‏قرآن اور سیرت النبی ﷺ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏قرآن اور سیرت النبی ﷺ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اوصافِ مصطفیٰ ﷺ کا قرآنی تناظر

دنیا کا کوئی بھی مصنف جب کسی شخصیت پر قلم اٹھاتا ہے تو وہ مبالغے اور حقیقت کے درمیان توازن تلاش کرتا ہے، لیکن جب بات نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی کی ہو تو قلم خود بخود عجز کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ آپ ﷺ کی شخصیت کا حسن صرف انسانی آنکھ کی پسندیدگی تک محدود نہیں، بلکہ یہ وہ جمال ہے جس کی گواہی خود اس کائنات کے خالق نے اپنی لاریب کتاب میں دی ہے۔

قرآنِ کریم کی سورہ القلم میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ" (اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر فائز ہیں)، وہ سند ہے جس نے رہتی دنیا تک کے لیے کمالِ انسانیت کا معیار طے کر دیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ لفظ "خُلق" میں انسان کا ظاہر اور باطن دونوں شامل ہیں۔ اللہ کا آپ ﷺ کے اخلاق کو "عظیم" کہنا اس بات کی گواہی ہے کہ آپ ﷺ کی شخصیت میں کوئی پہلو ایسا نہیں تھا جو حسن اور توازن سے خالی ہو۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورج کو 'سراج' اور چاند کو 'منیر' کہا، لیکن جب اپنے محبوب ﷺ کی باری آئی تو دونوں اوصاف کو یکجا کر کے "سراجاً منيراً" (روشن سورج) کے لقب سے نوازا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ آپ ﷺ کا وجودِ مبارک اندھیری راہوں میں بھٹکنے والوں کے لیے ہدایت کا وہ نور ہے جس میں تمازت بھی ہے اور چاند جیسی ٹھنڈک بھی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے اسی قرآنی صفت کو اپنے شعر میں یوں ڈھالا کہ "اگر آپ ﷺ کے پاس معجزات نہ بھی ہوتے، تب بھی آپ ﷺ کا چہرہ ہی سچائی کی گواہی کے لیے کافی تھا"۔

قرآن میں جنگ کے احکام - مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ

قرآن میں جنگ کے احکام 
 فَاِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَضَرۡبَ الرِّقَابِ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَثۡخَنۡتُمُوۡہُمۡ فَشُدُّوا الۡوَثَاقَ ٭ۙ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعۡدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا ۬ۚ ( سورہ محمد ) 

پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کر دیا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔

مولانا سید ابوالاعلی صاحب مودودی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" اس آیت کے الفاظ سے بھی، اور جس سیاق و سباق میں یہ آئی ہے اس سے بھی یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لڑائی کا حکم آ جانے کے بعد اور لڑائی شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ ’’جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو‘‘ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ابھی مڈ بھیڑ ہوئی نہیں ہے اور اس کے ہونے سے پہلے یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب وہ ہو تو کیا کرنا چاہیے۔

آنحضور ﷺ کی شرح صدرسے کیا مراد ہے ؟

شرح صدر کے بارے میں  مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ  نے سورۃ الانشراح کی تفسیر میں  بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے ۔

"سینہ کھولنے کا لفظ قرآن مجید میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں:

(1) سورۃ انعام آیت 125 میں فرمایا ’’فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ‘‘’’پس جس شخص کو ا للہ تعالی ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے کھول دیتا ہے‘‘۔ اور سورہ زمر آیت 22 میں فرمایا ’’أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ‘‘’’تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو پھر وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۔ ان دونوں مقامات پر شرح صدر سے مراد ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردد سے پاک ہو کر اس بات پر پوری طرح مطمئن ہو جانا ہے کہ ا سلام کا راستہ ہی برحق ہے اور وہی عقائد ، وہی اصول اخلاق و تہذیب و تمدن، اور وہی ا حکام و ہدایات بالکل صحیح ہیں جو اسلام نے انسان کو دیے ہیں۔

امام الانبیاء والمرسلین کی عظمت و شان جلالت

حضرت سیدنا علی اور ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی سے یہ پختہ وعدہ لیا کہ اگر اس کی موجودگی میں سرور عالم وعالمیاں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما ہوں تو اس نبی پر لازم ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لا کر آپ کی امت میں شمولیت کا شرف حاصل کرے اور ہر طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کی تائید ونصرت کرے اور تمام انبیا نے یہی عہد اپنی اپنی امتوں سے لیا۔ 

