‏تعارف قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تعارف قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن سے حقیقی استفادہ کا راستہ — چار بنیادی ستون

قرآنِ کریم محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ہدایت، تربیت اور انقلابِ انسانیت کا وہ جامع منشور ہے جس نے ایک بے سمت قوم کو دنیا کی رہنما قوم بنا دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آج ہم قرآن رکھتے ہوئے بھی اس کے حقیقی ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟ اس کا جواب اسی سنتِ نبوی ﷺ میں پوشیدہ ہے جس کے ذریعے قرآن صحابہ کرامؓ تک منتقل ہوا۔ قرآن سے مکمل استفادہ کے لیے چار بنیادی کام ایسے ہیں جن کے بغیر یہ تعلق ادھورا بلکہ بے روح رہ جاتا ہے۔

پہلا ستون: کثرتِ تلاوت — قرآن سے دائمی ربط

قرآن کے ساتھ پہلا اور بنیادی تعلق تلاوت ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جس سے قرآن دل میں داخل ہوتا ہے۔ سورۃ المزمل میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا:

"وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا"
(قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو)

یہ حکم محض نبی ﷺ کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ایک اصول ہے۔ کثرتِ تلاوت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے، اس کے شعور کو بیدار کرتی ہے اور اسے قرآن کے نور سے منور کرتی ہے۔ جس دل میں قرآن کی تلاوت جاری رہتی ہے، وہ دل مردہ نہیں ہوتا۔

قرآن کے موضوعاتی مطالعہ کی اہمیت

قرآنِ مجید محض متفرق احکام اور واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط، ہمہ جہت اور گہرے فکری نظام کا حامل کلامِ الٰہی ہے۔ اس کے مضامین مختلف مقامات پر مختلف سیاق و سباق میں بیان ہوئے ہیں، جنہیں یکجا کر کے سمجھنا “موضوعاتی قرآنی مطالعہ” کہلاتا ہے۔ یہ اندازِ مطالعہ قاری کو قرآن کے کسی ایک مرکزی تصور—جیسے “تزکیۂ نفس”—کو اس کی مکمل گہرائی اور وسعت کے ساتھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

تزکیہ کے موضوع کو اگر ہم قرآن کے مختلف مقامات سے جمع کریں تو ایک نہایت جامع اور مربوط تصویر سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر، بعثتِ نبویؐ کے مقصد میں بار بار یہ بات آئی کہ رسولؐ کا کام تلاوتِ آیات کے ساتھ ساتھ “تزکیہ” بھی ہے:
يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
یہ بتاتا ہے کہ تزکیہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ نبوت کا بنیادی ہدف ہے۔

اسی طرح حضرت ابراہیمؑ کی دعا میں بھی یہی ترتیب ملتی ہے:
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ
گویا تعلیم اور تزکیہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں—علم بغیر تزکیہ کے ادھورا ہے۔

ایمانیات و عقائد: قرآنی نقطہ نظر سے ایک جائزہ

قرآن کریم کی دعوت کا نقطہ آغاز اور تمام انسانی اعمال کی قبولیت کی بنیاد "ایمان" ہے۔ قرآن مجید محض نظریاتی عقائد پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کے قلب، عقل اور مشاہدے کو اپیل کرتا ہے تاکہ ایک مستحکم نظامِ فکر استوار ہو سکے۔ قرآنی ایمانیات کا مقصد صرف ذہنی تسکین نہیں بلکہ ایک ایسی "شخصیت سازی" ہے جو اللہ سے جڑی ہو، انسانیت کے لیے خیر خواہ ہو اور اپنی ہر حرکت پر اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتی ہو۔ ایمان وہ بیج ہے جس سے عملِ صالح کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔

۱۔ توحید: کائنات کا مرکزی سچ


قرآن کریم کا سب سے بنیادی پیغام "توحید" ہے۔ یہ صرف ایک خدا کو ماننے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور حقوقِ بندگی میں وحدہٗ لا شریک تسلیم کرنے کا نام ہے۔ قرآن کائنات کے ذرے ذرے، نظامِ شمسی کی ترتیب اور انسانی تخلیق کے عجائبات کو اللہ کی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ توحید کا مقصد انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خالق کے سامنے سرنگوں کرنا ہے، جو اسے حقیقی آزادی اور وقار عطا کرتا ہے۔

۲۔ رسالت: ہدایت کا ذریعہ


انسانی عقل محدود ہے، اسے خالق کی مرضی جاننے کے لیے وحی اور پیغمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن رسالت کو اللہ کا عظیم احسان قرار دیتا ہے۔ یہ عقیدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان زمین پر بے یار و مددگار نہیں چھوڑا گیا، بلکہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی زنجیر کے ذریعے ہدایت پہنچائی گئی۔ رسالت پر ایمان لانے کا مطلب اس نمونہ عمل (اسوہ حسنہ) کی پیروی ہے جو انبیاء نے اپنی زندگیوں سے پیش کیا۔

۳۔ آخرت: مسئولیت اور عدل کا تصور


قرآن میں عقیدہ آخرت محض ایک ڈراوا نہیں، بلکہ کائنات کے نظامِ عدل کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر موت کے بعد کوئی حساب کتاب نہ ہو تو ظالم اور مظلوم، نیک اور بد برابر ہو جائیں گے، جو اللہ کی صفتِ عدل کے خلاف ہے۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اصل زندگی (الحیوان) آخرت کی ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر جوابدہی کا احساس پیدا کر کے اسے ایک ذمہ دار شہری اور باکردار انسان بناتا ہے۔

۴۔ ملائکہ اور کتب: غیبی حقائق سے جڑنا


فرشتوں پر ایمان لانا اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات میں مادی قوتوں کے علاوہ کچھ نورانی قوتیں بھی ہیں جو اللہ کے حکم سے کائناتی امور انجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح سابقہ کتب پر ایمان لانا ادیانِ عالم کی اصل کے ایک ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور قرآن کو ان تمام کتب کے تسلسل اور محافظ (مہیّمن) کے طور پر پیش کرتا ہے۔

۵۔ قدر (تقدیر): اللہ کے علمِ محیط پر یقین


تقدیر پر ایمان لانا انسان کو مایوسی اور تکبر سے بچاتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ کوشش کرنا اس کا کام ہے، مگر نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر صبرو رضا اور توکل کی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔

قرآن کی تفسیر کے لیے کیا انداز اختیا ر کیاجائے؟ مولانا وحید الدین خان

قرآن اگرچہ ایک اعلی ترین علمی کتاب ہے، اس میں فطری حدود کے اندر علم وعقل کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔ مگر قرآن میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے معروف علمی اور فنی انداز اختیا ر نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ فنی آداب اور علمی اصطلاحات کو چھوڑ کر اصل بات کو موثر دعوتی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا مقصد علمی مطالعہ بیش کرنا نہیں ہے اس کا مقصد تذکیر و نصیحت ہے اور تذکیر و نصیحت کے لیے ہمیشہ سادہ اسلوب کارآمد ہوتا ہے نہ کہ فنی اسلوب ۔ 
قرآن کی تفسیر اور اس کا انداز کیا ہو؟



تاہم ایک طالب علمانہ ضرورت ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک آدمی قرآن کے بیانات کی علمی تفصیلات اور اس کے فنی پہلوؤں کو جانناچاہے ۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ قرآن کی تفسیر کے لیے کیا انداز اختیا ر کیاجائے۔ قرآن کی تفسیر اگر اس کے اپنے سادہ دعوتی اسلوب میں کی جائے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ تفسیر میں نصیحت اور تذکیر کی فضا باقی رہے گی جو قرآن کا اصل مقصود ہے مگر ایسی صورت میں خالص علمی تقاضوں کی رعایت نہ ہو سکے گی ۔ دوسری طرف اگر علمی و فنی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مفصل تفسیر لکھی جائے تو بعض خاص طبیعتوں کو وہ پسند آسکتی ہے ۔ مگر عام لوگوں کے لیے وہ ایک خشک دستاویز بن کر رہ جائے گی ۔ مزید یہ کہ وہ قرآن کے اصل مقصد ــــــــــــــــ تذکیر و نصحیت کو مجروح کرنے کی قیمت پر ہوگا ۔ 

