‏ترجمان القرآن ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ترجمان القرآن ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحۃ (13)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

"الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ” اور "الضَّالِّینَ”

پھر "صراط مستقیم” کی پہچان صرف اس کے مثبت پہلو ہی سے واضح نہیں کی گئی، بلکہ اس کا ضد مخالف پہلو بھی واضح کر دیا گیا : "غیر المغضوب علیھم ولا الضالین” "ان کی راہ نہیں جو مغضوب ہوئے، نہ ان کی جو گم راہ ہو کر بھٹک گئے۔”

"مغضوب علیھم” گروہ "منعم علیھم” کی بالکل ضد ہے، کیونکہ انعام کی ضد غضب ہے، اور فطرت کائنات کا قانون یہ ہے کہ راست باز انسانوں کے حصے میں انعام آتا ہے، نافرمانوں کے حصے میں غضب۔ "گمراہ” وہ ہیں جو راہ حق نہ پا سکے اور اس کی جستجو میں بھٹک گئے۔ پس مغضوب وہ ہوئے جنہوں نے راہ پائی اور اس کی نعمتیں بھی پائیں، لیکن پھر اس سے منحرف ہو گئے اور نعمت کی راہ چھوڑ کر محرومی و شقاوت کی راہ اختیار کر لی۔ "گمراہ” وہ ہوئے جو راہ ہی نہ پا سکے، اس لیے ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں اور صراط مستقیم کی سعادتوں سے محروم ہیں۔

"مغضوب علیہ” کی محرومی حصول معرفت کے بعد انکار کا نتیجہ ہے اور "گم راہ” کی محرومی جہل کا نتیجہ۔ پہلے نے پا کر، روگردانی کی اس لیے محروم ہوا، دوسرا پا ہی نہ سکا اس لیے محروم ہے۔ محروم دونوں ہوئے، مگر یہ ظاہر ہے کہ پہلے کی محرومی زیادہ مجرمانہ ہے، کیونکہ اس نے نعمت حاصل کر کے پھر اس سے روگردانی کی، اسی لیے اسے مغضوب کہا گیا اور دوسرے کی حالت صرف گم راہی کے لفظ سے تعبیر کی گئی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (12/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ


خلاصہ بحث 

متذکرہ صدر تفصیلات کا ما حصل حسبِ ذیل دفعات میں بیان کیا جا سکتا ہے :

۱۔ نزول قرآن کے وقت دنیا کا مذہبی تخیل اس سے زیادہ وسعت نہیں رکھتا تھا کہ نسلوں، خاندانوں اور قبیلوں کی معاشرتی حد بندیوں کی طرح مذہب کی بھی ایک خاص گروہ بندی کر لی گئی تھی۔ ہر گرہ بندی کا آدمی سمجھتا تھا دین کی سچائی صرف اسی کے حصے میں آئی ہے۔ جو انسان اس مذہبی حد بندی میں داخل ہے نجات یافتہ ہے، جو داخل نہیں ہے نجات سے محروم ہے۔

۲۔ ہر گروہ کے نزدیک مذہب کی اصل و حقیقت محض اس کے ظاہری اعمال ورسوم تھے۔ جوں ہی ایک انسان انہیں اختیار کر لیتا، یقین کیا جاتا کہ نجات و سعادت اسے حاصل ہو گئی، مثلاً عبادت کی شکل، قربانیوں کی رسوم، کسی خاص طعام کا کھانا یا نہ کھانا، کسی خاص وضع و قطع کا اختیار کرنا یا نہ کرنا۔

۳۔ چونکہ یہ اعمال و رسوم ہر مذہب میں الگ الگ تھے اور ہر گروہ کے اجتماعی مقتضیات یکسان نہیں ہو سکتے تھے، اس لیے ہر مذہب کا پیرو یقین کرتا تھا کہ دوسرا مذہب مذہبی صداقت سے خالی ہے، کیونکہ اس کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔

۴۔ ہر مذہبی گروہ کا دعویٰ صرف یہی نہ تھا کہ وہ سچا ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ دوسرا جھوٹا ہے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ہر گروہ صرف اتنے ہی پر قانع نہیں رہتا کہ اپنے ی سچائی کا اعلان کر دے، بلکہ یہ بھی ضروری سمجھتا کہ دوسروں کے خلاف تعصب و نفرت پھیلائے۔ اس صورت حال نے نوع انسانی کو ایک دائمی جنگ و جدال کی حالت میں مبتلا کر دیا تھا۔ مذہب اور خدا کے نام پر ہر گروہ دوسرے گروہ سے نفرت کرتا اور اس کا خون بہانا جائز سمجھتا۔

ام الکتاب ۔ سورۃ الفاتحہ (11/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ


قرآن کا پیروان مذاہب سے مطالبہ

اور یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں اس نے کسی مذہب کے پیرو سے بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ کوئی نیا دین قبول کر لے، بلکہ ہر گروہ سے یہی مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے اپنے مذاہب کی حقیقی تعلیم پر جسے تم نے طرح طرح کی تحریفوں اور اضافوں سے مسخ کر دیا ہے، سچائی کے ساتھ کار بند ہو جاؤ۔ وہ کہتا ہے : اگر تم نے ایسا کر لیاتو میرا کام پورا ہو گیا، کیونکہ جوں ہی تم اپنے مذہب کی تعلیم کی طرف لوٹوگے، تمہارے سامنے وہی حقیقت آموجود ہو گی جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں۔ میرا پیام کوئی نیا پیام نہیں ہے، وہی قدیم اور عالم گیر پیام ہے جو تمام بانیان مذہب دے چکے ہیں :

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۱ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا۱ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبُِٔوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (۲۸:۵۔۶۹)

” (اسے پیغمبر! ان لوگوں سے ) کہہ دو، اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اورانجیل کی اور ان تمام صحیفوں کی جو تم پر نازل ہوئے ہیں، حقیقت قائم نہ کرو، اس وقت تک تمہارے پاس دین میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور (اے پیغمبر!) تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے (بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں، تم دیکھو گے کہ) ان میں سے بہتوں کا کفر و طغیان اس کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ جائے گا، تو جن لوگوں نے انکار حق کی راہ اختیار کر لی ہے، تم ان کی حالت پر بے کار کو غم نہ کھاؤ۔ جو لوگ تم پر ایمان لائے ہیں، جو یہودی ہیں، جو صابی ہیں، جو نصاریٰ ہیں (یہ ہوں یا کوئی ہو) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس کے عمل بھی نیک ہوئے تو اس کے لیے نہ تو کسی طرح کا خوف ہے، نہ کسی طرح کی غمگینی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (10/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

پیروان مذہب نے دین کی وحدت بھلا دی اور شرع کے اختلاف کو بناء نزاع بنا لیا

قرآن کا جب ظہور ہوا تو دنیا کا یہ حال تھا کہ تمام پیروان مذاہب،  مذہب کو صرف اس کے ظواہر و رسوم ہی میں دیکھتے تھے اور مذہبی اعتقاد کا تمام جوش و خروش اسی طرح کی باتوں میں سمٹ آیا تھا،  ہر گروہ یقین کرتا تھا کہ دوسرا گروہ نجات سے محروم ہے،  کیونکہ وہ دیکھتا تھا  دوسرے کے اعمال و رسوم ویسے نہیں ہیں جیسے خود اس نے اختیار کر رکھے ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ نہیں،  یہ اعمال و رسوم نہ تو دین کی اصل و حقیقت ہیں نہ ان کا اختلاف حق و باطل کا اختلاف ہے۔ یہ محض مذہب کی عملی زندگی کا ظاہری ڈھانچا ہے مگر روح و حقیقت ان سے بالاتر ہے اور وہی اصل دین ہے۔ یہ اصل دین کیا ہے ؟ ایک خدا کی پرستش اور نیک عملی کی زندگی،  یہ کسی ایک گروہ ہی کی میراث نہیں ہے کہ اس کے سوا کسی انسان کو نہ ملی ہو،  یہ تمام مذاہب میں یکساں طور پر موجود ہے۔ اور چونکہ یہ اصل دین ہے،  اس لیے نہ تو اس میں تغیر ہوا نہ کسی سے اختلاف رونما ہوا۔ اعمال و رسوم فرع ہیں،  اس لیے ہر زمانے اور ہر ملک کی حالت کے مطابق بدلتے رہے اور جس قدر بھی اختلاف ہوا انہیں میں ہوا۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ (9/12)، مولانا ابوالکلام آزاد

   اہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیمَ (۷)


ہدایت

"ہدایت” کے معنی رہنمائی کرنے،  راہ دکھانے،  راہ پر لگا دینے کے ہیں۔ اجمالاً اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یہاں ہم چاہتے ہیں ہدایت کے مختلف مراتب و اقسام پر نظر ڈالیں جن کا قرآن حکیم نے ذکر کیا ہے اور جن میں سے ایک خاص مرتبہ وحی و نبوت کی ہدایت کا ہے۔


تکوین وجود کے مراتب اربعہ


تم ابھی پڑھ چکے ہو کہ خدا کی ربوبیت نے جس طرح مخلوقات کو ان کے مناسب حال جسم و قویٰ دیے ہیں،  اسی طرح ان کی ہدایت کا فطری سامان بھی مہیا کر دیا ہے۔ فطرت کی یہی ہدایت ہے جو ہر وجود کو زندگی و معیشت کی راہ پر لگاتی اور ضروریات زندگی کی جستجو میں رہنما ہوتی ہے۔ اگر فطرت کی یہ ہدایت موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ کوئی مخلوق بھی زندگی کو بقا کا سامان بہم پہنچا سکتی۔ چنانچہ قرآن نے جا بجا اس حقیقت پر توجہ دلائی ہے۔ وہ کہتا ہے : ہر وجود کے بننے اور درجہ تکمیل تک پہنچنے کے مختلف مراتب ہیں اور ان میں آخری مرتبہ ہدایت کا مرتبہ ہے۔ سورۃ الاعلیٰ میں بالترتیب چار مرتبوں کا ذکر کیا گیا ہے :

الَّذِی خَلَقَ فَسَوَّىٰ (۲)وَالَّذِی قَدَّرَ فَهَدَىٰ (۳) – سورۃ نمبر ۸۷

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (8/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ کا بقیہ حصہ):

(2)۔ صفات رحمت و جمال : ثانیاً تنزیہہ کی طرح صفات رحمت و جمال کے لحاظ سے بھی قرآن کے تصور پر نظر ڈالی جائے تو اس کی شان تکمیل نمایاں ہے۔ نزول قرآن کے وقت یہودی تصور میں قہر و غضب کا عنصر غالب تھا۔ مجوسی تصور نے نور و ظلمت کی دو مساویانہ قوتیں الگ الگ بنا لی تھیں۔ مسیحی تصور نے رحم و محبت پر زور دیا تھا۔ لیکن جزا کی حقیقت مستور ہوگئی تھی۔ اسی طرح پیروان بدھ نے بھی صرف رحم و محبت محبت پر زور دیا۔ عدالت نمایاں نہیں ہوئی۔ گویا جہاں تک رحمت و جمال کا تعلق ہے یا تو قہر و غضب کا عنصر غالب تھا یا مساوی تھا یا پھر رحمت و محبت آئی تھی تو اس طرح آئی تھی کہ عدالت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی تھی۔

