دنیا کے ہر پیغمبر نے اپنی امت کے سامنے حیرت انگیز معجزے پیش کیے ہیں۔ حضرت نوحؑ کی دعا نے عالم کو غرقاب کر دیا؛ حضرت شعیبؑ اور حضرت لوطؑ کی دعاؤں نے آتش فشاں پہاڑوں کے دہانوں سے آگ برسائی؛ حضرت موسیٰؑ کے معجزے نے فرعون کو بحرِ احمر کا طعمہ بنا دیا؛ عصائے موسیٰؑ کی کارفرمائی نے چٹانوں کی چھاتی سے پانی کا دودھ بہایا اور بحرِ احمر کے دو ٹکڑے کر دیے؛ دمِ عیسیٰؑ نے جنم کے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو چنگا کیا، اور فرشِ موت کے سونے والوں کو جگایا، اور قبروں کے مردوں کو باذنِ اللہ کہہ کر جلایا۔ یہ سب واقعات دنیا میں پیش آئے اور ختم ہو گئے۔ برق کا شرارہ تھا، دم میں چمکا اور بجھ گیا۔
لیکن ایک پیغمبر ایسا بھی آیا جس کے حیرت انگیز معجزے نے قوموں کو ہلاک کرنے کے بجائے انہیں حیاتِ تازہ بخشی؛ پتھر دلوں کو موم کیا؛ عقل کے اندھوں کو بینا کیا؛ اور بنی آدم کی جمعیت کو غفلت و بے ہوشی کی نیند سے جگا کر ہوشیار، کفر و شرک کی ہلاکت سے بچا کر زندہ کیا۔ یہ حیرت انگیز واقعہ بجلی کی چمک کی طرح دفعۃً ظاہر ہو کر غائب نہیں ہو گیا؛ یہ یدِ بیضا، عصائے موسیٰؑ اور دمِ عیسیٰؑ کی طرح اپنے امکان اور وقوع میں فلسفیانہ موشگافیوں اور عقلی نکتہ سنجیوں کا محتاج نہیں؛ یہ روزِ روشن کی طرح واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوا، اور ہزار سال تک ممتد و متواتر واقعیت بن کر دنیا اور اہلِ دنیا کے سامنے جلوہ گر رہا۔
محمد رسول اللہ ﷺ آخری دین اور آخری صحیفہ لے کر، اور نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نیا دین آنے والا تھا، نہ کوئی نئی کتاب اترنے والی، اور نہ کوئی نئی نبوت مبعوث ہونے والی تھی۔ اس لیے ضرورت تھی کہ دوسرے انبیا علیہم السلام کی طرح آپؐ کا خاص معجزہ وقتی اور عارضی نہ ہو، بلکہ جب تک اس دنیا میں آپؐ کی نبوت کا نور چمکتا رہے، اس کی روشنی بھی قائم رہے۔ چنانچہ وقتی اور عارضی معجزوں کے علاوہ آپؐ کو ایک خاص معجزہ بخشا گیا جو قیامِ قیامت تک قائم اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن نے تحدی کی کہ میں اپنے رسول و پیغمبر کی صداقت کی گواہی ہوں؛ جن و انس مل کر بھی چاہیں تو مجھ جیسی کتاب، بلکہ مجھ جیسی کتاب کی ایک سورہ، بلکہ ایک آیت بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