‏مضامین قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مضامین قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قصۂ یوسفؑ: حق و باطل کی کشمکش اور قمیص کی گواہی

داستانِ یوسفؑ انسانی تاریخ کا وہ انوکھا باب ہے جہاں ایک لباس محض تن ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان حدِ فاصل بن کر ابھرا ہے۔ اس قصے میں 'قمیص' کا کردار ایک ایسے خاموش تفتیش کار کا ہے جو ہر موڑ پر حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اس سفر کا آغاز تب ہوتا ہے جب حسد کی آگ میں جلے بھائیوں نے معصوم یوسفؑ کو کنویں میں پھینکا اور ان کی قمیص پر ایک جانور کا جھوٹا خون مل کر اپنے والد حضرت یعقوبؑ کے سامنے پیش کر دیا۔ قرآنِ کریم اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے: "وَجَآءُو عَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ" (اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے—سورہ یوسف: 18)۔ بھائیوں کا خیال تھا کہ خون آلود لباس ان کے من گھڑت قصے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دے گا، مگر حضرت یعقوبؑ نے جب دیکھا کہ قمیص تو خون سے بھری ہے مگر کہیں سے پھٹی ہوئی نہیں، تو ان کی فراست پکار اٹھیں کہ بھیڑیا کتنا سمجھدار تھا جس نے یوسف کو کھایا مگر قمیص سلامت رہنے دی۔ یوں قمیص کا سلامت ہونا بھائیوں کے پہلے بڑے جھوٹ کا سب سے بڑا مادی ثبوت بن گیا۔

وقت بدلا اور تقدیر یوسفؑ کو مصر کے شاہی محل میں لے آئی، جہاں آزمائش کا ایک نیا اور کٹھن مرحلہ درپیش تھا۔ جب عزیزِ مصر کی اہلیہ نے اپنی خواہشِ نفس کی تکمیل نہ ہونے پر حضرت یوسفؑ پر الزام لگایا، تو ایک بار پھر قمیص ہی حق و باطل کے فیصلے کے لیے میزان بن گئی۔ قرآن کہتا ہے: "وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ" (اور دونوں دروازے کی طرف لپکے اور عورت نے یوسف کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی—سورہ یوسف: 25)۔ اس موقع پر پیش کی گئی منطق آج کی جدید 'فرانزک تفتیش' کی روح معلوم ہوتی ہے۔ اس دور کے ایک دانشمند نے مشاہدہ کیا کہ: "اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ" (اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے، اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا ہے—سورہ یوسف: 26-27)۔ جب تفتیش ہوئی تو قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ملی، جس نے شاہی دربار میں یوسفؑ کی پاکدامنی پر لگی تہمت کو ہمیشہ کے لیے دھو ڈالا۔

قرآن کا معروضی اور موضوعاتی مطالعہ : اہمیت و ضرورت

یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے پاس قرآنِ مجید کی تفاسیر کا ایک بے پناہ ذخیرہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود قرآن کا براہِ راست پیغام ہم سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے اتنے وسیلے کھڑے کر دیے ہیں کہ اصل متن ان کے پیچھے کہیں دب سا گیا ہے۔ تفاسیر یقیناً ایک عظیم علمی سرمایہ ہیں، ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے ذریعے قرآن تک پہنچ رہے ہیں یا انہی میں الجھ کر رہ گئے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ آج کے قاری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ اس کے پاس معلومات کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کی کثرت نے اس کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ جب وہ تفاسیر کے طویل مباحث، فقہی اختلافات، اور تاریخی جزئیات میں داخل ہوتا ہے تو اکثر اصل سوال—“قرآن مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟”—پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے معروضی اور موضوعاتی مطالعہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

معروضی مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم قرآن کو اپنے پہلے سے قائم تصورات کے تابع نہ کریں، بلکہ خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں۔ ہم اپنی رائے کو اس پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اس کے اپنے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور موضوعاتی مطالعہ ہمیں یہ راستہ دیتا ہے کہ ہم قرآن کے بکھرے ہوئے اشارات کو یکجا کر کے ایک مربوط تصور حاصل کریں—چاہے وہ انسانی نفسیات ہو، معاشرتی اصول ہوں یا سننِ الٰہی۔

قرآن کا اسلوب اشاراتی ہے۔ وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے۔ اگر ہم اسے روایتی خطی (linear) انداز میں پڑھنے کی کوشش کریں گے تو یا تو ہمیں تشنگی محسوس ہوگی یا ہم تفصیلات کے لیے دوسری کتابوں پر انحصار بڑھاتے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم موضوعاتی انداز اختیار کریں—یعنی ایک موضوع سے متعلق تمام آیات کو جمع کریں—تو اچانک قرآن ہمارے سامنے ایک نئے انداز میں کھلنے لگتا ہے۔

