‏توحید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏توحید لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اللہ تعالی کی حاکمیت (Sovereign Absolute)

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حاکمیت، بادشاہت، اقتدار، تدبیرِ کائنات، اور فیصلہ کن اختیار کو مختلف اسالیب میں بیان فرمایا ہے۔ یہ آیات مل کر ایک جامع تصورِ حاکمِ مطلق (Sovereign Absolute) پیش کرتی ہیں۔ ذیل میں ان نمایاں تعبیرات اور ان جیسی دیگر آیات کا موضوعاتی جائزہ پیش ہے:

 1۔ اللہ تعالیٰ بطورِ احکم الحاکمین (سب سے بڑا حاکم) : 

 ارشاد باری تعالی ہے "  أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ"  (التین: 8) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کا فیصلہ حتمی، عادلانہ اور حکمت پر مبنی ہے۔ انسانی عدالتیں محدود ہیں، جبکہ الٰہی عدالت مطلق ہے۔
 اسی مفہوم کی دیگر آیات: إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (یوسف: 40) وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (الاعراف: 87) ان میں یہ واضح ہے کہ قانون سازی اور فیصلہ کن اقتدار کا اصل سرچشمہ اللہ ہے۔

 2۔ اللہ تعالیٰ بطورِ مالک الملک (اقتدار کا حقیقی مالک)

فرمایا : " قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ "  (آل عمران: 26) اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی اقتدار، حکومت، سلطنت — سب اللہ کی عطا ہے۔ عروج و زوال تاریخ کا نہیں، الٰہی مشیت کا نتیجہ ہے۔

متعلقہ آیات جیسے  " لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ"  (الحدید: 2)  تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ (الملک: 1)  دنیا کی طاقتیں عارضی مظاہر ہیں، اصل بادشاہی اللہ کی ہے۔

3۔ اللہ تعالیٰ بطورِ مدبر الامر (نظامِ کائنات کا منتظم) 

فرمایا : " يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ"  (السجدہ: 5) یعنی کائنات خودکار نہیں بلکہ الٰہی نظم و تدبیر کے تحت چل رہی ہے۔
 تقدیر، تاریخ، فطرت — سب ایک حکیمانہ منصوبہ کا حصہ ہیں۔
اسی طرح فرمایا :  " اللَّهُ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ (یونس: 3)  وَكُلَّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ (الرعد: 8) صاف ظاہر ہے کہ  کائناتی نظم الٰہی حکمرانی کا مظہر ہے۔

سورۃ النحل کا ایک تجزیاتی مطالعہ : نعمتوں کے ہجوم میں گم ہوتی ہوئی حقیقت

قرآنِ مجید کی بعض سورتیں انسان سے صرف مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ اسے آئینہ دکھاتی ہیں۔ سورۃ النحل بھی ایسی ہی سورت ہے۔ یہ سورت ایک ایسے معاشرے میں نازل ہوئی جہاں نعمتیں موجود تھیں مگر شعور مفقود تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کا جدید انسان بھی اسی تضاد کا شکار نظر آتا ہے—وسائل کی فراوانی، مگر مقصد سے دوری۔

سورۃ النحل سب سے پہلے انسان کو اس کے گرد و پیش کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جانور، دودھ، شہد، بارش، فصلیں اور لباس—یہ سب محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ توحید کی خاموش دلیلیں ہیں۔ قرآن سوال اٹھاتا ہے: کیا یہ سب کچھ خودبخود ہو گیا، یا اس کے پیچھے ایک حکیم ارادہ کارفرما ہے؟ (سورۃ النحل 5–11، 68–69)

لیکن انسان اکثر دلیل کو نظرانداز کر دیتا ہے، اس لیے قرآن تمثیل کا سہارا لیتا ہے۔ ایک بے اختیار غلام اور ایک صاحبِ اختیار انسان کی مثال دے کر بتایا جاتا ہے کہ جو خود محتاج ہو وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک گونگے، ناتواں فرد اور ایک صاحبِ عدل انسان کا تقابل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ حق اور باطل، روشنی اور اندھیرا کبھی برابر نہیں ہو سکتے (سورۃ النحل 75–76)۔

پھر قرآن فرد سے آگے بڑھ کر قوموں سے بات کرتا ہے۔ ایک خوشحال بستی کا ذکر ہے جو امن، رزق اور آسودگی میں تھی، مگر ناشکری نے اسے خوف اور بھوک میں مبتلا کر دیا۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک سماجی قانون ہے: جب نعمت شکر سے خالی ہو جائے تو زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے (سورۃ النحل 112)۔

اسی تناظر میں قرآن ایک ایسی حقیقت بیان کرتا ہے جسے کوئی فلسفہ رد نہیں کر سکا:
جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ فنا ہو جاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہتا ہے۔ دولت، طاقت، منصب اور شہرت—سب عارضی ہیں، اصل بقا اقدار کی ہے (سورۃ النحل 96)۔

"لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ قرآن مجید کے مختلف سیاق وسباق میں

 "لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ ہے، جو توحید (اللہ کی وحدانیت) اور رسالت (محمد ﷺ کی رسالت) پر ایمان کا اعلان ہے۔ اس کلمہ کے دو بڑے اجزاء ہیں:

  1. لا إله إلا الله – اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

  2. محمد رسول الله – محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

قرآن مجید میں یہ دونوں اجزاء مختلف سیاق و سباق میں بہت مرتبہ آئے ہیں۔ ذیل میں ان سے متعلقہ آیات کی ایک اشاریہ (index) یا فہرست پیش کی جا رہی ہے، تاکہ ان دونوں حصوں کی تفہیم قرآن کی روشنی میں کی جا سکے:

حصہ اول: لا إله إلا الله (توحید - اللہ کی وحدانیت)

1. سورہ البقرہ (2:255) – آیت الکرسی

اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ...
اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے۔

2. سورہ آل عمران (3:18)

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ...
اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

3. سورہ طہ (20:14)

إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي...
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔

4. سورہ الانبیاء (21:25)

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
ہر رسول کو یہی وحی کی گئی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔

5. سورہ الصافات (37:35)

إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں" تو وہ تکبر کرتے۔

حصہ دوم: محمد رسول الله (رسالتِ محمد ﷺ)

1. سورہ الفتح (48:29)

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ...
محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں...

2. سورہ محمد (47:2)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ...
اور جنہوں نے ایمان لایا اور نیک عمل کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کیا گیا...

3. سورہ آل عمران (3:144)

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ...
محمد تو ایک رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں۔

4. سورہ احزاب (33:40)

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ...
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

دین فطرت ۔ مفتی ابو صالح محمد قاسم قادری عطاری

ارشاد باری تعالی ہے : 

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ-فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُۗۙ-وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سورہ روم 30)

تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔ (یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا ۔ الله کے بنائے ہوئے میں تبدیلی نہ کرنا۔ یہی سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان مفتی ابو صالح محمد قاسم قادری عطاری

[ فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا: تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ اللہ کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ جب معاملہ واضح ہو گیا، اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت (روزِ روشن کی طرح) عیاں ہو چکی اور بہت سے مشرک اپنے ضدوعداوت کی وجہ سے ہدایت حاصل نہ کریں گے تو آپ ان مشرکوں کی طرف کوئی اِلتفات نہ فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کے دین پر خلوص،اِستقامت اور اِستقلال کے ساتھ قائم رہیں۔( تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۹ / ۹۸، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳ / ۴۶۳، ملتقطاً)

[فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا: اللہ کی پیدا کی ہوئی فطرت جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا۔]

