یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحۃ (13)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (12/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحہ (11/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (10/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
پیروان مذہب نے دین کی وحدت بھلا دی اور شرع کے اختلاف کو بناء نزاع بنا لیا
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ (9/12)، مولانا ابوالکلام آزاد
اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ (۷)
تکوین وجود کے مراتب اربعہ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (8/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (7/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (6/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (5/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیرسورۃ الفاتحۃ (4/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
| ام الکتاب - سورۃ الفاتحۃ - مولانا ابوالکلام آزاد |
ام الکتاب : تفسیر سورۃ الفاتحۃ (3/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (2/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
اس لیے کہ معرفت الٰہی کی راہ میں انسان کا پہلا تاثر یہی ہے۔ یعنی جب کبھی ایک صادق انسان اس راہ میں قدم اٹھائے گا تو سب سے پہلی حالت جو اس کے فکر و وجدان پر طاری ہوگی وہ قدرتی طور پر وہی ہوگی جسے یہاں تحمید و ستائش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے معرفت حق کی راہ کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کائنات خلقت میں تفکر و تدبر کرے۔ مصنوعات کا مطالعہ اسے صانع تک پہنچا دے گا۔
تحویل قبلہ کی حقیقت
ام الکتاب ۔ (تفسیر سورۃ الفاتحۃ- 1/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ
انتساب
غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔
آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔
کہاں سے؟
سرحد پار سے۔۔
یہاں کب پہنچے؟
آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔
افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟
اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔
مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔
١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