قصص القرآن اور ہماری زندگی

قرآنِ کریم محض ایک ضابطہ حیات ہی نہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات، تاریخ اور کائناتی حقائق کا وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر ہر دور کا انسان اپنی حقیقت اور اپنے رب کی قدرت کو پہچان سکتا ہے۔ جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو جابجا ایسے واقعات ملتے ہیں جو بظاہر انسانی عقل کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں، لیکن اگر بصیرت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ واقعات انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کے روشن مینار ہیں۔

آغازِ انسانیت ہی کو دیکھ لیجیے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق اور پھر ان کے وجود سے ان کی شریکِ حیات حضرت حوا کی پیدائش، مادہ پرستی کے اس دور میں ایک بڑا سوالیہ نشان معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ واقعہ دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی اور روح کا مالک صرف اللہ ہے، وہ اسباب کا محتاج نہیں۔ اسی طرح آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کا قصہ انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی داستان ہی نہیں، بلکہ حسد کے عبرتناک انجام کی تصویر ہے۔ ایک کوّے کے ذریعے قاتل بھائی کو تدفین کا طریقہ سکھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان سرکشی پر اتر آئے تو ایک چھوٹا سا پرندہ بھی اس کا استاد بن جاتا ہے تاکہ اسے اس کی بے بسی کا احساس دلایا جا سکے۔

نفسیاتی الجھنیں اور سکونِ قلب کا قرآنی نسخہ

انسانی زندگی خیالات کے ایک نہ ختم ہونے والے تسلسل کا نام ہے۔ کبھی یہ خیالات ہمیں امید کی روشنی دکھاتے ہیں اور کبھی خوف و حزن کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جہاں نفسیاتی امراض کی بھرمار ہے، وہاں قرآنِ کریم کا یہ نسخہ آج بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہر سوچ ہماری اپنی ہے؟ اور "خیال" اور "وسوسے" میں بنیادی فرق کیا ہے؟

عام فہم انداز میں سمجھا جائے تو ’خیال‘ ایک فطری عمل ہے۔ یہ کسی ضرورت، مشاہدے یا یادداشت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً بھوک لگنے پر کھانے کا خیال آنا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا۔ خیال بذاتِ خود برا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی عقل کے متحرک ہونے کی علامت ہے۔

دوسری طرف ’وسوسہ‘ ایک بیرونی مداخلت ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الناس میں "الوسواس الخناس" کا ذکر ملتا ہے، جو وہ چھپ کر حملہ کرنے والا ہے جو انسان کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ وسوسہ دراصل وہ منفی، بے بنیاد اور خوفزدہ کر دینے والی سوچ ہے جو اچانک ذہن میں پیدا کی جاتی ہے۔ خیال شعور سے جنم لیتا ہے، جبکہ وسوسہ لاشعور پر حملہ کر کے انسان کے جذبات میں خلل ڈالتا ہے۔

شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار "خوف" اور "حزن" (غم) ہے۔ وہ انسان کو مستقبل کے اندیشوں سے ڈراتا ہے اور ماضی کے پچھتاووں میں الجھائے رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ان کیفیات کا واحد حل ’ذکرِ الٰہی‘ میں رکھا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے" (الرعد: 28)۔ یہ اطمینان دراصل اسی ذہنی انتشار اور وسوسوں کے طوفان کے خلاف ایک حفاظتی دیوار ہے۔

ایمانیات و عقائد: قرآنی نقطہ نظر سے ایک جائزہ

قرآن کریم کی دعوت کا نقطہ آغاز اور تمام انسانی اعمال کی قبولیت کی بنیاد "ایمان" ہے۔ قرآن مجید محض نظریاتی عقائد پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کے قلب، عقل اور مشاہدے کو اپیل کرتا ہے تاکہ ایک مستحکم نظامِ فکر استوار ہو سکے۔ قرآنی ایمانیات کا مقصد صرف ذہنی تسکین نہیں بلکہ ایک ایسی "شخصیت سازی" ہے جو اللہ سے جڑی ہو، انسانیت کے لیے خیر خواہ ہو اور اپنی ہر حرکت پر اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتی ہو۔ ایمان وہ بیج ہے جس سے عملِ صالح کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔

۱۔ توحید: کائنات کا مرکزی سچ


قرآن کریم کا سب سے بنیادی پیغام "توحید" ہے۔ یہ صرف ایک خدا کو ماننے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور حقوقِ بندگی میں وحدہٗ لا شریک تسلیم کرنے کا نام ہے۔ قرآن کائنات کے ذرے ذرے، نظامِ شمسی کی ترتیب اور انسانی تخلیق کے عجائبات کو اللہ کی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ توحید کا مقصد انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خالق کے سامنے سرنگوں کرنا ہے، جو اسے حقیقی آزادی اور وقار عطا کرتا ہے۔

