تفہیم القرآن، سید ابوالاعلی مودودیؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تفہیم القرآن، سید ابوالاعلی مودودیؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

نزولِ قرآن اور اس کا پس منظر – تفہیم القرآن کی روشنی میں

۱۔ وحی اور نزولِ قرآن کی نوعیت

مولانا مودودی نے نزولِ وحی کو ایک غیرمعمولی اور الہامی عمل قرار دیا ہے جو عام انسانی علوم کے حصول سے بالکل مختلف ہے۔
 
وحی کی ابتدا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے ہوئی۔
نزولِ قرآن کا آغاز غارِ حرا میں پہلی وحی ("اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" – العلق 1) سے ہوا۔

وحی کی مختلف صورتیں: 

قرآن میں وحی کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں:

فرشتے کے ذریعے وحی (جیسے حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ پر قرآن کا نزول)
براہِ راست اللہ کی گفتگو (جیسے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ کوہِ طور پر)
الہام اور خواب کے ذریعے وحی (جیسے حضرت ابراہیمؑ کو بیٹے کی قربانی کا خواب)

۲ ۔ نزولِ قرآن کے تدریجی مراحل

مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں واضح کیا ہے کہ قرآن مجید ایک ہی بار نازل نہیں ہوا بلکہ یہ تدریجاً نازل ہوا تاکہ:

انسانی ذہن اور معاشرتی حالات کے مطابق احکامات اتارے جائیں۔
صحابہ کرام کے عقائد و اعمال کی اصلاح مرحلہ وار کی جائے۔
امت محمدیہ کے لیے قرآن فہمی آسان ہو۔

۳۔  نزولِ قرآن کے پس منظر میں مکی اور مدنی ادوار

مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں مکی اور مدنی سورتوں کو ان کے حالاتِ نزول کے تناظر میں بیان کیا ہے:
 

شق القمر کا واقعہ ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ

 قرآن مجید کی سورہ قمر میں شق القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا۔

شق القمر کا واقعہ 

اس میں کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے۔ وہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں۔ بکھر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اور وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورۃ میں انہیں ملامت کی گئی ہے۔ 

کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہوجائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داور محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ( سورہ قمر :1)

قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔

یعنی چاند کا پھٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی جاتی رہی ہے، قریب آ لگی ہے اور نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کرہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہوگیا، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی چیز ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے۔ 

سورۃ الفجر : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  پہلے ہی لفظ والفجر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔


زمانۂ نزول :


اس کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکۂ معظمہ میں اسلام قبول کرنے والوں کے خلاف ظلم کی چکی چلنی شروع ہوچکی تھی۔ اسی بنا پر اہل مکہ کو عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔


موضوع اور مضمون :


اس کا موضوع آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات ہے جس کا اہل مکہ انکار کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے جس طرح ترتیب وار استدلال کیا گیا ہے، اس کو اسی ترتیب کے ساتھ غور سے دیکھیے۔


سب سے پہلے فجر اور دس راتوں اور جفت اور طاق، اور رخصت ہوتی ہوئی رات کی قسم کھا کر سامعین سے سوال کیا گیا ہے کہ جس بات کا تم انکار کر رہے ہو اس کے برحق ہونے کی شہادت دینے کے لیے کیا یہ چیزیں کافی نہیں ہیں؟ یہ چیزیں اس باقاعدگی کی علامت ہیں جو شب و روز کے نظام میں پائی جاتی ہے، اور ان کی قسم کھا کر یہ سوال اس معنی میں کیا گیا ہے کہ خدا کے قائم کیے ہوئے اس حکیمانہ نظام کو دیکھنے کے بعد بھی کیا اس امر کی شہادت دینے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ نظام جس خدا نے قائم کیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ آحرت برپا کرے، اور اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی بازپرس کرے۔


اس کے بعد انسانی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے بطور مثال عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام کو پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ حد سے گزر گئے اور زمین میں انہوں نے بہت فساد مچایا تو اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کا نظام کچھ اندھی بہری طاقتیں نہیں چلا رہی ہیں، نہ یہ دنیا کسی چوپٹ راجہ کی اندھیر نگری ہے، بلکہ ایک فرمانروائے حکیم و دانا اس پر حکمرانی کر رہا ہے جس کی حکمت اور عدل یہ تقاضا خود اس دنیا میں انسانی تاریخ کے اندر مسلسل نظر آتا ہے کہ عقلی اور اخلاقی حس دے کر جس مخلوق کو اس نے یہاں تصرف کے اختیارات دیے ہیں اس کا محاسبہ کرے اور اسے جزا اور سزا دے۔


اس کے بعد انسانی معاشرے کی عام اخلاقی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں عرب جاہلیت کی حالت تو اس وقت سب کے سامنے عملاً نمایاں تھی، اور خصوصیت کے ساتھ اس کے دو پہلوؤں پر تنقید کی گئی ہے۔ ایک، لوگوں کا مادہ پرستانہ نقطۂ نظر جس کی بنا پر وہ اخلاق کی بھلائی اور برائی کو نظر انداز کر کے محض دنیا کی دولت اور جاہ و منزلت کے حصول یا فقدان کو عزت و ذلت کا معیار قرار دیے بیٹھے تھے اور اس بات کو بھول گئے تھے کہ نہ دولت مندی کوئی انعام ہے، نہ رزق کی تنگی کوئی سزا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں حالتوں میں انسان کا امتحان لے رہا ہے کہ دولت پاکر وہ کیا رویہ اختیار کرتا ہے اور تنگ دستی میں مبتلا ہو کر کس روش پر چل پڑتا ہے۔ دوسرے، لوگوں کا یہ طرز عمل کہ یتیم بچہ باپ کے مرتے ہی ان کے ہاں کسمپرسی میں مبتلا ہوجاتا ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جس کا بس چلتا ہے مردے کی ساری میراث سمیٹ کر بیٹھ جاتا ہے اور کمزور حق داروں کو دھتا بتا دیتا ہے اور مال کی حرص لوگوں کو ایک ایسی نہ بجھنے والی پیاس کی طرح لگی ہوئی ہے کہ خواہ کتنا ہی مال مل جائے ان کا دل سیر نہیں ہوتا۔ اس تنقید سے مقصود لوگوں کو اس بات کا قائل کرنا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جن انسانوں کا یہ طرز عمل ہے ان کا محاسبہ آخر کیوں نہ ہو۔


