تفسیر ماجدی، عبد الماجد دریابادی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تفسیر ماجدی، عبد الماجد دریابادی ؒ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

مطالعہ قرآن ، عبد الماجد دریا بادی ؒ

مطالعہ فرمانے کے وقت اگر معروضات ذیل کو پیش نظر رکھا جائے تو ان شاء اللہ فہم مطالب میں بڑی سہولت رہے گی ۔ 

1- قرآن حکیم ایک نہایت درجہ مرتّب و منظّم کتاب ہے ۔ اس لئے اسی نسبت سے دشوار بھی ہے ۔ اسے جو آسان فرمایا گیا ہے وہ صرف موعظہ اور عبرت پزیری کے اعتبار سے ہے اگر اس کے مطالب کو کوئی گرفت میں لانا چاہے تو اس کے لئے سر سری مطالعہ خصوصا انڈیکس (اشاریہ )کی مدد سے ہر گز کافی نہ ہوگا ۔ مدتوں کے مسلسل اور غائر مطالعہ کے بعد کہیں اس سے مناسبت پیدا ہوتی ہے اور دشواریاں مناسبت پیدا ہونے کے بعد ہی حل ہوسکتی ہے ۔ اس لئے قرآن فہمی میں بہت زیادہ عجلت کو دخل دینا ہر گز مناسب نہیں ۔ 

2- قرآن مجید ایک زندہ صحیفہ بھی ہے اورماضی کی کتاب بھی ، یعنی ایک طرف تو اس کی مخاطب عرب کی وہ قوم جو اس کے نزول کے وقت موجود تھی ۔ بلکہ ساری قوم عرب کیوں کہیے ، زیادہ صحت کے ساتھ یوں کہیے کہ مکہ اور مضافات مکہ اور مدینہ وحوالئ مدینہ کے باشندے تھے ۔ اوردوسری طرف اس کے مخاطب روس وجاپان ، چین اور ہندوستان ، امریکا ،آسٹریلیا ، کل روئے زمین کے باشندے قیامت تک کے لئے ہیں ۔ اس کی یہ دونوں حیثیتیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ برابر ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ اور ترتیب زمانی کے لحاظ سے پہلی حیثیت اہم تر اور مقدم ہے ۔ جنت کی نعمتوں ، دوزخ کے عذابوں ،آسمان کی ساخت زمین کی حرکت و سکون ، ستاروں کی گردش وغیرہ سے متعلق کوئی ایسی بات اگروہ بیان کر دیتا جو اس کے مخاطبین اوّل ، یعنی چھٹی صدی عیسوی کے اہل حجاز کے مسلمات کے خلاف یا ان کے فہم سے باہر ہوتی تو وہ لوگ خواہ مخواہ ایک نئے الجھاوے میں پڑجاتے اور محض اس سے ان کے دماغ وحشت کھاکر قرآن کے بنیادی عقائد توحید ،رسالت ، حشرونشر وغیرہ کی تکذیب پر آمادہ ہوجاتے ۔ اس لئے قرآن نے نہایت حکیمانہ اسلوب یہ اختیار کیا کہ صراحتیں تو تمام تر مذاق عرب کے مطابق ہی کیں ، لیکن ساتھ ہی اشارے ایسے بھی رکھے کہ بعد کی نسلیں اور ہر دور کے مخاطبین اپنی اپنی فہم و استعداد کے ماتحت اس سے روشنی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔یہ ایک بنیادی نکتہ اگر مستحضر رہے تو بہت سے اشکالات ان شاء اللہ دور ہوجائیں گے ۔ 

3-قرآن حکیم اپنے نفس مضمون یعنی معانی و مطالب کے لحاظ سے ساری کائنات انسانی کو مخاطب کئے ہوئے ہے ۔ سب کی عقلوں اور ذہنوں کو سامنے رکھے ہوئے ہے ۔ لیکن جہاں تک طرز ادا اور اسلوب خطاب کا تعلق ہے وہ عربی کلام ہے اور اپنی صنعتوں اور لطافتوں ، فقروں کی ترکیب ، الفاظ کی نشست میں تماتر عربی ادب و انشا کے لیے خود معیار اعلی کا کام دے رہا ہے ۔ اس میں روانی شستگی، سلاست ، اردو یا فارسی یا ہندی یا انگریزی یا ترکی یا جرمنی ادب کے معیار سے تلاش کر نا شدید کوتہ فہمی ہے ۔ اس کی انشائی خوبیوں سے لطف اٹھانے کے لئے قدیم خطبات عرب سے واقفیت ضروری ہے ۔ اور اس کی انشابردازی و بلاغت کو جب کبھی کسی غیر معمولی معیار سے دیکھا جائے گا تو ہمیشہ غلط فہمی ہی ہوگی ۔ 

4- قرآن مجید کی دنیا ، حکمت و اخلاق ، روحانیت ، و انسانیت کبرٰی کی دنیا ہے ۔ اس کی فضا تحقیق و طلب کی فضا ، اور اس کا ماحول تقوی و طہارت کا ماحول ہے ۔ اس کی گہرائیوں تک رسائی کے لئے تقوی کسی درجہ میں تو بہر حال لازمی ہے ۔ طہارت قلب و طہارت جسم کا مطلق اہتمام کئے بغیر محض زبان دانی کے بھروسہ پر قرآن سمجھ لینے کی کوشش ایک سعی لاحاصل ہے ۔ ابوجہل اور ابولھب سے بڑھ کر زبان داں کون تھا ؟ کوئی لغوی یا صرفی و نحوی اشکال انہیں کبھی کیوں پیش آ تھا ۔ لیکن اپنی روح کو انہوں نے قرآنی روح سے یکسر بیگانہ و ناآشنا رکھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن ان پر ذرا بھی نہ کھلا ۔ باکل بند ہی رہا ۔ اور وہ فہم قرآنی کے درجۂادنی کی بھی سعادت سے محروم ہی رہے ۔ 

کلام بڑے غیو راور غنی عن العٰلمین کا ہے ۔ اس کا ہے جس سے بڑھ کر کوئی نہ غیر ت مند ہے نہ بے نیاز ۔ اور متکلم کی شان غیرت و غنا کا ظہور کلام میں بھی درجہ اتم میں ہے ۔ جو بڑے بننے کی آرزو رکھتے ہیں ، انہیں چھوٹا بن کر اس دروازہ میں داخل ہونا ہوگا ۔ قال العارف الرومی :- 

فہم وخاطر تیز کر دن نیست راہ ۔۔۔۔۔۔ جزکہ اشکتہ نگیر ، فضل شاہ 

5- استاد کی ضرورت تو چھوٹے سے چھوٹے علم اور سہل سے سہل فن میں بھی تقریبا ناگزیر ہی ہے ۔ پھر قرآن کا علم تو بڑا مہتم بالشان علم ہے ۔ اس میں کوئی طالب علم استاد سے بے نیاز کیسے رہ سکتا ہے ؟ کوئی زندہ استاد اگر کامل فن نہ ملے تو اس کی قائم مقامی اکابر مفسرین اور محقق شارحین کی کتابیں کرسکتی ہیں ۔ 



( تفسیر ماجدی ، (دیباچہ تفسیر ) عبد الماجد دریابادی ؒ تاریخ تحریر: دسمبر 1944ء ) 



