تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

عنوان: تلاوتِ قرآن — صحابہؓ کا انداز اور ہمارا المیہ

قرآن مجید جب نازل ہو رہا تھا تو وہ محض ایک کتاب کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک زندہ انقلاب کے طور پر صحابۂ کرامؓ کے دلوں میں اتر رہا تھا۔ ان کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہ تھی بلکہ ایک ایسی کیفیت تھی جو دل کو ہلا دیتی، آنکھوں کو نم کر دیتی، اور زندگی کے رخ کو بدل دیتی تھی۔ آج جب ہم اپنی تلاوت کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک گہرا خلا محسوس ہوتا ہے—الفاظ تو ہیں، مگر اثر نہیں؛ آواز تو ہے، مگر انقلاب نہیں۔

قرآن خود صحابہؓ کی تلاوت کی کیفیت کو یوں بیان کرتا ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل کانپ اٹھتے، اور جب آیات سنائی جاتیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا۔ یہ اضافہ محض ایک جذباتی کیفیت نہ تھا بلکہ یقین، اعتماد اور عمل کی قوت میں اضافہ تھا۔ گویا ہر تلاوت ان کے لیے ایک نئی زندگی، ایک نیا عزم، اور ایک نیا شعور لے کر آتی تھی۔

ان کی ایک نمایاں کیفیت یہ تھی کہ قرآن سن کر ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ یہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ معرفت کے آنسو تھے—حق کو پہچان لینے کا اثر۔ جب دل پر حقیقت منکشف ہوتی ہے تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ آج ہماری آنکھیں خشک کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے قرآن کو صرف پڑھنے کی چیز بنا دیا ہے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی نہیں۔

صحابہؓ کی تلاوت کا ایک اور پہلو ان کا عملی ردِعمل تھا۔ قرآن کی آیات سنتے ہی وہ سجدے میں گر پڑتے، عاجزی اور بندگی کا اظہار کرتے۔ ان کے لیے تلاوت ایک روحانی تجربہ تھی جو جسم پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ ان کے دل نرم ہو جاتے، ان کے رویے بدل جاتے، اور ان کی زندگیاں سنور جاتی تھیں۔

انبياء کی بعثت میں اللہ تعالی کی سنت - امین احسن اصلاحی

ارشاد باری تعالی ہے :  وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ (94)  ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (95) وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (96) أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97)  أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّـهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (99)  أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (100)   تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ (101)  وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ۖ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ (102)
( سورۃ الاعراف : 94-102

ترجمہ:  

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔تو کیا بستیوں والے نچنت ( بے خوف) رہ سکے اس بات سے کہ آ دھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔ اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ ان پر آ دھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں۔ تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں۔کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں۔ یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔ ( سورۃ الاعراف : 94-102) 

---------

ختم قلوب کی حقیقت اور اس کے بارے میں قانون الٰہی ـ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ

یہاں (سورۃ البقرۃ کی آیت "ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ ولہم عذاب عظیم") جس ختم قلوب کا ذکر ہے اس کے بارے میں دو باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔

 ایک یہ کہ اس ختم سے مراد ختم ظاہری نہیں ہے بلکہ ختم معنوی مراد ہے۔ جہاں تک ظاہری چیزوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا تعلق ہے یہ لوگ ان کو دیکھتے، سنتے اور سمجھتے تھے لیکن اس مشرب کے لوگ اپنی سمجھ بوجھ کی تمام قوتیں اور صلاحیتیں دنیا کے ظواہر و محسوسات ہی تک محدود رکھتے ہیں، ان ظواہر و محسوسات کے پس پردہ جو حقائق ہیں ان کی طرف نہ تو یہ خود متوجہ ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے توجہ دلانے والے کی بات پر کان ہی دھرتے ہیں۔ دنیا اور زخارف دنیا میں ان کا انہماک اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کسی اور چیز کی طرف توجہ کرنے کی ان کے اندر گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اپنی ذہانت و فطانت اسی ایک مقصد پر صرف کرتے ہیں۔ 

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان وزمین کا طول وعرض ناپنے میں تو ان کی عقل بڑی تیز ہوجاتی ہے لیکن روحانی اقدار و حقائق کے معاملہ میں وہ بالکل ہی کند ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ان کے مذاق کو بھی اس قدر بگاڑ دیتی ہے کہ صرف وہی باتیں ان کو اچھی لگتی ہیں جن سے ان کے اس بگرے ہوئے مذاق کو غذا ملے۔ جن کو باتوں سے اس کی حوصلہ شکنی ہو، خواہ وہ کتنی ہی معقول ہوں، ان سے ان کی طبیعت کو وحشت ہوتی ہے۔  اسی صورت حال کو یہاں ختم قلوب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔

زنا کی سزا جلد اور رجم کے بارے میں قرآن کا حکم ۔ امین احسن اصلاحی ؒ

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ  ۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ (سورہ النور : 2 ) 

ترجمہ : 

زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور خدا کے قانون کی تنقید کے معاملے میں ان کے ساتھ کوئی نرمی تمہیں دامن گیر نہ ہونے پائے اگر تم اللہ اور روز آخر پم سچا ایمان رکھتے ہو اور چاہئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے ۔
--------------------
اس کی تفسیر میں امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں : 

معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل زنا کو ہے اس لئے کہ معاشرہ کے استحکام کا انحصار رحمی رشتہ کی پاکیزگی اور اس کے ہر قسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے اور زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کر کے معاشرے کو  انتشار کی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کے بجائے ڈھوروں ڈنگروں کا ایک۔  گلہ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو ایک مستوجب سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی بالکل پہلے ہی مرحلہ سے اس انتشار کو روکنے کے لئے احکام دیئے۔ چنانچہ نساء کی آیات 16-15 میں اس سلسلہ کے ابتدائی احکام دیئے گئے جب کہ حالات حدود و تعزیرات کے نفاذ کے لئے ابھی سازگار نہیں ہوئے تھے اور ساتھ ہی یہ اشارہ فرما دیا گیا کہ اس بات میں قطعی اور آخری احکام بعد میں نازل ہوں گے۔ چنانچہ اس آیت سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔ زانیہ اور زانی دونوں کے لئے یہ حکم ہوا کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں ۔

اصحاب اعراف کون لوگ ہوں گے ؟

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ (سورۃ الاعراف  46؀۔ )

ترجمہ :" اور ان کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت کو پکار کر کہٰں گے کہ آپ پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو، وہ اس میں ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن متوقع ہوں گے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے مراد جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار ہے : وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ، حجاب مراد جیسا کہ خود قراان کے دوسرے مقام سے واضح ہے، وہ دیور ہے جو دوزخ اور جنت کے درمیان کھڑی کردی جائے گی۔ سورۃ حدید میں ہے۔ فضرب بینہم بسور (حدید ۔14) (پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی) ایک ایسی دیوار کے طور و عرض کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو پورے عالم جنت اور سارے عالمِ دوزخ کے درمیان حد فاصل کا کام دے گا جب کہ صرف جنت کی وسعتوں کی تمثیل قراان نے آسمانوں اور زمین کی وسعتوں سے دی ہے۔ 

استحکامِ نظم قرآن

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 

 قرآن کی ہر بات اپنے اصول اور فروع میں اتنی مستحکم اور مربوط ہے کہ ریاضی اور اقلیدس کے فارمولے بھی اتنے مستحکم و مربوط نہیں ہوسکتے۔

 وہ جن عقائد کی تعلیم دیتا ہے وہ ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ و پیوستہ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ کردیجیے تو پورا سلسلہ ہی درہم برہم ہوجائے۔

 وہ جن عبادات و طاعات کا حکم دیتا ہے وہ عقائد سے اس طرح پیدا ہوتی ہیں جس طرح تنے سے شاخیں پھوٹتی ہیں، 

وہ جن اعمال و اخلاق کی تلقین کرتا ہے وہ اپنے اصول سے اس طرح ظہور میں آتے ہیں جس طرح ایک شے سے اس کے قدرتی اور فطری لوازم ظہور میں آتے ہیں۔

اسلام میں بنیادی نیکیوں کی حیثیت نماز اور زکوۃ کو حاصل ہے۔

مولانا امین  احسن  اصلاحی ؒ 

" اسلام میں بنیادی نیکیوں کی حیثیت نماز اور زکوۃ کو حاصل ہے۔ دوسری نیکیاں انہی دو بڑی نیکیوں کے تحت ہیں، بلکہ انہی سے پیدا ہوتی ہیں، چناچہ قرآن کے بے شمار مقامات میں ان دونوں کا ذکر اس طرح آیا ہے کہ ان کا ذکر آگیا تو گویا سب کا ذکر آگیا۔ مثلاً " فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوانکم فی الدین" (توبہ :11) (پس اگر وہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی بن گئے)۔ حضرت اسماعیل کی تعریف میں فرمایا ہے، "کان یامر اھلہ بالصلوۃ والزکوۃ وکان عند ربہ مرضیا" (مریم :55) (اور وہ اپنے کنبے کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا)۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی منقول ہے، "واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ما دمت حیا" (مریم :31) (اور اس نے مجھے نماز اور روزہ کی ہدایت کی جب جیوں)۔

مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ ذکر نماز اور زکوۃ ہی کا ہے لیکن ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ صرف یہی دو چیزیں مراد نہیں ہیں بلکہ دوسری نیکیاں بھی مراد ہیں لیکن ان ساری نیکیوں کی جڑ چونکہ یہی دونوں چیزیں ہیں تو جب جڑ کا ذکر آگیا تو شاخوں کا ذکر خود بخود ہوگیا۔

مطالعۂ قرآن : سورۃ البقرۃ کی آیات 1 تا 5

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 


الۗمّۗ ، ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃ البقرۃ 1 تا 5) 

یہ الف، لام، میم ہے، یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند سوالات اور ان کے جوابات :۔

ان آیات پر جو شخص بھی تدبر کی نگاہ ڈالے گا اس کے ذہن میں چند سوالات ضرور پیدا ہوں گے۔

 ایک یہ کہ یہاں قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا دعویٰ محض ایک دعوے کی شکل میں رکھ دیا گیا ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں دی گئی ہے۔ حالانکہ جب یہی بات اس سورۃ کا عمود ہے تو اس کو صرف ایک دعوے کی شکل میں رکھ دینا کافی نہیں تھا، بلکہ نہایت مضبوط دلائل سے اس کو ثابت کرنا تھا۔

سورۃ البقرۃ کی آیات 1 تا 5 میں بعض اشارات و کنایات

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 

الۗمّۗ ، ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ و الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃ البقرۃ 1 تا 5) 

یہ الف، لام، میم ہے، یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن نے یہ بتانے کے بعد کہ یہ کتاب خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت ہے، ان لوگوں کی طرف اشارہ بھی کردیا ہے، جو اس لفظ کے اس زمانہ میں مصداق بن سکتے تھے۔ یہ اشارہ اس طرح کیا ہے کہ ان کی کچھ نمایاں خصوصیات بیان کردی ہیں۔ ان خصوصیات پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ان مسلمانوں کی خصوصیات ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تھے۔ اس سے یہ اشارہ نکلا کہ ان لوگوں کے اندر تقوی اور خشیت کی صفت پہلے سے موجود تھی اس وجہ سے ان کو قرآن سے نفع پہنچا۔ ان کے اندر امی عربوں میں سے جو لوگ شامل ہوئے تھے، یہ وہ لوگ تھے جن کے اندر زمانہ کے عام فساد کے باوجود بہت سی خوبیاں موجود تھیں اور ان کو فطرت کی ہدایت کی جو روشنی ملی تھی اس کو انہوں نے اپنے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ان کے اندر اہل کتاب میں سے جو لوگ شامل ہوئے تھے، وہ بھی اپنی اپنی شریعتوں پر اپنے علم کی حد تک نیک نیتی سے عمل کرنے والے تھے اس وجہ سے یہ لوگ مستحق ٹھہرے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی آخری اور کامل ہدایت سے بہرہ ور کرے۔

مطالعۂ قرآن (سورۃ الفاتحۃ )

زمانہ نزول :

یہ رسالت محمدیﷺ کے بالکل ابتدائی زمانہ کی سورت ہے۔ بعض معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی مکمل سورت جو نازل ہوئی وہ یہی ہے۔ اس سے پہلے صرف متفرق آیات نازل ہوئی تھیں جیسے سورۃ علق، سورۃ مزمل، اور سورۃ مدثر کی آیات ہیں ۔ (تفہیم القرآن) 

سورہ کا مضمون : 

اس سورہ کا مرکزی مضمون جذبہ شکر کا اظہار ہے سب سے پہلے اللہ تعالی کے حضور بندۂ مومن کے اس جذبۂ شکر کا اظہار ہے جو رب کائنات ، اس کی بے پایاں رحمت اور اس کائنات کے نظام میں اس کے قانونِ عدل کے مشاہدات سے ایک سلیم الفطرت انسان پر طاری ہوتا ہے یا طاری ہونا چاہئے۔ پھر اس جذبۂ شکر سے خدا ہی کی بندگی اور اسی سے استعانت کا جو جذبہ ابھرتا ہے یا ابھرنا چاہئے اس کو تعبیر کیا گیا ہے، پھر اس جذبہ کی تحریک سے جو مزید طلب و جستجو ہدایت و رہنمائی کے لیے پیدا ہوتی ہے یا پیدا ہونی چاہیے، وہ ظاہر کی گئی ہے۔ 

سورۃ البقرۃ کی آیات 1 تا 5 کے مطالب

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 

الۗمّۗ ، لِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ٻ فِيْهِ ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ ۤ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃ البقرۃ 1 تا 5) 

یہ الف، لام، میم ہے، یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اور ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مذکورہ بالا آیات کے اندر جو باتیں، جس ترتیب کے ساتھ کہی گئی ہیں، پہلے ہم اجمال کے ساتھ ان کو سامنے رکھیں گے اس کے بعد ان کے عمیق اور گہرے پہلوؤں پر غور کریں گے اور جو سوالات یہاں پیدا ہوتے ہیں ان کے جواب دینے کی کوشش کریں گے ۔

جواب کا خاص قرآنی اسلوب

ارشاد باری تعالی ہے : 

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ   (سورۃ الدخان: 13) 

"اب ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا کہاں موقع باقی رہا! ان کے پاس تو ایک واضح کر دینے والا رسول آ چکا تھا "

یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آ جانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا! بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لیے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کر دی تھی لیکن انھوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کو سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہو گیا ہے۔ اب توبہ کا وقت گزر چکا۔ توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انھوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے لیے واپس آنے والا نہیں ہے۔

قدیم آسمانی صحیفے اور قرآن مجید

قرآن مجید میں جگہ جگہ قدیم آسمانی صحیفوں ، تورات ، زبور ، انجیل کے حوالے ہیں ۔ بہت سے مقامات پر انبیائے بنی اسرائیل کی سر گزشتیں ہیں ۔ 

بعض جگہ یہود اور نصاری کی تحریفات کی تردید اور ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید ہے ۔ اس طرح کے مواقع میں میں نے ان روایات پر اعتماد نہیں کیا ہے جو ہماری تفسیر کی کتابوں میں منقول ہیں ۔ یہ روایات زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ اس وجہ سے نہ تو یہ اہل کتاب پر حجت ہو سکتی ہیں اور نہ ان سے خود اپنے ہی دل کے اندر اطمینان پیدا ہو تا ہے ۔

ایسے مواقع پر میں نے بحث و تنقید کی بنیاد اصل ماخذوں یعنی تورات و انجیل پر رکھی ہے۔ جس حد تک قرآن اور قدیم صحیفوں میں موافقت ہے وہ موافقت میں نے دکھادی ہے اور جہاں فرق ہے وہاں قرآن کے بیان کی حجت و قوت واضح کردی ہے ۔ 

تفسیر کی پہلی جلد میں ، بقرۃ اور آل عمران دونوں کی تفسیر میں ایسے بہت سے معرکے ملیں گے جن کر پڑھ کر قارئین یہ اندازہ کرسکیں گے کہ فی الواقع قرآن کا اصل زور اسی وقت واضح ہوتا ہے جب کسی معاملے میں اس کے بیان کو تورات و انجیل کے مقابل رکھ کے جانچاجائے ۔ 

ان مقابل بحثوں کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے اسی طرح تورات زبور و انجیل بھی اللہ ہی کے اتارے ہوئے صحیفے ہیں ۔ اگر ان کے بد قسمت حاملوں نے ان صحیفوں میں تحریفیں نہ کردی ہو تیں تو یہ بھی اسی طرح ہمارے لے رحمت و برکت تھے جس طرح قرآن ہے ۔ لیکن ان تحریفات کے باوجود آج بھی ان کے اندر حکمت کے خزانے ہیں ۔ اگر آدمی ان کو پڑھے تو یہ حقیقت آفتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ ان صحیفوں کا سر چشمہ بھی بلاشبہ وہی ہے جو قرآن کا ہے ۔ میں ان کو بار بار پڑھنے کے بعد اس رائے کا اظہار کر تاہوں کہ قرآن مجید کی حکمت کے سمجھنے میں جو مدد ان صحیفوں سے ملتی ہے وہ مدد مشکل ہی سے کسی دوسری چیز سے ملتی ہے ۔ خاص طور پر زبور، امثال اور انجیلوں کو پڑھئے تو ان کے اندر ایمان کو وہ غذاملتی ہے جو قرآن و حدیث کے سوا اور کہیں بھی نہیں ملتی ۔ حیرت ہوتی ہے کہ جن قوموں کے پاس یہ صحیفے موجود تھے وہ قرآن اور پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی تعلیمات سے کیوں محروم رہیں ۔ 


(مقدمہ ، تدبر قرآن،  جلد اول  ، مولانا امین احسن اصلاحی ؒ )

نظم قرآن اور فراہی مکتبۂ فکر کا سر سری جائزہ

نظم قرآن اور فراہی مکتبہ فکر کا سرسری جائزہ 
عرب اپنی فصاحت و بلاغت پہ نازاں تھے۔ ساری دنیا ان کے لیےگونگی تھی۔ وہ اسی زعم میں تھے کہ آسمان سے ایک کلام کا ظہور ہوا۔ اس کلام کے شان جلالت نے ان عربوں کو عجمی بنا دیا۔ لبید جیسا مسجود ِشعراء نے شاعری سے توبہ کر لی۔ سیدنا عمر فاروق نے شعر کی فرمایش کی تو کہا: ''کیا بقرہ اور آل عمران کے بعد بھی؟'' عربوں کے سامنے جب قرآن مجید زبان و بیان کے ایک معجزہ کے طور پر نمودار ہوا۔ تو ان کے اسالیب کلام بدل گئے۔ شاعری اور خطبات کے قدیم پیمانے بے اثر ہو گئے۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک صحیفۂ ادب نبوت و رسالت کا معجزہ ٹھہرا۔ چلنج دیا گیا کہ اس جیسا کوئی کلام لا سکتے ہو تو لادیکھاؤ۔


قرآن مجید کے اعجاز کو بہت سے اہل علم نے نمایاں کیا۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے عجائب قیامت تک ختم نہیں ہوں گے۔ ہمیں اس کی مثالیں، تاریخ کے ہر دور میں ملتی ہیں۔ اس معجزے کا ایک پہلو ایسا تھا جسے علماء نے نظم قرآن کا نام دیا۔ بر صغیر کے علماء میں سے مولانا حمید الدین فراہی نے پہلی مرتبہ اس کو ایک علمی حقیقت کے طور پر پیش کیا ۔ان کا کہنا ہے کہ قرآن مجید آج اس ترتیب کے ساتھ موجود نہیں ہے جس میں یہ نازل ہوا۔ جب کوئی آیت یا آیات نازل ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت فرماتے کہ انھیں فلاں سورہ میں فلاں آیت سے پہلے یا بعد لکھ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس نئی ترتیب میں حکمت کیا تھی؟ مختلف مواقع پر نازل ہونے والی آیات جب اللہ ہی کے حکم سے ایک مربوط کتاب میں ڈھلیں تو اس کی ترتیب اور تنظیم میں کیا حکمت پوشیدہ تھی ؟بلاشبہ یہ بھی قرآن کے زبان و بیان کا ایک معجزہ ہے ، مولانا فراہی نے اس کو ایک زندہ حقیقت طور پر پیش کیا ، قرآنیا ت کی دنیا میں انہوں ایک بہت بڑا علمی کارنامہ انجام دیا ۔

اس بارے میں مولانا فراہی کا پہلا نکتہ نظر یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات اور سورتوں میں ربط ہے۔ یہ ربط اسے ایک ایسی دیدہ زیب عمارت بنا دیتا ہے جس میں کوئی ایک اینٹ بھی کسی دوسرے جگہ لگائی جاتی تو عمارت کا حسن مجروح ہوتا۔