پھر کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا اور وہ اس روز ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی۔ اس وقت جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کی سمجھ میں وہ بات آ جائے گی جسے آج وہ سمجھانے سے نہیں مان رہے ہیں، مگر اس وقت سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ منکر انسان ہاتھ ملتا ہی رہ جائے گا کہ کاش میں نے دنیا میں اس دن کے لیے کوئی سامان کیا ہوتا۔ مگر یہ ندامت اسے خدا کی سزا سے نہ بچا سکے گی۔ البتہ جن انسانوں سے دنیا میں پورے اطمینان قلب کے ساتھ اس حق کو قبول کرلیا ہوگا جسے آسمانی صحیفے اور خدا کے انبیاء پیش کر رہے تھے، خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا کے عطا کردہ اجر سے راضی ہوں گے، انہیں دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنے رب کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں اور جنت میں داخل ہوجائیں ۔

سورۃ الفیل : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :  پہلی ہی آیت کے لفظ اصحٰب الفیل سے ماخوذ ہے۔


زمانۂ نزول :


یہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور اس کے تاریخی پس منظر کو اگر نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا نزول مکۂ معظمہ کے بھی ابتدائی دور میں ہوا ہوگا۔


تاریخی پس منظر :


اس سے پہلے تفسیر سورۃ بروج حاشیہ ٤ میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ نجران میں یمن کے یہودی فرمانروا ذونواس نے پیروان مسیح (علیہ السلام) پر جو ظلم کیا تھا اس کا بدلہ لینے کے لیے حبش کی عیسائی سلطنت نے یمن پر حملہ کر کے حمیری حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور 525 ء میں اس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہوگئی تھی۔ یہ ساری کارروائی دراصل قسطنطنیہ کی رومی سلطنت اور حبش کی حکومت کے باہم تعاون سے ہوئی تھی، کیونکہ حبشیوں کے پاس اس زمانے میں کوئی قابل ذکر بحری بیڑا نہ تھا۔ بیڑا رومیوں نے فراہم کیا اور حبش نے اپنی 70 ہزار فوج اسی کے ذریعے سے یمن کے ساحل پر اتاری۔ آکے کے معاملات سمجھنے کے لیے یہ بات ابتدا ہی میں جان لینی چاہیے کہ یہ سب کچھ مذہبی جذبے سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے پیچھے معاشی اور سیاسی اغراض بھی کام کر رہی تھیں، بلکہ غالباً وہی اس کی اصل محرک تھیں اور عیسائی مظلومین کے خون کا انتقام ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ 

رومی سلطنت جب سے مصر و شام پر قابض ہوئی تھی اسی وقت سے اس کی یہ کوشش تھی کہ مشرقی افریقہ، ہندوستان، انڈونیشیا وغیرہ ممالک اور رومی مقبوضات کے درمیان جس تجارت پر عرب صدیوں سے قابض چلے آ رہے تھے، اسے عربوں کے قبضے سے نکال کر وہ خود اپنے قبضے میں لے لے، تاکہ اس کے منافع پورے کے پورے اسی کو حاصل ہوں اور عرب تاجروں کا واسطہ درمیان سے ہٹ جائے۔ اس مقصد کے لیے 24 یا 25 قبل مسیح میں قیصر آگسٹس نے ایک بڑی فوج رومی جنرل ایلیس گالون (Aelius Gallus) کی قیادت میں عرب کے مغربی ساحل پر اتار دی تھی تاکہ وہ اس بحری راستے پر قابض ہوجائے جو جنوبی عرب سے شام کی طرف جاتا تھا۔ لیکن عرب کے شدید جغرافیائی حالات نے اس مہم کو ناکام کردیا۔ اس کے بعد رومی اپنا جنگی بیڑہ بحیرہ احمر میں لے آئے اور انہوں نے عربوں کی اس تجارت کو ختم کردیا جو وہ سمندر کے راستے کرتے تھے اور صرف بری راستہ ان کے لیے باقی رہ گیا۔ اسی بحری راستے کو قبضے میں لینے کے لیے انہوں نے حبش کی عیسائی حکومت سے گٹھ جوڑ کیا اور بحری بیڑی سے اس کی مدد کر کے اس کو یمن پر قابض کرا دیا۔ یمن پر جو حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی اس کے متعلق عرب مورخین کے بیانات مختلف ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ وہ دو امیروں کی قیادت میں تھی، ایک اریاط دوسرا ابرھہ اور محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس فوج کا امیر اریاط تھا اور ابرھہ اس میں شامل تھا۔ 


پھر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ابرھہ اور اریاط باہم لڑ پڑے، مقابلے میں اریاط مارا گیا، ابرھہ ملک پر قابض ہوگیا اور پھر اس نے شاہ حبش کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ اسی کو یمن پر اپنا نائب مقرر کرے۔ اس کے برعکس یونانی اور سریانی مورخین کا خیال ہے کہ فتح یمن کے بعد جب حبشیوں نے مزاحمت کرنے والے یمنی سرداروں کو ایک ایک کر کے قتل کرنا شروع کردیا تو ان میں سے ایک سردار السمیفع اشوع (جسے یونانی مورخین esymphaeus لکھتے ہیں) نے حبشیوں کی اطاعت قبول کر کے اور جزیہ ادا کرنے کا عہد کر کے شاہ حبش سے یمن کی گورنری کا پروانہ حاصل کرلیا لیکن حبشی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کر دی اور ابرھہ کو اس کی جگہ گورنر بنا دیا۔ یہ شخص حبش کی بندرگاہ ادولیس کے ایک یونانی تاجر کا غلام تھا جو اپنی ہوشیاری سے یمن پر قبضہ کرنے والی حبشی فوج میں بڑا اثر و رسوخ حاصل کر گیا تھا۔ شاہ حبش نے اس کی سرکوبی کے لیے جو فوجیں بھیجیں وہ یا اس سے مل گئیں یا اس نے ان کو شکست دے دی۔