لیکن قرآن نے ایک طرف تو رحمت و جمال کا ایسا کامل تصور پیدا کردیا کہ قہر و غضب کے لیے کوئی جگہ ہی نہ رہی دوسری طرف جزائے عمل کا سر رشتہ بھی ہاتھ سے نہیں دیا کیونکہ جزا کا اعتقاد قہر و غضب کی بنا پر نہیں بلکہ عدالت کی بنا پر قائم کردیا۔ چنانچہ صفات الٰہی کے بارے میں اس کا عام اعلان یہ ہے : "قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن ایاما تدعوا فلہ الاسماء الحسنی : اے پیغمبر، ان سے کہہ دو، تم خدا کو اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس صفت سے بھی پکارو اس کی ساری صفتیں حسن و خوبی کی صفتیں ہیں"

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (7/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(تفسیر آیت 3 اور 4: مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ۔ کا بقیہ حصہ):

(2)۔ ہندوستانی تصور : ہندوستان کے تصور الوہیت کی تاریخ متضاد تصوروں کا ایک حیرت انگیز منظر ہے۔ ایک طرف اس کا توحیدی فلسفہ ہے، دوسری طرف اس کا عملی مذہب ہے۔ توحیدی فلسفہ نے استغراق فکر و عمل کے نہایت گہرے اور دقیق مرحلے طے کیے اور معاملہ کو فکری بلندیوں کی ایک ایسی اونچی سطح تک پہنچا دیا جس کی کوئی دوسری مثال ہمیں قدیم قوموں کے مذہبی تصورات میں نہیں ملتی۔ عملی مذہب نے اشراک اور تعدد الہ کی بے روک راہ اختیار کی اور اصنامی تصوروں کو اتنی دور تک پھیلنے دیا کہ ہر پتھر معبود ہوگیا، ہر درخت خدائی کرنے لگا، اور ہر چوکھٹ سجدہ گاہ بن گئی۔ وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ بلندی کی طرف بھی ڑا اور زیادہ سے زیادہ پستی میں بھی گرا۔ اس کے خواص نے اپنے لیے توحید کی جگہ پسند کی اور عوام کے لیے اشراک اور اصنام پرستی کی راہ مناسب سمجھی۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (6/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(آیت 2 الرحمن الرحیم کی تفسیر کا بقیہ حصہ):

دنیا میں جب کبھی سچائی کی کوئی دعت ظاہر ہوئی ہے، تو کچھ لوگوں نے اسے قبول کرلیا ہے کچھ نے انکار کیا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اس کے خلاف طغیان و جحود اور ظلم و شرارت کی جتھا بندی کرلی ہے۔ قرآن کا جب ظہور ہوا تو اس نے بھی یہ تینوں جماعتیں اپنے سامنے پائیں۔ اس نے پہلی جماعت کو اپنی آغوش تربیت میں لے لیا دوسری کو دعوت و تذکیر کا مخاطب بنایا مگر تیسری کے ظلم و طغیان پر حسب حالت و ضرورت پر زجر و توبیخ کی۔ اگر ایسے گروہ کے لیے بھی اس کے لب و لہجہ کی سختی رحمت کے خلاف ہے تو بلاشبہ اس معنی میں قرآن رحمت کا معترف نہیں اور یقیناً اس ترازو سے اس کی سے اس کی رحمت نہیں تولی جاسکتی۔

تم بار بار سن چکے ہو کہ وہ دین حق کے معنوی قوانین کو کائنات فطرت کے عام قوانین سے الگ نہیں قرار دیتا بلکہ انہی کا ایک گوشہ قرار دیتا ہے۔ فطرت کائنات کا اپنے فعل و ظہور کے ہر گوشے میں کیا حال ہے؟ یہ حال ہے کہ وہ اگرچہ سر تا سر رحمت ہے لیکن رحمت کے ساتھ عدالت اور بخشش کے ساتھ جزا کا قانون بھی رکھتی ہے۔ پس قرآن کہتا ہے، میں فطرت سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔ تمہاری جس مزعومہ رحمت سے فطرت کا خزانہ خالی ہے یقینا میرے آستین و دامن میں نہیں مل سکتی :