السید المحقق محمود الالوسی صاحب روح المعانی تحریر فرماتے ہیں۔

" ومن ھنا ذھب العارفون الی انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھو النبی المطلق والرسول الحقیقی والمشرع الاستقلالی وان من سواہ من الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام فی حکم التبعیۃ لہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔"

رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے میں مدینہ کے لوگوں کی سبقت

مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ اپنے یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی آمد کی خبر ان کے لیے ایک مانوس خبر تھی۔ یہ مسلمان طبعی طور پر اس امید میں تھے کہ جن یہودیوں کی باتیں سن کر ان کے دل کے اندر قبول اسلام کا ابتدائی جذبہ ابھرا تھا وہ یقیناً خود بھی آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ وہ پرجوش طور پر ان یہودیوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر جاتے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دینے والے بنیں ۔

مگر مسلمانوں کو اس وقت سخت دھچکا لگتا جب وہ دیکھتے کہ ان کی امیدوں کے برعکس یہود ان کی دعوت پر لبیک کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسکے نتیجہ میں ایک اور نزاکت پیدا ہو رہی تھی۔ جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رقابت اور عناد رکھتے تھے وہ مسلمانوں سے کہتے کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ اتنا یقینی نہیں جتنا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ اتنا یقینی ہوتا تو یہ یہودی علماء ضرور ان کی طرف دوڑ پڑتے۔ کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔

مگر کسی بات کو قبول کرنے کے لیے اس بات کا جانناکافی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ یہود کا حال یہ تھا کہ انہوں نے خود اپنے پاس کی ان کتابوں میں تبدیلیاں کر ڈالیں جن کو وہ آسمانی کتابیں مانتے تھے۔ اپنی مقدس کتابوں میں وہ جس بات کو اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے اس میں تاویل یا تحریف کرکے اس کو اپنی خواہش کے مطابق بنا لیتے۔ وہ اپنے دین کو اپنے دنیوی مفادات کے تابع بنائے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس قسم کی غیر سنجیدگی کا ثبوت دے رہے ہوں وہ اپنے سے باہر کسی حق کو ماننے پر کیسے راضی ہوجائیں گے ۔

کوئی بات خواہ کتنی ہی برحق ہو، اگر آدمی اس کا انکار کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل ڈھونڈھ لے گا۔ اس تاویل کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے معاملہ کی سنگینی آدمی کے دل سے نکل جاتی ہے۔ وہ خدا کے حکم کو سنتا ہے مگر لفظی تاویل کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس حکم کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنا دیتی ہے جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے ۔


(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ تفسیر آیات : 75 تا 77، مولانا وحید الدین خاں ) 

تحویل قبلہ کا حکم

"یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔ " 

(سورۃ البقرۃ آیت : 143)

یہ ہے وہ اصل حکم ، جو تحویلِ قبلہ کے بارے میں دیا گیا تھا۔ یہ حکم رجب یا شعبان ۲ ہجری میں نازل ہوا۔

 ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بِشْر بن بَراء بن مَعْرُور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا اور آپ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے سے یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رُخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ بَراء بن عازِب کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع میں تھے۔ حکم سنتے ہی سب کے سب اسی حالت میں کعبے کی طرف مُڑ گئے۔

 اَنس بن مالک کہتے ہیں کہ بنی سَلمَہ میں یہ اطلاع دُوسرے روز صبح کی نماز کے وقت پہنچی۔ لوگ ایک رکعت پڑھ چکے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز پڑی: ”خبردار رہو، قبلہ بدل کی کعبے کی طرف کر دیا گیا ہے“۔ سنتے ہی پوری جماعت نے اپنا رُخ بدل دیا۔ 


خیال رہے کہ بیت المقدس مدینے سے عین شمال میں ہے اور کعبہ بالکل جنوب میں ۔ نماز باجماعت پڑھتے ہوئے قبلہ تبدیل کرنے میں لامحالہ امام کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہو گا اور مقتدیوں کو صرف رُخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا ، بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنی پڑی ہوں گی۔ چنانچہ بعض روایات میں یہی تفصیل مذکور بھی ہے۔ 

اور یہ جو فرمایا کہ” ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے ہیں “ اور یہ کہ” ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو“، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحویلِ قبلہ کا حکم آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِس کے منتظر تھے۔ آپ خود یہ محسوس فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دَور ختم ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیّت بھی رخصت ہوئی۔ اب اصل مرکزِ ابراہیمی کی طرف رُخ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 