مشہور تفاسیر ، عبد الماجد دریابادی ؒ

مشہور تفاسیر ۔ عبد الماجد دریابادی 

استاد کی ضرورت تو چھوٹے سے چھوٹے علم اور سہل سے سہل فن میں بھی تقریبا ناگزیر ہی ہے ۔ پھر قرآن کا علم تو بڑا مہتم بالشان علم ہے ۔ اس میں کوئی طالب علم استاد سے بے نیاز کیسے رہ سکتا ہے ؟ کوئی زندہ استاد اگر کامل فن نہ ملے تو اس کی قائم مقامی اکابر مفسرین اور محقق شارحین کی کتابیں کرسکتی ہیں ۔ 


ان حضرات کی تحقیق و تلاش کی داد دل سے دینا چاہئے ۔ ان کے فضل و کمال و تبحر علمی کا احساس پورا پورا رکھنا چاہئے ۔ ان کی عظمت و احترام کے اعتراف میں تامل ذراسا نہ کرنا چاہئے لیکن ساتھ ہی دوسری طرف یہ عقیدہ بھی تازہ رکھنا چاہیے کہ معصوم بجز نبی معصوم کے اور کوئی نہیں ۔ امت کے بڑے سے بڑے محققین بھی غیر معصوم ہی ہیں۔ کسی ایک کے بھی ہر قول کی تقلید ہر حال میں آنکھ بند کئے کرتے رہنا اور دلیل صریح کے باوجود بھی کئے جانا ہر گز طریق ثواب نہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ دوسروں کی عصمت سے انکار کرکے خود اپنی عصمت پر عقیدہ جمالیا جائے اور اپنی تحقیق پر حزم اور جمود کے ساتھ اعتماد کر لیا جائے ۔ حاشا اس کا وہم بھی نہ آنے پائے ۔ 

عربی میں اچھی اچھی تفسیریں ماشاء اللہ کثرت سے موجود ہیں ۔ اس نامہ سیاہ نے جن جن سے استفادہ اور خوشہ چینی کی ہے ، ان کی کچھ تفصیل عرض ہے ۔ 

1- تنویر المقیاس یا تفسیر ابن عباس ۔ حضرت عبدا للہ بن عباس ( متوفی 78ھ ) اصحاب رسول میں مشہور ترجمان القرآن ہوئے ہیں ۔ یہ ان کے تفسیری اقوال کا مجموعہ صاحب قاموس مجد الدین یعقوب فروز آبادی (متوفی 810ھ) کا مرتب کیا ہوا ہے ۔ البتہ سلسلہ مرویات ناقدین کے نزدیک کچھ زیادہ معتبر و مستند نہیں ۔ 

2- جا مع البیان – یا تفسیر ابن جریر طبری ( متوفی 310ھ) 30 جلدوں میں ۔ یہ ایک مبسوط مفصل اور محققانہ تفسیر ہے ۔ بڑی بات یہ ہے کہ ہر آیت کی تفسیر میں صحابیوں اور تابعین کے آثار و اقوال کی جامع ہے ساتھ ہی دوسرے پہلوؤں ، لغت اور بیت و غیر ہ پر بھی محققانہ کلام ہے ۔ 

3- تفسیر الکشاف – 2 جلدوں میں ۔ لغت اور ادب کے مشہور امام علامہ جاراللہ محمود بن عمر زمخشری ؒ ( متوفی 815ھ) کی مشہور تفسیر ہے ۔ زمخشری عقائد میں معتزلی تھے ۔ لیکن جہاں تک ادب وبلاغت کے پہلوؤں کا تعلق ہے اہل سنت بھی ان کی نکتہ سنجیوں کے پوری طرح قائل و معترف ہیں ۔ 

4- مفاتیح الغیب۔ یا تفسیر کبیر ۔ 8 جلدوں میں ۔ از امام فخر الدین عمر رازی ( متوفی 606ھ ) رازی معقول و منقول کے امام تھے ۔ ان کی تفسیر حقیقۃ تفسیر کبیر یا تفسیر اعظم ہی کہلا نے کی مستحق ہے ۔ لسانی ، روایتی ، کلامی ، فقہی کہنا چاہئے کہ سارے ہی پہلو اس میں آگئے ہیں ۔ اور کلامی مباحث کے تو گویا رازی بادشاہ ہیں ۔ مفسر کا کمال یہ ہے کہ اپنے زمانہ کے سارے علوم و فنون کو قرآن کے خادم کی حیثیت سے لاکر کھڑا کردیا ہے ۔ 

5- الجامع الاحکام القرآن ۔ یا تفسیر قرطبی ۔ امام عبد اللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی ( متوفی 671ھ ) کی تصنیف ہے ۔ نام سے دھوکا ہو تا ہے کہ شاید صرف احکام فقہی پر محدود ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے مکمل تفسیر ہے ۔ محققانہ بھی اور جامع بھی ۔ پھر عبارت سلیس ۔ افسوس ہے کہ مکمل طبع نہیں ہوئی ۔ کوئی نصف قرآن تک مصر میں ، متعدد جلدوں میں شائع ہوئی ، یہاں وہ نسخہ بھی کمیاب ہے۔۔۔۔ 

6- معالم التنزیل ۔ یا مختصرا تفسیر معالم ۔ محی السنہ حسین بن مسعود ابو محمد نقوی شافعی ؒ ( متوفی 516ھ) کی تصنیف ہے ۔مشہور محدث گزرے ہیں ۔ کتاب 8 جلدوں میں تفسیر ابن کثیر کے حاشیہ کے طور پر مصر میں طبع ہوئی ہے ۔ 

7- تفسیر ابن کثیر ۔ از حافظ عماد الدین ابو الفداء اسمعیل ابن کثیر دمشقی ( متوفی 774ھ) 8جلدوں میں مصر میں چھپی ہے تفسیر بجائے خود اچھی اور مستند ہے لیکن مفسر پر محدثانہ رنگ غالب ہے ۔ کتاب عام طلبۂ قرآن کے زیادہ کام کی نہیں ۔گویا صرف ایک مجموعہ تفسیری احادیث کا ہے ۔ 

8- مدارک التنزیل یا تفسیر مدارک ۔ حافظ الدین محمود ابو البرکات النسفی الحنفی ( متوفی 686ھ) صاحب عقائد نفسی ۔ اہل سنت کے مسلم امام ہیں ۔ ان کی یہ مختصر تفسیر بہت طویل حاشیہ اکلیل کے ساتھ ہندوستان میں 7 لمبی چوڑی جلدوں میں شائع ہوئی ہے ۔ ۔۔۔۔۔ 

9- انوار التنزیل ۔ یا تفسیر بیضاوی ۔ از قاضی ناصر الدین ابو سعید عبد اللہ بن عمر بیضاوی ( متوفی 791ھ ) 5 جلدوں میں ۔ مشہور متداول تفسیر ہے ، لیکن جامع و مستند ۔ 

10- البحر المحیط ۔ 8 جلدوں میں ۔ از اثیر الدین ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بن حیان اندلسی ( متوفی 654ھ) ابن حیان محدث بھی ہے اور ادیب اور متکلم بھی ۔ تفسیر میں سب پہلوؤں کی رعایت رکھی ہے ، جو ضعیف بلکہ موضوع روایات بعض مفسرین محض افراط خوش عقیدگی کی بنا پر ایک دوسرے سے نقل کر تے چلے آئے تھے ، انہوں نے جرات کر کے ان میں سے اکثر سے انکار کر دیا ہے ۔ 

11- تفسیر ابی سعود ۔ یہ ابو سعود عمادی کے حواشی تفسیر ہیں ۔ زیادہ تر قرآن کی ترکیبات نحوی و مباحث سے متعلق ۔ تفسیر کبیر مطبوعہ مصر پر بطور تعلیقات کے شائع ہوئی ہے ۔ 