’’ فطرت اللہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون : اللہ کی فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بناوٹ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی (اللہ کی ٹھہرائی ہوئی فطرت) سچا اور ٹھیک ٹھیک دین ہے لیکن اکثر انسان ایسے ہیں جو اس حقیقت سے بے خبر ہیں‘‘۔

قرآن کے ان تمام مقامات پر نظر ڈالو جہاں اس نے سختی کے ساتھ منکروں کا ذکر کیا ہے یہ حقیقت بیک نظر واضح ہوجائے گی۔(آیت 2، الرحمن الرحیم، کی تفسیرختم ہوئی)

۔۔۔۔۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (5/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(آیت 2 کی تفسیر کا بقیہ حصہ): ’’إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ : اور (دیکھو) تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر اسی کی ایک ذات، رحمت والی اور اپنی رحمت کی بخشایشوں سے ہمیشہ فیض یاب کرنے والی ! بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں، اور کشتی میں جو انسان کی کاربراریوں کے لیے سمندر میں چلتی ہے اور اور بارش میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس کی (آبپاشی) سے زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین میں پھیلا دیے ہیں نیز ہواؤں کے (مختلف جانب) پھیرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (اپنی مقررہ جگہ کے اندر) بندھے رکھے ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے (اللہ کی ہستی اور اس کے قوانین فضل و رحمت کی) بڑی ہی نشانیاں ہیں‘‘ (البقرہ : 163۔164)

اسی طرح ان مقامات کا مطالعہ کرو جہاں خصوصیت کے ساتھ جمال فطرت سے استدلال کیا ہے : ’’أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (٦) وَالأرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (٧) تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ : کیا کبھی ان لوگوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا نہیں کہ کس طرح ہم نے اسے بنایا ہے اور کس طرح اس کے منظر میں خوشنمائی پیدا کردی ہے اور پھر یہ کہ کہیں بھی اس میں شگاف نہیں؟ اور اسی اور اسی طرح زمین کو دیکھو کس طرح ہم نے اسے فرش کی طرح پھیلا دیا، اور پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور پھر کس طرح قسم قسم کی خوبصورت نباتات اگا دیں؟ ہر اس بندے کے لیے جو حق کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ اس میں غور کرنے کی بات اور نصیحت کی روشنی ہے‘‘ (ق :6۔8)

ام الکتاب ۔ تفسیرسورۃ الفاتحۃ (4/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

ام الکتاب - سورۃ الفاتحۃ - مولانا ابوالکلام آزاد 
(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ) ہم نے یہ مطلب اسی سادہ طریقہ پر بیان کردیا جو قرٓن کے بیان و خطاب کا طریقہ ہے۔ لیکن یہ مطلب علمی بحث و تقریر کے پیرایہ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ وجود انسانی کرہ ارضی کے سلسلہ خلقت کی آخری اور اعلی ترین کڑی ہے اور اگر پیدائش حیات سے لے کر انسانی وجود کی تکمیل تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ناقابل شمار مدت کے مسلسل نشو وارتقا کی تاریخ ہوگی۔ گویا فطرت نے لکھوں کروڑوں برس کی کارفرمائی و صناعی سے کرہ ارضی پر جو اعلی ترین وجود تیار کیا ہے وہ انسان ہے !