 آخر کار شاہ حبش کے مرنے کے بعد اس کے جانشیں نے اس کو یمن پر اپنا نائب السلطنت تسلیم کرلیا (یونانی مورخین اس کا نام ابرامس Abrames اور سریاری مورخین ابراھام Abraham لکھتے ہیں۔ ابرھہ غالباً اسی کا حبشی تلفظ ہے کیونکہ عربی میں اس کا تلفظ ابراہیم ہے) یہ شخص رفتہ رفتہ یمن کا خود مختار بادشاہ بن گیا، مگر برائے نام اس نے شاہ حبش کی بالادستی تسلیم کر رکھی تھی اور اپ آپ کو مفوض الملک (نائبِ شاہ) لکھتا تھا۔ اس نے جو اثر و رسوخ حاصل کرلیا تھا اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ جب 543 ء میں وہ سد مارب کی مرمت سے فارغ ہوا تو اس نے ایک عظیم الشان جشن منایا جس میں قیصر روم، شاہ ایران، شاہ حیرہ اور شاہ غسان کے سفرا شریک ہوئے۔ اس کا مفصل تذکرہ اس کتبے میں درج ہے جو ابرھہ نے سد مارب پر لگایا تھا۔ یہ کتبہ آج بھی موجود ہے اور گلیزر (Glaser) نے اس کو نقل کیا ہے۔ حوالہ : مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورۃ سبا، حاشیہ 37) یمن میں پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کرلینے کے بعد ابرھہ نے اس مقصد کے لیے کام شروع کردیا جو اس مہم کی ابتدا سے رومی سلطنت اور اس کے حلیف حبشی عیسائیوں کے پیش نظر تھا، یعنی ایک طرف عرب میں عیسائیت پھیلانا اور دوسری طرف اس تجارت پر قبضہ کرنا جو بلاد مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ 

یہ ضرورت اس بنا پر اور بڑھ گئی تھی کہ ایران کی ساسانی سلطنت کے ساتھ روم کی کشمکش اقتدار نے بلاد مشرق سے رومی تجارت کے دوسرے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ابرھہ نے اس مقصد کے لیے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کرایا جس کا ذکر عرب مورخین نے القَلِیس یا القُلَیس یا القُلَّیس کے نام سے کیا ہے (یہ یونانی لفظ ekklesia کا معرب ہے اور اردو کا لفظ کلیسا بھی اسی یونانی لفظ سے ماخوذ ہے) محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اس نے شاہ حبش کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا ( یمن پر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ کعبہ کے مقابلے میں ایک دوسرا کعبہ بنائیں اور عرب میں اس کی مرکزیت قائم کر دیں۔ انہوں نے نجران میں بھی ایک کعبہ بنایا تھا) ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اس نے یمن میں علی الاعلان اپنے اس ارادے کا اظہار کیا اور اس کی منادی کرادی۔ اس کی اس حرکت کا مقصد ہمارے نزدیک یہ تھا کہ عربوں کو غصہ دلائے تاکہ وہ کوئی ایسی کارروائی کریں جس سے اس کو مکہ پر حملہ کرنے اور کعبے کو منہدم کر دینے کا بہانہ مل جائے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کے اس اعلان پر غضبناک ہو کر ایک عرب سے کسی نہ کسی طرح کلیسا میں گھس کر رفع حاجت کر ڈالی۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ فعل ایک قریشی نے کیا تھا اور مقاتل بن سلیمان کی روایت ہے کہ قریش کے بعض نوجوانوں نے جا کر اس کلیسا میں آگ لگا دی تھی۔ 


ان میں سے کوئی واقعہ بھی اگر پیش آیا ہو تو کوئی قابل تعجب امر نہیں ہے کیونکہ ابرھہ کا یہ اعلان یقیناً سخت اشتعال انگیز تھا اور قدیم جاہلیت کے دور میں اس پر کسی عرب، یا قریشی کا، یا چند قریشی نوجوانوں کا مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کرنا یا اس میں آگ لگا دینا کوئی ناقابل فہم بات نہیں تھی۔ لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابرھہ نے خود اپنے کسی آدمی سے خفیہ طور پر ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اسے مکہ پر چڑھائی کرنے کا بہانہ مل جائے اور اس طرح وہ قریش کو تباہ اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے اپنے دونوں مقاصد حاصل کرلے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، جب ابرھہ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ کعبے کے معتقدین نے اس کلیسا کی یہ توہین کی ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک چین نہ لوں گا جب تک کعبے کو ڈھا نہ دوں۔ اس کے بعد وہ 570 ء یا 571 ء میں 60 ہزار فوجی اور 13 ہاتھی (اور بروایت بعض 9 ہاتھی) لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں پہلے یمن کے ایک سردار ذونفر نے عربوں کا ایک لشکر جمع کر کے اس کی مزاحمت کی، مگر وہ شکست کھا کر گرفتار ہوگیا۔ پھر خثعم کے علاقے میں ایک عرب سردار نفیل بن حبیب خثعمی اپنے قبیلے کو لے کر مقابلے پر آیا، مگر وہ بھی شکست کھا کر گرفتار ہوگیا اور اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بدرقے کی خدمت انجام دینا قبول کرلیا۔ طائف کے قریب پہنچا تو بنی ثقیف نے محسوس کیا کہ اتنی بڑی طاقت کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے، اور ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں وہ ان کے معبود لات کا مندر بھی تباہ نہ کر دے۔ چنانچہ ان کا سردار مسعود ایک وفد لے کر ابرھہ سے ملا اور اس نے کہا کہ ہمارا بت کدہ وہ معبد نہیں ہے جسے آپ ڈھانے آئے ہیں، وہ تو مکہ میں ہے، اس لیے آپ ہمارے معبد کو چھوڑ دیں، ہم مکہ کا راستہ بتانے کے لیے آپ کو بدرقہ فراہم کیے دیتے ہیں۔ ابرھہ نے یہ بات قبول کرلی اور بنی ثقیف نے ابو رغال نامی ایک آدمی کو اس کے ساتھ کردیا۔ 