اس مسئلہ کا ایک سادہ حل یہ ہے کہ تفسیر اور معلومات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ قرآن کے ساتھ جو تفسیر شائع کی جائے وہ خود تو نصیحت اور تذکیر کے انداز میں ہو ۔ اس کے بعد اس سے الگ ایک مستقل کتاب قاموس القرآن یا قرآنی انسائیکلوپیڈیا کے طور مرتب کرکے شائع کی جائے ۔ اس دوسری کتاب میں وہ تمام فنی بحثیں اور علمی اور تاریخی معلومات ہوں جو قرآنی حوالوں کو تفصیلی انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہیں ۔ مثلا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق آیات کے ذیل میں جو تفسیر لکھی جائے اس میں تو آنجناب کی زندگی کے صرف قابل عبرت پہلوؤں کی وضاحت ہو جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ کے بارے میں جو تاریخی اور اثریاتی معلومات ہیں ان کا قاموس القرآن میں جمع کر دیا جائے جن کو آدمی لفظ " ابراھیم " کے تحت دیکھ سکے ۔ اسی طرح نحوی ، فقہی ، کلامی اور طبیعتی مسائل کی تفصیلات بھی قرآن کی انسائیکلوپیڈیا میں درج ہوں نہ کہ قرآن کی تفسیر میں ۔ 

قرآن كا تعارف | ڈاکٹر شہزاد سلیم

(ماہنامہ اشراق،  شمارہ اپریل 2019 ء )

پس منظر


قرآن ایک منفردكتاب ہے۔ یہ خداے رب العزت كا انسانیت كے لیے آخری صحیفۂ ہدایت ہے۔ اس  سے پہلے وقتًا فوقتًا اس نےبہت سے پیغمبروں كو ہدایت سے سرفراز كیا۔ عہد نامۂ قدیم اور عہد نامۂ جدید كے بعد یہ خدا كا آخری عہد نامہ ہے جو اسنے لوگوں كی ہدایت كے لیے نازل فرمایا۔ یہ اُسی دین كو پیش كرتا ہے جو اِس سے پہلےسابقہ انبیا اور رسولوں نے پیش كیا۔ تا ہم پچهلے آسمانی صحیفوں كے برخلاف یہ اپنی اصل زبان اور صورت میں ہمارے پاس  محفوظ  ہے۔

قرآن کا تعارف
اس كی صنف ان كتابوں سے یكسر مختلف ہے جن سے ہم واقف اور مانوس ہیں۔ چنانچہ اس كے پڑھنے والے ہرسنجیدہ طالب علم كے لیے یہ  نہایت ضروری ہےكہ وہ اس كی صنف كا فہم ركهتا ہو۔ نیز اگر اس فہم كے ساتھ اس كتاب كے موضوع اور اسكی ترتیب سے بهی واقفیت پیدا كر لی جائے  توقاری اس كتاب كے فہم سے كما حقہٗ بہرہ یاب ہو سكتا ہے۔ وہ اس كتاب كو پڑھ كر حظ محسوس كرے گا اور اس كے ذہن كے دریچے وا ہوں گے۔ وہ خدا كی سنن اور افعال كا شاہد بن جائے گا اور رب كائنات سے اپنے آپ كو ہم كلام محسوس كرے گا۔  وہ خدا كو اگرچہ دیكھ نہیں سكتا، مگر اس كو محسوس كر پائے گا، كیونکہ وہ الہٰی اسالیب كلام اور آداب گفتگو سے اپنے آپ كو قریب محسوس كرے گا۔  اس كے بحر وجود كی موجیں متلاطم ہوں گی اور اس كے دل و دماغ پكار اٹهیں گے:

؎ ایں كتاب از آسمانے دیگر است۔

قرآن كی صنف


قرآن  ایک بے مثل ادبی شہ پارہ ہے جس كی نظیر انسانی كلام میں كہیں نہیں پائی جاتی۔ بلاشبہ، اس كتاب كی صنف كو  اسالیب اور تحریر كےموجودہ پیمانوں پر قیاس كرنا ایک مشكل امر ہے۔ تاہم اس كی سب سے قریبی مشابہت خطبا كے كلام سے قرار دی جا سكتی ہے۔ یہ كتاب مكالمات پر مشتمل ہے جو زندہ كرداروں كے ما بین ہوا  جو ساتویں صدی میں عرب كے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ یہ كردار ایک مخصوص پس منظر میں آپس میں ہم كلام ہوتے نظر آتے ہیں۔ جیسے كسی تمثیلیا ڈرامے  میں احوال اور پیش منظر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، بالكل ویسے ہی اس كتاب میں یہ پہلو ہمیں جابجا نظر آئے گا۔ الله تعالیٰ كی ذات والا صفات خود ان مكالمات كی مصنف ہے۔

اصول ترجمہ قرآن کریم

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری


قرآن مجیدکی تعلیمات زمانی و مکانی قیود سے ماورا بنی نوع انسان کی ہدایت پر مبنی ہیں اس اعتبار سے اس کی تعلیمات دنیا کی دیگر زبانوں تک پہنچنا ہی اس کا اصل ھدف ہے کہ اسی کیفیت میں اس کے نزول کا مقصد تکمیل کے مراحل طے کر سکتا ہے لہذا قرآن مجید کی ترجمانی یا ترجمہ دیگر زبانوں میں کرنا اس کے کچھ آداب اور معین کیفیات ہیں جن کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے اور اگر ان امور کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے تو قرآن مجید کی ترجمہ کما حقہ ناممکن ہے یا اس کا آفاقی پیغام اپنی اصل روح کے ساتھ منتقل نہیں ہو سکتا۔ اور بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے لفظ قرآن ، تفسیر اور ترجمہ کے معانی و مفاہیم ذکر کردیے جائیں تاکہ اصل مطلب کے فہم اور تفہیم میں آسانی رہے۔
قرآن : عربی لغت میں قرآن، قراء ت کا ہم معنی مصدر ہے، جس کا معنی پڑھنا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عَلَیْنَا جَمَعَہ وَقُرْاٰنَہ فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ (76/18- 17)

"بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت پڑھے ہوئے کی اتباع کرو"

پھر معنی مصدری سے نقل کر کے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیے ہوئے مُعجزِ کلام کا نام قرآن رکھا گیا، یہ مصدر کا استعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طور پر آتا ہے۔

تفسیر: عربی زبان میں تفسیر کا معنی ہے "واضح کرنا اور بیان کرنا" اسی معنی میں کلمہٴ تفسیر سورہٴ فرقان کی اس آیت میں آیا ہے: وَلَا یَاْ تُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰکَ بِا لْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا(الفرقان 25/ 33)
"اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم اس سے بہتر بیان لے آئیں گے"

اصطلاحی طور پر تفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتا ہے۔
جب یہ کہا گیا کہ تفسیر میں قرآن کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبار سے تو اس قید سے درج ذیل علوم خارج ہوگئے انہیں تفسیر نہیں کہا جائے گا۔

علم قراء ت: اس علم میں قرآن کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کے کلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیش نظر ہوتی ہے۔

