‏اسالیب قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اسالیب قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سورہ عبس کے اسلوب بیان کا تجزیہ

 سید قطب شہید نے "فی ظلال القرآن" کے (جزء عمّ) میں سورہ عبس کے اسلوبِ بیان، اس کے صوتی آہنگ اور اس کے نفسیاتی اثرات پر نہایت گراں قدر اور تفصیلی کلام کیا ہے۔ سید قطب کے نزدیک یہ سورت مکی دور کے اسلوبِ بیان کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں الفاظ کی آوازیں اور معانی مل کر ایک زبردست صوتی اور حسی ماحول پیدا کرتے ہیں۔

سورہ عبس کے اسلوبِ بیان کے بارے میں سید قطب کے تجزئے کا تفصیلی جائزہ درج ذیل اہم نکات میں پیش کیا گیا ہے 

 1۔سورت کے اسلوب کی تقسیم

سید قطب فرماتے ہیں کہ سورہ عبس کا اسلوبِ بیان چار مختلف حصوں یا مناظر میں بٹا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود پوری سورت کے صوتی اور موضوعاتی تانے بانے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں 

پہلا حصہ (آیات 1-10): یہ ایک عتاب (ناراضگی) کا منظر ہے، جس کا اسلوب نہایت سنجیدہ، دھیما اور گہرا ہے۔

دوسرا حصہ (آیات 11-16): یہ قرآن مجید کی عظمت اور اس کے بلند مرتبے کا ذکر ہے۔ اس کا اسلوب رعب دار اور نورانی ہے۔

تیسرا حصہ (آیات 17-32): یہ انسان کی ناشکری اور کائنات میں اللہ کی نعمتوں کا بیان ہے۔ اس کا اسلوب استدلال اور تفکر کا ہے۔

چوتھا حصہ (آیات 33-42):

قرآن کے اسلوب کا ادبی تجزیہ

تمہید: قرآن مجید، صرف ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ ایک عظیم ادبی شہ پارہ بھی ہے۔ یہ کلامِ الٰہی، انسانی فکر، جذبات، اور شعور پر اس درجہ اثر انداز ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی اور کلام اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ اس کے الفاظ میں ایسی فصاحت، ایسی بلاغت، اور ایسا روحانی اثر ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے، عقل کو بیدار کرتا ہے اور روح کو سرشار کرتا ہے۔ 

قرآن کا اسلوب اس قدر منفرد اور دلنشین ہے کہ عرب کے بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء بھی اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کے متعلق اللہ نے خود فرمایا:  "لَّوْ أَنزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ" (الحشر: 21) یعنی اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ کیا انسانی کلام کبھی ایسا اثر پیدا کر سکتا ہے؟ 

قرآن کا اسلوب وہ آسمانی رنگ ہے جو انسانی زبان کے دامن میں سما نہیں سکتا۔ اس کے الفاظ گویا نور کے قطرے ہیں، جو دل کی زمین پر اترتے ہیں اور ایمان کی کونپلیں اگاتے ہیں۔  جو صرف وحی کے دامن میں جلوہ گر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ" (الزمر: 23) یہی وہ کلام ہے جو قاری کے وجود پر لرزہ طاری کر دیتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل جھک جاتے ہیں، اور روح ایک نورانی دنیا میں داخل ہو جاتی ہے۔

سورۃ الرحمٰن کا ادبی تجزیہ

تمہید: قرآن مجید کی ہر سورۃ اپنے اندر ایک الگ ادبی، روحانی اور فکری کائنات سموئے ہوئے ہے، مگر سورۃ الرحمٰن ان میں ایک نمایاں ادبی مقام رکھتی ہے۔ اس سورۃ کا اسلوب ایسا دلنشین اور پر اثر ہے کہ دلوں میں لرزہ طاری کر دیتا ہے اور روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ سورۃ جہاں رحمتِ الٰہی کا اعلان ہے، وہیں انسان و جنّ کے لیے ایک وجدانی دعوت بھی ہے کہ وہ اپنے خالق کے احسانات کا شعور حاصل کریں۔

1۔ صوتی آہنگ اور تکرار کا جمال: سورۃ الرحمٰن کی سب سے نمایاں ادبی خصوصیت "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" کی تکرار ہے، جو 31 بار آتی ہے۔ یہ تکرار صرف اعادہ نہیں بلکہ ہر نعمت کے بعد ایک فکری، جذباتی اور روحانی جھٹکا دیتی ہے: "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" ہر بار قاری کو احساس دلاتی ہے کہ نعمت کا انکار ممکن ہی نہیں۔ یہ سوالیہ اسلوب درحقیقت اثبات کی شدت ہے۔

2۔ تقابل کا اسلوب: سورۃ الرحمٰن میں بار بار جنّ و انس دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ اسلوب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کلامِ الٰہی کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ جنّات بھی اس کے مخاطب ہیں: "سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ" یہاں تقابل اور دوہرا خطاب قاری کے ذہن پر ایک بوجھ اور عظمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔

قرآن کی تفسیر کے لیے کیا انداز اختیا ر کیاجائے؟ مولانا وحید الدین خان

قرآن اگرچہ ایک اعلی ترین علمی کتاب ہے، اس میں فطری حدود کے اندر علم وعقل کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔ مگر قرآن میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے معروف علمی اور فنی انداز اختیا ر نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ فنی آداب اور علمی اصطلاحات کو چھوڑ کر اصل بات کو موثر دعوتی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا مقصد علمی مطالعہ بیش کرنا نہیں ہے اس کا مقصد تذکیر و نصیحت ہے اور تذکیر و نصیحت کے لیے ہمیشہ سادہ اسلوب کارآمد ہوتا ہے نہ کہ فنی اسلوب ۔ 
قرآن کی تفسیر اور اس کا انداز کیا ہو؟



