‏تاریخ و تدوین قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تاریخ و تدوین قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآنِ پاک کا تاریخی اعجاز ۔ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ

دنیا کے ہر پیغمبر نے اپنی امت کے سامنے حیرت انگیز معجزے پیش کیے ہیں۔ حضرت نوحؑ کی دعا نے عالم کو غرقاب کر دیا؛ حضرت شعیبؑ اور حضرت لوطؑ کی دعاؤں نے آتش فشاں پہاڑوں کے دہانوں سے آگ برسائی؛ حضرت موسیٰؑ کے معجزے نے فرعون کو بحرِ احمر کا طعمہ بنا دیا؛ عصائے موسیٰؑ کی کارفرمائی نے چٹانوں کی چھاتی سے پانی کا دودھ بہایا اور بحرِ احمر کے دو ٹکڑے کر دیے؛ دمِ عیسیٰؑ نے جنم کے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو چنگا کیا، اور فرشِ موت کے سونے والوں کو جگایا، اور قبروں کے مردوں کو باذنِ اللہ کہہ کر جلایا۔ یہ سب واقعات دنیا میں پیش آئے اور ختم ہو گئے۔ برق کا شرارہ تھا، دم میں چمکا اور بجھ گیا۔

لیکن ایک پیغمبر ایسا بھی آیا جس کے حیرت انگیز معجزے نے قوموں کو ہلاک کرنے کے بجائے انہیں حیاتِ تازہ بخشی؛ پتھر دلوں کو موم کیا؛ عقل کے اندھوں کو بینا کیا؛ اور بنی آدم کی جمعیت کو غفلت و بے ہوشی کی نیند سے جگا کر ہوشیار، کفر و شرک کی ہلاکت سے بچا کر زندہ کیا۔ یہ حیرت انگیز واقعہ بجلی کی چمک کی طرح دفعۃً ظاہر ہو کر غائب نہیں ہو گیا؛ یہ یدِ بیضا، عصائے موسیٰؑ اور دمِ عیسیٰؑ کی طرح اپنے امکان اور وقوع میں فلسفیانہ موشگافیوں اور عقلی نکتہ سنجیوں کا محتاج نہیں؛ یہ روزِ روشن کی طرح واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوا، اور ہزار سال تک ممتد و متواتر واقعیت بن کر دنیا اور اہلِ دنیا کے سامنے جلوہ گر رہا۔

محمد رسول اللہ ﷺ آخری دین اور آخری صحیفہ لے کر، اور نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نیا دین آنے والا تھا، نہ کوئی نئی کتاب اترنے والی، اور نہ کوئی نئی نبوت مبعوث ہونے والی تھی۔ اس لیے ضرورت تھی کہ دوسرے انبیا علیہم السلام کی طرح آپؐ کا خاص معجزہ وقتی اور عارضی نہ ہو، بلکہ جب تک اس دنیا میں آپؐ کی نبوت کا نور چمکتا رہے، اس کی روشنی بھی قائم رہے۔ چنانچہ وقتی اور عارضی معجزوں کے علاوہ آپؐ کو ایک خاص معجزہ بخشا گیا جو قیامِ قیامت تک قائم اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن نے تحدی کی کہ میں اپنے رسول و پیغمبر کی صداقت کی گواہی ہوں؛ جن و انس مل کر بھی چاہیں تو مجھ جیسی کتاب، بلکہ مجھ جیسی کتاب کی ایک سورہ، بلکہ ایک آیت بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔

آیاتِ قرآن کی ترتیب توقیفی کیا ہے! ۔

محمود الحسن عارف ( محدث میگزین) 
دسمبر ۲۰۰۹ء 

اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ اور دستور ہے کہ وہ قوموں کو خوابِ غفلت سے جگانے اور خلافت سے متعلق اپنے فرائض و واجبات انجام دینے سے متعلق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے اُنہیں طرح طرح کی زمینی اور آسمانی آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے تاکہ اس کے بندے خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی حقیقت اور اصلیت کو جان سکیں ۔
اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ بعض اوقات دوسری قوموں اور دوسری حکومتوں کوبھی اپنے بندوں پر مسلط کردیتا ہے جو ان کا مار مار کر بُرا حال کردیتی ہیں اور اُنہیں خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے سخت ترین آزمائشوں سے گزارتی ہیں ۔
قرآنِ کریم نے اپنے اسی قاعدے کا سورۂ بنی اسرائیل میں ذکر کیا ہے ۔ جہاں بنی اسرائیل پر، جو اسلام سے پہلے اللہ تعالیٰ کی محبوب قوم تھی اور جسے اس نے سارے جہانوں پر فضیلت اور فوقیت عطا فرمائی تھی۔ 1 دو مرتبہ دوسری قوموں کو مسلط کرنے کا ذکر کیا ہے۔2
چنانچہ مفسرین کے مطابق پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ان پر 'بخت ِنصر' کو مسلط کیا اور دوسری بار طیطس رومی کو ان پر حکومت اور حاکمیت عطا فرما دی۔3
اِن دونوں حکمرانوں نے ان کاقتل عام بھی کیا اور اُنہیں ہزاروں کی تعداد میں قید و بند سے بھی گزارا اور ان کی بستیوں اور ان کے شہروں کو بھی تباہ و برباد کیا۔

مسلمانوں کے ساتھ بھی گذشتہ چند صدیوں سے ایسا ہی معاملہ کیا جارہا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا کے اکثر ممالک یا تو مسلمانوں کے ماتحت، یا ان کے باج گزار تھے یا ان سے ڈرتے اور دَبتے تھے، مگر پھر وقت بدلا اور تمام اسلامی ملکوں پر مغربی ملکوں کی حکومت اور حاکمیت قائم ہوگئی۔ اور 'ترکی' ودیگر چند ممالک کے سوا کوئی ملک ایسانہ تھا جس نے ان ظالم و جابر غیر ملکی حکمرانوں کی محکومی کا مزہ نہ چکھا ہو۔ اب پھر صور ت حال بدل چکی ہے اور بظاہر اسلامی ممالک غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوچکے ہیں ، لیکن ان پر عملاً ابھی تک انہی کا راج اور انہی کی حکمرانی ہے اور وہ ان پر قبضہ کئے بغیر محض اپنی عیاری اور مکاری کے بل بوتے پر اُنہیں اپنی لاٹھی سے ہانک رہے ہیں ، لیکن افسوس اور دُکھ کی بات یہ ہے کہ حالات کی دگرگونی کے باوجود مسلمان خوابِ غفلت سے جاگنے کے لیے تیارنہیں ہیں ۔

علمی ایوانوں کی حاکمیت
اس کے ساتھ ساتھ نہایت تکلیف دہ اور نہایت اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ 'علمی ایوانوں ' پر بھی مغربی اہل علم کی حکومت اور حاکمیت کا سلسلہ چل رہا ہے اور مسلمان محض ان کی طرف سے پیش کی جانے والی تحقیقات اور ان کی طرف سے آنے والے نظریات کی جگالی ہی کو بڑے فخر اور مسرت کی بات سمجھ رہے ہیں ۔ پھرجس طرح ایک سچے مسلمان کے لیے ان کی سیاسی بالادستی انتہائی اَذیت کا باعث ہے، اسی طرح ان کی علمی برتری اور بالادستی بھی اہل علم و فضل کے لیے نہایت تکلیف اور اذیت کا سبب ہے۔

تلاوت قرآن کی سب سے پہلی آڈیوریکارڈنگ کب ہوئی ؟

مصر میں تاریخ اسلام میں پہلی بار تلاوت قرآن کی آڈیو ریکارڈنگ کا آغاز ، ۲۸ محرم الحرام ، بروز ہفتہ ۱۳۸۰ ہجری، بمطابق ​​ ۲۳جولائی ۱۹۶۰  کو ہوا ۔ اور ۱۸ ستمبر ۱۹۶۱ کو صبح چھ بجے قاہرہ ریڈیو پر شیخ الحصری کی آواز میں تلاوت قرآن کی پہلی تلاوت نشر ہوئی۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کی کتابت کے بعد یہ دنیا میں قرآن کریم کی پہلی آڈیو ریکارڈنگ تھی۔

قرآن کریم کی آڈیو کو یکجا کرنے کے اس بابرکت خیال کے مالک ڈاکٹر لبیب السعید ہیں۔ اس زمانے میں ڈاکٹر لبیب السعید امپورٹ اتھارٹی کے کنٹرولر جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور عین شمس یونیورسٹی میں فیکلٹی آف کامرس میں پروفیسر تھے ۔

انہوں نے بڑے قارئین کی مدد سے قرآن کو ریکارڈ کرنے کا خیال پیش کیا، ان کا مقصد تھا کہ قرآن پاک کو سی ڈیز پر ریکارڈ کرنا اور مختلف روایتوں کے ساتھ اسٹیشنوں پر نشر کرنا تھا۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ تلاوت تجوید اور قراء ت کے فن کے ماہرین اور اچھی آواز اور مہارت کے حامل قاریوں کے ذریعہ کی جائے اور ان کا انتخاب ایک کمیٹی کے ذریعہ کیا جائے ۔ قرآن کریم اور اس کے علوم، جس میں الازہر الشریف اور سائنسی، لسانی اور ثقافتی ادارے کے ماہرین بھی شرکت کرے ۔

انہوں نے ایک مرتبہ کہا: "غیر عرب اسلامی ممالک کے لئے اس کام کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ یہ قرآن کو اچھی طرح سے سن کر سیکھنے ے میں مدد کرے گا، اس کی بدولت قرآن کا پھیلاؤ وسیع ہوگا اور اس سے مستفید ہونے والے طلبہ بھی زیادہ ہوں گے۔" اور انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انفرادی طور پر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں کئی سال گزارے ہیں، اس لیے وزیر اوقاف نے ان کے خیال سے اتفاق کیا۔

پھر انہوں نے یہ آئیڈیا الازہر کے شیخ شیخ شلتوت کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے اس خیال سے اتفاق کیا اور اسے منظور کر لیا۔ انہوں نے جامعہ پھر اور - تلاوت قرآن پروجیکٹ کے مالک، "قرآن کا آڈیو سینٹر "، وزیر اوقاف احمد طعیمہ کو پورے قرآن کی تلاوت ریکارڈ کرنے کو کہا گیا ۔ اس کے لئے مشہور قاریوں اور علماء کو ریکارڈنگ شروع کرنے کے لئے مدعو کیا، ان میں درج ذیل قراء حضرات شامل تھے :

۱۔ شیخ محمود خلیل الحصری عاصم کی سند پر حفص کی روایت کو ریکارڈ کرنے کے لئے مقرر ہوئے ۔

۲۔ شیخ مصطفیٰ الملوانی نے خلف عن حمزہ کی روایت پر تلاوت ریکارڈ کی ۔

۳۔ شیخ عبدالفتاح القادی، الازہر الشریف میں قرآن ریویو کمیٹی کے سربراہ، ابو جعفر کی قراءت بروایت ابن وردان ۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کوشش سے پہلی بار قرآن کو صوتی طور پر محفوظ اور مرتب کیا گیا تھا، جس طرح ابوبکر اور عثمان کے دور میں تحریری طور پر مرتب کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر لبیب السعید رحمہ اللہ 3 جمادی الآخرہ ۱۴۰۸ھ بمطابق ۲۲جنوری ۱۹۸۸ء کو 74 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔



کیا قرآن کریم کا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟

اجمل کمال

کیا ترجمہ اصل کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب کی ایک معنویت تو وہ ہے جو ادبی تحریروں پر صادق آ سکتی ہے؟ ۔ چنانچہ جب غیرعربی زبانوں میں قرآن کے ترجمے کی نوبت آئی تو اس سے متعلق کئی سوالات پر اختلاف رائے پیدا ہوا۔ ان بحثوں میں تین سوالات زیادہ اہم تھے:

۱) کیا قرآن کا کسی غیرعربی زبان میں ترجمہ ممکن ہے؟
۲) کیا قرآن کا ترجمہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟
۳) کیا کوئی غیرعربی ترجمہ قرآن کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟

روٹلج انسائیکلو پیڈیا آف ٹرانسلیشن اسٹڈیز ۱۹۹۸ء میں قرآن کے ترجمے کے موضوع پر حسن مصطفی کا لکھا ہوا مضمون شامل ہے جس سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:2