جب مکہ تین کوس رہ گیا تو المغمس نامی مقام پر پہنچ کر ابو رغال مر گیا اور عرب مدتوں تک اس کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے۔ بنی ثقیف کو بھی وہ سالہا سال تک طعنے دیتے رہے کہ انہوں نے لات کے مندر کو بچانے کے لیے بیت اللہ پر حملہ کرنے والوں سے تعاون کیا۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ المغمس سے ابرھہ نے اپنے مقدمۃ الجیش کو آگے بڑھایا اور وہ اہل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی لوٹ لے گیا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دادا عبد المطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایک ایلچی کو مکہ بھیجا اور اس کے ذریعے اہل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تم سے لڑنے نہیں آیا ہوں بلکہ اس گھر (کعبہ) کو ڈھانے آیا ہوں۔ اگر تم نہ لڑو تو میں تمہاری جان و مال سے کوئی تعرض نہ کروں گا۔ نیز اس نے اپنے ایلچی کو ہدایت کی کہ اہل مکہ اگر بات کرنا چاہیں تو ان کے سردار کو میرے پاس لے آنا۔ مکے کے سب سے بڑے سردار اس وقت عبد المطلب تھے۔ ایلچی نے ان سے مل کر ابرھہ کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں ابرھہ سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ اللہ کا گھر ہے، وہ چاہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔ ایلچي نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ابرھہ کے پاس چلیں۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اس قدر وجیہہ اور شاندار شخص تھے کہ ان کو دیکھ کر ابرھہ بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ پھر پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں وہ مجھے واپس دے دیے جائیں۔ ابرھہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں بہت متاثر ہوا تھا، مگر آپ کی اس بات نے آپ کو میری نظر سے گرا دیا کہ آپ اپنے اونٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ گھر جو آپ کا اور آپ کے دین آبائی کا مرجع ہے۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ انہوں نے کہا میں تو صرف اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور انہی کے بارے میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔ رہایہ گھر، تو اس کا ایک رب ہے، وہ اس کی حفاظت خود کرے گا۔ ابرھہ نے جواب دیا وہ اس کو مجھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبد المطلب نے کہا آپ جانیں اور وہ جانے۔ یہ کہہ کر وہ ابرھہ کے پاس سے اٹھ آئے اور اس نے ان کے اونٹ واپس کر دیے۔ ابن عباس (رض) کی روایت اس سے مختلف ہے۔ اس میں اونٹوں کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن مردویہ، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے ان سے جو روایات نقل کی ہیں ان میں وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ابرھہ الصِفاح کے مقام پر پہنچا (جو عرفات اور طائف کے پہاڑوں کے درمیان حدود حرم کے قریب واقع ہے) تو عبد المطلب خود اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ کو یہاں تک آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں کہلا بھیجتے، ہم خود لے کر آپ کے پاس حاضر ہوجاتے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے یہ گھر امن کا گھر ہے، میں اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔ عبد المطلب نے کہا کہ یہ اللہ کا گھر ہے، آج تک اس نے کسی کو اس پر مسلط نہیں ہونے دیا ہے۔ ابرھہ نے جواب دیا ہم اسے منہدم کیے بغیر نہ پلٹیں گے۔ عبد المطلب نے کہا آپ جو کچھ چاہیں ہم سے لے لیں اور واپس چلے جائیں۔ مگر ابرھہ نے انکار کردیا اور عبد المطلب کو پیچھے چھوڑ کر اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ دونوں روایتوں کو اس اختلاف کو اگر ہم اپنی جگہ رہنے دیں اور کسی کو کسی پر ترجیح نہ دیں، تو ان میں سے جو صورت بھی پیش آئی ہو، بہرحال یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکہ اور اس کے آس پاس کے قبائل اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اس لیے یہ بالکل قابل فہم بات ہے کہ قریش نے اس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔ قریش کو لوگ تو جنگ احزاب کے موقع پر مشرک اور یہودی قبائل کو ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار کی جمعیت فراہم کرسکے۔ وہ 60 ہزار فوج کا مقابلہ کیسے کرتے۔ 

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ابرھہ کی لشکر گاہ سے واپس آ کر عبد المطلب نے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ ان کا قتل عام نہ ہوجائے۔ پھر وہ اور قریش کے چند سردار حرم میں حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر اور اس کے خادموں کی حفاظت فرماۃ ے۔ اس وقت خانۂ کعبہ میں 360 بت موجود تھے۔ مگر یہ لوگ اس نازک گھڑی میں ان سب کو بھول گئے اور انہوں نے صرف اللہ کے آگے دست سوال پھیلایا۔ ان کی جو دعائیں تاریخ میں منقول ہوئی ہیں ان میں اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں پایا جاتا۔ ابن ہشام نے سیرت میں عبد المطلب کے جو اشعار نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں : خدایا! بندہ اپنے گھر کی حفاظۃ کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما کل ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر کے مقابلے میں غالب نہ آنے پائے اگر تو ان کو اور ہمارے قبیلے کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تو چاہے کر سُہَیلی نے روض الانف میں اس سلسلے کا یہ شعر بھی نقل کیا ہے صلیب کی آل اور اس کے پرستاروں کے مقابلے میں آج اپنی آل کی مدد فرما ابن جریر نے عبد المطلب کے یہ اشعار بھی نقل کی ہیں جو اس موقع پر دعا مانگتے ہوئے انہوں نے پڑھے تھے : اے میرے رب تیرے سوا میں ان کا مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔ اے میرے رب ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے۔ اپنی بساہ کو تباہ کرنے سے ان کو روک یہ دعائیں مانگ کر عبد المطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں میں چلے گئے، اور دوسرے روز ابرھہ مکے میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، مگر اس کا خاص ہاتھی محمود، جو آگے آگے تھا، یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تبر مارے گئے، آنکسوں سے کچوکے دیے گئے، یہاں تک کہ اسے زحمی کردیا گیا، مگر وہ نہ ہلا، اسے جنوب، شمال، مشرق کی طرف موڑ کر چلانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوڑنے لگتا، مگر مکے کی طرف موڑا جاتا تو وہ فوراً بیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ اتنے میں پرندوں گے جھنڈ کے جھنڈ اپنی چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لیے ہوئے آئے اور انہوں سے اس لشکر پر ان سنگریزوں کی بارش کر دی۔ جس پر بھی یہ کنکر گرتے اس کا جسم گلنا شروع ہوجاتا۔ 