اس آیت میں فطرت سے مراد دین ِاسلام ہے اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ایمان پر پیدا کیا،جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔( بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات ہل یصلی علیہ۔۔۔ الخ، ۱ / ۴۵۷، الحدیث: ۱۳۵۸، مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۲۸، الحدیث: ۲۲(۲۶۵۸)

یعنی اسی عہد پر پیدا کیا جاتاہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے ’’اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ‘‘ فرما کر لیا ہے،تو دنیامیں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے اگرچہ بعد میں وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے لگ جائے ۔

أَإِلٰهٌ مَعَ اللهِ ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے! (!IS THERE ANY GOD BESIDE ALLAH)

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدابھی ہے ؟ 


قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ ﴿اِن سے پُوچھو﴾ اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ 

اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ 

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟  ﴿اِن کاموں میں شریک﴾ ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ہے؟ 


 بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾   ﴿نہیں﴾، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔



 اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ 



اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں ﴿پہاڑوں کی﴾ میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں(میٹھا اور کھارا) کے درمیان پردے حائل کر دیے؟



ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟   کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے؟



بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾   نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔


اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ 

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور ﴿کون ہے جو﴾ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿یہ کام کرنے والا﴾ ہے؟

قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾  تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ 


 اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟

 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ﴿یہ کام کرتا﴾ ہے؟

تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾  بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟  اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ 

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟

قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾  کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔

 قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾ 

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا ۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾


بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 

----------------------------------------------------------------------
(سورۃ النمل: رکوع ۵، آیات 59-66)   ترجمہ: سید ابوالاعلی مودودی ؒ

تخلیق کا راز

اس راز کو اللہ تعالی نے  یوں بیان فرمایا ، ارشاد باری تعالی ہے : 

اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ  ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ  ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ  (النمل : 64 ) 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ 

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہوکر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (law of Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Labo ratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔

قرآن کے مطابق کائنات کی وسعت

" کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایا ہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتا ہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جا سکے۔

وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد


وجود الہ اور  وحدت الہ کے شواہد

مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودویؒ



ارشاباری تعالی :- 


"اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ  ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ  ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ "  (سورۃ النمل : 64 )

یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہوکر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (law of Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Labo ratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔
اس کے بعد آگے دیکھیے۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بےشمار متنوع صورتوں میں پائی جاتی ہے، اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریبا 10 لاکھ اور اور نباتات کی تقریبا دو لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے۔ یہ لاکھوں   انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں، اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے (Design) کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات (Fossils) کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثی مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے، اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے بہم پہنچ جانے کا وقتا فوقتا سنا دیا جاتا ہے۔ تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع حکیم، ایک خالق الباری المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں ۔
یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ۔ اب ذرا عادۃ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل (Mechanism) رکھ دیا ہے جو اس کے بےشمار افراد میں سے بےحد و حساب نسل ٹھیک کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل (Genetics) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے (Cell) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینیر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتما اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے گہیوں ہی پیدا کیا ہے، کسی آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانہ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانہ جو پیدا ہوجاتا، ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہوکر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۃ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بےشمار افراد وجود میں لاتا چلا جارہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالد و تناسل کے اس خورد بینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے، اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بےانتہا لطیف و پر پیچ عملیات (Progresses) کو دیکھے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو اہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک نظام و مدبر اور ایک حی و قیوم کی طلاب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو۔
یہ حقائق ایک دہریے کے انکار خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی، کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدا کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے، اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہوکر یہ کہہ سکتا ہے کہ سارا کارخانہ خلق و اعادۃ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقا شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جارہا ہے۔

(سورة النمل حاشیہ نمبر : 80، تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )



الوہیت اور علم غیب، سید ابوالاعلی مودودیؒ




ارشاد باری تعالی ہے :-

"قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ" 

ان سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔  (سورۃ النمل : 65) 

سید ابوالاعلی مودودی ؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" اوپر تخلیق، تدبیر اور رزاقی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے الہ واحد (یعنی اکیلے خدا اور اکیلے مستحق عبادت) ہونے پر استدلال کی گیا تھا۔ اب خدائی کی ایک اور اہم صفت، یعنی علم کے لحاظ سے بتایا جارہا ہے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ لاشریک ہے، آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے، سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے۔ سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جس سے اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔

غیب کے معنی مخفی، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحا اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو، جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو فردا فردا بعض انسانوں کے علم میں ہیں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں، اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کے علم میں نہ کبھی تھیں نہ آج ہیں نہ آئندہ کبھی آئیں گی، ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں اور دوسری مخلوقات کا ہے کہ بعض چیزیں ان میں سے کسی سے مخفی اور کسی کو معلوم نہیں، اور بےشمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کو بھی معلوم نہیں۔ یہ تمام اقسام کے غیب صرف ایک ذات پر روشن ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں، سب شہادت ہی شہادت ہے۔

اس حقیقت کو بیان کرنے میں سوال کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو اوپر تخلیق و تدبیر کائنات اور رزاقی کے بیان میں اختیار کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صفات کے آثار تو بالکل نمایاں ہیں جنہیں ہر شخص دیکھ رہا ہے، اور ان کے بارے میں کفار و مشرکین تک یہ مانتے تھے اور مانتے ہیں کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں، اس لیے وہاں طرز استدلال یہ تھا کہ جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں ہے تو پھر خدائی میں تم نے دوسروں کو کیسے شریک بنالیا اور عبادت کے مستحق وہ کس بنا پر ہوگئے؟ لیکن علم کی صفت اپنے کوئی محسوس آثار نہیں رکھتی جن کی طرف اشارہ کیا جاسکے۔ یہ معاملہ صرف غور و فکر ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس لیے اس کو سوال کے بجائے دعوے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، اب یہ ہر صاحب عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو؟ یعنی تمام ان احوال اور اشیاء اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی، اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریاد رس اور حاجت روا اور مشکل کشا ہوسکے؟

الوہیت اور علم غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان نے جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اس حقیقت سے بالکل بدیہی طور پر آگاہ ہے کہ قسمتوں کا بنانا اور بگاڑنا، دعاؤں کا سننا، حاجتیں پوری کرنا اور ہر طالب امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اسی ہستی کا کام ہوسکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو، اسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اسے لازما عالم الغیب بھی سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی عقل بلا ریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ حقیقت ہے کہ خالق اور مدبر اور مجیب الدعوات اور رازق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جیسا کہ اوپر کی آیات میں ثابت کیا گیا ہے تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، آخر کون اپنے ہوش و حواس میں یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جن یا نبی یا ولی کو، یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں؟ اور عالم بالا کے بےحدو حساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے؟ اور ان میں سے ہر ایک میں کس کس طرح کی مخلوقات موجود ہیں؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں؟ یہ سب کچھ اللہ کو تو لازما معلوم ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے، اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے، لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اس کار خلاقی و رزاقی سے کہ وہ ان چیزوں کو جانے؟