(۱) قرآن کے ترجمے کے جواز کے مسئلے کو اس کے قابلِ ترجمہ ہونے کے نسبتاًعمومی سوال سے علیحدہ کرنا دشوار ہے۔ جو لوگ قرآن کے قطعی ناقابل ترجمہ ہونے کے قائل ہیں وہ اپنے موقف کی واضح حمایت سورۂ یوسف کی آیت 2سے حاصل کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے:

“We have sent it down/as an Arabic Qur’an”

آج بھی ایک طاقتور اور بااثر مکتب فکر ایسا موجود ہے جس کی رائے ہے کہ قرآن کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اور جتنے بھی ’ترجمے‘ موجود ہیں وہ سب ناجائز ہیں۔ بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر قرآن کا ترجمہ کرنا ہی ہو تو مترجم کا مسلمان ہونا لازمی ہے۔ …تاہم قرآن کے ترجمے کے ناجائز ہونے کے عقیدے کے مخالفین بھی ہمیشہ موجود رہے ہیں، یہاں تک کہ اسلام کے قرون اولیٰ میں بھی موجود تھے۔ عراق سے تعلق رکھنے والے محقق اور عالم دین امام ابوحنیفہ (c.700-67) مانتے تھے کہ قرآن کی تمام آیات کاکسی غیرزبان میں ترجمہ کرنا جائز ہے لیکن ’’اس ترجمے کو ایک جلد میں اس طرح شائع کرنا جائز نہیں جس میں اس کے مقابل اصل عربی آیات درج نہ ہوں‘‘۔

مختصر تاریخ اردو ترجمۂ قرآن

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

بارہویں صدی ہجری میں اردو زبان برصغیر پاک وہند میں نہ صرف ادبی زبان بن کر اُبھر رہی تھی بلکہ کثیر تصنیفات و تالیفات اور تراجم کے باعث ایک عام فہم زبان بھی بنتی جارہی تھی ۔ اگرچہ دکن کی اسلامی ریاستوں میں عرصۂ دراز سے اردو زبان میں عقائد تصوف و اخلاقیات اور فقہی کتابوں کے تراجم ہورہے تھے مگر اردو ترجمۂ قرآن کا آغاز ابھی نہ ہوا تھا۔ شاید اردو کی نشوونما کی ابتداء میں چونکہ ذخیرہئ الفاظ محدود تھا اس لئے ترجمۂ قرآن کی طرف علماء نے قدم نہ اٹھایا۔ دوسری طرف بر صغیر سے عربی زبان کے بعد فارسی زبان بھی تیزی کے ساتھ رخصت ہونے لگی تو عوام تو عوام، خواص کے لئے بھی اب ترجمہ قرآن اردو زبان میںضروری سمجھا جانے لگا چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م1176ھ)جو خود فارسی ترجمہ قرآن کے برصغیرمیں اولین مترجم میں شمار ہوتے ہیں ان کے دو صاحبزادں کو اردو زبان کے ترجمہ قرآن کے اولین مترجم ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

شاہ محمد رفیع الدین دہلوی (م 1233ھ/1817ء) نے اردو زبان کا پہلا مکمل لفظی ترجمہ قرآن 1200ھ میں مکمل کیا جب کہ آپ کے چھوٹے بھائی شاہ محمد عبدالقادر دہلوی (م 1230ھ/1814ء) نے اردو زبان کی تاریخ کا پہلا مکمل بامحاورہ ترجمہ قرآن 1205 ھ /1790ء میں مکمل کیا ۔ یہ دونوں تراجم قرآن تیرھویں صدی ہجری ہی میں شائع ہونا شروع ہوگئے جس کے باعث ان کو اولیت کے ساتھ ساتھ پذیرائی بھی حاصل ہوئی اگرچہ تاریخ میں ان دونوں اردو تراجم قرآن سے قبل کے بھی تراجم پائے جاتے ہیں لیکن یاتو وہ مکمل ترجمہ قرآن نہیں تھے یا مخطوطہ ضائع ہوگئے اس لحاظ سے ان دونوں بھائیوں کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ایک لفظی ترجمہ قرآن کا بانی ہے تو دوسرا با محاورہ ترجمہ قرآن کا حامل ۔

شاہ برادران کے بعد فورٹ ولیم کالج ( قائم شدہ 1214ھ/ 1800ء) نے پہلے انجیل کا اردو زبان میں ترجمہ کرکے شائع کیا اور پھر 5 مولوی حضرات نے مل کر اردو میں ترجمہ قرآن (1219 ھ /1804ء) میں مکمل کیا ۔

 تیرھویں صدی ہجری میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 25 ترجمہ قرآن اردو زبان میں کئے گئے مگر کسی کو بھی شاہ برادران کی طرح پذیرائی حاصل نہ ہو سکی البتہ سرسید احمدخاں کی تفسیر اور ترجمہ 15 پاروں تک شائع ہو ا تھا اور علی گڑھ کے ہم خیال لوگوں کے درمیان اس کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔

اصول ترجمہ قرآن کریم

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری


قرآن مجیدکی تعلیمات زمانی و مکانی قیود سے ماورا بنی نوع انسان کی ہدایت پر مبنی ہیں اس اعتبار سے اس کی تعلیمات دنیا کی دیگر زبانوں تک پہنچنا ہی اس کا اصل ھدف ہے کہ اسی کیفیت میں اس کے نزول کا مقصد تکمیل کے مراحل طے کر سکتا ہے لہذا قرآن مجید کی ترجمانی یا ترجمہ دیگر زبانوں میں کرنا اس کے کچھ آداب اور معین کیفیات ہیں جن کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے اور اگر ان امور کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو قرآن مجید کی ترجمہ کما حقہ ناممکن ہے یا اس کا آفاقی پیغام اپنی اصل روح کے ساتھ منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے لفظ قرآن ، تفسیر اور ترجمہ کے معانی و مفاہیم ذکر کردیے جائیں تاکہ اصل مطلب کے فہم اور تفہیم میں آسانی رہے۔
قرآن : عربی لغت میں قرآن، قراء ت کا ہم معنی مصدر ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمَعَہ وَقُرْاٰنَہ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ (76/18- 17)

"بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کرو"

پھر معنی مصدری سے نقل کر کے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے ہوئے مُعجزِ کلام کا نام قرآن رکھا گیا، یہ مصدر کا استعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طور پر آتا ہے۔

تفسیر: عربی زبان میں تفسیر کا معنی ہے "واضح کرنا اور بیان کرنا" اسی معنی میں کلمہٴ تفسیر سورہٴ فرقان کی اس آیت میں آیا ہے: وَلَا یَاْ تُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰکَ بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا(الفرقان 25/ 33)
"اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم اس سے بہتر بیان لے آئیں گے"

اصطلاحی طور پر تفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتا ہے۔
جب یہ کہا گیا کہ تفسیر میں قرآن کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبار سے تو اس قید سے درج ذیل علوم خارج ہوگئے انہیں تفسیر نہیں کہا جائے گا۔

علم قراء ت: اس علم میں قرآن کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کے کلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیش نظر ہوتی ہے۔

علم رسم عثمانی: اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔
علم کلام: اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔
علم صرف: اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔
علم نحو: اس میں کلمات کے معرب و مبنی ہونے اور ترکیب کلمات سے بحث ہوتی ہے۔
علم معانی: اس میں کلام فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔
علم بیان: اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔
علم بدیع: اس میں وہ امور زیر بحث آتے ہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ صرف علم تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقت انسانی کے مطابق قرآن پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی مراد ہیں۔طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علم تفسیر کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اور علم ساتھ دے گا۔

وہ علوم جن کی مفسّر کو حاجت ہے:

علما اسلام نے مفسر کے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قرار د ی ہے: (1) لغت (2) صرف (3) نحو (4) بلاغت (5) اصول فقہ (6) علم التوحید (7) قصص (8) ناسخ و منسوخ (9)علم وہبی (10) اسباب نزول کی معرفت (11) قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کو بیان کرنے والی احادیث ،  وہبی علم، عالمِ با عمل کو عطا کیا جاتا ہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو اسے علم وہبی سے نہیں نوازا جاتا۔

ترجمہ و تفسیر قرآن کے لئے شرائط

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

قرآن مجیدفرقان حمید دنیا میں واحد کتاب ہے جس کو مسلسل 1400سال سے شائع کیاجارہا ہے ، اور کسی زمانے میں اس کی اشاعت کے وقت اس کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہ کی جاسکی یہاں تک کہ زیرزبر پیش میں بھی کبھی مسلمانوں میں (معاذاللہ) تنازعہ نہ ہوسکا اور نہ ہوسکے گا کیو نکہ جب سے یہ نازل ہوئی ہے اس کو عربی زبان میں حفظ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اسی لئے اس میں کبھی بھی کسی قسم کی تبدیلی ناممکن ہے یہاں راقم صرف ایک حوالہ انسائیکلو پیڈیا سے دینا چاہے گا جس سے دنیا کے سامنے یہ بتایاجا سکے کہ مسلمان ایک ایسی کتاب کے پیروکار ہیں جس پر تمام مسلمان ١٤٠٠ سال سے متفق ہیں اور تاقیامت متفق رہیں گے۔ اور یہ گواہی بھی ایک عیسائی مصنف کی ہے۔

Yet There is no doubt that the Koran of today is substantially same as it came from Prophet (Muhammad Sallallaho Aalaihe Wasallam) (The Webster Family Encyclopedia V.10 p. 237, 1984(

قرآن کریم کا نزول مکہ کی وادی سے شروع ہوا جہاں تمام مقامی لوگ عرب تھے اور عربی زبان بولتے تھے اور قرآن کریم کے نزول کا اختتام مدینہ پاک کی وادی میں ہوا جہاں انصار بھی عربی ہی بولتے تھے۔ اللہ پاک نے اپنے کلام کو عربی زبان میں اس لئے نازل کیا تاکہ پہلے پہل عمل کرنے والے اس کو اچھی طرح سمجھ کر عمل کرسکیں تاکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے ماڈل بن جائیں اور پھر عجمی لوگ عملی قرآن ان صحابہ کرام کے عمل سے سیکھ سکیں اور یوں یہ سلسلہ جاری رہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اِنَّآ اَنزَلْنٰہُ قُرئٰنًا عَرَ بِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ O (الیوسف:10)
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو ۔

مخطوطہ قرآن ، برمنگھم یونیورسٹی

 مخطوطہ برمنگھم , قرآن کریم کے موجودہ رائج نسخہ کے مطابق  ہے
 برطانیہ کی برمنگھم  یونیورسٹی کے کتب خانے میں موجود قرآن کریم کا دو ورقی نسخہ جو سن 2015ء میں برمنگھم کتب خانے سے دریافت ہوا۔[1][2] جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم ترین نسخہ ہے، جامعہ کے مطابق ریڈیو کاربن تجزیے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ مخطوطہ کم از کم 1370 سال پرانا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مخطوطہ جامعہ برمنگھم کے کتب خانے میں مشرق وسطیٰ کی دیگر کتابوں اور دستاویزات کے ساتھ ایک صدی سے موجود تھا۔ جامعہ آکسفرڈ کے ریڈیو کاربن ایکسلیریٹر یونٹ میں کیے گئے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھا گیا ہے، نیز اس تجزیے کے مطابق یہ سنہ 568ء اور سنہ 645ء کے درمیان کا نسخہ ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کے مسیحیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس کے بقول:

” اس تاریخ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے چند سال بعد کا نسخہ ہے۔ اور اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ جس نے بھی یہ لکھا وہ شخص پیغمبر اسلام کے وقت زندہ تھا۔ جس نے یہ لکھا ہے ممکن ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے قریب تھے۔ ممکنہ طور پر انھوں نے پیغمبر کو دیکھا ہو گا اور ان کو تبلیغ کرتے ہوئے سنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پیغمبر کو قریب سے جانتے ہوں گے۔ اور یہ ایک اہم بات ہے۔ قرآن کو کتاب کی صورت میں 650 میں مکمل کیا گیا۔ یہ اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا جو حصہ اس چمڑے پر لکھا گیا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے گزر جانے کے دو دہائیوں کے بعد کا ہے۔ “