محمد بن اسحاق اور عکرمہ کی روایت ہے کہ یہ چیچک کا مرض تھا اور بلاد عرب میں سب سے پہلے چیچک اسی سال دیکھی گئی۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جس پر کوئی کنکری گرتی اسے سخت کھجلی لاحق ہوجاتی اور کھجاتے ہی اس کی جلد پھٹتی اور گوشت جھڑنا شروع ہوجاتا۔ ابن عباس (رض) کی دوسری روایت یہ ہے کہ گوشت اور خون پانی کی طرح بہنے لگتا اور ہڈیاں نکل آتی تھیں۔ خود ابرھہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کا اجسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر رہا تھا اور جہاں سے کوئی ٹکڑا گرتا وہاں سے پیپ اور لہو بہنے لگتا۔ افراتفری میں ان لوگوں نے یمن کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ نفیل بن حبیب خثعمی کو، جسے یہ لوگ بدرقہ بنا کر بلاد خثعم سے پکڑ لائے تھے، تلاش کر کے انہوں نے کہا کہ واپسی کاراستہ بتائے۔ مگر اس نے صاف انکار کردیا اور کہا این المفر و الا لہ الطالب – والاشرم المغلوب لیس الغالب اب بھاگنے کی جگہ کہاں ہے جبکہ خدا تعاقب کر رہا اور نکٹا (ابرھہ) مغلوب ہے، غالب نہیں ہے اس بھگدڑ میں جگہ جگہ یہ لوگ گر گر کر مرتے رہے۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ سب کے سب اسی وقت ہلاک نہیں ہوگئے بلکہ کچھ تو وہیں ہلاک ہوئے اور کچھ بھاگتے ہوئے راستے بھر گرتے چلے گئے۔ ابرھہ بھی بلاد خثعم پہنچ کر مرا۔ اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو صرف یہی سزا دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ 

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ فیل کے بعد یمن میں ان کی طاقت بالکل ٹوٹ گئی، جگہ جگہ یمنی سردار علم بغاوت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے، پھر ایک یمنی سردار سیف بن ذی یزن نے شاہ ایران سے فوجی مدد طلب کرلی اور ایران کی صرف ایک ہزار فوج جو چھ جہازوں کے ساتھ آئی تھی، حبشی حکومت کا خاتمہ کر دینے کے لیے کافی ہوگئی۔ یہ 575 ء کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ مزدلفہ اور منٰی کے درمیان وادی مخصب کے قریب محسر کے مقام پر پیش آیا تھا۔ صحیح مسلم اور ابو داؤد کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حجۃ الوداع کا جو قصہ امام جعفر صادق نے اپنے والد ماجد امام محمد باقر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے اس میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مزدلفہ سے منٰی کی طرف چلے تو محسر کی وادی میں آپ نے رفتار تیز کر دی۔ امام نووی اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اصحاب الفیل کا واقعہ اسی جگہ پیش آیا تھا۔ اس لیے سنت یہی ہے کہ آدمی یہاں سے جلدی گزر جائے۔ موطا میں امام مالک روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مزدلفہ پورا کا پورا ٹھیرنے کا مقام ہے، مگر محسر کی وادی میں نہ ٹھیرا جائے۔ نفیل بن حبیب کے جو اشعار ابن اسحاق نے نقل کیے ہیں ان میں وہ اس واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا ہے۔ اے رُدَینَہ کاش تو دیکھتی، اور تو نہیں دیکھ سکے گی جو کچھ ہم نے وادی محصب کے قریب دیکھا میں نے اللہ کا شکر کیا جب میں نے پرندوں کو دیکھا اور مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں پتھر ہم پر نہ آ پڑیں ان لوگوں میں سے ہر ایک نفیل کو ڈھونڈ رہا تھا، گویا کہ میرے اوپر حبشیوں کا کوئی قرض آتا تھا یہ اتنا بڑا واقعہ تھا جس کی تمام عرب میں شہرت ہوگئی اور اس پر بہت سے شعراء نے قصائد کہے۔

 ان قصائد میں یہ بات بالکل نمایاں ہے کہ سب سے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعجاز قرار دیا اور کہیں اشارۃً و کنایۃً بھی یہ نہیں کہا کہ اس میں ان بتوں کا بھی کوئی دخل تھا جو کعبہ میں پوجے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر عبد اللہ ابن الزبغریٰ کہا ہے کہ 60 ہزار تھے جو اپنی سرزمین کی طرف واپس نہ جا سکے اور نہ واپس ہونے کے بعد ان کا بیمار (ابرھہ) زندہ رہا) یہاں ان سے پہلے عاد اور جرھم تھے اور اللہ بندوں کے اوپر موجود ہے جو اسے قائم رکھے ہوئے ہے اٹھو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور مکہ و منٰی کی پہاڑیوں کے درمیان بیت اللہ کے کونوں کو مسح کرو جب عرش والے کی مدد تمہیں پہنچی تو اس بادشاہ کے لشکروں نے ان لوگوں کو اس حال میں پھیر دیا کہ کوئی خاک میں پڑا تھا اور کوئی سنگسار کیا ہوا تھا۔ یہی نہیں بلکہ حضرت ام ھانی اور حضرت زبیر بن العوام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قریش نے 10 سال (اور بروایت بعض سات سال) تک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔ ام ھانی کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی کتب حدیث میں نقل کی ہے۔ حضرت زبیر کا بیان طبرانی اور ابن مردویہ اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے اور اس کی تائید مزید حضرت سعید بن المسیب کی اس مرسل روایت سے ہوتی ہے و خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں درج کی ہے۔ جس سال یہ واقعہ پیش آیا، اہل اسے اسے عام الفیل (ہاتھیوں کا سال) کہتے ہیں اور اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت مبارکہ ہوئی۔ محدثین اور مورخین کا اس بات پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اصحاب الفیل کا واقعہ محرم میں پیش آیا تھا اور حضور کی ولادت ربیع الاول میں ہوئی۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے 50 دن بعد ہوئی۔


مقصود کلام :

جو تاریخی تفصیلات اوپر درج کی گئی ہیں ان کو نگاہ میں رکھ کر سورۃ فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس سورت میں اس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر دینے پر کیوں اکتفا کیا گیا ہے۔ واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا۔ مکے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔ تمام اہل عرب اس بات کے قائل تھے کہ ابرھہ کے اس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں نے مدد کے لیے دعائیں مانگی تھیں اور چند سال تک قریش کے لوگ اس واقعہ سے اس قدر متاثر رہے تھے کہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۃ فیل میں ان تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کی یاد دلانا کافی تھا، تاکہ قریش کے لوگ خصوصاً، اور اہل عرب عموماً، اپنے دلوں میں اس بات پر غور کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ آخر اس کے سوا اور کیا ہے کہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ نیز وہ یہ بھی سوچ لیں کہ اگر اس دعوت حق کو دبانے کے لیے انہوں نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں وہ گرفتار ہوں گے۔