۲۔ رسالت: ہدایت کا ذریعہ


انسانی عقل محدود ہے، اسے خالق کی مرضی جاننے کے لیے وحی اور پیغمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن رسالت کو اللہ کا عظیم احسان قرار دیتا ہے۔ یہ عقیدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان زمین پر بے یار و مددگار نہیں چھوڑا گیا، بلکہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی زنجیر کے ذریعے ہدایت پہنچائی گئی۔ رسالت پر ایمان لانے کا مطلب اس نمونہ عمل (اسوہ حسنہ) کی پیروی ہے جو انبیاء نے اپنی زندگیوں سے پیش کیا۔

۳۔ آخرت: مسئولیت اور عدل کا تصور


قرآن میں عقیدہ آخرت محض ایک ڈراوا نہیں، بلکہ کائنات کے نظامِ عدل کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر موت کے بعد کوئی حساب کتاب نہ ہو تو ظالم اور مظلوم، نیک اور بد برابر ہو جائیں گے، جو اللہ کی صفتِ عدل کے خلاف ہے۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اصل زندگی (الحیوان) آخرت کی ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر جوابدہی کا احساس پیدا کر کے اسے ایک ذمہ دار شہری اور باکردار انسان بناتا ہے۔

۴۔ ملائکہ اور کتب: غیبی حقائق سے جڑنا


فرشتوں پر ایمان لانا اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات میں مادی قوتوں کے علاوہ کچھ نورانی قوتیں بھی ہیں جو اللہ کے حکم سے کائناتی امور انجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح سابقہ کتب پر ایمان لانا ادیانِ عالم کی اصل کے ایک ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور قرآن کو ان تمام کتب کے تسلسل اور محافظ (مہیّمن) کے طور پر پیش کرتا ہے۔

۵۔ قدر (تقدیر): اللہ کے علمِ محیط پر یقین


تقدیر پر ایمان لانا انسان کو مایوسی اور تکبر سے بچاتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ کوشش کرنا اس کا کام ہے، مگر نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر صبرو رضا اور توکل کی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔

سورۃ النحل کا ایک تجزیاتی مطالعہ : نعمتوں کے ہجوم میں گم ہوتی ہوئی حقیقت

قرآنِ مجید کی بعض سورتیں انسان سے صرف مخاطب نہیں ہوتیں بلکہ اسے آئینہ دکھاتی ہیں۔ سورۃ النحل بھی ایسی ہی سورت ہے۔ یہ سورت ایک ایسے معاشرے میں نازل ہوئی جہاں نعمتیں موجود تھیں مگر شعور مفقود تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کا جدید انسان بھی اسی تضاد کا شکار نظر آتا ہے—وسائل کی فراوانی، مگر مقصد سے دوری۔

سورۃ النحل سب سے پہلے انسان کو اس کے گرد و پیش کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جانور، دودھ، شہد، بارش، فصلیں اور لباس—یہ سب محض قدرتی مظاہر نہیں بلکہ توحید کی خاموش دلیلیں ہیں۔ قرآن سوال اٹھاتا ہے: کیا یہ سب کچھ خودبخود ہو گیا، یا اس کے پیچھے ایک حکیم ارادہ کارفرما ہے؟ (سورۃ النحل 5–11، 68–69)

لیکن انسان اکثر دلیل کو نظرانداز کر دیتا ہے، اس لیے قرآن تمثیل کا سہارا لیتا ہے۔ ایک بے اختیار غلام اور ایک صاحبِ اختیار انسان کی مثال دے کر بتایا جاتا ہے کہ جو خود محتاج ہو وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایک گونگے، ناتواں فرد اور ایک صاحبِ عدل انسان کا تقابل اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ حق اور باطل، روشنی اور اندھیرا کبھی برابر نہیں ہو سکتے (سورۃ النحل 75–76)۔

پھر قرآن فرد سے آگے بڑھ کر قوموں سے بات کرتا ہے۔ ایک خوشحال بستی کا ذکر ہے جو امن، رزق اور آسودگی میں تھی، مگر ناشکری نے اسے خوف اور بھوک میں مبتلا کر دیا۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک سماجی قانون ہے: جب نعمت شکر سے خالی ہو جائے تو زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے (سورۃ النحل 112)۔

اسی تناظر میں قرآن ایک ایسی حقیقت بیان کرتا ہے جسے کوئی فلسفہ رد نہیں کر سکا:
جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ فنا ہو جاتا ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہتا ہے۔ دولت، طاقت، منصب اور شہرت—سب عارضی ہیں، اصل بقا اقدار کی ہے (سورۃ النحل 96)۔

