قرآن کا معروضی اور موضوعاتی مطالعہ : اہمیت و ضرورت

یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے پاس قرآنِ مجید کی تفاسیر کا ایک بے پناہ ذخیرہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود قرآن کا براہِ راست پیغام ہم سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے اتنے وسیلے کھڑے کر دیے ہیں کہ اصل متن ان کے پیچھے کہیں دب سا گیا ہے۔ تفاسیر یقیناً ایک عظیم علمی سرمایہ ہیں، ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے ذریعے قرآن تک پہنچ رہے ہیں یا انہی میں الجھ کر رہ گئے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ آج کے قاری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ اس کے پاس معلومات کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کی کثرت نے اس کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ جب وہ تفاسیر کے طویل مباحث، فقہی اختلافات، اور تاریخی جزئیات میں داخل ہوتا ہے تو اکثر اصل سوال—“قرآن مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟”—پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے معروضی اور موضوعاتی مطالعہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

معروضی مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم قرآن کو اپنے پہلے سے قائم تصورات کے تابع نہ کریں، بلکہ خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں۔ ہم اپنی رائے کو اس پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اس کے اپنے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور موضوعاتی مطالعہ ہمیں یہ راستہ دیتا ہے کہ ہم قرآن کے بکھرے ہوئے اشارات کو یکجا کر کے ایک مربوط تصور حاصل کریں—چاہے وہ انسانی نفسیات ہو، معاشرتی اصول ہوں یا سننِ الٰہی۔

قرآن کا اسلوب اشاراتی ہے۔ وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے۔ اگر ہم اسے روایتی خطی (linear) انداز میں پڑھنے کی کوشش کریں گے تو یا تو ہمیں تشنگی محسوس ہوگی یا ہم تفصیلات کے لیے دوسری کتابوں پر انحصار بڑھاتے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم موضوعاتی انداز اختیار کریں—یعنی ایک موضوع سے متعلق تمام آیات کو جمع کریں—تو اچانک قرآن ہمارے سامنے ایک نئے انداز میں کھلنے لگتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: مادہ پرستی کے دور میں روحانیت کا انقلاب

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ تاریخِ انسانی کا وہ روشن باب ہے جو مادہ پرستی کے اندھیروں میں روحانیت کی قندیل بن کر ابھرا۔ آپؑ کی ولادت، دعوت اور مشن کو سمجھنے کے لیے اس دور کے سیاسی اور مذہبی پس منظر کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ آپؑ کی پوری زندگی ان حالات کے خلاف ایک الٰہی احتجاج اور اصلاح کی جدوجہد تھی۔

سیاسی و مذہبی پس منظر

حضرت عیسیٰؑ کی بعثت کے وقت فلسطین رومی سلطنت کا ایک صوبہ تھا، جو قیصرِ روم کے مقرر کردہ گورنروں کے زیرِ اثر تھا۔ سیاسی طور پر بنی اسرائیل اپنی آزادی کھو چکے تھے اور رومیوں کے جبر و استبداد کا شکار تھے۔ دوسری جانب، مذہبی صورتحال اس سے بھی ابتر تھی۔ بنی اسرائیل کے مذہبی پیشوا دین کی روح کو بھلا کر محض ظاہری رسومات اور بال کی کھال اتارنے والی بحثوں میں مشغول تھے۔ لوگ ایک ایسے مسیحا کے منتظر تھے جو انہیں رومیوں کی غلامی سے نجات دلائے، مگر اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کو ان کی اخلاقی اور روحانی غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھیجا۔

ذاتی زندگی اور مقام

حضرت عیسیٰؑ کی زندگی سادگی، زہد اور تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ قرآنِ کریم آپؑ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وہ دنیا اور آخرت میں بڑی عزت والا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔" (سورہ آلِ عمران: 45)
آپؑ کی شخصیت میں حلم، بردباری اور ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ آپؑ نے اپنی زندگی اللہ کی بندگی کے لیے وقف کر رکھی تھی، جیسا کہ آپؑ نے گہوارے میں خود اعلان فرمایا:
"میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔" (سورہ مریم: 30)