تاہم ایک طالب علمانہ ضرورت ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک آدمی قرآن کے بیانات کی علمی تفصیلات اور اس کے فنی پہلوؤں کو جانناچاہے ۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ قرآن کی تفسیر کے لیے کیا انداز اختیا ر کیاجائے۔ قرآن کی تفسیر اگر اس کے اپنے سادہ دعوتی اسلوب میں کی جائے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ تفسیر میں نصیحت اور تذکیر کی فضا باقی رہے گی جو قرآن کا اصل مقصود ہے مگر ایسی صورت میں خالص علمی تقاضوں کی رعایت نہ ہو سکے گی ۔ دوسری طرف اگر علمی و فنی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مفصل تفسیر لکھی جائے تو بعض خاص طبیعتوں کو وہ پسند آسکتی ہے ۔ مگر عام لوگوں کے لیے وہ ایک خشک دستاویز بن کر رہ جائے گی ۔ مزید یہ کہ وہ قرآن کے اصل مقصد ــــــــــــــــ تذکیر و نصحیت کو مجروح کرنے کی قیمت پر ہوگا ۔ 

اس مسئلہ کا ایک سادہ حل یہ ہے کہ تفسیر اور معلومات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ قرآن کے ساتھ جو تفسیر شائع کی جائے وہ خود تو نصیحت اور تذکیر کے انداز میں ہو ۔ اس کے بعد اس سے الگ ایک مستقل کتاب قاموس القرآن یا قرآنی انسائیکلوپیڈیا کے طور مرتب کرکے شائع کی جائے ۔ اس دوسری کتاب میں وہ تمام فنی بحثیں اور علمی اور تاریخی معلومات ہوں جو قرآنی حوالوں کو تفصیلی انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہیں ۔ مثلا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق آیات کے ذیل میں جو تفسیر لکھی جائے اس میں تو آنجناب کی زندگی کے صرف قابل عبرت پہلوؤں کی وضاحت ہو جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ کے بارے میں جو تاریخی اور اثریاتی معلومات ہیں ان کا قاموس القرآن میں جمع کر دیا جائے جن کو آدمی لفظ " ابراھیم " کے تحت دیکھ سکے ۔ اسی طرح نحوی ، فقہی ، کلامی اور طبیعتی مسائل کی تفصیلات بھی قرآن کی انسائیکلوپیڈیا میں درج ہوں نہ کہ قرآن کی تفسیر میں ۔ 

قرآنی قصص کا انداز بیان - ابوالبشر احمد طیب

قرآن مجید کےقصص کا اسلوب بہت ہی منفرد ہے۔ اکثر قصص  کی مختلف کڑیوں کو مختلف مقامات میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن واقعات کی تمام کڑیاں، ہر مقام وموقع پر سیاق و سباق کے لحاظ سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔  ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان واقعات کی کڑیوں کا ایک خاص نظم  ہے، مکی سورتوں میں اکثر وافعات مختصر اشاروں پر مشتمل ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ مدنی سورتوں میں ان اشاروں میں طوالت آتی جاتی ہے۔ 

قرآنی قصص کے اسلوب کی ایک خوب صورت مثال حضرت موسی ؑ کا قصہ ہے ، ان کا ذکر قرآن مجید میں تیس مقامات میں ملتا ہے ، اس کے درج ذیل مراحل ہیں :

سورہ اعلی مکی سورہ میں حضرت موسی ؑ کے صحیفہ کی طرف صرف مختصر اشارہ ہے وہاں حضرت ابراھیم ؑ کے صحیفہ کے ساتھ موسی کے صحیفہ کا بھی ذکر آیا ۔ بھیر سورہ نجم  اور سورہ فجر جو مکی سورہ ہیں، دونوں میں عاد و ثمود کے ساتھ صرف فرعوں کا  ذکر آیا ہے لیکن حضرت موسی کا ذکر نہیں آیا  (الفجر : 13)،  سورہ اعراف میں جو انتالیسویں سورہ ہے اس میں حضرت موسی کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ ہے اس میں دیگر انبیاء کے بھی واقعات ہیں۔ 

قرآن مجید کا اسلوب - ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

تاریخ شاہد ہے کہ قرآن مجید سے متعلق مسلمانوں کی خدمات اور جدت طرازیوں کی ایک طویل داستان ہے، کسی نے قرآن مجید کے مفردات پر توجہ دی تو کسی نے قرآن کی  کتابت اور رسم الخط پر ، بعض نے قرآن کی قراءات اور مخارج حروف کی درست ادائیگی  پر عمر بیتادی، تو کچھ اہل علم نے قرآن کی زبان اور قواعد پر اپنی پوری  توجہ صرف کردی  اور کچھ لوگوں نے قرآن کے مضامین، معانی اور مطالب کو اہم سمجھا، کسی نے قرآن کے عقلی دلائل پر توجہ دی اور کسی نے اصول دین اور معاصر مسائل کا استنباط کیا، یا  کسی نے قرآن کی فصاحت و بلاغت نیز قرآن کے الفاظ کے معانی حقیقی اور مجازی  پر نگاہ ڈالی۔ غرض قرآن مجید  کے نزول  کے بعد علوم و فنون کے ایسے شاہکار سامنے آئیے جس کی مثال سابقہ اقوام میں نہیں ملتی ۔