پھر یہ صفت قابل تجزیہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بندہ مثلا صرف زمین کی حد تک اور زمین میں بھی صرف انسانوں کی حد تک عالم الغیب ہو، یہ اسی طرح قابل تجزیہ نہیں ہے جس طرح خدا کی خلاَّقی و رزَّاقی اور قَیُّومی و پروردگاری قابل تجزیہ نہیں ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوں گے، رحم مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعت حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہوسکتا ہے؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا ؟ کیا وہ اس بےحدو حساب خلقت کا خالق ہے؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جرثومے کو وجود بخشا تھا ؟ کیا اس نے ان کی ماؤں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی؟ کیا اس نے ان کی زندہ ولادت کا انتظام کیا تھا ؟ کیا اس نے ان میں سے ایک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی؟ کیا وہ ان کی موت اور حیات ان کی صحت اور مرض، ان کی خوشحالی اور بدحالی اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا ؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے اس کے بعد؟ اور صرف انسانوں کی حد تک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہوسکتی ہیں؟ یہ کام تو لازما زمین اور آسمانوں کے عالمگیر انتظام کا ایک جز ہے، جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کررہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کی تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔

اسی بنا پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے، اور کسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کردے، لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔

" وعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ "

" اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا" (الانعام، آیت 59)


" اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚوَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔ "

" اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحم میں کیا (پرورش پارہا) ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی"۔ (لقمان، آیت 34)


" يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ "


" وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کرسکتے الا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انہیں علم دے"۔ (البقرہ، آیت 255)


قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر انبیاء علیہم السلام اور خود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اس امر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ان کو غیب کا صرف اتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سورۃ انعام کی آیت 50، الاعراف آیت 187، التوبہ آیت 101، ہود آیت 31، احزاب آیت 63، الاحقاف آیت 9، التحریم آیت 3، اور الجن آیات 26 تا 28، اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں ۔


قرآن کی یہ تمام تصریحات زیر بحث آیت کی تائید و تشریح کرتی ہیں جن کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی" جمیع ماکان وما یکون" کا علم رکھتا ہے، قطعا ایک غٰر اسلامی عقیدہ ہے۔ شیخین (امام بخاری اور مسلم ) ترمذی، نسائی، امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ" من زعم انہ رای النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعلم ما یکون فی غد فقد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول " قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ "


یعنی جس نے یہ دعوی کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانتے ہیں کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے"۔ ابن المنذر حضرت عبداللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا " اے محمد،ﷺ ! قیامت کب آئے گی؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے، کل میں کیا کماؤں گا ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں، مروں گا کہاں؟ ان سوالات کے جواب میں سورۃ لقمان کی وہ آیت حضور نے سنائی جو اوپر نقل کی ہے۔" اِنَّ اللہَ عِندَہُ عِلمَ السِّاعَۃِ"۔ پھر بخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث کی وہ مشہور روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریل ؑ نے انسانی شکل میں آکر حضور سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضور نے جواب دیا" ما المسئول عنھا باعلم من السائل۔" (جس سے پوچھا جارہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا)۔ پھر فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور یہی مذکورہ بالا آیت حضور نے تلاوت فرمائی۔


-----------------------------------
(تفہیم القرآن ، سورة النمل حاشیہ نمبر : 83 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )


قرآن مجید میں اَسمائے حُسنٰی کی تکرار کا راز


قرآن مجید میں اَسمائے حُسنٰی کی تکرار اصل کا راز


اللہ تعالی  نے خود قرآن مجید میں فرمایا ہے :-
وللہِ الاَسمَاۤءُ الحُسنٰی فَادعُوہُ بِھَا  (سورۃ الاعراف : 180) اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ، وہی نام لے کر اس کو پکارو۔
یہ نام گنتی میں ننانوے(99) کی تعداد کو پہونچتے ہیں ، قرآن مجید کے اٹھائیسویں(28) پارہ میں  ایک جگہ ان میں سے چودہ (14) نام اس طرح لئے گئے ہیں کہ پڑھنے والے کو وجد سا آنے لگتا ہے ، اور وہ پڑھتے ہوئے جھوم اٹھتا ہے ، یہاں و ہ آیا ت نقل کی جاتی ہیں :-

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (٢٢)هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (٢٣)هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الأسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (٢٤)

(سورۃ الحشر : 22-24)

وہ اللہ ایسا (پاک ذات ) ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے  والا ، وہی بڑا مہربان (اور ) رحم کرنے  والا ہے ، وہ اللہ  ایسا (پاک) ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (تمام جہاں کا ) بادشاہ ہے ، پاک ذات ہے ، (تمام) عیبوں سے بری ہے ، امن دینے والا ہے ، نگہبان ہے ، زبردست ہے ، بڑا دباؤ والا ہے بڑی عظمت رکھتا ہے ، یہ لوگ جیسے جیسے شرک کر تے ہیں اللہ (کی ذات ) اس سے پاک ہے ، وہی اللہ (ہر چیز کا ) خالق (ہر چیز کا ) مُوجد ( مخلوقات کی طرح طرح کی ) صورتیں بنانے والا ہے ( اس کی اچھی اچھی صفتیں ہیں ، اور اسی سبب سے ) اس کے اچھے ہی اچھے نام ہیں جو (مخلوقات ) آسمان و زمین میں ہے (سب ہی تو ) اس کی تسبیح (وتقدیس ) کر تے ہیں ، و ہ زبر دست (اور ) حکمت والا ہے ۔