قصص القرآن اور ہماری زندگی

قرآنِ کریم محض ایک ضابطہ حیات ہی نہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات، تاریخ اور کائناتی حقائق کا وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر ہر دور کا انسان اپنی حقیقت اور اپنے رب کی قدرت کو پہچان سکتا ہے۔ جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو جابجا ایسے واقعات ملتے ہیں جو بظاہر انسانی عقل کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں، لیکن اگر بصیرت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ واقعات انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کے روشن مینار ہیں۔

آغازِ انسانیت ہی کو دیکھ لیجیے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق اور پھر ان کے وجود سے ان کی شریکِ حیات حضرت حوا کی پیدائش، مادہ پرستی کے اس دور میں ایک بڑا سوالیہ نشان معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ واقعہ دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی اور روح کا مالک صرف اللہ ہے، وہ اسباب کا محتاج نہیں۔ اسی طرح آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کا قصہ انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی داستان ہی نہیں، بلکہ حسد کے عبرتناک انجام کی تصویر ہے۔ ایک کوّے کے ذریعے قاتل بھائی کو تدفین کا طریقہ سکھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان سرکشی پر اتر آئے تو ایک چھوٹا سا پرندہ بھی اس کا استاد بن جاتا ہے تاکہ اسے اس کی بے بسی کا احساس دلایا جا سکے۔

اللہ تعالی کی حاکمیت (Sovereign Absolute)

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حاکمیت، بادشاہت، اقتدار، تدبیرِ کائنات، اور فیصلہ کن اختیار کو مختلف اسالیب میں بیان فرمایا ہے۔ یہ آیات مل کر ایک جامع تصورِ حاکمِ مطلق (Sovereign Absolute) پیش کرتی ہیں۔ ذیل میں ان نمایاں تعبیرات اور ان جیسی دیگر آیات کا موضوعاتی جائزہ پیش ہے:

 1۔ اللہ تعالیٰ بطورِ احکم الحاکمین (سب سے بڑا حاکم) : 

 ارشاد باری تعالی ہے "  أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ"  (التین: 8) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا فیصلہ حتمی، عادلانہ اور حکمت پر مبنی ہے۔ انسانی عدالتیں محدود ہیں، جبکہ الٰہی عدالت مطلق ہے۔
 اسی مفہوم کی دیگر آیات: إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (یوسف: 40) وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (الاعراف: 87) ان میں یہ واضح ہے کہ قانون سازی اور فیصلہ کن اقتدار کا اصل سرچشمہ اللہ ہے۔

 2۔ اللہ تعالیٰ بطورِ مالک الملک (اقتدار کا حقیقی مالک)

فرمایا : " قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ "  (آل عمران: 26) اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی اقتدار، حکومت، سلطنت — سب اللہ کی عطا ہے۔ عروج و زوال تاریخ کا نہیں، الٰہی مشیت کا نتیجہ ہے۔

متعلقہ آیات جیسے  " لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"  (الحدید: 2)  تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ (الملک: 1)  دنیا کی طاقتیں عارضی مظاہر ہیں، اصل بادشاہی اللہ کی ہے۔

3۔ اللہ تعالیٰ بطورِ مدبر الامر (نظامِ کائنات کا منتظم) 

فرمایا : " يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ"  (السجدہ: 5) یعنی کائنات خودکار نہیں بلکہ الٰہی نظم و تدبیر کے تحت چل رہی ہے۔
 تقدیر، تاریخ، فطرت — سب ایک حکیمانہ منصوبہ کا حصہ ہیں۔
اسی طرح فرمایا :  " اللَّهُ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ (یونس: 3)  وَكُلَّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ (الرعد: 8) صاف ظاہر ہے کہ  کائناتی نظم الٰہی حکمرانی کا مظہر ہے۔

نفسیاتی الجھنیں اور سکونِ قلب کا قرآنی نسخہ

انسانی زندگی خیالات کے ایک نہ ختم ہونے والے تسلسل کا نام ہے۔ کبھی یہ خیالات ہمیں امید کی روشنی دکھاتے ہیں اور کبھی خوف و حزن کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جہاں نفسیاتی امراض کی بھرمار ہے، وہاں قرآنِ کریم کا یہ نسخہ آج بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہر سوچ ہماری اپنی ہے؟ اور "خیال" اور "وسوسے" میں بنیادی فرق کیا ہے؟