12- تفسیر روح المعانی۔ 9 جلدوں میں ۔ علامہ شہاب الدین سید محمود آلوسی ( متوفی 1291) متاخرین میں ایک بے مثل شخص ہوئے ہیں ۔ نظر میں وسعت بھی تھی اور عمیق بھی ۔ ان کی یہ جامع و مفصل تفسیر ایک بڑی حدتک قدیم تفسیروں سے غنی کر دینے والی ہے ۔ لغوی ، روایتی ، کلامی ، فقہی حیثیت سے کہنا چاہئے کہ سب ہی کچھ اس میں موجود ہے ۔ اور سلوک و تصوف سے متعلق اشارات ان پر مستزاد ۔ 

13- احکام القرآن ۔ 2 جلدوں میں ۔ از علامہ ابوبکر محمد بن العربی الاندلسی (متوفی 573ھ) ہر مسئلہ سے متعلق چاروں ائمہ فقہ کے مذہب نقل کردیئے ہیں ۔ بڑے کام کی کتاب ہے ۔ 

14- احکام القرآن ۔ 3 جلدوں میں ۔ از امام ابو بکر احمد بن علی جصاص رازی حنفی ؒ (متوفی 370ھ) حنفیہ میں بڑے پایہ کی کتاب ہے ، مسائل کے ساتھ ان کے دلائل بھی دئے گئے ہیں ۔ 

15- المفردات فی غریب القرآن۔ لغت قرآنی پر کوئی کتاب ابوالقاسم حسین بن الفضل راغب اصفہانی (متوفی 502ھ) سے بڑھ کر مستند اور مفید میرے علم میں نہیں ۔ 

16- اتقان فی علوم القرآن۔ علامہ سیوطی (متوفی 911ھ ) کی ایک قابل قدر کتاب ہے ۔ کہنا چاہئے کہ ایک چھوٹی سی قرآنی انسائیکلو پیڈیا ہے ۔ اس زمانہ تک جتنا کا م قرآن سے متعلق ہواتھا اس کی جامع ۔ 

17- فتح الرحمن ۔ (فارسی ) شاہ ولی اللہ ؒ کے فارسی ترجمہ کے اور کوئی چیز فارسی میں قابل ذکر نہیں ملتی ۔ ترجمہ کی راہ ہندوستان میں اگر شاہ دہلوی اور ان کے خاندان والوں نے نہ کھول دی ہوتی تو آج خدا معلوم کتنی دشواریاں کا سامنا ہوتا ۔ اس تفسیر کے اردو تردجمہ کا جہاں تک تعلق ہے یہ 75 فیصدی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے نقل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پرانے ترجموں میں شاہ رفیع الدین دہلوی کا ترجمہ اور نئے ترجموں میں حکیم الامت کا اردو تفسیروں میں نمبر اول پر ۔ 

18- حکیم الامت کی تفسیر بیان القرآن(اردو)-  (12جلدوں میں ) ہے ۔ علوم و معارف سے لبریز یہ تفسیر اردو میں اپنی نظیر آپ ہے ۔۔۔۔ 

19- تفسیر مواہب الرحمن ۔ (اردو) 30 لمبی چوڑی ضخیم جلدوں میں ۔ از مولانا امیر علی ملیح آبادی مرحوم ، بہت جامع و مفصل کتا ب ہے ، عربی کی مشہور و متداول تفسیروں کا عطر اس میں آگیا ہے ۔ زبان پرانی ہوگئی ہے ۔ 

20 تفسیر فتح المنان یا تفسیر حقانی ۔ 7 جلدوں میں ۔ از مولانا عبد الحق حقانی دہلوی مرحوم ۔ مذاہب غیر سے مناظرہ کر نے والوں کے لئے خاص طور پر مفید ہے ۔ 

21- تفسیر بیان القرآن ۔ 3 جلدوں میں ۔ از مولانا محمد علی لاہوری ایم اے امیر جماعت احمدیہ ( قادیا نیہ ) لاہور ۔ مغربیت سے متاثرہ گروہ کے لئے اس کا مطالعہ مفید ہوگا ۔ گو ظاہر ہے کہ اس کے متعدد بیانات مسلک اہل سنت و الجماعت سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ 

22- حواشی تفسیر(تفسیر عثمانی ) ، از مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ دیوبندی ۔ شیخ الہند محمود حسن کے ترجمہ کے اکثر حصہ پر یہ حاشیے ہیں ۔ اورضرورت وقت کو ملحوظ رکھ کر ایک فاٖضلانہ قلم سے لکھے گئے ہیں ۔ 

23- تفہیم القرآن ۔ از مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ ۔ یہ تفسیر جسے تفسیر کہنا مشکل ہی ہے ۔ بہ اقساط نکل رہی ہے ۔ ابھی تک آٹھ پاروں کی نکلی ہے ۔ (یہ تحریر 1944ء کی ہے ۔اس لحاظ سے قاری کو پتہ ہو کہ اب یہ تفسیر مکمل صورت میں دستیاب ہے ۔) 


ماخوز از دیباچہ تفسیر ماجدی ،  عبدالماجد دریابادی ؒ ، تاریخ تحریر: دسمبر 1944ء  مطبع تاج کمپنی  )








حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت اور معجزات

حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت اور معجزات کا   تجزیاتی مطالعہ



وَرَسُوْلًا اِلٰى بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ  اَنِّىْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۙ اَنِّىْٓ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْــــَٔــةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًۢ ا بِاِذْنِ اللّٰهِ  ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْىِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ  ۚ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙفِيْ بُيُوْتِكُمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ   (سورہ آل عمران  49)

ترجمہ : "اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا "۔﴿اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا﴾ " میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔ "( سید مودودی ؒ )

 رسولا  سے واضح ہے  کہ  آپ کامرتبہ پیغمبری کا ہوگا۔ نہ آپ معاذ اللہ ساحر وشعبدہ باز ہوں گے جیسا کہ بدتمیز یہود نے آپ کو سمجھا، اور نہ (نعوذ باللہ) آپ خود خدایا فرزند خدا ہوں گے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے اپنی بیہودگی سے فرض کرلیا۔
’’ الی بنی اسرآء یل‘‘۔ یہ بالکل صریح ہے اس باب میں کہ آپ کی دعوت بنی اسرائیل تک محدود تھی اور دوسرے بنی اسرائیلی پیغمبروں کی طرح آپ (علیہ السلام) بھی صرف قومی نبی تھے، انجیل تک میں یہ تصریح، اتنی تحریفوں کے بعد بھی باقی رہ گئی ہے :۔ ’’ ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور انہیں حکم دے کے کہا کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔ (متی۔ 10:5۔7) ’’ اس نے جواب میں کہا کہ بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس بھیجا نہیں گیا‘‘ (متی۔ 16۔ 24)

تقریبا دو ہزار سال کی کلیسا کی ساری ملمع سازیوں کے بعد بھی آج بھی خود مسیحی فاضلوں کو اقرار ہے کہ تبلیغ نصرانیت کی یہ عالمگیری ایجاد بندہ ہے ورنہ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاں اس تعلیم کا پتہ نہیں۔ مسیح (علیہ السلام) نے اسرائیل کے باہر اپنے مرید تلاش نہیں کئے ‘‘۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 5 ص 63 1 طبع چہاردہم) اور مسیح (علیہ السلام) تو مسیح (علیہ السلام) ، حواریوں تک کا بھی یہ خیال نہ تھا :۔ ’’ اولین شاگردوں کو تعلیم مسیح کی عالمگیری کا احساس نہ ہوا۔ (ایضا 632)