یہ نام برائے نام نہیں  ، اللہ تعالی کی ( جو اس کائنات ، زمین و آسمان اور انسان کا پیدا کرنے والا اور اس کارخانۂ قدرت کا تنہا چلانے والا ہے ) صفات ہیں ، ان سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ ان خوبیوں ، قدرتوں ، کمالات اور اوصاف کا مالک ہے ، اس کو اپنی مخلوق سے کیسا تعلق ہے ، وہ ان پر کتنا مہربان ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کتنا قابلِ محبت  ، مستحقِ اطاعت و عبادت اور تعظیم و احترام ہے ، کیا چیز ہے جو اس کے پاس نہیں اور اس کےاحاطۂ قدرت میں داخل نہیں ؟ کائنات میں اس سے زیادہ محبت کرنے والا ، اچھائی کی قدر کرنے والا ، رحم کرنے والا ، انصاف کرنے والا ، چھوٹی بڑی چیز کا جاننے والا ، اور بڑی سی بڑی چیز اور مشکل سے مشکل کام کو نیست سے ہست میں لانےوالا ،  اور ناممکن کو ممکن بنانے والا ، اس کے علاوہ کو ن ہے ؟ پھر کیوں نہ اس سے محبت کی جائے ، اس کی بڑائی کی گیت  گائی جائیں ، اٹھتے بیٹھتے اس کا نام لیا جائے ، ہر مشکل ہر مصیبت میں اس کو پکارا جائے ، اس کی دُہائی دی جائے ، اس کے سہارے جیا جائے ، زندگی بھر اس کا دم بھرا جائے ، اور اس کے منشاپر چلا جائے ، اپنی جان اپنے ماں باپ اور اولاد ، اور پیاری سے پیاری چیز سے زیادہ اس سے محبت  کی جائے ، پھر اس سب کے ہوتے ہوئے اس کے سوا کسی کی بندگی کرنے ، کسی سے دعا و التجاکرنے اور کسی کو کار ساز و مشکل کشا سمجھنے کا کیا جواز ہے ۔
رب اور بندہ کے تعلق کو سمجھنے کے لئے بھی خدا کی صفات (ATTRIBUTES) سے واقفیت ضروری ہے ، اس لئے کہ تعلقات ہمیشہ صفات کے تابع ہوتے ہیں ، صفات ہی سے ان کی نمد ہے ، اگر ہم کو کسی دو ہستیوں یا دو شخصیتوں کے صفات کا علم نہیں ، اور ہم حسن سلوک اور احسان مندی کے اس رشتہ سے واقف نہیں جو ان دونوں کے درمیان قائم ہے ، تو ہم ان تعلقات کی صحیح نوعیت کبھی نہیں سمجھ سکتے ، وہ تمام تعلقا ت جن کو ہم زندگی میں برتتے ہیں ، جن سے قانون کی تشکیل ہوتی ہے اور جو کسی تہذیب و معاشرہ کو وجود میں لاتے ہیں ،  وہ سب درحقیقت ان ہی صفات کے تابع ہیں جن کی کارفرمائی انسانی معاشرہ پر ہم کو نظر آرہی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی صحیفے اور تمام مذہبوں اور شریعتون نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ زور خدا کی صفات پر دیا ہے، اس کے بعد عبادات ، طاعات اور فرائض و معاملات کی تفصیل بیان کی ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالے کے صفات کریمہ ، اسمائے حسنی  ، اس کے افعال و تصرفات ، اس کی قوت و قدرت ، اس کی صنعت  وخلاقی ، اس کے لطف و رحمت ، اس کی محبت و رافت ، اس کے جود وکرم ، اس کے عفو و درگذر ،  اس کے عطا و منع ، اس کے نفع و ضرر ، اس کے علم و معرفت اس کے قرب و معیت ، اس کے احاطۂ  قدرت اور اس کے قبول و نواز ش کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جمال ، و جلال ، کمال و نوال ، اور حسن و احسان کی آخری مثال بندہ کے سامنے آجاتی ہے ۔ 
وللہ المثل الاعلی وھو العزیز الحکیم (سورۃ النمل – 60) اللہ کی شان (سب سے ) اعلی ہے ، اور وہ زبردست حکمت والا ہے ۔
لیس کمشلہ شیئ وھو السمیع البصیر ( سورۃ الشوری -11) کوئی چیز اس کے مثل نہیں اور وہی ہر بات کا سننے والاہے (ہر چیز ) دیکھنے والاہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی کے صفات و افعال اور اس کے انعامات کا اتنی کثرت سے ذکر اور اعادہ و تکرار اور اس قدر شرح و بسط کے ساتھ بیان کا اصل راز یہی ہے ، اس لئے کہ صفات ہی محبت و شوق کا سر چشمہ ہیں یہی اثبات ہے (ASSERTION) (یعنی اللہ تعالی کی صفات کریمہ کا بیان اور اس کے دلائل و شواہد کا ذکر )  جس سے انسان کے ذوق و شوق کو غذا ملتی ہے ، اور محبت جوش مانے لگتی ہے ، اگر اللہ تعالی کی یہ صفات عالیہ اور اسمائے حسنی ہمارے سامنے نہ ہوں ، جن سے قرآن و حدیث بھرے پڑے ہیں  اور جن پر عشاق اور محبین ہمیشہ سر دھنتے رہے ، عارفین ان کے ترانے گاتے رہے ، ذاکرین ان کی تسبیح میں مشغول رہے ، اور ان کاکلمہ پڑھتے رہے ، تو ان کا دین ایک چوبی اور آہنی نظام کی طرح ہوجاتا،  جس کی  دلوں میں کوئی جگہ نہ ہوتی ، یہ نہ ان میں کوئی جذبہ ار گرم جوشی پیدا کرسکتا ، نہ ان کے دلوں کو گرم اور نہ آنکھوں کو نم کر نے کی صلاحیت رکھتا ، نہ اس سے دعا میں انابت و رقت کی کیفیت ہوتی نہ دل میں سر فروشی کا جوش ، نہ سر میں  اس کا سود ا ، اس کے بغیر خدا اور بندہ کا تعلق ایک مردہ اور محدود تعلق ہے ، اس میں نہ کوئی زندگی ہے ، نہ روح ، نہ لچک نہ وسعت ، زندگی ایک ایسی خشک ، سخت اور بے جان چیز ہے ، جو لذت آرزو ، متاع شوق ، جنون و شوریدگی کی دولت سے باکل تہی دامن اور محروم ہے ۔
اگر انسانیت سے یہ دولت چھین لی جائے ، تو زندگی اور موت،  اور انسان و جمادات میں آخر کیا فرق  باقی رہ جائے گا ؟

(ماخوز  از" اسمائے حسنی"  تالیف : مفکر اسلام سید ابوالحسن علی  ندوی ؒ  ، دائرہ حضرت شاہ علم اللہ ؒ رائے بریلی ، 16
 شوال المکرّم 1410ھ ،  12 مئی 1990ء)


توحید کی دعوت، انبیاؑ کا مشن، مجتبیٰ فاروق

توحید کی دعوت، انبیاؑ کا مشن

مجتبیٰ فاروق




اللہ تعالیٰ نے بندوںتک اپنی وحدانیت اور اپنی بندگی کی طرف دعوت دینے کے لیے  انبیا کرامؑ کو مبعوث فرمایا، جن کی بعثت ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے۔ جب بھی دنیا میں نظام حق و عدل درہم برہم ہوجاتا اور زمین فساد کا گہوارہ بن جاتی اور کفر و شرک اور جہالت عروج پر پہنچ جاتے،   تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آجاتی اور اپنے خاص،مقرب اور منتخب بندوں کو دنیاے انسانیت کی طرف مبعوث فرماتا، تاکہ نوع انسانیت کو طاغوت کی بندگی اور کفرو شرک سے نکال کے اللہ کی وحدانیت اور ا س کی بندگی کی طرف دعوت دے۔ یہ وہ بنیادی کا م ہے جسے حضرت آدم ؑسے نبی آخرالزماں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کرامؑ نے اپنا مشن بنایا۔ ہرپیغمبرؑ نے اللہ کی بندگی، اصلاح عقیدہ اور تمام عبادتوںکو اللہ کے لیے خالص کرنے اور شرک سے اجتناب کرنے کو اپنی دعوت کا مرکز و محور قراردیا۔
اسی لیے قرآن نے بت پرستی اور مشرکانہ رسوم کو اقوام کے زوال و ہلاکت کا سب سے بڑا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس نے متعدد مقامات پر بتایا ہے کہ جن قوموں پر عذاب نازل ہوا ان میں پہلے نبی بھیجے گئے جنھوںنے لوگوںکو توحید کی دعوت دی لیکن کفارو مشرکین نے ان نبیوں کا مذاق اُڑایا، ان کی تکذیب کی اور اپنی بت پرستی پر بدستور قائم رہے۔