عام فہم انداز میں سمجھا جائے تو ’خیال‘ ایک فطری عمل ہے۔ یہ کسی ضرورت، مشاہدے یا یادداشت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً بھوک لگنے پر کھانے کا خیال آنا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا۔ خیال بذاتِ خود برا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی عقل کے متحرک ہونے کی علامت ہے۔

دوسری طرف ’وسوسہ‘ ایک بیرونی مداخلت ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الناس میں "الوسواس الخناس" کا ذکر ملتا ہے، جو وہ چھپ کر حملہ کرنے والا ہے جو انسان کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ وسوسہ دراصل وہ منفی، بے بنیاد اور خوفزدہ کر دینے والی سوچ ہے جو اچانک ذہن میں پیدا کی جاتی ہے۔ خیال شعور سے جنم لیتا ہے، جبکہ وسوسہ لاشعور پر حملہ کر کے انسان کے جذبات میں خلل ڈالتا ہے۔

شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار "خوف" اور "حزن" (غم) ہے۔ وہ انسان کو مستقبل کے اندیشوں سے ڈراتا ہے اور ماضی کے پچھتاووں میں الجھائے رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ان کیفیات کا واحد حل ’ذکرِ الٰہی‘ میں رکھا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے" (الرعد: 28)۔ یہ اطمینان دراصل اسی ذہنی انتشار اور وسوسوں کے طوفان کے خلاف ایک حفاظتی دیوار ہے۔

قرآن مجید اور فساد بر و بحر کی لازوال حقیقت

آج جب ہم اخبارات کی سرخیاں دیکھتے ہیں، تو قرآن کی یہ چودہ سو سال پرانی آیت کسی زندہ حقیقت کی طرح ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی مثلث میں الجھی ہوئی جنگ نے نہ صرف انسانیت کے امن کو غارت کیا ہے، بلکہ اس زمین کے ذرے ذرے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان کی معاشی اور جغرافیائی ہوس کس طرح "بر و بحر" یعنی خشکی اور پانی، دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
 ارشاد باری تعالی ہے:
"ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" (الروم: 41)
"خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کماہی کی وجہ سے، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آ جائیں"۔

جب ہم آج کے مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی جنونیت پر نظر ڈالتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت نے اپنی جغرافیائی ہوس، معاشی برتری اور مذہبی انتہا پسندی کی آگ میں نہ صرف اپنا امن جھونک دیا ہے بلکہ پوری زمین کے توازن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ یہ جنگ اب صرف چند ریاستوں یا فوجوں کے درمیان نہیں رہی، بلکہ اس نے زمین کی توانائیوں کے مرکز مشرق وسطی کے سمندروں کی گہرائیوں اور فضاؤں کی وسعتوں کو اپنا نشانہ بنا لیا ہے، جہاں بارود کی بو اور کیمیائی مادوں کا زہر خاموشی سے اس "فسادِ بر و بحر" کی گواہی دے رہا ہے جس کا ذکر خالقِ کائنات نے صدیوں پہلے کر دیا تھا۔

حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران اور عرب کے توانائی کے مراکز اور اسرائیل کے حساس علاقوں میں جو تباہی مچی ہے، اس کا دائرہ انسانی جانوں کے ضیاع سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ جب میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے تیل کے ذخائر اور صنعتی و ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں فضا کو اس حد تک آلودہ کر دیتا ہے کہ آنے والی نسلیں سانس کی بیماریوں اور جینیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح سمندری حدود میں ہونے والی کارروائیاں اور تجارتی جہازوں پر حملے نہ صرف عالمی معیشت کی شہ رگ کو کاٹ رہے ہیں، بلکہ لاکھوں گیلن تیل اور خطرناک کیمیکلز کو سمندر برد کر کے ان بے زبان آبی جانداروں کی نسل کشی کر رہے ہیں جن کا اس انسانی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ انسان کی وہ "اپنے ہاتھوں کی کمائی" ہے جس نے فطرت کے اس خوبصورت نظام کو درہم برہم کر دیا ہے جو اللہ نے تمام جانداروں کی بقا کے لیے بنایا تھا۔