قرآن سے مطابقت

ڈاکٹر محمد بن شمس الدین کا کہنا ہے کہ مخطوطہ برمنگھم موجودہ مصحف کے مطابق ہے، نیز ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تقابلی مطالعہ میں رائج مصحف کو اصل بنیاد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ نسخہ ہم تک تواتر سے پہونچا ہے۔ جبکہ مخطوطات میں اغلاط کا احتمال ہوتا ہے کیونکہ مخطوطہ نویس کا علم ہوتا ہے، نہ اس کے مذہب و تدین اور حالات زندگی کا؛ تاہم مخطوطہ برمنگھم قرآن کریم کے موجودہ رائج نسخہ کے مطابق ہونے کی بنا پر درست ہے۔[3]

====================
حوالہ جات
 1- "Birmingham Qur'an manuscript dated among the oldest in the world"۔ جامعہ برمنگھم۔ 22 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2015۔
2-  "'Oldest' Koran fragments found in Birmingham University"۔ بی بی سی۔ 22 جولائی 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2015۔
3-  "شیخ محمد بن شمس الدین کی ویب سائٹ"۔ فتوى.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جولائی 2015۔

عہد صحابہ میں ایک محفلِ قرآن کی روداد

بیہقی نے ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے۔

 ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) مجھے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بڑے شیوخ کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھے۔

 یہ بات بعض بزرگوں کو ناگوار گزری اور انہوں نے کہا ہمارے لڑکے بھی تو اسی لڑکے جیسے ہیں، اس کو خاص طور پر کیوں ہمارے ساتھ شریک مجلس کیا جاتا ہے؟  (امام بخاری اور ابن جریر نے تصریح کی ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف (رض) تھے) 

حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ علم کے لحاظ سے اس کا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں۔

 پھر ایک روز انہوں نے شیوخ بدر کو بلایا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بلا لیا۔ میں سمجھ گیا کہ آج مجھے یہ دکھانے کے لیے بلایا گیا ہے کہ مجھ کو ان کی مجلس میں کیوں شریک کیا جاتا ہے۔ 

دوران گفتگو میں حضرت عمر (رض) نے شیوخ بدر (رض) سے پوچھا کہ آپ حضرات "اذا جآء نصر اللہ والفتح" کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

 بعض نے کہا اس میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب اللہ کی نصرت آئے اور ہم کو فتح نصیب ہو تو ہم اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کریں۔ بعض نے کہا اس سے مراد شہروں اور قلعوں کی فتح ہے۔ بعض خاموش رہے۔

 اس کے بعد حضرت عمر (رض) نے کہا ابن عباس (رض)، کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟

 میں نے کہا، نہیں۔

 انہوں نے پوچھا پھر تم کیا کہتے ہو؟ 

میں نے عرض کیا اس سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجل (موت) ہے۔ اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی گئی ہے جب اللہ کی نصرت آ جائے اور فتح نصیب ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وقت آن پورا ہوا، اس کے بعد آپ اللہ کی حمد اور استغفار کریں۔

 اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں بھی اس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو تم نے کہا ہے۔

 ایک روایت میں اس پر یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمر نے شیوخ بدر سے فرمایا آپ لوگ مجھے کیسے ملامت کرتے ہیں جبکہ اس لڑکے کو اس مجلس میں شریک کرنے کی وجہ آپ نے دیکھ لی ۔

(حوالہ :  بخاری، مسند احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن مردویہ، بغوی، بیہقی، ابن المنذر)

تاریخ قرآن مجید (حصہ اول ) - ڈاکٹر حمید اللہ ؒ

محقیقین کا خیال ہے کہ یہ نسخہ حضرت ابوبکر صدیق رض کے دور میں لکھا گیا ہے
قرآن کریم کا قدیم ترین نسخہ 

"قرآن مجید ایک ایسا موضوع ہے جس کے بہت سے پہلو ہیں اور ایک گھنٹے کے مختصر وقت میں یہ ممکن نہیں کہ ان سارے پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاسکے۔ اس لیے صرف اس کے ایک پہلو یعنی تدوین قرآن مجید کی تاریخ کو چند الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔



مسند احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں ایک حدیث ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “اللہ نے حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ جن میں سے تین سو پندرہ صاحب کتاب تھے”۔ تین سو پندرہ صاحب کتاب نبیوں کے نام نہ تو قرآن مجید میں ہیں اور نہ احادیث میں ان کا ذکر ہے، لہٰذا ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ان کی تفصیل معلوم کرسکیں۔ صرف چند اشارے ملتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پر دس صحیفے نازل ہوئے تھے۔ لیکن یہ ہماری بدنصیبی ہے ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس زبان میں تھے۔ چہ جائیکہ ان کے مندرجات کا علم ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹھے حضرت شیث علیہ السلام بھی پیغمبر تھے ان کے متعلق بعض روایات میں ذکر ملتا ہے کہ ان پر بھی چند کتابیں نازل ہوئی تھیں۔ لیکن ان کا بھی دنیا میں اب کوئی وجود نہیں۔ قدیم ترین نبی، جن کی طرف منسوب کتاب کا کچھ حصہ ابھی حال ہی میں ہم تک پہنچا ہے حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔ غالباً آپ نے سنا ہو گا کہ فلسطین میں بحر مردار کے پاس بعض غاروں سے کچھ مخطوطے ملے ہیں۔ ان مخطوطوں میں سے ایک کتاب حضرت اخنوخ یا انوخ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام کی طرف منسوب ہے۔ حال ہی میں اس کتاب کے کچھ ترجمے انگریزی زبان میں شائع ہوئے ہیں۔ اگر چہ اس بات کا کوئی حتمی و قطعی ثبوت موجود نہیں، لیکن اب تک کی تحقیق کے مطابق ہم اسے قدیم ترین نبی کی کتاب کہ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں آخری نبی کی بشارت بھی ہے، جس کو بعد میں عہد جدید (انجیل) کے باب “مکتوب یہودا” نے بھی نقل کیا ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق بھی ہمیں کچھ اشارے ملتے ہیں۔ عراق میں “صابیہ” کے نام سے ایک چھوٹا سا گروہ پایا جاتا ہے جس کا ایک مستقل دین ہے ان کا یہ دعویٰ ہے کہ “ہم حضرت نوح علیہ السلام کی کتاب اور ان کے دین پر عمل پیرا ہیں” ان کا کہنا ہے کہ “ایک زمانے میں حضرت نوح علیہ السلام کی پوری کتاب ہمارے پاس موجود تھی لیکن امتداد زمانہ کے سبب سے اب وہ ناپید ہے۔ اس کے مندرجات صرف چار پانچ سطروں میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ جن میں اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے”۔ اس کے بعد ایک اور نبی آئے ہیں جن کی کتاب کا ذکر خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ (صحف ابراہیم و موسیٰ) دو مرتبہ قرآن مجید میں اس کا ذکر آیا ہے۔ ان کی کتاب کے مندرجات یہودی اور عیسائی ادبیات میں تو نہیں قرآن میں چند سطروں کی حد تک محفوظ ملتے ہیں۔ اسی طرح بعض ایسے انسان بھی ہیں جن کو صراحت کے ساتھ نبی تو تسلیم نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کی نبوت کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان میں سے ایک شخصیت “زردشت” کی ہے۔ پارسی انہیں اپنا نبی مانتے ہیں۔ ان کی نبوت کا امکان اس بنا پر بھی ہے کہ قرآن مجید میں مجوس قوم کا ذکر آیا ہے۔ مجوسیوں کا مذہب زردشت کی لائی ہوئی کتاب “آوستا پر مبنی ہے” آوستا کے متعلق ہم تک کچھ معلومات پہنچی ہیں۔ جب ہم اس کا قرآن مجید سے موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کس کو کیا برتری حاصل ہے؟ زردشت کی کتاب اسوقت کی “زند” زبان میں تھی۔ کچھ عرصے بعد ایران پردوسری قوموں کا غلبہ ہوا اور نئے فاتحین کی زبان وہاں رائج ہوئی۔ پرانی زبان متروک ہوتی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک بھر میں مٹھی بھر عالم اور مختصصین کے سوا زند زبان جاننے والا کوئی نہ رہا اس لیے زردشتی مذہب کے عماء نے نئی زبان پازند میں اس کتاب کا خلاصہ اور شرح لکھی۔ آج کل ہمارے پاس اس نسخے کا صرف دسواں حصہ موجود ہے۔ باقی غائب ہو چکا ہے۔ اس دسویں حصے میں کچھ چیزیں عبادات کے متعلق ہیں اور کچھ دیگر احکام ہیں۔ بہر حال دنیا کی ایک قدیم دینی کتاب کو ہم آوستا کے نام سے جانتے ہیں لیکن وہ مکمل حالت میں ہم تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ یہاں ایک چیز کا میں اشارۃً ذکر کروں گا۔ آوستا میں دوسری باتوں کے علاوہ زردشت کا یہ بیان ملتا ہے: “میں نے دین کو مکمل نہیں کیا۔ میرے بعد ایک اور نبی آئے گا جو اس کی تکمیل کرے گا۔ اور اس کا نام رحمۃ للعالمین ہو گا” یعنی ساری کائنات کے لیے باعث رحمت۔

ہندوستان میں بھی کچھ دینی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ اور ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے الہام شدہ کتابیں ہیں۔ ان مقدس کتابوں میں دید، پران، اپنشد اور دوسری کتابیں شامل ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سب کتابیں ایک ہی نبی پر نازل ہوئی ہیں۔ ممکن ہے متعدد نبیوں پر نازل ہوئی ہوں، بشرطیکہ وہ نبی ہوں، ان میں بھی خصوصاً “پران” نامی کتابوں میں کچھ دلچسپ اشارے ملتے ہیں “پران” وہی لفظ ہے جو اردو میں “پرانا” یعنی قدیم ہے۔ اس کی طرف ہمیں قرآن مجید میں ایک عجیب و غریب اشارہ ملتا ہے: (وانہ لفی زبر الاولین 26:196) اس چیز کا پرانے لوگوں کی کتابوں میں ذکر ہے)۔ میں نہیں جانتا کہ اس کا پران سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ بہرحال دس پران ہیں، ان میں سے ایک میں یہ ذکر آیا ہے کہ “آخری زمانے میں ایک شخص ریگستان کے علاقے میں پیدا ہو گا۔ اس کی ماں کا نام قابل اعتماد، اور باپ کا نام، اللہ کا غلام ہو گا۔ وہ اپنے وطن سے شمال کی طرف جا کر بسنے پر مجبور ہو گا۔ اور پھر وہ اپنے وطن کو متعدد بار دس ہزار آدمیوں کی مدد سے فتح کرے گا۔ جنگ میں اس کی رتھ کو اونٹ کھینچیں گے اور وہ اونٹ اس قدر تیز رفتار ہوں گے کہ آسمان تک پہنچ جائیں گے”۔ اس کتاب میں جو مذکورہ الفاظ ہمیں ملتے ہیں ان سے ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ مستنبط کیا جاسکے۔