عنوان : قرآن حکیم اور ہماری زندگی

آج ہمارا ملک اور معاشرہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ہم دشمن کی سازشوں، ستم ظریفیوں اور بیرونی دباؤ کا شکار ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنے کردار کی پستی، اخلاقی انحطاط، اور اجتماعی بداعمالیوں سے اس وطن کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ گویا ہم بیرونی دشمن سے زیادہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن ، یعنی نفس، حرص، جھوٹ، ظلم اور ناانصافی کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔

یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کیا ہماری بربادی کا سبب صرف بیرونی سازشیں ہیں؟ نہیں! اصل زوال تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب قومیں اپنے اخلاق، عدل، دیانت، حیاء اور امانت کو کھو بیٹھتی ہیں۔ اور یہی کچھ آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔

ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں، وہاں جھوٹ، فریب، حسد، حرص، بےحیائی، رشوت، ظلم، ناپ تول میں کمی، وعدہ خلافی، غیبت، بدگمانی، اور نفس پرستی جیسی بیماریاں جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ یہ برائیاں صرف انفرادی اخلاق کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی زوال کی علامت بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟ اور کس روشنی سے اپنی راہوں کو منور کریں گے؟

قرآن مجید، جو سراسر ہدایت ہے، ہمیں ان تمام برائیوں سے بچنے اور ایک صالح معاشرہ قائم کرنے کے لیے واضح رہنمائی دیتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39 کو اگر ہم غور سے پڑھیں، تو ہمیں ایک مکمل ضابطۂ حیات ملتا ہے — ایک ایسا اخلاقی آئین جو کسی بھی معاشرے کو امن، عدل اور خیر کی بنیادوں پر استوار کر سکتا ہے۔

آیات کی تلاوت کریں

سورۃ الزلزال: قیامت کا ایک لرزہ خیز منظرنامہ

 سورہ الزلزال   قرآن مجید کی 99 ویں سورت ہے، جس کا نزول مدینہ منورہ میں ہوا۔ یہ سورت صرف 8 آیات پر مشتمل ہے، مگر اپنی فصاحت، اختصار اور اثر انگیزی میں ایک عظیم الشان پیغام سموئے ہوئے ہے۔ اس سورت کا مرکزی موضوع قیامت کا منظر اور اعمال کا محاسبہ ہے۔

لفظ "الزلزال" کا مطلب ہے "زلزلہ"، اور اسی زلزلے کا ذکر سورہ کے آغاز میں کیا گیا ہے، جو قیامت کے دن زمین کی سب سے بڑی اور آخری جنبش کو بیان کرتا ہے—ایسا لرزہ کہ زمین اپنے تمام بوجھ باہر نکال دے گی: لاشیں، راز، جرائم، نیکیوں اور سب کچھ۔

یہ سورت انسان کے اس گمان کو توڑتی ہے کہ اُس کے اعمال معمولی ہیں یا بے حساب گزر جائیں گے۔ یہاں ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج ہے، اور قیامت کے دن وہ سب ظاہر ہوگا۔

اہم نکات:

  • زمین کی گواہی: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ زمین کی چھاتی پر نقش ہوتا ہے، اور قیامت کے دن یہی زمین اس کا گواہ بنے گی۔
  • اعمال کا وزن: یہاں تک کہ "ذرہ برابر" بھی نیکی یا بدی، سب شمار کی جائے گی۔
  • خدا کا عدل: یہ سورت اللہ تعالیٰ کے عدل کامل اور حساب کی باریکی کو واضح کرتی ہے۔

سورہ الزلزال انسان کو ایک جھنجھوڑ دینے والا انتباہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو محاسبے کی روشنی میں دیکھے۔ ہر قدم، ہر لفظ، ہر نیت اور ہر عمل ایک دن اس کے سامنے کھڑا ہوگا۔ یہ سورت ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے، اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔

امامُ النّاس

امام الناس - ابوالبشر احمد طیب 
نوح ؑ کے بیٹے سام کی اولاد سب سے پہلے عرب میں پھیلی ، سامی قبائل میں سب سے پہلا نامور اور ممتاز قبیلہ بنو ارم پیدا ہوئے ، انہیں سے ہود ؑ کی قوم عاد اور صالح ؑ کی قوم ثمود ؑ بنی، حسب تورات ان دو قوموں کی حکومت بابل (عراق )، شام (فلسطین) عرب ، مصر تک پھیلی ہے ، قرآن میں "ارم ذات العماد " ( عظیم الشان عمارتوں والے ) سے انہی اقوام کی طرف اشارہ ہے ۔۔ ابراہیم ؑ سے پہلے ہود ؑ جنوبی عرب قبائل عاد میں توحید کی دعوت لیکر اٹھے، پھر ان کے بعد صالح ؑ شمالی عرب قبائل ثمود میں اٹھے ۔ ابراہیم ؑ جس زمانہ میں پیدا ہوئے بنو ارم یعنی عاد اور ثمود بابل ، شام اور مصر میں حکمران تھے ۔ 

