یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
قصۂ یوسفؑ: حق و باطل کی کشمکش اور قمیص کی گواہی
قرآن کا معروضی اور موضوعاتی مطالعہ : اہمیت و ضرورت
قصص القرآن اور ہماری زندگی
نفسیاتی الجھنیں اور سکونِ قلب کا قرآنی نسخہ
ایمانیات و عقائد: قرآنی نقطہ نظر سے ایک جائزہ
۱۔ توحید: کائنات کا مرکزی سچ
۲۔ رسالت: ہدایت کا ذریعہ
۳۔ آخرت: مسئولیت اور عدل کا تصور
۴۔ ملائکہ اور کتب: غیبی حقائق سے جڑنا
۵۔ قدر (تقدیر): اللہ کے علمِ محیط پر یقین
سورۃ النحل کا ایک تجزیاتی مطالعہ : نعمتوں کے ہجوم میں گم ہوتی ہوئی حقیقت
عنوان : قرآن حکیم اور ہماری زندگی
آج ہمارا ملک اور معاشرہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ہم دشمن کی سازشوں، ستم ظریفیوں اور بیرونی دباؤ کا شکار ہیں، تو دوسری طرف ہم خود اپنے کردار کی پستی، اخلاقی انحطاط، اور اجتماعی بداعمالیوں سے اس وطن کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ گویا ہم بیرونی دشمن سے زیادہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمن ، یعنی نفس، حرص، جھوٹ، ظلم اور ناانصافی کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔
سورۃ الزلزال: قیامت کا ایک لرزہ خیز منظرنامہ
سورہ الزلزال قرآن مجید کی 99 ویں سورت ہے، جس کا نزول مدینہ منورہ میں ہوا۔ یہ سورت صرف 8 آیات پر مشتمل ہے، مگر اپنی فصاحت، اختصار اور اثر انگیزی میں ایک عظیم الشان پیغام سموئے ہوئے ہے۔ اس سورت کا مرکزی موضوع قیامت کا منظر اور اعمال کا محاسبہ ہے۔
لفظ "الزلزال" کا مطلب ہے "زلزلہ"، اور اسی زلزلے کا ذکر سورہ کے آغاز میں کیا گیا ہے، جو قیامت کے دن زمین کی سب سے بڑی اور آخری جنبش کو بیان کرتا ہے—ایسا لرزہ کہ زمین اپنے تمام بوجھ باہر نکال دے گی: لاشیں، راز، جرائم، نیکیوں اور سب کچھ۔
یہ سورت انسان کے اس گمان کو توڑتی ہے کہ اُس کے اعمال معمولی ہیں یا بے حساب گزر جائیں گے۔ یہاں ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج ہے، اور قیامت کے دن وہ سب ظاہر ہوگا۔
اہم نکات:
- زمین کی گواہی: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہ زمین کی چھاتی پر نقش ہوتا ہے، اور قیامت کے دن یہی زمین اس کا گواہ بنے گی۔
- اعمال کا وزن: یہاں تک کہ "ذرہ برابر" بھی نیکی یا بدی، سب شمار کی جائے گی۔
- خدا کا عدل: یہ سورت اللہ تعالیٰ کے عدل کامل اور حساب کی باریکی کو واضح کرتی ہے۔
سورہ الزلزال انسان کو ایک جھنجھوڑ دینے والا انتباہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو محاسبے کی روشنی میں دیکھے۔ ہر قدم، ہر لفظ، ہر نیت اور ہر عمل ایک دن اس کے سامنے کھڑا ہوگا۔ یہ سورت ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے، اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔
امامُ النّاس
![]() |
| امام الناس - ابوالبشر احمد طیب |
قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار
![]() |
| قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار |
جو فلسفی جبر کے قائل ہیں ، ان کے دلائل یہ ہیں کہ انسان اس کائنات میں ایک میشن کے پرزہ کی مانند ہے ، اس لیے کسی پرزے کی آزادی کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ان کی طرف سے دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس طرح دنیا کی ہرچیز طبیعات کے بے لچک قوانین کے تحت چل رہی ہے انسان بھی انہی بے لچک قوانین کے تابع ہے اس وجہ سے آزادی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ البتہ کچھ متعدل فلسفیوں کا کہنا ہے کہ ازل سے ابدتک تمام واقعات علت و معلول کی ایک طویل زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ انسان بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے اس وجہ سے اس کے اعمال ایسے عوامل کا نتیجہ ہیں جن پر انسان کو کوئی اختیار نہیں ، اس گروہ کا نمائندہ فلسفی ، زینو (zeno) ہے، مشہور فلسفی والٹئیر نے یہ کہ کر بات ختم کردی " میں جو چاہوں اگر کرسکوں تو آزاد ہوں لیکن کیا میں یہ چاہنے میں بھی آزاد ہوں ؟ " یونان کے ابتدائی عہد کے فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ دنیا پر چند جابر قوتوں کی حکمرانی ہے جن کے سامنے انسان بے بس ہے، یہی قوتیں انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ یونان اور ہندوستان کی ساری دیومالائی کہانی اسی تصور پر گھڑی گئی تھی ۔ فلسفیوں کا ایک بڑا گروہ جس میں قدیم یونانی رواقی فلسفی، وحدۃ الوجود کے قائل فلسفی سپنوزا اور پندرھویں صدی اور سولہویں صدی کے سائنسدان اور فرانس کا مشہور فلسفی والٹیئر اس عقیدہ جبر کے قائل ہیں۔
قرآن کریم کا اسلوب استدلال - ڈاکٹر اسرار احمد
![]() |
| قرآن مجید کا اسلوب استدلال |
قرآن مجید میں "لھو الحدیث" سے کیا مراد ہے ؟
أَإِلٰهٌ مَعَ اللهِ ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے! (!IS THERE ANY GOD BESIDE ALLAH)
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ﴿یہ کام کرتا﴾ ہے؟
تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟
ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟
قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾ کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔
----------------------------------------------------------------------
(سورۃ النمل: رکوع ۵، آیات 59-66) ترجمہ: سید ابوالاعلی مودودی ؒ
اصحاب کھف کا مکالمہ
قرآنی مکالمات : جن کا ایک مکالمہ
ختم قلوب کی حقیقت اور اس کے بارے میں قانون الٰہی ـ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ
قرآنی تمثیلات و تشبیہات (3/3)
قرآنی تمثیلات و تشبیہات (2/3)
قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُہٗۤ اَکَفَرۡتَ بِالَّذِیۡ خَلَقَکَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىکَ رَجُلًا ﴿ؕ۳۷﴾ لٰکِنَّا۠ ہُوَ اللّٰہُ رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۳۸﴾ وَ لَوۡ لَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَکَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡکَ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ۚ۳۹﴾ فَعَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یُّؤۡتِیَنِ خَیۡرًا مِّنۡ جَنَّتِکَ وَ یُرۡسِلَ عَلَیۡہَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِیۡدًا زَلَقًا ﴿ۙ۴۰﴾ اَوۡ یُصۡبِحَ مَآؤُہَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ لَہٗ طَلَبًا ﴿۴۱﴾
وَ اُحِیۡطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصۡبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیۡہِ عَلٰی مَاۤ اَنۡفَقَ فِیۡہَا وَ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ لَمۡ اُشۡرِکۡ بِرَبِّیۡۤ اَحَدًا ﴿۴۲﴾ وَ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ مَا کَانَ مُنۡتَصِرًا ﴿ؕ۴۳﴾ ہُنَالِکَ الۡوَلَایَۃُ لِلّٰہِ الۡحَقِّ ؕ ہُوَ خَیۡرٌ ثَوَابًا وَّ خَیۡرٌ عُقۡبًا ﴿۴۴﴾ ﴿ الکھف : ۳۲- ۴۴﴾
اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی ۔ دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی ۔ اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا۔ یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں" ۔ پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی ۔ اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا"۔



.jpg)
