‏عہد جاہلیت قرآن کی روشنی میں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏عہد جاہلیت قرآن کی روشنی میں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن نے مکہ کو امّ القریٰ (آبادیوں کی ماں ) کیوں کہا؟

قرآن نے مکہ کو ام القرٰی ( آبادی کی ماں ) کیوں کہا ؟
 ارشاد باری تعالی ہے :

"وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا "(الانعام:92)

"یہی کتاب ہے ہم نے اس کو نازل کیا ہے ۔برکت والی ہے ۔ تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اس سے پہلے ہو چکی ہیں تاکہ آپ ڈرئیں(اہل) ام القری(مکہ ) اور اس کے ارد گرد والوں کو بھی "

مؤرخ ابن قتیبہ جس نے 276 ھ میں وفات پائی ہے لکھا : " سام بن نوح نے درمیانی زمین : مکہ ، اطراف مکہ مثلا : یمن، حضر موت، عمان ، بحرین ، سیرین ، وبار ، دو ،دہنا تک آباد ہو ا۔"

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں "اُم القریٰ" بستیوں کی اصل اور جڑ کو کہتے ہیں مکہ معظمہ تمام عرب کا دینی اور دنیاوی مرجع تھا اور جغرافیائی حیثیت میں بھی قدیم دنیا کے وسط میں مرکز کی طرف واقع ہے اور جدید دنیا (امریکہ) اس کے نیچے ہے اور روایات حدیث کے موافق پانی سے زمین بنائی گئی تو اول یہی جگہ کھلی تھی۔ ان وجوہ سے مکہ کو "ام القریٰ" فرمایا اور آس پاس سے مراد یا عرب ہے کیونکہ دنیا میں قرآن کے اول مخاطب وہی تھے۔ ان کے ذریعہ سے باقی دنیا کو خطاب ہوا اور یا سارا جہان مراد ہو جیسے فرمایا: لَیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً۔

صاحب تفسیر مظہر ی فرماتے ہیں : تاریخی روایات کے مطابق ابتداء آفرینش میں پیدائش زمین کی ابتداء یہیں سے ہو ئی ہے ، نیز سارے عالم کا قبلہ اور عبادت میں مرکز توجہ یہی ہے ۔

سید سلیمان ندوی ( تاریخ ارض القرآن ) میں لکھا :کسی نے کہا کہ مکہ روحانی مرکز ہےجہاں روح کی سیرابی کا سامان فراہم کیا گیا ۔ اس لیے اس کو ام القری کہا ، بعض نے کہا قدیم جغرافیہ کے لحاظ سے یہ زمین کے عین وسط میں واقع ہے ۔ یہ شہر دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا اس کی ایک طرف مصری ، رومی ، یونانی تہذیب تھی اور دوسری طرف کلدانی ، ایرانی اور ہندی تہذیب تھی ۔بہر حال جو بھی اسباب ہو، تاریخ کی روشنی میں ہم اس کا تفصیلا جائزہ لیں گے ۔
تاریخ نے عرب میں چار بار انسانی طوفان آتے دیکھا ۔ایک حضرت مسیح سے ڈھائی یا تین ہزار سال پہلے ، پھر ایک طوفان پانچ سو سال قبل مسیح اٹھا جو نسبتا کم تھا ۔ تیسری بار معینی اور سبائی قبائل اٹھے اور پھیلے ،سب سے آخری انسانی سونامی جو پہلی صدی ہجری میں چھٹی صدی عیسوی کے بعد اٹھا سب سے زیا دہ پر زور ، وسیع الاثر تھا جو ایک طرف ہندوستان کے درو دیوار سے ٹکرایا تو دوسری طرف بحر ظلمات تک جا پہنچا ۔

قرآن : کائنات اور انسان ۔ احمد طیب

 کائنات کے بارے میں قرآن کا تصور : 

قرآن : کائنات اور انسان 

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کائنات  ایک بامقصد تخلیقی سکیم پر قائم ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ۔

إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ( القمر : 49 -50 ) (ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔ )

وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان : 2) (جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔)

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ کائنات کی ہر چیز کو وجود بخشا ہے ، بلکہ وہی ہے جس نے ایک ایک چیز کے لیے صورت، جسامت ، قوت و استعداد، اوصاف و خصائص ، کام اور کام کا طریق ، بقاء کی مدت، عروج و ارتقاء کی حد، اور دوسری وہ تمام تفصیلات مقرر کی ہیں جو اس چیز کی ذات سے متعلق ہیں ، اور پھر اسی نے عالم وجود میں وہ اسباب و وسائل اور مواقع پیدا کیے ہیں جن کی بدولت ہر چیز یہاں اپنے اپنے دائرے میں اپنے حصے کا کام کر رہی ہے ۔ اور پوری کائنات اس کے ارادے اور مشیت پر حرکت کررہی ہے۔

 وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (التكوير: 29)

(اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ ربّ العالمین نہ چاہے۔)

قرآن مجید کی مکّی اور مدنی سورتوں کا اجمالی پس منظر

قرآن مجید ابتدائی دور میں لکھے ہوئے مکمل رسالوں کی شکل میں نہیں شائع ہوا تھا بلکہ حسب موقع و ضرورت ایک تقریر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جاتی تھی اور آپ اسے ایک خطبہ کی شکل میں لوگوں کو سناتے تھے۔