 قرآن کی پہلی  وحی  ہی علم اور آگاہی سے متعلق تھی، مسلمان علم و حکمت کی اہمیت سے واقف تھے ارشاد باری تعالی ہے : 

" وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ(البقرة : 269)" 
( اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔) 

ہمارےعلماء نے  قرآن مجید کے اسالیب میں پنہاں خصوصیات کو مختلف ناموں سے بیان کیا ہے ۔  یہاں ان میں سے چند خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 

1- نظم قرآن 

اس سے مراد قرآن مجید کے کلمات اور الفاظ، آیات اور سورتوں کی بندش اور قرآن مجید کے مضامین کا باہمی ربط ہے ، جس کے لیے علماء نے" نظم قرآن" کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ نظم کےمعنی موتیوں کو ایک لڑی میں پرودینا ، گویا قرآن مجید کے الفاظ ، فقرے ، آیات اور سورتیں یا مضامین خوبصورت موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ۔ بعض علماء نے آیات اور سورتوں کی ترتیب کیے لیے " نظام " اور " تناسب " کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے ، جبکہ الفاظ اورکلمات کی ترتیب کےلیے " نظم " کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ 

 قرآن مجید کے الفاظ کے نظم و نسق کا ایک پہلو صوتی ہم آہنگی ہے اس میں  الفاظ کو فقرے میں اس طرح جوڑا کیاگیا تا کہ وہ انسانی کلام کی فصاحت و بلاغت کے معیار کے مطابق ہو، اور قاری یا سامع کی سماعت میں خوشگوار تاثر پیدا ہو، اس پہلو سے قرآنی الفاظ کے صوتی ہم آہنگی کس درجہ اعلی ہے؟ وہ کسی مصری قاری کی تلاوت سن کر اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ اس کا اعتراف جدید دور کے صوتی نظام کے ماہرین نے بھی کیا ہے انہوں نے جدید آلات کی مدد سے قرآنی الفاظ کی صوتی آہنگ کا جائزہ لیا تو ان کے سامنے قرآن  کى صوتی آہنگ کا اعجاز ظاہر ہوا ۔

 اسی طرح علماء کے نزدیک  قرآن کریم کے تمام مضامین ، معانی اورمطالب میں باہم ربط پا یا جاتا ہے۔ بعض علماء نے قرآن مجید کے اس اسلوب کو ( بلا کسی تشبیہ کے ) غزل مسلسل کی طرح قرار دیا، جس طرح ایک غزل میں ہر شعر بظاہر الگ الگ معلوم ہوتا ہے لیکن غور کرنے سے تمام اشعار میں ایک گہری معنوی مناسبت پائی جاتی ہے ۔ جس کو وحدۃ الموضوع کہا جاتا ہے ۔ ہر شعر یا مختلف مضامین کے مابین ایک ہم آہنگی ہوتی ہے۔ 
   
ہر دور میں علماء نے قرآن مجید کی اس اندرونی ساخت ، آیات و سورتوں کی ترتیب اور تناسب کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ قرآن مجید کے مضامین کا باہمی تعلق اور ربط کس نوعیت کی ہے ؟ اور اس لے بھی کہ عام قاری جب قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے تو بظاہر مضامین میں بے ربطی محسوس کرتا ہے یا بہت سارے مضامین ایک طرح کے نظر آتے ہیں یا ایک ہی جگہ یا سورت میں مختلف مضامین یکجا ملتے ہیں ، اگر کسی جگہ توحید کا مضمون ہے تو آخرت کا بھی ہے، کہیں نبی کا تذکرہ ہے تو ساتھ ہی مختلف اقوام پر تبصرہ بھی ، کہیں اخلاقی تعلیمات ہیں تو ساتھ ہی فقہی احکام بھی ، قرآن مجید کے  اس طرح کے بنیادی مضامین تقریبا ہر سورت اورہر جگہ موجود ہیں۔     

مثلا سورہ فاتحہ کا آغاز توحید کے مضمون سے ہوتا ہے پھر فورا ہی آخرت کا ذکر آجا تا ہے اس کے بعد عبادت اور استعانت کا ذکر ہوا ، پھر صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا ہے، ساتھ ہی انعام یافتہ لوگوں  اور ضالین کی گمراہی کی طرف اشارہ  ۔ 

غرض یہ تمام مضامین اس ایک سورت میں موجود ہیں ۔ یہی اسلوب یا نظم، پورے قرآن مجید اور ہر سورت میں موجود ہے ۔  مفسرین کو معلوم ہوا کہ  اگر اس اندرونی ساخت یعنی نظم و نسق کو نظر انداز کرکے کسی کلمہ یا آیت کی تفسیر اور تشریح کی گئی ہے تو وہ قرآن کے اصل مدعا اور مطلب سے ہٹ جاتا ہے ۔ اس لئے علماء نے قرآن مجید کی اندرونی ساخت، آیات اور سورتوں کی ترتیب اور تناسب کو جاننے کی کوشش کی ہے ۔

اس نظم ونسق کا اعجاز یہ ہے کہ قرآن مجید کے تمام مضامین ہروقت قاری کی نظر میں ہوتےہیں ، دوسرا یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی اور مضامین اس طرح بکھرے ہوئے نہیں ہیں جس طرح دیگر آسمانی کتابوں میں ہیں ۔ بائبل کی کتابوں کو موضوعات کے حساب سے مرتب کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے کتاب پیدائش ، اس میں کائنات کی تخلیق کا ذکر ہے ، اسی  طرح  سے دیگر کتب کی ترتیب ہے ، اس کا نقصان یہ ہوا کہ جس کو کسی خاص موضوع سے دلچسپی ہے اس کا مطالعہ کر کے باقی دیگر موضوعات کو ہاتھ نہیں لگاتا ، اس لے کروڑوں یہودی اور عیسائی ایسے ہوں گے جنہوں نے بائبل کے ان حصوں میں کوئی دلچسپی نہیں لی جن سے ان کو لگاؤ نہیں تھی ۔ انہوں نے تورات ، زبور، انجیل کا صرف وہی حصہ پڑھا جس کی ان کو ضرورت تھی۔