٭ حضرت نوحؑ اور ان کی قوم
حضرت نوح ـؑاور ان کی قوم کا قرآن میں ۴۳ مقامات پر ذکر آیا ہے۔ حضرت نوح ـؑ کی دعوت و تبلیغ اس سر زمین سے وابستہ تھی جو دجلہ اور فرات کے درمیان واقع ہے اور یہ دونوں دریا آرمینیا کے پہاڑوں سے نکلتے ہیں اور جدا جدا بہہ کر عراق کے حصے زیر می میں آکر ملتے اور خلیج فارس میں جا گرتے ہیں ۔ وہیں اراراطہ کا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی ایک چوٹی جودی پر کشتی نوح ـؑ اُترنے کے بارے میں روایات ہیں۔ ۱حضرت نوح ـؑ ایک اُولو العزم پیغمبر تھے۔ انھوں نے اپنی قوم میں ۹۵۰سال تک دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا ۔ ان کی دعوت میں توحید کو بنیادی ترجیح حاصل تھی ۔ حضرت نوح ـؑ کی قوم کفرو شرک کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ اس فساد سے دور رہنے کے لیے حضرت نوح ؑاپنی قوم کو دن رات، اُٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے سمجھاتے رہے ۔حافظ ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں:
بَعَثَہُ اللہُ تَعَالٰی لَمَّا عُبَدَتِ الْاَصْنَامُ وَالطَّوَاغِیْتُ وَشَرَعَ النَّاسُ فِی الضَّلَالَۃِ وَالْکُفْرِ فَبَعَثَہُ اللہُ رَحْمَۃً لِلْعِبَادِ فَکَانَ اَوَّلُ رَسُوْلٍ بُعِثَ اِلٰی اَہْلِ الْاَرْضِ ۲
اللہ تعالیٰ نے انھیں اس لیے مبعوث فرمایا کیونکہ لوگ بت پرستی اور طاغوت کی پرستش کرنے لگے اور لوگوں نے کفرو ضلالت کو ہی اپنا دین بنا لیا اور اللہ تعالیٰ نے نوح ـؑ کو لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ اس لحاظ سے وہ پہلے نبی ہیں۔ حضرت نوح ـؑ کی دعوت کا مر کز و محور توحید تھا ۔انھوں نے اپنی قوم کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے ساتھ شریک نہ ٹھیرانے کی طرف دعوت دی۔ یہ ان کی دعوت کا سب سے بنیادی نکتہ تھا ۔ قرآن مجید میں اس تعلق سے ارشاد ہے :
لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍO (الاعراف۷:۵۹) ہم نے نوح ـؑ کو کنعان کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے ان سے فرمایا: اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں۔ مجھ کو تمھارے لیے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
ایک اور موقعے پر حضرت نوح ـؑنے اپنی قوم کو دعوتِ توحید سے انکار کر نے اور اللہ کی بندگی نہ کرنے پر دردناک عذاب کی وعید سنائی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖٓ  ز اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ  O اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍO (ھود۱۱: ۲۵-۲۶) ، ہم نے نوح ـؑ کو  اس کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا کہ میں تمھیں صاف صاف ہوشیار کر دینے والا ہوں کہ تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ مجھے تو تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے۔
اور ایک جگہ اس کی تفصیل یوں ہے :
اِنَّآ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖٓ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ O قَالَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ O  اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ O (نوح۷۱: ۱-۳) ہم نے نوح ـؑ کو ان کی قوم طرف مبعوث فرمایا کہ اپنی قوم کو ڈرا دو کہ اس سے پہلے کہ ان کے پاس دردناک عذاب آجائے۔ نوح ـؑ نے کہا: اے میری قوم میں تمھیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت کرو۔ اسی سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
    یعنی تمام معبودانِ باطلہ کی راہ سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی بندگی اختیار کرو اور اس کے ساتھ ساتھ میری اطاعت کرو۔ اسی میں تمھاری نجات اور خیر خواہی پنہاں ہے۔

٭  حضرت ہود ؑاور قوم عاد
عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے۔ یہ حضرموت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے شرق میں عمان ہے اور شمال میں ربع الخیال۔ آج یہاں ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ نہیں ہے اور بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ ان کی آبادی عرب کے سب سے بہترین حصہ حضرموت اور یمن میں خلیج فارس کے سوا حل سے حدود عراق تک وسیع تھی۔۳ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہر قسم کی خوش حالی اور متنوع نعمتوں سے نوازا تھا ۔ مزید یہ کہ زمین کو زراعت کے قابل بنایا، چٹانوں سے محلات اور گھر تعمیر کرنے کا ہنر عطا کیا اور جسمانی طاقت سے بھی سرفراز فرمایا تھا لیکن اس کے باوجود یہ قوم بت پرستی میں غرق ہوچکی تھی۔ اس قوم نے ڈھٹائی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولؑ سے بغاوت کردی۔
 حضرت ہودؑ کی دعوت ،دعوت توحید ہی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو اللہ کی بندگی اختیار کرنے اور شرک سے اجتناب برتنے کے لیے ہر ممکن طریقے سے منوانے کی کوشش کی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلَا تَتَّقُوْنَO (اعراف۷:۶۵)اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر کہا: تم غلط رویے سے پرہیز نہ کروگے ؟
ایک اور موقعے پر حضرت ہودؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ سے رُوگردانی کرکے  اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیراکر اس پر کیوں جھوٹ باندھ رہے ہو۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ O (ھود۱۱:۵۰) اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔  تم تو صریح بہتان باندھ رہے ہو۔
قومِ عاد کی سرکشی اور رُوگردانی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ انھوں نے حضرت ہودؑ اور ان کی دعوت کا کھلے عام تمسخر اڑانا شروع کیا۔ چنانچہ وہ انتہائی ڈھٹائی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت ہودؑ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ :
مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِکِیْٓ اٰلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ وَ مَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَO (ھود۱۱:۵۳) اے ہودؑ! تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر کیوں نہیں آیا ہے اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
یہ جواب سن کر حضرت ہود ؑنے بے حد دکھ اور ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
اِنِّیْٓ اُشْھِدُ اللّٰہَ وَ اشْھَدُوْٓا اَنِّیْ بَرِیْٓئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ O (ھود۱۱:۵۴) اور تم گواہ رہو یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے اُلُوہیت میں شریک ٹھیرارکھا ہے اس سے میں بے زار ہوں۔

٭حضرت صالح ؑاور قومِ ثمود
 قومِ ثمود اپنے زمانے کی ایک طاقت ور قوم (super power) تھی۔ اس کا رہایشی علاقہ حجازاور شام کے درمیان حجر کا علاقہ ہے، جسے ’مدین صالح‘ بھی کہا جاتاہے۔ یہ علاقہ خلیج عقبہ کے مشرق میں واقع شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔۴ قوم ثمود ایک خوش حال اور طاقت ور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو زمین کے ایک بڑے علاقے کی قیادت و سیادت عطا کی تھی اور سرسبز و شاداب باغات اور چشموں سے بھی خوب نوازا تھا، لیکن ان عنایتوں کے باوجود اس قوم میں بت پرستی نمایاں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر رحمت نازل کرکے حضرت صالحؑ کو اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی عبادت کرنے کے لیے مبعوث فرمایا ۔ حضرت صالحؑ نے بھی دیگر انبیا کرامؑ کی طرح اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی لیکن اس قوم نے اللہ کے یکتا ہونے اور اس کی بندگی کرنے سے صاف انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس منظر کو یوں بیان کیا ہے:
وَ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًام قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط ھُوَ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَکُمْ فِیْھَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ ط (ھود۱۱:۶۱)  اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا:   اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔ لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ھُمْ فَرِیقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ O ( النمل ۲۷:۴۵) ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو۔ پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔
٭حضرت ابراہیم ؑاور ان کی قوم
حضرت ابراہیمؑ کا تذکرہ قرآن مجید میں ۶۹مرتبہ آیا ہے۔ آپؑ کو خلیل اللہ بھی کہا جاتاہے۔ سرزمین حجاز انھی کی اولاد نے بسائی اور دعوت و تبلیغ کا مر کز بنایا۔ حضرت ابراہیمؑ عالم انسانیت کے ایک عظیم داعی گزرے ہیں۔ دنیاے انسانیت کو شرک و بت پرستی سے مقابلہ کرنے اور اللہ کی وحدانیت اور اس کی بندگی کی طرف بلانا آپ کی دعوت کا نمایاں پہلو تھا۔
٭ باپ کو دعوت توحید : حضرت ابراہیمؑ کا والد شرک و بت پرستی کا سب سے بڑا   علَم بردار تھا۔ اس کی بت پرستی کا عالم یہ تھا کہ پوری قوم میں اس کی مثال دی جاتی تھی۔ اسی لیے حضرت ابراہیم ؑ سب سے پہلے اپنے باپ سے مخاطب ہوئے:
اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا (مریم ۱۹: ۴۲) یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیـںاور نہ آپ کو کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔
حضرت ابراہیمؑ نے نہایت شفقت اور ادب و احترام کے تمام تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی۔ حضرت ابراہیمؑ کو اس کا انجام معلوم تھا اور انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اس دعوت کو پیش کر کے سنگسار یا جلا وطن بھی ہونا پڑ سکتا ہے، لیکن انھوں نے کسی خوف یا دھمکی کی پروا نہیں کی بلکہ اپنے مشرک باپ کو اعتماد کے ساتھ معبودان باطل سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور صرف ایک معبود برحق کی بندگی اختیار کرنے کو کہا۔
٭  قوم کو دعوتِ توحید : اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ اپنی قوم سے مخاطب ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ اس طرح ہے :
اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَا تَعْبُدُوْنَ O قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَھَا عٰکِفِیْنَO (الشعراء۲۶: ۷۰-۷۱) اور انھیں ابراہیمؑ کا واقعہ بھی سنادو ، جب کہ انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ ہم تو برابر ان کے مجاور بنے بیٹھے ہیں ۔
حضرت ابراہیمؑ اپنی قوم کو کئی سال تک توحید کی دعوت دیتے رہے اور انھیں اللہ کی بندگی اختیار کرنے پر مائل کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بت پرستی کے انجامِ بد سے بھی باخبر کرتے رہے اور وہ صاف صاف ان سے کہتے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہووہ ہرگزبھی اس قابل نہیں۔