ان پرانی کتابوں کے علاوہ وہ کتابیں ہیں جو مسلمانوں میں بالخصوص معروف ہیں، یعنی توریت، زبور اور انجیل۔ قبل اسکے کہ قرآن مجید کا آپ سے ذکر کروں بطور تمہید ان کا بھی چند الفاظ میں ذکر کروں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو کتاب نازل ہوئی وہ “توریت” کہی جاتی ہے۔ لیکن دراصل توریت اس کتاب کا ایک جزو ہے، توریت کے معنی ہیں “قانون”۔ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف پانچ کتابیں منسوب کرتے ہیں، پہلی کتاب “کتاب پیدائش” کہلاتی ہے۔ دوسری کتاب “کتاب خروج” جو مصر سے نکلنے کے حالات پر مشتمل ہے۔ تیسری کتاب “قانون” ہے۔ چوتھی کتاب کا نام “اعداد و شمار ہے” کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم دیا تھا کہ یہودیوں کی قبیلے وار مردم شماری کی جائے۔ پانچویں کتاب “تثنیہ” کے نام سے موسوم ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ پرانی چیزوں کو دوبارہ دہرایا جائے، ان کو up to date کیا جائے یا ان کی تشریح کی جائے۔ شروع شروع میں یہودیوں کے ہاں یہ پانچویں کتاب (تثنیہ) نہیں پائی جاتی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوئی چھ سو سال بعد ایک جنگ کے زمانے میں ایک شخص ملک کے اس وقت کے یہودی بادشاہ کے پاس ایک کتاب لایا اور کہا کہ مجھے یہ کتاب ایک غار سے ملی ہے۔ معلوم نہیں کس کی ہے، مگر اس میں دینی احکام نظر آتے ہیں۔ بادشاہان نے اپنے زمانے کی ایک نبیہ عورت کے پاس اس نسخے کو بھیجا (یہودیوں کے ہاں عورتیں بھی نبی رہی ہیں یا کم از کم وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں) اس نبیہ نے جس کا نام ہلدا HULDA بیان کیا جاتا ہے یہ کہلا بھیجا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کی کتاب ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چھ سو سال بعد اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ اس کتاب کو “تثنیہ” کا نام اس لیے دیا گیا کہ اس میں پہلی چار کتابوں کے احکام میں سے کچھ احکام خلاصے کے طور پر اور کچھ اضافے کے ساتھ دہرائے گئے ہیں۔ بہر حال ان پانچ کتابوں کی سرگزشت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد آنے والے انبیاء کے زمانے میں یہودیوں نے فلسطین کا کچھ حصہ فتح کیا اور وہاں حکومت شروع کی تو کچھ عرصے بعد عراق کے حکمران بخت نصر (نبوکدنوصور) نے فلسطین پر حملہ کیا۔ چونکہ اس کا دین یہودیوں کے دین سے مختلف تھا اس لیے اس نے صرف ملک فتح کرنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ن دشمنوں کے دین کو بھی دنیا سے نیست و نابود کرنے کے لیے توریت کے تمام قلمی نسخوں کو جمع کر کے آگ لگا دی۔ حتیٰ کی توریت کا ایک نسختہ بھی باقی نہ رہا۔ یہودی مورخوں کے مطابق اس کے ایک سو سال بعد ان کے ایک نبی “حضرت عزرا” Esdra نے جو (شاید حضرت عزیر علیہ السلام ہوں) یہ کہا کہ مجھے توریت زبانی یاد ہے۔ انہوں نے توریت املا کروائ۔ توریت کے اس اعادے کے کچھ عرصے بعد روما کے ایک حکمران نے فلسطین پر حملہ کیا۔ سپہ سالار کا نام انٹیوکس تھا اس نے بھی وہی کام کیا جو بخت نصر نے کیا تھا۔ یعنی یہودیوں کی کتابیں جمع کر کے جلا دیں۔ اس طرح دوسری مرتبہ وہ نابود کر دی گئیں۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایک اور رومی حکمران نے طیطس نامی کمانڈر کی ماتحتی میں ایک فوج بھیجی اور اس نے تیسری مرتبہ، فلسطین میں دستیاب شدہ یہودیوں کی تمام کتابوں کو جلا دیا۔ اب ہمیں توریت کے نام سے جو کتاب ملتی ہے وہ بائبل کے حصہ عہد نامہ عتیق (Old Testament) میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب پانچ کتابیں ہیں۔ یہ کتابیں تین چار مرتبہ کی آتش زدگی کے بعد اعادہ شدہ شکلیں ہیں۔ ان کا اعادہ کس طرح ہوا اور کس نے ان کا اعادہ کیا اس کے متعلق ہمیں کوئی علم نہیں۔ البتہ جو شخص ان کتابوں کو پڑھتا ہے تو اسے دو چیزوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ بعض اوقات اسے ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو کھٹکتی ہیں اور اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ اصل میں نہ ہوں گی بلکہ بعد کا اضافہ ہیں۔ بعض مقامات پر کمی محسوس ہوتی ہے اور تشنگی باقی رہتی ہے چنانچہ بعض چیزیں جو زیادہ ہو گئی ہیں وہ اس طرح ہیں کہ جو کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب ہے اس میں وہ باتیں ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد پیش آئیں۔ اگر آپ کتاب “تثنیہ” پڑھیں تو اس کے آخری باب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیماری، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تدفین اور اس کے بعد کے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حصہ بعد کا اضافہ ہے۔ مگر یہ تو ایسی باتیں ہیں جنہیں ہر پڑھنے والا فوراً محسوس کر لیتا ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس میں دیگر کتنی چیزوں کا اضافہ ہوا ہے جو غیر محسوس ہوں۔ اسی طرح جن چیزوں کی کمی نظر آتی ہے یا جن کا وہاں ہونا ضروری تھا مگر نہیں ہیں وہ ایسی ہیں کہ کم از کم بیس مرتبہ اس طرح کے الفاظ ملتے ہیں کہ اس حکم کی تفصیلیں فلاں باب میں ملیں گی۔ جن ابواب کے حوالے دئے گئے ہیں ان میں سے ایک بات کا نام “خدا کی جنگیں” اور ایک اور باب کا نام “مخلص اور نیک لوگوں کی کتاب” ہے۔ اور وہ باب سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ کچھ باتیں توریت کے متعلق تھیں جو میں نے آپ سے بیان کیں۔ توریت ضخیم صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور دنیا کی بیشتر زبانوں میں اس کے ترجمے ہو چکے ہیں۔

توریت کے بعد مسلمانوں میں عام طور پر زبور کا نام لیا جاتا ہے اور ہمارا تصور یہ رہا ہے کہ یہ بھی توریت اور انجیل ہی کی طرح ایک مستقل کتاب ہے۔ لیکن عہد نامہ عتیق (Old Testament) میں جو چیز حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف منسوب ہے اور جس کو وہ سام Psalm یعنی زبور کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس میں صرف خدا کی حمدو ثناء کی نظمیں ہیں۔ کوئی نیا حکم نہیں ہے۔ ہمارا یہ تصور ہے کہ ہر نبی ایک نئی شریعت لاتا ہے لیکن اس کتاب میں ایسی کوئی نئی شریعت نہیں ملتی۔ تاہم جس طرح پرانی کتابوں میں (کتاب ادریس سے لے کر ایران کے آوستا تک) ایک آخری نبی علیہ السلام کی بشارت ملتی ہے اس طرح زبور میں بھی ایسی چیزیں ملتی ہیں۔ نیز جو سرگزشت توریت کی رہی وہی زبور کی بھی رہی ہے اس لیے میں اس کو چھوڑ کر اب انجیل کا ذکر کرتا ہوں۔


انجیل کے متعلق مسلمانوں کا تصور عام طور پر یہ ہے کہ وہ ایک مستقل کتاب تھی جو خدا کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئ۔ لیکن ہمارے پاس عیسائیوں کے توسط سے جو انجیل پہنچی ہیں وہ ایک نہیں بلکہ چار انجیلیں ہیں، جو یہ ہیں متی Matthew، مرقس Mark، لوقا Luke، یوحنہ John۔ ہر انجیل ایک الگ آدمی کی طرف منسوب ہے۔ یہ چار کتابیں بھی ساری انجیلیں نہیں ہیں بلکہ خود عیسائی مورخوں کے مطابق ستر سے زیادہ انجیلیں پائی جاتی ہیں جن میں سے ان چار کو قابل اعتماد اور باقی کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے ان کو پڑھنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے الہام یا وحی پر مشتمل نہیں بلکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمریاں ہیں۔ چار شخصوں نے یکے بعد دیگرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری لکھی اور ہر ایک نے اس کو انجیل کا نام دیا۔ لفظ انجیل کے معنی ہیں ” خوشخبری” اور اس کی وجہ تسمیہ غالباً یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو حالات زندگی انجیل میں ملتے ہیں ان کے مطابق عام طور پر وہ کسی گاؤں میں جایا کرتے تھے اور وہاں کے لوگوں سے کہتے تھے کہ میں بشارت دیتا ہوں کہ خدا کی حکمرانی اب جلد آنے والی ہے۔ شاید اس اساس پر کتاب کا نام بھی یہی ہو گیا لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کوئی کتاب نازل ہوئی تھی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسے لکھوایا نہیں اس لیے آج دنیا میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ اب جو انجیلیں موجود ہیں، ان کی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے مختلف زمانوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمریاں لکھیں اور ان سوانح عمریوں کو ہر مؤلف نے انجیل کا نام دیا۔ ان میں سے چار کو کلیسا نے قابل اعتماد قرار دیا ہے اور باقی کو رد کیا ہے۔ ان چار انجیلوں کے انتخاب کے متعلق کسی کو کوئی علم نہیں کہ ان کو کس نے انتخاب کیا، کب انتخاب کیا اور کن معیارات کو سامنے رکھ کر انتخاب کیا؟ بہر حال اس بات پر سب متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لکھوائی ہوئی کتاب دنیا میں موجود نہیں ہے۔ جو چیز اس وقت ہمارے پاس انجیل کے نام سے ملتی ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمریاں ہیں۔ انہیں ہم “سیرت حضرت عیسٰی علیہ السلام” کہہ سکتے ہیں۔ بعینہ جس طرح مسلمانوں کے ہاں سیرت نبوی کی کتابیں پائی جاتی ہیں۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ پر نازل شدہ احکام کو لکھوایا کیوں نہیں تھا؟ میرے ذہن میں جو جواب آتا ہے (ممکن ہے غلط ہو) وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ان سے پہلے کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو توریت نازل ہوئی تھی اس کی کیا درگت بنی۔ دشمن حملہ کرتے ہیں اس کی توہین کرتے ہیں اسے جلا دیتے ہیں اور نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ غالباً انہوں نے یہ سوچا کہ کہیں میری کتاب کا بھی وہی حشر نہ ہو۔ لہٰذا بہتر ہے کہ اسے لکھوایا ہی نہ جائے۔ اس طرح یہ کتاب لوگوں کے ذہنوں میں رہے گی۔ عبادت گزار نیک لوگ اسے ادب سے یاد رکھیں گے اور اپنے بعد کی نسلوں تک پہنچائیں گے۔ شاید یہی تصور ہو جس کی بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی انجیل کو نہ لکھوایا۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ خدا چونکہ ازلی اور ابدی علم کا مالک ہے اس لیے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ حضرت آدم کو ایک حکم دے اور بعد کے نبی کو کوئی دوسرا اس کے بالکل برعکس حکم دے۔ البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کو کچھ احکام اور بعد کے نبی کو کچھ اور احکام اضافے کے ساتھ دیے جائیں۔ فرض کیجئے کہ حضرت آدم علیہ السلام پر نازل شدہ کتابیں آج دنیا میں صحیح حالت میں موجود ہوتیں تو (میرا تصور یہ ہے کہ) خدا کو کوئی نئی کتاب بھیجنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ وہی کتاب آج بھی کارآمد ہوتی۔ لیکن جس طرح ابھی ہم نے اس مختصر مطالعے میں دیکھا کہ پرانے انبیاء کی کوئی کتاب بھی بلا استثناء ہم تک من و عن کامل صورت میں نہیں پہنچی ہے اس لیے خدا نے چاہا کہ ایک مرتبہ انسان کو ایسی مکمل کتاب دی جائے جس میں تمام احکام ہوں اور اس کی مشیت یہ بھی ہوئی کہ یہ کتاب محفوظ رہے۔ وہ کتاب قرآن مجید ہے۔

اب ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن کس طرح محفوظ حالت میں ہم تک پہنچا ہے۔ اولاً میں اس کی زبان کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔ یہ عربی زبان میں ہے۔ اس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کے لیے عربی زبان کا انتخاب کیوں ہوا؟ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زبانیں رفتہ رفتہ بدل جاتی ہیں۔ خود اردو زبان کو لیجئے۔ اب سے پانچ سو سال پہلے کی کتاب مشکل سے ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ دنیا کی ساری زبانوں کا یہی حال ہے انگریزی میں پانچ سو سال پہلے کی مؤلف “چاسیر” (Chaucer) کی کتاب کو آج کل لندن کا کوئی شخص، یونیورسٹی کے فاضل پروفیسروں کے سوا، سمجھ نہیں سکتا۔ یہی حال دوسری قدیم و جدید زبانوں کا ہے۔ یعنی وہ بدل جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ ناقابل فہم ہو جاتی ہیں۔ اگر خدا کا آخری پیغام بھی کسی ایسی ہی تبدیل ہونے والی زبان میں آتا تو خدا کی رحمت کا اقتضاء یہ ہوتا کہ ہم بیسویں صدی کے لوگوں کو پھر ایک نئی کتاب دے تاکہ ہم اسے سمجھ سکیں کیونکہ گزشتہ صدیوں کی کتاب اب تک ناقابل فہم ہو چکی ہوتی۔ دنیا کی زبانوں میں سے اگر کسی زبان کو یہ استثناء ہے کہ وہ نہیں بدلتی تو وہ عربی زبان ہے۔ چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم عصر عربی یعنی قرآن مجید اور حدیث شریف میں جو زبان استعمال ہوئی ہے اور جو عربی آج ریڈیو پر آپ سنتے ہیں یا جو آج عربی اخباروں میں پڑھتے ہیں، ان دونوں میں بہ لحاظ مفہوم الفاظ، گرامر (صرف و نحو)، ہجے اور تلفظ، کوئی فرق نہیں ہے۔ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوں اور میں ایک عرب کی حیثیت سے اپنی موجودہ عربی میں آپ سے گفتگو کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہر لفظ سمجھیں گے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب مرحمت فرمائیں تو آپ کا ہر لفظ میں سمجھ سکوں گا۔ کیونکہ ان دونوں زبانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں اس سے یہ استنباط کرتا ہوں کہ آخری نبی پر بھیجی ہوئی آخری کتاب ایسی زبان میں ہونی چاہیے جو غیر تبدیل پذیر ہو لہٰذا عربی کا انتخاب کیا گیا، عرض کرنا یہ ہے کہ اس عربی زبان میں دیگر خصوصیات مثلاً فصاحت، بلاغت، ترنم وغیرہ کے علاوہ ایک خصوصیت ایسی ہے جس کا ہم سب مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ وہ یہ کہ عربی زبان غیر تبدیل پذیر ہے اور اس کے لیے ہمیں عربوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے مختلف علاقوں کی بولیوں کو اپنی زبان نہیں بنایا۔ بلکہ اپنی علمی اور تحریری زبان وہی رکھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے چلی آ رہی تھی۔