دوسرا یہ کہ قرآن مجید زبان و بیان کا ایک معجزہ ہے۔ یہ اگرچہ عرب کے اسالیب کلام کو پیش نظر رکھتا ہے، لیکن اس کا اپنا ایک آہنگ بھی ہے۔ ان اصولوں کو انہوں نے قرآن کے فہم پر اطلاق کیا اس کے مطابق ایک تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا۔ وہ چند آخری سورتوں کی تفسیر ہی لکھ پائے کہ 1930 ء میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔


پھر یہاں سے سے مولانا فراہی کے شاگرد رشید مولانا امین اصلاحی کا دور شروع ہوتا ہے ۔ انہوں نے اپنے استاد سے جو کچھ سیکھا، اس کا حاصل ''تدبرقرآن'' کی صورت میں سامنے آیا۔ اس میں پہلی بار یہ حقیقت واضح ہوکر سامنے آئی کہ قرآن مجید کا نظم کیا ہے؟ اس کی سورتوں اور آیات میں کیا ربط ہے؟ اسالیب بیان کس طرح اصل موضوع کلام تک رہنمائی کرتے ہیں؟ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے اصل وسائل کون سے ہیں ، داخلی وسائل کیا ہیں اور کیوں فہم قرآن میں ان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ، کیوں وہ خارجی وسائل کا محتاج نہیں ہے؟ ان حقائق کی روشنی میں مولانا نے اس نظم اور اسالیب کلام کو اپنی تفسیر ''تدبر قرآن'' کی نو جلدوں میں اطلاق کیا ۔ پھر جاوید احمد غامدی نے یہ نظم اور اسالیب کلام قرآن کے ترجمے میں پیش کیا ۔یہ پہلا ترجمۂ قرآن ہے جو نظم کلام کی رعایت سے کیا گیا۔ ترجمہ میں اس با ت کا خیال رکھا گیا کہ ترجمہ پڑھنے والے کو قرآن مجید ایک مربوط کلام کے طورپر محسوس ہو ۔ جاوید احمد غامدی صاحب کا مولانا اصلاحی سے وہی رشتہ ہے جو خود مولانا کا اپنے استاد فراہی سے تھا۔ اس ترجمے کی تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں مزید دوجلدوں کی اشاعت باقی ہے۔


مولانا فراہی کے مطابق قرآن مجید میں سورتوں کا ایک خاص نظام ہے۔ اسی طرح ہر سورہ کا ایک معین نظم کلام ہے، الگ الگ متفرق ہداہات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مرکزی موضوع ہے اس کی تمام آیتیں اس موضوع سے متعلق ہوتی ہیں ۔ آیتوں کے ربط کی طرح سورتوں کا بھی ایک باہمی نظم ہے ۔ تمام سورتیں آپس میں توام یعنی جوڑے جوڑے ہیں ، ہرسورہ اپنا ایک جوڑا رکھتی ہے ۔ البتہ اس سے مستثنی چند سورتیں ہیں جس میں سے سورہ فاتحہ پورے قرآن پاک کے لیے بمنزلہ دیباچہ اور باقی تتمہ اور تکملہ یا خاتمہ کے طور پر ہیں ۔ اس طرح قرآن کی سورتوں کے کل سات ابواب یا گروپ ہیں ۔مولانا اصلاحی کے نزدیک سورۂ حجر کی آیت ٨٧ (ولقد آتینٰک سبعا من المثانی والقرآن العظیم) "اور ہم نے آپ کو سات مثانی دیے ہیں یعنی یہ قرآن عظیم عطاکیا ہے " انہیں سات گروپ یا ابواب کی طرف اشارہ ہے ۔ 


1۔ سورتوں کا پہلا گروپ 



اس گروپ میں کل چار سورتیں ہیں ۔ سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران ، سورہ نساء ، اور آخر ی سورہ مائدہ ہے ۔

سورہ بقرہ اس گروپ کی پہلی سورہ ہے اس سورۃ کا بیشتر حصّہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے، اور کمتر حصّہ ایسا ہے جو بعد میں نازل ہوا اور مناسبت مضمون کے لحاظ سے اس میں شامل کردیا گیا۔ اس کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔اس میں قرآن مجید اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس میں اصل خطاب تو یہود سے ہے۔ لیکن ضمناً اس میں جگہ جگہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، مسلمانوں کو، اور بنی اسمعیل کو بھی مخاطب کیا گیا ہے۔ یہود کو مخاطب کر کے ان کے ان تمام مزعومات کی تردید کی گئی ہے جن کے سبب سے وہ اپنے آپ کو پیدائشی حقدارِ امامت و سیادت سمجھے بیٹھے تھے اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا اپنی توہین سمجھتے تھے جو ان کے خاندان سے باہر امی عربوں میں پیدا ہوا ۔

اس کے بعد دوسری سورہ آل عمران ہے، مفسرین کے نزدیک یہ سن ٩ ہجری میں وفد نجران کی آمد کے موقع پر نازل ہوئی ۔ اس کا اس گروپ کے سابق سورۃ بقرہ سے نہایت گہرا ربط ہے۔ ان دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا اثبات۔ لوگوں پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً۔ دونوں میں یکساں شرح و بسط کے ساتھ دین کی اصولی باتوں پر بحث ہوئی ہے۔ دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہے ہے یعنی ’’ الف لام میم‘‘۔دونوں شکلاً بھی ایک ہی تنے سے پھوٹی ہوئی دو بڑی بڑی شاخوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ان کو شمس و قمر سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حشر کے دن دو بدلیوں کی صورت میں ظاہر ہوں گی۔ اہل بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ وصف اور تمثیل میں یہ اشتراک بغیر کسی گہری مناسبت کے نہیں ہوسکتا۔ دونوں مین زوجین کی سی نسبت ہے۔ ایک میں جو بات مجمل بیان ہوئی ہے، دوسری میں اس کی تفصیل بیان ہوگئی ہے۔ اس طرح ایک میں جو خلا رہ گیا ہے، دوسری نے اس کو پر کردیا ہے۔ گویا دونوں مل کر ایک اعلیٰ مقصد کو اس کی مکمل شکل میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں ۔


اس گروپ کی تیسری سورہ نساءہے ۔ یہ متعدد خطبوں پر مشتمل ہے جو غالباً سن ٣ ہجری کے اواخر سے لے کر سن ٤ ہجری کے اواخر یا سن ٥ ہجری کے اوائل تک مختلف اوقات میں نازل ہوئے ہیں۔(تفہیم القرآن ،سید ابوالاعلی مودودی ) یہ آل عمران کے بعد اس طرح شروع ہوتی ہے کہ اس کے ابتدائی الفاظ ہی سے نمایاں ہوجاتا ہے کہ یہ آل عمران کا تکملہ و تتمہ ہے۔ آل عمران کی آخری اور نساء کی پہلی آیت پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ جس اہم مضمون پر آل عمران ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے سورۂ نساء کی تمہید استوار ہوئی ہے۔ گویا آل عمران کی آخری آیت يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ہے، جس میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی راہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ انفردی و اجتماعی حیثیت سے ثابت قدمی دکھائیں، آپس میں جڑے، دشمن کے مقابل میں ڈٹے اور خدا سے ڈرتے رہیں۔ اب اس سورۃ کو دیکھئے تو اسی اتَّقُوا اللّٰهَ کے مضمون سے شروع ہوگئی ہے۔ (یا ایہا الناس اتقوا ربکم) اور آگے آپس میں جڑے رہنے اور مخالفین کے بالمقابل ثابت قدمی کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ نہایت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ سابق اور لاحق سورۃ میں ربط کی یہ صورت صرف انہی دو سورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد نہایت لطیف مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ 

اس پہلے گروپ کی آخری سورہ مائدہ ہے۔ یہ صلح حدیبیہ کے بعد سن ٦ ہجری کے اواخر یا سن ٧ ہجری کے اوائل میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے، آخری امت کی حیثیت سے، اپنی آخری اور کامل شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے۔ اس سے پہلے یہ عہد و پیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا لیکن وہ، جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوا، اس کے اہل ثابت نہ ہوئے اس وجہ سے معزول کیے گئے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی اور اس کو اپنی آخری اور مکمل شریعت کا حامل اور امین بنایا۔ اب اس سورۃ مائدہ میں عہد و پیمان لیا جا رہا ہے کہ تم پچھلی امتوں کی طرح خدا کی شریعت کے معاملے میں خائن اور غدار نہ بن جانا بلکہ پوری وفاداری اور کامل استواری کے ساتھ اس عہد کو نباہنا، اس پر خود بھی قائم رہنا، دوسروں کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور اس راہ میں پوری عزیمت و پامردی کے ساتھ تمام آزمائشوں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرنا۔

2۔ دوسرا گروپ 


سورۂ مائدہ پر، سورتوں کا پہلا گروپ مکمل ہوجاتا ہے ۔ سورہ انعام سے دوسرا گروپ شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی پہلے گروپ کی طرح چار سورتیں ہیں۔ انعام، اعراف، انفال، براءت۔ انعام اور اعراف مکی ہیں، انفال اور براءت مدنی۔ انعام و اعراف دونوں میں خطاب اہل مکہ سے ہے۔ انعام میں توحید، معاد اور رسالت کے بنیادی مسائل زیر بحث آئے ہیں اور اصل دینِ ابراہیم کی وضاحت کی گئی ہے۔ بنائے استدلال تمام تر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے شواہد پر ہے یا پھر ان مسلمات پر جن کو اہل عرب تسلیم بھی کرتے تھے اور جو صحیح بھی تھے ۔


اعراف میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں قریش پر واضح کی گئی ہے کہ کسی قوم کے اندر ایک رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہوتے ہیں، اس باب میں اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور ضابطے کیا ہیں، اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر جم جاتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں، اس معاملے میں تاریخ کی شہادت کیا ہے اور اگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی اس روش سے باز نہ آئے تو اسے اپنے لیے کس روزِ بد کا انتظار کرنا چاہیے ۔

انفال میں مسلمانوں کو اپنی کمزوریاں دور کر کے اللہ اور رسول کی اطاعت پر مجتمع ہونے اور کفارِ قریش سے جہاد پر ابھارا ہے۔ قریش کے متعلق صاف صاف یہ اعلان فرمایا ہے کہ ان کو بیت اللہ پر قابض رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس وراثتِ ابراہیمی کے حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔ مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ تم ان سے مرعوب نہ ہو، اب ان کے لیے ذلت اور عذاب کا وقت آ چکا ہے۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو منہ کی کھائیں گے اور دنیا و آخرت دونوں میں کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہیں ہوگا۔

سورۃ براءت میں کھلم کھلا قریش کو الٹی میٹم ہے۔ ان کے لیے صرف دو راہیں کھلی چھوڑی گئی ہیں۔ اسلام یا تلوار۔ مسلمانوں کو ان سے ہر قسم کے روابط قطع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جو مسلمان رشتہ و قرابت کی بنا پر ان سے در پردہ تعلق رکھتے تھے ان کو سخت سرزنش کی گئی ہے اور ان کے سامنے بھی واضح طور پر دو شکلیں رکھ دی گئی ہیں، یا تو اپنے آپ کو نفاق کی تمام آلائشوں سے پاک کر کے سچے اور پکے مسلمان بن جائیں یا پھر اسی انجام سے دو چار ہونے کے لیے تیار ہوجائیں جو اللہ و رسول کے ان دشمنوں کا ہونے والا ہے ۔

اس روشنی میں معلوم ہوا کہ ان چاروں سورتوں میں نہایت گہری حکیمانہ ترتیب ہے۔ انعام میں قریش پر اتمامِ حجت ہے، اعراف میں ان کو انذار ہے، انفال میں مسلمانوں کو جہاد کی تیاری کی ہدایت اور بیت اللہ کی تولیت سے قریش کی معزولی کا فیصلہ ہے۔ براءت میں قریش کو الٹی میٹم اور منافقین کو آخری تہدید ہے۔ 

پہلے گروپ میں اصل بحث اہل کتاب سے تھی، قریش سے اگر کہیں خطاب ہوا تھا تو ضمناً۔ اس کے بر عکس اس گروپ میں اصل خطاب قریش سے ہے۔ اہل کتاب کا اس میں ذکر آیا ہے تو ضمناً۔ مواد استدلال میں بھی مخاطب کے اختلاف کے لحاظ سے بنیادی فرق ہے۔ اس گروپ میں بیشتر استدلال عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے شواہد سے ہے اور پہلے گروپ میں اہل کتاب کے تعلق سے وہ ساری چیزیں استدلال کے طور پر استعمال ہوئی ہیں جن کو اہل کتاب مانتے تھے۔ پہلے گروپ میں اہل کتاب کو امامت کے منصبت سے معزول کیا گیا ہے اور ان کی جگہ مسلمانوں کو دی گئی ہے۔ اس گروپ میں قریش کو بیت اللہ کی تولیت سے معزول کیا گیا ہے اور اس کی خدمت امت مسلمہ کے سپرد کی گئی ہے ۔


3۔ تیسرا گروپ 



سورۃ توبہ پر سورتوں کا دوسرا گروپ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے، تمام ہوجاتا ہے ، اب سورۃ یونس سے تیسرا گروپ شروع ہوتا ہے جو سورۃ نور پر ختم ہوجا تا ہے، اس میں 14 سورتیں:۔ یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر، نحل، بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہ، انبیاء، حج اور مومنون مکی ہیں، آخر میں صرف سورۃ نور مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول، جس طرح پچھلے دونوں گروپوں میں آپ نے ملاحظہ فرمایا اسی طرح اس گروپ میں بھی ملحوظ رہے۔ 


گروپ کی پندرھویں سورہ، سورہ نور، بظاہر الگ نظر آتی ہے لیکن اس کی حیثیت، سورۃ مومنون کے تکملہ اور تممہ کی ہے۔ سورۃ مومنون میں اہل ایمان کو دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی جو بشارت دی گئی ہے وہ اس خاص اخلاق و کردار کے ساتھ مشروط ہے جو ایمان کا لازمی مقتضی ہے۔ سورۃ نور میں اخلاق کردار کو مزید واضح فرمایا گیا ہے جس سے "خبیثون" اور "خبیثات" کے کافرانہ معاشرے کے مقابل میں "طیبون" اور "طیبات" کا مومنانہ معاشرہ پوری آب و تاب ک ساتھ نگاہوں کے سامنے آگیا ہے اور اس معاشرہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ بھی اس میں نہایت واضح اور قطعی الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے "وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (٥٥ ): "تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت بخشے گا جس طرح اس نے ان لوگوں کو خلافت بخشی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو ان کے لیے مستحکم کرے گا جس کو اس نے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا" (نور)

اس گروپ کی سورتوں میں سے سورۃ حج کو بعض لوگوں نے مدنی قرار دیا ہے لیکن یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ گروپ کی آخری سورتیں چونکہ ہجرت کے بالکل قریب زمانے کی ہیں اس وجہ سے ان میں کہیں کہیں مدنی دور کی جھلک آگئی ہے۔ لیکن یہ سورتیں اپنے مزاج اور مطالب کے اعتبار سے سب مکی ہیں۔ سورۃ حج کی بعض آیتیں مدنی دور سے تعلق رکھنے والی ضرور ہیں لیکن سورۃ بحیثیت مجموعی مکی ہے۔ کسی مکی سورۃ میں مدنی دور کی بعض آیتیں بطور توضیح یا تکمیل آجانے سے پوری سورۃ پر مدنی ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ ایسی سورتیں قرآن میں بہت ہیں جن میں مدنی دور کی آیات شامل ہیں لیکن یہ سورتیں اپنے بنیادی مطالب اور اپنے مزاج کے اعتبار سے مکی ہی قرار دی گئی ہیں ۔

اس پورے گروپ پر تدبر سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف اسلوبوں اور پہلوؤں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہوچکی ہے وہ بالآخر پیغمبر اور اہل ایمان کی کامیابی و فتح مندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آچکا ہے۔ اگر اس کی مخالفت میں تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے۔ دنیا میں تم سے پہلے جن قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی ہے جو حشر ان کا ہوا ہے اور جن کے عبرت انگیز آثار تمہارے اپنے ملک میں موجود ہیں، وہی حشر تمہارا بھی ہونا ہے۔ 


اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کو صبر و استقامت اور تقوی کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی اور فیروزمندی اسی کا حصہ ہے۔ آفاق و انفس اور تاریخ اقوام و ملل کے دلائل و شواہد سب تمہارے ہی حق میں ہیں۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کرلیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ "يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ"۔

4۔ چوتھاگروپ 


سورہ فرقان سے سورتوں کا چوتھا گروپ شروع ہو تا ہے۔ اس میں آٹھ سورتیں ہیں :۔ فرقان، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ مکی ہیں، آخر میں صرف ایک سورہ ۔۔ احزاب … مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول دیگر گروپوں کی طرح اس میں بھی ہے۔ البتہ سورۃ احزاب کی حیثیت خلاصہ بحث یا سورۃ نور کی طرح تکملہ و تتمہ کی ہے۔ اسلامی دعوت کے تمام ادوار دعوت، ہجرت، جہاد … اور تمام بنیادی مطالب توحید، رسالت، معاد اس میں بھی زیر بحث آئے ہیں البتہ اسلوب بیان اور مواد استدلال دوسرے گروپوں سے اس میں مختلف ہے ۔


اس گروپ کا جامع عمود اثبات رسالت ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں نے جتنے اعتراضات و شبہات اٹھائے اس گروپ کی مختلف سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، ان کے جواب دیئے گئے ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کا اصل مرتبہ و مقام بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ اسی کے ضمن میں قرآن پر ایمان لانے والوں کو، مرحلہ امتحان سے گزرنے کے بعد، دنیا اور آخرت دونوں میں، فوز و فلاح کی بشارت دی گی ہے اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہیں گے۔ اتمام حجت کے بعد، ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے ۔

5۔ پانچواں گروپ 



سورہ سبا سے سورتوں کا پانچواں گروپ شروع ہو جا تاہے جو سورۃ حجرات پر ختم ہوتا ہے۔ اس مین ١٣ سورتی ۔۔۔۔ازسباتا االاحقاف ۔۔۔۔مکی ہیں۔ آخر میں تین سورتیں، محمد، الفتح، الحجرات، مدنی ہیں۔ 


مطالب اگرچہ اس گروپ میں بھی مشترک ہیں یعنی قرآنی دعوت کی تینوں اساسات، توحید، قیامت، رسالت، پر جس طرح پچھلے گروپوں میں بحث ہوئی ہے اسی طرح اس میں بھی یہ تمام مطالب زیر بحث آئے ہیں ! البتہ نہج استدلال اور اسلوبِ بیان مختلف اور جامع عمود اس کا اثبات توحید ہے جو اس مجموعہ کی تمام سورتوں میں نمایاں نظر آئے گا۔ دوسرے مطالب اسی کے تحت اور اسی کے تضمنات کی وضاحت کے طور پر آئے ہیں۔ 


6 ۔ چھٹاگروپ


سورہ ق سے سورتو کا چھٹا گروپ شروع ہوتا ہے۔ اس میں کل سترہ سورتیں ہیں۔ جن میں سے سات سورتیں … ق ذریات، طور، قمر، رحمان اور واقعہ … بالترتیب مکی ہیں۔ صرف سورۃ رحمان کو بعض مصاحف میں مدنی ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کی تفسیر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ رائے بالکل بے بنیاد ہے۔ پوری سورۃ کا مدنی ہونا تو درکنار اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔ 

سورہ واقعہ کے بعد دس سورتیں … حدید، مجادلہ، حشر، ممتحنہ، صف، جمعہ، منافقون، تغابن، طلاق اور تحریم … مدنی ہیں ۔

اس گروپ کا جامع عمود بعث اور حشر و نشر ہے۔ اس کی تمام مکی سورتوں میں یہ مضمون ابھرا ہوا نظر آئے گا۔ اگرچہ قرآن کے بنیادی مطالب، دوسرے گروپوں کی طرح، اس میں بھی زیر بحث آئے ہیں لیکن وہ اسی جامع عمود کے تحت آئے ہیں۔ علی ہذا القیاس جو مدنی سورتیں اس میں شامل ہیں وہ بھی اسی اصل کے تحت ہیں۔ بعث اور حشر و نشر پر ایمان کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت ہے۔ مدنی سورتوں میں اسی تسلیم و اطاعت کے وہ مقتضیات بیان ہوئے ہیں جن کے بیان کے لئے زمانہ نزول کے حالات داعی ہوئے ہیں ۔


