ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب
دنیا ایک نئی فکری کروٹ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے علم، تحقیق، تدریس اور ابلاغ کے میدان میں حیرت انگیز سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ اب چند لمحوں میں وہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جن کے لیے پہلے گھنٹوں بلکہ دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ لیکن جہاں یہ سہولت ایک نعمت ہے، وہیں دینِ اسلام—خصوصاً قرآنِ مجید—کے فہم و تعبیر کے میدان میں اس کا استعمال ایک نہایت حساس اور سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔
قرآن محض ایک کتاب نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی ہے—اللہ کا کلام، جو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اس کی تعبیر و تشریح کوئی سادہ علمی عمل نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فکری و روحانی کاوش ہے، جس کے لیے صدیوں سے مفسرین نے اصول وضع کیے، علومِ قرآن کی بنیاد رکھی، اور اپنی زندگیاں صرف کیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایک مشینی نظام، جسے انسانوں نے معلومات فراہم کی ہیں، اس مقدس متن کی صحیح تعبیر کر سکتا ہے؟
یہاں اصل نکتہ سمجھنے کا ہے: مصنوعی ذہانت خود کوئی “عالم” نہیں، بلکہ ایک “آلہ” ہے۔ یہ وہی کچھ بیان کرتی ہے جو اسے سکھایا گیا ہو۔ اس کے پاس نہ شعور ہے، نہ فہمِ وحی، نہ تقویٰ، اور نہ وہ ذمہ داری کا وہ احساس جو ایک عالمِ دین کے دل میں ہوتا ہے۔ وہ صرف الفاظ کو جوڑتی ہے، مفاہیم کو ترتیب دیتی ہے، اور دستیاب مواد کی بنیاد پر جواب دیتی ہے۔ مگر دین کا فہم صرف الفاظ کا کھیل نہیں؛ یہ سیاق و سباق، شانِ نزول، لغوی باریکیوں، اور پورے دینی نظام کے تناظر سے جڑا ہوا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت کسی آیت کی تعبیر میں معمولی سی لغزش کر جائے، یا مختلف آراء کو خلط ملط کر دے، یا کسی حساس مسئلے میں غیر محتاط زبان اختیار کرے—تو یہ محض ایک علمی غلطی نہیں ہوگی، بلکہ دین کی غلط نمائندگی کا سبب بن سکتی ہے۔ اور اگر نادانستہ طور پر اس سے کوئی غلط مفہوم عام ہو جائے، تو اس کے اثرات فکری و اعتقادی سطح پر نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دین کے باب میں مصنوعی ذہانت کا استعمال احتیاط کا متقاضی ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کا ماہر ہو، اصولِ تفسیر سے واقف ہو، اور دینی علوم پر گہری نظر رکھتا ہو، تو وہ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ مثلاً مختلف تفاسیر تک رسائی، حوالہ جات کی تلاش، یا علمی مواد کی ترتیب میں یہ ایک مفید ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں بھی حتمی فیصلہ کسی ماہر عالم کا ہی ہوگا، نہ کہ مشین کا۔
البتہ جو لوگ اس میدان کے ماہر نہیں ہیں، ان کے لیے معاملہ زیادہ نازک ہے۔ اگر وہ محض سہولت کے پیشِ نظر مصنوعی ذہانت سے دینی رہنمائی لینے لگیں اور اسے حتمی سمجھ بیٹھیں، تو یہ ایک خطرناک روش بن سکتی ہے۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ ایسی ہر معلومات کو کسی مستند عالمِ دین یا معتبر تفسیر کے ذریعے ضرور جانچا جائے۔
گویا اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ:
مصنوعی ذہانت دین میں مددگار ہو سکتی ہے، مگر رہنما نہیں۔
ہمیں اس فرق کو واضح طور پر سمجھنا ہوگا۔ اگر ہم نے سہولت کو اتھارٹی بنا دیا، تو ہم نادانستہ طور پر ایک ایسے راستے پر چل پڑیں گے جہاں دین کی اصل روح پسِ پشت چلی جائے گی اور اس کی جگہ سطحی اور غیر مستند تعبیرات لے لیں گی۔
تاہم اس تصویر کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ اگر درست حدود میں رہ کر استعمال کیا جائے، تو مصنوعی ذہانت عام لوگوں کو قرآن کے قریب لا سکتی ہے، ابتدائی فہم کو آسان بنا سکتی ہے، اور دینی علم کے فروغ میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ مگر شرط وہی ہے: شعور، احتیاط، اور اہلِ علم سے رابطہ۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہم ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ دور ہمیں بے پناہ امکانات دے رہا ہے، مگر ساتھ ہی ہماری ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ دین کے معاملے میں ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ یہ صرف معلومات کا نہیں، بلکہ ہدایت کا معاملہ ہے—اور ہدایت کی حفاظت محض مشینوں کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو ایک خادم کے طور پر رکھیں، آقا کے طور پر نہیں۔