جہاں تک قرآن کا تعلق ہے آپ سب واقف ہیں کہ وہ بیک وقت نازل نہیں ہوا۔ جیساکہ توریت کے متعلق یہودیوں کا بیان کہ اسے خدا نے تختیوں پر لکھ کر ایک ہی مرتبہ دے دیا تھا۔ اس کے برخلاف قرآن مجید تئیس سال تک جستہ جستہ، (نجماً نجماً) نازل ہوتا رہا اور یہ ان مختلف زمانوں میں نازل شدہ اجزاء کا مجموعہ ہے جو قرآن مجید کی صورت میں ہمارے پاس ہے۔ اس کا آغاز دسمبر سنہ 609ء میں ہوا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں معتکف تھے۔ وہاں حضر جبرئیل علیہ السلام آتے ہیں اور آپ تک خدا کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ وہ پیغام بہت ہی اثر انگیز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک امی ہیں۔ انہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ اس امی شخص کو جو پہلا حکم دیا گیا وہ ہے “اقراء” یعنی پڑھ اور پھر قلم کی تعریف کی گئی ہے۔ پڑھنے کا حکم دے کر پھر قلم کی تعریف کیوں کی جاتی ہے؟ اس لیے کہ قلم ہی کے ذریعے سے خدا انسا کو وہ چیز بتاتا ہے جو وہ نہیں جانتا دوسرے الفاظ میں قلم ہی وہ چیز ہے جو انسانی تمدن اور انسانی تہذیب کی حفاظت گاہ (Depository) ہے۔ اس کا وجود اس لیے ہے کہ پرانی چیزوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔ آنے والے اس میں نئی چیزوں کا اضافہ کرتے ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقاء کا راز یہی ہے اور اسی وجہ سے انسان کو دیگر حیوانات پر تفوق حاصل ہے ورنہ آپ غور کریں گے کہ کوا آج سے بیس لاکھ سال پہلے جس طرح گھونسلا بناتا تھا آج بھی اسی طرح بناتا ہے۔ اس نے کوئی ترقی نہیں کی۔ لیکن انسان و جانور ہے جو چاند تک پہنچ چکا ہے۔ اس نے اتنی ترقی کی کہ آج وہ ساری کائنات پر حکومت کر رہا ہے۔ یہ ساری ترقیاں انسان نے اس لیے کی ہیں کہ اس کو اپنے سے پہلے کے لوگوں کے تجربات کا جو علم حاصل ہوا اس کو محفوظ رکھا اور اس میں اس نے اپنے ذاتی تجربوں سے روز افزوں اضافہ کیا اور اس سے استفادہ کرتا رہا۔ اور یہ سب قلم کی بدولت ممکن ہوا۔ آیت (علم بالقلم، علم الانسان مالم یعلم) میں اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے بہت ہی بلیغ انداز میں اشارہ کیا ہے۔ جب “سورۃ اقراء” (یعنی سورۃ العلق) کی پہلی پانچ آیاتا نازل ہوئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار کو چھوڑ کر گھر واپس آئے اور اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا کہ مجھے آج یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ شاید کسی دن مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے تسلی دی اور کہا کہ خدا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ضائع نہیں کرے گا۔ ورقہ بن نوفل میرا چچا زاد بھائی ہے جو ان معاملات (یعنی فرشتے، وحی وغیرہ) سے واقف ہے۔ کل صبح جا کر ہم اس سے گفتگو کریں گے، وہ آپ کو بتائے گا۔ میں ان چیزوں سے واقف نہیں ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ شیطان کبھی آپ کو دھوکا نہیں دے سکے گا۔ ایک روایت کے مطابق صبح کو وہ آپ کو اپنے ساتھ ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہیں۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے ان کے عزیز دوست ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کو یہ قصہ سنایا اور کہا کہ انہیں اپنے ساتھ لے جا کر ورقہ سے ملاؤ۔ ورقہ بن نوفل بہت بوڑھے تھے۔ ان کی بصارت زائل ہو چکی تھی، مذہباً نصرانی تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے اور یہ قصہ سنایا تو ورقہ نے بے ساختہ یہ الفاظ کہے: “اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جو چیزیں تم نے ابھی بیان کی ہیں، اگر وہ صحیح ہیں تو یہ ناموس موسیٰ علیہ السلام سے مشابہ ہیں”۔ “ناموس” کا لفظ اردو میں عام طور پر عزت کے لیے مستعمل ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں یہ مفہوم نہیں ہوسکتا۔ بعض مفسرین ناموس کے معنی “قابل اعتماد” لکھتے ہیں، وہ بھی یہاں موزوں نہیں ہے۔ بعض لکھتے ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ناموس کا نام دیا جاتا ہے۔ اسلامی ادبیات میں وہ “روح الامین” ہیں مگر یہ معنی بھی یہاں کام نہیں دیتے۔ میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ “ناموس” اصل میں ایک اجنبی لفظ ہے، جو معرب ہو کر عربی زبان میں استعمال ہوا۔ یہ یونانی زبان کا لفظ “ناموس” (Nomos) ہے۔ یونانی زبان میں لفظ توریت کو نوموس یعنی قانون کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ورقہ بن نوفل کا بیان ہے کہ یہ چیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توریت سے مشابہ ہے۔ اور یہی معنی زیادہ قرین قیاس نظر آتے ہیں۔


( ماخوز از خطبات بہاولپور ، ڈاکٹر حمید اللہ ؒ )





۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


( ڈاکٹر حمید اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈاکٹر حمیداللہ نے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد جرمنی کی بون یونیورسٹی سے اسلام کے بین الاقومی قانون پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں فرانس کی سوبورن یونیورسٹی پیرس سے عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں اسلامی سفارت کاری پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹر آف لیٹرز کی سند پائی۔ جامعہ عثمانیہ کے علاوہ جرمنی اور فرانس کی جامعات میں درس و تدریس کے فرایض انجام دینے کے بعد ڈاکٹر حمیداللہ فرانس کے نیشنل سینٹر آف ساینٹفک ریسرچ سے تقریبا بیس سال تک وابستہ رہے۔ آپ اردو، فارسی، عربی اور ترکی کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی، جرمن ، اور اطالوی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ کی کتابوں اور مقالات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں فرانسیسی زبان میں آپ کا ترجمہ قران ، اور اسی زبان میں‌دو جلدوں میں سیرت پاک ، قران کی بیبلیوگرافی ‘القران فی کل اللسان’ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی پر محققانہ تصانیف ‘بیٹل فیلڈز محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ، ‘مسلم کنڈکٹ آف اسٹیٹ’ اور ‘فرسٹ رٹن کانسٹیٹیوشن’ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی تحریر کی خوبی آپ کا آسان، عام فہم اور دعوتی انداز بیاں ہے۔ آپ کی تحریروں میں عالمانہ انکسار اور افہام و تفہیم کا جز جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ آپ تحقیق کا نچوڑ اور متقابل قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور اپنی راے بیان کر کے قاری کو اپنی راے متعین کرتنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ انداز جدید دور کے قاری کے لئے نہایت متاثر کن ہے۔ آپ کی عمر کا ہر لمحہ علمی تحقیق اور طلب علم میں‌گذرا ۔ 17 دسمبر 2002 کو اسلام کا یہ فرزند اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ فرانس میں‌قیام کے دوران ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا اشتیاق رہا لیکن شومی قسمت سے وہ جب تک صحت کی خرابی کی وجہ سےامریکہ منتقل ہو چکے تھے۔ اب جیکسن ول فلارڈا میں‌ہارڈیج گنز فیونرل ہومز میں منوںمٹی کے نیچے آرام فرما ہیں اور آپکا صدقہ جاریہ، کتابیں اور تحقیقی مقالہ جات دین کے طالبعلموں‌کے لئے زاد راہ ہیں۔

خطبات بہاولپور آپ کے مارچ 1980 میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں‌ دئے جانے والے لیکچرز کی جمع کردہ کتابی شکل ہے۔ ان تیرہ عدد خطبات میں مندرجہ زیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ تاریخ قران مجید، تاریخ حدیث شریف، تاریخ فقہ، تاریخ اصول فقہ و اجتہاد، قانون بین الممالک، دین عقائد عبادات تصوف، مملکت اور نظم و نسق، نظام دفاع اور غزوات، نظام تعلیم اور سرپرستی علوم، نظام تشریع و عدلیہ، نظام مالیہ و تقویم، تبلیغ اسلام اور غیر مسلموں سے برتاو۔ یہ کتاب عام فہم انداز میں تحریر کردہ ہے لیکن موجودہ دور کے کئی پیچیدہ سوالوں کے عام فہم اور با معنی جوابات کے لئے اس کا مطالعہ نہایت اکثیر ہے۔

تاریخ قرآن مجید (حصہ دوم ) - ڈاکٹر حمید اللہ ؒ


محقیقین کا خیال ہے کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق رض کے دور میں لکھاگیا ہے
قرآن مجید کا قدیم ترین نسخہ 