تورات کے مطابق نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے ۔ ابراہیم ؑان کی گیارہویں پشت پر ہے۔ قرآن میں ابراہیم ؑ کے والد کا نام آزر آیا ہے ۔ اپنے وقت کے بڑ ے بت تراش ،آرٹسٹ اور حکومت کے سب سے بڑے عہدے دار تھے ۔ 

جدید تحقیق کے مطابق ابراہیم ؑ کا سال پیدائش 2160 قبل مسیح ہے ۔ آپ کا آبائی وطن بابل (یا کلدانیہ ) ہے جسے آج کل عراق کہتے ہیں۔ جس شہر میں آپ کی ولادت ہوئی اس کا نام تورات میں" اُر (UR) " ہے ۔ یہ شہر خلیج فارس کے دہانہ فرات اور عراق کا جدید شہر بغداد کے تقریبا درمیانی راستہ پر ہے ۔ یہ نہایت مقدس ، بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز تھا ۔ شہر کا ریاستی مذہب ،قوم کے رسوم و آداب مشرکانہ تھے، ہر جگہ صنم خانوں کی رونق ، دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کی ریل پیل تھی ۔چنانچہ جس گھرانہ میں ابراہیم ؑ پیدا ہوئے وہ بھی شرک، بت پرستی اور کواکب پرستی کا گہوارہ تھا ۔ 

قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار

قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار 
انسان نے جب سے زندگی کے مسائل پر غور کرنا شروع کیا اسی وقت سے  اس کے سامنے یہ  سوال بھی رہا ہے کہ کیا انسان غیب کی طرف سے  ایک مقررہ ڈگر پر ہانک دیا گیا ہے کہ اب وہ بالکل بے اختیار ہے، یا وہ اپنے لیے خود راہ عمل اختیار کرتا ہے، اس کے ارادے اور عمل میں  کسی کا کوئی دخل نہیں ، وہ اپنے  فیصلے اور کام خود کرتا ہے۔؟  اس مسئلہ میں اہل دانش کے دو گروہ ہیں : ایک جبر کے قائل ہے کہ غیب کی طرف سے انسان کے لیے ایک راہ مقرر کردی گئی وہ اس پر چلنے پر مجبور ہے  اور دوسرا گروہ  انسان کی آزادی اور اختیار کا قائل ہے ۔

اگر پہلی صورت ہے یعنی جبر تو انسان کے اعمال کے نیک اور بد ہونے کا  سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور انسان کو اس کے اعمال پر  جزا و سزا ملنے کا تصور بے معنی ہوجاتا ہے ۔  اور اگر دوسری صورت ہے یعنی آزادی اور اختیار تو انسان کی آزادی کی نوعیت کیا ہے اور وہ کس حد تک اپنے فیصلے اور عمل میں آزاد ہے؟ ابارے میں فلسفیوں نے مختف رائی ظاہر کی ہے ،  ذیل میں اس فلسفہ جبر اور اختیار کے بارے میں  فلسفیوں کے مختلف دلائل کا تنقیدی جائزہ لیں گے پھر قرآن حکیم کا نقطہ نظر پیش کیا جائے گا ۔

  جو فلسفی جبر کے قائل ہیں ، ان کے دلائل یہ ہیں کہ انسان اس کائنات میں ایک میشن کے پرزہ کی مانند  ہے ، اس لیے کسی پرزے کی آزادی کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ان کی طرف سے دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس طرح دنیا کی ہرچیز طبیعات کے بے لچک قوانین کے تحت چل رہی ہے انسان بھی انہی بے لچک قوانین کے تابع ہے اس وجہ سے آزادی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ البتہ کچھ متعدل فلسفیوں کا کہنا ہے کہ ازل سے ابدتک تمام واقعات علت و معلول کی ایک طویل زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ انسان بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے  اس وجہ سے اس کے اعمال ایسے عوامل کا نتیجہ ہیں جن پر انسان کو کوئی اختیار نہیں ، اس گروہ کا نمائندہ فلسفی ، زینو (zeno) ہے،  مشہور فلسفی والٹئیر نے یہ کہ کر بات ختم کردی " میں جو چاہوں اگر کرسکوں تو آزاد ہوں لیکن کیا میں یہ چاہنے  میں بھی آزاد ہوں ؟ "  یونان کے ابتدائی عہد کے فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ دنیا پر چند جابر قوتوں کی حکمرانی ہے جن کے سامنے انسان بے بس ہے،  یہی قوتیں انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ یونان اور ہندوستان  کی ساری دیومالائی کہانی اسی تصور پر گھڑی گئی تھی ۔  فلسفیوں کا ایک بڑا گروہ جس میں قدیم یونانی رواقی فلسفی، وحدۃ الوجود کے قائل فلسفی سپنوزا اور پندرھویں صدی اور سولہویں صدی کے سائنسدان اور فرانس کا مشہور فلسفی  والٹیئر اس عقیدہ جبر کے قائل ہیں۔ 

