ایک گہرا فکری نوحہ ہے—علم جب عمل سے خالی ہو جائے تو وہ انسان کو بلند نہیں بلکہ بوجھل بنا دیتا ہے۔