قرآن مجید کی تبلیغ و اشاعت کے متعلق قدیم ترین ذکر ابن اسحٰق کی کتاب المغازی میں ملتا ہے۔ یہ کتاب ضائع ہو گئی تھی لیکن اس کے بعض ٹکڑے حال ہی میں ملے ہیں اور حکومت مراکش نے ان کو شائع بھی کیا ہے۔ اس میں ڈیڑھ سطر کی ایک بہت دلچسپ روایت ہے، جسے ابن ہشام نے اپنی سیرۃ النبی میں معلوم نہیں کس بناء پر یا سہواً چھوڑ دیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: “جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کی کوئی عبارت نازل ہوتی تو آپ سب سے پہلے اس مردوں کی جماعت میں تلاوت فرماتے پھر اس کے بعد اسی عبارت کو عورتوں کی خصوصی محفل میں بھی سناتے”۔ اسلامی تاریخ میں یہ ایک ہم واقعہ ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عورتوں کی تعلیم سے بھی اتنی ہی دلچسپی تھی جتنی مردوں کی تعلیم سے۔ یہ قدیم ترین اشارہ ہے جو قرآن مجید کی تبلیغ کے متعلق ملتا ہے۔ اس کے بعد کیا پیش آیا یہ کہنا مشکل ہے لیکن بالکل ابتدائی زمانے ہی سے ہمیں ایک نئی چیز کا پتہ چلتا ہے وہ یہ کہ قرآن مجید کو لکھوا یا جائے اور غالباً حفظ کرانا بھی اسی ابتدائی زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جب حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پہلی وحی کے موقع پر قرآن مجید کی سورۂ اقراء کی پہلی پانچ آیتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائیں تو ایک حدیث کے مطابق حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دو کام اور کیے۔ ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو استنجاء اور وضو کرنا سکھایا کہ نماز کے لیے کس طرح اپنے آپ کو جسمانی طور پر پاک کریں۔ دوسرے یہ کہ نماز پڑھنے کا طریقہ بھی بتایا۔ خود جبرئیل علیہ السلام امام بنے اور پیغمبر مقتدی کی حیثیت سے پیچھے کھڑے دیکھتے رہے کہ پہلے کھڑے ہوں، پھر رکوع میں جائیں، پھر سجدہ کریں وغیرہ اور ساتھ ساتھ خود بھی وہی کرتے رہے۔ ظاہر ہے کہ نماز میں قرآن مجید کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں، لہٰذا ابتدائی زمانے ہی سے جب لوگ مسلمان ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا ہو گا کہ قرآن مجید کو حفظ بھی کرو اور روزانہ جتنی نمازیں پڑھنی ہوں ان نمازوں میں ان کا اعادہ بھی کرتے رہو۔ گویا اس وقت ہمیں دو باتیں نظر آتی ہیں۔ قرآن مجید حفظ کرنا اور اسی کو لکھنا۔ آدمی کو کسی نئی چیز کو ازبر کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی تحریری عبارت ہو تو اس کو بار بار پڑھتا ہے بالآخر وہ حفظ ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن کو حفظ کرنا اور لکھنا دونوں ایک ہی زمانے کی چیزیں ہیں۔ ہمارے مورخ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تو وہ اپنے صحابہ میں سے کسی ایسے شخص کو جسے لکھنا پڑھنا آتا ہوتا، یاد فرماتے اور اس کو املا کراتے تھے۔ اہم بات یہ بیان ہوئی ہے کہ لکھنے کے بعد اس سے کہتے کہ “جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر سناؤ” تاکہ اگر کاتب نے کوئی غلطی کی ہو تو اس کی اصلاح کرسکیں۔ یہ قرآن مجید کی تدوین کا آغاز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ لکھوانے کے بعد اپنے صحابہ کو حکم دیتے کہ اسے ازبر کر لو اور روزانہ دو وقت کی نمازوں میں پڑھو۔ اس وقت دو نمازیں تھی معراج کے بعد پانچ نمازیں ہوئیں تو دو کے بجائے پانچ مرتبہ اس کو لوگ نماز میں دہرانے لگے۔ اس کا ایک عملی فائدہ یہ ہے کہ اگر آدمی کا حافظہ اچھا نہ ہو اور سال بھر میں مثلاً صرف عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن قرآن مجید کو حافظے کی مدد سے پڑھے تو ممکن ہے کہ اس کو بھول جائے لیکن اگر کوئی آدمی روزانہ پانچ مرتبہ دہراتا ہے تو ظاہر ہے قرآن مجید اس کے حافظے میں رہے گا اور وہ اسے نہیں بھولے گا۔

الغرض قرآن مجید کو لکھنے اور اسے حفظ کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ اس سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال ہمیں نظر نہیں آتی ہے۔ ا س سے بڑھ کر ایک اور کام بھی ہوا وہ یہ کہ فرض کیجئے میرے پاس ایک تحریری نسخہ موجود جس میں کسی نہ کسی وجہ سے کتابت کی کچھ غلطیاں موجود ہیں اس غلط نسخے کو میں حفظ کر لیتا ہوں۔ اس طرح میرا حفظ بھی غلط ہو گا۔ اس کی اصلاح کس طرح کی جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف بھی توجہ فرمائی اور حکم فرمایا کہ ہر مسلمان کو کسی مستند استاد ہی سے قرآن مجید پڑھنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے بڑھ کر قرآن مجید سے کون واقف ہوسکتا ہے؟ اس لیے ہر مسلمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔ اگر اس کے پاس تحریری نسخہ موجود ہے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلاوت کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر فرمائیں کہ ہاں یہ نسخہ ٹھیک ہے تب اسے حفظ کیا جائے۔ جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تو ظاہر ہے کہ ایک آدمی سارے لوگوں کو تعلیم و تربیت نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ایسے صحابہ کو جن کی قرآن دانی کے متعلق آپ کو پورا اعتماد تھا یہ حکم دیا کہ اب تم بھی پڑھایا کرو۔ یہ وہ مستند استاد تھے جن کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سند دیتے تھے کہ تم پڑھانے کے قابل ہو اور اس کا سلسلہ آج بھی دنیا میں قائم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی استاد سے قرآن مجید پڑھتا ہے تو قرات کی تکمیل کے بعد استاد کی طرف سے اسے جو سند ملتی ہے اس میں وہ استاد لکھتا ہے کہ “میں نے اپنے شاگرد فلاں کو قرآن مجید کے الفاظ، قرآن مجید کی قرات کے اصولوں کو ملحوظ رکھ کر یہ تعلیم دی ہے۔ یہ بالکل وہی ہے جو میرے استاد نے مجھ تک پہنچائی تھی اور اس نے مجھے اطمینان دلایا تھا کہ اس کو اس کے اپنے استاد نے اسی طرح پڑھایا تھا۔ اس کا سلسہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی محفوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

اسلامی روایات (Tradition) کے سوا دنیا کی کسی قوم نے اپنی مذہبی کتاب کو محفوظ کرنے کے لیے یہ اصول کبھی اختیار نہیں کیے تھے۔ یہ چیزیں قرآن مجید کی تدوین کے سلسلے میں عہد نبوی میں ہی پیش آئیں مگر اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ ایک اور چیز کی بھی شروع ہی سے ضرورت تھی۔ قبل اس کے کہ میں اس کا ذکر کرو، قرآن مجید کے تحریری نسخوں کے متعلق بھی کچھ آپ کو بتاتا چلوں کہ ان کا کب سے پتہ چلتا ہے۔ غالباً نبوت کے پانچویں سال کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کے واقعہ سے آپ واقف ہوں گے۔ وہ اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت جانی دشمن تھے۔ ایک دن یہ طے کر کے گھر سے نکلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) قتل کر ڈالوں۔ راستے میں ان کا ایک رشتہ دار ملا جس نے اسلام تو قول کر لیا تھا لیکن اسے چھپا کر رکھا تھا۔ اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ ہتھیار سے لیس ہو کر کہاں جا رہے ہو؟ چونکہ وہ رشتہ دار تھا اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بتا دیا کہ میں محمد کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے جا رہا ہوں کہ اس نے ہنگامہ مچا رکھا ہے۔ اس رشتے دار نے کہا اے عمر، اپنے قبیلے کو بنو ہاشم کے قبیلے سے جنگ میں الجھانے سے پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن فاطمہ بھی مسلمان ہو چکی ہے اس کا شوہر بھی مسلمان ہو چکا ہے۔ پہلے اپنے گھر کی خبر لو بعد میں دنیا کی اصلاح کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیران ہوئے اور سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ دروازے کے پاس انہوں نے اندر سے کچھ آواز سنی جیسے کوئی شخص گا رہا ہے یا خوش الحانی سے کچھ پڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بہت زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، گھر سے ایک شخص نکلا اور یہ اندر پہنچے۔ وہاں بہن اور بہنوئی سے جو سخت کلامی ہوئی اس سے آپ لوگ واقف ہیں۔ میں مختصراً ذکر کر رہا ہوں کہ بالآخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بہن کواس بات پر آمادہ کر لیا کہ جو چیزیں پڑھ رہی تھیں وہ ان کو دکھائیں۔ انہوں نے غسل کرانے کے بعد آپ کو وہ چیز پیش کی۔ یہ قرآن مجید کی چند سورتیں تھیں۔ ان کو پڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ متاثر ہوئے اور مسلمان ہو گئے۔ اس واقعے سے میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن مجید کی کم از کم چند سورتوں کے تحریری صورت میں پائے جانے کا ذکر سنہ ٥ نبوی ہی سے یعنی قبل ہجرت سے ملتا ہے۔ اس کے بعد جس تحریری نسخے کا پتہ چلتا ہے اس کا ذکر بھی دلچسپ ہے۔ یہ غالباً بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ ہے۔ مدینے سے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ان میں سے بنی زریق کے ایک شخص کے بارے میں مؤرخین نے صراحت سے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی اس وقت تک نازل شدہ سورتوں کا مکمل مجموعہ ان کے سپرد کیا۔ یہ صحابی مدینہ منورہ پہنچ کر اپنے قبیلے میں اپنے محلے کی مسجد میں اسے روزانہ با آواز بلند پڑھا کرتے تھے۔ گویا قرآن مجید مدون ہونے یا تحریری صورت میں پائے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جس کا مورخوں نے صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

میں یہ بیان کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قرآن کو کسی مستند استاد سے پڑھنا پہلی خصوصیت تھی۔ دوسری خصوصیت تحریری صورت میں محفوظ رکھنا، تاکہ اگر کہیں بھول جائے تو تحریر دیکھ کر اپنے حافظے کو تازہ کر لیا جائے اور تیسری خصوصیت اسے حفظ کرنا تھا۔ ان تین باتوں کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن اس میں ایک پیچیدگی اس طرح پیدا ہو گئی تھی کہ قرآن مجید کامل حالت میں بہ یک وقت نازل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ جستہ جستہ 23 سال کے عرصے میں نازل ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میکانیکی طور پر مدون نہیں کیا کہ پہلی آیت شروع میں ہو اور بعد میں نازل شدہ دوسرے نمبر پر رہے بلکہ اس کی تدوین الہام اور حکمت نبوی کے تحت ایک اور طرح سے کی گئی۔ قرآن مجید کی اولین نازل شدہ آیتیں جیسا کہ میں نے ابھی آپ سے عرض کیا سورۂ اقراء کی ابتدائی پانچ آیتیں ہیں۔ یہ آیتیں سورہ نمبر 96 میں ہیں۔ جب کہ قرآن مجید کی کل سورتیں 114 ہیں۔ ان میں 96 نمبر پر ابتدائی سورۃ ہے۔ قرآن مجید میں اب جو بالکل ابتدائی سورتیں ملتی ہیں، مثلاً سورہ بقرہ وغیرہ وہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں۔ دوسرے الفاظ میں قرآن مجید ترتیب کے لحاظ سے مدون نہیں ہوا بلکہ ایک دوسری صورت میں مرتب ہوا۔ اس کی وجہ سے لوگوں کو دشواریاں پیش آسکتی تھیں۔ یعنی آج ایک سورۃ نازل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت دیتے ہیں کہ اس کو فلاں مقام پر لکھو۔ پھر کل ایک آیت نازل ہوئ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اس کو فلاں آیت سے قبل لکھو یا فلاں آیت کے بعد لکھو یا فلاں سورۃ میں لکھو۔ اس لیے ضرورت تھی کہ وقتاً فوقتاً نظر ثانی ہوتی رہے۔ لوگوں کے ذاتی نسخوں کی اصلاح اور نظر ثانی کا ذکر بھی ہجرت کے بعد سے ملتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے مہینے میں دن کے وقت قرآن مجید کو جتنا اس سال تک نازل ہوا تھا با آواز بلند دہرایا کرتے تھے اور ایسے صحابہ جن کو لکھنا پڑھنا آتا تھا وہ اپنا ذاتی نسخہ ساتھ لاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت پر اس کا مقابلہ کرتے جاتے تاکہ اگر ان سے کسی لفظ کے لکھنے میں یا سورتوں کو صحیح مقام پر درج کرنے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ اس کی اصلاح کر لیں۔ یہ چیز “عرضہ” یا پیشکش کہلاتی تھی۔ مؤرخین مثلاً امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے صراحت کی ہے کہ آخری سال وفات سے چند ماہ پہلے جب رمضان کا مہینہ آیا تو آپ نے پورے کا پورا قرآن مجید لوگوں کو دو مرتبہ سنایا اور یہ بھی کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری وفات قریب آ گئی ہے کیونکہ قرآن حکیم کے متعلق جبرئیل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں دو مرتبہ پڑھ کر سناؤں تاکہ اگر کسی سے غلطیاں ہوئی ہوں تو باقی نہ رہیں۔ یہ تھی تدبیر جو آخری نبی نے آخری پیغام ربانی کی حفاظت کے لیے اختیار فرمائ۔ اس طرح قرآن مجید کے ہم تک قابل اعتماد حالت میں پہنچنے کا اہتمام ہوا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو شروع میں قرآن مجید کی طرف کسی کی توجہ مبذول نہ ہوئ۔ لوگوں کے پاس جو کچھ موجود تھا اس کو نماز میں پڑھا کرتے تھے اور اس کا احترام کرتے تھے لیکن پھر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف اسلامی حکومت بلکہ تمام مسلمانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ قرآن مجید کی طرف فوری توجہ دیں۔ اس زمانے میں قرآن مجید کا کوئی سرکاری نسخہ موجود نہیں تھا اور غالباً کسی ایک شخص کے پاس بھی کامل قرآن مجید لکھا ہوا موجود نہیں تھا۔ یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آیا۔ ہوا یوں کہ ملک میں چند لوگ مرتد ہو گئے اور مسلیمہ کذاب نے نہ صرف ارتداد کیا بلکہ نئے نبی ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔ وہ چونکہ ایک طاقتور قبیلے کا سردار تھا اس لیے بہت سے لوگ اس کے حامی بھی ہو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے جنگ کی۔ یہ جنگ بہت شدید تھی اور اس میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی جب کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور جنگ بھی دشمن کے علاقے میں یمامہ کے مقام پر ہوئ۔ میں جب وہاں گیا تھا تو وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہ جنگ موجود شہر ریاض کے مضافات میں ہوئی تھی۔ اس جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ ان شہید ہونے والوں میں چند لوگ ایسے بھی تھے جو قرآن مجید کے بہترین حافظ تھے۔ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئ۔ مدینے کے مسلمانوں کو فتح پر خوشی ہوئی لیکن یہ اطلاع پاکر کہ بہت سے برگزیدہ اور بہترین حافظ قرآن مسلمان اس جنگ میں شہید ہوئے ہیں رنج بھی ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر قرآن مجید کے تحفظ پر حکومت نے توجہ نہ کی اور حافظ قرآن رفتہ رفتہ آئندہ جنگوں میں شہید ہوتے رہے یا طبعی موت سے اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے تو پھر قرآن مجید کے لیے بھی وہی دشواری پیش آئے گی جو پرانے انبیاء علیہ السلام کی کتابوں کے سلسلے میں پیش آئی تھی۔ اس لیے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اے امیر المومنین قرآن کے تحفظ پر توجہ فرمائیے۔ یمامہ کی جنگ میں چھ ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں جن میں بہت سے حافظ قرآن بھی تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس تجویز پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب، ان کی سیرت کے ایک خاص پہلو کا مظہر ہے۔ وہ فدائے رسول تھے اور فدائے رسول کا جواب ایسا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ میں کیسے کروں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحث کرتے ہیں۔ بالآخر دونوں اس بات پر رضا مند ہوئے کہ کسی تیسرے شخص کو حاکم بنائیں اور وہ جو فیصلہ کر دے اس پر عمل کریں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا حاکم بنایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاتب وحی تھے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فوری جواب بھی وہی تھا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ ہم کیسے کریں؟ دوبارہ بحث ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا اے زید! اگر لکھیں تو اس میں حرج کیا ہے؟ روایت میں حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ یہ ہیں کہ واقعی حرج تو مجھے بھی نظر نہیں آتا۔ یہ ایک جذباتی رویہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو ہم کیسے کریں؟ لیکن اگر کریں تو اس سے کوئی امر مانع نظر نہیں آتا۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ یہ کام میں سر انجام دوں تو مجھے یہ اتنا مشکل معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تدوین کے مقابلے میں اگر مجھے جبلِ احد کے سرپر اٹھانے کا حکم دیا جاتا تو وہ میرے لیے آسان ہوتا۔