اس ہولناک تباہی کو روکنے اور انسانیت کو اس بند گلی سے نکالنے کا واحد راستہ وہی ہے جو اس قرآنی آیت کے اختتام پر "لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" کی صورت میں بتایا گیا ہے، یعنی اپنی روش سے باز آ جانا اور فطرت کے قوانین کی طرف لوٹنا۔ آج انسانیت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا اندھا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ اس "عذاب کا مزہ" ہے جو ہم اپنے ہی فیصلوں کی صورت میں چکھ رہے ہیں۔ تباہی کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے جو صرف سیاسی مفادات پر مبنی نہ ہو بلکہ جس میں زمین کے ماحولیاتی تحفظ اور انسانی جان کی حرمت کو اولیت حاصل ہو۔ جنگی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کراتے ہوئے سویلین ڈھانچے، آبی ذخائر اور ماحولیاتی اثاثوں کو جنگ سے مستثنیٰ قرار دینا ہوگا، کیونکہ ان کی تباہی کا مطلب صرف ایک ملک کی ہار نہیں بلکہ پوری نسلِ انسانی کی شکست ہے۔ اگر آج ہم نے عدل و انصاف اور باہمی احترام کے راستے پر واپسی اختیار نہ کی، تو یہ فساد اس مشرق وسطی کو ایک ایسے بنجر ریگستان میں بدل دے گا جہاں نہ انسان باقی رہے گا اور نہ ہی زندگی کی کوئی اور رمق۔

ایمانیات و عقائد: قرآنی نقطہ نظر سے ایک جائزہ

قرآن کریم کی دعوت کا نقطہ آغاز اور تمام انسانی اعمال کی قبولیت کی بنیاد "ایمان" ہے۔ قرآن مجید محض نظریاتی عقائد پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کے قلب، عقل اور مشاہدے کو اپیل کرتا ہے تاکہ ایک مستحکم نظامِ فکر استوار ہو سکے۔ قرآنی ایمانیات کا مقصد صرف ذہنی تسکین نہیں بلکہ ایک ایسی "شخصیت سازی" ہے جو اللہ سے جڑی ہو، انسانیت کے لیے خیر خواہ ہو اور اپنی ہر حرکت پر اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتی ہو۔ ایمان وہ بیج ہے جس سے عملِ صالح کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔

۱۔ توحید: کائنات کا مرکزی سچ


قرآن کریم کا سب سے بنیادی پیغام "توحید" ہے۔ یہ صرف ایک خدا کو ماننے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور حقوقِ بندگی میں وحدہٗ لا شریک تسلیم کرنے کا نام ہے۔ قرآن کائنات کے ذرے ذرے، نظامِ شمسی کی ترتیب اور انسانی تخلیق کے عجائبات کو اللہ کی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ توحید کا مقصد انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خالق کے سامنے سرنگوں کرنا ہے، جو اسے حقیقی آزادی اور وقار عطا کرتا ہے۔

۲۔ رسالت: ہدایت کا ذریعہ


انسانی عقل محدود ہے، اسے خالق کی مرضی جاننے کے لیے وحی اور پیغمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن رسالت کو اللہ کا عظیم احسان قرار دیتا ہے۔ یہ عقیدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان زمین پر بے یار و مددگار نہیں چھوڑا گیا، بلکہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی زنجیر کے ذریعے ہدایت پہنچائی گئی۔ رسالت پر ایمان لانے کا مطلب اس نمونہ عمل (اسوہ حسنہ) کی پیروی ہے جو انبیاء نے اپنی زندگیوں سے پیش کیا۔

۳۔ آخرت: مسئولیت اور عدل کا تصور


قرآن میں عقیدہ آخرت محض ایک ڈراوا نہیں، بلکہ کائنات کے نظامِ عدل کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر موت کے بعد کوئی حساب کتاب نہ ہو تو ظالم اور مظلوم، نیک اور بد برابر ہو جائیں گے، جو اللہ کی صفتِ عدل کے خلاف ہے۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اصل زندگی (الحیوان) آخرت کی ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر جوابدہی کا احساس پیدا کر کے اسے ایک ذمہ دار شہری اور باکردار انسان بناتا ہے۔