علم رسم عثمانی: اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔
علم کلام: اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔
علم صرف: اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔
علم نحو: اس میں کلمات کے معرب و مبنی ہونے اور ترکیب کلمات سے بحث ہوتی ہے۔
علم معانی: اس میں کلام فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔
علم بیان: اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔
علم بدیع: اس میں وہ امور زیر بحث آتے ہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ صرف علم تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقت انسانی کے مطابق قرآن پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی مراد ہیں۔طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علم تفسیر کے خلاف نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اور علم ساتھ دے گا۔

وہ علوم جن کی مفسّر کو حاجت ہے:

علما اسلام نے مفسر کے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قرار د ی ہے: (1) لغت (2) صرف (3) نحو (4) بلاغت (5) اصول فقہ (6) علم التوحید (7) قصص (8) ناسخ و منسوخ (9)علم وہبی (10) اسباب نزول کی معرفت (11) قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کو بیان کرنے والی احادیث ،  وہبی علم، عالمِ با عمل کو عطا کیا جاتا ہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر، دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو اسے علم وہبی سے نہیں نوازا جاتا۔

استحکامِ نظم قرآن

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ 

 قرآن کی ہر بات اپنے اصول اور فروع میں اتنی مستحکم اور مربوط ہے کہ ریاضی اور اقلیدس کے فارمولے بھی اتنے مستحکم و مربوط نہیں ہوسکتے۔

 وہ جن عقائد کی تعلیم دیتا ہے وہ ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ و پیوستہ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ کردیجیے تو پورا سلسلہ ہی درہم برہم ہوجائے۔

 وہ جن عبادات و طاعات کا حکم دیتا ہے وہ عقائد سے اس طرح پیدا ہوتی ہیں جس طرح تنے سے شاخیں پھوٹتی ہیں، 

وہ جن اعمال و اخلاق کی تلقین کرتا ہے وہ اپنے اصول سے اس طرح ظہور میں آتے ہیں جس طرح ایک شے سے اس کے قدرتی اور فطری لوازم ظہور میں آتے ہیں۔

تفسیر تذکیر القرآن کی خصوصیات

1- تذکیر القرآن کا مقصد قرآن کی یاد دہانی ہے ۔ قرآن کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ نصیحت ہے ۔ تذکیر القرآن کی ترتیب میں سب سے زیادہ اسی پہلو کا لحاظ کیا گیا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لیے نصیحت بن سکے ۔

2- قرآن عام انسانی کتاب کی طرح ابواب کے انداز میں نہیں ہے ۔ مگر اس کا عام انداز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک پورا پیغام ہے ۔ ایک ایک " پیراگراف" میں ایک ایک بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تذکیر القرآن مین اشی شذراتی انداز کو تشریح کے لیے اختیار کیا گیا ہے ۔ یعنی قرآن کا ایک ٹکڑا یا ایک " پیراگراف " لے کر اس میں جو بات کہی گئی ہے اس کو مسلسل مضمون کی صورت میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تشریح کو پڑھتے وہئے قاری کے ذہن میں معانی کا سلسلہ نہ ٹوٹے اور وہ قرآن کی تذکیری غذا مسلسل لیتا چلا جائے ۔ 

3- تذکیر القرآن کی ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ پہلے قرآن کا زیر تشریح ٹکڑا " پیراگراف" درج کیا گیا ہے ۔ اس کے نیچے اس کا ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کے بعد ایک لکیر دے کر متعلقہ ٹکڑے کی تشریح ہے ۔ جہاں تشریح ختم ہو تی ہے وہاں پھر قرآن کا اگلا ٹکڑا درج کرکے دوربارہ مذکورہ ترتیب سے ترجمہ اور تشریح درج ہے ۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک پوری سورہ تفسیر ہے ۔ اس ترتیب میں قاری ہر تشریح کو پڑھتے ہوئے بیک وقت اس کا متن بھی سامنے رکھ سکتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی ۔ 

4- تذکیر القرآن میں یہ حکمت ملحوظ رکھی گئی ہے کہ ہر جزء میں ایک پوری بات آجائے ۔ آدمی اگر ایک صفحہ پڑھے تب بھی قرآنی نصیحت کا کوئی حصہ اسے مل جائے اور زیادہ صفحات پڑھے تب بھی ۔ 

5- تذکیر القرآن میں ترجمہ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ وہ نہ پوری طرح لفظی او رنہ پوری طرح بامحاورہ ۔ بلکہ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے۔ دونوں ہی انداز کے اپنے اپنے فائدے ہیں اور درمیانی انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے ۔ 

6- تفسیرمیں عام طور پر تفصیل سے پرہیز کیا ہے ، زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے ، وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں بھی باقی رہے ، قرآن ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف وہ انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے تفسیر میں بس انھیں اصل پہلوؤں کو غیر فنی انداز میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 




جمعہ 13 نومبر 1981 وحید الدین خاں 

(دیباچہ تذکیر القرآن )

فرآن ربانی دستر خوان ہے

قرآن کو کچھ لوگ فضائل کی کتاب سمجھتے ہیں ، کچھ لوگ مسائل کی کتاب اور کچھ لوگ سیاست کی کتاب ۔ تینوں باتوں میں جزئی صداقت ہے مگر ان میں سے کوئی بھی قرآن کی صحیح تعبیر نہیں ۔

قرآن کو فضائل کی کتاب ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آ یتوں اور سورتوں میں طلسماتی برکتیں چھپی ہوئی ہیں ۔ اور قرآن کے محض الفاظ کو دہرا لینا برکتوں کے حصول کے لیے کافی ہے ۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو قرآن کی وہ تمام آیتیں بے معنی ہوجاتی ہیں جن میں آدمی کو غور کرنے پر ابھارا گیا ہے ۔ قرآن ایسی آیتوں سے بھرا ہوا ہے جو آدمی کو اکساتی ہیں کہ وہ الفاظ سے گزر کر معانی کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرے ۔ وہ قرآن میں تدبر کرے اور قرآنی زاویہ نگاہ سے اپنے آپ کو اور کائنات کو دیکھنے ۔ ان تعلیمات کی روشنی میں دیکھئے تو قرآن کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے جن کی فکری قوتیں بیدار ہوں ، جو قرآن سے ذہنی غذا حاصل کریں اور عبرت کی نگاہ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزاریں ۔ ایسی حالت میں قرآن کو فضائل کی کتاب کہنا قرآن کی تصغیر ہے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ذہنوں کو کھولنے والی کتاب نہیں ۔ وہ برکت کی کتاب ہے جس کو بند ذہن کے ساتھ پڑھاجائے اور پھر بند غلاف میں محفوظ کر کے رکھ دیا جائے ۔ 

اسی طرح قرآن کو مسائل کی کتاب کہنا بھی قرآن پر ظلم کرنا ۔ "مسائل" کے لفظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن ایسے اعمال کی کتاب ہے جن کو ظاہری آداب کے ساتھ ادا کرلینا کافی ہے ، حالانکہ قرآن میں اس کے مطلوب اعمال کے ظاہری آداب کا ذکر ہی نہیں ۔ قرآن آدمی کو ایمان کی دعوت دیتا ہے مگر وہ اس ایمان کو ایمان نہیں مانتا جو داخل القلب ایمان نہ ہو، جس میں صحت مخارج کے ساتھ کلمہ ایمان کےالفاظ کو دہرا دیا گیا ہو ۔ قرآن کے نزدیک حقیقی ایمان وہ ہے جو روح میں اتر جائے جس میں آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں ، قرآن نماز کو فلاح کا ذریعہ بتایا ہے مگر قرآن کی مطلوب نماز وہ ہے جو خشوع کی نماز ہو نہ کہ سہو کی نماز ۔ و الہانہ شیفتگی شامل ہو جو قومی ہیروؤں کے ذکر میں ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ قرآن کے نزدیک قربانی بہت بڑا عمل ہے مگر وہ قربانی نہیں جو گوشت اور خون کے ہم معنی ہو بلکہ وہ قربانی جو آدمی کے لیے تقوی کا ذریعہ بن جائے ۔

اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو بتا تے ہیں کہ قرآن معروف معنوں میں مسائل کی کتاب نہیں بلکہ حقیقت کی کتاب ہے ۔ وہ انسان کے اندر زندہ عمل دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ محض ظاہری آداب و قواعد والا عمل ۔

قرآن میں یقینا بعض سیاسی نوعیت کے احکام ہیں ۔ مگر قرآن کو کتاب سیاست سمجھنا ایساہی ہے جیسے بعض جزئی مشابہت کی بنا پر انسان کو معاشی حیوان سمجھنا ۔ اس نکتہ نظر کے حاملین یہ دیکھتے ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺ کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا کہ دعوت و تبلیغ سے شروع ہوکر آپ کا مشن حکومت و سیاست تک پہنچا۔ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبر اس لئے آتے ہیں کہ مخصوص احکام کی بنیاد پر خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان کا مشن الگ الگ نہ تھا بلکہ سب کا مشن ایک تھا ۔ حتی کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کا ذکر کر کے نبی آخرالزماں سے کہا گیا ہے کہ تم بھی انھیں کی پیروی کرو(فبھداھم اقتدہ) ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب نبیوں کا مشن خدائی حکومت قائم کرنا ہو تا ہے تو آخری نبی کے سوا دوسرے نبیوں نے بھی آپ کی طرح حکومت کیوں نہ قائم کی۔

اس نکتہ نظر کے حاملین اس کا جواب دیتے ہیں کہ عمل کی حد تک تمام نبیوں نے خدائی حکومت کے قیام کے لیے جد وجہد کی ۔ البتہ کسی کا عمل کوشش کے مرحلہ میں رہ گیا اور کسی کا عمل آخری نتیجہ تک پہنچا ۔ مگر یہ جواب متعدد وجوہ سے غلط ہے ۔ مثال کے طور پر حضرت موسی ؑ کو لیجئے ۔ اگر آنجناب کا مشن یہ تھا کہ مصر کے اقتدار سے فرعون کو بے دخل کر کے وہاں خدائی قانون کی حکومت قائم کریں تو ایسا کیوں ہوا کہ جب خدا نے فرعون کو ہلاک کر دیا اور اس کی پوری جنگی طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا تو حضرت موسی ؑ مصر چھوڑ کر صحرائے سینا میں چلے گئے ۔ آگر آپ ﷺ کا مشن مصر میں حکومت الہیہ قائم کر نا تھا تو فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں اس کا پورا موقع آپ  کے لیے کھل چکا تھا ۔ ایسی حالت میں مصر کو چھوڑ کر چلے جانے کی کیا توجیہ کی جائے گی ۔


حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی نعمتوں کا ابدی خزانہ ہے ، قرآن خدا کا تعارف ہے ، قرآن بندے اور خدا کا مقام ملاقات ہے ۔ مگر اس قسم کے مفروضہ خیالات نے قرآن کو لوگوں کے لیے ایک ایسی کتاب بنادیا جو یا تو لفظی مجموعہ ہے جس سے ہر آدمی بس اپنے مخصوص ذہن کے تصدیق حاصل کرلے ۔ وہ اصلا خود اپنے آپ کو پائے اور یہ سمجھ کر خوش ہو کہ اس نے خدا کو پا لیا ہے ۔

(دیباچہ ، تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں )

قرآن فہمی کے شرائط

قرآن ایک فکری کتاب ہے اور فکری کتاب میں ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیر کی گنجائش رہتی ہے ۔ اس لئے قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پڑھنے والا خالی الذھن ہو ۔ اگر پڑھنے والے کا ذہن خالی نہ ہو تو وہ قرآن میں خود اپنی بات پڑھے گا ۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کی مثال لیجئے ۔ 

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ  : سورۃ البقرۃ : 165) 

"کچھ لو گ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مد مقابل بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کر تے ہیں جیسی محبت اللہ کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ حالاں کہ ایمان رکھنے والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔ "

ایک شخص جو سیاسی ذوق رکھتا ہو اور سیاسی اکھیڑ پچھاڑکو کام سمجھتا ہو وہ جب اس آیت کو پڑھے گا تو اس کا ذہن پوری آیت میں بس انداد (مدمقابل ) پر رک جائے گا ۔ وہ قرآن سے " مد مقابل " کا لفظ لے لے گا اور بقیہ مفہوم کو اپنے ذہن سے جوڑ کر کہے گا کہ اس سے مراد سیاسی مقابل ٹھہرانا ہے ۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو خدا کا سیاسی مد مقابل بنائے ۔ اس تشریح کے مطابق یہ آیت اس کے لیے اس بات کا اجازت نامہ بن جائے گا کہ جس کو وہ خدا کا " سیاسی مد مقابل " بنا ہوا دیکھے اس سے ٹکراؤ شروع کر دے ۔

 اس کے بر عکس جو آدمی سادہ مفہوم متعین کر ے گا ۔ ایسے شخص کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں مد مقابل ٹھہرا نے کی جس صورت کا ذکر ہے وہ باعتبار محبت ہے نہ کہ باعتبار سیاست ۔ یعنی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ آدمی کو سب سے زیادہ محبت صرف خدا سے کرنا چاہئے ۔ " حب شدید " کے معاملے میں کسی دوسرے کو خدا کا ہمسر نہیں بنانا چاہئے۔ 

قرآن کا ایک عمومی مفہوم ہے اور اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن پڑھے ۔ مگر جو شخص قرآن کے گہرے معانی تک پہنچنا چاہے اس کو ایک اور شرط پوری کر نی پڑتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ وہ اس راہ کا مسافر بنے جس کا مسافر اس کو قرآن بنانا چاہتا ہے ۔ قرآن آدمی کی عملی زندگی کی رہنما کتاب ہے اور کسی عملی کتاب کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی عملا ان تجربات سے گزرے جن کی طرف اس کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے ۔ 

یہ عمل کوئی سیاسی یا سماجی عمل نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک نفسیاتی عمل ہے ۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنے نفس کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے نہ کہ حقیتا کسی خارج کے مقابلہ میں ۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی ظاہری دنیا کی سطح پر نہ جئے بلکہ غیب کی دنیا کی سطح پر جئے ۔ اس سلسلے میں جن مراحل کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے ان کو وہ شخص کیسے سمجھ سکتاہے جو ان مراحل سے آشنا نہ ہوا ہو ۔ 

قرآن چاہتا ہے کہ آدمی صرف اللہ سے ڈرے اور صرف اللہ سے محبت کرے ۔ اب جس کا دل اللہ کی محبت میں نہ تڑپا ہو ، جس کے بدن کے رونگٹے اللہ کے خوف سے نہ کھڑے ہوئے ہوں وہ کیسے جان سکتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا کیا ہے اور اللہ سے محبت کرنا کیا ۔

 قرآن چاہتا ہے کہ آدمی خدائی مشن میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرے کہ وہ اس کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے ۔ اب جس شخص نے خدا کے کام کو اپنا ذاتی کام نہ بنایا ہو وہ کیوں کر جانے گا کہ خدا کے ساتھ اپنے کو شامل کرنے کا مطلب کیا ہے ۔

 قرآن یہ چاہتا ہے کہ آدمی انسانوں کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم نہ ہو بلکہ خدا کی طرف سے برسنے والے فیضان میں اپنے کو گم کرے ۔ اب جس شخص پر ایسے صبح وشام ہی نہ گزرے ہوں جب کہ خدا کے فیضان میں وہ نہا اٹھے وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ خدائی فیضان میں نہانے کا مطلب کیا ہے ۔

