احکام قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
احکام قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جاوید احمد غامدی صاحب تقسیم وراثت کے قانون میں روایتی فقہاء سے کیوں اختلاف کرتے ہیں ؟

سورہ نساء کی وراثت سے متعلق آیات (آیت 11، 12، اور 176) کو اسلامی قانونِ وراثت کا ستون مانا جاتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے ان آیات کے لفظی ڈھانچے، عربی زبان کے اسلوب (Linguistic Nuances) اور جملوں کے باہمی نظم کا ایک گہرا اصولی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے، جس کی بنیاد پر انہوں نے روایتی تفہیم سے ہٹ کر اپنے نتائج اخذ کیے ہیں۔

ذیل میں ان آیات کی روشنی میں جاوید احمد غامدی صاحب کے نتائج فکر کو پیش کیا گیا  ہے:

1. آیت 11 کا تجزیہ: اولاد اور والدین کے حصص

یہ آیت وراثت کے بنیادی اور سب سے اہم دائرے یعنی اولاد اور والدین سے بحث کرتی ہے۔


"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ..."
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے: ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے..."

· "اولاد" کا لفظی دائرہ: غامدی صاحب کے نزدیک لفظ "اولاد" (Children) اپنے اندر حقیقت اور مجاز دونوں اعتبار سے نیچے تک کی نسل (پوتے، پوتیوں) کو شامل رکھتا ہے۔ اسی اصول کے تحت وہ یتیم پوتے کو چچا کی موجودگی میں محروم کرنے کے بجائے دادا کا براہِ راست وارث مانتے ہیں۔

 تناسب کا اصول (Principle of Proportion): قرآن نے یہاں لڑکے اور لڑکی کے حصے کی مستقل مقدار (مثلاً نصف یا تہائی) مقرر کرنے کے بجائے ان کے درمیان 2:1 کا تناسب بیان کیا ہے۔ یعنی حصہ جتنا بھی بنے گا، مرد کا عورت سے دوگنا ہوگا۔

"فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ..."
"پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں، دو سے زیادہ، تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے، اور اگر ایک ہی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔"

عنوان : قرآن حکیم اور ہماری زندگی

آج ہمارا ملک اور معاشرہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ہم دشمن کی سازشوں، ستم ظریفیوں اور بیرونی دباؤ کا شکار ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنے کردار کی پستی، اخلاقی انحطاط، اور اجتماعی بداعمالیوں سے اس وطن کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ گویا ہم بیرونی دشمن سے زیادہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن ، یعنی نفس، حرص، جھوٹ، ظلم اور ناانصافی کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔

یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کیا ہماری بربادی کا سبب صرف بیرونی سازشیں ہیں؟ نہیں! اصل زوال تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب قومیں اپنے اخلاق، عدل، دیانت، حیاء اور امانت کو کھو بیٹھتی ہیں۔ اور یہی کچھ آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔

ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں، وہاں جھوٹ، فریب، حسد، حرص، بےحیائی، رشوت، ظلم، ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی، غیبت، بدگمانی، اور نفس پرستی جیسی بیماریاں جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ یہ برائیاں صرف انفرادی اخلاق کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی زوال کی علامت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ اور کس روشنی سے اپنی راہوں کو منور کریں گے؟

قرآن مجید، جو سراسر ہدایت ہے، ہمیں ان تمام برائیوں سے بچنے اور ایک صالح معاشرہ قائم کرنے کے لیے واضح رہنمائی دیتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39 کو اگر ہم غور سے پڑھیں، تو ہمیں ایک مکمل ضابطۂ حیات ملتا ہے — ایک ایسا اخلاقی آئین جو کسی بھی معاشرے کو امن، عدل اور خیر کی بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے۔

آیات کی تلاوت کریں

میراث کے بارے میں قرآن مجید کے اصولی احکام (سورۃ النساء آیات ۱۱۔۱۲ کی روشنی میں )

1- اگر میت کے ذمہ قرض ہو تو سب سے پہلے میت کے ترکہ میں سے وہ ادا کیا جائے گا، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور اس کے بعد وراثت تقسیم ہوگی۔ اگر میت اپنی وصیت میں کوئی ناجائز کرے، یا اپنے اختیار کو غلط طور پر اس طرح استعمال کرے جس سے وارثین میں سے کسی کے جائز حقوق متاثر ہوتے ہوں تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ خاندان کے لوگ باہمی رضامندی سے اس کی اصلاح کرلیں یا قاضی شرعی سے مداخلت کی درخواست کی جائے اور وہ وصیت کو درست کردے۔

2- میراث کے معاملہ میں یہ اولین اصولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔

3- اگر میت کا کوئی بیٹا نہ ہو بلکہ صرف بیٹیاں ہوں ، خواہ دو بیٹیاں ہوں یا دو سے زیادہ ، تو میت کے کل ترکہ کے دو تہائی 2/3حصہ ان لڑکیوں میں تقسیم ہوگا، باقی ایک تہائی 1/3 حصہ دوسرے وارثوں میں۔اگر میت کی صرف ایک بیٹی ہو تو اس کو کل میراث کا آدھا حصہ ملے گا۔ لیکن اگر میت کا صرف ایک بیٹا ہو تو اس پر اجماع ہے کہ دوسرے وارثوں کی غیر موجودگی میں وہ کل مال کا وارث ہوگا، اور دوسرے وارث موجود ہوں تو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی سب مال اسے ملے گا۔

4- میت کے والدین میں سے ہر ایک کو کل میراث کا چھٹا 1/6 حصہ ملے گا اگر میت کی کوئی اولاد ہو ۔ خواہ میت کی وارث صرف بیٹیاں ہوں، یا صرف بیٹے ہوں، یا بیٹے اور بیٹیاں ہوں، یا ایک بیٹا ہو، یا ایک بیٹی۔اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو ایک تہائی 1/3 حصہ ملے گا اور باقی 2/3 حصہ والد کو ملے گا ۔ ہاں اگر اس کے کئی بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا 1/6 حصہ ملے گا۔ ( بھائی بہن ہونے کی صورت میں ماں کا حصہ 1/3 کے بجائے 1/6 کردیا گیا ہے۔ اس طرح ماں کے حصہ میں سے جو حصہ لیا گیا ہے وہ باپ کو ملے گا۔ کیونکہ اس صورت میں باپ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ میت کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کو حصہ نہیں پہنچتا۔)

5- اگر بیوی فوت ہوجائے خواہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ ، اگر اس کی یا ان کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو آدھا حصہ ملے گا ۔ اگر بیوی کی کوئی اولاد ہو تو شوہر کو میراث کا چوتھا 1/4 حصہ ملے گا ۔ اور اسی طرح اگر شوہر فوت ہوجائے تو چوتھا 1/4 حصہ بیوی کو ملے گا اگر شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو۔ اگر اولاد ہو تو بیوی کو آٹھواں 1/8حصہ ملے گا ۔ اگر بیوی ایک سے زیادہ ہوں تو یہ 1/4 یا 1/8 حصہ سب بیویوں میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوگا۔

6- اگر میت خواہ مرد ہو یا عورت ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں اور نہ کوئی اولاد (جس کو کلالہ کہتے ہیں) اگر اس کا ماں شریک بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا 1/6حصہ ملے گا۔ باقی 5/6 یا 2/3جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی وارث موجود ہو تو اس کو حصہ ملے گا۔ اگر سگے بھائی بہن، یا وہ سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے ہوں، تو جیسے پہلے ذکر ہوا ہے کہ اس طرح کے بھائی کو بہن کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا ۔

علوم القرآن اور علم القرات پر ڈاکٹر محمد سالم محيسن کی اہم عربی کتب



اولا : تفسير فتح الرحمن الرحيم فى تفسير القرآن الكريم وهو اول تفسير يشتمل على جميع القراءات القرآنيه المتواتره
التى ثبتت فى العرضة الاخيره مع القاء الضوء على توجيهها ونسبة كل قراءه الى قارئها وهو ستة اجزاء
هذا هو الرابط للجزء الاول والثانى من التفسير
اول تفسير للقرآن يشتمل على جميع القراءات القرآنيه المتواتره
ثانيآ : تفسير اللؤلؤ المنثور للتفسير بالماثور للدكتور محيسن ج 1
هذا هو الرابط للجزء الاول
تفسير اللؤلؤ المنثور للتفسير بالماثور للدكتور محيسن ج 1
ثالثآ : فتح الرحمن فى اسباب نزول القرآن
هذا هو الربط
فتح الرحمن فى اسباب نزول القرآن كتاب تاليف الدكتور محمد سالم محيسن
رابعآ : تاريخ القرآن الكريم
تاريخ القرآن الكريم كتاب للدكتور محمد محيسن
خامسآ : ديوان خطب الجمعه
ديوان خطب الجمعه كتاب للدكتور محيسن
سادسآ : روائع البيان فى اعجاز القرآن

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 6)، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 5) ، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 4) ، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ3)، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 2) ، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن(حصہ 1) ، جاويد احمد غامدى


 

قرآن میں جنگ کے احکام - مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ

قرآن میں جنگ کے احکام 
 فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ ( سورہ محمد ) 

پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کر دیا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔

مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق و سباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آ جانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ ’’جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو‘‘ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈ بھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اس کے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔

حضرت سلیمان ؑ اور تمثال (تصویر یا مجسمہ سازی ) کا فن اور ہمارے مفسرین کی غلط فہمی

ارشاد باری تعالی :   یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾ ( سورہ سبا) 

 اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے 19۔ ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں تصویریں20، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں21۔۔۔۔ اے آلِ داؤد عمل کو شکر کے طریقے پر 22، میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہیں۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے سورہ سبا کی  مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے تمثال یعنی تصویر اور مجسمہ سازی کی شرعی حیثیت کا تفصیل سے جائزہ لیا اور بعض قدیم اور جدید مغرب زدہ مفسرین پرغلط فہمی پر سخت تنقید کی ہے وہ لکھتے ہیں:  

" اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تِمثَال کی جمع ہے۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بے جان چیز۔التمشال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلا من خلق اللہ (لسان العرب)"" تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو ‘‘ التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان۔ (تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بے جان ‘‘۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جو ’’ تماثیل ‘‘ بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جب سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔

آیات درود کی تفسیر و تشریح اور اس کی شرعی حیثیت فقہاء اسلام کی نظر میں - از سید ابوالاعلی مودودیؒ

آیات : ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا "  ﴿۵۸﴾ (سورہ الاحزاب ) 

ترجمہ : 

 اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں (حاشیہ نمبر106،)  اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو(حاشیہ نمبر107) 
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان  اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ 

تفسیر : 

 حاشیہ نمبر :106 میں سید ابوالاعلی مودودی  لکھتے ہیں :

" اللہ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ پر بے حد مہربان ہے ، آپ کی تعریف فرماتا ہے ، آپؐ کے کام میں برکت دیتا ہے ، آپؐ کا نام بلند کرتا ہے اور آپ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ 

ملائکہ کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ سے غایت درجے کی محبت رکھتے ہیں اور آپؐ حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپؐ کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے ، آپؐ کے دین کو سر بلند کرے ، آپؐ کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپؐ کو مقام محمُود پر پہنچائے۔

 سیاق و سباق پر نگاہ ڈالنے سے صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ بات کس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب دشمنانِ اسلام اس دینِ مبین کے فروغ پر اپنے دِل کی جلن نکالنے کے لیے حضورؐ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اُچھال کر وہ آپؐ کے اُس اخلاقی اثر کو ختم کر دیں گے جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ان حالات میں یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے دُنیا کو یہ بتایا کہ کفّار و مشرکین اور منافقین میرے نبی کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کی جتنی چاہیں کوشش کر دیکھیں ، آخر کار وہ منہ کی کھائیں گے ، اس لیے کہ میں اُس پر مہربان ہوں اور ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے وہ سب اُس کے حامی اور ثنا خواں ہیں۔ وہ اس کی مذمت کر کے کیا پا سکتے ہیں جبکہ میں اس کا نام بلند کر رہا ہوں اور میرے فرشتے اس کی تعریفوں کے چرچے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روز دعا کر رہے ہیں کہ ربّ العالمین، محمدؐ کا مرتبہ اور زیادہ اونچا کر اور اس کے دین کو اور زیادہ فروغ دے"۔

لھو الحدیث - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ لقمان : ۷﴾

ترجمہ : اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے 5 جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر  بھٹکا دے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :

 اصل لفظ ہیں’’ لَھُوَ الْحَدِیث‘‘ یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے ۔لعنت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے ۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بُری اور فضول اور بے ہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے ،مثلاً گپ ،خرافات ، ہنسی مذاق ،داستانیں، افسانے اور ناول ، گانا بجانا ، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔ 

خورد ونوش کے قرآنی احکام

 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ،  اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ۔ 

 ( سورۃ البقرۃ: 172، 173) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔ ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

-----------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے :

" اگر تم ایمان لا کر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر وہ ساری چھوت چھات، اور زمانہء جاہلیّت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربّیوں اور پادریوں نے، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھاؤ پیو۔ اسی مضمون کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مَنْ صَلّٰی صَلوٰ تَنَا و َ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الخ یعنی جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا وہ مسلمان ہے۔

زنا کی سزا جلد اور رجم کے بارے میں قرآن کا حکم ۔ امین احسن اصلاحی ؒ

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ  ۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ (سورہ النور : 2 ) 

ترجمہ : 

زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور خدا کے قانون کی تنقید کے معاملے میں ان کے ساتھ کوئی نرمی تمہیں دامن گیر نہ ہونے پائے اگر تم اللہ اور روز آخر پم سچا ایمان رکھتے ہو اور چاہئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے ۔
--------------------
اس کی تفسیر میں امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں : 

معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل زنا کو ہے اس لئے کہ معاشرہ کے استحکام کا انحصار رحمی رشتہ کی پاکیزگی اور اس کے ہر قسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے اور زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کر کے معاشرے کو  انتشار کی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کے بجائے ڈھوروں ڈنگروں کا ایک۔  گلہ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو ایک مستوجب سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی بالکل پہلے ہی مرحلہ سے اس انتشار کو روکنے کے لئے احکام دیئے۔ چنانچہ نساء کی آیات 16-15 میں اس سلسلہ کے ابتدائی احکام دیئے گئے جب کہ حالات حدود و تعزیرات کے نفاذ کے لئے ابھی سازگار نہیں ہوئے تھے اور ساتھ ہی یہ اشارہ فرما دیا گیا کہ اس بات میں قطعی اور آخری احکام بعد میں نازل ہوں گے۔ چنانچہ اس آیت سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔ زانیہ اور زانی دونوں کے لئے یہ حکم ہوا کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں ۔