۴۔ ملائکہ اور کتب: غیبی حقائق سے جڑنا


فرشتوں پر ایمان لانا اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات میں مادی قوتوں کے علاوہ کچھ نورانی قوتیں بھی ہیں جو اللہ کے حکم سے کائناتی امور انجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح سابقہ کتب پر ایمان لانا ادیانِ عالم کی اصل کے ایک ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور قرآن کو ان تمام کتب کے تسلسل اور محافظ (مہیّمن) کے طور پر پیش کرتا ہے۔

۵۔ قدر (تقدیر): اللہ کے علمِ محیط پر یقین


تقدیر پر ایمان لانا انسان کو مایوسی اور تکبر سے بچاتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ کوشش کرنا اس کا کام ہے، مگر نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر صبرو رضا اور توکل کی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔

شیعہ مکتبہ فکر کے ہاں اردو زبان میں سب سے معروف اور مستند تفاسیر

شیعہ مکتبہ فکر کے ہاں اردو زبان میں سب سے معروف اور مستند تفاسیر درج ذیل ہیں:

تفسیر نمونہ: یہ عصر حاضر کی مقبول ترین تفسیر ہے جو آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور ان کے رفقاء کی تالیف ہے۔ یہ اصل میں فارسی میں ہے لیکن اس کا اردو ترجمہ بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت اس کی سادہ زبان اور موجودہ دور کے مسائل سے مطابقت ہے۔

المیزان فی تفسیر القرآن: علامہ سید محمد حسین طباطبائی کی یہ شہرہ آفاق تفسیر "قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر" کے اصول پر مبنی ہے۔ اگرچہ یہ عربی میں ہے، لیکن اس کا اردو ترجمہ علمی حلقوں میں نہایت معتبر مانا جاتا ہے۔

تفسیر مقبول: مولانا مقبول احمد دہلوی کی یہ تفسیر برصغیر کے عام طبقے میں بہت معروف ہے اور عام طور پر شیعہ گھرانوں میں تلاوت کے لیے استعمال ہونے والے قرآن پاک کے ساتھ یہی ترجمہ و تفسیر موجود ہوتی ہے۔

تفسیر کوثر: یہ علامہ شیخ محسن علی نجفی کی ایک جامع اور عصری اسلوب کی حامل اردو تفسیر ہے جو کہ برصغیر کے ماحول کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔

انوار النجف: آیت اللہ علامہ سید حسین بخش نجفی (جاروی) کی یہ کثیر الجلدی اردو تفسیر روایاتِ اہل بیتؑ پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

تفسیرِ البرہان: سید ہاشم بحرانی کی اس معروف روائی تفسیر کا بھی مکمل اردو ترجمہ دستیاب ہے جو محققین اور علمی ذوق رکھنے والوں میں مقبول ہے۔

علمِ قراءات کی تدریجی تاریخ — سبعہ، عشرہ اور اَربعَ عشر

قرآنِ کریم کی حفاظت کا ایک عظیم مظہر علمِ قراءات ہے۔ بظاہر جب ہم “قراءتِ سبعہ”، “قراءتِ عشرہ” یا “قراءتِ اَربعَ عشر” کی اصطلاحات سنتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تین مختلف ادوار یا تین الگ الگ قرآن ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ سب دراصل ایک ہی متنِ وحی کے مختلف مستند اسالیبِ تلاوت کی تدوینی تاریخ ہے۔

ابتدائی دور میں قرآن مختلف قبائل کے لہجوں کے مطابق پڑھا جاتا تھا۔ “سبعہ احرف” کی حدیث، جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں منقول ہے، اسی سہولت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے یہ مختلف اسالیب براہِ راست نبی کریم ﷺ سے سیکھے اور آگے منتقل کیے۔ اس مرحلے پر قراءتیں باقاعدہ “اعداد” (7، 10 وغیرہ) میں محدود نہیں تھیں، بلکہ عملی طور پر جاری تھیں۔