 قرآن چاہتا ہے کہ آدمی جہنم سے بھاگے اور جنت کی طرف دوڑے ۔ اب جو شخص اس طرح زندگی گزارے کہ جہنم کو اس نے اپنا مسئلہ نہ بنایا ہو اور جنت اس کی ضرورت نہ بنی ہو اس کو کیا معلوم کہ جہنم سے بھاگنا کیا ہو تا ہے اور جنت کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے ۔

 قرآن چاہتا ہے کہ آدمی اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس سے سر شار وہ ۔ اب جو شخص اپنی عظمت و کبریائی کے مینار میں لذت لے رہا ہو اس کو اس کیفیت کا ادراک کہاں ہو سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کی کبریائی کو اس طرح پاتا ہے کہ اپنی طرف اس کو عجز کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ 


قرآنی عمل اصلا نفس یا انسان کے اندرونی وجود کی سطح پر ہو تا ہے ۔ مگر انسان کسی خلا میں زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتا ہے ۔ اس لئے قرآنی عمل باعتبار حقیقت ذاتی عمل ہونے کے باوجود دو پہلوؤں سے دوسرے انسانوں سے بھی متعلق ہوجاتا ہے ۔ ایک اس اعتبار سے کہ آدمی جس قرآنی راستہ کو خود اپنا تا ہے اسی راستہ کو اختیار کرنے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی راستہ کو خود اپناتا ہے اسی راستہ کو اختیار کر نے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو تا ہے ۔ یہ رشتہ آدمی کو بے شمار تجربات سے گزارتا ہے جو مختلف صورتوں میں آخر وقت تک جاری رہتا ہے ۔

 دوسرے یہ کہ مختلف قسم کے انسانوں کے درمیان زندگی گزار تے ہوئے طرح طرح کے تعلقات و معاملات پیش آتے ہیں ۔ کسی سے لینا ہو تا ہے اور کسی کو دینا ، کسی سے اتفاق ہو تا ہے اور کسی سے اختلاف ، کسی سے دوری ہوتی ہے اور کسی سے قربت ۔ ان مواقع پر آدمی کیا رویہ اختیار کرے اور کس قسم کا رد عمل پیش کرے ، قرآن ان امور میں اس کی مکمل رہنمائی کر تا ہے ۔

 اگر آدمی اپنی خواہش پر چلنا چاہے تو قرآن کا یہ باب اس پر بند رہے گا اور اگر وہ اپنے کو قرآن کی ماتحتی میں دیدے تو اس پر قرآنی تعلیمات کے ایسے بھید کھلیں گے جو کسی اور طرح اس پر کھل نہیں سکتے ۔ 


قرآن آدمی کو جو مشن دیتا ہے وہ حقیتا کوئی " نظام " قائم کرنے کا مشن نہیں ۔ بلکہ اپنے آپ کو قرآنی کردار کی صورت میں ڈھالنے کا مشن ہے ۔ قرآن کا اصل مخاطب فرد ہے نہ کہ سماج ۔ اس لئے قرآن کا مشن فرد پر جاری ہوتا ہے نہ کہ سماج پر ۔  تاہم افراد کی قابل لحاظ تعداد اپنے آپ کو قرآن کے مطابق ڈھالتی ہے تو اس کے سماجی نتائج بھی لازما نکلنا شروع ہو تے ہیں ۔ یہ نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ حالات کے اعتبار سے ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں ۔ 

قرآن میں مختلف انبیاء کے واقعات انھیں سماجی نتائج اور سماجی رد عمل کے مختلف نمونے ہیں اور اگر آدمی اپنی آنکھیں کھول رکھی ہوں تو وہ ہر صورت حال کی بابت قرآن میں رہنمائی پا تا چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ قرآن فطرت انسانی کی کتاب ہے ۔ قرآن کو وہی شخص بخوبی طورپر سمجھ سکتا ہے جس کے لیے قرآن اس کی فطرت کا مثنی بن جائے ۔

( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں ) 

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے

قرآن عام طرز کی علمی تصنیف نہیں ، وہ ایک دعوتی کتاب ہے .

 اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو ساتویں صدی عیسوی کے ثلث اول میں ایک خاص قوم کے اندر اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا اور اس کو اپنے پیغام کی پیغامبری پر مامور فرمایا ۔ اس پیغمبر نے اپنے ماحول میں یہ کام شروع کیا اور اسی کے ساتھ قرآن کا تھوڑا تھوڑا حصہ حسب ضرورت اس کے اوپر اترتا رہا ، یہاں تک کہ 23 سال میں پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے ساتھ قرآن بھی تکمیل ہوگئی ۔

 قرآن اگرچہ خدا کی ابدی رہنمائی ہے مگر مذکورہ ترتیب نے اسی کے ساتھ اس کو تاریخی کتاب بھی بنا دیا ہے ۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی ابدی رہنمائی کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔

 ایسی حالت میں بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا آدمی کو ایک نئے مسئلہ سے دوچار کر دیتا ہے ۔ قرآن کی تفسیر اگر اس ابتدائی پس منظر کی روشنی میں کی جائے جس میں قرآن کے احکام اترے تھے تو قرآن قدیم زمانہ کی ایک تاریخی کتاب معلوم ہوگی ۔ اس کے بر عکس قرآن کی تفسیر اگر اس کی ابدی اہمیت کی بنیاد پر کی جائے تو اس کا تاریخی پہلو مجروح ہو تا دکھائی دیتا ہے ۔

اس مسئلہ کی وجہ سے بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا ایک ایسا کام بن گیا ہے ۔ جس میں دوگونہ پہلوؤں کو نبھانا ضروری  ہو۔

تذکیر القرآن ( مولانا وحید الدین خان کی  تفسیر ) میں  یہی دوگونہ انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ اس میں تاریخی پس منظر بھی مختصر طور پر دکھایا گیا ہے مگر اس طرح نہیں کہ قرآن ایک تاریخی کتاب معلوم ہونے لگے ، اسی طرح اس میں قرآنی تعلیمات کو آج کے حالات کے مطابق کرتے ہوئے بیان کیاگیا ہے ، مگر ایسا نہیں کہ قرآن اپنی تاریخی بنیاد سے بالکل علیحدہ ہوجائے ۔

( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحیدالدین خاں ) 

قرآن کا مقصدِ نزول

قرآن کس لئے اتارا گیا ہے، ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کی اسکیم کو بتانے کے لیے۔

 انسان کو خدا نے ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ موجودہ محدود دنیا میں پچاس سال یا سوسال گزار کر اس کو آخرت کی دنیا میں داخل کردیا جاتا ہے ۔ جہاں اس کو مستقل طور پر رہنا ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا انجام پانے کی جگہ ہے ۔ آج کی زندگی میں آدمی جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق وہ اپنی اگلی زندگی میں اچھا یا برابدلہ پائے گا ۔ کوئی اپنی نیک کرداری کے نتیجہ میں ابدی طور پر جنت میں جائےگا اور کوئی اپنی بد کرداری کی وجہ سے ابدی طور پر جہنم میں۔ 

قرآن اس لئے اتارا گیا کہ اس سنگین مسئلہ سے آدمی کو باخبر کرے اور اس کو بتائے کہ اگلی زندگی میں برے انجام سے بچنے کے لیے اسے اپنی موجودہ زندگی میں کیا کرنا چاہئے۔ 

خدانے انسان کو فہم و شعور کے اعتبار سے اسی صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے جو اس کو انسانوں سے مطلوب ہے۔ پھر اس نے گرد وپیش کی پوری کائنات کو مطلوبہ درست کر دار کا عملی مظاہرہ بنادیا ہے ۔ تاہم یہ سب کچھ خاموش زبان میں ہے۔ انسانی فطرت احساسات کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور فطرت کے مظاہر تمثیل کی صورت میں۔ 