 اگر قرآن مجید کے مضامین بھی اسی ترتیب سے ہوتا مثلا ایک کتاب عقائد ، ایک کتاب قانون ، ایک کتاب اخلاق ، تو قرآن پاک سے مسلمانوں کی دلچسپی کا حشر وہی ہوتا جوتورات اور انجیل کا ہوا ۔ یہی معاملہ دیگر علوم کی کتابوں کے ساتھ بھی ہے ۔ جس کو ادب سے دلچسپی ہے وہ کبھی معاشیات کی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاتا ، اور جس کو فلسفہ سے لگاؤ ہے وہ کبھی دیگر کتابوں سے دلچسپی نہیں لیتا بلکہ فلسفہ کی کتب ہی زیادہ مطالعہ کرتا ہے ۔

  نظم قرآن کے بارے میں ہمارے قدیم مفسرین میں امام رازی ؒ کا نام سب سے زیادہ روشن ہے انہوں نے سورتوں اور بعض جگہ آیاتوں کی مناسبت بیان کی ہے، برصغیر میں مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے مختلف سورتوں کے مضامین کے مابین ربط اور ان  کی ترتیب میں پنہاں حکمتوں کو بیان کیا ، مولانا حمید الدین فراہی ؒ اور ان کے شاگر مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے ایک خاص نظام دریافت کیا ، پھر اس کی روشنی میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ اپنی تفسیر تدبر قرآن لکھی ہے۔ ان کے علاوہ سید ابوالاعلی مودودی ؒ اور مولانا مفتی شفیع ؒ نے بھی اپنی اپنی تفسیر میں سورتوں اور مضامین قرآن  کے مابین مناسبت کی نشان دہی کی ہے ۔

2- خطیبانہ اسلوب 


قرآن مجید کا اسلوب خطیبانہ ہے ، یہ قدیم عربی خطابت سے قریب ضرور ہے لیکن اس کی طرح نہیں، بلکہ قرآن مجید کا انداز خطابت کئی لحاظ سے مختلف ہے، قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ ﷺ اس کی تلاوت فرماتے اور پھر انہیں خطبات کو تحریری شکل دی جاتی ۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ آپ ﷺ بجائے تقریر کے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی ۔  ایک مرتبہ آپ ﷺ حرم شریف میں تھے کفار مکہ جمع تھے اور آپ کے ساتھ استہزاء کر رہے تھے ۔ آپ نے خطاب کا ارادہ فرمایا ہی تھا کہ سورہ نجم نازل ہونی شروع ہوگئی تو اپنی تقریر کے بجائے سورہ نجم کی تلاوت فرمائی ۔ 

مقرر جب تقریر کرتا ہے تو دوران خطاب بہت سی باتیں سامعین کی عقل اور فہم پر چھوڑ دیتاہے لیکن یہی باتیں جب تحریر میں لائی جاتی ہیں تو اس میں  بہت سی باتیں جن کا تعلق براہ راست سامعین سے یا ماحول سے ہوتی ہیں  رہ جاتی ہیں اس طرح  ایک قاری کے لیے تقریر کو تحریر کی صورت میں  سمجھنے میں دقت ہوتی ہے، یا تحریر شدہ تقریرکے سیاق و سباق کو ملانے لیے بعض وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ قاری  تقریرکے مدعا کو سمجھنے میں کچھ کمی محسوس کرےگا،  اس لے قرآن مجید  کو سمجھنا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہ اس ماحول اور اس دور کے حالات سے براہ راست آشنا تھے لیکن بعد والوں کے لیے قرآن مجید کو سمجھنے میں  مشکل پیش آئی۔ اس لیے مفسرین نے قرآن مجید کے خطبات کے تمام اشارات کو پر کرنے کی کوشش کی، اسی فن کو علماء نے تفسیر کا نام دیا، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ 

اس کی ایک مثال یہ ہے ارشاد باری تعالی ہے : 

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (4)
 ( سورۃ المزمل) 

یہاں ہر فقرہ انتہائی مختصر ہے، ان جملوں کا مخاطب آپ ﷺ ہیں ، اس لیے آپ ﷺ کو ہی براہ راست اس خطاب کا علم تھا کہ یہاں کس لفظ کس فقرہ سے کیا مراد ہے؟  پھر بعد کے زمانے میں مفسرین نے اس خطیبانہ کلام کی تفصیلات  بیان کی ہے ۔ جس کی مثالیں تفسیر کی کتابوں ميں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ 

3-  ایجاز اور جامعیت  

 قرآن مجید میں مختلف مضامین ہیں، احکام،  شرائع، امثال، مواعظ ، تاریخی واقعات، مظاہر کائنات  اور مناظر قیامت، اللہ تعالی نے  ان  تمام باتوں کی وضاحت کےلیے مختلف  اسلوب تعبیر اختیار فرمایا، تشبیہ ، تمثیل، انشائیہ ، خبریہ، وغیرہ ۔ لیکن یہ سب  اسالیب غیرمعمولی ایجاز اور جامعیت کے حامل ہیں ، یہ ایجاز اگرچہ مدنی سورتوں میں بھی ہے لیکن مکی سورتوں کے ایجاز کی شان ہی اور ہے ۔ بعض جگہ ایک ایک لفظ میں معانی کا سمندر پنہاں ہے ۔ مکی سورتوں کے ایجاز کی ایک مثال یہ ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے : 