 ’’ جئتکم بایۃ ‘‘۔ ایۃ کے لفظی معنی نشان کے ہیں، یہاں معجزہ کے مفہوم میں آیا ہے۔ معجزہ ایسے واقعہ کے ظہور کا نام ہے جو عام ومتعارف سلسلہ اسباب سے الگ ہو۔ پیغمبر کے ذریعہ سے ایسے غیر عادی واقعہ کا وقوع اس امر کی دلیل ہوتا تھا کہ نصرت حق وتائید الہی پیغمبر کے ساتھ ہے۔ معجزہ کا فاعل کائنات کے بڑے چھوٹے، معمولی غیر معمولی ہر واقعہ کی طرح صرف اللہ تعالیٰ ہوتا ہے پیغمبر محض واسطہ یا ذریعہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ایک قادر مطلق کے وجود کے قائل ہیں، ان کے لیے کسی بڑے سے بڑے معجزہ کا نفسی امکان تو قابل انکار بلکہ قابل اشتباہ بھی ہوہی نہیں سکتا، طبعی، غیر طبعی، عادی، غیر عادی، متعارف ومجہول، جلی وخفی اسباب کی تفریق تو بشری تجربات کے لحاظ سے ہے قادر مطلق کے لیے سب بالکل یکساں ہیں۔ اب رہا کسی متعین معجزہ کا ثبوت تو اس کا تعلق منطق سے نہیں تاریخ سے۔ عقل سے نہیں نقل سے درایت سے نہیں روایت سے ہے۔ ظن وتخمین کا یہاں دخل نہیں۔ اب گفتگو صرف سند متصل اور شہادت معتبر کی رو سے ہوگی۔ معجزات مسیح (علیہ السلام) کا ذکر انجیلوں میں بہ کثرت آیا ہے (آیت) ’’ من ربکم ‘‘۔ یہ اضافہ اس حقیقت کی تاکید اور اس پر زور دینے کے لیے ہے کہ معجزہ کا ظہور حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ نہ کہ پیغمبر کے اختیار وقدرت سے۔ یہ اور بات ہے کہ اس سے مقصود پیغمبرہی کی تائید ونصرت ہوتی ہے ۔ یعنی اگر تم خبث باطن اور ضد وعناد کو چھوڑ کر ایمان کے طالب اور یقین واطمینان حاصل کرنا چاہتے ہو۔

  ’’ اخلق ‘‘۔ فعل خلق کا انتساب جب خالق کی جانب ہوتا ہے تو اس سے مراد نیست سے ہست کرنا، عدم سے وجود میں لانا ہوتا ہے۔ اور جب انسان کی جانب ہوتا ہے تو اس سے مراد ہوتا ہے اندازہ کرنا ایک خاص اندازسے بنانا اور صورت پیدا کرنا اور یہاں کھلی ہوئی مراد یہی ہے۔ خلقہ تقدیدہ ولم یرد انہ یحدث معدوما (تاج العروس) الخلق اصلہ التقدیر المستقیم (راغب اصفہانی) الذی یکون بالا ستحالۃ فقد جعلہ اللہ تعالیٰ بغیرہ فی بعض الاحوال والخلق لایستعمل فی کافۃ الناس الاعلی وجھین احدھما فی معنی التقدیر (راغب اصفہانی) ای اقدر واصور (کبیر) والمراد بالخلق التصویر والا براز علی مقدار معین (تفسیر روح المعانی) (آیت) ’’ لکم ‘‘۔ یعنی تم میں یقین پیدا کرنے کے لیے۔ ای لاجل تحصیل ایمانکم ودفع تکذیکم ایای (روح المعانی) واللام فی لکم معناہ التعلیل (بحر)

عوام ہمیشہ بجائے دلائل وعقلیات کے معجزہ وخارق عادت ہی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور یہود تو اپنی اعجوبہ پسندی میں خصوصیت کے ساتھ بڑھے ہوئے تھے، (آیت) ’’ من الطین ‘‘۔ اس فقرہ نے اور زیادہ کھول کراس حقیقت کو حضرت کی زبان سے ادا کردیا ہے کہ میں عدم محض سے وجود میں ہرگز نہیں لاتا صرف مادہ میں ایک خاص ترکیب وترتیب کے ساتھ تصرف کردیتا ہوں تقیید بانہ لایوجد من العدم الصرف بل ذکرالمادۃ التی یشکل منھا صورۃ الطیر (بحر) (آیت) ’’ کھیءۃ الطیر‘‘ یعنی پرندوں کی شکل کے کھلونے مٹی سے بناتاہوں۔ طیر۔ یہاں بہ طور اسم جنس کے ہے (آیت) ’’ فانفخ فیہ فیکون طیرا ‘‘۔ یعنی میرے نفخ دم سے ان میں جان پڑجاتی ہے اور وہ سچ مچ کے پرندے بن کر اڑنے لگتے ہیں۔

چاروں انجیلیں جو کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا کے نزدیک مستند ہیں ان میں اس معجزہ کا ذکر نہیں لیکن جو انجیل کلیسائے قبط (مصر) Coptic Church کی مستند الیہ ہے، اس میں یہ صاف مذکور ہے جیسا کہ ڈاکٹر بج Budge نے اپنی کتاب Legends of our lady Mary کے مقدمہ صفحہ 29 میں نقل کیا ہے کہ :’’ وہ پرندوں کی شکل کے جانور بنادیتے تھے جو اڑ سکتے تھے ‘‘۔

 (آیت) ’’ باذن اللہ ‘‘۔ یعنی یہ جو کچھ بھی میں خردکھاتا ہوں، اسے کہیں میری قوت وقدرت کا نتیجہ نہ سمجھ لینا یہ جو کچھ بھی ہوتا ہے سب محض مشیت خداوندی وقدرت الہی کا ثمرہ ہے۔

 ’’ الاکمہ‘‘۔ اندھوں کو بغیر اپریش کے بینا کردینا یوں بھی آسان نہیں چہ جائے کہ مادر زاد اندھوں کو : اور اکمہ ایسے ہی کو کہتے ہیں۔ اس معجزۂ مسیح (علیہ السلام) کا ذکر انجیلوں میں متعدد مقامات پر ہے مثلا انجیل متی ۔9:27،30 میں اور انجیل مرقس 8:22،25۔ میں لیکن سب سے زیادہ تفصیل انجیل یوحنا 9: 1،7 میں ہے اور اس میں تصریح اندھے کے مادرزاد یا پیدایشی ہونے کی ہے۔ (آیت) ’’ الابرص ‘‘۔ کو ڑھیوں کے اچھا کرنے کا ذکر انجیل میں دو جگہ ہے۔ ایک جگہ ایک کوڑھی کو شفا دینے کا اور دوسری جگہ دس کوڑھیوں کو ’’ جب وہ اس پہاڑ سے اترا تو بہت سی بھیڑ اس کے پیچھے ہولی اور دیکھو ایک کوڑھی نے پاس آکر اسے سجدہ کیا اور کہا۔ اے خداوند اگر تو چاہیے تو مجھے پاک صاف کرسکتا ہے اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا اور کہا میں چاہتا ہوں تو پاک صاف ہوجا۔ وہ فورا کوڑھ پاک صاف ہوگیا‘‘ (متی 8 : 1۔ 3) ’’ اور ایسا ہوا کہ یروشلیم کو جاتے ہوئے وہ سامریہ اور گلیل کے بیچ سے ہوکر جارہا تھا اور ایک گاؤں میں داخل ہوتے وقت دس ( 10) کوڑھی اس کو ملے۔ انہوں نے دور کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا۔ اے یسوع، اے صاحب ہم پر رحم کر، اس نے انہیں دیکھ کر کہا جاؤ اپنے تئیں کاہنوں کو دکھاؤ اور ایسا ہوا کہ وہ جاتے جاتے پاک صاف ہوگئے (لوقا۔ 17: 1 1، 14)