قرآن اس لئے آیا کہ فطرت اور کائنات میں جوکچھ خاموش زبان میں موجود ہے وہ نطق کی زبان میں اس کا اعلان کردے تاکہ کسی کے لیے اس کا سمجھنا مشکل نہ رہے۔

 فطرت اور کائنات اگر آدمی کی خاموش رہنما ہیں تو قرآن ایک ناطق رہنما۔ 

مزید یہ کہ قرآن ایک ایسے پیغمبر پر اتارا گیا جو غلبہ کا پغمبر تھا ۔ پچھلے انبیاء صرف داعی کی حیثیت سے بھیجے گئے۔ ان کا کام اس وقت ختم ہو جاتاتھا جب کہ وہ اپنی مخاطب قوم کو خدا کی مرضی سے پوری طرح آگاہ کردیں۔ انھوں نے اپنی مخاطب قوموں کی زبان میں کلام کیا ۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر تے  ہوئے ان کی بات نہیں مانی ۔ اس طرح پچھلے زمانوں میں خدا کی مرضی انسان میں عملی صورت اختیار نہ کرسکی ۔

 پیغمبر آخرالزماں کو خدا نے غلبہ کی نسبت دی۔ یعنی آپ ﷺ کے لیے فیصلہ کر دیا کہ آپ کا مشن صرف پیغام رسانی پر ختم نہ ہوگا بلکہ خدا کی خصوصی مدد سے اس کو عملی واقعہ بننے تک پہنچایا جائے گا ۔ اس خدائی فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے دین کے حق میں ہمیشہ کے لیے ایک مزید تائیدی بنیاد فراہم ہوگئی۔ یعنی مذکورہ بالا اہتمام کے علاوہ انسان کی حقیقی زندگی میں خدا کی مرضی کا ایک کامل عملی نمونہ۔

پچھلے زمانہ میں خدا کے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی دعوت کو لے کر آئے جس کو لے کر پیغمبر آخرالزماں کو بھیجاگیا تھا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ عام طور پر ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے پیغام کو نہ مانا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے خلاف سمجھتے تھے ۔ ان کو غلط طور پر یہ اندیشہ تھا کہ اگر انھوں نے خدا کے سچے دین کو پکڑا تو ان کی بنی بنائی دنیا تباہ ہو جاے گی ۔ قرآن کی تاریخ اس اندیشہ کی عملی تردید ہے ۔

 قرآن کے ذریعہ جو تحریک چلائی گئی اس کو خدا نے اپنی خصوصی نصرت کے ذریعہ دعوت سے شروع کر کے واقعہ بننے کے مرحلہ تک پہنچایا اور اس کے عملی نتائج کو دیا ۔ اس طرح خدا کے دین کی ایک مستقل تاریخ وجود میں آگئی ۔ اب قیامت تک لوگ حقیقی تاریخ کی زبان میں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کے سچے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کس طرح زمین و آسمان کی تمام برکتیں نازل ہوتی ہیں ۔ 

پھر اسی کے ذریعہ قرآن کی مستقل حفاظت کا انتظام بھی کردیا گیا۔ ایک بڑے جغرافیہ میں اہل اسلام کا اقتدار اور وہاں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قرآن کو ایسا حفاظتی ماحول مل جائے جہاں کوکئی اس میں کسی قسم کی تبدیلی پر قاادر نہ ہو سکے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا غلبہ تقریبا ڈیڑھ ہزار سال سے قرآن کا چوکیدار بناہوا ہے ۔

( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں ) 

قدیم آسمانی صحیفے اور قرآن مجید

قرآن مجید میں جگہ جگہ قدیم آسمانی صحیفوں ، تورات ، زبور ، انجیل کے حوالے ہیں ۔ بہت سے مقامات پر انبیائے بنی اسرائیل کی سر گزشتیں ہیں ۔ 

بعض جگہ یہود اور نصاری کی تحریفات کی تردید اور ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید ہے ۔ اس طرح کے مواقع میں میں نے ان روایات پر اعتماد نہیں کیا ہے جو ہماری تفسیر کی کتابوں میں منقول ہیں ۔ یہ روایات زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ اس وجہ سے نہ تو یہ اہل کتاب پر حجت ہو سکتی ہیں اور نہ ان سے خود اپنے ہی دل کے اندر اطمینان پیدا ہو تا ہے ۔

ایسے مواقع پر میں نے بحث و تنقید کی بنیاد اصل ماخذوں یعنی تورات و انجیل پر رکھی ہے۔ جس حد تک قرآن اور قدیم صحیفوں میں موافقت ہے وہ موافقت میں نے دکھادی ہے اور جہاں فرق ہے وہاں قرآن کے بیان کی حجت و قوت واضح کردی ہے ۔ 

تفسیر کی پہلی جلد میں ، بقرۃ اور آل عمران دونوں کی تفسیر میں ایسے بہت سے معرکے ملیں گے جن کر پڑھ کر قارئین یہ اندازہ کرسکیں گے کہ فی الواقع قرآن کا اصل زور اسی وقت واضح ہوتا ہے جب کسی معاملے میں اس کے بیان کو تورات و انجیل کے مقابل رکھ کے جانچاجائے ۔ 

ان مقابل بحثوں کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے اسی طرح تورات زبور و انجیل بھی اللہ ہی کے اتارے ہوئے صحیفے ہیں ۔ اگر ان کے بد قسمت حاملوں نے ان صحیفوں میں تحریفیں نہ کردی ہو تیں تو یہ بھی اسی طرح ہمارے لے رحمت و برکت تھے جس طرح قرآن ہے ۔ لیکن ان تحریفات کے باوجود آج بھی ان کے اندر حکمت کے خزانے ہیں ۔ اگر آدمی ان کو پڑھے تو یہ حقیقت آفتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ ان صحیفوں کا سر چشمہ بھی بلاشبہ وہی ہے جو قرآن کا ہے ۔ میں ان کو بار بار پڑھنے کے بعد اس رائے کا اظہار کر تاہوں کہ قرآن مجید کی حکمت کے سمجھنے میں جو مدد ان صحیفوں سے ملتی ہے وہ مدد مشکل ہی سے کسی دوسری چیز سے ملتی ہے ۔ خاص طور پر زبور، امثال اور انجیلوں کو پڑھئے تو ان کے اندر ایمان کو وہ غذاملتی ہے جو قرآن و حدیث کے سوا اور کہیں بھی نہیں ملتی ۔ حیرت ہوتی ہے کہ جن قوموں کے پاس یہ صحیفے موجود تھے وہ قرآن اور پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی تعلیمات سے کیوں محروم رہیں ۔ 


(مقدمہ ، تدبر قرآن،  جلد اول  ، مولانا امین احسن اصلاحی ؒ )