ماضی کے ایک نقطہ بعید کا تصور کرو۔ جب ہمارا یہ کرہ سورج کے منتہب کرے سے الگ ہوا تھا۔ نہیں معلوم کتنی مدت اس کے ٹھنڈے اور معتدل ہونے میں گزر گئی اور یہ اس قابل ہوا کہ زندگی کے عناصر اس میں نشوونما پا سکیں۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب اس کی سطح پر نشوونما کی سب سے پہلی داغ بیل پڑی اور پھر نہیں معلوم کتنی مدت کے بعد زندگی کا وہ اولین بیج وجود میں آسکا جسے پروٹو پلازم کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر حیات عضوی کے نشوونما کا دور شروع ہوا اور نہیں معلوم کتنی مدت اسی پر گزر گئی کہ اس دور نے بسیط سے مرکب تک اور ادنی سے اعلی درجے تک ترقی کی منزلیں طے کیں۔ یہاں تک کہ حیوانات کی ابتدائی کڑیاں ظہور میں آئیں اور پھر لاکھوں برس اس پر نکل گئے کہ یہ سلسلہ ارتقا وجود انسانی تک مرتفع ہو۔ پھر انسان کے جسمانی ظہور کے بعد اس کے ذہنی ارتقا کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک طول طویل مدت اس پر گزر گئی۔ بالآخر ہزاروں برس کے اجتماعی اور ذہنی ارتقا کے بعد وہ انسان ظہور پذیر ہوسکا جو کرہ ارضی کے تاریخی عہد کا متمدن اور عقیل انسان ہے۔ گویا زمین کی پیدائش سے لے کر تریق یافتہ انسان کی تکمیل تک، جو کچھ گزر چکا ہے اور جو کچھ بنتا سنورتا رہا ہے وہ تمام تر انسان کی پیدائش و تکمیل ہی کی سرگزشت ہے۔

ام الکتاب : تفسیر سورۃ الفاتحۃ (3/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

ربوبیت

حمد کے بعد بالترتیب چار صفتیں بیان کی گئی ہیں (رب العالمین، الرحمن، الرحیم، مالک یوم الدین) چونکہ الرحمن اور الرحیم کا تعلق ایک ہی صفت کے دو مختلف پہلوؤں سے ہے اس لیے دوسرے لفظوں میں انہیں یوں تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ربوبیت، رحمت، عدات، تین صفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

الہ کی طرح ’’ رب‘‘ بھی سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے۔ عبرانی سریانی اور عربی تینوں زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں اور چونکہ پرورش کی ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لیے اسے بھی قدیم ترین سامی تعبیرات میں سے سمجھنا چاہیے۔ پھر چونکہ معلم، استاد اور آقا کسی نہ کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی ہونے لگا۔ چنانچہ عبرانی اور آرامی کا ’’ ربی‘‘ اور ’’ رباہ‘‘ پرورش کنندہ، معلم اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور قدیم مصری اور خالدی زبان کا ایک لفظ ’’ رابو‘‘ بھی انہی معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ان ملکوں کی قدیم ترین سامی وحدت کی خبر دیتا ہے۔

بہرحال عربی میں ’’ ربوبیت‘‘ کے معنی پالنے کے لیے ہیں لیکن پالنے کو اس کے وسیع اور کامل معنوں میں لینا چاہیے۔ اسی لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے۔ ’’ ھو انشاء الشیء حالا فحالا الی حد التمام‘‘ (مفردات راغب اصفہانی)۔ یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشو ونما دیتے رہنا حتی کہ اپنی حد کمال تک پہنچ جائے۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا کھلا دے یا محتاج کو روپیہ دیدے تو یہ اس کا کرم ہوگا، جود ہوگا، احسان ہوگا لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل وبلوغ کے لیے وقتاً فوقتا جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی رہیں ان سب کا سروسامان ہوتا رہے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ سب کچھ محبت و شفقت کے ساتھ ہو کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عافطہ سے خالی ہوگا ربوبیت نہیں ہوسکتا۔

ام الکتاب ۔ تفسیر سورۃ الفاتحۃ (2/12)، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ

حَمْد :۔

عربی میں حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں، یعنی اچھی صفتیں بیان کرنے کے۔ اگر کسی کی بری صفتیں بیان کی جائیں تو یہ حمد نہ ہوگی، حمد پر الف لام ہے یہ استغراق کے لیے بھی ہوسکتا ہے، جنس کے لیے بھی۔ پس ’’ الحمد للہ‘‘ کے معنی یہ ہوئے کہ حمد و ثنا میں سے جو کچھ اور جیسا کچھ بھی کہا جاسکتا ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے کیونکہ خوبیوں اور کمالوں میں سے جو کچھ بھی ہے سب اسی سے ہے اور اسی میں ہے۔ اور اگر حسن موجود ہے تو نگاہ عشق کیوں نہ ہو اور اگر محمودیت جلوہ افروز ہے تو زبان حمد و ستائش کیوں خاموش رہے؟