قرآن مجید کی تدوین کے سلسلے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احکام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے شہر مدینہ میں ڈھنڈورا پٹوا دیا کہ جس شخص کے پاس قرآن مجید کا کوئی حصہ تحریری صورت میں موجود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس “عرضہ” کے موقع پر جو تلاوت ہوتی تھی اس سے کر کے تصحیح شدہ ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا ہوا نسخہ موجود ہے تو وہ لا کر اس کمیشن کے سامنے پیش کرے۔ کمیشن کے صدر حضرت زید بن ثابت تھے لیکن کئی اور مددگار بھی تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔ اس کمیشن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ قرآن مجید کے جو نسخے پیش کیے جائیں قابل اعتماد ہوں، عرضہ میں پیش کیے ہوئے نسخے ہوں۔ اگر کوئی آیت کم سے کم دو تحریری نسخوں میں موجود ہو تو اسے لکھا جائے ورنہ رد کر دی جائے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس طرح قرآن مجید کی تدوین ہوئی اور اس کو ایک کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگرانی میں انجام دیا گیا۔ یہ بات بھی نہ بھلائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کم از کم پچیس حافظ موجود تھے جن میں سے کچھ انصار تھے اور کچھ مہاجرین، جنہیں سارا قرآن مجید زبانی یاد تھا۔ ان میں ایک خاتون حافظہ حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی تھیں۔ خود اس کمیشن کے صدر، زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حافظ تھے۔ اس لیے انہوں نے جو کچھ لکھا اس میں یقین کے ساتھ لکھا کہ ان کے ذہن میں بھی اسی طرح موجود ہے یہاں ایک اور چھوٹی سی بات کا ذکر کرتا ہوں کہ جب لوگ نسخہ لا کر پیش کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں حکم دیتے تھے کہ قسم کھا کر بتاؤ کہ یہ نسخہ جو تم پیش کر رہے ہو وہی ہے جس کی تصحیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی ہے۔ وہ قسم کھا کر یقین دلاتے تو پھر اس سے استفادہ کیا جاتا۔ جب پورا قرآن مجید لکھا جا چکا تو حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے شروع سے آخر تک پڑھا۔ اس میں مجھے ایک آیت کم نظر آئی یہ آیت میرے حافظے میں تو موجود تھی مگر کسی تحریری نسخے میں موجود نہیں تھی۔ چنانچہ میں نے شہر کے چکر لگائے۔ ہر گھر میں داخل ہوا اولاً مہاجرین کے گھروں میں، کسی کے پاس یہ آیت تحریری صورت میں موجود نہیں تھی۔ پھر انصار کے گھروں کو گیا۔ بالآخر ایک شخص کے پاس ایک تحریری نسخہ ملا۔ وہ نسخہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا ہوا تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت تھی کہ جب تک دو تحریری نسخے نہ ملیں اس وقت تک اس کو قرآن کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ جبکہ یہ آیت صرف ایک تحریری نسخے میں ملی تھی۔ لیکن یہاں مشیت خداوندی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ اتفاق سے یہ وہ شخص تھا جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس کے کسی کام سے خوش ہو کر کہا تھا کہ آج سے تمہاری شہادت دو شہادتوں کے مساوی سمجھی جائے گی، ان کا نام خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ غرض یہ قدرت کی طرف سے پیشگی انتظام تھا۔ اس طرح اس آیت کو انہوں نے صرف ایک شخص سے لے کر نقل کیا۔ ان کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے قرآن کو دوبارہ پڑھا تو ایک اور آیت کی بھی کمی نظر آئی۔ ممکن ہے کہ وہ ایک ہی واقعہ ہو اور آیت کے متعلق راویوں میں اختلاف ہو۔ بہر حال وہاں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس نام والے ایک شخص نے وہ چیز بیان کی۔ یہ آیتیں جن کا ہمارے پاس صراحت سے ذکر موجود ہے، کہ کون سی آیتیں تھی، فرض کیجئے کہ اگر آج ہم ان کو قرآن مجید سے خارج بھی کر دیں تو کوئی اہم چیز خارج نہیں ہوتی۔ قرآن مجید کی جن آیتوں کی طرف یہ اشارہ ہے ان کا مفہوم دوسری آیتوں میں بھی موجود ہے۔ لیکن بہر حال جس احتیاط سے قرآن مجید کی تدوین عمل میں آئی اس کا مقابلہ تاریخ عالم کی دینی کتابوں می سے کوئی کتاب بھی نہیں کرسکتی۔

ایک اور نکتہ یہاں بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہو گا اور اسی پر یہ تقریر ختم کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کا ذکر ہے، جرمنی کے عیسائی پادریوں نے یہ سوچا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں آرامی زبان میں جو انجیل تھی وہ تو اب دنیا میں موجود نہیں۔ اس وقت قدیم ترین انجیل یونانی زبان میں ہے اور یونانی سے ہی ساری زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یونانی مخطوطوں کو جمع کیا جائے اور ان کا آپس میں مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ یونی زبان میں انجیل کے نسخے جتنے دنیا میں پائے جاتے تھے کامل ہوں کہ جزوی، ان سب کو جمع کیا گیا اور ان کے ایک ایک لفظ کا باہم مقابلہ (Collation) کیا گیا۔ اس کی جو رپورٹ شائع ہوئی اس کے لفظ یہ ہیں: “کوئی دو لاکھ اختلافی روایات ملتی ہیں” یہ ہے انجیل کا قصہ۔ غالباً اس رپورٹ کی اشاعت سے کچھ لوگوں کو قرآن کے متعلق حسد پیدا ہوا۔ جرمنی ہی میں میونک یونیورسٹی میں ایک ادارہ قائم کیا گیا “قرآن مجید کی تحقیقات کا ادارہ” اس کا مقصد یہ تھا کہ ساری دنیا سے قرآن مجید کے قدیم ترین دستیاب نسخے خرید کر، فوٹو لے کر، جس طرح بھی ممکن ہو جمع کیے جائیں۔ جمع کرنے کا یہ سلسلہ تین نسلوں تک جاری رہا۔ جب میں 1933ء میں پیرس یونیورسٹی میں تھا تو اس کا تیسرا ڈائریکٹر پریتسل Pretzl، پیرس آیا تھا تاکہ پیرس کی پبلک لائبریری میں قرآن مجید کے جو قدیم نسخے پائے جاتے ہیں ان کے فوٹو حاصل کرے۔ اس پروفیسر نے مجھ سے شخصاً بیان کیا کہ اس وقت (یہ 1933ء کی بات ہے) ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں قرآن مجید کے بیالیس ہزار نسخوں کے فوٹو موجود ہیں اور مقابلے (Collation) کا کام جاری ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس ادارے کی عمارت پر ایک امریکی بم گرا اور عمارت اس کا کتب خانہ اور عملہ سب کچھ برباد ہو گیا لیکن جنگ کے شروع ہونے سے کچھ ہی پہلے ایک عارضی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں کہ قرآن مجید کے نسخوں میں مقابلے کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا وہ ابھی مکمل تو نہیں ہوا لیکن اب تک جو نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ ان نسخوں میں کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں تو ملتی ہیں لیکن اختلافاتِ روایت ایک بھی نہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ کتابت کی جو غلطی ایک نسخے میں ہو گی وہ کسی دوسرے نسخوں میں نہیں ہو گی۔ مثلاً فرض کیجئے “بسم اللہ الرحیم” میں “الرحمٰن” کا لفظ نہیں لیکن یہ صرف ایک نسخے میں ہے۔ باقی کسی نسخے میں ایسا نہیں ہے۔ سب میں “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” ہے۔ اس کو ہم کاتب کی غلطی قرار دیں گے۔ یا کہیں کوئی لفظ بڑھ گیا ہے مثلاً ایک نسخے میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے باقی نسخوں میں نہیں تو اسے کاتب کی غلطی قرار دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسی چیزیں کہیں کہیں سہو قلم یعنی کاتب کی غلطی سے ملتی ہیں لیکن اختلاف روایت یعنی ایک ہی فرق کئی نسخوں میں ملے ایسا کہیں نہیں ہے۔ یہ قرآن مجید کی تاریخ کا خلاصہ، جس سے ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں خدا کا جو فرمان ہے (انا نحن نزلنا الذکر ونا لہ لحافظون) “ہم ہی اسے نازل کرتے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے” یہ تمام واقعات جو میں نے آپ سے بیان کیے اس آیت کی حرف بحرف تصدیق کرتے ہیں۔"

( ماخوز از خطبات بہاولپور ، ڈاکٹر حمید اللہ ؒ )

قرآن مجید کے نایاب نسخوں کی نمائش

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے نیشنل میوزیم میں 27 فروری سنہ 2018 کو پہلی بار قرآن مجید کے نادر و نایاب نسخوں کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔



نمائش میں شامل تمام قرآن مجید نیشنل میوزیم کی ملکیت ہے اور اس کی پہلی بار نمائش کی ہے۔اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھوں کی تحریر کردہ قرآن مجید بھی شامل ہے جو خط کوفی میں جانور کی کھال کی جھلی پر لکھی گی ہے۔اس میں شامل کلام پاک کوفی، نسخ، ریحان، ثلث اور بہاری خط میں ہیں۔



اس میں سے کئی کلام پاک کے صفحات کو سونے کے پانی اور لاجورد سے سجایا گیا ہے جبکہ ایک کلام پاک میں جہاں جہاں اللہ کا نام آیا ہے اسےسونے سے لکھا گیا ہے۔

اس نمائش میں ایک کرتے پر پورا قرآن لکھا ہوا ہے۔ دنیا میں یہ واحد کرتا ہے جس پر مکمل قرآن ہے جو کہ بہت ہی باریک بینی کے ساتھ خط نسخ میں لکھا گیا ہے اور اس میں اللہ کے 99 نام خط ریحان میں لکھے ہوئے ہیں.