 گویا قرآن مجید کی ہر سورت ایک یا کئی تقریر کا مجموعہ تھی جو کسی خاص مرحلے اور موقع پر نازل ہوتی تھی اس کا ایک خاص پس منظر ہوتا تھا، کچھ مخصوص حالات اس کا تقاضا کر تے تھے، اور کچھ ضرورتیں ہو تی تھیں جنہیں پورا کرنے کے لیے وہ اتر تی تھی۔ اپنے اس پس منظر اور اپنی اس شان نزول کے ساتھ قرآن مجید کی ان سورتوں کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اگر اس سے الگ کر کے مجرد الفاظ آدمی کے سامنے رکھ دیا جائے تو بہت سی باتوں کو و وہ قطعا نہیں سمجھے گا اور بعض باتوں کو الٹا سمجھ جائے گا ، اور قرآن کا پورا مدعا شاید کہیں اس کی گرفت میں آئے گا ہی نہیں ۔

قرآن مجید کی مکی سورتوں کا پس منظر 


پہلامرحلہ 


شروع شروع کے قرآن کے پیغامات ابتدائی دعوت کی مناسبت سے چند چھوٹے چھوٹے مختصر بولوں (آیات) پر مشتمل ہوتے تھے جن کی زبان نہایت شستہ ، نہایت شیریں ، نہایت پر اثر اور مخاطب قوم کے مذاق کے مطابق بہترین ادبی رنگ لیے ہوئے ہوتی تھی تاکہ دلوں میں یہ بول تیر و نشتر کی طرح پیوست ہو جائیں ،کا ن خود بخود ان کے ترنُّم کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ ہوں ، اور زبانیں ان کے حسن تناسب کی وجہ سے بااختیار ہو کر انہیں دہرانے لگیں ۔ پھر ان میں مقامی رنگ بہت زیادہ تھا۔ اگرچہ بیان تو کی جارہی تھیں عالمگیر صداقیتں مگر ان کے لیے دلائل و شواہد او رمثالیں اس قریب ترین ماحول سے لی گئی تھیں جس سے مخاطب لوگ اچھی طرح مانوس تھے۔ انہی کی تاریخ ، انہیں کی روایات ، انہیں کے روزمرّہ مشاہدہ میں آنے والے آثار اور انہیں کی اعتقادی و اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں پر ساری گفتگو تھی تاکہ وہ اس سے اثر لے سکیں ۔ 

دعوت کا یہ ابتدائی مرحلہ تقریبا چار پانچ سال تک جاری رہا ، اور اس مرحلے میں نبی ﷺ کی تبلیغ کا ردِّ عمل تین صورتوں میں ظاہر ہوا :

1- چند صالح آدمی اس دعوت کو قبول کرکے اُمّت مسلمہ بننے کے لیے تیار ہوگئے ۔

2- ایک کثیر تعداد جہالت یا خود غرضی یا آبائی طریقے کی محبت کے سبب سے مخالفت پر آمادہ ہوگئی ۔

3- مکّہ اور قریش کی حدود سے نکل کر اس نئی دعوت کی آواز نسبتا زیادہ وسیع حلقے میں پہنچنے لگی ۔ 


دوسرا مرحلہ 

اس کے بعد اس دعوت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ اس مرحلے میں اسلام کی اس تحریک اور پرانی جاہلیّت کے درمیان ایک سخت جاں گسل کشمکش بر پا ہوئی جس کا سلسلہ آٹھ نو سال تک چلتا رہا ۔ نہ صرف مکّہ میں ، نہ صرف قبیلہ قریش میں، بلکہ عرب کے بیشتر حصوں میں بھی جو لوگ پرانی جاہلیت کو بر قرار رکھنا چاہتے تھے وہ اس تحریک کو بزور مٹا دینے پر تُل گئے ۔ انہوں نے اسے دبا نے کے لیے سارے حربے استعمال کرڈالے ۔ جھوٹا پرو پگینڈا کیا ، الزامات اور شبہات اور اعتراضات کی بو چھاڑ کی ، عوام الناّس کے دلوں میں طرح طرح کی وسوسہ اندازیاں کیں ، ناواقف لوگوں کو نبی ﷺ کی بات سننے سے روکنے کی کوششیں کیں ، اسلام قبول کرنے والوں پر نہایت وحشیانہ ظلم و ستم ڈھائے ، ان کا معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کیا ، اور ان کو اتنا تنگ کیا کہ ان میں سے بہت سے لو گ دو دفعہ اپنے گھر چھوڑ کر حبش کی طرف ہجرت کر جانے پر مجبور ہوئے ۔ اور بالآ خر تیسری مرتبہ ان سب کو مدینے کی طرف ہجرت کرنی پڑی ۔ 