چوتھی صدی ہجری میں جب فتنوں کا زمانہ آیا اور علمی تدوین کی ضرورت محسوس ہوئی تو عظیم عالم امام ابن مجاہد (م 332ھ) نے مختلف شہروں کے مستند قراء میں سے سات کو منتخب کر کے “القراءات السبع” کو منظم صورت دی۔ یاد رہے کہ ابن مجاہد نے سات ہی کو “واجب الاتباع” قرار نہیں دیا تھا، بلکہ انہوں نے اُس وقت کے معروف اور مضبوط طرق کو جمع کیا۔ ان کے اس انتخاب نے “قراءتِ سبعہ” کو علمی شہرت عطا کی۔

بعد میں تحقیق کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ دیگر ائمہ کی قراءتیں بھی مضبوط اسناد کے ساتھ ثابت ہوئیں، چنانچہ تین مزید قراءتیں شامل کی گئیں اور یوں “قراءتِ عشرہ” مکمل ہوئی۔ آٹھویں صدی ہجری میں امامِ قراء  ابن جزری (م 833ھ) نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ دس قراءتیں متواتر اور قطعی الثبوت ہیں۔ یوں علمی اتفاق عشرہ پر مستحکم ہو گیا۔

قرآن میں انسانی کرداروں کا تقابلی مطالعہ

انسانی تاریخ دراصل کرداروں کی تاریخ ہے۔ قومیں بدلتی رہتی ہیں، مگر انسان کے باطن میں اٹھنے والی کیفیات—حسد، تکبر، خوف، محبت، ایمان اور انکار—ہر دور میں ایک جیسی رہتی ہیں۔
قرآن مجید نے اسی حقیقت کو مرکز بنایا ہے۔ وہ واقعات کو محض تاریخی بیانیہ کے طور پر نہیں لاتا بلکہ انہیں انسانی نفسیات کی آئینہ داری کے لیے پیش کرتا ہے۔

جب ہم حضرت آدم ؑ کے بیٹوں کا قصہ پڑھتے ہیں تو ہمیں صرف پہلا قتل نظر نہیں آتا بلکہ حسد کی وہ آگ دکھائی دیتی ہے جو انسان کے اندر سے اٹھتی ہے۔

جب ہم نوح ؑ کے بیٹے کو موجوں میں ڈوبتے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ نسب ایمان کی ضمانت نہیں۔
جب حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں کو معاف کرتے ہیں تو ہمیں عفو کی وہ بلندی نظر آتی ہے جو انسانی کمزوریوں کو شکست دے دیتی ہے۔

قرآن میں بیان کردہ ان متضاد کرداروں کا مقصد واقعات کو دہرانا نہیں بلکہ ان کے پس پردہ کارفرما نفسیاتی، فکری اور روحانی اصولوں کو واضح کرنا ہے۔
تاکہ ہمیں ان درج ذیل سوالوں کا جواب تلاش کرنے میں مدد ملے :
  • کیوں ایک ہی گھر میں دو مختلف راستے جنم لیتے ہیں؟
  • کیوں اقتدار بعض لوگوں کو سرکش بنا دیتا ہے اور بعض کو عادل؟
  • کیوں حسد بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیتا ہے؟
  • اور کیوں ایمان کبھی اقلیت میں ہو کر بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے؟

قرآن انسانی کرداروں کو نمونہ بنا کر ہمیں بتاتا ہے کہ تاریخ دراصل انسان کے اندر لکھی جاتی ہے۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ محض واقعات کا تسلسل نہیں بلکہ ہدایت اور عبرت کا زندہ سرچشمہ ہے۔ تاریخ، قرآن کے نزدیک، مردہ ماضی نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کا آئینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار سابقہ اقوام، انبیاء اور معاشروں کے واقعات بیان کرتا ہے، مگر انہیں محض داستان کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری پیغام کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ قرآن کا مقصد تاریخ دہرانا نہیں بلکہ تاریخ کے اندر کارفرما سنتوں اور قوانین کو آشکار کرنا ہے۔