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (5) وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (6) وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (7) ( سورۃ المدثر ) 

اس آیت میں ہر فقرہ ایک ایک لفظ پر مشتمل ہے جیسے :  فَأَنْذِرْ ، فَكَبِّرْ ،فَطَهِّرْ، فَاهْجُرْ،  تَسْتَكْثِرُ، فَاصْبِرْ۔۔۔۔۔۔ ہر فقرہ الگ الگ ہدایات اور نصیحتوں  پر مشتمل ہے، جن کا مخاطب براہ راست آپ ﷺ ہیں، اس لئے مفسرین نے ان الفاظ اور فقروں  کی تفسیر آپ ﷺ کی سیرت پاک کی روشنی میں کی ہے،  جیسے "المدثر" ایک پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب آپ ﷺ پر پہلی بار غار حراء میں جبرائیل ؑ وحی لے کر آئے تھے تو آپ ﷺ کو نبوت کی ذمہ داری کا اتنی شدت سے احساس ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے تو یہ فرمارہے تھے کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو، مجھے چادر میں لپیٹ دو، اس خطاب میں  يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سے اس پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، اس سے قرآن کے اسلوب کی جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ 

       ارشاد باری تعالی ہے  : 
 ( وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ) ( لقمان : 27)

" زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے ) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے ) ختم نہ ہوں گی"

4-  صداقت اور حقیقت 

 قرآن نے جو کچھ پیش کیا وہ سب صداقت اور حقیقت پر مبنی ہے، قرآن مجید میں کوئی بات خلاف عقل ، خلاف فطرت ، خلاف تہذیب یا اخلاق نہیں ہے۔

چانچہ آج علم اور ادب کی دنیا میں قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی ثقہ تحریر نہیں ہے ۔ یہ ایک متفقہ رائی ہے ، اس بات کے گواہ غیر مسلم سکالر بھی ہیں ۔ اس عظمت اور مقام میں دیگر آسمانی کتب کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مغرب کے پاس بائبل کے نام سے آسمانی کتابیں ہیں لیکن وہ جدید مغربی سکالروں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہی ہیں ۔ قرآن گواہی دیتا ہے کہ

( فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ ( البقرة :  79) 
 " پس تباہی ہے اُن لوگوں کیلے جو اپنے ہاتھوں سے تحریر لکھ کر ، لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے  تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں ۔ اُن کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے  اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت ہے۔" 
  یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی طویل تاریخ میں اسلام کے نظریات اور خالص علم وادب کے مابین کبھی تعارض پیدا نہیں ہوا، اگرچہ  جدید دور میں  بعض نام نہاد روشن خیال ادباء اورنقاد کو یہ غلطی فہمی ہوئی کہ دین کا یا دینی نصوص کا ادب اور فن سے کیا تعلق ہے؟   یہ غلط فہمی در اصل مغرب سے منتقل ہوکر آئی ، چند مسلم ادیبوں  کے ذہنوں پر سوار ہوگئی، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ سچا ادب اور اور دین کے مابین کبھی تصادم نہیں ہوا۔ 

 بد قسمتی سے انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کے پاس ادب اور فن کے نام سے ایسے لٹریچر وجود میں آئیے، جن کا حقیقی دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔  جس طرح ہومر نے اپنے الیڈ کی بنیاد من گھڑت افسانوں پر رکھی ہے اسی طرح جدید افسانہ اور ڈرامہ میں سچے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ فکشن کے نام سے بہت سے افسانے اور ڈرامے  جھوٹے واقعات پر مبنی  ہیں ۔ جبکہ قرآن پاک اس طرح کے فنی خرافات سے پاک ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے :   (لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ و لا من خلفہ )،  قرآن نے علمی صداقت اور تاریخی حقائق کو ایسے اسلوب میں پیش کیا ہے  جو بجائے خود ایک معجزہ ہے۔

علماء اسلام نے ہر دور میں شعراء اور ادباء کا خیر مقدم کیا ۔ عربی ، فارسی اور اردو زبان کی ہزار سالہ تاریخ گواہ ہیں کہ اس دور کے تمام بڑے بڑے شعراء اور ادباء مسلمان تھے جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی قیادت کی ۔

5- معجزانہ اسلوب

قرآن کے معجزانہ اسلوب کو سب سے پہلے عرب کے ادباء ، خطباء اور ماہرین لغت نے محسوس کیا، اس لیے غلط فہمی سے کبھی قرآن کو جادو کا منتر اور کبھی شاعری کہتے، لیکن ان کو معلوم ہوا کہ قرآن نہ شاعری ہے نہ جادو کا منتر بلکہ قرآن مجید ایک منفرد نوعیت کا کلام ہے، اس کی مثال نہ عرب کی شاعری میں ہے نہ خطابت میں اور نہ عرب کی کہانت اور جادوئی منتر میں، قرآن میں شعر جیسی غنائیت اور موزونیت تو ہے پر وہ شاعری نہیں، قرآن میں  خطابت کا زور بیان بھی ہے لیکن وہ عرب خطباء کے کلام سے بالکل مختلف ہے، کلام عرب کی طرح  اختصار و جامعیت بھی ہے، لیکن اس میں  معانی و مطالب اور معارف و حقائق کی گہرائی بھی ہے ، حکمت و دانائى کی موتیاں بھی ، اس میں دلائل اور براہین کا تنوع اور استدلال اور قوت بیان بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ان سب کے ساتھ یہ کلام فصاحت اور بلاغت کے اس اعلی معیار پر فائز ہے جس تک جن و بشر ملکر بھی نہیں پہنچ سکتے۔ 