٭حضرت یعقوبؑ کا اپنی اولاد کو دعوت توحید
حضرت یعقوبؑ پیغمبرانہ قوم سے تعلق رکھتے تھے اور ایک برگزیدہ پیغمبر تھے۔ ان کے والد کا نام حضرت اسحاق ؑاور ان کے دادا کا نام ابوالانبیا حضرت ابراہیمؑ تھا۔ حضرت یعقوبؑ کو    اللہ تعالیٰ نے کنعان کی طرف بھیجا تھا۔ قرآن مجید میں ان کا تذکرہ دس جگہ واردہے۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنی پوری زندگی دعوتِ دین کی راہ میں گزاردی ۔ جب حضرت یعقوبؑ بستر مرگ پر تھے اور بچنے کی اُمید نہ تھی تو اس وقت انھوں نے اپنی اولاد کو جمع کرکے وصیت کی جس کو اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں رہتی دنیا تک کے لیے محفوظ رکھا ہے ۔قرآن مجید میں اس کا تذکرہ یوں ہے کہ جب حضرت یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے تو انھوں نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا: مَا تَعْبُدُوْنَ مِنم بَعْدِیْ ط؟(البقرہ۲:۱۳۳) ’’میرے بچو ! میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ ان سب نے جواب دیا:
قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَ اِلٰہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ج وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ O (البقرہ۲:۱۳۳) سب ایک خداکی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑاور اسحاق ؑنے خدا مانا ہے اور ہم اس کے مسلم ہیں۔
مولانا امین احسن اصلاحی اس کی تو ضیح کرتے ہیں: ’’ایک شفیق و مہربان باپ، جو خدا کا ایک پیغمبر بھی ہے، اپنی اولاد سے جو عہد و اقرار اپنے بالکل آخری لمحات زندگی میں لیتا ہے، اس کے اور اس کی اولاد کے درمیان سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا واقعہ وہی عہدواقرار ہو سکتا ہے، اور باوفا اولاد کا یہ سب سے بڑا اور سب سے مقدس فرض ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات کے اندر اس عہد کو نبھا ئے‘‘۔ ۵

٭حضرت یوسفؑ کا زندان کے ساتھیوں کو دعوت توحید
حضرت یوسفؑؑ کا تذکرہ قرآن مجید میں ۳۶مرتبہ آیا ہے اور ان کے نام پر قرآن مجید میں ایک پوری سورت موجود ہے جس میں تفصیل سے حضرت یوسفؑؑ کی زندگی اور ان کے دعوتی سفر کی روداد موجود ہے۔ حضرت یوسفؑؑ کے واقعے میں عظیم عبرتیں ، نصائح اور بے نظیر بصیرتیں پنہاں ہیں۔ ان کا ایک واقعہ زندان کے ساتھیوں کو دعوتِ توحید ہے۔ جب حکومت وقت نے انھیں قید خانے میں ڈال دیا تو وہاں انھوں نے اپنے دوساتھیوں کو جو ایک طویل عرصے سے جیل میں مقید چلے آرہے تھے ،دعوت توحید دی اور انھیں معبود برحق اور اس کے خالق ہونے کے متعلق تفکر و تدبر کرنے اور عقل سے کام لینے پر اُبھارا۔ قرآنِ مجید میں اس کی تفصیل یوں ہے:
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ O مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ط اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ط (یوسف ۱۲:۳۹-۴۰) اے میرے قید خانے کے ساتھیو! تم خودہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جوسب پر غالب ہے؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کررہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمھارے آباو اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ فرماںروائی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔
اس واقعے سے پتا چلتاہے کہ حضرت یوسفؑ نے دعوت توحید کے ضمن میں کو ئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا بلکہ وہ اس کے لیے ہر وقت مواقع نکالتے رہتے تھے۔

٭  حضرت شعیبؑ اور اہل مدین   
  حضرت شعیبؑ کو اللہ تعالیٰ نے مدین کی طرف نبی بناکر بھیجا ۔ مدین حضرت ابراہیم ؑکے بیٹے یا پوتے کا نام تھا۔ پھر انھی کی نسل پر قبیلے کا نام مدین پڑگیا ۔ مدین کا قبیلہ بحیرہ قلزم کے  مشرقی ساحل کے ساتھ عرب کے شمال مغرب اور خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل پر اسی نام کی بستی کے آس پاس آباد تھا۔ یہ جگہ شام کے (اردن) کے متصل حجاز کی آخری حد تھی۔ مدین کا علاقہ تبوک کے بالمقابل واقع ہے۔۶ اسی قوم کو دعوت توحید اور دین حق کی آواز پہلی مرتبہ حضرت شعیبؑ کے ذریعے سے دی گئی تھی۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس قوم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: شعیب ؑکے ظہور کے وقت ان کی حالت ایک بگڑی ہوئی مسلمان قوم کی تھی جیسی ظہور موسٰی کے وقت بنی اسرائیل کی حالت تھی۔ حضرت ابراہیمؑ کے بعد چھے سات سو برس تک مشرک اور بد اخلاق قوموں کے درمیان رہتے ہوئے یہ لوگ شرک بھی سیکھ گئے تھے اور بد خلقیوں میں مبتلا ہوگئے تھے ۔۷ حضرت شعیبؑ کی قوم میں بت پرستی کے علاوہ دوسری اخلاقی برائیاں بھی در آئی تھیں، مثلاً ناپ تول میں کمی، معاملات میں بگاڑ اور ڈاکا زنی وغیرہ ۔حضرت شعیبؑ نے اس قوم کو اللہ کی وحدانیت اور اس کی بندگی کی طرف دعوت دینے اور آخرت پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی برائیوں سے اجتناب کرنے کے لیے بھی کہا۔ قرآن مجید میں اس کا قصہ یوں ہے:
وَ اِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ O(العنکبوت ۲۹:۳۶) اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا ۔انھوں نے کہا: اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی عبادت کرو اور قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔
دوسری جگہ اس کی وضاحت یوں ہے:
 وَ اِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط قَدْ جَآئَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآئَ ھُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَO (الاعراف ۷:۸۵) اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا: اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمھارے رب کی طرف سے صاف رہنمائی آئی ہے لہٰذا  وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھٹا کر نہ دو، اور زمین میں فساد نہ کرو۔ اس میں تمھاری بھلائی ہے اگر تم سچے مومن ہو۔
گویا کہ اس قوم میں دو بڑی ا خلاقی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہ کرنا اور ا س کی بندگی سے منہ موڑنا اور دوسری تجارتی معاملات میں بددیانتی اور فریب کاری جنھیں حضرت شعیبؑ نے اولین فرصت میں مخاطب کیاتھا۔