قرآن کریم کا اسلوب استدلال - ڈاکٹر اسرار احمد

قرآن مجید کا اسلوب استدلال 
 قرآن کے طالب علم کو جاننا چاہیے کہ قرآن کا اسلوبِ استدلال منطقی نہیں‘ فطری ہے. انسان جس فلسفے سے واقف ہے اس کی بنیاد منطق ہے. چنانچہ ہمارے فلاسفہ اور متکلمین استخراجی منطق(Deductive Logic) سے اعتناء کرتے رہے ہیں‘ جبکہ قرآن مجید نے اسے سرے سے اختیار نہیں کیا. وقتی تقاضے کے تحت ہمارے متکلمین نے اسے اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں پہنچ پایا. ایمانی حقائق کو جب استخراجی منطق کے ذریعے سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تو یقین کم اور شک زیادہ پیدا ہوا. اس ضمن میں کانٹ کی بات حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہے ‘ لہذا علامہ اقبال نے بھی اپنے خطبات کا آغاز اسی حوالے سے کیا ہے. کانٹ نے حتمی طور پر ثابت کر دیا کہ کسی منطقی دلیل سے خدا کا وجود ثابت نہیں کیا جا سکتا. منطق میں اللہ کی ہستی کے اثبات کے لیے ایک دلیل لائیں گے تو منطق کی دوسری دلیل اسے کاٹ دے گی. جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے اسی طرح منطق‘ منطق کو کاٹ دے گی. قرآن نے اگرچہ کہیں کہیں منطق کو استعمال توکیا ہے لیکن وہ بھی منطقی اصطلاحات میں نہیں. قرآن مجید کا اسلوبِ استدلال فطری ہے اور اس کا انداز خطابی ہے. جیسے ایک خطیب جب خطبہ دیتا ہے تو جہاں وہ عقلی دلائل دیتا ہے وہاں جذبات سے بھی اپیل کرتا ہے. اس سے اس کے خطبے میں گہرائی و گیرائی پیداہوتی ہے.ایک لیکچر میں زیادہ تر دارومدار منطق پر ہوتا ہے. یعنی ایسی دلیل جو عقل کو قائل کر سکے . لیکن شعلہ بیان خطیب انسان کے جذبات کو اپیل کرتاہے. اس کو خطابی دلیل کہا جاتا ہے. یہی خطابی انداز اور استدلال قرآن نے استعمال کیا ہے.

قرآن مجید میں "لھو الحدیث" سے کیا مراد ہے ؟

ارشاد باری تعالی ہے :

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ لقمان : ۷﴾
لھو الحدیث سے کیا مراد ہے ؟


ترجمہ : اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں ۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بے سمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں ۔ اور اس کا مذاق اڑائیں ۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا ۔ اور جب ایسے شخص کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ پورے تکبر کے ساتح منہ موڑ لیتا ہے جیسے انہیں سناہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بہراپن ہے ۔ لہذا اس کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا ددو۔

تفسیر:

مکی دور کی بات ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا تو اس کی تاثیر ایسی تھی کہ جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے وہ بھی چھپ چھپ کر قرآن کریم سنا کرتے تھے جس کے نتیجے میں بعض لوگ اسلام قبول کرلیتے تھے۔ ظاہر بات ہے کہ مکہ کے سردار اس صورت حال کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ لوگ چاہتے تھے کہ قرآن کریم کے مقابلے میں لوگوں کے لیے کوئی ایسا مشغلہ پیدا کریں کہ لوگ قرآن کریم کو سننا بند کردیں ، اسی کوشش میں مکہ کا ایک معروف تاجر نظر بن حارث ایران سے بادشاہوں کے قصوں پر مشتمل کتابیں خرید کر لایا اور بعض روایات میں ہے کہ وہ وہاں سے ایک گانی والی لونڈی خرید کر لایا ، اور لوگوں سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں عاد و ثمود کے قصے سنا تے ہیں ، میں تمہیں ان سے زیادہ دلچسپ قصے اور گانے سناّوںگا ، چنانچہ لوگ اس کے گرد جمع ہونے لگے مفسرین کے مطابق یہ آیت اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

مفسرین کے نزدیک لَھُوَ الْحَدِیث‘‘ سے مراد ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے دوسری چیز سے غافل کر دے ۔ مثلاً فضول گپ شب، خرافات، ہنسی مذاق ، جھوٹی داستانیں، اور قصے کہانیاں اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔

قرآن کی اس آیت میں " لہو الحدیث" خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ مکہ کے بعض لوگ قرآن کریم کو چھوڑ کر قصے کہانیاں، ناچ گانے اور دیگر فضول خرافات میں مشغول ہورہے تھے اور اس پر اپنی دولت بھی لوٹا رہے تھے ۔