ارشاد ہوا : 

وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ  فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ( البقرة : 23،  24)
              
ترجمہ : اگر تم قرآن کے بارے میں ذرہ بھی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے (محمد ﷺ ) پر اتارا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلالو۔ پھر بھی اگر تم یہ کام نہ کرسکو اور یقینا کبھی نہیں کرسکوگے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے وہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ 

اس آیت میں خاص کر عرب کو زبردست چلینج دیا گیا ہے کہ اگر ایسا کلام کوئی انسان بنا سکتا ہے تو تم بڑے فصیح و بلیغ ہو تم سب مل کر قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ،  ساتھ ہی قرآن مجید نے دعوی کیا ہے کہ تم سب مل کر بھی ایسا نہیں کر سکوگے اور واقعہ یہ ہے کہ اہل عرب جو اپنی زبان و ادب پر ناز کرتے تھے ان سب کو اس چلینج کے بعد سانپ سونگھ گیا اور کوئی شخص یہ چلینج قبول کرنے کے لیے آگے نہ بڑھا، بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں اور خطیبوں  نے اس خدائی کلام کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اس طرح قرآن کا اعجاز ان پرہمیشہ ہمیشہ کے لیے  ثابت ہوگیا ۔ 

6-  قصص، امثال اور واقعات کا قرآنی اسلوب 

قرآن مجید کے زیادہ تر حصوں کا تعلق قصص، امثال ونظائر، انسانی جذبات واحساسات اور مناظر قیامت اور احوال آخرت کی تعبیرات سے ہیں اور یہ تقریبا تین چوتھائی ہیں، باقی ایک حصہ میں شرعی احکام اور کچھ تنبیہات ہیں۔  قرآن میں ان تمام موضوعات  کی تعبیر کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ( بلاتشبیہ  و تمثیل صرف وضاحت کے لیے ) جدید ادبی اصطلاحات میں واقعہ نگاری، منظر نگاری، تصویر کشی اور شخصیت نگاری یا خاکہ نگاری سے ملتا ہے ، ہم جب قیامت کے مناظر، واقعات، شخصیات اور دیگر مضامین کو قرآن کے لفظوں اور آیات میں  پڑھتے ہیں تو وہ نہ صرف ذہنوں میں نقش ہوتے ہیں بلکہ مجسم اور منقش ہوکر تصور کی نگاہوں کے سامنے نمایاں ہوجاتے ہیں ۔ قرآن میں اللہ تعالی نے الفاظ کے ذریعے جو تصویر کھینچی ہے رنگ ، سیاہی اور جدید کیمرے بھی اس سے عاجز ہے ، سید قطب شہید کے مطابق قرآن کےانداز بیان اور تعبیر کی اصل اساس ہی تصویر کشی اور منظر نگاری ہے ان کے مطابق اس اسلوب کو قرآن کے اکثر مضامین کے بیان  میں ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ صرف تشریعی احکام کا موضوع اس سے خارج ہے ۔ 

قرآن کریم کے اسلوب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ الفاظ ، معانی اور مطالب کی ذہنی اور متخیلہ صورت کو مجسم اور متحرک صورت میں پیش کیا گیا ہے ، تخیل سے مراد وہ معانی جو  انسانی وجدان میں پوشیدہ ہیں،  قرآن نے ان معانی کی  مجسم منظر کشی کی ہے ، ان کے ذریعے تخیل کو حرکت میں لا یاگیا تاکہ متخیلہ صورت ان مناظر اور حرکات سے مشابہ ہوجائے جو خارج کی زندگی میں رنگ اور صورت میں موجود ہے ۔ اگر قرآن ماضی کا کوئی واقعہ بیان کرتا ہے تو قاری یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ واقعہ اس کے سامنے وقوع پذیر ہے اس کا اندازہ جدید دور کی فلم بینی سے کيا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال درج ذیل آیت  ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: 

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ (الانفال: ٢٢)

کچھ شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتروہ ہے جو  بہرے، گونگے ہیں، جو کچھ نہیں سمجھتے۔ 

عربی زبان میں " الدواب"  کا لفظ عموما حیوانات کے لے استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں انسان بھی شامل ہے اس لحاظ سے " دابۃ" کے معنی ہیں زمین پر چلنے والا اور انسان بھی زمین پر چلتا ہے اس لیے اس کو بھی دابۃ کہ دیتے ہیں۔  لیکن اس لفظ کو انسان کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ  عموما حیوانات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ آیت میں  انسان کے لیے "دابۃ"  کا لفظ استعمال کرنا پھر اس کو گونگے بہرے کہ کر اس کی حیوانی حالت کو نمایاں کرنا جس کی وجہ سے وہ  قبول ہدایت سے محروم ہے۔ ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ  اس طرح ایک حیوان نما انسان کی تصویر نمایا ہوکر ہماری نگاہ میں آجا تی ہے اور ساتھ ہی "لایعقلون"  (وہ عقل سے کام نہیں لیتے ) کے اضافہ سے " حیوانی صفات  کی مزید وضاحت ہوگئی۔ اس طرح لغوی اور معنوی اعتبار سے قاری اور قرآن مجید کے الفاظ ، معانی اور متخیلہ صورت کے درمیان ایسی مطابقت ہوجاتی ہے جس طرح جدید اصطلاح کے مطابق ( بلاتشبیہ و تمثیل )  ایک فلم اور فلم بین کے مابین ہوتی ہے، یہ قرآن کے اسلوب بیان کا معجزانہ کمال ہے قرآن کے سوا کسی کلام میں اس جیسی خوبیاں  ہمیں نہیں مل سکتی ۔