اس نمائش کی خاص بات مشتی قران ہے جس کی پہلی بار نمائش ہوئی ہے۔ قرآن کے ان نسخوں کے ساتھ بادشاہ شاہ جہاں اور اورنگزیب عالم گیر کی مہریں بھی ہیں۔





دہلی نیشنل موزیم کے کیوریٹر خطیب الرحمان کے مطالبق خط بہاری عربی زبان میں ہندوستان کی دین ہے جو کہ اپنے آپ میں بڑا کارنامہ ہے۔نمائش میں آئے مرزا ذکی احمد بیگ نے بتایا کہ نیشنل میوزیم کی یہ کوشش قابل ستائش ہے اور انھوں نے نیشنل میوزیم کے ڈائرکٹر جنرل سے گذارش کی ہے کہ اس قسم کی نمائش کا بڑے پیمانے پر ملک کے مختلف حصوں میں انعقاد کیا جائے تاکہ لوگ ہندوستان کی عظیم تاریخی وراثت سے روشناس ہو سکیں۔



سابق کیوریٹر ڈاکٹر نسیم اختر نے بتایا کہ دہلی نیشنل میوزیم میں قرآن کے علاوہ فارسی کے نوادرات ہیں۔ معروف فارسی شاعر حافظ شیرازی اور سعدی کی گلستاں کے اولین نسخے ہیں۔







قرآن مجید کے قدیم ترین نسخہ کا انکشاف

قرآن مجید کے قدیم  ترین نسخہ کا انکشاف

 جوبرطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی ایک لائبریری سے ملاہے  محققین کے مطابق   یہ   حضر ت ابوبکر صدیق  ( رضی اللہ عنہ ) کے  دورمیں لکھا گیاتھا



جولائی 2015 میں برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی ایک لائبریری سے ملنے والے قرآن پاک کے قدیم ترین نسخے کے منظرعام پرآنے کی خبر نے اس وقت ایک تہلکہ مچا دیا تھا جب پتا چلا کہ قرآن کا یہ حصہ اب تک دستیاب قرآن پاک کے پرانے نسخوں میں سب سے قدیم ہے۔

  قرآن پاک کے اسی پرانے نسخے کے بارے میں  تحقیقات کی گئی ہیں جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ مذکورہ قرآنی نسخہ نہ صرف سب سے پرانا ہے بلکہ اسے ممکنہ طور پر خود دور رسالت مآب صلی علیہ وسلم یا پہلے خلیفہ راشد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتب کیا گیا تھا۔

برمنگھم یونیورسٹی کی جانب سے کیے جانے والے ریڈیو کاربن ٹٰیسٹ سے قرآن پاک کے نسخے کے لیے استعمال کی گئی جلد کی عمر کا پتا چلایا گیا تو معلوم ہوا تھا کہ یہ جلد 1370 برس یا اس سے بھی پہلے کی ہے۔ دبئی میں قائم تحقیقات اسلامی کے ادارے’’محمد بن راشد آل مکتوم فاؤنڈیشن‘‘ سے وابستہ اسلامی اسکالر جمال بن حویرب نے بھی اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ قرآن کریم کا مذکورہ نسخہ 1370 برس سے پہلے یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تحریر کیا گیا ہے۔
دبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بن حویرب نے ’’بی بی سی‘‘ ریڈیو کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کو درست قرار دیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ قرآنی نسخہ اسلامی تحقیقات کے باب میں قرآن کی سب سے پرانی دستاویزات قرار دیا جا سکتا ہے۔اسے ممکنہ طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مرتب کیا گیا۔ اسے ’اصل القرآن‘ کہنا درست ہو گا کہ قرآن کا جو پرانا حصہ ملا ہے وہ موجودہ قرآنی نسخوں سے حرف بہ حرف یکسانیت رکھتا ہے۔ دستیاب ہونے والے پرانے نسخے کو بجا طور پر قرآنی تحقیقات کے باب میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

قرآن کریم کا یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی کھال پر تحریر کیا گیا۔ کاربن ریڈیو ٹیسٹ سے 95.4 فی صد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھیڑ یا بکری کی کھال 568ء سے 645ء کے درمیان اتاری گئی تھی۔ سیرت نبوی کی کتب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 23 اپریل 571ء بتائی جاتی ہے اور بعث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز سنہ 610 اور وفات رسول 632ء میں مدینہ منورہ میں ہوتی ہے۔ ٹیسٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کی کھال پر قرآن پاک کا یہ نسخہ لکھا گیا وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھا۔

برمنگھم یونیورسٹی میں قدیم اسلامی اور مسیحی مخطوطات کے ماہر پروفیسر ڈیود ٹامس کہتے ہیں کہ یہ قرآن پاک کا یہ نسخہ ہمیں نبی اکرم آخر الزمان صلی للہ علیہ وسلم کے دور کے بہت قریب لے جاتا ہے۔ حجازی رسم الخط میں لکھے اس قدیم قرآنی نسخے نے قرآن پاک کے بارے میں بہت سے شکوک وشبہات کو ختم کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن پاک جیسا کہ نبی کے دور میں تھا ایسا ہی چودہ سوسال بعد آج بھی امت کے پاس اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں کی گئی ہے۔

پروفیسر ٹامس کہتے ہین قرآن نسخے کا کاتب کوئی صحابی رسول ہے جس نے آخری نبی کی صحبت اختیار کی یا کم سے کم وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طور پر جانتا بھی تھا۔ اگر یہ بھی نہیں تواس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار ضرور دیکھا ہو گا۔ جس دور میں قرآن کا یہ نسخہ لکھا گیا اس دور میں قرآن اگرچہ کسی مربوط کتابی شکل میں نہیں تھا ۔ کچھ حصہ کجھور کی چھال پر، جانوروں کی کھال اوراونٹوں کی ہڈیوں پر لکھا گیا تھا۔

یہاں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا کتابت کتاب اللہ کے اس نسخے کی آیات کا کاتب کون ہے۔ اس حوالے سے غالب امکان ہے کہ کتابت آیات کا فریضہ کسی صحابی رسول صلی للہ علیہ وسلم نے انجام دیا مگر یہ کتابت حضرت ابو بکر صدیق کے 27 ماہ دور خلافت میں ہوئی ہوگی۔ اگر کتابت قرآن حضرت ابو بکر کے دور میں نہیں ہوئی تو بالقین کہا جا سکتا ہے کہ یہ کام دوسرے خلیفہ فاروق اعظم کے دور میں ہوا تھا۔

دور رسالت میں کتابت قرآن کا امکان
اسلامی اورعیسائیت پر تحقیقات کرنے والے مستشرق اور برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ ٹامس کا کہنا ہے کہ غالب امکان یہ ہے کہ جس جانور کی کھال پر قرآن کا یہ حصہ لکھا گیا وہ دور نبوت میں زندہ تھا۔ یہ امکان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے قبل بھی وہ جانور موجود تھا۔

اس سے قبل پروفیسر ٹامس نے دعویٰ کیا تھا کہ قرآن کا مذکورہ نسخہ حضرت ابو بکرصدیق کے وصال اور تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے درمیان 20 سال کے عرصے میں مرتب کیا گیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ اس سے پیشتر بھی صدر اسلام کے ابتدائی برسوں کے دوران لکھے گئے قرآن کریم کے اس نسخے کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ میں روشنی ڈال چکا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی یہ بتا دیا گیا تھا کہ قرآن کریم کا دستیاب نسخہ حجازی رسم الخط میں لکھا گیا اور یہ عربی زبان کا قدیم ترین رسم الخط ہے۔

قران کریم کے قدیم ترین نسخے کی عمر کا سو فی صد تعین کرنا ذرا مشکل ہے۔ تاہم امکان ہے کہ یہ نسخہ دور رسالت میں بھی لکھا گیا ہے۔ اگر یہ قرآنی نسخہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لکھا تو بھی آپ نے اسے دیکھا اور اس پر کوئی تبصرہ ضرور فرمایا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ قرآنی تحریر آپ کے پاس رہی ہوگی اور اسے آپ کی نظر مبارک نے بھی دیکھا ہو گا۔

برمنگھم میں پائے جانے والے صفحات کے بارے میں سب سے زیادہ حیران کن بات’ کاربن ڈیٹنگ‘ کے طریقہ کار سے سنہ 568 اور سنہ 645 کے درمیان ان دستاویزات کی تاریخ کا تعین ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 632 ء میں رفیق اعلیٰ سے جا ملے جب کہ اس نسخے کی تحریر کی آخری تاریخ 645 عیسوی کی ہے، یعنی آپ کی رحلت کے صرف 13 برس بعد اسے لکھا گیا۔

برمنگھم یونیورسٹی میں عیسائیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ ٹامس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے ان صفحات کو تحریر کیا وہ یقینی طور پرآن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کو جانتا ہو گا، آپ سے ملا ہو گا اور آپ کی صحبت اختیار کی ہو گی۔

قرآنی نسخہ عراقی راہب نے خریدا
برمنگھم یونیورسٹی میں ملنے والے قرآن کریم کے صفحات 1370 سال پرانے ہیں اور یہ ایک زمانے میں مصر میں فسطاط میں واقع دُنیا کی قدیم ترین مسجد عمر بن عاص میں رکھے ہوئے تھے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماہرین کو تقریباً یہ یقین ہو گیا ہے کہ یہ صفحات پیرس میں فرانس کی نیشنل لائبریری ’ببلیوتھک نیشونال دی فرانس‘ میں رکھے قرآن شریف کے صفحات سے ملتے ہیں۔

لائبریری اس بارے میں قرآن کے تاریخ دان اور کالج دی فرانس میں معلم فرانسوا دریچو کا حوالہ دیتی ہے جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برمنگھم میں ملنے والے صفحات اور پیرس کی لائبریری میں رکھے ہوئے صفحات قرآن شریف کے ایک ہی نسخے کے ہیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کی دستاویزت میں قرآن شریف کے صفحات تلاش کرنے والے محقق البا فدیلی کا بھی یہی کہنا ہے کہ پیرس اور برمنگھم یونیورسٹی میں موجود صفحات ایک ہی نسخے کے ہیں۔

پیرس کی لائبریری میں رکھے ہوئے صفحات کے بارے میں علم ہے کہ یہ فسطاط میں مسجد عمر بن عاص کے قرآن شریف کے نسخے کے ہیں۔

پیرس کی لائبریری کے صفحات انیسویں صدی کے اوائل میں نپولین کی فوج کے مصر پر قبضے کے دوران وہاں تعینات وائس کونسل ایسلین دی چرول یورپ لائے تھے۔

پروفیسردریچو کا کہنا ہے کہ ایسلین دی چرول کی بیوہ نے یہ نسخہ اور کچھ اور قدیم دستاویزات برٹش لائبریری کو سنہ 1820 میں فروخت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ پیرس کی نیشنل لائبریری کو مل گئے اور جب سے اب تک یہ وہیں محفوظ ہیں۔
اسی دوران کچھ حصے نکال لیے گئے جو بعد میں فروخت کر دیے گئے۔ قیاس یہی ہے کہ متعدد بار فروخت ہونے کے بعد یہ صفحات ایک عراقی پادری ’ایلفاس منگانا‘ کے ہاتھ آئے۔ وہ مشرق وسطی میں نوادرات اکٹھا کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ جایا کرتے تھے جن کا خرچہ برطانیہ کا کیڈبری خاندان اٹھاتا تھا۔

پروفیسر دریچو کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی سرکاری شواہد موجود نہیں رہے لیکن اس طرح منگانا کو فسطاط کے خزینے کی چند دستاویزات ملی ہوں گی۔ منگانا کو انہی گراں قدر علمی خدمات کے عوض ’لیجن آف آنر‘ کا اعزاز دیا گیا۔

( آن لائن حوالہ  :#قرآن_مجید, #)