آئینہ ما روائے ترا عکس پذیر است ::: گر تو نہ نمائی گنہ از جانب ما نیست

حَمْد سے سورت کی ابتدا کیوں کی گئی؟

 اس لیے کہ معرفت الٰہی کی راہ میں انسان کا پہلا تاثر یہی ہے۔ یعنی جب کبھی ایک صادق انسان اس راہ میں قدم اٹھائے گا تو سب سے پہلی حالت جو اس کے فکر و وجدان پر طاری ہوگی وہ قدرتی طور پر وہی ہوگی جسے یہاں تحمید و ستائش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انسان کے لیے معرفت حق کی راہ کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کائنات خلقت میں تفکر و تدبر کرے۔ مصنوعات کا مطالعہ اسے صانع تک پہنچا دے گا۔

الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (188:3)

تحویل قبلہ کی حقیقت

مولانا ابوالکلام آزاد ؒ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اقوام عالم کی امامت ملی تھی۔ انہوں نے مکہ میں عبادت گاہ کعبہ تعمیر کی اور امت مسلمہ کے ظہور کی الہامی دعا مانگی۔ مشیت الٰہی میں اس ظہور کے لیے ایک خاص وقت مقرر تھا۔ جب وہ وقت آگیا تو پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا اور ان کی تعلیم و تزکیہ سے موعودہ امت پیدا ہوگئی۔ اس امت کو نیک ترین امت ہونے کا نصب العین عطا کیا گیا اور اقوام عالم کی تعلیم اس کے سپرد کی گئی۔ ضروری تھا کہ اس کی روحانی ہدایت کا ایک مرکز بھی ہوتا۔ یہ مرکز قدرتی طور پر عبادت گاہ کعبہ ہوسکتا تھا چنانچہ تحویل قبلہ نے اس کی مرکزیت کا اعلان کردیا۔ یہی حقیقت قلبہ کے تقرر میں پوشیدہ تھی۔ چنانچہ سیقول السفہاء سے یہی بیان شروع ہوتا ہے۔ پیروان دعوت قرآنی مخاطب ہیں اور انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عمل حق نے جو بیج بویا تھا وہ بار آور ہوگیا ہے اور نیک ترین امت تم ہو۔

ام الکتاب ۔ (تفسیر سورۃ الفاتحۃ- 1/12) ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

(یہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی تفسیر ترجمان القرآن سے ماخوز ہے ۔ سورۃ الفاتحۃ کی تفسیر الگ سے ام الکتاب کے نام  سے شائع ہوئی ۔ مولانا نے اس کو ایک اجنبی مسافر سے منسوب کیا )  

انتساب​

غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔

آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔

کہاں سے؟

سرحد پار سے۔۔

یہاں کب پہنچے؟

آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔

افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟

اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔

مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔

١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ

سورت کی اہمیت اور خصوصیات


یہ قرآن کی سب سے پہلی سورت ہے۔ اس لیے فاتحۃ الکتاب کے نام سے پکاری جاتی ہے۔

جو بات زیادہ اہم ہوتی ہے، قدرتی طور پر پہلی اور نمایاں جگہ پاتی ہے۔ یہ سورت قرآن کی تمام سورتوں میں خاص اہمیت رکھتی تھی، اس لیے قدرتی طور پر اس کی موزوں جگہ قرآن کے پہلے صفحے ہی میں قرار پائی۔ چنانچہ خود قرآن نے اس کا ذکر ایسے ہی لفظوں میں کیا ہے جس سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ (87:15)