لہوالحدیث کی یہی تفسیر بکثرت صحابہ و تابعین سے منقول ہے ۔ عبداللہ بن مسعودؓ سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں لہوالحدیث سے کیا مُراد ہے؟ انہوں نے تین مرتبہ زور دے کر فرمایا " ھوواللہ الغناء،" خدا کی قسم اس سے مُراد گانا ہے ‘‘۔ (ابن جریر ، ابن ابی شیبہ، حاکم بہقی )۔

أَإِلٰهٌ مَعَ اللهِ ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے! (!IS THERE ANY GOD BESIDE ALLAH)

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدابھی ہے ؟ 


قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ ﴿اِن سے پُوچھو﴾ اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ 

اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ 

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟  ﴿اِن کاموں میں شریک﴾ ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ہے؟ 


 بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾   ﴿نہیں﴾، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔



 اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ 



اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں ﴿پہاڑوں کی﴾ میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں(میٹھا اور کھارا) کے درمیان پردے حائل کر دیے؟



ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟   کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے؟



بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾   نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔


اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ 

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور ﴿کون ہے جو﴾ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿یہ کام کرنے والا﴾ ہے؟

قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾  تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ 


 اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟

 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ﴿یہ کام کرتا﴾ ہے؟

تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾  بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟  اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ 

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟

قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾  کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔

 قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾ 

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا ۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾


بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 

----------------------------------------------------------------------
(سورۃ النمل: رکوع ۵، آیات 59-66)   ترجمہ: سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اصحاب کھف کا مکالمہ

" اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿۹﴾ اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ  فَقَالُوۡا : "

کیا تم سمجھتے ہو کہ غاراور کتبے والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے ۔   اور انہوں نے کہا کہ : 

" رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا"  ﴿۱۰﴾

 ” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“

"  فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا ﴿۱۱﴾ ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴿۱۲﴾   نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی ﴿۱۳﴾ وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ  اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا :" 

 تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ، پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔  ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں  ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے۔ جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا : 


" رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا " ﴿۱۴﴾

" ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا " ﴿ؕ۱۵﴾ 

 "وَ اِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡ وٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُہَیِّیٔۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا"  ﴿۱۶﴾

قرآنی مکالمات : جن کا ایک مکالمہ


یہ مکالمہ سورۃ الجن میں ہے " الجن" اس سورت کا نام بھی ہے،  اس میں جنوں کے قرآن سن کر  اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ (1)
ارشاد باری تعالی ہے : 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا : 

اے نبی ؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا پھر ﴿جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے ﴾ کہا:

 اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾

” ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے  جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“

 وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾ 

اور یہ کہ” ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾

اور یہ کہ” ہمارےنادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“

 وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾ 

ختم قلوب کی حقیقت اور اس کے بارے میں قانون الٰہی ـ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ

یہاں (سورۃ البقرۃ کی آیت "ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ ولہم عذاب عظیم") جس ختم قلوب کا ذکر ہے اس کے بارے میں دو باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔

 ایک یہ کہ اس ختم سے مراد ختم ظاہری نہیں ہے بلکہ ختم معنوی مراد ہے۔ جہاں تک ظاہری چیزوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا تعلق ہے یہ لوگ ان کو دیکھتے، سنتے اور سمجھتے تھے لیکن اس مشرب کے لوگ اپنی سمجھ بوجھ کی تمام قوتیں اور صلاحیتیں دنیا کے ظواہر و محسوسات ہی تک محدود رکھتے ہیں، ان ظواہر و محسوسات کے پس پردہ جو حقائق ہیں ان کی طرف نہ تو یہ خود متوجہ ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے توجہ دلانے والے کی بات پر کان ہی دھرتے ہیں۔ دنیا اور زخارف دنیا میں ان کا انہماک اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کسی اور چیز کی طرف توجہ کرنے کی ان کے اندر گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اپنی ذہانت و فطانت اسی ایک مقصد پر صرف کرتے ہیں۔ 

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان وزمین کا طول وعرض ناپنے میں تو ان کی عقل بڑی تیز ہوجاتی ہے لیکن روحانی اقدار و حقائق کے معاملہ میں وہ بالکل ہی کند ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ان کے مذاق کو بھی اس قدر بگاڑ دیتی ہے کہ صرف وہی باتیں ان کو اچھی لگتی ہیں جن سے ان کے اس بگرے ہوئے مذاق کو غذا ملے۔ جن کو باتوں سے اس کی حوصلہ شکنی ہو، خواہ وہ کتنی ہی معقول ہوں، ان سے ان کی طبیعت کو وحشت ہوتی ہے۔  اسی صورت حال کو یہاں ختم قلوب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔

قرآنی تمثیلات و تشبیہات (3/3)

دنیا کی زندگی کی مثال : 

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحدید:  ٢٠﴾ 


خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔

عظیم حادثہ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ وہ دن جب لوگ بِکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ دل پسند عیش میں ہوگا، اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے؟ بھڑکتی ہوئی آگ۔

قرآنی تمثیلات و تشبیہات (2/3)

یہ بھی پڑھیں !  قرآنی تمثیلات (1) 

دنیا پرست اور خدا پرست کی مثال : 

وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَیۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَیۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّ حَفَفۡنٰہُمَا بِنَخۡلٍ وَّ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمَا زَرۡعًا ﴿ؕ۳۲﴾ کِلۡتَا الۡجَنَّتَیۡنِ اٰتَتۡ اُکُلَہَا وَ لَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡہُ شَیۡئًا ۙ وَّ فَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا ﴿ۙ۳۳﴾ وَّ کَانَ لَہٗ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَنَا اَکۡثَرُ مِنۡکَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿۳۴﴾ وَ دَخَلَ جَنَّتَہٗ وَ ہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِیۡدَ ہٰذِہٖۤ اَبَدًا ﴿ۙ۳۵﴾ وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ لَاَجِدَنَّ خَیۡرًا مِّنۡہَا مُنۡقَلَبًا ﴿۳۶﴾ 

قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَکَفَرۡتَ بِالَّذِیۡ خَلَقَکَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىکَ رَجُلًا ﴿ؕ۳۷﴾ لٰکِنَّا۠ ہُوَ اللّٰہُ رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۳۸﴾ وَ لَوۡ لَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَکَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ۚ۳۹﴾ فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤۡتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَ یُرۡسِلَ عَلَیۡہَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ۴۰﴾ اَوۡ یُصۡبِحَ مَآؤُہَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا ﴿۴۱﴾ 

وَ اُحِیۡطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصۡبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیۡہِ عَلٰی مَاۤ اَنۡفَقَ فِیۡہَا وَ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُشۡرِکۡ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۴۲﴾ وَ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ مَا کَانَ مُنۡتَصِرًا ﴿ؕ۴۳﴾ ہُنَالِکَ الۡوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الۡحَقِّ ؕ ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ عُقۡبًا ﴿۴۴﴾  ﴿ الکھف : ۳۲- ۴۴﴾

اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی ۔ دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی ۔ اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا۔  یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں" ۔ پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی ۔  اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا"۔

دنیا و آخرت میں زمین کی وراثت کا قاعدہ - سید ابوالاعلی مودودیؒ

وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿الانبیاء : ۱۰۵﴾ 

ترجمہ : "اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کےلیے۔"

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں " 

 اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک ایسا مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کر دیتا ہے ۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت و فرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے اور ان ہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے ۔ پھر اس قاعدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے ، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح ۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا میں پہلے وارث زمین رہی ہیں اور آج اس وراثت کی مالک بنی ہوئی ہیں ۔ یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کافر ، مشرک ، دہریے ، فاسق، فاجر، سب یہ وراثت پہلے بھی پاتے رہے ہیں اور آج بھی پا رہے ہیں ۔ جن قوموں میں وہ تمام اوصاف پاۓ گئے ہیں اور آج پاۓ جاتے ہیں جنہیں قرآن صاف الفاظ میں کفر ، فسق ، فجور، معصیت اور بدی سے تعبیر کرتا ہے ، وہ اس وراثت سے محروم نہیں ہوئیں بلکہ نوازی گئیں اور آج بھی نوازی جا ہی ہیں ۔ فرعون و نمرود سے لے کر اس زمانے کے کمیونسٹ فرمانرواؤں تک کتنے ہی ہیں جو کھلم کھلا خدا کے منکر، مخلاف ، بلکہ مد مقابل بنے ہیں اور پھر بھی وارث زمین ہوۓ ہیں ۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ یہ راۓ قائم کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان کردہ قاعدہ کلیہ تو غلط نہیں ہو سکتا ، اب لامحالہ غلطی جو کچھ ہے وہ ’’ صالح ‘‘ کے اس مفہوم میں ہے جو اب تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ صلاح کا ایک نیا تصور تلاش کرتے ہیں جس کے مطابق زمین کے وارث ہونے والے سب لوگ یدسں ’’ صالح ‘‘ قرار پا سکیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ہوں یا چنگیز اور ہلاکو ۔ اس نۓ تصور کی تلاش میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء ان کی رہنمائی کرتا ہے اور وہ قرآن کے تصور ’’ صلاح‘‘ کو ڈار دینی تصور ’’ صلاحیت‘‘( (Fitness سے لے جا کر ملا دیتے ہیں ۔