لیکن اس شدید اور روز افزوں مزاحمت کے باوجود یہ تحریک پھیلتی چلی گئی ۔ مکّہ میں کوئی خاندان اور کوئی گھرایسا نہ رہا جس کے کسی نہ کسی فرد نے اسلام قبول نہ کرلیا ہو ۔ بیشتر مخالفین ِاسلام کی دشمنی میں شدت اور تلخی کی وجہ یہی تھی کہ ان کے اپنے بھائی ، بھتیجے ، بیٹے ، بیٹیاں ، بہنیں اور بہنوئی دعوت اسلام کے نہ صرف پیرو بلکہ جا نثار حامی ہوگئے تھے اور ان کے اپنے دل و جگر کے ٹکڑے ہی ان سے بر سر پیکار ہو نے کو تیا ر تھے ۔ پھر لطف یہ ہے کہ جو لوگ پر انی جاہلیت سے ٹوٹ ٹوٹ کر اس نوخیز تحریک کی طرف آرہے تھے وہ پہلے بھی اپنی سوسائیٹی کے بہترین لو گ سمجھے جاتے تھے ۔ اور اس تحریک میں شامل ہونے کے بعد وہ اتنے نیک اور اتنے راستباز اور اتنے پاکیزہ اخلاق کے انسان بن جاتے تھے کہ دنیا اس دعوت کی بر تری محسوس کیے بغیر رہ نہیں سکتی تھی جو ایسے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور انہیں یہ کچھ بنارہی تھی ۔

اسی طویل اور شدیک کشمکش کے دوران میں اللہ تعالی حسب موقع اور حسب ضرورت اپنے نبیﷺ پر ایسے پر جوش خطبے نازل کر تا رہا جن میں دریا کی سی روانی ، سیلاب کی سی قوت اور تیز و تند آگ کی سی تاثیر تھی ۔ ان خطبوں میں ایک طرف اہل ایمان کو ان کے ابتدائی فرائض بتا ئے گئے ، ان کے اندر جماعتی شعو ر پیدا کیاگیا ، انہیں تقوی اور فضیلت اخلاق اور پاکیزگی سیرت کی تعلیم دی گئی ، ان کو دین حق کی تبلیغ کے طریقے بتائے گئے ، کا میابی کے وعدوں اور جنت کی بشارتوں سے ان کی ہمت بندھائی گئی ، انہیں صبر و ثبات اور بلند حوصلگی کے ساتھ اللہ کی راہ میں جد و جہد کرنے پر ابھارا گیا اور فداکاری کا ایسا زبردست جوش اور ولولہ ان میں پیدا کیا گیا کہ وہ ہر مصیبت جھیل جانے اور مخالفت کے بڑے سے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ دوسری طرف مخالفین اور راہ راست سے منہ موڑنے والوں اور غفلت کی نیند سونے والوں کو ان قوموں کے انجام سے ڈرایا گیا جن کی تاریخ سے وہ خود واقف تھے ، ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار سے عبرت دلائی گئی جن کے کھنڈروں پر سے شب و روز اپنے سفروں میں ان کا گزر ہو تا تھا ، توحید اور آخرت کی دلیلیں ان کھلی کھلی نشانیوں سے دی گئیں جو رات دن زمین و آسمان میں ان کی آنکھوں کے سامنے نمایاں تھیں اور جن کو وہ خود اپنی زندگی میں بھی ہر وقت دیکھتے اور محسوس کر تے تھے ،شرک اور دعوائے خود مختاری اور انکار آخرت اور تقلید آبائی کی غلطیاں ایسے بین دلائل سے واضح کی گئیں جو دل کو لگنے اور دماغ میں اتر جانے والے تھے ۔پھر ان کے ایک ایک شبہ کو رفع کیا گیا ، ایک ایک اعتراض کا معقول جواب دیا گیا ، ایک ایک الجھن جس میں وہ خود پڑے ہوئے تھے یا دوسروں کو الجھانے کی کوشش کرتے تھے ، صاف کی گئی ، اور ہر طرف سے گھیر کر جاہلیت کو ایسا تنگ پکڑا گیا کہ عقل و خرد کی دنیا میں اس کے لیے ٹھیر نے کی کوئی جگہ باقی نہ رہی ۔ اس کے ساتھ پھر ان کوخدا کے غضب اور قیامت کی ہو لناکیوں اور جہنم کے عذاب کا خوف دلایا گیا ، ان کے برے اخلاق اور غلط طرزِ زندگی اور جاہلانہ رسوم اور حق دشمنی اور مومن آزاری پر انہیں ملامت کی گئی ،اور اخلاق و تمدّن کے وہ بڑے بڑے بنیا دی اصول ان کے سامنے پیش کیے گئے جن پر ہمیشہ سےخدا کی پسندیدہ صالح تہذیبوں کی تعمیر ہوتی چلی آرہی ہے ۔ 


یہ مرحلہ بجائے خود مختلف منزلوں پر مشتمل تھا جن میں سے ہر منزل میں دعوت زیادہ وسیع ہوتی گئی ، جدوجہد اور مزاحمت زیادہ سخت ہوتی گئی ، مختلف عقائد اور مختلف طرز عمل رکھنے والے گروہوں سے سابقہ پیش آتا گیا ، اور اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے آنے والے پیغامات میں مضامین کا تنوّع بڑھتا گیا ۔۔۔۔۔۔یہ ہے قرآن مجید کی مکی سورتوں کا پس منظر ۔

قرآن مجید کی مدنی سورتوں کا پس منظر

مکّہ میں اس تحریک کو اپنا کام کرتے ہوئے تیرہ سال گزر چکے تھے کہ یکایک مدینہ میں اس کو ایک ایسا مرکز بہم پہنچ گیا جہاں اس کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ عرب کے تمام حصّوں سے اپنے پیرووں کو سمیٹ کر ایک جگہ اپنی طاقت مجتمع کرے ۔ چنانچہ بنی ﷺ اور بیشتر متبعین اسلام ہجرت کرکے مدینے پہنچ گئے ۔ اس طرح یہ دعوت تیسرے مرحلے میں داخل ہوئی ۔ 