 انجیل کے جدید ناقدوں نے طرح طرح پر جرح کرکے پچھلی صدی میں اناجیل اربعہ کا گوشہ گوشہ مجروح کرڈالا ہے۔ لیکن اتنے جزء پر یہ ناقدین بھی متفق ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے معجزات شفا بخشی ثابت شدہ ہوں۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا ج 15 ص 62) نیز انسائیکلوپیڈایا ببلیکا جو خاص انہیں تنقیدات کے لیے ہے۔ اس کا کالم 2445 ( احی الموتی) برناباحواری کی جو انجیل چلی آرہی ہے اس میں تو معجزہ احیاء اموات کی تصریح بھی موجود ہے (ص 437، 441۔ انگریزی ایڈیشن) رہیں اور اور انجیلیں جو موجودہ مسیحیوں کو مسلم اور ان کے نزدیک مستند ہیں وہ بھی اس ذکر سے خالی نہیں بلکہ ان میں متعدد مثالیں اس قسم کے معجزہ کی مذکورہ ہیں چنانچہ لوقا جو یونان میں طبیب کی حیثیت سے مشہور تھے ان کی جانب منسوب انجیل میں یہ درج ہے :۔’’ تھوڑے عرصہ کے بعد ایسا ہوا کہ وہ مائین نامی ایک شہر کو گیا اور اس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اس کے ہمراہ تھے جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھا ایک مردے کو باہرلئے جاتے تھے وہ اپنی ماں کا اکلوتا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اس کے ساتھ تھے اسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اور اس سے کہا رو نہیں۔ پھر اس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اس نے کہا اے جوان میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھو وہ مردہ اٹھ بیٹا اور بولنے لگا اورا س نے اسے اس کی ماں کو سونپ دیا اور سب پر دہشت چھا گئی (لوقا۔7: 1 1، 16) نیز (7:22) انجیل متی (9: 18۔25) میں ایک تازہ میت (ایک سردار کی لڑکی) کے جلا اٹھانے کا ذکر ہے۔ اور انجیل یوحنا ( 1 1: 1۔ 44) میں بڑی تفصیل کے ساتھ ایک چار روز کے دفن شدہ مردہ لعزر کے احیاء کا۔

’’ باذن اللہ ‘‘۔ مزید تاکید وتصریح کے لئے اس فقرہ کو مکرر لایا گیا ہے کہ کہیں ان اعجازی تصرفات کو میری جانب نہ منسوب کردینا۔ جو کچھ بھی ہوا۔ محض خدائے برحق کی قدرت ومشیت سے ہوا۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ بعض اہل حال سے جو ایسے اقوال منقول ہیں جن میں وہ اپنی جانب ایسے افعال کو منسوب کرگئے ہیں جو حق تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں تو بشرط صحت نقل وہ دعوی غلبہ حال پر محمول ہوں گے لیکن انمیں جو اہل ادب ہیں وہ ہر ایسے موقع پر حضرت مسیح (علیہ السلام) ہی کی طرح باذن اللہ یا اس کے مرادف کسی فقرہ کی قید لگا دیتے ہیں۔
 (آیت) ’’ بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ‘‘۔ یہ بات آیت نے مثال اور نمونہ کے طور پر فرمائی یعنی تمہاری مخفی چیزوں پر بھی اللہ مجھے مطلع کردیتا ہے.

 ’’  ایۃ‘‘۔ یعنی نشان میرے پیغمبر اور مؤید من اللہ ہونے کا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاتھ سے خوارق کا بہ کثرت صادر ہونا تاریخ کا ایک مسلم واقعہ ہے خواہ ان کی توجیہ مفکرین کچھ بھی کرتے رہے ہوں۔ یہود نے انہی خوارق کو دیکھ کر آپ کو ساحر وشعبدہ باز کہنا شروع کردیا چنانچہ جوزیفس (متوفی ( 100 ء) نے اپنی تاریخ آثار یہود میں آپ کا ذکر اس حیثیت سے کیا ہے اور جیوش انسائیکلوپیڈیا میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں لکھا چلا آتا ہے :۔ ’’ یسوع نے بہ حیثیت معلم دین یا قانون ساز کے نہیں بلکہ بہ حیثیت شعبدہ باز کے اپنی زندگی میں شہرت وناموری گلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں حاصل کی‘‘ (جلد 7 صفحہ 167)


(بحوالہ تفسیر ماجدی سورہ آل عمران، آیت 49، مولانا عبد الماجد دریابادی ؒ)

متقین کی خصوصی صفات

انفاق، کظم الغیظ ، عفو اور احسان متقین کی خصوصی صفات ہیں 


وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ ، الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ( سورہ آل عمران : آیات: 133- 134)

" اور مغفرت کی طرف جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے، دوڑو اور جنت کی طرف (دوڑو) جس کا عرض سارے آسمان اور زمین ہیں، اور جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو فراغت اور تنگی (دونوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ کے ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے،"


1- ’’ ینفقون فی السرآء والضرآء ‘‘
۔ یعنی راہ حق میں، دین کی خدمات میں خرچ کرتے رہتے ہیں، بیہودہ مقاصد کے لیے ہو مال خرچ کرنا ، ظاہر ہے کہ شریعت میں ہرگز پسندیدہ نہیں۔ ’’ فی السرآء والضرآء ‘‘۔ یعنی ہر حال اور ہر صورت میں دین اور امت کی مالی ضرورتوں سے متعلق خرچ کرتے ہیں، یہ نہیں کہ خوش حال ہوئے تو مسرفانہ عیش پرستیوں میں پڑکر نیک کاموں سے ہاتھ ہی روک لیا یا تنگدست ہوئے تو ناشکری میں آکر اپنی بساط بھر بھی خرچ کرنے سے رک گئے ۔



2- الکظمین الغیظ ‘‘
۔ کظم کہتے ہیں غصہ کے ضبط کرجانے کو، تو یہ لوگ وہ ہوئے جو غصہ سے مغلوب نہیں ہوجاتے، بلکہ اس سے مقابلہ کرکے اسے زیر کرلیتے ہیں، اور اپنے اوپر قابو رکھتے ہیں، بعض اہل تحقیق نے یہ خوب لکھا ہے کہ یہاں فاقدمن الغیظ ارشاد نہیں ہوا ہے یعنی مدح اس کی نہیں آئی ہے کہ غصہ سرے سے آتا ہی نہیں ہو، بلکہ اس کی آئی ہے کہ اسے قابو میں رکھا جائے، اور عقل جذبات کے اوپر حاکم رہے، غصہ پیدا ہوتا ہے حرارت طبعی یا حمیت سے، اسے سرے سے فنا کردینا ہرگز اسلام کو مقصود نہیں، مقصود اسے صرف حدود کے اندر رکھنا ہے، غصہ مطلق صورت میں ہرگز ممنوع نہیں، نہ شرعا معصیت نہ عقلا مضر، بلکہ اگر حدود کے اندر ہے اور محل مناسب پر پیدا ہو تو عیب نہیں ہنر ہے، غصہ کے ضبط کرجانے کی فضیلتیں حدیث نبوی میں بہ کثرت وارد ہوئی ہیں، مثال کے لیے صرف ایک حدیث ملاحظہ ہو، من کظم غضبا وھو یقدر علی انفاذہ ملأاللہ قلبہ امنا و ایمانا۔ (قدرت نفاذ کے باوجود جو شخص اپنے غصہ کو روک لے جائے اللہ اس کا قلب امن و ایمان سے لبریز کردے گا۔