اے پیغمبر ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی چیزیں عطا فرمائی اور قرآن عظیم۔

احادیث و آثار سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس آیت میں ’’ سات دہرائی جانے والی چیزوں‘‘ سے مقصود یہی سورت ہے کیونکہ یہ سات آیتوں کا مجموعہ ہے اور ہمیشہ نماز میں دہرائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کو سبع المثانی بھی کہتے ہیں۔

قرآن حکیم کا طریقہ استدلال ۔ مولانا ابوالکلام آزاد ؒ

"قرآن حکیم کے دلائل و براہین پر غور کرتے ہوئے یہ اصل ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کے استدلال کا طریقہ منطقی بحث و تقریر کا طریقہ نہیں ہے جس کے لیے چند در چند مقدمات کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر اثبات مدعا کی شکلیں ترتیب دینی پڑتی ہیں بلکہ وہ ہمیشہ براہ راست تلقین کا قدرتی اور سیدھا سادھا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ 
12 صدی عیسویں کے اندلس میں لکھاگیا قرآن کا ایک صفحہ  

عموماً اس کے دلائل اس کے اسلوب بیان و خطاب میں مضمر ہوتے ہیں۔ وہ یا تو کسی مطلب کے لیے اسلوب خطاب ایسا اختیار کرتا ہے کہ اسی سے استدلال کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے۔ یا پھر کسی مطلب پر زور دیتے ہوئے کوئی ایک لفظ ایسا بول جاتا ہے کہ اس کی تعبیر ہی میں اس کی دلیل بھی موجود ہوتی ہے اور خود بخود مخاطب کا ذہن دلیل کی طرف پھر جاتا ہے۔ چنانچہ اس کی ایک واضح مثال یہی صفت ربوبیت (سورہ فاتحہ کی آیت : " رب العالمین "کی طرف اشارہ ہے )  کا جابجا استعمال ہے۔ جب وہ خدا کی ہستی کا ذکر کرتا ہوا اسے رب کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے تو یہ بات کہ وہ رب ہے جس طرح اس کی ایک صفت ظاہر کرتی ہے اسی طرح اس کی دلیل بھی واضح کردیتی ہے۔ وہ رب ہے اور یہ واقعہ ہے کہ اس کی ربوبیت تمہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے اور خود تمہارے دل کے اندر گھر بنائے ہوئے ہے۔ پھر کیونکر تم جرات کرسکتے ہو کہ اس کی ہستی سے انکار کرو؟ وہ رب ہے اور رب کے سوا کون ہوسکتا ہے جو تمہاری بندگی ونیاز کا مستحق ہو؟


چنانچہ قرآن کے وہ تمام مقامات جہاں اس طرح کے مخاطبات ہیں کہ ’’ یا ایہا الناس اعبدوا ربکم۔ اعبدوا اللہ ربی و ربکم۔ ان اللہ ربی و ربکم فاعبدوہ۔ ذلکم اللہ ربکم فاعبدوہ۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاعبدون۔ قل اتحاجوننا فی اللہ؟ وھو ربنا وربکم‘‘ وغیرہ۔۔"

 تو انہیں مجرد امر و خطاب ہی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ وہ خطاب و دلیل دونوں ہیں کیونک "رب " کے لفظ نے برہان ربوبیت کی طرف خود بخود رہنمائی کردی ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے مفسروں کی نظر اس حقیقت پر نہ تھی کیونکہ منطقی استدلال کے استغراق نے انہیں قرآن کے طریق استدلال سے بے پروا کردیا تھا۔

 نتیجہ یہ نکلا کہ ان مقامات کے ترجمہ وتفسیر میں قرآن کے اسلوب بیان کی حقیقی روح واضح نہ ہوسکی اور استدلال کا پہلوطرح طرح کی توجیہات میں گم ہوگیا" (1)

------------------------------------------------------------
1- ( ترجمان القرآن ، تفسیر سورۃ الفاتحۃ )