اس مرحلے میں حالات کا نقشہ بالکل بدل گیا ۔ امت مسلمہ ایک باقاعدہ ریاست کی بنا ڈالنے میں کامیاب ہوگئی ۔ پرانی جاہلیت کے علم برداروں سے مسلّح مقابلہ شروع ہوا ۔پچھلے انبیاء کی امّتوں (یہودی اور نصاری) سے بھی سابقہ پیش آیا ۔ خو د امت مسلمہ کے اندرو نی نظام میں مختلف قسم کے منافق گھس آئے اور ان سے بھی نمٹنا پڑا ۔ اور دس سال کی شدید کشمکش سے گزر کر آخر کا ر یہ تحریک کا میابی کی اس منزل پر پہنچی کہ سارا عرب اس کے زیر نگیں ہوگیا اور عالمگیر دعوت و اصلاح کے دروازے اس کے سامنے کھل گئے ۔ اس مرحلے کی بھی مختلف منزلیں تھیں اور ہر منزل میں اس تحریک کی مخصوص ضرورتیں تھیں ۔ ان ضرورتوں کے مطابق اللہ تعالی کی طرف سے ایسی تقریر یں نبی ﷺ پر نازل ہوتی رہیں جن کا انداز کبھی آتشیں خطابت کا ، کبھی شاہانہ فرامین واحکام کا کبھی معلِّمانہ درس و تعلیم کا اور کبھی مصلحانہ افہام و تفہیم کا ہو تا تھا ۔ ان میں بتایا گیا کہ جماعت اور ریاست اور مدنیت صالح کی تعمیر کس طرح کی جائے۔ زندگی کے مختلف شعبوں کو کن اصول و ضوابط پر قائم کیا جائے ، منافقین سے کیا سلوک ہو ، ذمی کافروں سے کیا برتاؤ ہو ، اہل کتاب سے تعلقات کی کیا نوعیت رہے ، بر سر جنگ دشمنوں اور معاہد قوموں کے ساتھ کیا طرز عمل اختیا ر کیا جائے اور منظم اہل ایمان کا یہ گروہ دنیا میں خدا وند عالم کی خلافت کے فرائض انجام دینے کے لیے اپنے آپ کو کس طرح تیار کرے ۔ ان تقریروں میں ایک طرف مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کی جاتی تھی ، ان کی کمزوریوں پر تنبیہ کی جاتی تھی ، ان کو راہ خدا میں جان و مال سے جہاد کرنے پر ابھار ا جاتا تھا ، ان کو شکست اور فتح ، مصیبت اور راحت ، بد حالی اور خوش حالی ، امن اور خوف ، غرض ہر حال میں اس کے مناسب اخلاقیات کا درس دیا جاتا تھا ، اور انہیں اس طرح تیار کیا جاتا تھا کہ وہ نبی ﷺ کے بعد آپ کے جانشین بن کر اس دعوت و اصلاح کے کام کو انجام دے سکیں ۔ دوسرے طرف ان لوگوں کو جو دائرہ ایمان سے باہر تھے، اہل کتاب ، منافقین ، کفار ، و مشرکین ، سب کو ان کی مختلف حالتوں کے لحاظ سے سمجھانے ، نرمی سے دعوت دینے سختی سے ملامت اور نصیحت کرنے ، خدا کے عذاب سے ڈرانے اور سبق آموز و اقعات و احوال سے عبرت دلانے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ ان پر حجت تمام کر دی جائے ۔ ۔۔۔ یہ ہے قرآن مجید کی مدنی سورتوں کا پس منظر ۔



(یہ اقتباس نہایت خفیف ترمیم وا ختصار کے ساتھ تفہیم القرآن جلد اول ، ( سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) کے دیباچہ اور مقدمہ سے ماخوذ ہے)

مطالعہ ارض القرآن کی ضرورت اور اہمیت

مطالعہ  ارض قرآن کی ضرورت اور اہمیت
آج مسلمانوں کا وطن تمام دنیا ہے تاہم مولد اسلام ، موطن رسالت ، مہبط قرآن دنیا کا صرف ایک ہی گوشہ ہے یعنی" عرب" جس کو مادی زرخیزی کی محرومی نے گو " بن کھیتی کی زمین " (وادی غیر ذی زرع ) کا خطاب دیا ہے ۔ لیکن جس کی روحانی سیر حاصلی کی فروانی کا یہ عالم ہے کہ آج دنیا میں جہاں بھی روحانی کھیتی کا کوئی سرسبز قطعہ موجود ہے اسی کشت زاد الہی کے آخری کسان کی تخم ریزی و آب سیری کا نتیجہ ہے۔

اس مہبط وحی قرآنی اور موطن اول اسلام کی تقدیس اس بوڑھے پیغمبر (ابراہیم ؑ ) کے نام سے ہے جس نے اپنے جوان بیٹے (اسماعیل ؑ) کے خون سے اس " بن کھیتی کی زمین " کو سیراب کرنا چاہا ، جس کی سیرابی گردن کے خون سے مقدر نہ تھی ، بلکہ دل کے خون سے تھی ، جب دل کا خون اس پر برسا تو یہ شور و بے حاصل قطعہ حسب پیشین گوئی سابق لہلہا اٹھا ۔