3- ’’ العافین عن الناس ‘‘
۔ یعنی لوگوں کے قصوروں، اور خطاؤں کو معاف بھی کردیتے ہیں، یہی نہیں کہ باوجود قدرت واستطاعت عطا وار سے انتقام نہیں لیتے، بلکہ اسے معاف بھی کردیتے ہیں، یہ درجہ کا ظمین الغیظ سے بلند تر ہے، وہ اگر محض ایک سلبی کیفیت تھی، تو یہ ایک ایجابی مرتبہ ہے۔



4- ’’ المحسنین ‘‘۔
محسنین کا درجہ کا ظمین وعافین دونون سے بلند تر ہے۔ یعنی عفو سے بھی آگے بڑھ کر یہ اور حسن سلوک سے پیش آتے ہیں، اخلاقی تعلیم کے موقع پر قرآن نے اکثر تدریج کو پیش نظر رکھا ہے، اور اس کی بہترین مثال یہ آیت ہے، تینوں مقامات فضیلت کے ہیں لیکن یہ تیسرا مقام فاضل ترین ہے۔ محدث بیہقی نے سیدنا حضرت علی بن حسین (رض) سے متعلق روایت نقل کی ہے کہ آپ کو ایک جاریہ وضو کرا رہی تھی کہ لوٹا اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر آپ پر گرا۔ غصہ آنا امر طبعی تھا۔ جاریہ نے فورا الفاظ قرآنی ’’ الکظمین الغیظ ‘‘۔ اپنی زبان سے اداکئے۔ آپ کا غصہ دور ہوگیا، پھر جاریہ نے ’’ العافین عن الناس ‘‘۔ پڑھا، آپ نے فرمایا ’’ میں نے معاف کردیا ‘‘۔ اب جاریہ کی زبان پر ’’ واللہ یحب المحسنین ‘‘۔ آیا آپ نے فرمایا ’’ جامیں نے تجھے آزاد کردیا ‘‘۔ ( بحوالہ تفسیر روح المعانی ) رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی تو خیر، من وعن قرآن کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی تھی ہی۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق قرب وقرابت رکھنے والے بھی کس درجہ نفوس قدسیہ کے مالک بن چکے تھے ۔


پروفیسر آرنلڈ وغیرہ فرنگی فاضلوں نے کہا ہے کہ عرب جیسی تندخو، جنگجو، جدل پیشہ قوم کے سامنے حلم وضبط، صلح وآشتی کے ایسے معیار پیش کرنا، اور پھر اس تعلیم کو کامیاب بنانا بجائے خود ایک اعجاز ہے۔



( ماخوذ از تفسیر ماجدی سورہ آل عمران 133-1334 ، مولانا عبد الماجد دریابادی ؒ )

قرآن مجید کا تعارف

قرآن مجید کی کل آیتیں شمار کرلی گئی ہیں اور ان کی میزان بقول اصح (6،616) ہے (اتقان، سیوطی ) ، اسی طرح  قرآن مجید کے کل الفاظ بھی شمار کرلیے گئے ہیں۔ اور ان کی میزان بقول اصح (77،934) ہے (اتقان) اور کل حروف قرآنی بھی شمار کرلیے گئے ہیں اور ان کی میزان بقول اصح(3،23،760 ) ہے (اتقان، سیوطی ) اللہ اللہ کلام الہی کے عاشق وشیدائی کیسی کیسی دیدہ ریزیاں اس کے واسطے کرگئے ہیں !

سورۃ

سورۃ کے لفظی معنی بلندی یا منزل کے ہیں۔ جس طرح دنیا کی دوسری کتابیں مختلف بابوں میں تقسیم ہوتی ہیں، قرآن کے ہر باب کو سورۃ کہتے۔ گویا ہر سورۃ ایک بلند منزل کا نام ہے۔ سورۃ کے دوسرے معنی شہر پناہ کی دیوار کے بھی ہیں ۔سورۃ قرآنی کو سورۃ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ گویا وہ فصیل شہر کی طرح اپنے مضامین کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

قرآن مجید کو مختلف سورتوں میں تقسیم وترتیب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود فرماگئے تھے۔ آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کے ارشاد کے مطابق ایک سورۃ شروع کی جاتی تھی اور دوسری ختم۔ کل قرآنی سورتوں کی تعداد 114 ہے ۔


قرآنی سورتوں کی ایک اہم تقسیم بہ لحاظ زمانہ نزول کی گئی ہے۔ جو سورتیں قبل ہجرت نبوی ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ قیام مکہ میں نازل ہوئیں، خواہ ان کا نزول حدود شہر مکہ سے باہر ہی ہوا ہو مکی کہلاتی ہیں۔ اور جو سورتیں بعد ہجرت نبوی، زمانہ قیام مدینہ میں نازل ہوئیں، وہ مدنی کہلاتی ہیں، خواہ ان کا نزول حدود شہر مدینہ سے باہر ہی ہوا ہو۔ لیکن یہ تقسیم صرف عمومی حیثیت سے ہے۔ ورنہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدنی سورت کے اندر مکی آیتیں رکھوا دی ہیں، یا اس کے برعکس۔

 ربط مضمون ومناسبت مقام کا صحیح تر ولطیف تر احساس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر اور کس کو ہوسکتا تھا ؟ اس لئے کسی کو متعین آیت کے باب میں اس کے مکی یا مدنی ہونے کا فیصلہ حزم کے ساتھ کرنا دشوار ہے۔ روایتیں جو اس باب میں وارد ہوئی ہیں، کوئی درجہ تواتر کو پہنچی ہوئی نہیں ہیں۔ محض مفید ظن ہیں۔ مفید یقین نہیں۔

 اور اس قسم کے عقلی وقیاسی معیار کی مثلا (آیت) یایھا الذین امنوا سے شروع ہونے والی آیتیں لازمی طور پر مدنی ہوں گی اور (آیت) یایھا الناس سے شروع ہونے والی لازمی طور پر مکی، محض اکثری وتخمینی ہیں۔ کلی اور قطعی نہیں۔ اور محض ان روایات ونظریات کے ماتحت کسی آیت پر جزم ووثوق کے ساتھ کوئی حکم لگا دینا، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ قرآن مجید کسی جدید ترتیب پر اسے ترتیب نزولی کا نام دے کر آمادہ ہوجانا بڑی ہی جسارت کا کام ہے۔ اصل میں یہ بلا مسیحیوں کے ہاں سے آئی ہے کہ انہیں نے اپنے ہاں کے قدیم وجدید دونوں صحیفوں کو اس قسم کی سرتاسر ظنی بلکہ وہمی ’’ تحقیقات‘‘ کا تختہ مشق بنا رکھا ہے ۔


رکوع 



سورۃ کے اندر کی ایک بڑی تقسیم کا نام رکوع ہے۔ بڑی سورتوں میں اکثر رکوع دس دس آیتوں پر رکھے گئے ہیں۔ اور یہ اتنی مقدار ہے جو ایک رکعت میں بہ آسانی پڑھی جا سکتی ہے۔ سورۃ فاتحہ کے علاوہ پارہ 30 کی 34 چھوٹی سورتوں میں بھی کل ایک ہی رکوع ہے۔ اس میں 7 آیاتیں ہیں۔


آیت:


آیت کے لفظی معنی نشان کے ہیں۔ اصطلاح میں سورت کے اندر کی سب سی چھوٹی تقسیم کا نام ہے۔ ہر فقرہ جس میں کوئی حکم ہو یا وہ ایک مستقل عبارت ہو، ایک آیت ہے۔قرآن مجید کی کل آیتیں شمار کرلی گئی ہیں اور ان کی میزان بقول اصح 6 16،6 ہے ۔ قرآن مجید کے کل الفاظ بھی شمار کرلیے گئے ہیں۔ اور ان کی میزان بقول اصح 93424977 ہے ۔ کل حروف قرآنی بھی شمار کرلیے گئے ہیں اور ان کی میزان بقول اصح 760249232493 ہے ۔ 


 تسمیہ :


قرآن مجید کا یہ افتتاحی فقرہ بجز ایک سورت ہے، ہر سورت کی ابتدا میں دہرایا گیا ہے، یعنی13 مرتبہ اور سورۃ النمل کے اندر عبارت میں بہ طور آیت قرآنی بھی آیا ہے۔ اور اس لیے اس کے جزو قرآن ہونے نہ ہونے کی بابت تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ البتہ گفتگو اس میں ہوئی ہے کہ آیا ہر سورت کی ابتدا میں بھی اس کی حیثیت بطور ایک مستقل آیت کے ہے ؟

 امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے کہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ سورتوں کے درمیان محض بطور علامت فرق وتمیز کے اور شروع میں بطور افتتاحی فقرہ کے ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی مسلک سے متفق ہیں۔مفصل بحث جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ حنفی کی احکام القرآن میں موجود ہے۔ ہر جائز کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرنے کی بڑی فضیلتیں حدیث میں وارد ہوئی ہیں۔

 اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارک یہی تھی کہ کھانا کھاتے، پانی پیتے، وضو کرتے، جانور ذبح کرتے، غرض اس قسم کے سارے کاموں کی ابتدا بسم اللہ ہی سے کرتے۔ اور ہے بھی یہی کہ جو شخص کسی کام کو خدائے رحمن ورحیم کا نام لے کر شروع کرتا ہے، وہ عملا اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ میرا ضمیر پاک ہے، میری نیت مخلصانہ ہے، میرا مقصد اعلی ہے اور میں توحید کا پرستار ہوں۔ ایک طرف شرک سے اور دوسری طرف الحاد سے بیزار۔ 

غرض بسم اللہ سے بڑھ کر قوت بخش اور اس سے زیادہ روح واخلاق کو بلند کرنے والا ذکر کوئی اور نہیں۔ بسم اللہ کی ب نحویوں کی اصطلاح میں باء الا ستعانت کہلاتی ہے، پڑھنے والا گویا یوں کہتا ہے کہ میں شروع کرتاہوں اس کلام کو اللہ کے نام سے مدد چاہتے ہوئے، اور یہ کہہ کر بسم اللہ خواں اپنی اور سب کی طرف سے قطع نظر کرکے تکیہ کرلیتا ہے اللہ کی ذات اور اس کی صفات رحمانیت ورحمیت پر ۔


(یہ بالاختصار  تفسیر ماجدی ( مولانا عبد الماجد دریا بادی )سے ماخوذہے)

قصہ آدم علیہ السلام

آدم علیہ السلام  :
یہی سب سے پہلے بشر تھے، اسی لیے ابوالبشر کہلاتے ہیں۔ اور خلیفۃ اللہ کے اولین مصداق۔ جنت سے جب زمین پر آئے، تو غالبا دجلہ وفرات کے دو آبہ میں آباد ہوئے، جو اب ملک عراق کہلاتا ہے، توریت میں تین صاحبزادوں کا نام آتا ہے۔ ہابیل ،، قابیل، شیث (علیہ السلام)۔ توریت ہی کی حسب روایت عمر 930 سال کی پائی۔ عربی میں ان کا یہ نام کس مناسبت سے پڑا ؟ کسی نے کہا کہ زمین کی جلد (ادیم) سے پیدا ہوئے، اس لیے آدم کہلائے۔ کسی نے کہا کہ اپنی جلد کی سرخی کی بنا پر۔ خلق ادم من ادیم الارض فتسمی ادم (ابن جریر۔ عن سعید بن جبیر) قیل سمی بذلک لکونہ جسدہ من ادیم الارض وقیل بسمرۃ فی لونہ (راغب)

وعلم آدم الاسماء کلھا سے کیا مراد ہے ؟

 اسماء۔ اسم کا مفہوم عربی میں اردو کے نام سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ا سم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی چیز جانی جائے، پہچانی جائے۔ اسم الشیء علامتہ (قاموس) الاسم مایعرف بہ ذات الشیء (راغب) اور یہ شناخت ممکن نہیں جب تک اعراض، خواص، آثار، کا علم بھی ساتھ ساتھ نہ ہو۔ اسی طرح اہل لغت نے بھی تشریح میں اس کا لحاظ رکھ لیا ہے۔ قال ابن سیدہ الاسم ھو اللفظ الموضوع علی الجوھر اوالعرض للتمییز اے لیفصل بہ بعضہ عن بعض (تاج)

 اسم کے ساتھ اگر مسمی کا علم نہ ہوا تو اسم محض ایک آواز کانوں تک رہے گی۔ اور ذہن کے سامنے کوئی مفہوم نہ پیدا ہوگا۔ علامہ راغب نے اسی لیے اس پر شرح وبسط سے کلام کرکے آخر میں کہا ہے، ان معرفۃ الاسماء لاتحصیل الا بمعرفۃ المسمی وحصول ؔ صورتہ فی الضمیر (کہ اسم کی معرفت بغیر مسمی کی معرفت اور ذہن میں اس کی تصویر کے ہو نہیں سکتی)۔  اور ایک دوسرے امام لغت نے اس کی داد، ان الفاظ میں دی ہے۔ ھو کلام نفیس (تاج) اور بعضوں نے کہا ہے کہ اسم مرادف ہے ذات شے اور عین شے کے۔ یقال ذات ونفس وعین واسم بمعنی (قرطبی) یہ تو لفظی معنی ہوئے۔ 

آیت کی تفسیر میں محققین نے مراد معلومات اشیا سے لی ہے۔ اور اسما کے ساتھ مسمیات اور ذوات وخواص واشیاء کو شامل کیا ہے۔ اور اشیاء کے اسماء سے مرادان کے آثار وخواص کا علم لیا ہے۔ فالمراد الانواع الثلاثۃ من الکلام وصورۃ المسمیات فی ذواتھا (راغب) علم ادم مسمیات الاسماء (کشاف) الھمہ معرفۃ ذوات الاشیاء وخواصھا واسماءھا واصول العلوم وقوانین الصناعات وکیفیۃ الاتھا (بیضاوی) علمہ صفات الاشیاء ونعوتھا وخواصھا (کبیر) صاحب تفسیر مظہری نے کہا کہ مراد اسماء سے اسماء الہی ہیں۔ انہیں کا علم اجمالی کا مل آپ کو مل گیا تھا، اور ہر اسم وصفت کے ساتھ ایسی مناسبت تامہ آپ کو پیدا ہوگئی تھی کہ آپ جس کسی اسم یا صفت کی طرف توجہ کرتے وہ اسم یا صفت فورا آپ پر متجلی ہوجاتی۔ مثلا جب اسم پاک الاول کی تجلی آپ پر ہوئی تو ہرگز ری ہوئی چیز آپ پر منکشف ہوگئی۔ اسی طرح جب اسم پاک الاخر کی تجلی ہوئی تو ہر آنے والی چیز معلوم ہوگئی، اور اسی پر قیاس سارے اسماء الہی کا کیا جاسکتا ہے۔ اللہ اکبر ! یہ مقام ہے انسان کی فضیلت کبری کا۔ حیف ہے کہ یہ خلیفۃ اللہ دیوتا پرستی، ملائکہ پرستی میں مبتلا ہوجائے !