قرآنی سورتوں کے بارے میں سید قطب شہید ؒ کے احساسات

" قرآن مجید کی ہر سورہ علیحدہ شخصیت کی مالک ہے ۔ ہر سورہ کے اپنے خد وخال ہیں ۔ ہر ایک کا ایک متعین اسلوب اور ایک خاص دائرہ کار ہے ۔ ہر سورہ کا ایک متعین موضوع اور خاص ہدف ہو تا ہے ہرسورہ اپنے موضوع اورہدف کو لیکر آگے بڑھتی ہے اور اپنے مخصوص راہوں سے گزرتی ہوئی اپنے ہدف اور مقصد تک پہنچتی ہے اور قاری کو بھی پہنچاتی ہے ۔
قرآن مجید کی تمام سورتوں کا حال باکل انسانوں کی طرح ہے ۔ اگرچہ تمام انسان ایک ہیں ۔ لیکن ہر انسان کے خد وخال دوسرے سے جدا ہیں ۔ ہر ایک کے انسانی خصائص مختلف ہیں ۔ ہر ایک کے جسمانی ساخت اور بناوٹ مختلف ہے ۔ پھر شخصیت کے اعتبار سے انسانوں کے مختلف نمونے ہیں ۔ بعض کے درمیان معمولی اختلاف ہوتا ہے اور بعض ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتے ہیں کہ بنیادی اور عام انسانی خصوصیات کے سوا ان کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں ہوتی ۔ میں قرآن کو اسی انداز میں سمجھنے کا عادی ہوں ، قرآن کے بارے میں یہی میرا احساس ہے،قرآن کے ساتھ میرا طویل تعلق ، ممارست ، اور محبت کی وجہ سے میں قرآن سے اسی احسا س کے ساتھ معاملہ کرتاہوں ۔ اور تمام سورتوں میں غور وفکر کے بعد میں نےہر سورہ کا مزاج اس کا رجحان اور اس کے خدوخال کو باکل علیحدہ متعین کیا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ مجھے قرآن مجید کی سورتوں کی شکل میں مختلف نمونے نظر آتے ہیں ۔ اور میں نے ہر سورہ کے ساتھ ذاتی تعلق کی وجہ سے ایک خاص لگاؤ پیدا کرلیا ہے اور ہر سورہ کے ساتھ اس ذاتی لگاؤ اور ممارست کی وجہ سے مجھے نظر آتا ہے کہ اس کے خدوخال دوسرے سورتوں سے مختلف ہیں اور اس کے رجحانات بھی دوسرے سورتوں کے مقابلے میں مختلف ہیں ۔ قرآن مجید کی سورتوں کے ساتھ میرا تعلق بالکل اسی طرح ہے جس طرح کسی انسان کا مختلف دوستوں کے ساتھ تعلق ہو تا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک دوست ہو تا ہے ۔ سب کے ساتھ لگاؤ اور محبت ہوتی ہے۔ سب محبوب ہوتے ہیں سب قیمتی متاع کا درجہ رکھتے ہیں لیکن ہر ایک کے ساتھ انسان کا دل عجیب رنگ ڈھنگ اختیار کر تا ہے ہر ایک کے ساتھ وہ ایک الگ خوشی محسوس  کرتا ہے ۔ ہر ایک کے ساتھ الگ الگ تاثرات اور جذبات ہوتے ہیں اور ہرایک کے ساتھ برتاؤ اور مذاق علیحدہ ہو تا ہے ۔ جب انسان ایک سورہ کے اندر داخل ہو تا ہے تو اس کے اول سے آخر تک ایک سفر ہوتا ہے ۔ اس سورہ کی دنیا اور اس کے مناظر دوسری سورتوں سے الگ ہو تے ہیں ۔ تصورات اور حقائق مختلف ہوتے ہیں ۔ اشارات اور قراردادیں مختلف ہوتی ہیں ، ہر سورہ نفس انسانی میں غوطے لگاکر موتی نکال لاتی ہے ، ہر سورہ میں نئے نئے مناظر پیش کئے جاتے ہیں حتی کہ ہر سورہ کا سفر ایک نئی دنیا کا سفر ہو تا ہے اور اس سفر کی منزل اور نشانات متعین ہوتے ہیں ۔
( فی ظلال القرآن : سورہ اعراف )


مطالعہ قرآن ، عبد الماجد دریا بادی ؒ

مطالعہ فرمانے کے وقت اگر معروضات ذیل کو پیش نظر رکھا جائے تو ان شاء اللہ فہم مطالب میں بڑی سہولت رہے گی ۔ 

1- قرآن حکیم ایک نہایت درجہ مرتّب و منظّم کتاب ہے ۔ اس لئے اسی نسبت سے دشوار بھی ہے ۔ اسے جو آسان فرمایا گیا ہے وہ صرف موعظہ اور عبرت پزیری کے اعتبار سے ہے اگر اس کے مطالب کو کوئی گرفت میں لانا چاہے تو اس کے لئے سر سری مطالعہ خصوصا انڈیکس (اشاریہ )کی مدد سے ہر گز کافی نہ ہوگا ۔ مدتوں کے مسلسل اور غائر مطالعہ کے بعد کہیں اس سے مناسبت پیدا ہوتی ہے اور دشواریاں مناسبت پیدا ہونے کے بعد ہی حل ہوسکتی ہے ۔ اس لئے قرآن فہمی میں بہت زیادہ عجلت کو دخل دینا ہر گز مناسب نہیں ۔ 

2- قرآن مجید ایک زندہ صحیفہ بھی ہے اورماضی کی کتاب بھی ، یعنی ایک طرف تو اس کی مخاطب عرب کی وہ قوم جو اس کے نزول کے وقت موجود تھی ۔ بلکہ ساری قوم عرب کیوں کہیے ، زیادہ صحت کے ساتھ یوں کہیے کہ مکہ اور مضافات مکہ اور مدینہ وحوالئ مدینہ کے باشندے تھے ۔ اوردوسری طرف اس کے مخاطب روس وجاپان ، چین اور ہندوستان ، امریکا ،آسٹریلیا ، کل روئے زمین کے باشندے قیامت تک کے لئے ہیں ۔ اس کی یہ دونوں حیثیتیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ برابر ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ اور ترتیب زمانی کے لحاظ سے پہلی حیثیت اہم تر اور مقدم ہے ۔ جنت کی نعمتوں ، دوزخ کے عذابوں ،آسمان کی ساخت زمین کی حرکت و سکون ، ستاروں کی گردش وغیرہ سے متعلق کوئی ایسی بات اگروہ بیان کر دیتا جو اس کے مخاطبین اوّل ، یعنی چھٹی صدی عیسوی کے اہل حجاز کے مسلمات کے خلاف یا ان کے فہم سے باہر ہوتی تو وہ لوگ خواہ مخواہ ایک نئے الجھاوے میں پڑجاتے اور محض اس سے ان کے دماغ وحشت کھاکر قرآن کے بنیادی عقائد توحید ،رسالت ، حشرونشر وغیرہ کی تکذیب پر آمادہ ہوجاتے ۔ اس لئے قرآن نے نہایت حکیمانہ اسلوب یہ اختیار کیا کہ صراحتیں تو تمام تر مذاق عرب کے مطابق ہی کیں ، لیکن ساتھ ہی اشارے ایسے بھی رکھے کہ بعد کی نسلیں اور ہر دور کے مخاطبین اپنی اپنی فہم و استعداد کے ماتحت اس سے روشنی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔یہ ایک بنیادی نکتہ اگر مستحضر رہے تو بہت سے اشکالات ان شاء اللہ دور ہوجائیں گے ۔ 

3-قرآن حکیم اپنے نفس مضمون یعنی معانی و مطالب کے لحاظ سے ساری کائنات انسانی کو مخاطب کئے ہوئے ہے ۔ سب کی عقلوں اور ذہنوں کو سامنے رکھے ہوئے ہے ۔ لیکن جہاں تک طرز ادا اور اسلوب خطاب کا تعلق ہے وہ عربی کلام ہے اور اپنی صنعتوں اور لطافتوں ، فقروں کی ترکیب ، الفاظ کی نشست میں تماتر عربی ادب و انشا کے لیے خود معیار اعلی کا کام دے رہا ہے ۔ اس میں روانی شستگی، سلاست ، اردو یا فارسی یا ہندی یا انگریزی یا ترکی یا جرمنی ادب کے معیار سے تلاش کر نا شدید کوتہ فہمی ہے ۔ اس کی انشائی خوبیوں سے لطف اٹھانے کے لئے قدیم خطبات عرب سے واقفیت ضروری ہے ۔ اور اس کی انشابردازی و بلاغت کو جب کبھی کسی غیر معمولی معیار سے دیکھا جائے گا تو ہمیشہ غلط فہمی ہی ہوگی ۔ 