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (٢٨) مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (٢٩) (الفتح )

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے ۔محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں ۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں ۔ اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ۔(یہ ترجمہ تفیہم القرآن سے لیاگیاہے )

اس زمین کے اکثر حصہ کی مادی شوری و بے حاصلی ، حکمت الہی کا مقتضا تھی کہ سلاطین عالم کے دست حرص و ہوس سے اس ارض مقدس کی عصمت مصون رہے اور دست انسانی کے تمدن و صنعت کی سیاہی سے اس کی لوح، سادہ پاک اور فطری رہے تاکہ خود فطرۃ اللہ کا قلم صرف اپنے حروف و خطوط سے اس کی گلکاری کر سکے ، اور خدا کی فطرت کا خزانہ جو اس کھنڈر میں دفن تھا پیغمبر مذہب فطری کے وجود تک محفوظ رہے ۔

قرآن مجید میں لفظ "عرب" ملک عرب کے لیے کہیں نہیں بولا گیا ہے ، حضرت اسماعیل کی سکونت کے ذکر میں " واد غیر ذی زرع "وادی ناقابل کاشت کہا گیا ہے اکثر لوگ اس نام کو عرب کی حالت طبعی کا بیان سمجھتے ہیں ، حقیقت میں یہ لفظ" عرب" کا لفظی ترجمہ ہے چونکہ اس عہد میں اس غیر آباد ملک کا کوئی نام نہ تھا اس لیے خود لفظ غیر آباد ملک اس کا نام پڑ گیا توراۃ میں بھی اسماعیل کا مسکن "مدبار "بتایا گیا ہے جس کے معنی بیابان اور غیر آباد قطعہ کے ہیں اور جو باکل عرب کا ترجمہ اور" وادی غیر ذی زرع" کے مرادف ہے۔

سرزمین قرآن(عرب) کی تاریخ جس قدر بعد القرآن یعنی اسلام کے بعد روشن ہے اسی قدر قبل القرآن یعنی اسلام سے پہلے تاریک ہے قرآن مجید نے بر سبیل عبرت اور اظہار واقعہ ملک عرب کے متعدد اقوام و اشخاص و انبیاء کے حالات مجملا بیان کئے ہیں لیکن عرب کی قوم تصنیف و تالیف سے آشنا نہ تھی اس لئے ان اقوام، اشخاص اور اقطاع ملک کے تاریخی، سیاسی ،قومی، مذہبی اور جغرافی حالات کے بیان و تفصیل کی بنیاد مسلمان مصنفین نے صرف احتیاطا نہ زبانی روایات پر رکھی ہے لیکن اہل پورپ ان کے مقابل یونانی و رومانی سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں کے تحریری بیانات اور عرب کے آثار قدیمہ اور نقوش و کتبات پیش کر تے ہیں جو تنہا زبانی روایات سے ظاہر ہے کہ کہیں صحیح تر ماخذ ہیں ، اس بناء پر انہوں نے عرب قبل قرآن کی تاریخ کے متعلق باکل نیا عالم پیدا کردیا ہے جو ان کی نظر سے قرآن مجید کے بیان اور عر ب کے زبانی روایات نے عرب کی جو تصویر کھینچی ہے اس سے مختلف ہے اوور اس لئے ان کو اس میدان میں اعتراضات کا بڑا جولان گاہ نظر آتا ہے ۔

جرمن ، فرنچ ، اٹالین اور انگلش مستشرقین نے" تاریخ عرب قبل اسلام " پر محققانہ کتابیں لکھیں ، یونانی و رومانی تصنیفات سے جو عرب قبل اسلام کے حالات سے پر ہیں ، انتخاب و خلاصہ کیا ، قرآن مجید نے جن اقوام و بلاد کا ذکر کیا ہے ، ان کھنڈروں کا مشاہدہ کیا ان کے کتبات کو حل کیا ، اور ان سے عجیب و غریب نتائج مستنبط کئے ۔

تاہم وہ مسلمان نہیں یہودی یا عیسائی ہیں ، انہوں نے نہایت بے دردی سے قرآن کے فوائد کو پامال کیا ہے بعض متعصب مستشرقین نے ان معلومات کو غلط طور سے قرآن کی مخالفت میں استعمال کیا ہے ۔ اٹھارھویں صدی کے وسط میں ریونڈ فارسڑر (FORSTER) نے عرب کا تاریخی جغرافیہ (HISTORICAL GEGRAPHY OF ARAB) لکھا جس میں اس نے اپنی جہالت کے عجیب و غریب نمونے پیش کئے جن کو پڑھ کر کبھی ہنسی اور کبھی رونا آتا ہے لیکن کیا کیجئے کہ ہماری غفلت سے وہ قرآن کی صداقت تاریخی کا معیار ہے بعض پادری قرآن کے تاریخی اغلاط کو پیش کر تے ہیں لیکن ان کو پیش کر تے وقت افسوس ہے کہ تورات جس کو وہ معیار صحت سمجھتے ہیں بھول جا تے ہیں ۔