مکی سورتوں میں تمام رد وقدح کفار قریش کے عقائد و مزعومات پر ہے اور وہی ان میں اصلاً مخاطب بھی ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے اگر خطاب ہے تو بطور التفات و تسلی ہے۔ مدنی سورتوں میں خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کی کمزوریاں زیر بحث آئی ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے ابھی اچھی طرح آشنا نہیں ہوئے تھے۔ انہی کے ضمن میں اہل کتاب بھی زیر بحث آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس دور میں اہل کتاب بھی قریش کی حمایت اور اسلام کی مخالفت کے لئے میدان میں اتر آئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر منافقین کا گروہ جو گھس آیا تھا وہ بیشتر انہی اہل کتاب کے زیر اثر تھا ۔

7 ۔ ساتواں گروپ 


سورۂ ملک سے سورتوں کا ساتواں یعنی آخری گروپ شروع ہو تا ہے۔ اس گروپ میں بھی سورتوں کی ترتیب اسی طرح ہے ۔ پہلے مکی سورتیں ہیں آخر میں چند سورتیں مدنی ہیں اور یہ مدنی سورتیں مکی سورتوں کے ساتھ اسی طرح مربوط ہیں جس طرح فرع اپنی اصل سے مربوط ہوتی ہے۔ اس گروپ کی چند سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس وجہ سے یہاں یہ بتانا مشکل ہے کہ کہاں سے کہاں تک اس کی سورتیں مکی ہیں اور کہاں سے کہاں تک مدنی۔ تاہم اجمالی رائے یہ ہے کہ سورۂ ملک سے سورۂ کافرون تک ٤٣ سورتیں مکی ہیں اور سورۂ نصر سے سورۂ ناس تک پانچ سورتیں مدنی ۔

اس گروپ میں بھی دوسرے گروپوں کی طرح قرآنی دعوت کے تمام اساسات توحید، رسالت اور معاد زیر بحث آئی ہیں اور دعوت کے تمام مراحل کی جھلک بھی اس میں موجود ہے۔ لیکن اس پورے گروپ کا اصل مضمون انذارہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں انذار کا انداز وہی ہے جس انداز میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوہ صفا پر چڑھ کر انذار فرمایا تھا۔ اس انذار کے تقاضے سے اس میں قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے اور اس عذاب کو بھی گویا قریش کی نگاہوں کے سامنے کھڑا کردیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کر دینے والوں پر لازماً آیا کرتا ہے۔ استدلال میں بیشتر آفاق کے مشاہدات، تاریخ کے مسلمات اور انفس کی بینات سے کام لیا گیا ہے اور کلام کے زور کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالی (رح) نے اپنے اس شعر میں کھینچی ہے۔ ع

۔۔۔وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی عرب کی زمین جس نے ساری ہلا دی۔۔۔۔

ان سورتوں نے سارے عرب میں ایسی ہلچل برپا کر دی کہ ایک شخص بھی قرآن کی دعوت کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہ گیا بلکہ وہ یا تو اس کا جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا یا سچا فدائی اور ان دونوں کی کشمکش کا نتیجہ بالآخر اس غلبہ حق کی شکل میں نمودار ہوا جس کا ذکر ہر گروپ کی آخری سورتوں میں ہوا ہے ۔ 

کیا یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے؟



ساتویں گروپ کے اجمالی تعارف کے اختتام پر سورۂ حجر کی آیت ٨٧ (ولقد اتینک سبعا من المثانی والقرآن العظیم) کا پھر حوالہ دیا جا تا ہے کہ یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے۔ ایک یہ کہ قرآن نے کسی خاص سورۃ کو سبع مثانی نہیں کہا ہے بلکہ ( کتابا متشابھا مثانی ) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن سبع مثانی ہے ۔


دوسری یہ کہ مثانی کسی بار بار دہرائی ہوئی چیز کو نہیں بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو جوڑا جوڑا ہو۔ تیسری یہ کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ سات گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر سورہ اپنے ساتھ اپنا ایک جوڑا بھی رکھتی ہے جیسے اوپر ذکرہوا ۔ یہاں اس بات کی یاددہانی سے مقصود یہ ہے کہ قرآن کے آخری گروپ میں پہنچنے کے بعد قاری بہتر طریقہ سے یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ یہ رائے کچھ وزن رکھتی ہے یا نہیں اور قرآن کی اس ترتیب کے سامنے آنے سے فکر و نظر کے نئے دروازے کھلتے ہیں یا نہیں ؟


حدیث میں سبعۃ احرف سے کیا مراد ؟


قرآن کی اسی حقیقت کی طرف وہ حدیث بھی اشارہ کر رہی ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ (انزل القرآن علی سبعۃ احرف) (قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے) سات حرفوں کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ قرآن کے تمام الفاظ سات طریقوں پر پڑھے جا سکتے ہیں تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس صورت میں قرآن ایک معمہ بن کے رہ جائے گا حالانکہ قرآن خود اپنے بیان کے مطابق کتاب مبین ہے اور قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو لوگ قرأتوں کے اختلاف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ قرآن کے کسی لفظ کی قرأت سات طریقے پر کی گئی ہو۔ ابن جریر ؒ قرأتوں کے اختلاف نقل کرنے میں بڑے فیاض ہیں لیکن کسی لفظ کی انہوں نے دو تین سے زیادہ قرأتیں نقل نہیں کی ۔

غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قرأتوں کا اختلاف دراصل قرأتوں کا اختلاف نہیں بلکہ بیشتر تاویل کا اختلاف ہے۔ کسی صاحب تاویل نے ایک لفظ کی تاویل کسی دوسرے لفظ سے کی اور اس کو قرأت کا اختلاف سمجھ لیا گیا حالانکہ وہ قرأت کا اختلاف نہیں بلکہ تاویل کا اختلاف ہے جیسے سورۂ تحریم کی تفسیر میں ہیں کہ بعض لوگوں نے ( فقد صغت ) کو ( فقد زاغت) بھی پڑھا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس نے بھی یہ پڑھا ہے اس نے یہ قرأت نہیں بتائی ہے بلکہ اپنے نزدیک اس نے ( فقد صغت ) کے معنی بتائے ہیں جس کی غلطی، کلام عرب کے دلائل کی روشنی میں، اچھی طرح واضح ہو تی ہے ۔

پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگر قرأتوں کا اختلاف ہے بھی تو متواتر قرأت کا درجہ تو صرف اس قرأت کو حاصل ہے جس پر مصحف، جو تمام امت کے ہاتھوں میں ہے، ضبط ہوا ہے۔ اس قرأت کے سوا دوسری قرائتیں ظاہرہے کہ غیر متواتر اور شاذ کے درجہ میں ہوں گے جن کو متواتر قرأت کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ قرائتوں کے اختلاف میں پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ ہم ان الجھنوں میں پڑنے کے خود خواہاں ہیں جن سے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عثمان (رض) نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کو محفوظ کرنے کی کوشش فرمائی ۔ 

بہر حال اس حدیث میں سبعۃ احرف سے سات قرأتیں مراد لینے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے البتہ اگر حرف کو عبارت، بیان اور اسلوب کے معنی میں لیں، جس کی زبان اور لغت کے اعتبار سے پوری گنجائش ہے، تو اس کی تاویل یہ ہوگی کہ قرآن سات اسلوبوں یا عبارتوں میں نازل ہوا ہے اور اس سے اشارہ انہی سات گروپوں کی طرف ہوگا جو قرآن میں تلاوت کرنے والے کو نظر آتے ہیں ۔

ان سات گروپوں کی نوعیت یہ ہے کہ ہر گروپ میں ایک جامع عمود کے تحت قرآنی دعوت کے تمام بنیادی مطالب مختلف اسلوبوں سے اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ہر بات بار بار سامنے آنے کے باوجود پڑھنے والا ان سے کبھی تکان محسوس نہیں کرتا بلکہ طرز بیان اور نہج استدلال کے تنوع، پیش و عقب کی تبدیلی، اطراف و جوانب کے فرق اور لواحق و تضمنات کی گوناگونی کے سبب سے ہر بار وہ ایک نیا لطف و حظ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیت کا ذکر بعض حدیثوں میں یوں آیا ہے کہ اہل علم اس سے کبھی آسودہ نہیں ہوتے اور اس کی تازگی پر کبھی خزاں کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ حجر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر سے واضح ہے ۔(والقرآن العظیم) ا سی کی طرف اشارہ ہے ۔ واللہ اعلم بمراد کتابہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


حوالہ جات : 

1- " تدبر قرآن"، (مولانا امین احسن اصلاحی )، 

2-"اصول و مبادی" ،( جاوید احمد غامدی ) 

3- "تفہیم القرآن "(مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ )









شعائر اللہ کى عظمت اور اس کى شرعى حيثيت -

شعائر اللہ کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ البقر آیت 158 اور سورۃ المائدہ آیت 2 اور سورۃ الحج آیات : 32،36 میں آیا ہے ۔ 
شعائر اللہ سے کیا مراد ہے ؟ 
سورۃ البقرہ میں صفا اور مروہ کو شعائر کا حصہ قرار دیا ، سورۃ المائدہ میں مختلف شعائراللہ کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ، اور سورۃ الحج کی آیت : 32 میں شعائراللہ کی تعظیم کا حکم دیا اور اس کو تقوی کی نشانی قرار دیا ، اور سورۃ الحج کی آیت : 36 میں خاص اونٹ" بدن" کی قربانی کو بھی شعائر اللہ کہا ہے ۔ 

امام شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ حصہ اول باب 7 (شعائر اللہ کی تعظیم واحترام) میں لکھتے ہیں :۔ ’’ شعائر الہیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری ومحسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لیے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ان امورواشیاء کو خدا کی ذات سے ایسی مخصوص نسبت ہے کہ ان کی عظمت وحرمت کو لوگ خود اللہ تعالیٰ کی عظمت وحرمت سمجھتے ہیں۔ اور ان کے متعلق کسی قسم کی کوتاہی کو ذات الٰہی کے متعلق کوتاہی سمجھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر لکھا :۔ بڑے بڑے شعار الٰہیہ چار ہیں!

1-  قرآن حکیم
2- کعبۃ اللہ
3- نبی کریم ﷺ
4-  نماز

 قرآن حکیم میں ہے:۔ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ (2:158) بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔

 اور والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ (22:36) اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔

 شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر فتح العزیز میں۔

  کعبہ، عرفہ، مزدلفہ جمار ثلاثہ، صفا، مروہ، منیٰ، جمیع مساجد، ماہ رمضان، اشہر حرم، عید الفطر، عید النحر ایام تشریق۔ جمعہ، اذان، اقامت، نماز ،جماعت، نماز عیدین۔

سب کو شعائر اللہ میں سے گردانتے ہیں۔


بیت اللہ:

 اللہ کے شعائر میں سے سب سے بڑا شعیرہ ہے۔ مقصود اس کی عبادت کرنا نہیں بلکہ عبادت تو اللہ کی جاتی ہے، لیکن چونکہ یہ گھر اللہ کے ساتھ نسبت خاص رکھنے اور مرکز عبادت ہونے کی وجہ سے ایک خاص حیثیت کا مالک ہے۔ 

اس لیے اس کی تقدیس اور اس کا احترام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم جب بھی اسے دیکھتے ہیں تو جہاں اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں وہیں اس کے احترام اور اس کی مرکزیت میں اضافے کے لیے اللہ ہی سے دعائیں مانگتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک مکان ہے، نہایت سادہ، نہایت پروقار، لیکن اس ایک کوٹھے نے دنیائے اسلام کو ایک جہت، ایک مرکزیت، ایک منزل اور ایک شعور میں پرو رکھا ہے۔ ہرسال لاکھوں لوگوں کے دل اس کی وجہ سے اللہ کی محبت سے سرشار ہوتے اور اپنی ذات کی معرفت سے آشنا ہوتے ہیں۔ دنیا کو مختلف طبقوں اور مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی اس امت کو ایک جگہ اور ایک رنگ میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی اس گھر کا وہ حقیقی کردار ہے، جس نے اسے اللہ کے شعائر میں ایک اہم حیثیت کا حامل بنادیا ہے۔


اس حوالے سے مولانا سید ابولاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں " ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ”شعار“ کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لیے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم، سکے، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کا شعار ہیں۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔ یہ سب مسلک اپنے اپنے پیرووں سے اپنے ان شعائر کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی نظام کے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دراصل اس نظام کے خلاف دشمنی رکھتا ہے، اور اگر وہ توہین کرنے والا خود اسی نظام سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا یہ فعل اپنے نظام سے ارتداد اور بغاوت کا ہم معنی ہے۔


”شعائر اللہ“ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں۔ ایسی علامات جہاں جس مسلک اور جس نظام میں بھی پائی جائیں مسلمان ان کے احترام پر مامور ہیں، بشرطیکہ ان کا نفسیاتی پس منظر خالص خدا پرستانہ ہو، کسی مشرکانہ یا کافرانہ تخیل کی آلودگی سے انہیں ناپاک نہ کردیا گیا ہو۔ کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اگر اپنے عقیدہ و عمل میں خدائے واحد کی بندگی و عبادت کا کوئی جزء رکھتا ہے، تو اس جزء کی حد تک مسلمان اس سے موافقت کریں گے اور ان شعائر کا بھی پورا احترام کریں گے جو اس کے مذہب میں خالص خدا پرستی کی علامت ہوں۔ اس چیز میں ہمارے اور اس کے درمیان نزاع نہیں بلکہ موافقت ہے۔ نزاع اگر ہے تو اس امر میں نہیں کہ وہ خدا کی بندگی کیوں کرتا ہے، بلکہ اس امر میں ہے کہ وہ خدا کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیوں کی آمیزش کیوں کرتا ہے۔


یاد رکھنا چاہیے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اس زمانہ میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکین عرب کے درمیان جنگ برپا تھی، مکہ پر مشرکین قابض تھے، عرب کے ہر حصے سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کے لیے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔ اس وقت حکم دیا گیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی، تمہارے اور ان کے درمیان جنگ ہی سہی، مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو، خدا کے دربار میں نذر کرنے کے لیے جانور یہ لیے جارہے ہوں ان پر ہاتھ نہ ڈالو، کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بےاحترامی کا۔
 (تفہیم القرآن ، جلد 1 ص 438 حاشیہ نمبر 5)

اس سلسلے میں مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں " مثلاً قربانی حقیقتِ اسلام کا ایک مظہر ہے۔ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالہ کردے۔ اپنی کوئی محبوب سے محبوب چیز بھی اس سے دریغ نہ رکھے۔ اس حقیقت کا عملی مظاہرہ جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کر کے فرمایا، وہ تاریخ انسانی کا ایک بے نظیر واقعہ ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی یادگار میں جانوروں کی قربانی کو ایک شعیرہ کے طور پر مقرر فرما دیا تاکہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے اندر اسلام کی اصل حقیقت برابر تازہ ہوتی رہے۔ 

اسی طرح حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ یہ پتھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے اس روایت کا ایک نشان ہے کہ اس کو بوسہ دے کر یا اس کو ہاتھ لگا کر بندہ اپنے رب کے ساتھ اپنے عہد بندگی اور اپنے میثاق اطاعت کی تجدید کرتا ہے۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں اس کو یمین اللہ (خدا کا ہاتھ) سے تعبیر کیا گیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب اس کو ہاتھ لگاتا ہے تو گویا وہ خدا کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر اس سے تجدید بیعت کرتا ہے۔ اور جب اس کو بوسہ دیتا ہے تو گویا یہ اس کی طرف سے خدا کے ساتھ عہد محبت و وفاداری کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح جمرات بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ یہ نشانات اس لیے قائم کیے گئے ہیں کہ حجاج ان پر کنکریاں مار کر اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کے دشمنوں اور اسلام کے دشمنوں پر، خواہ وہ ابلیس کی ذریات سے تعلق رکھنے والے ہوں یا انسانوں کے کسی گروہ سے، لعنت کرتے ہیں اور ان کے خلاف جہاد کے لیے ہر وقت مستعد ہیں۔ 

علی ہذا القیاس بیت اللہ بھی ایک شعیرہ بلکہ سب سے بڑا شعیرہ ہے جو پوری امت کا قبلہ اور توحید و نماز کا مرکز ہے۔ اس کے ارد گرد طواف کر کے اور اپنی نمازوں اور اپنی تمام مسجدوں کا اس کو قبلہ قرار دے کر ہم اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ جس خدائے واحد کی عبادت کے لیے یہ گھر تعمیر ہوا ہم اسی کے بندے، اسی کی طرف رخ کرنے والے، اسی کے عبادت گزار اور اسی کی شمع توحید پر پروانہ وار نثار ہیں۔

اسی طرح صفا اور مروہ بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں۔ ان کے شعائر میں سے ہونے کی وجہ عام طور پر تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ انہی دونوں پہاڑیوں کے درمیان حضرت ہاجرہ نے حضرت اسمعیل کے لیے پانی کی تلاش میں تک و دو کی تھی لیکن استاذ امام(مولانا حمید الدین فراہی) کا رجحان اس بات کی طرف ہے کہ اصل قربان گاہ مروہ ہے۔ یہیں حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں فرمانبردارانہ اور غلامانہ سرگرمی دکھائی اس وجہ سے سے ان دونوں پہاڑیوں کو شعائر میں سے قرار دے دیا گیا اور ان کی سعی کی یادگار ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی ۔


شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں۔

مزید لکھتے ہیں " ان شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔

 ایک یہ کہ یہ شعائر، اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ ہیں۔ کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر کسی چیز کو دین کے شعائر میں سے قرار دے دے اور جو چیز شعائر میں داخل ہے اس کو شعائر کی فہرست سے خارج کردے۔ دین میں اس قسم کے من مانے تصرفات سے شرک و بدعت کی راہیں کھلتی ہیں۔ جن قوموں نے اپنے جیسے شعائر قرار دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اس طرح شرک و بت پرستی کی راہیں کھول دی۔

دوسری یہ کہ جس طرح شعائر،  اللہ کے مقرر کردہ ہیں اسی طرح اسلام میں ان شعائر کی تعظیم کے حدود بھی خدا اور رسول ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ جس شعیرہ کی تعظیم کی جو شکل شریعت میں ٹھہرا دی گئی ہے وہی اس حقیقت کے اظہار کی واحد شکل ہے جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے، اس سے سرِ مو انحراف نہ صرف اس شعیرہ کی حقیقت سے انسان کو محروم کردینے والی بات ہے بلکہ اس سے شرک و بدعت کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔  فرض کیجیے کہ حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ اس کی تعظیم کے لیے اس کو حالت طواف میں بوسہ دینے یا اس کو ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چوم لینے یا اس کی طرف اشارہ کرنے کی شکلیں کود دین کے لانے والے کی طرف سے مقرر کردی گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص تعظیم کی صرف انہی شکلوں پر قناعت نہ کرے بلکہ تعظیم شعائر اللہ کے جوش میں وہ اس پتھر کے آگے گھٹنے ٹیکنے لگے یا اس کے سامنے نذریں پیش کرنے لگے یا اس پر پھول نثار کرنے لگے یا اس طرح کی کوئی اور حرکت کرنے لگے تو ان باتوں سے وہ نہ صرف یہ کہ اس حقیقت سے بالکل دور ہوجائے گا جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے بلکہ وہ شرک و بدعت میں بھی مبتلا ہوجائے گا۔

 تیسری یہ کہ ان شعائر میں اصل مطمح نظر وہ حقیقتیں ہوا کرتی ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتی ہے۔ ان حقیقتوں کے اظہار کے لیے یہ شعائر گویا قالب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ملت کی زندگی کے لیے سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں یہ حقیقتیں برابر زندہ اور تازہ رکھی جائیں۔ اگر یہ اہتمام سرد پڑجائے تو دین کی اصل روح نکل جاتی ہے، صرف قالب باقی رہ جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی اصل توجہ صرف قوالب پر مرکوز ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین صرف ایک مجموعہ رسوم بن کے رہ جاتا ہے۔ 

--------------------------------------------
( تدبر قرآن، جلد 2 سورۃ المائدہ، آیت :2) 

دنیا اور آخر ت کی زندگی کا تقابل

اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ  ۔ 
(سورہ الحدید: 20-21)

کہ دنیوی زندگی محض ایک کھیل کو داور (ظاہری) خوشنمائی اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال واولاد میں ایک دوسرے پر اپنی برتری جتلانا ہے، ف ٢٧۔ گویا کہ مینہ ہے کہ اس کی پیداوار کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے سو تو اسے زرد دیکھتا ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے، ۔ اور آخرت میں عذاب شدیدبھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی، اور دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔"

اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭ
 ان آیات میں  مال پرست دنیا دار کو تذکیر و تنبیہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی، یعنی لہو و لہب، زینت و آرائش کا شوق، مال و اولاد کی تکثیر کی بھاگ دوڑ اور معیار زندگی اونچا کرنے کا باہم مقابلہ، جن میں جو وہ ہر وقت ڈوبے ہوئے ہو تے ہیں ، یہ کوئی خوش انجام سرگرمی نہیں ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ بارش اچھی ہوجائے جس سے فصل لہلہا اٹھے اور اس کو دیکھ کرنا شکرے لوگ پھولے نہ سمائیں لیکن پھر اس پر کوئی ایسی افتاد آ پڑے کہ وہ سوکھ کر زرد ہوجائے پھر ریزہ ریزہ ہوجائے۔ یہی حشر تمہاری ان تمام سرگرمیوں کا ہونا ہے جو تم اس دنیا کے حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے پر باری لے جانے کے لیے کر رہے ہو، ان میں سے کوئی چیز بھی باقی رہنے والی نہیں ہے ۔

وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ  ۔ 

  ان آیات میں یہ بتا یا  کہ تم نے اپنی نادانی سے اس دنیا کی لذات کو زندگی کا مقصود اپنی تمام مساعی کا حاصل اور گول قرار دے رکھا ہے حالانکہ یہ دنیا محض ایک سرمایہ غرور اور دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اصل گول تو آخرت ہے اور وہاں دو چیزوں میں سے ایک سے سابقہ پیش آنا ہے۔ ایک طرف عذاب شدید ہوگا، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی، اگر کوئی شخص اس دنیا کے مطامع کو قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودگی کے حصول کا حوصلہ نہیں کر پائے گا تو وہ لازماً اس کے عذاب شدید سے دو چار ہوگا ۔
 ایک خاص نکتہ اس آیت میں تالیف کلام عام مفسرین کے نزدیک تو اس طرح ہے کہ وہ ( انما الحیوۃ الدنیا) کو مبتداء اور اس کے بعد کی ساری عبارت کو خبر قرار دیتے ہیں لیکن میرے نزدیک ( انما الحیوۃ الدنیا) کے بعد ( لعب ولھو و زینۃ و تفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والاولاد) کے الفاظ بطور بدل بیان آئے ہیں اور ( کمثل غیث) الایۃ اس مبتداء کی خبر ہے۔ اس اسلوب کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں، مثلاً (لنسفعا بالناصیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطۃ ) (العلق : ٩٦، ١٥، ١٦) ( ہم اس کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے، جھوٹی، نابکار، گنہگار چوٹی) اس تالیف کلام سے معنی میں بڑا فرق پیدا ہوجائے گا۔ مفسرین کے نزدیک تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض لہو و لہب، زینت و آرائش اور تفاخر و تکاثر ہے۔ میرے نزدیک مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی یعنی لعو و لہب، زینت آرائش اور تفاخر کی تمثیل یوں ہے جس طرح۔ ۔۔ ۔۔ مفسرین کی تاویل کی رو سے یہ دنیا اور اس کی زندگی بحیثیت مجموعی ایک قابل نفرس و لعنت چیز ٹھہرتی ہے اور اس سے اسی رہبانی تصور کی تایید نکلتی ہے جس کی قرآن نے پوری شدت سے آگے اسی سورۃ میں تردید کی ہے اور اگر وہ تاویل لی جائے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے تو اس سے دنیا بحیثیت مجموعی نہیں بلکہ اس کا صرف وہ پہلو قابل نفرت قرار پائے گا جس پر کفارو منافقین ریجھتے ہیں اور جو ان کو جہنم میں لے جانے کا سبب بنتا ہے ۔
فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ دنیا اور اس کی زندگی بجائے خود لعنت نہیں ہے بلکہ اس کے لعنت یا رحمت ہونے کا تعلق انسان کے رویہ سے ہے۔ اگر انسان ان حدود کے اندر زندگی گزارے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں تو اس دنیا کی حیات چند روزہ اس کے لیے آخرت کی ابدی بادشاہی کی ضامن ہے اور اگر وہ ان حدود سے بے پروا ہو کر اس کو خود معبود بنا بیٹھے اور اس کی لذتوں میں کھو جائے تو یہ اس کے لیے ابدی لعنت بن جاتی ہے، اس آیت میں اس کے اسی پہلو سے ہوشیار کیا گیا ہے ۔
 ایک اور نکتہ۔ آیت میں لفظ کفار بھی قابل غور ہے۔ اس کے معنی مفسرین نے عام طور پر ’ زراع‘ یعنی کسانوں کے لیے ہیں لیکن دل اس پر نہیں جمتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ اس معنی میں معروف نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جس مادے سے ہے اس کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش بھی ہے لیکن محض اتنی بات ایک ایسے لفظ کو جو ایک اصطلاح کی حیثیت سے، ایک خاص مفہوم میں قرآن میں کثرت سے استعمال ہوا ہے، ایک ایسے شاذ معنی میں لینے کے لیے کافی نہیں ہے جس معنی میں اس کی کوئی اور مثال قرآن میں نہیں ہے۔ سورۃ ٔ فتح کی آیت ( فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار) (٢٩ ) ( پس وہ کھیتی اپنے تنوں پر کھڑی ہوگئی کسانوں کے دلوں کو لبھاتی ہوئی کہ ان سے کافروں کے دل آزادہ ہوں) میں دونوں لفظ اپنے اپنے خاص معنوں میں استعمال ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اپنے معانی میں معروف و متعین ہیں۔ اس وجہ سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں کفار اپنے اصل مفہوم ہی میں ہے۔ چونکہ اس تمثیل میں پیش نظر منکرین آخرت ہی کے رویہ کو نمایاں کرنا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ اس دنیا کی عارضی رونقیں منکرین آخرت کے دلوں کو لبھا لیتی ہیں وہ انہی کے اندر پھنس کے رہ جاتے ہیں اور بالآخر اس عذاب سے دو چار ہوتے ہیں جو اس قسم کے محروم القسمت لوگوں کے لیے مقدر ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تمثیل و تشبیہ میں بعض اوقات ایسے الفاظ داخل کر دیئے جاتے ہیں جن سے مقصود ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے جو اس تشبیہ یا تمثیل میں پیش نظر ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بعض چیزوں کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں۔ ان پر نگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ تشبیہ یا تمثیل کا اصل حسن ظاہر نہیں ہوتا، یہاں یہ لفظ استعمال کر کے ان لوگوں کا سراغ دے دیا گیا ہے جو تمثیل میں پیش نظر ہیں ۔ 

( تدبر قرآن ، مولانا امین احسن اصلاحی ) 

حاملین قرآن کا کردار

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 

قرآن میں حاملین قرآن کے  صرف پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ صبر، صدق، قنوت، انفاق، استٖغفار۔ 



1۔ "صبر "کی حقیقت نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں حق پر جزم و استقامت ہے۔ غربت، بیماری، مصیبت، مخالفت، جنگ، غرض جس قسم کے بھی حالات سے آدمی کو دو چار ہونا پڑے عزم و ہمت کے ساتھ ان کو برداشت کرے، ان کا مقابلہ کرے، ان سے عہدہ بر آ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے مکان کے حد تک موقف حق پر جما رہے۔ دل کو مایوسی اور گھبراہٹ سے، زبان کو شکوہ تقدیر سے اور اپنی گردن کو کسی باطل کے آگے جھکنے سے بچائے۔ دین کا بڑا حصہ اسی صبر پر قائم ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ وصف نہ ہو تو کوئی طمع، کوئی ترغیب، کوئی آزمائش بھی اس کو حق سے ہٹا کر باطل کے آگے سرنگوں کر دے سکتی ہے۔ جو شخص سچائی کے راستے پر چلنا چاہے اور اس پر چل کر استوار رہنے کا آرزو مند ہو اسے سب سے پہلے اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کرنی چاہیے۔ مزاحمتوں کے مقابلے کے لیے اور اس راہ میں ہر قدم پر مزاحمتوں سے مقابلہ ہے۔ اصلی ہتھیار بندے کے پاس یہی ہے۔ فلسفہ دین کے نقطہ سے دین نصف شکر ہے اور نصف صبر۔ لیکن عملی تجربہ گواہ ہے کہ آدمی میں صبر نہ ہو تو شکر کا حق بھی ادا نہیں ہوسکتا۔ یہاں چونکہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنہیں سچائی کی سب سے بڑی بلندی پر چرھنے کی دعوت دی جا رہی ہے اس وجہ سے ان کے سامنے، جن لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے ان کے کردار میں سب سے پہلے ان کے صبر ہی کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔


2۔ ’ صدق‘ کی اصل حقیقت کسی شے کا بالکل مطابق واقعہ ہونا ہے۔ اس کی روح پختگی اور ٹھوس پن ہے نیزے کی گرہیں دیکھنے میں جیسی مضبوط ظاہر ہو رہی ہیں آزمائش سے بھی ویسی ہی مضبوط ثابت ہوں تو ایسی نیزے کو عربی میں صادق الکعوب کہیں گے۔ زبان دل سے ہم آہنگ ہو، عمل اور قول میں مطابقت ہو، ظاہر اور باطن ہم رنگ ہوں، عقیدہ اور فعل دونوں ہم عناں ہوں، یہ باتیں صدق کے مظاہر میں سے ہیں اور انسانی زندگی کا سارا ظاہر و باطن انہی سے روشن ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی ساری معنویت ختم ہو کر رہ جاتی ہے یہی چیز ہے جو انسان کو وہ پر پرواز عطا کرتی ہے جس سے وہ روحانی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس سے اس کے صبر کو بھی سہارا ملتا ہے۔ 



3۔ ’’ قنوت‘‘ کی اصل روح اللہ جل شانہ کے لیے تواضع و تذلل ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں کے شعور اور اس کی بے نہایت عظمتوں کے احساس کا قدرتی ثمرہ ہے۔ یہ نعمت کو شکر کا اور مصیبت کو صبر کا ذریعہ بناتی ہے اور ہر حالت میں بندے کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔ اصلاً تو یہ عقل و دل کی فروتنی اور انکساری ہے لیکن جس طرح قلب کی ہر حالت کا عکس انسان کے ظاہر پر بھی نمایاں ہوتا ہے اسی طرح اس کا عکس بھی انسان کی وضع قطع، چال ڈھال، گفتار کردار ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہ اس غرور اور گھمنڈ کی ضد ہے جو نعمتوں کو اپنے استحقاق ذاتی کا ثمرہ سمجھنے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس تلون اور بے صبرے پن کے بھی منافی ہے جو صبر و صدق کے فقدان سے پیدا ہوتا ہے۔


4۔ "انفاق" کے معنی واضح ہیں۔ یہ مرغوبات دنیا کی اس محبت کی ضد صفت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر مرغوبات دنیا کی محبت دل پر اس طرح چھا جائے کہ وہ خدا اور بندوں کے حقوق سے انسان کو روک دے تو یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن نے ’’ زین للناس‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ انفاق کی خصلت اس امر کی شہادت ہے کہ صاحبِ انفاق کی نظر میں اصلی قدر و قیمت دنیوی خزف ریزوں کی نہیں بلکہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کی لازوال نعمتوں کی ہے۔ برعکس اس کے جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں ساری قدر وقیمت بس اس فانی دنیا کی فانی لذتوں ہی کی ہے، آخرت کی زندگی کا اس کے ذہن میں سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔


5۔’’ استغفار‘‘ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے تضرع و زاری کہ وہ اپنے بندے کی کوتاہیوں، گناہوں اور جرموں پر پردہ ڈالے۔ یہ تضرع اس حیا اور خوف کا نتیجہ ہے جو بندے کے دل میں اپنے پروردگار کے بے پایاں احسانات و انعامات کے احساس اور اس کے عدل و انتقام کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ’’ وقت سحر‘‘ کی قید لگی ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ وقت قبولیت استٖغفار کے لیے سب سے زیادہ موزوں، ریا کی آفتوں سے سب سے زیادہ محفوظ، دلجمعی اور آیات الٰہی میں تفکر و تدبر کے لیے سب سے زیادہ ساز گار ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں ہی میں مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت ہوئی ہے اور یہ رب کریم کا عظیم احسان ہے کہ اس نے استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ استغفار کی قبولیت کے لیے سب سے زیادہ سازگار وقت کا بھی خود ہی پتہ دے دیا۔ اس ٹکڑے پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے جہاں ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کن صفات کے لوگ ہیں جو قرآن کے حامل ہوسکتے ہیں وہیں یہ بات بھی اس سے نکلی کہ وہ موانع کیا ہیں جو قرآن کے ان مخالفین اور قرآن کے درمیان حائل ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان میں وہ صبر نہیں ہے جو نفس اور شیطان کی مزاحمتوں کے مقابل میں ان کو پابر جا رکھ سکے، وہ صدق نہیں ہے جو ان کے عقیدہ اور عمل، قول اور فعل، ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرسکے، وہ قنوت نہیں جو سب سے بڑے صاحبِ حق کے آگے ان کی گردن اور ان کے دل دونوں کو جھکا دے، ابدی زندگی کا وہ شوق نہیں ہے جو انہیں آخرت کے لیے دنیا کو قربان کرنے پر ابھار سکے اور خدائے منعم و دیان کی نعمتوں اور نقمتوں کا وہ شعور و احساس نہیں ہے جو انہیں غفلت کے بستروں سے اٹھا کر مناجات سحر کے لیے ان کو ان کے رب کے حضور لا کھڑا کرے۔ اور ساتھ ہی اسلوب بیان نے ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی کردیا کہ آج جن لوگوں نے اس قرآن کو قبول کرلیا ہے اور اس کے پھیلانے میں اللہ کے رسول کا ساتھ دے رہے ہیں وہ ان صفات سے متصف ہیں اور ان صفات سے متصف ہونے ہی کے سبب سے وہ اس بارِ گراں کے اٹھانے کے اہل بن سکے ہیں ۔"



(تدبر قرآن سورہ آل عمران : 179 )

اردوتفسیر نگاری کا پس منظر اور تفہیم القرآن کی خصوصیات - عبد الحی عابد

 بر صغیر پاک و ہند میں اردو میں ترجمہ و تفاسیر کا آغاز سولھویں صدی عیسوی میں ہوا لیکن یہ متفرق سورتوں اور پاروں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اردو زبان میں سب سے پہلا تشریحی ترجمہ حکیم محمد شریف خان بن محمد اکمل خان(م۱۲۲۲ھ) نے لکھا۔ یہ ترجمہ شائع نہیں ہوا اور ان کے خاندان میں محفوظ ہے۔ [۱]بقول قاضی عبدالصمد صارم، ہندوستان میں پہلی اردو تفسیر، چراغ ابدی ہے جو مولوی عزیز اللہ ہمرنگ  اورنگ آبادی نے ۱۲۲۱ھ میں لکھی۔ یہ صرف تیسویں پارے کی تفسیر ہے۔ اسی طرح شاہ مراد اللہ انصاری سنبھلی کی تصنیف خدائی نعمت بہ معروف تفسیر مرادی بہت مقبول ہوئی۔ یہ بھی تیسویں پارے کی تفسیر ہے اور تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ۱۱۸۵ھ میں مکمل ہوئی۔ [۲]
ہندوستان کے معروف محدث شاہ ولی اللہ کے فرزند شاہ رفیع الدین (م۱۲۳۲ھ۱۸۱۷ء )نے ۱۲۰۰ھ میں قرآن مجید کا ترجمہ لکھا جو کہ مختصر اور جامع لفظی ترجمہ ہے۔ شاہ رفیع الدین کے چھوٹے بھائی شاہ عبدالقادر (۱۲۳۰ھ، ۱۸۱۵ء ) نے ۱۲۰۵ھ میں موضح قرآن کے نام سے اردو زبان میں قرآن کا ترجمہ اور حواشی لکھے۔ شاہ صاحب کا یہ ترجمہ اپنے دور کے لحاظ سے بہترین ترجمہ ہے۔ اس میں عربی الفاظ کے مناسب ترین اردو اور ہندی مترادفات کو استعمال کیا گیا ہے۔ شاہ عبدالقادر کی اس تصنیف کو اردو زبان کی پہلی مکمل تفسیر قرار دیا جا سکتا ہے۔ سر سید احمد خان (۱۸۱۷ء۔ ۱۸۹۸ء)کی تفسیر’’تفسیر القرآن‘‘ بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی پہلی جلد ۱۸۸۰ء میں شائع ہوئی۔ سرسید احمد خان کا دور مسلمانوں کے انحطاط اور انگریزی غلبے کی وجہ سے کش مکش کا دور تھا۔ جدید تہذیب کے زیر اثر عقلیت پسندی اور قدیم روایات  سے انحراف کی کئی مثالیں سامنے آ رہی تھیں۔ اس عہد کی تفاسیر میں اس فکری کش مکش کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ [۳]یہ دور عقلیت اور سائنسی طرز فکرسے مرعوبیت کا دور تھا، جس کی جھلک اس تفسیر میں نظر آتی ہے۔ پہلی جلد کی اشاعت کے ساتھ ہی سرسید کے نظریات پر شدید تنقید ہونے لگی۔ انھوں نے اسلاف کی روش سے ہٹ کر قرآنی آیات کی تاویل اپنے نکتہ نظر سے کی۔ مولانا الطاف حسین حالی کے بقول:’’اگرچہ سرسید نے اس تفسیر میں جا بجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور بعض بعض مقامات پر ان سے نہایت رکیک لغزشیں ہوئی ہیں، بایں ہمہ اس تفسیر کو ہم ان کی مذہبی خدمات میں ایک جلیل القدر خدمت سمجھتے ہیں۔ ‘‘[۴]
سرسید کے بعداسی طرح کی جدیدیت اور سلف کی روش سے انحراف علامہ غلام احمد پرویز(۱۹۰۳ء۔ ۱۹۸۵ء)کی فکر میں بھی نظر آتا ہے۔ [۵]اسی زمانے میں مولانا عبدالحق دہلوی(م۱۹۰۰ء)نے تفسیر فتح المنان المعروف تفسیر حقانی  لکھی۔
__________________________________________
۱۔ عبدالصمد صارم، قاضی، تبیان الراسخ معروف بہ تاریخ تفسیر، کراچی:میر محمد کتب خانہ آرام باغ، ۱۳۵۵ھ، ص۶۸۔
۲۔ ایضاً، ص۶۳۔ ۳۔ جدید مغربی فکر اور سرسیدکی تفسیرالقرآن کے تفصیلی تجزیے کے لیے دیکحیے :محمد شہباز منج، ڈاکٹر، سرسیداحمدخان کی تفسیری تجدد پسندی-ایک مطالعہ، در ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ، جون تاستمبر۲۰۱۰ء۔ محمد شہباز منج، سرسید احمد خان:مغربی اثرات اور تفسیری تجدد پسندی، درجہات الاسلام، شعبہ اسلامیات، جامعہ پنجاب، لاہور، ۲۰۰۸ء، ج۲، شمارہ  ۱۔
۴۔ حالی، الطاف حسین، حیات جاوید، میرپور:ارسلان بکس، مئی ۲۰۰۰ء، ص۲۶۶۔
۵۔ پرویز صاحب کی تفسیر مطالب الفرقان کے نام سے ۱۹۷۵ء میں شائع ہوئی۔
__________________________________________
لیکن یہ تفسیر دور نو  کے فکری غلبے کا شکار نظر نہیں آتی، بلکہ اس تفسیر میں تقابل ادیان عربی گرامر اور احادیث کے حوالوں کے ساتھ ساتھ سرسید احمد خان کے فکری انحراف پر گرفت کی گئی ہے۔ یہ تفسیر اپنے اسلوب کے اعتبار سے منفرد اور عالمانہ ہے۔ [۱]  سید امیر علی کی تفسیر  مواہب الرحمن کا اسلوب انتہائی دقیق اور زبان پرانی ہے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر ثنائی  محدود مباحث کے باوجود عمدہ کوشش ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا انداز بیان بھی عربی فارسی الفاظ اور بکثرت اصطلاحات کے استعمال سے بوجھل ہو گیا ہے۔ فقہی اور کلامی مباحث، تصوف کے اسرار ور موز کے سبب یہ تفسیر جدید تعلیم یافتہ طبقے کی علمی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہی ہے۔ عبد الماجد دریا بادی (۱۸۹۲ء۔ ۱۹۷۷ء)نے اپنی تفسیر تفسیر ماجدی کے ذریعے قرآنی اشکالات کو دور کرتے ہوئے قاری اور قرآن کے درمیان تعلق میں اضافہ کیا ہے۔ اس تفسیر کا اسلوب عمدہ اور حواشی مختصر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ تفسیر قبول عام حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد (۱۸۸۸ء۔ ۱۹۵۸ء)کی تفسیر ترجمان القرآن نامکمل اور صرف اٹھارہ پاروں کی تفسیر ہے۔ اس میں دانش ور اور جدید طبقہ کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ مولانا ایک طرف ڈارون ازم سے متاثر ہیں تو دوسری طرف اشتراکیت کو بھی بطور نظام زندگی اہمیت دیتے ہوئے آزمانے کا موقع دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ [۲]اس تفسیر کا انداز تحریر عمدہ تاثر قائم نہیں کرسکا۔ مولانا عبید اللہ سندھی (۱۸۷۲ء۔ ۱۹۴۴ء)کی تفسیر المقام المحمود           کا انداز اتنا الجھا ہوا ہے کہ اس سے عام آدمی تو کیا کسی ادیب اور مفکر کے لیے بھی استفادہ مشکل ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیربیان القرآن، علماء کے مطالعے کے لیے تحریر کی گئی۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی (۱۸۵۶ء۔ ۱۹۲۱ء)کی تفسیرکنزالایمان، مولانا مفتی محمد شفیع (۱۸۹۶ء۔ ۱۹۷۶ء)کی تفسیر معارف القرآن اور پیر محمد کرم شاہ الازہری (۱۹۱۸ء۔ ۱۹۹۸ء)کی تفسیر ضیاء القرآن کا شمار اپنے دور کی نہایت عمدہ تفاسیر میں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان میں بھی ایک  مخصوص فکر کی جھلک نظر آتی ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی(۱۸۶۳ء۔ ۱۹۳۰ء)نے نظام القرآن کے نام سے تیسویں پارے کی کچھ سورتوں کی تفسیر لکھی۔ بعد ازاں ان کی فکر سے متاثر ان کے شاگرد مولانا امین احسن اصلاحی (۱۹۰۴ء۔ ۱۹۹۷ء)نے تدبر قرآن کے نام سے سنجیدہ اور علمی انداز میں تفسیر لکھی ہے جس میں فقہی، جماعتی اور گروہ بندی سے بالاتر ہو کر، عالمانہ انداز میں نظم قرآن، قراآت، الفاظ و اصطلاحات کی تحقیق پیش کی ہے۔ [۳]
__________________________________________
۱۔ عبدالصمد صارم، قاضی، تبیان الراسخ معروف بہ تاریخ تفسیر،، ص۲۷۔
۲۔ امتیاز احمد، ڈاکٹر، مولانا مودودی کی نثرنگاری، ص۱۰۶۔
۳۔ ایضاً، ص۱۰۷۔
__________________________________________
اردو تفاسیر کے سرسری جائزے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہر عالم دین، مفسر قرآن نے اپنے اپنے حالات، علمی رجحانات، بدلتے تقاضوں، عصر حاضر کی فکری ضروریات کے تحت پورے اخلاص و جانفشانی کے ساتھ تفاسیر لکھی ہیں اور انھیں زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اسے کیا کہیے کہ کلامی تفاسیر میں اعتقادی بحثیں چھائی رہیں، فقہی تفاسیر میں اختلاف مذہب توجہ کا مرکز بن گئے۔ عارفانہ تفاسیر میں روحانی پہلو غالب آ گیا اور ادبی تفاسیر الفاظ کے حسن اور قرآن کے ادبی اعجاز کو موضوع بحث بنا سکیں۔ ان تفاسیر میں اگر کہیں قرآن کا پیغام ابھرا بھی تو وہ قرآن کے مرکزی موضوع کے مطابق اسلام کے ایک مکمل دین ہونے کا واضح نقشہ نہ مرتب کر سکا۔ اور  اگر کسی نے ایسی کوشش کی بھی تو ایسی بھاری بھر کم مذہبی اصطلاحات اور عربی تراکیب و الفاظ استعمال کیے کہ عام قاری یہ سمجھنے پر مجبور ہو گیا کہ قرآن پاک کے پیغام کو سمجھنا اس کے بس کی بات نہیں یہ صرف علما کرام کی ذمہ داری ہے۔
چنانچہ اس زمانے میں  ایک ایسی تفسیر کی ضرورت تھی جو ایک طرف علمائے کرام لیے بھی قابل قبول ہو اور دوسری طرف عام پڑھے لکھے طبقے کی ضرورت کو بھی پورا کرسکے۔ جو قرآن کے پیغام کی تفہیم اس رخ پر کرے کہ قرآن کے آفاقی پیغام کی معنویت ہر قاری پر اس انداز میں واضح ہو جائے کہ قرآن پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ بن جائے۔ اس تفسیر میں جہاں عقائد و ایمانیات کا ذکر ہو وہاں عصری افکار و تحریکات کا تجزیہ بھی ہو۔ اس کی زبان دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق، اتنی آسان سہل سادہ اور دل نشین ہو کہ قرآن مجید عام پڑھے لکھے مسلمانوں کے ذہنوں کو متاثر کرسکے اور غلافوں سے نکل کر سینوں سے ہوتا ہوا زندگی کے تمام گوشوں پر محیط ہو جائے۔