٭حضرت موسٰیؑ اور فرعون
قرآن مجید میں انبیا کرامؑ میں سے سب سے زیادہ تذکرہ حضرت موسٰی کا ۱۳۶ مرتبہ ہوا ہے۔ حضرت موسٰی کی پرورش نہایت ہی متکبر اور دنیا کے سب سے بڑے مشرک ، کافر اور ظلم و طغیان کے سب سے بڑے علَم بردار فرعون کے گھر میں ہوئی ۔ فرعون نے ظلم و استبداد اور سرکشی میں ایسی مثال قائم کردی جس سے انسانیت آج بھی شرمسار ہے۔ اس نے زمین میں ہر طرف فساد پھیلا دیا تھا اور اس کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے اَنَـا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی (النازعات ۷۹:۲۴)کا دعویٰ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی کو فرعون کے پاس بھیجا تاکہ اس سے غرور و تکبر اور اس کے دعواے ربوبیت کا پُرزور دلائل سے توڑ کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی O فَقُلْ ہَلْ لَّکَ اِلٰٓی اَنْ تَزَکّٰی O (النازعات۷۹: ۱۷-۱۸) تم فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے اور اس سے کہو کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کر۔

٭خاتم النبیین حضرت محمدؐ کی دعوت
اللہ کے آخری رسولؐ کی دعوت عالم گیر اور ہمہ گیر ہے۔ سابق انبیاے کرامؑ کی دعوت اپنی اپنی قوم اور علاقے تک محدود ہوتی تھی ، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہے۔ آپؐ کی دعوتِ توحید کے بارے میں کہا گیا ہے:
قُلْ یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ  (الاعراف۷ :۱۵۸) اے محمدؐ! کہہ دو، اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس الٰہ واحد کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمّی پر۔
جب یہ آیت فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَر نازل ہوئی تو اللہ کے رسولؐ کوہِ صفا پر چڑھ گئے اور یاصباہ کہہ کر پکارنے لگے ( یہ کلمہ عرب کی سرزمین پر اس وقت بولا جاتا تھا جب دشمن اچانک حملہ اور غارت گری کر دے ۔ اس پکار کے ذریعے سے قوم کو خبردار کیا جاتا تھا )۔ یہ پکار سن کر جب قریش کے لوگ جمع ہوگئے تو آپؐ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے عقب میں دشمن کا ایک لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، کیا تم یقین کرلو گے؟ سب نے کہا: ہاں، یقینا ہم تصدیق کریں گے کیوں کہ آپؐ کو ہمیشہ سے ہم نے سچ بولتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا :مجھے اللہ نے نذیر بناکر بھیجا ہے۔ میں تمھیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں ۔ آپؐ نے سبھی قبیلوں کا نام لے کر صدا لگائی :
  اے بنی کعب، اپنے آپ کو دوزخ سے بچائو، اے بنو مرہ بن کعب، اپنے آپ کو دوزخ سے بچائو ، اے بنو عبد شمس ،اپنے آپ کو دوزخ سے بچائو ، اے عبدالمطلب ،اپنے آپ کو دوزخ سے بچائو۔ میں اللہ کے ہاں تمھارے کوئی کام نہیں آسکوں گا ۔۸ دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ’’ موت کے بعد تمھیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے، پس  تم شرک سے باز آجائو‘‘ ۔
خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ جوبات سب سے اہم ہو اس کو انسان اپنے قریبی ساتھی، دوست، اور رشتہ دار کو باخبر کرے ۔ اس خیر خواہی کی بنیاد پر اللہ کے رسولؐ نے سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں کو اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی دعوت دی ۔کیونکہ تعلق خاطر اور رشتہ داری کی بنیاد پر وہ اس کے زیادہ مستحق تھے کہ ان تک دعوت حق پہنچائی جائے ۔کسی بڑے مشن اور تحریک کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے داعیوں اور علَم برداروں کو ایسے افراد مل جائیں جو ان کے مشن اور تحریک کو آگے بڑھانے میںممد و معاون ثابت ہوں ۔اسی لیے اللہ کی مشیت کے مطابق اس کے رسولؐ نے سب سے پہلے اپنے خاندان اور رشتہ داروں کو توحید کی دعوت دی۔
اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا آغاز عقیدۂ توحید ، اللہ کی خالص بندگی اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے سے کیا تھا۔ آپؐ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ:
اِنَّـآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہٗ الدِّیْنَ O(الزمر۳۹:۲) (ا ے نبیؐ) یہ کتاب ہم نے تمھاری طرف برحق نازل کی ہے لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔
دوسری آیت میں یہ ارشاد ہے :
قُلْ اِنِّیْٓ  اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ O (الزمر۳۹:۱۱) (اے نبیؐ )کہو مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُس کی بندگی کروں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ۲۳ سالہ دعوتی سفر میں ہر فرد اور ہر قبیلے تک اللہ کا پیغام پہنچایا اور آپؐ کی دعوت کا موضوع زیادہ تر عقیدۂ توحید،اللہ کی خالص بندگی اور طاغو ت سے بے زاری کی طرف تھا۔ مثلاً آپؐ نے ایک قبیلے کو دعوت دیتے ہوے فرمایا:
یَا بَنِیْ فُلَانُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ  یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْابِہٖ شَیْئًا  وَأَنْ تَخْلَفُوْا مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ  ۹ اے بنی فلاں، میں تمھاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتاہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھیرائو اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمام معبودوں کو چھوڑدو۔
ابن اسحاق نے طارق کی روایت نقل کی ہے کہ طارق بن عبداللہؓ نے کہا میں نے رسولؐ اللہ کو ذوالمجاز کے قبیلے میں دیکھا ، جب کہ میں خرید و فروخت کے سلسلے میں وہاں گیا تھا۔ نبی کریمؐ ہمارے سامنے سے گزرے۔ میں نے آپؐ کو یہ فرماتے ہوے سنا: اے لوگو ! لا الہ الا اللہ کہو،    تم فلاح پاؤگے۔۱۰  اللہ کے رسولؐ نے دعوتِ توحید کو تمام کاموں پر ترجیح دی اور اسی راہ میں اپنی پوری زندگی صرف کردی ۔ اسی مقصد کی خاطر پوری صلاحیت لگا دی اور لوگوں کو اللہ سے جوڑنے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کی ۔

حاصل بحث :
مذکورہ بالا تمام انبیا ؑ کا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ ہے دین توحید ۔  اس دین توحید کی طرف ہر نبی اور رسول نے بلایا۔ گویا ان کی ایک ہی پکار تھی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ہے اور اسی کی خالص بندگی کی جائے۔ یہی وہ پکار ہے جسے انبیاے کرامؑ نے مختلف علاقوں، زمانوں اور انسانی نسلوں تک پہنچایا۔ آخر میں خاتم النبیینؐ نے لوگوںتک دعوت توحید پہنچائی۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے عالم گیر رسول بناکر بھیجا ہے اور آپؐ کی دعوت کسی قبیلے ،علاقے یا قوم یا کسی مخصوص زمانے تک نہیں بلکہ اقوام عالم اور قیامت تک تمام انسانوں کے لیے ہے اور اسی دعوتِ حق میں تمام انسانوں کے لیے فلاح ونجات ہے۔یہ دعوت سب سے پاکیزہ اور متوازن نظام زندگی پیش کرتی ہے۔ اس سے بہتر کوئی دعوت نہیں ہوسکتی ۔اس مقدس دعوت کی آغوش میں جو شخص بھی آتا ہے اس سے بڑا کوئی خوش قسمت نہیں ہوسکتا ۔