قرآن میں جنگ کے احکام - مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ

قرآن میں جنگ کے احکام 
 فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ ( سورہ محمد ) 

پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کر دیا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔

مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق و سباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آ جانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ ’’جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو‘‘ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈ بھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اس کے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔

زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اس بارے میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے تفہیم القرآن میں ایک جگہ لکھا ہے کہ "
جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اَینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔
وہاں پیہم ترقی ہو گی بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو۔ اور وہاں خلافت الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔

عالم آخرت میں زمین کی کیا شکل بنے گی ؟

 آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ انشقاق میں فرمایا : اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ ’’ زمین پھیلا دی جاۓ گی‘‘۔

 سورۂ انفطار میں فرمایا : اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ، ’’ سمندر پھاڑ دیے جائیں گے ‘‘ 

جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جاۓ گا سورۂ تکویر میں فرمایا : اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ،’’ سمندر بھریے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے ‘‘۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جاۓ گی۔ 

اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر ، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کیطرح بنا دیا جاۓ گا۔

 یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۂ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : یَوْمَ تُبَدَّ لُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔’’ وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جاۓ گی۔ ‘‘ اور یہی زمین کی وہ شکل ہو گی جس پر حشر قائم ہو گا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرماۓ گا۔ 

پھر اس کی آخری اور دائمی شل وہ بنادی جاۓ گی جس کو سورۂ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : وَقَالُو ا لْحَمْدُ لِلہِ الَّذِ یْ صَدَ قَٓنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّ اُمِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآ ءُ ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ یعنی متقی لوگ ’’ کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا ، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہبنا سکتے ہیں۔ پس بہتریں اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ‘‘۔ 

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیشين گوئی اور انجیل برنا باس - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

انجیل برناباس
" حقیقت یہ ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشن گوئیوں کو نہیں ، خود حضرت عیسیٰ کے اپنے صحیح حالات اور آپ کی اصل تعلیمات کا جاننے کا بھی معتبر ذریعہ وہ چار انجیلیں نہیں ہیں جن کو مسیحی کلیسا نے معتبر و مسلم انا جیل(Canonical Gospels) قرار دے رکھا ہے ، بلکہ اس کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ وہ انجیل برنا باس ہے جسے کلیسا غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) کہتا ہے ۔ عیسائیوں نے اسے چھپانے کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ صدیوں تک یہ دنیا سے ناپید رہی ہے ۔ سولہویں صدی میں اس کے اطالوی ترجمے کا صرف ایک نسخہ پوپ سکسٹس (Sixtus) کے کتب خانے میں پایا جاتا تھا اور کسی کو اس کے پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں وہ ایک شخص جان ٹولینڈ کے ہاتھ لگا۔ پھر مختلف ہاتھوں میں گشت کرتا ہوا 1738ء میں ویانا کی امپریل لائبریری میں پہنچ گیا۔ 1907ء میں اسی نسخے کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس سے شائع ہو گیا تھا مگر غالباً اس کی اشاعت کے بعد فوراً ہی عیسائی دنیا میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ یہ کتاب تو اس مذہب کی جڑ ہی کاٹے دے رہی ہے جسے حضرت عیسیٰ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس لیے اس کے مطبوعہ نسخے کسی خاص تدبیر سے غائب کر دیے گۓ اور پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آ سکی۔ دوسرا ایک نسخہ اسی اطالوی ترجمہ سے اسپینی زبان میں منتقل کیا ہو اٹھارویں صدی میں پایا جاتا تھا، جس کا ذکر جارج سیل نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں کیا ہے ۔ مگر وہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا اور آج اس کا بھی کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ انگریزی ترجمے کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بہ لفظ ہے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشين گوئی کا تفصیلی جائزہ

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسی ؑ کی بشارت کا تفصیلی جائزہ 
ارشاد باری تعالی : 

وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ " ﴿سورہ الصف: ۶﴾

اور یاد کرو عیسی ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہو ا رسول ہوں تصدیق کر نے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ،  اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آۓ گا جس کا نام احمد  ہو گا۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ  اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

 " یہ قرآن مجید کی ایک بڑی اہم آیت ہے ، جس پر مخالفین اسلام کی طرف سے بڑی لے دے بھی کی گۓ ہے اور بدترین خیانت مجرمانہ سے بھی کام لیا ہے ، کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صاف صاف نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی تھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کی جاۓ۔

اس دنیا میں انسانی سعی اور اس کی حقیقت

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ﴿ۙ۳۸﴾ وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ وَ اَنَّ سَعۡیَہٗ سَوۡفَ یُرٰی ﴿۪۴۰﴾ ثُمَّ یُجۡزٰىہُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰی ﴿ۙ۴۱﴾ وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الۡمُنۡتَہٰی ﴿ۙ۴۲﴾ (سورہ نجم ) 

اس دنیا میں انسانی سعی کی حقیقت 
"یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا ۓ گا ، اور یہ کہ انسان کے لیۓ کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے ، اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جاۓ گی  اور اس کی پوری جزا سے دی جاۓ گی، اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے " 

مولانا سید ابوالاعلی  مودودی ؒ  آیت  اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی  کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

 اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمی داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی الا یہ کہ اس فعل کے صُدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے ۔

اور آیت :  وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلۡاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پاۓ گا اپنے عمل کا پھل پاۓ گا۔ دوسرے یہکہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پا سکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔

سورہ النجم کی آیات : " وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی " کی تفسیر

ارشاد باری تعالی : 

" وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾ سورہ النجم 

ترجمہ ُ: " وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے" 


مولانا سید ابوالاعلی مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن جلد پنجم (سُوْرَةُ النَّجْم حاشیہ نمبر :4 ) میں لکھتے ہیں :  

" مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گیا ہے ، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے ، بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی کے ذریعہ سے نازل کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ اس کا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے دعواۓ نبوت کر دیا ہو، بلکہ خدا نے جب وحی کے ذریعہ سے اس کو اس منصب پر مامور کیا تب وہ تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کے لیے اٹھا اور اس نے تم سے کہا کہ میں تمہارے لیے خدا کا نبی ہوں۔ اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزاۓ اعمال کی یہ خبریں، کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق، اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے یہ اصول، جو وہ پیش کر رہا ہے ، یہ سب کچھ بھی اس کا اپنا بنایا ہوا کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ خدا نے وحی کے ذریعہ سے اس کو ان باتوں کا علم عطا کیا ہے ۔ اسی طرح یہ قرآن جو وہ تمہیں سناتا ہے ، یہ بھی اس کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے ، بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ’’ آپؐ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ آپؐ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپؐ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘، آپؐ کی زبان مبارک سے نکلے والی کن کن باتوں سے متعلق ہے ؟ آیا اس کا اطلاق ان سارے باتوں پر ہوتا ہے جو آپ بولتے تھے ، یا بعض باتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض باتوں پر نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے اس پر تو اس ارشاد کا اطلاق بدرجہ اَولیٰ ہوتا ہے ۔ رہیں وہ دوسری باتیں جو قرآن کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے ادا ہوتی تھیں تو وہ لا محالہ تین ہی قسموں کی ہو سکتی تھیں۔

قرآن میں وہ کون سی امانت کا ذکر ہے جو آسمان اور زمین اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے مگر انسان نے اسے اٹھالیا ؟

ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا

(  سورۃ الاحزاب:  72 )

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بےشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے  ۔ 

 اس آیت کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" کلام کو ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے اور اس حیثیت میں ہوتے ہوئے اگر وہ دنیا کی زندگی کو محض ایک کھیل سمجھ کر بےفکری کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو کس طرح اپنے ہاتھوں خود اپنا مستقبل خراب کرتا ہے۔

اس جگہ " امانت " سے مر اد وہی " خلافت " ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے اسے اپنی بےشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کیے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا اور غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنے۔ یہ اختیارات چونکہ انسان نے خود حاصل نہیں کیے ہیں بلکہ اللہ نے اسے دیے ہیں، اور ان کے صحیح و غلط استعمال پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اس لیے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کو " خلافت " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہاں انہی کے لیے " امانت " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

حضرت سلیمان ؑ اور تمثال (تصویر یا مجسمہ سازی ) کا فن اور ہمارے مفسرین کی غلط فہمی

ارشاد باری تعالی :   یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾ ( سورہ سبا) 

 اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے 19۔ ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں تصویریں20، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں21۔۔۔۔ اے آلِ داؤد عمل کو شکر کے طریقے پر 22، میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہیں۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے سورہ سبا کی  مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے تمثال یعنی تصویر اور مجسمہ سازی کی شرعی حیثیت کا تفصیل سے جائزہ لیا اور بعض قدیم اور جدید مغرب زدہ مفسرین پرغلط فہمی پر سخت تنقید کی ہے وہ لکھتے ہیں:  

" اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تِمثَال کی جمع ہے۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بے جان چیز۔التمشال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلا من خلق اللہ (لسان العرب)"" تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو ‘‘ التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان۔ (تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بے جان ‘‘۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جو ’’ تماثیل ‘‘ بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جب سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔

آیات درود کی تفسیر و تشریح اور اس کی شرعی حیثیت فقہاء اسلام کی نظر میں - از سید ابوالاعلی مودودیؒ

آیات : ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا "  ﴿۵۸﴾ (سورہ الاحزاب ) 

ترجمہ : 

 اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں (حاشیہ نمبر106،)  اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو(حاشیہ نمبر107) 
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان  اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ 

تفسیر : 

 حاشیہ نمبر :106 میں سید ابوالاعلی مودودی  لکھتے ہیں :

" اللہ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ پر بے حد مہربان ہے ، آپ کی تعریف فرماتا ہے ، آپؐ کے کام میں برکت دیتا ہے ، آپؐ کا نام بلند کرتا ہے اور آپ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ 

ملائکہ کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ سے غایت درجے کی محبت رکھتے ہیں اور آپؐ حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپؐ کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے ، آپؐ کے دین کو سر بلند کرے ، آپؐ کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپؐ کو مقام محمُود پر پہنچائے۔

 سیاق و سباق پر نگاہ ڈالنے سے صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ بات کس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب دشمنانِ اسلام اس دینِ مبین کے فروغ پر اپنے دِل کی جلن نکالنے کے لیے حضورؐ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اُچھال کر وہ آپؐ کے اُس اخلاقی اثر کو ختم کر دیں گے جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ان حالات میں یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے دُنیا کو یہ بتایا کہ کفّار و مشرکین اور منافقین میرے نبی کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کی جتنی چاہیں کوشش کر دیکھیں ، آخر کار وہ منہ کی کھائیں گے ، اس لیے کہ میں اُس پر مہربان ہوں اور ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے وہ سب اُس کے حامی اور ثنا خواں ہیں۔ وہ اس کی مذمت کر کے کیا پا سکتے ہیں جبکہ میں اس کا نام بلند کر رہا ہوں اور میرے فرشتے اس کی تعریفوں کے چرچے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روز دعا کر رہے ہیں کہ ربّ العالمین، محمدؐ کا مرتبہ اور زیادہ اونچا کر اور اس کے دین کو اور زیادہ فروغ دے"۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ابتدائی مذہبی تفکرات : سید ابوالاعلی مودودی ؒ

" قوم ابراہیم (علیہ السلام) کے جو حالات(قرآن میں ) بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف چاند، سورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔ اس لیے قدرتی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حقیقت کا آغاز اسی سوال سے ہونا چاہیے تھا کہ کیا فی الواقع ان میں سے کوئی رب ہوسکتا ہے؟ اسی مرکزی سوال پر انھوں نے غور و فکر کیا اور آخر کار اپنی قوم کے سارے خداؤں کو ایک اٹل قانون کے تحت غلاموں کی طرح گردش کرتے دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ جن جن کے رب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان میں سے کسی کے اندر بھی ربُوبیّت کا شائبہ تک نہیں ہے، رب صرف وہی ایک ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور بندگی پر مجبور کیا ہے۔