تفہیم القرآن

 یہ ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے خیالات، رسم ورواج، معاشرت، معاملات اور اقدار تک میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی معاملہ زبانوں اور لہجوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کے انداز  بدل جاتے ہیں۔ روزمرہ بول چال کے الفاظ، معانی، محاورات، لہجات اور مفاہیم میں بھی کئی نئے رنگ پیدا ہو جاتے ہیں۔ جدید دور کے بعض لازمی تقاضے صدیوں سے قائم نظریات و عقائد تک کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ اردو زبان کی جن تفاسیر کا ذکر ہم نے کیا ہے وہ سب اپنے دور کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھیں۔ ان میں سے کوئی تفسیر بھی دور حاضر کے تقاضوں کوپورا نہیں کرسکتی تھی۔ بعض کی زبا ن مشکل تھی تو بعض میں تسلسل اور روانی نہیں تھی۔ ان مذکورہ تفاسیر کے تناظر میں، سیدابوالاعلیٰ مودودی کے ذہن میں بھی یہ خیال موجود تھا کہ یہ تفاسیر اب بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ نہیں دے رہیں۔ وہ دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتی ہوئی، ایک ایسی مدلل، ہمہ جہت، اور آسان انداز میں لکھی گئی تفسیر کی ضرورت محسوس کر رہے تھے جو مغربی افکار و تصورات اور فلسفیانہ توجیہات کو ردّ کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے جامع نظام زندگی ہونے کا تصور بھی پیش کرے۔ ۱۹۲۶ء  میں جب سید مودودی اپنی اوّلین جامع تصنیف الجہاد فی الاسلام کی تخلیق کے لیے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کر رہے تھے۔ تو مطالعہ قرآن کے دوران میں انھیں احساس ہوا کہ قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ تحریک کی کتاب ہے۔ اس لیے اسی کو بنیاد بنا کر دنیا میں اسی طرح عالم گیر تحریک قائم کی جا سکتی ہے جیسے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی۔ [۱]
__________________________________________
۱۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، دسمبر۱۹۷۲، ص۱۱۵۔
__________________________________________
اگست ۱۹۴۱ء میں سید مودودی نے اپنے اس احساس کو عملی شکل دیتے ہوئے، جماعت اسلامی کے نام سے اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر اس نوزائیدہ تحریک کی فکری رہنمائی فراہم کے لیے قرآن مجید کی ایک جامع اور عام فہم تفسیر کی ضرورت اور زیادہ شدت سے محسوس ہوئی۔ چنانچہ سید مودودی نے فروری ۱۹۴۲ء میں   ترجمان القرآن  کے صفحات پر تفسیر قرآن کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اگرچہ آپ کو مختلف وجوہات کی بنا پر چار مرتبہ (چار سال، سات ماہ، انیس دن کے لیے ) جیل جانا پڑا اور بیرون ملک دوروں کے ساتھ ساتھ  اندرون ملک تنظیمی امور بھی انجام دیتے رہے لیکن تفسیر کا یہ سلسلہ بلا تعطل جاری رہا۔ سید مودودی کہتے ہیں :
’’ اس کتاب کے لکھنے کا سلسلہ میں نے اس وقت شروع کیا تھا جب میری زندگی کا سب سے طوفانی دور شروع ہوا تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ جماعت اسلامی اگست ۱۹۴۱ء میں قائم ہوئی تھی اور میں نے یہ تفسیر فروری ۱۹۴۲ء میں لکھنی شروع کی۔ [۱]
جس دور میں سید مودودی نے تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا اس وقت مغربی فلسفے کے زیر اثر پروان چڑھنے والی تہذیب اور تعلیم نے مسلمانوں کو علمی و فکری اعتبار سے منتشر کر رکھا تھا۔  دین سے بیزاری  اور الحاد نے فیشن کا روپ دھار لیا تھا۔ جدت پسندی، روشن خیالی اور آزادی نسواں کی آڑ میں عریانی، فحاشی، بے حیائی اور بے پردگی کو رواج دیا جا رہا تھا۔ ۔ سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام معیشت کے زیر اثر سود معاشی ترقی کے ایک ذریعے کا روپ دھار چکا تھا۔ مغربی ممالک کی معاشی ترقی سے متاثرمسلمان مفکرین اس خوش حالی کو ان ممالک کی مذہب سے بیزاری اور ا لحاد کا ثمر سمجھ رہے تھے۔ کثیر الملتی کمپنیاں اپنے کاروبار کے فروغ اور مارکیٹ کی توسیع کے لیے تمام پس ماندہ ممالک میں ایک خاص قسم کی تہذیب اور اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں تھیں۔ مسلمانوں کی نوجوانوں نسل ان فتنوں سے مرعوب ہو کر اشتراکیت، قومیت، مغربی تہذیب، انکار حدیث جیسے فکری سیلاب میں بہہ رہی تھی۔ سید مودودی نے ان تمام افکار کی تہہ تک پہنچنے اور نوجوان نسل کے شک و شبہات دور کرنے کے لیے تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر ان افکار کا خصوصی طور پر مطالعہ کیا۔ آپ نے ہندو مذہب، بدھ مت، مسیحیت، یہودیت، دہریت اور مادہ پرستی کے افکار و نظریات کا مطالعہ کیا۔ اس سلسلے میں آپ نے ان مذاہب و افکار کی بنیادی کتب اور ان کے زعماء کی سوانح کا بغور مطالعہ کیا۔ اس کے بعد پھر قرآن و سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ شعوری طور پریکسو ہو کر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسلام سے زیادہ معقول اور مدلل مذہب اور پیارے نبی حضرت محمدﷺ سے زیادہ مکمل رہنما اور کوئی نہیں ہے۔ بقول سید مودودی:’’میں محض دین آباء ہونے کی وجہ سے اسلام کا معتقد نہیں ہوا، بلکہ اپنی تحقیق سے، خوب جانچ پڑتال کر کے میں اس دین پر ایمان لایا ہوں۔ ‘‘[۲] اس کے بعد آپ نے جو کچھ اپنی تحقیق و تلاش کے نتیجے میں سمجھا اسے اصلاح امت کی خاطر عوام الناس تک منتقل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آپ کو محسوس ہوا کہ جو طریقہ انھوں نے اختیار کیا ہے وہ زیادہ سود منداور نتائج کے اعتبار سے بہتر نہیں ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے قرآن مجید کو اپنی دعوت کا مرکزو محور بنانے کا ارادہ کیا۔ فرماتے ہیں :’’مگر بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ دین پوری طرح لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتا جب تک کہ براہ راست قرآن کے ذریعہ سے اسے نہ سمجھایا جائے۔ ‘‘[۳]
__________________________________________
۱۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، دسمبر۱۹۷۲ء، ص۱۱۵۔
۲۔ ایضاً، ص۱۱۳۔
۳۔ ایضاً، ص۱۱۳۔
__________________________________________
سید مودودی نے جب تفسیر نگاری کا کام شروع کیا تو ان کے پیش نظر قرآن پاک کی مختصر تفسیر لکھنا تھا لیکن جیسے جیسے قرآنی مضامین کی وضاحت شروع کی تو تفصیلات بڑھتی چلی گئیں اور یہ تفسیر چھ جلدوں میں مکمل ہوئی۔ پہلی جلد ۱۹۵۱ء میں مکمل ہوئی اور آخری ۱۹۷۲ء میں شائع ہوئی۔ پہلی جلد قدرے مختصر ہے۔ دوسری اور تیسری جلداس سے  زیادہ مفصل ہے۔ اسی طرح بالترتیب ہر اگلی جلد پہلی جلدسے زیادہ  تفصیل کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلی جلد ساڑھے سات پاروں کی تفسیر ہے جب کہ آخری صرف ایک سورت اور دو پاروں کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ سید مودودی کی تفسیر نگاری کی صلاحیتیں تیسری جلد سے اپنے عروج پر نظر آتی ہیں۔ اس جلد اور مابعدساری جلدوں میں قرآنی موضوعات پر وضاحت اور تفصیل سے  بحث کی گئی ہے۔ سید صاحب کے نزدیک اس تفسیر کا بنیادی مقصد عام پڑھے لکھے افراد کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ آپ نے تفہیم القرآن کے دیباچے میں اس مقصد کا اظہار کرنے ہوئے لکھا ہے :’’اس کام میں میرے پیش نظر علما اور محققین کی ضروریات نہیں ہیں اور نہ ان لوگوں کی ضروریات جو عربی زبان اور علوم دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد قرآن مجید کا گہرا تحقیقی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حضرات کی پیاس بجھانے کے لیے بہت کچھ سامان پہلے سے موجود ہے۔ میں جن لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں وہ اوسط درجہ کے تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو عربی سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔ ‘‘  [۱]
اس مقصد کے پیش نظر آپ نے تفسیر کا انداز عام فہم اور زبان سلیس رکھی، لیکن اس سب کے باوجود آپ کی نثر زوردار ہے اور ادبی رنگ میں بھی کہیں کمی نظر نہیں آتی۔ قرآن کے لفظی تراجم کے برعکس آپ نے آزاد ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا۔ فرماتے ہیں : ’’میں نے اس کتاب میں ترجمے کا طریقہ چھوڑ کر آزاد ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ‘‘[۲]
آزاد ترجمانی کے اس اسلوب کو اختیار کرنے کا مقصد آپ کے نزدیک یہ تھا کہ عام قاری قرآن مجید کے مطالعے کے دوران میں طویل لغوی، کلامی اور فقہی بحثوں سے دور رہ کر، اس کا مفہوم و مدعا صاف صاف سمجھتا جائے۔ قرآن مجید کا زور بیان، اعجاز کلام، روانی، بلاغت زبان اور تاثیر کلام بھی متاثر نہ ہو اور قرآن قاری  پر جو اثر ڈالنا چاہتا ہے، وہ  اسے پوری طرح سے قبول کرے۔


تفہیم القرآن کی امتیازی خصوصیات


  جامعیت:

سید مودودی کے نزدیک قرآن مجید کا معاملہ عام کتابوں کی طرح نہیں ہے جن میں مصنف موضوعات کو ایک خاص ترتیب سے رکھ کر ان کے مطابق اپنی گزارشات پیش کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک اسلامی اور انقلابی تحریک کے لیے نازل کی گئی ہدایات پر مشتمل ایک ضابطہ ہے جسے بیک وقت نازل نہیں کیا گیا بلکہ اس تحریک دعوت و عزیمت کے تمام مراحل میں وقتاً فوقتاً نازل ہوتا رہا۔ یہ ایک جامع صحیفہ ہدایت ہے جو تحریک دعوت و جہاد کے ابتدائی مراحل سے لے کر اس کے نقطہ عروج تک ہر مرحلے میں راہ نمائی کرتا ہے۔ بقول سید صاحب: ’’قرآن مجید ایک دعوت کے ساتھ اترنا شروع ہوا اور وہ دعوت اپنے آغاز سے لے کر اپنی انتہائی تکمیل تک تیئیس سال کی مدت میں جن جن مرحلوں اور جن جن منزلوں سے گزرتی رہی، ان کی مختلف النوع ضرورتوں کے مطابق قرآن کے مختلف حصے نازل ہوتے رہے۔ ‘‘ [۳]
__________________________________________
۱۔ تفہیم القرآن، ج۱، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، اگست ۱۹۹۳، ص۶۔
۲۔ ایضاً، ج۱، ص۶۔
۳۔ ایضاً، مقدمہ، ص۲۵۔
__________________________________________
چنانچہ اسی چیز کو پیش نظر رکھ کے سید مودودی نے قرآن مجید کا مطالعہ ایک جامع دستورالعمل کی حیثیت سے کیا اور اسی تصور کے زیر اثر اس کی تفسیر بیان کی۔ بقول نعیم صدیقی:’’ماضی قریب کے اردو لٹریچر میں دین کا بیان اس طرح ملتا ہے کہ ہر عقیدے کی وضاحت موجود ہے۔ نماز روزہ کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ حج اور زکوٰۃ کے مصالح کا تذکرہ ہے۔ جہاد کی اہمیت اور ثواب کا بیان ہے۔ حکومت، امارت، قضا اور جرم و سزا کے مسائل ہیں۔ مگر کچھ اس طرح کہ ہر چیز الگ الگ دکھائی دیتی ہے۔ یہ سارا مجموعہ کسی ایک جگہ مربوط ہو کر ایک ’’کل‘‘ نہیں بنتا۔ تفہیم القرآن نے انھیں اس طرح پیش کیا ہے کہ سارے شعبے اور اجزا جمع ہو کر نظم پا لیتے ہیں، بلکہ یہ منظم نظام فکر متحرک ہو جاتا ہے اور تصور دین کے ساتھ دنیائے حقائق میں داخل ہوتے ہیں۔ ‘‘ [۱]

ماخذ تفسیر


تفسیرالقرآن بالقرآن:

سید مودودی نے اپنی تفسیرمیں سب سے پہلا ماخذ قرآن مجید ہی کو قرار دیا۔ کسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے آپ بالترتیب، سب سے پہلے قرآن مجید سے رہنمائی لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کا دوسرا ماخذ نبی کریم ﷺ سے منسوب تفسیری روایات ہیں۔ پھر اقوال و آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کو سامنے رکھتے ہیں۔ آپ کا تصورِ تفسیرنہایت سادہ و دلکش ہے۔ کسی قسم کی غیر واضح اور متشابہ چیز آپ کے ہاں نہیں پائی جاتی۔ آپ کا بنیادی ماخذ چونکہ قرآن مجید ہے اس لیے آپ قرآن کی حدود کے اندر رہتے ہوئے تفسیر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنے طرز عمل کی وضاحت اس طرح سے کرتے ہیں :
’’ہمارے نزدیک قرآن کے الفاظ سے زائد کوئی مطلب لینا چار ہی صورتوں میں درست ہو سکتا ہے یا تو قرآن ہی کی عبارت میں اس کے لیے کوئی قرینہ موجود ہو، یا قرآن میں کسی دوسرے مقام پر اس کی طرف کوئی اشارہ ہو یا کسی صحیح حدیث میں اس اجمال کی شرح ملتی ہو۔ یا اس کا کوئی اور قابل اعتبار ماخذ ہو‘‘۔ [۲]
اسی طرح قرآن مجید کی تاویل و تعبیر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
’’آپ قرآن مجید کی تاویل و تعبیر کا صحیح طریقہ اچھی طرح سمجھ لیں۔ آپ جس آیت کے معنی سمجھنا چاہتے ہوں پہلے عربی زبان کے لحاظ سے اس کے الفاظ و ترکیب پر غور کریں۔ پھر اسے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھیں، پھر اسی مضمون سے تعلق رکھنے والی جودوسری آیات  قرآن میں مختلف مقامات پر موجود ہیں ان کو جمع کر کے دیکھیں کہ زیر بحث آیت کی ممکن تعبیرات میں سے کون سی تعبیر ان سے مطابقت رکھتی ہے۔ ‘‘۔ [۳]سید مودودی قرآن کی تفسیر میں احادیث سے رہنمائی لینے کے باوجود، بنیادی اہمیت قرآن کے معنی کو دیتے ہیں۔ اس اصول کے بارے میں آپ لکھتے ہیں : قرآن کے خلاف کوئی روایت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی‘‘۔ [۴]
__________________________________________
۱۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، مقالہ نعیم صدیقی، ص۲۲۶۔
۲۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۴، ص۳۳۴، حاشیہ:۳۵۔
۳۔ مودودی، رسائل ومسائل، ج۳، ص۱۷۔
۴۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۳، ص۷۱۳، حاشیہ:۹۱۔
__________________________________________

تفسیرالقرآن بالحدیث:

سید مودودی تفسیر قرآن میں حدیث کو دوسرا بڑا ماخذ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی تفسیر میں جا بجا احادیث نبوی سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔ پہلی دو جلدوں میں احادیث کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ سید مودودی کہتے ہیں : ’’میں نے جگہ جگہ قرآن مجید کی آیات اور احکام کی تشریح میں معتبر احادیث نقل کی ہیں جن سے حدیث و قرآن کا تعلق بھی اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے اور اس غلط فہمی کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کہ حدیث کے بغیر بھی قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ بلکہ پڑھنے والے کو یقین ہو جاتا ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن کے بکثرت ارشادات و احکام کو آدمی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ ‘‘[۱]  بد قسمتی سے ہمارے تفسیری ادب میں بہت سی ضعیف روایات اور اسرائیلیات بھی شامل ہو گئیں ہیں۔ اسرائیلیات، موضوعات اور ضعیف روایات کے ضمن میں ہمیں تفہیم القرآن میں جو انفرادیت نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ سید مودودی روایات کو جوں کا توں قبول نہیں کرتے، بلکہ ان کا تجزیہ کرتے ہیں اور جو روایات قرآن کے مجموعی نظم اور تاثر سے ٹکراتی ہیں ان کو رد کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں روایات کو قبول کرنے یا ردّ کرنے کا معیار صرف قرآن کا نفس مضمون ہے۔ بہت سی ایسی روایات جو قبول عام کے بعد بڑے بڑے مفسرین کی تفاسیر میں موجود ہیں، سید مودودی نے ان کو قبول نہیں کیا۔ اگر کہیں ان روایات کا حوالہ بھی دیا ہے تو ان پر نقد و جرح کے لیے دیا ہے۔ روایات کے بارے میں سید مودودی کا تحقیقی اور تجزیاتی انداز ان کی تفسیر کو قرآنی موضوعات اور حقائق کے زیادہ قریب کر دیتا ہے۔  تفہیم القرآن میں ایسی کئی روایات موجود ہیں جنھیں سید مودودی نے روایت اور درایت کے اصول پر پرکھنے کے بعد قبول یا رد کیا ہے۔ بطور مثال ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے تین جھوٹ بولنے والی روایات کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کے راوی حضرت ابو ہریرہؓ ہیں اور انھیں امام بخاری اور ان کے علاوہ کئی محدثین نے نقل کیا ہے۔ [۲]  اکثر مفسرین نے ان روایات کو اپنی تفاسیر میں جگہ دی ہے۔ روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام تین مقامات پر جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک موقع پر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اپنی قوم کے استفسار پر فرمایا:قال بل فعلہ کبیرھم ھٰذا  فسئلوھم ان کانوا ینطقون۔ (الانبیاء ۲۱:۶۳) ’’یہ سب کچھ ان کے اس سردارنے کیا ہے، ان ہی سے پوچھ لواگر یہ بولتے ہوں ‘‘۔  دوسرے موقع پر جب ان کی قوم نے ان سے میلے پر جانے کے لیے کہا تو آپ نے جواب دیا: فقال انی سقیم۔ (الصافات ۳۷:۸۹)  ’’پس انھوں نے کہا میں بیمار ہوں ‘‘۔  پہلے دونوں مقامات کا ذکر قرآن میں موجود ہے جبکہ تیسرے جھوٹ کا ذکر بائیبل (پیدائش ۱۲:۱۱۔ ۲۰ اور۲۰:۲۔ ۱۶)میں موجود ہے، جب اہل مصر اور ابی ملک بادشاہ کے پوچھنے پر آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت سارہؓ کو اپنی بہن بتایا۔
__________________________________________
۱۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، ص۱۱۴۔
۲۔ بخاری، کتاب حدیث الانبیا، نمبر۳۱۱۸۔ ۳۱۲۲۔
__________________________________________
سورۃ الانبیا ء کی آیت نمبر ۶۴ :’’انھوں نے پوچھا کیوں ابراہیم تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے۔ اس نے جواب دیا بلکہ یہ سب کچھ ان کے سردار نے کیا ہے ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں ‘‘، کے مختلف تراجم اور تفاسیر کا جائزہ لیتے ہیں کہ مختلف مفسرین نے اس سے کیا مراد لیا اور جھوٹ بولنے کی روایت کوکس طرح سے تفسیرمیں شامل کیا ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں :’’اس حدیث میں حضرت ابراہیمؑ کی طرف تین جھوٹ کی نسبت کی گئی ہے جو شان نبوت اور عصمت کے خلاف ہے مگر اس کا جواب خود اسی حدیث کے اندر موجود ہے وہ یہ کہ ان میں سے ایک بھی حقیقی معنی میں جھوٹ نہ تھا یہ تو’’ توریہ‘‘  تھا جو ظلم سے بچنے کے لیے جائز و حلال ہوتا ہے وہ جھوٹ کے حکم میں نہیں ہوتا‘‘۔ [۱]
دوسرے جھوٹ کے بارے میں مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں :  ’’تقریر بالا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا ’’انی سقیم‘‘ کہنا مطلب واقعی کے اعتبار سے جھوٹ نہ تھا: ہاں مخاطبین نے جو مطلب سمجھا اس کے اعتبار سے خلاف واقعہ تھا۔ اس لیے بعض احادیث صحیحہ میں اس پر لفظ کذب کا اطلاق کیا گیا حالانکہ فی الحقیقت یہ کذب نہیں بلکہ توریہ ہے ‘‘۔ [۲]
مولانا عبد الماجد دریا بادی کہتے ہیں :’’حدیث صحیح میں ابراہیم خلیل اللہ کے اس قول کو کذب سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس سے منکرین حدیث کو بخاری، مسلم، ترمذی کے خلاف ایک طومار کذب باندھنے کا موقع مل گیا ہے۔ حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ یہ کذب صرف صورۃً تھا‘‘۔ [۳]
ان تفسیروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ علمائے تفسیر کو محض اس لیے الجھن پیش آ رہی ہے کہ حدیث کی سند صحیح ہے اور بخاری میں منقول ہے۔ اس لیے وہ بجائے حدیث پر جرح کرنے کے، کذب کی تاویلیں کرنا زیادہ بہتر سمجھ رہے ہیں۔ سید مودودی کہتے ہیں : ’’یہ حدیث جس میں حضرت ابراہیمؑ کے تین ’’جھوٹ‘‘ بیان کیے گئے ہیں صرف اس وجہ سے قابل اعتراض نہیں ہے کہ یہ ایک نبی کو جھوٹا قرار دے رہی ہے بلکہ اس بنا پر بھی غلط ہے کہ اس میں جن تین واقعات کا ذکر کیا گیا ہے وہ تینوں ہی محل نظر ہیں ‘‘۔ چنانچہ سید صاحب نے ان تینوں واقعات کا تجزیہ کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات پر لگائے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ [۴]
سید مودودی روایات کو سند کے قوی اور قابل اعتماد ہونے کے باوجود تجزیہ و تحقیق کے بعد قبول کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ
سند کے ساتھ ساتھ متن کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر متن میں کوئی قباحت ہو تو روایت کے صحیح ہونے پر اصرار مناسب نہیں ہے۔ آپ روایت کو عقل پر بھی پرکھتے ہیں اور استدلالی نقطہ نظر سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ سورۃ طہٰ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوئلہ اٹھا کر منہ میں رکھنے اور لکنت آ جانے کی روایت زبان زد عام ہے، لیکن اس روایت کے بارے میں سید مودودی کا موقف بالکل مختلف ہے۔ آپ لکھتے ہیں : ’’یہ قصہ اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے ہاں تفسیروں میں بھی رواج پا گیا ہے لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے اس لیے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اٹھا کر منہ میں لے جا سکے۔ بچہ تو آگ کی جلن محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے منہ میں لے جانے کی نوبت کہاں آ سکتی ہے۔ ‘‘[۵]
__________________________________________
ا۔ محمد شفیع، مفتی، معارف القرآن، کراچی:ادارۃ المعارف، ج۶، س ن، ص۱۹۹۔
۲۔ عثمانی، شبیر احمد، فوائد عثمانی، لاہور:نفیس پبلشرز، س ن، ص۵۸۹۔
۳۔ دریابادی، عبدالماجد، تفسیر ماجدی، لاہور:تاج کمپنی، ۱۹۷۵ء، ص۶۶۷۔
۴۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۳، ص۱۶۷، حاشیہ۶۰۔
۵۔ ایضاً، ص۹۲، حاشیہ ۱۵۔
__________________________________________
چنانچہ اس طرح سے روایات کے تجزیہ و تحقیق کے سبب سید مودودی کی تفسیر عقل عام کے لیے بھی متاثر کن ہے۔

محدود تفسیر بالرائے :

سید مودودی نے اپنی تفسیر میں بعض معاملات میں اپنی فقہی آرا اور تحقیقات بھی بیان کی ہیں۔ اس لیے آپ کی تفسیر کسی حد تک تفسیر بالرائے بھی  ہے، لیکن اسے ’’تفسیر بالرائے المحمود‘‘ کہا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے تفسیر بالرائے کے مسلک کو اختیار کرنے کے باوجود، قرآن مجید کی تفسیر و تفہیم میں حد درجہ احتیاط سے کام لیا ہے۔ آپ نے قرآنی الفاظ سے صرف وہی مفہوم مراد لیا ہے جو اس کے سیاق و سباق سے اخذ کیا جا سکتا تھا یا جتنی اجازت قرآن کے الفاظ دیتے ہیں۔ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں :
’’قرآن کی تفسیر میں میرا مسلک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں جس حد تک وسعت ہے میں اس کی حدود میں رہ کر اس کی تفسیر کرتا ہوں۔ ان حدود سے باہر جا کر اپنے تخیل سے کوئی ایسی بات حتی الامکان بیان نہیں کرتا جس کی گنجایش الفاظ قرآن میں نہ ہو‘‘۔ [۱]

معاصر علماء سے مشاورت و مکالمہ:

سیدصاحب نے یہ تفسیرتیس سال کی محنت شاقہ کے بعد مکمل کی۔ اس کی بہت ساری خصوصیات ایسی ہیں جو اسے دیگر تفاسیر سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی اہم خصوصیت معاصر علماء سے مشاورت اور تفسیر ی نکات کے بارے میں ترجمان القرآن میں عام مباحثہ ہے۔ سید مودودی نے جب رسالہ ترجمان القرآن جاری کیا تو آپ کے پیش نظر مسلمانوں اور غیر مسلموں کو قرآن سمجھانے میں معاونت کرنا اور ان شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا تھا جو قرآن کے مطالعے کے دوران میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آپ نے تفہیم القرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے، تسلسل کے ساتھ، اس رسالے میں شائع کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تفسیر مسلسل تیس سال تک عام قارئین، اہل علم، اہلِ دین اور دانش ور حلقوں کے زیر مطالعہ رہی۔ ایسا نہیں ہوا کہ سید صاحب نے کوئی انفرادی رائے قائم کی ہو اور چپکے سے اسے تفسیر کی صورت میں شائع کر دیا ہو۔ اس تفسیرپر کھلے عام تنقید کا سلسلہ تیس سال تک جاری رہا۔  سید مودودی نے فراخ دلی سے اس پر ہونے والی تنقید کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ اپنی آراء سے رجوع کر کے، تفسیر پر نظر ثانی بھی کی۔ اس سلسلے میں علما ے کرام اور اہل دانش سے خط کتابت بھی کرتے رہے اور ان کی طرف سے پیش کیے گئے اعتراضات اور نکات کی روشنی میں اس تفسیر کو مزید نکھارا۔ [۲]

 بصیرت افروز مقدمہ:


تفہیم القرآن کی ایک منفرد خصوصیت اس کا طویل اور بصیرت افروز مقدمہ ہے۔ مودودی صاحب کے بقول: ’’میں محض دین آبائی ہونے کی وجہ سے اسلام کا معتقد نہیں ہوا، بلکہ اپنی تحقیق سے خوب جانچ پڑتال کر کے میں اس دین پر ایمان لایا ہوں۔ ‘‘[۳]
__________________________________________
۱۔ مکاتیب سید ابوالاعلیٰ مودودی، ج۲، ص۲۷۶۔
۲۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، ص۲۳۱۔
۳۔ ایضاً، ص۱۱۳۔
__________________________________________
انھوں نے اسلام کوسمجھنے کی شعوری جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے دوران میں جتنے سوالات اور اشکالات کا سامنا خود انھیں ہوا، اس کو سامنے رکھتے ہوئے آپ نے ایک قاری کے ذہن میں مطالعہ قرآن کے دوران میں پیدا ہونے والے ممکنہ سوالات کا احاطہ کیا۔ ان تمام سوالات کے جوابات آپ نے مقدمہ تفہیم القرآن میں دینے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے اس بات کی نشان دہی کی ہے کہ قرآن مجید عام کتابوں کی طرح نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے موضوع، مضمون، اور ترتیب کے لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے۔ لہٰذا اس کے مضامین کی تفہیم کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اسے عام کتاب نہ سمجھا جائے۔ اس لیے سید مودودی لکھتے ہیں : ’’اسے سمجھنا چاہتے ہو تو اپنے پہلے سے قائم کیے ہوئے قیاسات کو ذہن سے نکال کر اس کی عجیب خصوصیات سے روشنی حاصل کرو۔ ‘‘[۱]آپ نے قرآن کے طرز بیان، ترتیب، کیفیتِ نزول اور مضامین کی تکرار کے بارے میں اس مقدمے میں بہت حکمت آمیز اور بصیرت افروز باتیں لکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے نزول کے سلسلے میں جس حکمت کو پیش نظر رکھا، سید صاحب نے اس کی نہایت عمدہ وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بیک وقت نازل نہیں کیا، بلکہ تحریک دعوت و عزیمت اسلامی کے مختلف ادوار میں حسب موقع اور حسب ضرورت اس کے مضامین اتارے گئے۔ اس اعتبار سے یہ محض نظریات اور خیالات کی کتاب نہیں کہ جسے آرام کرسی پر بیٹھ کر پڑھا جا سکے اور اس کی معنویت آشکار ہو جائے۔ اور نہ یہ عام مذہبی تصورات پر مشتمل ہے، بلکہ یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے صرف کتاب ہی نازل نہیں کی بلکہ ایک پیغمبر بھی مبعوث فرمایا ہے جس نے قرآن کی روشنی میں وہ نظام برپا کیا جو قرآن کا مطلوب تھا۔ [۲]اس مقدمے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید مودودی جدید فکر سے متاثر اذہان کے اشکالات سے پوری طرح باخبر تھے اور آپ نے ان تمام ممکنہ انسانی الجھنوں کو بھی اپنے پیش نظر رکھا تھا جو قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے، ایک قاری کو بالعموم پیش آتی ہیں۔ یہ مقدمہ ان الجھنوں کوسلجھاتا ہے اور ’’قرآن فہمی کے لیے ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے ‘‘۔ [۳]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۱، ص۱۶۔
۲۔ ایضاً، ص۳۳۔
۳۔ ترجمان القرآن، مئی ۲۰۰۴ء، سید مودودی کاتفسیری اسلوب:الیف الدین ترابی۔
__________________________________________

سورتوں کا دیباچہ اور تعارف:


سید صاحب کا ایک اور اجتہادی کارنامہ ہر سورۃ کا دیباچہ ہے۔ وہ ہر سورت کے آغازمیں ایک مفصل اور جامع مقدمہ تحریر کرتے ہیں۔ یہ ابتدائی تعارف قرآن فہمی میں آسانی پیدا کرتا ہے اور قاری کے سامنے وہ سارا ماحول، منظر، پس منظر پیش کر دیتا ہے جس میں وہ سورت نازل ہوئی۔ قاری اس کے مطالعے سے یوں محسوس کرتا ہے گویا وہ خود اس ماحول کا حصہ ہے جس میں قرآن نازل ہو رہا ہے۔ آپ نے ہر سورۃ کے آغاز میں سورۃ کا نام، وجہ تسمیہ، زمانہ نزول، شان نزول، مرکزی موضوع، اجزائے مضامین اور اہم نکات لکھ کر قاری اور قرآن میں ایسا گہرا ربط پیدا کیا ہے کہ قاری دوران مطالعہ کسی آیت کی معنویت سمجھنے میں ذرا بھی تذبذب کا شکار نہیں ہوتا۔ آپ کا خیال ہے کہ ہر سورۃ کا پس منظر اور حالات نزول زمانی اعتبار سے بالکل مختلف تھے اس لیے ان کو سمجھے بغیر قرآن کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے آپ نے دیباچے میں زمانہ نزول موضوع اور مضمون کے ساتھ جہاں ضرورت محسوس کی ہے وہاں تاریخی پس منظر بھی دیا ہے۔ مثلاً، قرآن کی مختصر ترین سورۃ’’ سورۃالکوثر ‘‘کا دیباچہ کافی طویل ہے۔ اس میں سید صاحب نے سورۃ کے نزول کے تاریخی اسباب، نہایت سہل اور سادہ زبان میں پیش کیے ہیں۔ اس سے قاری کے انہماک اور دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ مکمل تاریخی شعور کے ساتھ سورۃ کے مفاہیم سے آگاہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پراسی سورۃ کے دیباچے میں نام اور احادیث و آثار کی مدد سے زمانہ نزول کے تعین کے بعد تاریخی پس منظر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر اس سورۃ کا نزول انتہائی کٹھن حالات میں ہوا تھا۔ پوری قوم آپ سے دشمنی پر تلی ہوئی تھی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے زندگی دوبھر کر دی گئی تھی۔ یکے بعد دیگرے آپ کے دو بیٹوں حضرت قاسمؓ اور حضرت عبد اللہؓ کی وفات پر قریش نے بجائے آپ سے تعزیت اور تسلی دینے کے یہ کہنا شروع کر دیا کہ (معاذاللہ)محمدﷺ تو ایک ابتر(جڑ کٹے )آدمی ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں۔ جب مر جائیں گے تو کوئی ان کا نام لینے والا نہیں ہو گا۔ عاص بن وائل، عقبہ بن ابی معیط اور ابولہب اس مہم میں پیش پیش تھے۔ یہ سارے حالات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد سید صاحب لکھتے ہیں :’’یہ تھے وہ انتہائی دل شکن حالات جن میں سورۃ کوثر حضورﷺ پر نازل کی گئی۔ ۔ ۔ آپؐ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور برادری کے لوگوں اور ہمسایوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کی بجائے وہ خوشیاں منائی جا رہی تھیں اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی تھیں، جس نے اپنے تو اپنے غیروں سے بھی ہمیشہ انتہائی اچھا سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مختصر ترین سورت کے ایک فقرے میں وہ خوش خبری سنائی جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں دی گئی اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں ہی کی جڑ کٹ جائے گی‘‘۔ [۱]

شان نزول:

سید صاحب نے تمام سورتوں کے زمانہ نزول اوراسباب نزول کا تعین کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ قرآن مجید کی کسی سورہ کو سمجھنے کے لیے جس ذہنی، تاریخی، تمدنی اور تحریکی پس منظر کی ضرورت ہوسکتی تھی اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ شان نزول کا تعین کرنے کے لیے آپ نے روایات و آثار کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی داخلی شہادتوں کو بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً، سورۃ الصف کے بارے میں لکھتے ہیں :’’کسی معتبر روایت سے اس کا زمانہ نزول معلوم نہ ہو سکا لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً جنگ احد کے متصل زمانہ میں نازل ہوئی۔ کیونکہ اس کے بین السطور جن حالات کی طرف اشارہ محسوس ہوتا ہے وہ اسی دور میں پائے جاتے تھے ‘‘۔ [۲]
اسی طرح سورۃ التغابن کے بارے میں لکھتے ہیں :’’مضمون کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً مدینہ طیبہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہو گی اس وجہ سے اس میں کچھ رنگ مکی سورتوں کا اور کچھ مدنی سورتوں کا پایا جاتا ہے ‘‘۔ [۳]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج ۶ص۱۰۸۔
۲۔ ایضاً، ج۵، ص۴۵۲۔
۳۔ ایضاً، ج۵، ص۵۲۴۔
__________________________________________
پروفیسر خورشید احمد کے بقول:’’تفہیم القرآن میں شان نزول کے مواد کو بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ صاحب تفہیم نے یہ کوشش کی ہے کہ قاری کے سامنے اس صورت حال اور اس کیفیت کو ایک حد تک تازہ کر دیں جس میں ایک سورۃ یا اس کے کچھ
حصے نازل ہوئے۔ ۔ ۔ تفہیم القرآن  صرف قرآن کے تصورِ حیات ہی کی مفسر نہیں، بلکہ اس میں تاریخ انبیا اور خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داعیانہ سیرت اور آپ کی قیادت و امامت میں کام کرنے والی اسلامی تحریک کی پوری تاریخ بھی آ گئی ہے ‘‘۔ [۱]

تاریخی پس منظر اور نقشہ جات:


سید مودودی نے دیباچے میں زمانہ نزول، موضوع اور مضمون کے تعارف کے ساتھ ساتھ، بعض مقامات پر تاریخی پس منظر بھی بیان کیا ہے۔ نزول قرآن کے حوالے سے ان تمام اہم مقامات کا ذکر بھی کیا ہے، جو اس وقت موجود تھے یا گردش زمانہ کے ہاتھوں ختم ہو چکے تھے۔ ان تمام مقامات کے نام اور نقشہ جات کے ساتھ واقعات کی وضاحت اس طرح سے کی ہے کہ قاری خود کو اسی زمانے اور اسی مقام پر کھڑا محسوس کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سید صاحب نے ۳نومبر۱۹۵۹ء سے ۴ فروری ۱۹۶۰ء تک، اپنی استطاعت کی حد تک، ان تمام مقامات کی سیاحت کی تھی جو نزول قرآن اور نبی کریم ﷺ کی تحریک دعوت و عزیمت کے سلسلے میں ذرا بھی اہمیت رکھتے تھے۔ [۲]اس سفر کے ذریعے حاصل شدہ معلومات اور نقشہ جات کی شمولیت سے تفہیم القرآن تمام تفاسیر پر سبقت لے گئی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ قاری کو واقعات کا پس منظر اور مقامات کا محل وقوع سمجھنے میں خاصی آسانی ہو گئی۔

نظم قرآن:


تفہیم القرآن کی ایک اور خوبی نظم قرآن کا تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام سورتیں اور آیات ایک خاص ترتیب اور تناسب سے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔ قرآن کے صحیح فہم کے لیے اس چیز کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ آیات و سور کو ایک دوسرے سے الگ کر کے صحیح مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ نظم قرآن کے اس تصور کو متقدمین میں علامہ جار اللہ زمخشری اور متاخرین میں مولانا حمید الدین فراہی نے اپنی تفاسیر میں خصوصی طور پر موضوع بحث بنایا ہے۔ سید مودودی نے نظم قرآنی کے اس تصور کی عملی تائید اپنی تفسیر میں کی ہے۔ آپ نے قرآن کے مرکزی مضمون سے ہر سورۃ اور آیت کا ربط قائم کر کے دکھایا ہے۔ سید مودودی سے پہلے مفسرین کے ہاں نظم قرآن کا تصور تو ضرور ملتا ہے لیکن اس میں ایسی ہمہ گہری جامعیت اور وسعت نہیں ہے۔ مفسرین نے یا تو سورتوں کے باہمی ربط پر توجہ دی ہے یا آیات کے ربط کو متعین کیا ہے۔ مگر سید مودودی نے ہر سورۃ اور اس کے مضامین اور آیات کا ربط قرآن سے قائم کرتے ہوئے، قرآن کے مرکزی موضوع کو نمایاں کیا ہے۔ سید صاحب کے بقول: ’’اوّل سے آخر تک اس [قرآن] کے مختلف النوع موضوعات، اس کے مرکزی مضمون کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہار کے چھوٹے بڑے رنگ بر نگ جواہر ہار کے رشتے میں مربوط و منسلک ہوتے ہیں ‘‘۔ [۳]
__________________________________________
۱۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، مقالہ:پروفیسر خورشید احمد، ص۲۶۔
۲۔ ایضاً، ص۱۹۱۔
۳۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۱، ص۱۹۔
 __________________________________________

زبان و بیان:


زبان و بیان کے لحاظ سے تفہیم القرآن ایک منفرد تفسیر ہے۔ اس کی زبان نہایت سادہ، آسان اور دل میں اتر جانے والی ہے۔ قرآنی آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے سید صاحب نے آزاد ترجمانی کا انداز اختیار کیا ہے۔ آپ قرآن کے الفاظ کا ترجمہ اس کے سیاق و سباق میں کرتے ہوئے موزوں ترین الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ نے ایک پوری پوری عربی عبارت کا مفہوم اردو زبان میں بیان کیا ہے۔ اس طریقے سے عربی زبان سے ناواقف قاری کے ذہن میں پوری عبارت کا جامع خاکہ بن جاتا ہے۔
آپ قرآن کی عربی عبارت سے جو مفہوم اخذ کرتے ہیں، اسے اردو زبان میں منتقل کرتے ہوئے اپنے اختیار کیے گئے ترجمہ کی وضاحت بھی کرتے ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :’’متن میں لفظ ’’یَتَوَفَّکُمْ‘‘ ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ’’جو تمھیں موت دیتا ہے ‘‘ لیکن اس لفظی ترجمے سے اصلی روح ظاہر نہیں ہوتی اس ارشاد کی روح یہ ہے کہ وہ جس کے قبضے میں تمھاری جان ہے اور جو تم پر ایسا مکمل حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے کہ جب تک اس کی مرضی ہو اس وقت تک تم جی سکتے ہو‘‘۔ [۱] اس لیے سید مودودی اس لفظ کا ترجمہ کرتے ہیں ’’جس کے قبضے میں تمھاری موت ہے ‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ترجمے میں محض اردو زبان کے حسن کلام کی خاطر وہ اسلوب اختیار کیا ہے ‘‘۔ [۲]  ایک اور جگہ لکھتے ہیں : ہم نے لفظی ترجمہ چھوڑ کر مرادی ترجمہ کیا ہے ‘‘۔ [۳] ترجمے کا یہ انداز اختیار کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سید مودودی محض ترجمہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ قرآن کی حقیقی روح اور ادبیت بھی ان کے پیش نظر تھی۔ اس لیے ان کی مربوط عبارت قاری کو قرآن کی روح سے آگاہ کرتی ہے اور وہ اسی لذت و تاثیر سے آشنا ہوتا ہے جو قرآن قائم کرنا چاہتا ہے۔
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۲، ص۳۱۵، حاشیہ۱۰۷۔
۲۔ ایضاً، ج۲، ۲۹۶، حاشیہ۷۹۔
۳۔ ایضاً، ج۴، ص۲۲۶، حاشیہ۳۲۔
__________________________________________

دین کا جامع تصور:


سید صاحب نے اپنی تحقیق کے نتیجے میں دین کا ایک جامع اور عملی تصور اخذکیا۔ اسی تصور کے زیر اثر آپ نے قرآن مجید کی تفسیر لکھی۔ اس لیے اس تفسیر میں ہمیں دین کا تصور پوری جامعیت کے ساتھ ملتا ہے۔ آپ نے دین کے کلی تصور کو پیش کرتے ہوئے، اس کے اس مفہوم کے خلاف بغاوت کی ہے جس میں دین اسلام کو انفرادی زندگی اور مسجد و مسکن کی دنیا تک محدود کر دیا گیا تھا۔ آپ کے نزدیک دین کا انفرادی حصہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ایک پورا اجتماعی نظام تشکیل نہ دیا جائے۔ تفہیم القرآن میں اس سوچ کا عکس اول تا آخر موجود ہے۔ سید مودودی آیت:’’ادخلوافی السلم کافۃ‘‘(سورۃ البقرۃ ۲:۲۰۸)کی وضاحت کرتے ہوئے، لکھتے ہیں :’’یعنی کسی استثنا اور تحفظ کے بغیر، اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ۔ تمھارے خیالات، تمھارے نظریات، تمہارے علوم تمھارے طور طریقے، تمھارے معاملات اور تمھاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے مسثتنیٰ کر لو‘‘۔ [۱]
اسی طرح آیت:’’فاقم وجہک للدین حنیفا‘‘(سورۃ الروم ۳۰:۳۰) کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے تصور دین کے بارے میں فرماتے ہیں :’’اس دین سے مراد وہ خاص دین ہے جسے قرآن پیش کر رہا ہے۔ جس میں بندگی عبادت اور طاعت کا مستحق اللہ وحدہٗ لا شریک کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ جس میں الوہیت اور اس کی صفات و اختیارات اور اس کے حقوق میں قطعاً کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا جاتا۔ جس میں انسان اپنی رضا و رغبت سے اس بات کی پابندی اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اللہ کی ہدایت اور اس کے قانون کی پیروی میں بسر کرے گا۔ ‘‘ [۲]
ْْ          سید صاحب نے تمام گوشہ ہائے زندگی پر محیط ایک مکمل دین کا تصور پیش کیا جس کی بنیاد حکومت الٰہیہ کا قیام ہے۔ بقول ڈاکٹر خالد علوی:’’ حاکمیت کا تصور اس کا مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد پورا نظام گھومتا ہے۔ دین کا جامع تصور اس نظام فکر کی روح ہے اور اقامت دین اس کی عملی تعبیر ہے۔ ‘‘‘[۳]
پروفیسر الیف الدین ترابی کے الفاظ میں : ’’سید مودودی نے اپنی تفسیر میں ان پہلوؤں کو زیادہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے جن کا تعلق دعوتِ دین یا فریضۂ اقامت دین سے ہے۔ ‘‘[۴]
سید مودودی کے پیش نظر دین اسلام کو جامع انداز میں پیش کرنا تھا اس لیے انھوں نے اپنی تفسیر میں ان روایتی موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں دی، جنھیں عام طور پر مفسرین کرام پیش کرتے رہے ہیں۔ مثلاً آپ کے ہاں اعجاز قرآن، صرف و نحو اور لغوی مسائل کے متعلق  مباحث نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سید مودودی ان موضوعات کو دانستہ طور پر اس لیے زیر بحث نہیں لائے کہ ان کا مقصد نئی نسل کو قرآن کا پیغام پہنچانا تھا۔ لسانی موشگافیوں میں الجھانا نہیں تھا۔ چند مقامات پر لغت سے متعلق مختصر مباحث موجود ہیں جن سے  لغت، صرف اور نحو میں سید صاحب کی مہارت اوردسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۱، ص۱۶۰، حاشیہ:۲۲۶۔
۲۔ ایضاً، ج۳، ص۷۵۲، حاشیہ:۴۳۔
۳۔ ترجمان القرآن، مئی ۲۰۰۴ء، تجدید دین حق اور سید مودودی: ڈاکٹر خالد علوی، ص۴۶۱۔
۴۔ ایضاً، سید مودودی کاتفسیری اسلوب:پروفیسرالیف الدین ترابی، ص۲۹۵۔
__________________________________________

فقہی معاملات میں مسلکی تعصب سے پرہیز :


اردو کے تفسیری ادب میں، شعوری یا لاشعوری طور پر، مسلکی رنگ موجود ہے۔ اکثر مفسرین نے کسی مسئلے کو اپنے مسلک کے مطابق ثابت کرنے کے لیے دلائل و براہین کے انبار لگا دیے ہیں۔ بہت ساری تفاسیر کی شناخت ہی مسلکی تفسیر کے طور قائم ہے۔ سید مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن میں اس لحاظ سے اعتدال اور توازن کی روش نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نہ تو فقہی معاملات میں تقلید جامد کے قائل ہیں اور نہ فقہا کی آرا کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ آپ عام طور پر قرآن پاک کی تفسیر قرآن ہی سے کرتے ہیں پھر احادیث اور اقوال صحابہ کو معیار بناتے ہیں۔ آپ فقہی احکام سے متعلق آیات کی تفسیر کرتے ہوئے کبھی تو فقہاء کی مختلف آرا  اپنی ذاتی رائے بیان کیے بغیر، پیش کر دیتے ہیں اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی عقل سلیم سے کس رائے کو ترجیح دیتا ہے۔ کبھی مختلف آراء کا موازنہ قرآن و سنت سے کر کے، دلیل کی بنیاد پر کسی ایک رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی تفسیر میں یہ جملہ اکثر مقامات پر ملتا ہے۔ ’’اس مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن پاک کے حسب ذیل مقامات کو نگاہ میں رکھیے ‘‘ گویا وہ قاری کے ذہن میں ہر وقت قرآن ہی کی اہمیت اجاگر رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ مسلکًا حنفی ہونے کے باوجود بعض اوقات حنفی مسلک سے بھی اختلاف کرتے ہیں۔ سید مودودی مقام اختلاف کی نشان دہی کرتے ہوئے اعتدال اور توازن سے کام لیتے ہیں۔ ان کی شعوری طور پر یہ کوشش رہی ہے کہ تفہیم القرآن کسی خاص مسلک کی نمائندہ تفسیر نہ بن جائے۔ تفہیم القرآن میں جا بجا فقہی مکاتب فکر کا تقابل نظر آتا ہے۔ مثلاً، سورۃ البقرۃ کی آیت:’’فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ فلاَجُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہ‘‘ (۲: ۲۲۹) (اگر تمھیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے )کی تفسیر بیان کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں : ’’جمہور کے نزدیک خلع کی عدت وہی ہے جو طلاق کی ہے مگر ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ میں متعدد روایات ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک ہی حیض قرار دی تھی اور اسی کے مطابق حضرت عثمانؓ نے ایک مقدمہ کا فیصلہ کیا ‘‘۔ [۱]
فقہی  معاملات میں اعتدال اور توازن کی ایک مثال یہ بھی ہے۔ لکھتے ہیں :’’امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ امام کی قرأت خواہ جہری ہو یا سری، مقتدیوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے۔ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کی رائے یہ ہے کہ صرف جہری قرأت کی صورت میں مقتدیوں کو خاموش رہنا چاہیے، لیکن امام شافعی اس طرف گئے ہیں کہ جہری اور سری دونوں صورتوں میں مقتدیوں کو قرأت کرنی چاہے کیونکہ بعض احادیث کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی‘‘۔ [۲]
تفہیم القرآن میں سید مودودی نے اپنی آرا کا بھی اظہار کیا ہے جو ان کی علمیت، معتدل مزاجی، استدلال اور حقیقت پسندی کی عکاس ہیں۔ ایسے معاملات میں سید مودودی ایک مخلص محقق کی طرح جس رائے کو قرآن و سنت کے قریب پاتے ہیں اسے اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً سورۃ النساء کی آیت:حرمت علیکم امھٰتکم و بنٰتکم واخواتکم (سورۃ النساء ۴:۲۳)(تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں۔ ۔ ۔ )کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ ناجائز تعلقات کے نتیجہ میں جو لڑکی ہوئی ہو وہ بھی حرام ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ، مالک اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک وہ بھی جائز بیٹی کی طرح محرمات میں سے ہے اور امام شافعی کے نزدیک وہ محرمات میں سے نہیں ہے۔ مگر درحقیقت یہ تصور بھی ذوق سلیم پر بار ہے کہ جس لڑکی کے متعلق آدمی یہ جانتا ہو کہ وہ اسی کے نطفہ سے پیدا ہوئی ہے، اس کے ساتھ نکاح کرنا اس کے لیے جائز ہو۔ ‘‘[۳]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۱، ص۱۷۶، حاشیہ:۲۵۲۔
۲۔ ایضاً، ج۲، ص۱۱۴، حاشیہ:۱۵۳۔
۳۔ ایضاً، ج۱، ص۳۳۷، حاشیہ۳۵۔
__________________________________________
 تقابل ادیان:
 تفہیم القرآن کی ایک اور خصوصیت تقابل ادیان ہے۔ آپ مختلف مقامات پر یہودیت، عیسائیت، ہندوازم اور قرآنی تعلیمات کا تقابل کرتے ہیں۔ یہ تقابل صرف سابقہ ادیان و مذاہب تک محدود نہیں رہتا بلکہ آپ جدید علمی و فلسفیانہ نظریات کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کا ابطال کرتے ہیں۔ مثلاً ہیگل اورمارکس کا نظریہ تاریخ، ڈارون کا نظریہ ارتقاء، میکیاولی کا نظریہ لادینی سیاست اور فرائیڈ کا نظریہ جنسی نفسیات وغیرہ۔ [۱]س طرح کے تقابلی جائزے سید مودودی کی وسعت مطالعہ اور باریک بینی کا ثبوت ہیں۔ آپ کا انداز علمی و تحقیقی ہے۔ آپ نے مناظرانہ انداز سے اجتناب کیا ہے۔ سید صاحب ایک طرف تو مسیحی اہل قلم اور مغربی مستشرقین کے قرآن پر کیے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہیں اور دوسری طرف قرآن مجید کے بیانات کی روشنی میں بائبل میں موجود تضادات کو نمایاں کرتے ہیں۔ آپ زیر بحث مسئلے کے لیے دیگر مذاہب کی کتب سے مندرجات بیان کرتے ہوئے، قرآن کی روشنی میں اصل حقیقت واضح کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ  مغربی فلسفہ و افکار کے زیر اثر قرآن کی تفسیر اور تاویل کرنے والے مسلمان دانش وروں کا محاکمہ بھی کرتے ہیں۔ سید مودودی نے قرآنی تعلیمات سے موازنے کے لیے دیگر الہامی کتب کی تحریروں کے حوالے دینے کے ساتھ ساتھ، ان کی کمزوریوں اور ان کے مندرجات میں کی گئی تحریف کی نشاندہی بھی کی ہے۔ آپ نے نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ ان کتابوں اور ان کے مندرجات کی بنیاد پر قائم افکار و تصورات پر زبردست تنقید کی ہے۔ ان تصورات میں یہودیوں کی نسل پرستی، عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث، کفارہ اور حضرت عیسیٰ کو صلیب دیے جانے کا عقیدہ وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً سورۃ النساء کی آیت :’’انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الیٰ مریم وروح منہ ‘‘ (۴: ۱۷۱) (مسیح عیسیٰ بن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے۔ )کی تفسیر میں ’’کلمہ‘‘ کو اللہ کا حکم اور فرمان قرار دیتے ہیں کہ اللہ نے حضرت مریم کے رحم پریہ فرمان نازل کیا کہ وہ کسی مرد کے ملاپ کے بغیر حضرت عیسیٰ کی پیدایش کے مراحل انجام دے۔ ابتدا میں عیسائیوں کا عقیدہ بھی اسی طرح تھا، لیکن بعد میں یونانی فلسفے کی وجہ سے گمراہ ہو گئے۔ سید صاحب لکھتے ہیں :’’انھوں نے یونانی فلسفہ سے گمراہ ہو کر پہلے لفظ کلمہ کو ’’کلام‘‘ یا نطق کا ہم معنی سمجھ لیا۔ پھر اس کلام و نطق سے اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت کلام مراد لے لی۔ پھر یہ قیاس قائم کر لیا کہ اللہ کی اس ذاتی صفت نے مریم علیہا السلام کے بطن میں داخل ہو کر وہ جسمانی صورت اختیار کی جو مسیح کی شکل میں ظاہر ہوئی اس طرح عیسائیوں میں مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا فاسد عقیدہ پیدا ہوا اوراس غلط تصور نے جڑ پکڑ لی کہ خدا نے خود اپنے آپ کو یا اپنی ازلی صفات میں سے نطق و کلام کی صفت کو مسیح کی شکل میں ظاہر کیا۔ [۲]
__________________________________________
۱۔ ترجمان القرآن، مئی ۲۰۰۴ء، سید مودودی کا تفسیر ی اسلوب:الیف الدین ترابی، ص۳۰۱۔
۲۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۱ص۴۲۸، حاشیہ:۲۱۲۔
__________________________________________
اسی طرح سورۃق کی آیت:’’وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَافِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوْبٍ۔ ‘‘
(۵۰:۳۸)  (ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی۔ )کی تفسیر میں سید مودودی یہود و نصاریٰ کے عقائد اور ان کی کتب کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’اس آیت میں ضمنا ً ایک لطیف طنز یہود و نصاریٰ پر بھی ہے جن کی بائیبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا‘‘ (پیدایش ۲:۲)اگرچہ اب مسیحی پادری اس بات سے شرمانے لگے ہیں اور انھوں نے کتاب مقدس کے اردو ترجمے میں آرام کیا کو ’’فارغ ہوا‘‘سے بدل دیا ہے۔ مگر کنگ جیمز کی مستند انگریزی بائبل میں (And He rested on the seventh day) کے الفاظ صاف موجود ہیں۔ اور یہی لفظ اس ترجمے میں بھی پائے جاتے ہیں جو ۱۹۵۴ء میں یہودیوں نے فلیڈلفیا سے شائع کیا ہے۔ عربی ترجمہ میں بھی :فاستراح فی الیوم السابع کے الفاظ ہیں۔ ‘‘[۱]
عیسائیت کی کتب مقدسہ کے بارے میں سید مودودی بیان کرتے ہیں کہ یہ ساری کتب ان لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد عیسائیت میں داخل ہوئے۔ ان کی ساری تحریریں زبانی روایات کی شکل میں تھیں جن کو جمع کیا گیا۔ کوئی انجیل بھی ۷۰ء سے پہلے کی لکھی ہوئی نہیں ہے اور انجیل یوحنا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک صدی بعد غالباً ایشیا کوچک کے شہر افسس میں لکھی گئی ہے۔ اور مزید یہ کہ عیسائی اپنی انجیلوں میں اپنی پسند کے مطابق تغیر و تبدل کر نے کو بالکل جائز سمجھتے رہے ہیں۔ مطبع کی ایجاد سے پہلے کے جتنے مسودات کو جمع کیا گیا ان میں سے کوئی بھی چوتھی صدی عیسوی سے پہلے کا نہیں۔ [۲] اناجیل میں کی گئی تحریف کے ثبوت میں سید صاحب نے انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا(ایڈیشن ۱۹۴۶ء)کے ایک مقالے ’’بائیبل‘‘ کا یہ اقتباس درج کیا ہے :’’انا جیل میں ایسے نمایاں تغیرات دانستہ کیے گئے ہیں جیسے مثلاً بعض پوری پوری عبارتوں کو کسی دوسرے ماخذ سے لے کر کتا ب میں شامل کر دینا۔ ۔ ۔ یہ تغیرات صریحاً کچھ ایسے لوگوں نے بالقصد کیے ہیں جنھیں اصل کتاب کے اندر شامل کرنے کے لیے کہیں سے کوئی مواد مل گیا اور وہ اپنے آپ کواس کا مجاز سمجھتے رہے کہ کتاب کو بہتر یا زیادہ مفید بنانے کے لیے اس کے اندر اپنی طرف سے اس مواد کا اضافہ کر دیں۔ ۔ ۔ بہت سے اضافے دوسری صدی ہی میں ہو گئے تھے اور کچھ نہیں معلوم کہ ان کا ماخذ کیا تھا۔ ‘‘ [۳]
تقابل ادیان کی ان بحثوں میں سید صاحب کا انداز تحقیقی، تجزیاتی، منطقی اور استدلالی ہے۔ آپ نے انبیائے کرام کے تاریخی واقعات کو بیان کرتے ہوئے، تنقیدی بصیرت کے ساتھ اظہار رائے کیا ہے۔ انبیائے کرام کے بارے میں عیسائیوں اور
لکھتے
وہ ملک کو دارالاسلام
یہودیوں کے من گھڑت قصوں کو  اور احمد بن حنبل رحمھ_________________________رد کرتے ہوئے، اسلام کا نقطہ نظر بہت عمدگی سے واضح کیا ہے۔ آپ نے ایسے تمام واقعات کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے جو انبیائے کرام کی شان کے خلاف ہیں۔
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۵، ص۱۲۵، حاشیہ:۵۰۔
۲۔ ایضاً، ج۵، ص ۴۶۳، حاشیہ:۸۔
۳۔ ایضاً، ج۵، ص۴۶۳، حاشیہ:۸۔
__________________________________________
 جدید علم الکلام:
 تفہیم القرآن کی ایک اور انفرادیت نیا علم الکلام ہے۔ سید مودودی سے پہلے بھی تفاسیر میں کلامی مسائل پر مباحث ملتے ہیں لیکن ان میں کہیں تو اسلام کے بنیادی عقائد میں اشتباہ پیدا کیا گیا ہے اور کہیں مغربی فکر کے زیر اثر معجزات سے انکار ہے۔ کہیں انداز اتنا فلسفیانہ ہے کہ بات مزید الجھتی دکھائی دیتی ہے۔ سید مودودی اپنی تفسیر میں پہلے تو مغربی فلسفے کے زیر اثر پروان چڑھنے والی فکر کی تردید کرتے ہیں اور پھر اس فکر سے توحید، آخرت، معجزات اور نبوت میں پیدا کردہ اشکالات کی قرآن و سنت کی روشنی میں سائنسی استدلال کے ساتھ تردید کرتے ہیں۔ نبوت کے حوالے سے ان کا کہنا ہے : ’’قرآن مجید کی رو سے یہ اسلام کے ان بنیادی عقائد میں سے ہے جس کے ماننے اور نہ ماننے پر کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر، اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر‘‘۔ [۱]
آپ نے توحید اور آخرت جیسے علمی موضوعات کو فلسفیانہ انداز اور منطق کے اصولوں کی بنیاد پر بیان کرنے کے بجائے نہایت  سادگی اور تمثیلی انداز سے پیش کیا ہے :’’جب دنیا میں ہر چیز کا ایک جوڑا ہے اور کوئی چیز اپنے جوڑے سے ملے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوتی تو دنیا کی یہ زندگی کیسے بے جوڑ ہو سکتی ہے۔ اس کا جوڑا لازماً آخرت ہے وہ نہ ہو تو یہ قطعاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔ ان ہی دلائل سے توحید کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ بارش کا انتظام، زمین کی ساخت، آسمان کی تخلیق، انسان کا اپنا وجود کائنات میں قانون تزویج کی حیرت انگیز کارفرمائی یہ ساری چیزیں جس طرح آخرت کے امکان و وجوب پر گواہ ہیں اسی طرح یہی اس بات کی شہادت دے رہی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں بلکہ ایک خدائے حکیم و قادر مطلق ہی اس کا خالق اور مالک اور مدبر ہے ‘‘۔ [۲]سید مودودی نے علم الکلام میں جدت اور وسعت پیدا کرتے ہوئے عہد حاضر کے نظریات و افکار اور فتنوں کو بھی تنقید و تحقیق کے پیمانے پر پرکھا ہے۔ مغربی فلسفے کے زیر اثر پروان چڑھنے والی مرعوبیت کو ختم کرنے کے لیے ان نظریات کا ابطال کیا ہے جو مسلم نوجوان کو شکوک و شبہات میں ڈالے ہوئے تھے۔ اس طرح کی کوششیں سید مودودی سے پہلے بھی مسلم دانش وروں کے ہاں نظر آتی ہیں، لیکن ان کے ہاں وہ استدلال نہیں تھا جو جدید ذہن کو قائل کر سکے۔ سید مودودی نے بڑے اعتماد کے ساتھ مغربی افکار و نظریات پر تنقید کی ہے اور دورِ جدید کے ہر چیلنج کا بڑے مثبت اور مدلل انداز میں جواب دیا ہے جو نہ صرف عقل سلیم کو متاثر کرتا ہے بلکہ آپ کا انداز بیان قاری کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ دور جدید کے فتنوں ڈارون ازم، قومیت، سود، امپیریلزم اور بے پردگی کے بارے میں آپ  کی الگ تصانیف بھی موجود ہیں، لیکن ان کا بیشتر حصہ تفہیم القرآن میں قرآنی تعلیمات کی تشریح و توضیح کے دوران میں زیادہ متاثر کن نظر آتا ہے۔ مثلاً ابتدائے حیات سے متعلق مباحث کے بارے میں لکھتے ہیں :’’بے جان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہو سکتی۔ حیات کی پیدایش کے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آ جانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہے
جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے ‘‘۔ [۳]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۴، ص۱۵۱، حاشیہ:۷۷، ضمیمہ ختم نبوت۔
۲۔ ایضاً، ج۵، ص۱۵۱، حاشیہ:۴۷۔
۳۔ ایضاً، ج۳، ص۵۹۳، حاشیہ:۸۰۔
__________________________________________
اسی طرح سود اور تجارت کے بارے میں لکھتے ہیں :’’تجارت انسانی تمدن کی تعمیر کرنے والی قوت بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس  سود اس کی تخریب کا موجب بنتا ہے۔ پھر اخلاقی حیثیت سے یہ سود کی عین فطرت ہے کہ وہ افراد میں بخل، خود غرضی، شقاوت، بے رحمی اور زرپرستی کی صفات پیدا کرتا ہے۔ اس بنا پر سود معاشی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے نوع انسانی کے لیے تباہ کن ہے ‘‘۔ [۱]