 قرآن مجید کا ایک اسلوب منظرنگاری ہے، مختلف مناظر کو عام زندگی  سے قریب تر کر کے پیش کیا ہے ، قرآن نے اپنے معانی کو متحرک لفظوں کی مدد سے ایسی تصویر کشی کی کہ ان مناظر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردی ہے ، مثلا قیامت کے ہولناک مناظر کی تصویر کشی کی ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے:

"یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا  " ( المزمل : 14)

جس دن زمین اور پہاڑ کا نپنے لگیں اور پہاڑ ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا :

" فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا  السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ " ( المزمل :17) 

 تو اس دن س تم  کیونکر بچوگے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور جس سے آسمان پھٹ جائے گا ۔
        قرآن کی تلاوت کے وقت ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز زندہ اور متحرک ہے درخت،  انسان ، حیوان ، پہاڑ ، جنگل ، سمندر، بادل ، زمین،  آسمان ، چاند،  سورج،  ستارے  گویا ہر چیز زندہ مناظر ہے کائنات میں کوئی چیز مردہ اور بے جان اور ساکت نہیں ۔ جیسے " یسبح لہ ما فی السموات والارض"  کے مطابق کائنات میں ہر سو، ہر چگہ، ہر لمحہ اس کےمظاہر کی تسبیحات گونج رہی ہیں۔ جیسے ایک جگہ صبح کا منظر قرآن میں ملتا ہےگویا ایک جاندار کی طرح سانس لیتا محسوس ہوتا ہے ،  ارشاد باری تعالی ہے :

والصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسْ  (التکویر)  اور صبح کی قسم جب وہ سانس لیتی ہے !

اسی طرح  قرآن کی زبان میں رات بھی ایک جاندار کی طرح چلنے لگتی ہے۔

،واللَّیْلِ اِذَا یَسْر (الفجر : 4 )  قرآن کے نزدیک دن تیزی سے بھاگ کر رات کو تلاش کر تا ہے ۔

یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ   (الاعراف : 54)  "وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا  چلا آتا ہے "
        یہ چند مثالیں ہیں، اس طرح کی مثالیں قرآن کی ہر سورت اور ہر جگہ موجود ہیں ۔ 

----------------------------------------------
مصادر و مراجع : 

1- مولانا سید ابوالاعلی مودی ؒ کا مقدمہ جو تفہیم القرآن جلد اول میں ہے۔
2- مولا حمید الدین فراہی کے مختلف عربی مضامین جو اردو ترجمہ اور تشریح کے ساتھ  ان کے شاگرد مولانا امیں احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی نے شائع کیے ہیں۔
3- سید قطب شہید کی کتاب "التصویر الفنی فی القرآن" جس کا  اردو ترجمہ  پروفیسر غلام احمد حریری نے"  قرآن مجید کے فنی محاسن" کے نام سے کیا ہے ۔ 


آیات متشابہات سے مراد : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

حروف مقطعات : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن کی سورتوں کے نام ؛ افکار امین احسن اصلاحی ۔ مقرر : ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن میں تقابل الٖفاظ کی اہمیت - افکار امین احسن اصلاحی - مقرر: ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن کی جمع و ترتیب - افکار حمید الدین فراہی : مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

قرآن میں زبان کا ایک اسلوب : افکار امین احسن اصلاحی ، مقرر ڈاکٹر شہزاد سلیم

سورۃ الفیل میں فعل " تَرمِیھم " کا فاعل ؟

مولانا مودودی ؒ  نے سورۃ الفیل کی آیت "  تَرْمِيْهِمْ بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ " میں فعل "ترمیھم"  کا فاعل ابابیل قرار دیا جبکہ مولانا حمید الدین فراہی ؒ  کی  تاویل میں اس کا فاعل قریش ہے ابابیل نہیں، انہوں نے اس کے حق میں عقلی دلائل دیئے۔

  مولانا حمیدالدین فراہی کے شاگر مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اپنے استاد کے حق میں تفصیل سے ان دلائل کو بیان کیا ہے، ان کے نزیک بھی  ترمیھم کا فاعل قریش ہے ، ان کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے  : 

وہ لکھتے ہیں اگرچہ اس قو ل پر تمام مفسرین متفق ہیں لیکن گوناگوں وجوہ سے یہ بالکل غلط ہے : 

١۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس موقع پر قریش پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مدافعت سے کلیۃً دست بردار ہو کر پہاڑوں میں جا چھپے تھے، بلکہ ابرہہ کی عظیم فوج کے مقابل میں مدافعت کی واحد ممکن شکل جو وہ اختیار کرسکتے تھے یہی تھی اس وجہ سے انہوں نے یہی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق کہ بندہ جب اپنے امکان کے حد تک اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی مدد فرماتا ہے، اس نے قریش کی مدد فرمائی ۔

تعددِ معنی اور دلالتِ لسانی

ساجد حمید 

ماہنامہ اشراق ، اگست 2018

(نوٹ : بلاگر کا مضمون نگار کی رائی سے اتفاق لازمی نہیں ) 