اس قصہ کے الفاظ سے عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر چاند دیکھا اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر سورج دیکھا اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو یہ کہا، اس پر ایک عام ناظر کے ذہن میں فوراً یہ سوال کھٹکتا ہے کہ کیا بچپن سے آنکھ کھولتے ہی روزانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رات طاری نہ ہوتی رہی تھی اور کیا وہ ہر روز چاند، تاروں اور سورج کو طلوع و غروب ہوتے نہ دیکھتے تھے؟ ظاہر ہے کہ یہ غور و فکر تو انہوں نے سن رشد کو پہنچنے کے بعد ہی کیا ہوگا۔ پھر یہ قصہ اس طرح کیوں بیان کیا گیا ہے کہ جب رات ہوئی تو یہ دیکھا اور دن نکلا تو یہ دیکھا ؟ گویا اس خاص واقعہ سے پہلے انہیں یہ چیزیں دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا، حالانکہ ایسا ہونا صریحاً مستبعد ہے۔ یہ شبہ بعض لوگوں کے لیے اس قدر ناقابل حل بن گیا کہ اسے دفع کرنے کی کوئی صورت انہیں اس کے سوا نظر نہ آئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش کے متعلق ایک غیر معمولی قصہ تصنیف کریں۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایک غار میں ہوئی تھی جہاں سن رشد کو پہنچنے تک وہ چاند، تاروں اور سورج کے مشاہدے سے محروم رکھے گئے تھے۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی کسی داستان کی ضرورت نہیں ہے۔ نیوٹن کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا اور اس سے اس کا ذہن اچانک اس سوال کی طرف متوجہ ہوگیا کہ اشیاء آخر زمین پر ہی کیوں گرا کرتی ہیں، یہاں تک غور کرتے کرتے وہ قانون جذب و کشش کے استنباط تک پہنچ گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے نیوٹن نے کبھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہیں دیکھی تھی؟ ظاہر ہے کہ ضرور دیکھی ہوگی اور بارہا دیکھی ہوگی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسی خاص تاریخ کو سیب گرنے کے مشاہدے سے نیوٹن کے ذہن میں وہ حرکت پیدا ہوئی جو اس سے پہلے روز مرہ کے ایسے سینکڑوں مشاہدات سے نہ ہوئی تھی؟ اس کا جواب اگر کچھ ہوسکتا ہے تو یہی کہ غور وفکر کرنے والا ذہن ہمیشہ ایک طرح کے مشاہدات سے ایک ہی طرح متأثر نہیں ہوا کرتا۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، مگر ایک وقت اسی چیز کو دیکھ کر یکایک ذہن میں ایک کھٹک پیدا ہوجاتی ہے جس سے فکر کی قوتیں ایک خاص مضمون کی طرف کام کرنے لگتی ہیں۔ یا پہلے سے کسی سوال کی تحقیق میں ذہن الجھ رہا ہوتا ہے اور یکایک روز مرہ ہی کی مشاہدات میں سے کسی ایک چیز پر نظر پڑتے ہی گتھی کا وہ سرا ہاتھ لگ جاتا ہے جس سے ساری الجھنیں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بھی پیش آیا۔ راتیں روز آتی تھیں اور گزر جاتی تھیں۔ سورج اور چاند اور تارے سب ہی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور ابھرتے رہتے تھے۔ لیکن وہ ایک خاص دن تھا جب ایک تارے کے مشاہدے نے ان کے ذہن کو اس راہ پر ڈال دیا جس سے بالآخر وہ توحید الٰہ کی مرکزی حقیقت تک پہنچ کر رہے۔ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذہن پہلے سے اس سوال پر غور کر رہا ہو کہ جن عقائد پر ساری قوم کا نظام زندگی چل رہا ہے ان میں کس حد تک صداقت ہے، اور پھر ایک تارا یکایک سامنے آکر کشود کار کے لیے کلید بن گیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تارے کے مشاہدے ہی سے ذہنی حرکت کی ابتدا ہوئی ہو۔


اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب حضرت ابراہیم ہی نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے، اور جب چاند اور سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا، تو کیا اس وقت عارضی طور پر ہی سہی، وہ شرک میں مبتلا نہ ہوگئے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالب حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور و فکر کے لیے ٹھیرتا ہے، اصل اعتبار ان منزلوں کا نہیں ہوتا بلکہ اصل اعتبار اس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کر رہا ہے اور اس آخری مقام کا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتا ہے۔ بیچ کی منزلیں ہر جویائے حق کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان پر ٹھیرنا بسلسلہ طلب و جستجو ہوتا ہے نہ کہ بصورت فیصلہ۔ اصلاً ٹھیراؤ سوالی و استفہامی ہوا کرتا ہے نہ کہ حکمی۔ طالب جب ان میں سے کسی منزل پر رک کر کہتا ہے کہ ” ایسا ہے“ تو دراصل یہ اس کی آخری رائے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ”ایسا ہے“؟ اور تحقیق سے اس کا جواب نفی میں پاکر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھیرتا رہا وہاں وہ عارضی طور پر کفر یا شرک میں مبتلا رہا۔"

---------------------------------
(سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :53، تفہم القرآن ، جلد اول ص 556-557)

لھو الحدیث - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ لقمان : ۷﴾

ترجمہ : اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے 5 جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر  بھٹکا دے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :

 اصل لفظ ہیں’’ لَھُوَ الْحَدِیث‘‘ یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے ۔لعنت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے ۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بُری اور فضول اور بے ہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے ،مثلاً گپ ،خرافات ، ہنسی مذاق ،داستانیں، افسانے اور ناول ، گانا بجانا ، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔ 

تخلیق کا راز

اس راز کو اللہ تعالی نے  یوں بیان فرمایا ، ارشاد باری تعالی ہے : 

اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ  ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ  ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ  (النمل : 64 ) 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ 

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہوکر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (law of Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Labo ratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔

خورد ونوش کے قرآنی احکام

 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ،  اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ۔ 

 ( سورۃ البقرۃ: 172، 173) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔ ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

-----------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے :

" اگر تم ایمان لا کر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر وہ ساری چھوت چھات، اور زمانہء جاہلیّت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربّیوں اور پادریوں نے، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھاؤ پیو۔ اسی مضمون کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مَنْ صَلّٰی صَلوٰ تَنَا و َ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الخ یعنی جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا وہ مسلمان ہے۔