4- قرآن مجید کی دنیا ، حکمت و اخلاق ، روحانیت ، و انسانیت کبرٰی کی دنیا ہے ۔ اس کی فضا تحقیق و طلب کی فضا ، اور اس کا ماحول تقوی و طہارت کا ماحول ہے ۔ اس کی گہرائیوں تک رسائی کے لئے تقوی کسی درجہ میں تو بہر حال لازمی ہے ۔ طہارت قلب و طہارت جسم کا مطلق اہتمام کئے بغیر محض زبان دانی کے بھروسہ پر قرآن سمجھ لینے کی کوشش ایک سعی لاحاصل ہے ۔ ابوجہل اور ابولھب سے بڑھ کر زبان داں کون تھا ؟ کوئی لغوی یا صرفی و نحوی اشکال انہیں کبھی کیوں پیش آ تھا ۔ لیکن اپنی روح کو انہوں نے قرآنی روح سے یکسر بیگانہ و ناآشنا رکھا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن ان پر ذرا بھی نہ کھلا ۔ باکل بند ہی رہا ۔ اور وہ فہم قرآنی کے درجۂادنی کی بھی سعادت سے محروم ہی رہے ۔ 

کلام بڑے غیو راور غنی عن العٰلمین کا ہے ۔ اس کا ہے جس سے بڑھ کر کوئی نہ غیر ت مند ہے نہ بے نیاز ۔ اور متکلم کی شان غیرت و غنا کا ظہور کلام میں بھی درجہ اتم میں ہے ۔ جو بڑے بننے کی آرزو رکھتے ہیں ، انہیں چھوٹا بن کر اس دروازہ میں داخل ہونا ہوگا ۔ قال العارف الرومی :- 

فہم وخاطر تیز کر دن نیست راہ ۔۔۔۔۔۔ جزکہ اشکتہ نگیر ، فضل شاہ 

5- استاد کی ضرورت تو چھوٹے سے چھوٹے علم اور سہل سے سہل فن میں بھی تقریبا ناگزیر ہی ہے ۔ پھر قرآن کا علم تو بڑا مہتم بالشان علم ہے ۔ اس میں کوئی طالب علم استاد سے بے نیاز کیسے رہ سکتا ہے ؟ کوئی زندہ استاد اگر کامل فن نہ ملے تو اس کی قائم مقامی اکابر مفسرین اور محقق شارحین کی کتابیں کرسکتی ہیں ۔ 



( تفسیر ماجدی ، (دیباچہ تفسیر ) عبد الماجد دریابادی ؒ تاریخ تحریر: دسمبر 1944ء ) 



قرآن کا موضوع ، جاوید احمد غامدی


قرآن کے بارے میں یہ بات اس کا ایک عام قاری بھی بہت آسانی کے ساتھ جان سکتا ہے کہ اس کا موضوع صرف وہ حقائق ہیں جن کو ماننے اور جن سے پیدا ہونے والے تقاضوں کو پورا کرنے ہی پر انسان کی ابدی فلاح کا انحصار ہے۔ وہ انھی حقائق کو انفس و آفاق اور تاریخ کے دلائل سے ثابت کرتا ہے، بنی آدم کو انھیں ماننے کی دعوت دیتا ہے، ان کو جھٹلا دینے کے نتائج سے انھیں خبردار کرتا ہے اور ان سے جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں، ان کی شرح و وضاحت کرتا ہے۔ ان کے علاوہ کسی چیز سے اسے بحث نہیں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے لیے وہ عالم طبیعی کے بارے میں بھی اگر کچھ کہتا ہے تو اس کا بیان کبھی حقیقت کے خلاف نہیں ہوتا، لیکن اس عالم کے متعلق جو علوم و فنون انسان کی عقل نے دریافت کیے ہیں اور جو وہ آنے والے زمانوں میں دریافت کرے گی، انھیں قرآن مجید کبھی زیر بحث نہیں لاتا۔ اس طرح کی کوئی چیز سرے سے اس کا موضوع ہی نہیں ہے۔

لیکن اسے کیا کہیے کہ اس امت کی تاریخ میں بارہا لوگ اس کتاب کو اس کی اس اصلی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے پہلے یہ مقدمہ قائم کیا کہ یہ چونکہ اللہ کی کتاب ہے، اس لیے دنیا کے سارے علوم و فنون اس میں لامحالہ ہونے چاہییں۔ اس کے بعد وہ اپنے اس مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے اس بات کے درپے ہوئے کہ کسی طرح ان علوم و فنون کے ماخذ اس کی آیات میں سے ڈھونڈ نکالے جائیں۔ چنانچہ زبان و بیان اور نظم کلام کی ہر دلالت کو نظرانداز کر کے کبھی فلسفۂ یونان کے اوہام اس سے ثابت کیے گئے، کبھی ایک خاص زمانے کی سائنسی معلومات کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ درحقیقت اس کی فلاں اور فلاں آیت سے اخذ کی گئی ہیں، کبھی علم طب اور نجوم و فلکیات کے بعض عقائد اس سے برآمد کیے گئے، اور کبھی انسان کے ایٹم بم بنانے اور چاند پر پہنچنے کا ذکر اس میں سے نکال کر دکھایا گیا۔

یہ ساری زحمت لوگوں کو صرف اس لیے اٹھانا پڑی کہ انھوں نے اس کتاب کے بارے میں بالکل غلط تصور قائم کر لیا۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ عالم کے پروردگار نے اس کتاب سے پہلے انسان کو عقل عطا کی ہے۔ جس طرح یہ کتاب پروردگار کی عنایت ہے، اسی طرح عقل بھی اسی کی عنایت ہے۔ چنانچہ جن معاملات میں عقل کی رہنمائی اس کے لیے کافی ہے، ان سے اس کتاب کو کوئی تعلق نہیں اور جن سے یہ کتاب بحث کرتی ہے، ان میں عقل اگر اپنے وجود ہی سے غافل نہ ہو جائے تو اس کی رہنمائی سے کبھی بے نیاز نہیں ہو سکتی۔

یہ صرف قرآن مجید ہی کا معاملہ نہیں ہے، اللہ کے نبی نے اپنے بارے میں بھی یہ حقیقت اپنے ماننے والوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھائی ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کھجوروں میں گابھا دیتے ہوئے دیکھا توفرمایا: اس کے بغیر ہی ٹھیک ہے۔ انھوں نے اس سال گابھا نہیں دیا ۔ چنانچہ پھل بہت ردی آیا۔ لوگوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم اس طرح کے معاملات کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہو۔ میں تمھیں اللہ کا دین بتانے آیا ہوں، اس لیے میری طرف صرف اسی کے لیے رجوع کیا کرو۔


ہم اگر قرآن مجید سے فی الواقع ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ اس کی طرف صرف دین کے حقائق و معارف جاننے کے لیے رجوع کریں۔ اپنے سونے کے لیے چارپائی بنانے اور اپنی آواز زہرہ و مریخ تک پہنچانے کے لیے ہمیں اپنی عقل کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نے انسان کو اپنے دائرۂ عمل میں کبھی مایوس نہیں کیا۔


قرآن مجید ہم کو یہ بتانے کے لیے نازل کیاگیا ہے کہ اپنے پروردگار کی رضا ہم اس دنیا میں کن چیزوں کو مان کر اور کن چیزوں پر عمل کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس کی آیات میں اپنی خواہشوں کا مضمون پڑھنے کے بجائے اپنی خواہشوں کو اس کی پیروی کے لیے مجبور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن میں جگہ جگہ واضح کی ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی شرط یہی ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص دنیا کے سارے علوم و فنون اسی ایک کتاب میں دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو، لیکن اس کی یہ خواہش اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ اس میں صرف اس علم کا بیان ہے جو انسان کی ابدی فلاح کے لیے ضروری ہے۔


(بشکریہ، ماہنامہ اشراق )