نولدیکی(NOLDEKE) نے عمالقا و عاد کی تحقیق میں ایک رسالہ لکھاہے جس میں ثابت کیا ہے کہ یہ غیر تاریخی قومیں ہیں ۔ و لکن (A.WLKEN) اور روبرٹس اسمتھ (ROBERTS,SMITH) عر ب کےادعا ئے نسب کا انکار کر تے ہیں ، عرب کےبعضااثری اکتشافات کی بناپر یورپ کےبعض سبک مغز مصنفین جرات کےساتھ کہتے ہیں کہ " قرآن کے پہلے کا عرب قرآن کے بعد کے عرب سے ہزار درجہ بہتر تھا"۔ لیکن سینٹ ہیپلیر ایک فرنچ مستشرق نے نہایت خوب جواب دیا ہے " کہ اگریہ صحیح ہوتا تو قرآن تمدن و تہذیب کے عام ابتدائی تعلیمات اور کم از کم محرمات نکاح کے بیان کی تکلیف گوارا نہ کرتا "

ان آثار قدیمہ کےاکتشافات نے ادیان عرب قبل اسلام کے معلومات میں نہایت سخت انقلاب پیدا کر دیا ہے ،جن سےاسلام کے مناقب و فضائل کا ایک نیاباب پیدا ہوگیا ہے۔

عہد قدیم میں مخالفین کے اعتراضات کانشانہ اعتقادات تھے لیکن اس عصرجدید میں جب ہمارے مخالفین عقائد اسلام کی مضبوطی کاامتحان کرچکے ہیں انہوں نے یہاں سے ہٹ کر تاریخ و تمدن کے میدان میں مورچے قائم کئے ہیں ۔ جس طرح ایرانی ویہودی مورخین کےمقابلہ میں ابن حنفیہ دینوری ؒ المتوفی 281ھ ،ابن قتیبہ ؒ المتوفی 276ھ اور ابن جریر طبری ؒ المتوفی 310ھ نےاسلام اور قرآن کی تاریخ کی تحقیق و تطبیق میں کوشش کی ، اس زمانہ میں جدید یورپین تاریخ کی اسلام و قرآن سے تطبیق دی جائے۔ اورپورپین تاریخی تحقیقات و اکتشافات کی غلطی کاپردہ چاک کیاجائے اورخود ان ہی کےکارخانوں کے بنے ہوئے ہتھیاروں سے ان کے حملوں کاجواب دیا جائے ۔ (یہ مضمون اختصار کےساتھ علامہ سیدسلیمان ندیؒ کی تاریخ ارض القرآن جلد اول ص 11۔17 سےماخوذ ہے )

بر سبیل مثال مستشرق آرتھر جیفری کی علمی خیانت کا ذکر کیا جانا ضروری ہے اس نے نہایت بے دردی سے قرآن کی حقانیت کو پامال کیا ہے ۔

آرتھر جیفری (انگریزی: Arthur Jeffery) 18 اکتوبر 1892ء کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پیدا ہوا۔ اس کی وفات 2 اگست 1959ء میں کینیڈا میں ہوئی۔ وہ ایک متعصب پروٹسٹنٹ عیسائی تھا۔ شروع میں قاہرہ میں مشرقی علوم کے اسکول میں سامی زبانوں کے استاذ کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعد ازاں 1938ء میں کولمبیا یونیورسٹی سے منسلک ہو گیا ۔

آرتھر جیفری نے ابن ابی داؤد کی کتاب، المصاحف کو اپنی تحقیق سے شائع کیا اور قرآن پر کئی کتابیں لکھیں، جن میں قرآن کے متن و جمع قرآن پر مباحث ہیں۔ اہل علم نے آرتھر کی تحقیق پر کئی اعتراضات کیے ہیں۔ ڈاکٹر محب الدین واعظ نے اپنی تحقیق میں نشاندہی کی ہے کہ کیسے آرتھر جیفری اپنی طرف سے اصل کتاب میں ابواب کے نام رکھتا ہے اور بعص جگہ الفاط تک شامل کیے ہیں۔

”آرتھر جیفری نے کتاب المصاحف کی تحقیق میں’ نسخہ ظاہریہ‘ کو بنیاد بنایا اور اس کا تقابل ’نسخۃ دار الکتب المصریۃ‘ سے کیاہے۔ آرتھر جیفری کا دعویٰ ہے کہ’نسخۃ دار الکتب المصریۃ‘ کا نسخہ ایک دوسرا نسخہ ہے حالانکہ وہ ’نسخہ ظاہریہ‘ ہی کی ایک نقل ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ دونوں نسخوں میں پہلا صفحہ موجود نہیں ہے۔“

آرتھر جیفری کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں قرآن تحریری شکل میں موجود نہیں تھا۔ اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ مستشرقین کی تحقیق کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ آرتھر جیفری نے لکھا ہے کہ اہل مغرب کی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی کے آخری حصے میں ایک کتاب (یعنی قرآن) مرتب کر رہے تھے۔ ابوبکر صدیق کے زمانے میں جمع قرآن کے کام کے بارے اس کا خیال یہ ہے کہ یہ ایک ذاتی جمع تھی نہ کہ سرکاری۔ اس کے گمان میں سرکاری سطح پر قرآن کی جمع کا کام عثمان بن عفان کے دور میں شروع ہوا۔ آرتھر جیفری نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ بعض اسکالرز کی تحقیق کے مطابق زید بن ثابت نے جمع قرآن کا کام صرف عثمان بن عفان کے لیے کیا تھا لیکن چونکہ عثمان کی شخصیت متنازع تھی لہٰذا بعض اصحاب نے جمع قرآن کے کام کی نسبت ابو بکر کی طرف کرنے کے لیے کچھ ایسی روایات وضع کر لیں جن کے مطابق زید بن ثابت کو ابو بکر کے زمانے میں جمع قرآن پر مامور کیا گیا تھا۔

