یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے پاس قرآنِ مجید کی تفاسیر کا ایک بے پناہ ذخیرہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود قرآن کا براہِ راست پیغام ہم سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے اتنے وسیلے کھڑے کر دیے ہیں کہ اصل متن ان کے پیچھے کہیں دب سا گیا ہے۔ تفاسیر یقیناً ایک عظیم علمی سرمایہ ہیں، ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے ذریعے قرآن تک پہنچ رہے ہیں یا انہی میں الجھ کر رہ گئے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ آج کے قاری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ اس کے پاس معلومات کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کی کثرت نے اس کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ جب وہ تفاسیر کے طویل مباحث، فقہی اختلافات، اور تاریخی جزئیات میں داخل ہوتا ہے تو اکثر اصل سوال—“قرآن مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟”—پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے معروضی اور موضوعاتی مطالعہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
معروضی مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم قرآن کو اپنے پہلے سے قائم تصورات کے تابع نہ کریں، بلکہ خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں۔ ہم اپنی رائے کو اس پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اس کے اپنے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور موضوعاتی مطالعہ ہمیں یہ راستہ دیتا ہے کہ ہم قرآن کے بکھرے ہوئے اشارات کو یکجا کر کے ایک مربوط تصور حاصل کریں—چاہے وہ انسانی نفسیات ہو، معاشرتی اصول ہوں یا سننِ الٰہی۔
قرآن کا اسلوب اشاراتی ہے۔ وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے۔ اگر ہم اسے روایتی خطی (linear) انداز میں پڑھنے کی کوشش کریں گے تو یا تو ہمیں تشنگی محسوس ہوگی یا ہم تفصیلات کے لیے دوسری کتابوں پر انحصار بڑھاتے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم موضوعاتی انداز اختیار کریں—یعنی ایک موضوع سے متعلق تمام آیات کو جمع کریں—تو اچانک قرآن ہمارے سامنے ایک نئے انداز میں کھلنے لگتا ہے۔
مثلاً اگر ہم “تکبر” کو ایک موضوع کے طور پر لیں اور قرآن میں اس سے متعلق تمام اشارات کو جمع کریں تو ہمیں صرف ایک واقعہ نہیں ملتا، بلکہ ایک مکمل نفسیاتی نقشہ سامنے آتا ہے—ابلیس کا انکار، فرعون کی سرکشی، اور قومِ عاد کی خود پسندی۔ اور پھر ان سب کا انجام ایک ہی قانون کی طرف اشارہ کرتا ہے: تکبر زوال کی طرف لے جاتا ہے۔
یہی وہ بصیرت ہے جو محض روایتی مطالعہ سے اکثر اوجھل رہتی ہے۔
یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ کلاسیکی تفاسیر اپنے زمانے کے علمی تقاضوں کے مطابق لکھی گئیں۔ ان میں فقہ، لغت، نحو، اور روایت کا گہرا رنگ ہے، جو اپنی جگہ نہایت قیمتی ہے۔ لیکن آج کا قاری ایک اور سوال لے کر قرآن کے پاس آتا ہے:
“یہ کتاب میری زندگی، میرے معاشرے، اور میرے عہد کے مسائل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟”
اگر ہم اس سوال کا جواب صرف قدیم اسلوب میں تلاش کریں گے تو قاری یا تو مایوس ہوگا یا پھر سطحی تشریحات کی طرف مائل ہو جائے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کے فہم کے لیے ایک ایسا منہج اختیار کریں جو اس کے اصل اسلوب—اشارات، نتائج اور اصول—کے زیادہ قریب ہو۔
یہ کوئی دعوتِ انکار نہیں، بلکہ دعوتِ ارتقاء ہے۔ ہمیں تفاسیر سے بے نیاز نہیں ہونا، بلکہ ان کے ساتھ ایک نیا زاویہ شامل کرنا ہے۔ ہمیں روایت کو چھوڑنا نہیں، بلکہ اسے تدبر کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔
آج کے سکالر، محقق اور طالبِ علم کے لیے یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کو دوبارہ “براہِ راست” پڑھنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ وہ اس کے متن سے رشتہ جوڑے، اس کے موضوعات کو سمجھے، اس کے اشارات کو جوڑے، اور پھر اس پیغام کو اپنے عہد کے تناظر میں پیش کرے۔
کیونکہ قرآن صرف ماضی کی تفسیر نہیں، حال کی رہنمائی اور مستقبل کی تعمیر بھی ہے۔
اگر ہم نے قرآن کو صرف حوالوں اور تفصیلات میں گم کر دیا تو ہم اس کے سب سے بڑے مقصد سے محروم ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے اسے معروضی اور موضوعاتی انداز میں پڑھنا سیکھ لیا تو یہی قرآن ہمارے لیے ایک زندہ مکالمہ بن جائے گا—ایسا مکالمہ جو ہمیں نہ صرف سوچنے پر مجبور کرے گا بلکہ بدلنے پر بھی آمادہ کرے گا۔