حوالہ جات
۱-     مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ، قصص القرآن ، (مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور )، جلد اوّل، ص۸۵
۲-    ابو الفداء اسماعیل بن کثیر ، قصص الانبیا ، (دارالحدیث القاہرہ، ۲۰۰۴  )،ص۶۰
۳-      قصص القرآن ، جلد اول، ص۱۰۴
۴-    ڈاکٹر شوقی ابو خلیل ،اطلس القرآن (اردو ترجمہ: حافظ محمد امین )، (مکتبہ دار السلام، ۱۴۲۴)، ص۶۳
۵-    مولانا امین احسن اصلاحی ، تدبر قرآن ، جلد :اول (فاران فائونڈیشن، لاہور، جون ۱۹۹۶ء)،ص ۳۴۶
۶-    اطلس القرآن ،ص۱۲۸
۷-    سیّدمودودی ، تفہیم القرآن ، (ادارہ ترجمان القرآن ، لاہور، ۲۰۰۳ء) ،جلد دوم، ص۵۴-۵۵
۸-    مسلم ، باب وَأَنذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْن
  ۹- ابن ہشام ، السیرہ النبویہ، ص ۳۸۶
۱۰-    سیرت ابن اسحاق، محمد بن اسحاق بن یسار،تحقیق و تعلیق : ڈاکٹر محمد حمیداللہ، (نئی دہلی ۲۰۰۹ء)، ص ۳۲۶
(حوالہ :http://tarjumanulquran.org/site/publication_detail/1149)
 

مشیت الہی اور رضائے الہی میں فرق ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

مشیت الہی اور رضائے الہی میں فرق ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ
یہاں ہماری سابق تشریحات کے علاوہ یہ حقیقت بھی اچھی طرح ذہن نشین ہوجانی چاہیے کہ قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ کی مشِیَّت اور اس کی رضا میں بہت بڑا فرق ہے جس کو نظر انداز کر دینے سے بالعموم شدید غلط فہمیاں واقع ہوتی ہیں۔ کسی چیز کا اللہ کی مشیت اور اس کے اذن کے تحت رونما ہونا لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور اسے پسند بھی کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی واقعہ کبھی صدور میں نہیں آتا جب تک اللہ اس کے صدور کا اذن نہ دے اور اپنی عظیم الشان اسکیم میں اس کے صدور کی گنجائش نہ نکالے اور اسباب کو اس حد تک مساعد نہ کر دے کہ وہ واقعہ صادر ہو سکے۔ کسی چور کی چوری، کسی قاتل کا قتل، کسی ظالم و مفسد کا ظلم و فساد اور کسی کافر و مشرک کا کفر و شرک اللہ کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور اسی طرح کسی مومن اور کسی متقی انسان کا ایمان و تقویٰ بھی مشیت الہٰی کے بغیر محال ہے۔ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر مشِیَّت کے تحت رونما ہوتے ہیں۔ مگر پہلی قسم کے واقعات سے اللہ راضی نہیں ہے اور اس کے برعکس دوسری قسم کے واقعات کو اس کی رضا اور اس کی پسندیدگی و محبوبیت کی سند حاصل ہے۔ اگرچہ آخر کار کسی خیر عظیم ہی کے لیے فرمانروائے کائنات کی مشیت کام کر رہی ہے، لیکن اس خیر عظیم کے ظہور کا راستہ نور و ظلمت، خیر و شر اور صلاح و فساد کی مختلف قوتوں کے ایک دوسرے کے مقابلہ میں نبرد آزما ہونے ہی سے صاف ہوتا ہے۔ اس لیے اپنی بزرگ تر مصلحتوں کی بنا پر وہ طاعت اور معصیت، ابراہیمیت اور نمرودیت، موسویت اور فرعونیت، آدمیت اور شیطنت، دونوں کو اپنا اپنا کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس نے اپنی ذی اختیار مخلوق (جن و انسان) کو خیر اور شر میں سے کسی ایک کے انتخاب کرلینے کی آزادی عطا کر دی ہے۔ جو چاہے اس کار گاہ عالم میں اپنے لیے خیر کا کام پسند کرلے اور جو چاہے شر کا کام۔ دونوں قسم کے کارکنوں کو، جس حد تک خدائی مصلحتیں اجازت دیتی ہیں، اسباب کی تائید نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کی رضا اور اس کی پسندیدگی صرف خیر ہی کے لیے کام کرنے والوں کو حاصل ہے اور اللہ کو محبوب یہی بات ہے کہ اس کے بندے اپنی آزادی انتخاب سے فائدہ اٹھا کر خیر کو اختیار کریں نہ کہ شر کو۔
اس کے ساتھ یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ دشمنان حق کی مخالفانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی مشیت کا بار بار حوالہ دیتا ہے اس سے مقصود دراصل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، اور آپ کے ذریعہ سے اہل ایمان کو یہ سمجھانا ہے کہ تمہارے کام کی نوعیت فرشتوں کے کام کی سی نہیں ہے جو کسی مزاحمت کے بغیر احکام الہٰی کی تعمیل کر رہے ہیں۔ بلکہ تمہارا اصل کام شریروں اور باغیوں کے مقابلہ میں اللہ کے پسند کردہ طریقہ کو غالب کرنے کے لیے جد و جہد کرنا ہے۔ اللہ اپنی مشیت کے تحت ان لوگوں کو بھی کام کرنے کا موقع دے رہا ہے جنہوں نے اپنی سعی و جہد کے لیے خود اللہ سے بغاوت کے راستے کو اختیار کیا ہے، اور اسی طرح وہ تم کو بھی، جنھوں نے طاعت و بندگی کے راستے کو اختیار کیا ہے، کام کرنے کا پورا موقع دیتا ہے۔ اگرچہ اس کی رضا اور ہدایت و رہنمائی اور تائید و نصرت تمہارے ہی ساتھ ہے، کیونکہ تم اس پہلو میں کام کر رہے ہو جسے وہ پسند کرتا ہے، لیکن تمھیں یہ توقع نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی فوق الفطری مداخلت سے ان لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دے گا جو ایمان نہیں لانا چاہتے، یا ان شیاطین جن و انس کو زبردستی تمہارے راستہ سے ہٹا دے گا جنھوں نے اپنے دل و دماغ کو اور دست و پا کو قوتوں کو اور اپنے وسائل و ذرائع کو حق کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نہیں، اگر تم نے واقعی حق اور نیکی اور صداقت کے لیے کام کرنے کا عزم کیا ہے تو تمھیں باطل پرستوں کے مقابلہ میں سخت کشمکش اور جدوجہد کر کے اپنی حق پرستی کا ثبوت دینا ہوگا۔ ورنہ معجزوں کے زور سے باطل کو مٹانا اور حق کو غالب کرنا ہوتا تو تمہاری ضرورت ہی کیا تھی، اللہ خود ایسا انتظام کرسکتا تھا کہ دنیا میں کوئی شیطان نہ ہوتا اور کسی شرک و کفر کے ظہور کا امکان نہ ہوتا۔

(حوالہ تفہیم القرآن ، جلد اول ، سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :80 ، ص 573)