 معجزات کا اثبات:

 مغرب سے مرعوب اور عقلیت کے فریب میں مبتلا اذہان کو سب سے زیادہ دقت معجزات کے سلسلے میں پیش آئی ہے۔ قرآن کے معجزات کو تسلیم کرنا انھیں عقل کے خلاف لگا۔ اس لیے معجزات کی حقیقت سے یا تو انکار کیا گیا یا اہل عقل کو مطمئن کرنے کے لیے ان کی ایسی تاویلیں کی گئیں جو قرآن کے مفہوم سے یکسر مختلف تھیں۔ سید مودودی نے اپنی تفسیر میں سائنسی طریق پر معجزات کے بارے میں بحث کی ہے۔ آپ کا انداز اور رویہ کہیں بھی معذرت خواہانہ نہیں ہے۔ آپ نے کسی سے مرعوب ہوئے بغیر قرآن کے معجزات کو قرآن کے سیاق و سباق میں پیش کیا ہے۔ جب بھی اللہ کے انبیا ء نے اپنی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کی تو انھوں نے جواب میں ان سے کوئی ایسی نشانی مانگی جو ان کی صداقت کو ثابت کرسکے۔ سید صاحب لکھتے ہیں :
’’اس مطالبہ کے جواب میں انبیاء نے وہ نشانیاں دکھائی ہیں جن کو قرآن کی اصطلاح میں ’’آیات‘‘ اور متکلمین کی اصطلاح میں ’’معجزات‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسے نشانات یا معجزات کو جو لوگ قوانین فطرت کے تحت صادر ہونے والے عام واقعات قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ درحقیقت کتاب اللہ کو ماننے اور نہ ماننے کے درمیان ایک ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو کسی طرح معقول نہیں سمجھا جا سکتا۔ ۔ ۔ معجزات کے باب میں اصل فیصلہ کن سوال صرف یہ ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نظام کائنات کو ایک قانون پر چلا دینے کے بعد معطل ہو چکا ہے اور اب اس چلتے ہوئے نظام میں کبھی کسی موقع پر مداخلت نہیں کر سکتا۔ ۔ ۔ جو لوگ اس سوال کے جواب میں پہلی بات کے قائل ہیں ان کے لیے معجزات کو تسلیم کرنا غیر ممکن ہے کیونکہ معجزہ نہ تو ان کے تصور خدا سے میل کھاتا ہے اور نہ تصورِ کائنات سے۔ لیکن ایسے لوگوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر و تشریح کی بجائے اس کا صاف صاف انکار کر دیں ‘‘۔ [۲]

عقلی اورسائنسی دلائل کا استعمال:

مودودی صاحب نے اپنی تفسیر میں جہاں اسلامی عقائد، عبادات اور نظام زندگی کو پیش کیا ہے وہاں عقلی دلائل کے ساتھ مغربی نظریات، تحریکات اور فلسفے کا رد کیا ہے۔  پروفیسر حفیظ الرحمن احسن نے لکھا ہے :’’تفہیم القرآن نے ہر فتنے اور گمراہی کا پوری استدلالی قوت کے ساتھ توڑ کیا ہے اور بے مثال ناقدانہ تجزیہ و تحلیل کے ذریعے اس کا تار و پود بکھیرا ہے اس طرح خود تفہیم القرآن عصر جدید کی نظریاتی اور فکری بنیادوں کے لیے ایک ایسا چیلنج بن گئی ہے جس کا کوئی مثبت جواب مغربی اور الحادی فلسفہ و فکر اور نام نہاد سائنسی تعقل کے پاس نہیں ہے۔ ‘‘[۳]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۱، ص۲۱۳، حاشیہ:۳۱۸۔
۲۔ ایضاً، ج۲، ص۶۵۔ ۶۶، حاشیہ:۸۷۔
۳۔ آئین تفہیم القرآن نمبر، عصری فتنے اور تفہیم القرآن:حفیظ الرحمٰن احسن، ص۵۷۔
__________________________________________
سید صاحب کی تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جدید سائنسی نظریات سے بھی بخوبی واقف تھے۔ اور آپ کی یہ واقفیت     اور معلومات ہمیشہ تازہ رہتی تھیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :’’زمانہ حال کے مشاہدات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دوربین سے دکھائی دینے والے شہاب ثاقب جو فضائے بسیط سے زمین کی طرف آتے نظر آتے ہیں ان کی تعداد کا اوسط ۱۰کھرب روزانہ ہے۔ جن میں دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ان کی رفتار بالائی فضا میں ۲۶میل فی سیکنڈ ہوتی ہے اور بسا اوقات ۵۰ میل فی سیکنڈ تک دیکھی گئی ہے بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ برہنہ آنکھوں سے بھی ٹوٹنے والے تاروں کی غیر معمولی بارش دیکھی ہے ‘‘۔ [۱]
ا سی طرح عالم بالا اور خلا کے بارے میں رقم طراز ہیں :’’عالم بالا محض خلا ہی نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے اس میں نفوذ کر جائے۔ بلکہ اس کی بندش ایسی مضبوط ہے کہ اس کے مختلف خطے ایسی مستحکم سرحدوں سے محصور کیے گئے ہیں کہ کسی شیطان سرکش کا ان سرحدوں سے گزر جانا ممکن نہیں ہے۔ کائنات کے ہر تارے اور سیارے کا اپنا ایک دائرہ اور کرہ ہے۔ جس کے اندر سے کسی کا نکلنا بھی سخت دشوار ہے اور جس میں باہر سے کسی کا داخل ہونا بھی آسان نہیں۔ ظاہری آنکھ سے کوئی دیکھے تو خلا محض کے سوا کچھ نظر نہیں آتا‘‘۔ [۲]
حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنے کے معجزے کو بیان کرتے ہوئے، دور حاضر سے اس کی خوب صورت مثال پیش کی ہے :’’اس مقام پر بہت سے عقلیت کے مدعی حضرات یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں جا کر کسی انسان کا زندہ نکل آنا غیر ممکن ہے لیکن پچھلی ہی صدی کے آخر میں عقلیت کے گڑھ انگلستان کے سواحل سے کچھ مچھیرے وہیل مچھلی کے شکار کے لیے گہرے سمندر میں گئے وہاں انھوں نے ۲۰ فٹ لمبی ۵ فٹ چوڑی اور سو ٹن وزنی مچھلی کو زخمی کر دیا۔ مگر اس جنگ کے دوران میں جیمز بار ٹلے نامی ایک مچھیرے کو اس کے ساتھیوں کی آنکھوں کے سامنے اس مچھلی نے نگل لیا دوسرے روز وہی مچھلی اس جہاز کے لوگوں کو مری ہوئی مل گئی۔ انھوں نے بمشکل اسے جہاز پر چڑھایا اور پھر طویل جدوجہد کے بعد اس کا پیٹ چاک کیا تو بارٹلے اس کے اندر سے زندہ برآمد ہو گیا۔ یہ شخص مچھلی کے پیٹ میں پورے ۶۰ گھنٹے رہا‘‘۔ [۳]
ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ سید مودودی نے جدیدسائنسی علوم سے استفادہ بھی کیا ہے اوراس بات کو ثابت کیا ہے کہ سائنس دین میں مزاحم نہیں بلکہ دین کی تصدیق کرتی ہے۔ بقول جسٹس محمد افضل چیمہ:’’( تفہیم القرآن) میں نہ صرف طرزِ استدلال میں نہایت معقول اورسائنٹیفک انداز اختیار کیا گیا ہے، بلکہ مناسب مقام پر فلسفہ، طبیعات، علم الکیمیا، فلکیات و دیگر جدید سائنسی علوم کا براہ راست تجزیہ کرتے ہوئے بات کی گئی ہے۔ ‘‘[۴]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۲، ص۵۰ا، حاشیہ:۱۲۔
۲۔ ایضاً، ج۴، ص۲۸۰، حاشیہ:۶۔
۳۔ ایضاً، ج۴، ص۳۰۸، حاشیہ:۸۲۔
۴۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، ص۲۶۳۔
__________________________________________

 جامع اشاریہ:

 تفہیم القرآن کی ایک اور منفرد خوبی اس کا اشاریہ ہے۔ سید صاحب نے قرآنی موضوعات اور مباحث کے متعلق، حروف ابجد کی ترتیب کے ساتھ، ہر جلد کے آخر میں موضوعات کا اشاریہ شامل کیا ہے۔ اس سے قاری کے لیے قرآن کے تمام موضوعات، مباحث، اور عنوانات تک رسائی نہایت آسان ہو گئی ہے اور اشاریے کی مدد سے کسی بھی موضوع پر نقطۂ نظر کو جاننا بھی سہل ہو گیا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد نے لکھا ہے : تفہیم القرآن میں جو اشاریہ تیار کیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ قرآن اور تفہیم القرآن کے تمام اہم مباحث کا آئینہ ہے ‘‘۔ [۱]
  منفرد طرز استدلال:
 سید مودودی کے ہاں استدلال کا ایک خاص رنگ پایا جاتا ہے جو اس سے پہلے ہمارے دینی اور تفسیری ادب میں کم ہی نظر آتا ہے۔ اکثر مفسرین اور علما نے یا تو جدید مسائل سے بالکل تعرض نہیں کیا یا ان کو بیان کرنے کے لیے روایتی انداز اختیار کیا۔ آپ نے قرآن کی تفسیر میں استدلالی انداز اس لیے اختیار کیا کہ نئی نسل ہر چیز کو دلائل کی بنیاد پر پرکھنے کی عادی ہو چکی تھی۔ آپ کے طرز استدلال کی بنیاد زورِ بیان یا جوش جذبات پر نہیں تھی، بلکہ دلائل کو اس انداز میں ترتیب دیا ہے کہ قاری کی ذہنی عقلی اور فکری تشفی ہو۔ آپ اپنی تحریر میں نکات کو ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ قاری ان کی رائے سے اتفاق کر لیتا  اور ان کے دلائل کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔  مثال کے طور پر آپ لکھتے ہیں : ’’کسی کو معبود بنانے کے لیے لا محالہ کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ ایک معقول وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں معبودیت کا کوئی استحقاق رکھتا ہو۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ آدمی کا خالق ہو اور آدمی اپنے وجود کے لیے اس کا رہین منت ہو۔ تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ آدمی کی پرورش کا سامان کرتا ہو اور اسے رزق یعنی متاع زیست بہم پہنچاتا ہو۔ چوتھی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آدمی کا مستقبل اس کی عنایات سے وابستہ ہو اور آدمی کو اندیشہ ہو اس کی ناراضی مول لے کر وہ اپنا انجام خراب کر لے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ان چاروں وجوہ میں سے کوئی وجہ بھی بت پرستی کے حق میں نہیں ہے بلکہ ہر ایک خالص خدا پرستی کا تقاضا کرتی ہے۔ ‘‘  [۲]
سید مودودی کے دلائل بالکل واضح ہوتے ہیں۔ آپ پہلے ایک مقدمہ قائم کرتے ہیں اور پھر بتدریج اس کے نتیجے کی طرف بڑھتے ہیں۔  پھر آخر میں نہایت محکم اور متاثر کن دلائل سے بات قاری کے ذہن میں اتار دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں :’’سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کوئی انسان کبھی اس بات پر قادر ہوا ہے یا ہو سکتا ہے کہ سال ہا سال تک دو قطعی مختلف اسٹائلوں میں کلام کرنے کا تکلف نباہتا چلا جائے اور کبھی یہ راز فاش نہ ہو سکے کہ یہ دو الگ اسٹائل دراصل ایک ہی شخص کے ہیں۔ عارضی اور وقتی طور پر تو اس قسم کے تصنع میں کامیاب ہو جانا ممکن ہے لیکن مسلسل ۲۳ سال تک ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے ‘‘۔  [۳]
__________________________________________
۱۔ آئین، تفہیم القرآن نمبر، کتاب انقلاب، تفہیم القرآن:پروفیسر خورشید احمد، ص۳۱۔
۲۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۳، ص۶۸۸، حاشیہ:۲۹۔
۳۔ ایضاً، ج۵، ص۱۷۸، حاشیہ:۲۷۔
__________________________________________
سید مودودی اپنے طرز استدلال کو موثر بنانے کے لیے بعض اوقات نہایت دل چسپ مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔ مثلاً ایمان اور عمل صالح کی بحث میں لکھتے ہیں :’’ایمان وہی معتبر اور مفید ہے جس کے صادق ہونے کا ثبوت انسان اپنے عمل سے پیش کرے۔ ورنہ ایمان بلا عمل صالح محض ایک دعویٰ ہے جس کی تردید آدمی خود ہی کر دیتا ہے جب وہ اس دعوے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر چلتا ہے۔ ایمان اور عمل صالح کا تعلق بیج اور درخت کا سا ہے جب تک بیج زمین میں نہ ہو کوئی درخت پیدا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر بیچ زمین میں ہو اور کوئی درخت پیدا نہ ہو تو اس کے معنی ہیں بیج زمین میں دفن ہو کر رہ گیا‘‘۔ [۱]
آپ جو مثالیں بیان کرتے ہیں وہ نہ صرف عام فہم سہل سادہ اور دلچسپ ہوتی ہیں بلکہ ہمارے اردگرد کے ماحول سے تعلق رکھتی ہیں۔ آخرت کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’آخرت کے معاملات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لینا ہمارے لیے اس سے زیادہ مشکل ہے جتنا ایک دو برس کے بچے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ازدواجی زندگی کیا ہوتی ہے۔ حالانکہ جوان ہو کر اسے خود اس سےسابقہ پیش آنا ہے۔ ‘‘[۲]
__________________________________________
۱۔ مودودی، تفہیم القرآن، ج۶، ص۴۵۳، حاشیہ:۱۔
۲۔ ایضاً، ج۶، ص۱۷۴، حاشیہ:۱۷۔