دراصل جیفری قرآن کے تنقیدی نسخے کو اس طرح مرتب کرنا چاہتا تھا کہ ایک صفحے پرکوفی خط میں متن قرآن ہو اس کے سامنے دوسرے صفحے پر تصحیح و تنقیح شدہ حفص روایت ہو اور حواشی (Footnotes) میں قرآن حکیم کی تمام معلوم مختلف قراء توں کو بیان کردیا جائے۔ جیفری اپنی اس خواہش کے مطابق مکمل قرآنی نسخہ لانے میں تو کامیاب نہ ہوسکا مگر مصحف عثمانی کے مقابلm (Rival) دیگر نسخہ جات کو ڈھونڈ نکالنے میں اس نے بڑی عرق ریزی سے کام لیا۔ اور اسلامی علوم کے ورثہ میں سے مختلف قراء توں کی بنا پر ۱۵’بنیادی‘ اور ۱۳ ’ثانوی نسخہ جات کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس نے ۱۵ ’بنیادی نسخہ جات‘ کو حضرت عبداللہ بن مسعود،  حضرت ابی بن کعب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوموسیٰ اشعری،حضرت انس بن مالک ،حضرت حفصہ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت زید بن ثابت،حضرت عبداللہ بن زبیر،حضرت عبد اللہ ابن عمر، حضرت عائشہ،حضرت سالم،حضرت اُم سلمہ، حضرت عبید بن عمیررضی اللہ عنہم کی جانب منسوب کیا ۔

آرتھر جیفری مستشرقین کے اس طبقہ ثانی سے تعلق رکھتا ہے جنہوں نے نوآبادیاتی دور کے بعد زبان و بیان کے اسرار و رموز اور لسانیاتی مباحث کو اپنا موضوع تحقیق بنایا اور انہیں اپنے پیشرو مستشرقین کی طرح افریقہ اور ایشیاء کے مسلم علاقوں میں نو آبادیاتی آقاؤں کے مشیر بننے کا موقع نہ مل سکا۔ اب ایک جست اور آگے لگاتے ہوئے دورِ جدید کے مستشرقین مثلاً برنارڈ لومیس(Bernard Lemis) اور جان ۔او۔ وال(John. O.Voll) علاقائی اور اسلامی ثقافت کے مطالعہ کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ قرآن حکیم کومطالعہ کا میدان بناتے ہوئے جیفری کو اچھی طرح معلوم تھاکہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن حکیم کاحقیقی مقام و مرتبہ کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

’’عیسائیت بائبل کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام قرآن کے بغیرقطعی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ غالباً اسلامی نظام حیات کے لیے قرآن حکیم کی اسی اہمیت نے جیفری کو اپنی زندگی اس کے مطالعہ و تحقیق میں کھپانے پر آمادہ کیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ’’قرآن نبیﷺ کی تصنیف ہے اور اس کے حرف آغاز سے حرف آخر تک قرآن پر محمدﷺ کی مہرصاف طور پر جھلکتی ہے۔‘‘ جیفری نے منتخب قرآنی سورتوں کا خود ساختہ نئی ترتیب نزولی کے مطابق ترجمہ کیا اور اس نے تقریباً چھ ہزار ایسے مقامات کی نشاندہی کی جو کہ مصحف عثمانی سے مختلف تھے۔ اس نے قراء ات کے یہ سارے اختلاف تفسیر، لغت، ادب اور قراء ت کی کتابوں میں سے جمع کئے۔ اس کام کے لیے ابن ابوداؤد کی کتاب’کتاب المصاحف‘ اس کا بنیادی ماخذ رہی۔

جیفری ایڈن برگ کے بل (Bell)اور ییل(Yale) کے ٹوری (Torry) کے آزادانہ مطالعہ و تحقیق کا بڑا مداح اور مؤید ہے اور وہ ان دونوں کے انتقاد اعلیٰ(Higher Criticism) کے اُصولوں کا قرآن پر اطلاق اور ان کے اس نتیجے پر پہنچنے پر بھی رطب اللسان ہے کہ

’’محمدﷺ تحریری مواد جمع کرتے رہے۔ اس کی چھان پھٹک کرتے رہے اور اسے ایک مرتبہ کتاب کی شکل دینے کے لیے اس پرنظرثانی کرتے رہے تاکہ وہ اسے اپنی کتاب کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں(مگر) پیغمبرﷺ اس کتاب کو مرتب اور مکمل شکل میں پیش کرنے سے قبل ہی وفات پاگئے ۔