زبان اپنے معنی کی ادائیگی میں کامیاب ہے یا نہیں ، اس کا فیصلہ عالم عمل میں ہونا چاہیے، نہ کہ مجرد عالمِ عقل میں۔ صدیوں سے ہم افلاطون کے طرزِ فکر کے اسیر ہیں۔اس کا منہج یہ تھا کہ ہماری عقل علم کاماخذِ کُل ہے اورہمارا حسی تجربہ، یعنی ہمارے حواس خطا کار ہیں۔ اس طرز فکر نے صدیوں تک انسان کو علوم میں ترقی سے روکے رکھا۔انسان کی اس طرز فکر میں جو ترقی ہوئی، وہ ایک طرف اہل فلسفہ کی عقلی موشگافیاں تھیں اور دوسری طرف تصوف کی وجدانی خود فریبیاں۔ علم اسی میدان میں پھنسا رہا، اور اقبال کے الفاظ میں اس دانشِ برہانی نے حیرت کے سوا ہمیں کچھ عطا نہیں کیا۔

اس منہج کی تاثیر اور گرفت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی حتمی سے حتمی چیز بھی جب اس کے معیار پر پوری نہ اتری تو بے وقعت قرار پائی۔ مثلاً ان کے مطابق وحی محض ظاہریت اورمعیار میں پست ٹھیری، تجربات پر مبنی علم محض دنیوی اور سفلی سے شاید کچھ بڑا درجہ پا کر علم آلی قرار پایا۔ لہٰذا، نہ فہمِ وحی کے لیے ذہین عناصرآگے بڑھے اور نہ مادی علوم کے لیے۔ لہٰذا امت کے بڑے اذہان فلسفہ و تصوف کی بھینٹ چڑھ کر خانقاہوں اور فلسفیانہ مدارس کی روح و رواں بن کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وحی پر اعتماد کرنے والے بے وزن ٹھیرے۔پھرامام رازی وغیرہ نے وحی کو اس معیار پر پورا دکھانے کے لیے ’’التفسیر الکبیر‘‘ جیسی تفاسیر لکھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح ہمارے عہد میں سرسید وغیرہ نے قرآن کو سائنس کے میعار پر دکھانے کے لیے تفسیر یں لکھیں۔
عقلی منہج اور حقیقتِ واقعہ

کیا قرآنی الفاظ کے معانی قدیم اور متروک ہوچکے ہیں ؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کا کام تو محض شرعی و دینی امور سے بحث کرنا ہے۔ یہ تو مراسمِ عبودیت اور عقائد و احکام کا مجموعہ ہے۔ سائنس کی ترقی اور نئی نئی معلومات سے اسے کیا سروکار؟ نیز اگر یہ کہا جائے کہ قرآن سائنسی مواد سے بحث کرتا ہے اور جدید سائنسی معلومات سے قرآن کے بہتر فہم میں مدد ملتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پرانے لوگ قرآن کو درست طور پر نہ سمجھ سکے۔

یہ بات قرآن کی عظمت کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی دلیل ہے۔ ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن سب انسانوں اور سب زمانوں کے لیے ہے، جو لوگ جس دور میں بھی اس کا مطالعہ کریں گے، یہی محسوس ہوگا کہ یہ انہی لوگوں اور اسی دَور کے لیے نازل ہوا ہے۔

چونکہ یہ ایسی ہستی کا کلام ہے، جو ازلی و ابدی ہے اور جس کا علم سب زمانوں کو محیط ہے، گردشِ ایام جس میں کبھی بھی کوئی ترمیم و اضافہ یا اصلاح و تجدید تجویز نہیں کرسکتی۔ لہٰذا لازم تھا کہ اس کے الفاظ کی ساخت و ترکیب ایسی ہو اور اس کے معانی میں ایسی وسعت و لچک رکھی جائے کہ یہ پرانے لوگوں کی سمجھ سے بالا ہو اور نہ نئے لوگوں کو پرانا لگے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے، جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔

دنیا پرست آدمی کی مثال

ارشاد باری تعالی ہے ؛ 

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ  ، وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ 

ترجمہ " اور اے محمد ﷺ  ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا،  مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا۔ آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے اسے ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتّے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں ۔  "

(سورۃ الاعراف : 175تا 176) 
---------------------------------------
مولانا مودودیؒ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" ان الفاظ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ضرور کوئی متعین شخص ہوگا جس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کی یہ انتہائی اخلاقی بلندی ہے کہ وہ جب کبھی کسی کی برائی کو مثال میں پیش کرتے ہیں تو بالعموم اس کے نام کی تصریح نہیں کرتے بلکہ اس کی شخصیت پر پردہ ڈال کر صرف اس کی بری مثال کا ذکر کردیتے ہیں تاکہ اس کی رسوائی کیے بغیر اصل مقصد حاصل ہوجائے۔ اسی لیے نہ قرآن میں بتایا گیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں کہ وہ شخص جس کی مثال یہاں پیش کی گئی ہے، کون تھا۔ مفسرین نے عہد رسالت اور اس سے پہلے کی تاریخ کے مختلف اشخاص پر اس مثال کو چسپاں کیا ہے۔ کوئی بلعم بن باعوراء کا نام لیتا ہے، کوئی اُمیّہ بن ابی الصَّلت کا، اور کوئی صَیفی ابن الراہب کا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خاص شخص تو پردہ میں ہے جو اس تمثیل میں پیش نظر تھا، البتہ یہ تمثیل ہر اس شخص پر چسپاں ہوتی ہے جس میں یہ صفت پائی جاتی ہو ۔