مسجدِ حرام کے معنی ہیں حُرمت اور عزّت والی مسجد۔ اس سے مُراد وہ عبادت گاہ ہے، جس کے وسط میں خانہء کعبہ واقع ہے۔  کعبے کی طرف رُخ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی خواہ دُنیا کے کسی کونے میں ہو، اُسے بالکل ناک کی سیدھ میں کعبے کی طرف رُخ کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا ہر وقت ہر شخص کے لیے ہر جگہ مشکِل ہے۔ اسی لیے کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، نہ کہ کعبے کی سیدھ میں۔ قرآن کی رُو سے ہم اس بات کے لیے ضرور مُکَلف ہیں کہ حتّی الامکان صحیح سَمْتِ کعبہ کی تحقیق کریں، مگر اس بات پر مُکَلف نہیں ہیں کہ ضرور بالکل ہی صحیح سَمْت معلوم کر لیں۔ جس سمت کے متعلق ہمیں امکانی تحقیق سے ظنِ غالب حاصل ہو جائے کہ یہ سَمْتِ کعبہ ہے، اُدھر نماز پڑھنا یقیناً صحیح ہے۔ اور اگر کہیں آدمی کے لیے سَمْتِ قبلہ کی تحقیق مشکل ہو ، یا وہ کسی ایسی حالت میں ہو کہ قبلے کی طرف اپنی سَمْت قائم نہ رکھ سکتا ہو (مثلاً ریل یا کشتی میں ) تو جس طرف اسے قبلے کا گمان ہو، یا جس طرف رُخ کرنا اس کے لیے ممکن ہو، اسی طرف وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ البتہ اگر دورانِ نماز میں صحیح سمت ِ قبلہ معلوم ہو جائے یا صحیح سَمْت کی طرف نماز پڑھنا ممکن ہو جائے ، تو نماز کی حالت ہی میں اس طرف پھر جانا چاہیے۔


(تفہیم القرآن جلد اول ،  سُوْرَةُ الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :146، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

مجلس نبوی ﷺ کے آداب ۔

یہُودی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے، تو اپنے سلام اور کلام میں ہر ممکن طریقے سے اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ذُو معنی الفاظ بولتے، زور سے کچھ کہتے اور زیرِ لب کچھ اور کہہ دیتے، اور ظاہری ادب آداب برقرار رکھتے ہوئے درپردہ آپ کی توہین کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھتے تھے۔ قرآن میں آگے چل کر اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں جس خاص لفظ کے استعمال سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے، یہ ایک ذُومعنی لفظ تھا۔

 جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے دَوران میں یہُودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ٹھیریے، ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجیے، تو وہ رَاعِنَا کہتے تھے۔اس لفظ کا ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ذرا ہماری رعایت یہ کیجیے یا ہماری بات سُن لیجیے۔ مگر اس میں کئی احتمالات اور بھی تھے۔ مثلاً عبرانی میں اس سے مِلتا جُلتا ایک لفظ تھا، جس کے معنی تھے”سُن، تُو بہرا ہو جائے “۔ اور خُود عربی میں اس کے ایک معنی صاحبِ رعونت اور جاہل و احمق کے بھی تھے۔ اور گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بھی بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ تم ہماری سُنو، تو ہم تمہاری سُنیں۔ اور ذرا زبان کو لچکا دے کر رَاعِیْنَا بھی بنا لیا جاتا تھا، جس کے معنی ”اے ہمارے چرواہے“ کے تھے۔ 

اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے اُ نْظُرْ نَا کہا کرو۔ یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے یا ذرا ہمیں سمجھ لینے دیجیے۔ پھر فرمایا کہ ”توجّہ سے بات کو سُنو“، یعنی یہُودیوں کو تو بار بار یہ کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر توجّہ نہیں کرتے اور ان کی تقریر کے دَوران میں وہ اپنے ہی خیالات میں اُلجھے رہتے ہیں ، مگر تمہیں غور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننی چاہییں تاکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔



(تفہیم القرآن ، سُوْرَةُ الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :108، سید ابوالاعلی مودودیؒ )

محمد رسول اللہ ﷺکی شخصیت سورۃ الانشراح کی روشنی میں


                                                                    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ   


اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾ وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾ فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ﴿۷﴾ وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ﴿۸﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا1؟ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اُتار دیا جو تمہاری کمر توڑ ڈال رہا تھا2۔ اور تمہاری خاطر تمہارے ذِکر کا آواز  بلند کر دیا3۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے ۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے4۔ لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاوٴ اور اپنے ربّ ہی کی طرف راغب ہو5۔ 

----------------
حواشی :

1 -  اس سوال سے کلام کا آغاز ، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس زمانے میں ان شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آ رہی تھیں۔ ان حالات میں اللہ تعالی نے آپ کو مخاطب کر کے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں؟ پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