(حوالہ : تفسیر ماجدی : سورہ بقرہ آیت: 31 ، از مولانا عبدا لماجد دریا بادی )

ایمان بالغیب کیا ہے ؟ مولانا عبد الماجد دریا بادی

ایمان بالغیب کیا ہے ؟
 مولانا عبد الماجد دریابادی

 (رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات وتصریحات کے مطابق نہ کہ اپنے ظن وتخمین، وہم وگمان سے) یؤمنون۔ ایمانیات کے دائرہ کے اندر کی جتنی چیزیں بھی ہیں سب کو تصریحات نبوی کے مطابق وماتحت ہونا ضروری ہے۔ کسی اور راہ سے آیا ہو اعلم اس دائرہ میں نامقبول ہے۔ ایمان کی کیفیت نفسی شک، ریب ترددوتذبذب کی بالکل ضد ہے۔ ایمان سے اس کے برعکس دماغ کو سکون، دل کو اطمینان، روح کو تسلی نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی صاحب ایمان کو خود کشی کرتے نہیں پایا گیا۔ ایمان کے بغیر دل میں بےکلی اور بےچینی ہی رہا کرتی ہے۔ لیکن ایمان والے کو سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی ڈھارس بندھی رہتی ہے کہ وہ بڑا سہارا اور مضبوط آسرارکھتا ہے۔ بالغیب یعنی ایمان ایسے عالم پر رکھتے ہیں جو محسوسات اور معقولات سے ماوراء ہے۔ اور جس کی بابت خبریں صرف نبی کے ذریعہ سے معلوم ہوسکتی ہیں۔ غیب لغت میں شہود کی ضد ہے۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو نظر سے نظر سے چھپی ہوئی ہو یا مشاہدہ تجربہ سے باہر ہو۔ الغیب کل ما غاب عنک (لسان) استعمل فی کل غائب عن الحاسۃ (راغب) یہ لغوی تشریح تھی۔ آیت میں الغیب سے مراد ائمہ تفسیر نے وہ عالم لیا ہے، جو حواس وعقل سے ماوراء ہے، اور جس کی بابت جو کچھ بھی علم ہوتا ہے وہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے توسط سے، مثلا احوال حشرونشر، حورو ملائکہ، جنت ودوزخ وغیرھا۔ اور یہ تفسیر خود جماعت صحابہ (رض) سے مروی ہے۔ اما الغیب فما غاب عن العباد من امر الجنۃ وامر النار ما ذکر اللہ تعالیٰ وتبارک فی القرآن (ابن جریر۔ عن ابن مسعود وناس من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم) وھو قول جمھور المفسرین ان الغیب ھو الذی یکون غائبا عن الحاسۃ (کبیر) غیب کی تفسیر منقول اسی قدر ہے۔ لیکن اسے ذرا سی وسعت دینے سے اس کے اندر پیمبر کے سارے علوم داخل ہوجاتے ہیں۔ اور پیمبر جن جن امور سے وحی جلی یا وحی خفی کی روشنی میں لوگوں کو روکتا ہے، ان کی باریک باریک برائیوں کا امت کے نقطہ نظر سے داخل غیب ہونا صاف معلوم ہوجاتا ہے وحی الہی کی خوردبین سود، شراب، زناوغیرہ کی خرابیوں اور مفسدوں کی جس طرح اپنی گرفت میں لے آتی ہے، وہ انسان کے لیے غیب ہی کا حکم رکھتی ہے۔ لیکن جب غیب کی حقیقت یہ معلوم ہوگئی کہ وہ شہود یا علم کے مقابلہ کی چیز ہے تو ظاہر ہے کہ جس طرح ہر شخص کا علم ومشاہدہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اسی نسبت سے ہر ایک کا غیب بھی دوسرے سے جدا گانہ ہوتا ہے۔ طبیب کے لیے مرض ومریض سے متعلق بہت سے امور شہود میں ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے غیب کے حکم میں داخل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر فن کا ماہر ایسی چیزیں جانتا ہے جو عامی کے لیے غیب یا خفا میں ہوتی ہیں۔ گویا جس شخص کا دائرہ علم جس قدر وسیع ہوگا، اسی نسبت سے اس کا دائرہ غیب چھوٹا ہوگا۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ پر چونکہ ہر چیز روشن وعیاں ہے، اس لیے کوئی شے اس کے لیے غیب میں داخل ہی نہیں۔ اور اس لیے اسے لیے اسے جب عالم الغیب کہا جاتا ہے تو اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے، جو سب بندوں کے لیے غیب میں ہوتی ہیں۔ ’’ غیب‘‘ کی اضافت یہاں صرف بندوں کی جانب ہوتی ہے، ورنہ حق تعالیٰ کے لیے تو جس طرح دور ونزدیک، آسان ودشوار، بڑا اور چھوٹا سب یکساں ہیں، اور ان کے باہمی فرق بےمعنی ہیں، اسی طرح غیب وشہود بھی بالکل ایک ہیں، ویقال للشئی غیب وغائب باعتبارہ بالناس لا باللہ تعالیٰ فانہ لا یغیب عنہ شیء (راغب) یہیں سے یہ بھی ظاہر ہے کہ پیمبر چونکہ تمام دوسرے انسانوں سے دانا ترو عالم ترہوتے ہیں اور ان کا دائرہ ادراک ومعرفت ساری دوسری مخلوق سے وسیع تر ہوتا ہے اس لیے قدرۃ انہیں بےشمار ایسی مخفیات کا علم ہوتا ہے جو غیر انبیاء کے لیے تمام تر مجہول ہوتی ہیں لیکن اس ساری وسعت کے باوجود کہیں نہ کہیں کسی منزل پر پہنچ کر ان کے علم کی بھی انتہا ہوجاتی ہے۔ اور دائرہ غیب ان کا بھی شروع ہوجاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانا تو آیت میں متقین کی سب سے پہلی علامت بیان کیا گیا ہے۔ اب اگر خدانخواستہ کسی کا غیب ہے ہی نہیں، تو وہ ایمان کس چیز پر لائے گا ؟ ا نبیاء کرام تو متقی ہی نہیں، متقیوں کے سردار وپیشوا ہوتے ہیں۔ ان کا ایمان بھی اگر مغیبات ومخفیات پر نہ ہوگا تو اور کس کا ہوگا؟ ہاں البتہ ان کا غیب، انہیں کے ظرف ومرتبہ وبساط کے موافق ہوتا ہے۔ ہمہ شماکا سا غیب ان کا نہیں۔ دین کا مغز کہیے یا ایمان کی روح یہی عالم غیب کا عقیدہ ہے۔ یعنی یہ اعتقاد کہ اس عالم مادی سے ماوراء اس کائنات حسی سے اوپر، کچھ اور، ایک عالم ہے ضرور۔ اور جو اس عالم کے وجود کا قائل نہیں وہ سرے سے مذہب ہی کا قائل نہیں۔ اور سب سے بڑا غیب تو خود وجود باری ہے سب سے بڑھ کر روشن وعیاں، مگر سب سے زیادہ مخفی ونہاں۔ بڑے سے بڑے عالم وعارف کے لیے بھی اس کے مرتبہ علم ومعرفت کے بعد پھر غیب کے حدود شروع ہوتے ہیں ۔