بل اور ٹوری کی پیروی میں جیفری بزعم خود ان کے انتقاد اعلیٰ کے اُصولوں کا نصوص قرآن پر اطلاق کادعویٰ کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی نامزد کمیٹی نے سرکاری نسخہ میں قرآن کے نام سے جومواد جمع کیا وہ یقیناً محمدﷺ سے درست طور پر منسوب ہے ماسوائے چند آیات کے جن کی اسناد مشکوک ہیں۔ تاہم کمیٹی نے ایک بہت بڑا مواد جو اس وقت کے اہم علمی مراکز میں پائے جانے والے قرآنی نسخہ جات میں موجود تھا، کو نظر انداز کردیا اور ایسا بہت سارا مواد قرآن میں شامل کردیا اگر محمدﷺکو کتاب کے حتمی شکل دینے کا موقع ملتا تو وہ اس مواد کوشامل نہ کرتے۔

یہ امر دلچسپی سے سے خالی نہیں کہ جیفری مصحف عثمانی میں جس مواد کے شامل کئے یا نہ کئے جانے کا خیال بڑی معصومیت کے ساتھ پیش کرتا ہے اس کی کوئی ایک مثال بھی صحیح اسناد کے ساتھ پیش نہیں کرسکا۔ اختلاف قراء ات پرمبنی روایات کاجو ذخیرہ اس نے (Materials) میں پیش کیا ہے ان روایات کی اسناد خود جیفری کے اعتراف کے مطابق مکمل ہیں اور نہ مستندi جیفری قرآن حکیم کو نبی اکرمﷺ کا کلام ثابت کرتے ہوئے قرآن کے پیرایہ اظہار کو غیر واضح اور غیر معیاری کہتا ہے مگر اس بارے میں وہ اپنے دعویٰ کی صداقت کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا۔


جیفری نے کئی سالوں تک قرآن حکیم کی متعدد قراء توں کے بارے میں مواد اکٹھا کیا۔ پھر قرآن حکیم کا تنقیدی نسخہ تیارکرنے کے لیے ۱۹۲۶ء میں پروفیسر برجسٹراسر (Bergstrasser) جس نے میونخ میں قرآن محل(Quranic Archive) بنایاہوا تھا، کے ساتھ اشتراک کیا۔ برجسٹراسر ۱۹۳۳ء میں راہی ملک عدم ہوا تو جیفری نے قرآن محل کے نئے ڈائریکٹر اور پروفیسر برجسٹراسر کے جانشین ڈاکٹر اوٹو پریکشل(Oto Pretzl) کے ساتھ اشتراک عمل جاری رکھا ’بدقسمتی‘ سے پریکشل دوسری جنگ عظیم کے دوران سباسٹوپل(Sebastopal) کے باہر ہلاک ہوگیا۔ اور اتحادی فوجوں کی بمباری سے سارا قرآن محل جل کر خاکستر ہوگیااور عمارت بھی تباہ و برباد ہوگئی۔ اسی طرح قرآن حکیم کے تنقیدی ایڈیشن کو روبہ عمل لانے کا عظیم منصوبہ شرمندہ تکمیل نہ ہوسکا۔ اس ناکامی پر جیفری اپنی تکلیف اور ذہنی اذیت ان الفاظ میں بیان کرتاہے۔

’’اب یہ امر تقریباً ناممکن ہے کہ ہماری نسل قرآنی متن کاحقیقی تنقیدی نسخہ دیکھ سکے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(حوالہ : اِختلاف قراء ات قرآنیہ اور مستشرقین(آرتھر جیفری کا خصوصی مطالعہ) تحریر :ڈاکٹر محمد اکرم چودھری,مترجم: علی اصغر سلیمی​ )

آرتھر جیفری کی کتابیں:

1-قرآن کریم کی متنی سرگذشت (The Textual History of the Qur'an)
2-قرآن پاک کے صوفیانہ حروف (The Mystic Letters of the Koran)
3-فاتحہ کے مختلف متن (A Variant Text of the Fatiha)
4-سمرقند نسخے کا املا (The Orthography of the Samarqand Codex)
5-قرآن کریم کی متنی سرگذشت کا مواد (Materials for the History of the Text of the Qur'an)
6-قرآن کی غیر ملکی فرہنگ (The Foreign Vocabulary of the Qur'an)
7-اسلام پر ایک ریڈر (A Reader on Islam)

حوالہ جات:

کتاب المصاحف مع تحقیق ڈاکٹر محب الدین واعظ : 463،464

The Textual History of the Qur’an by Arthur Jeffery, 1946
Jeffery's



نزول قرآن سے پہلے عرب کی زبانیں


12 ویں صدی عیسوی میں اندلس میں
لکھا گیا قرآن کا ایک صفحہ 
" اسلام اور عربی زبان کا ایسا لازوال رشتہ ہے کہ وہ کسی  عہد کسی ملک  میں منقطع نہیں ہو سکتا عربی زبان میں قرآن مجید کے نزول نے اس کی ابدیت اور  جہاں گیری پر آخری مہر لگادی ہے " (سید ابوالحسن علی ندوی  ؒ )
قرآن قریش کی زبان میں نازل ہو ا  قرآن مجید میں "بلسان قومہ" اور" عربی مبین" سے  اسی طرف اشارہ ہے ۔
قریش کی زبان  کی خوبی اور فصاحت کے دو سبب ائمہ لغت نے بیان کئے ہیں ۔ پہلا سبب یہ ہے کہ نزول قرآن سے کئی صدی  پہلے تمام عرب میں قریش کا قبیلہ اس لحاظ سے ممتاز تھا کہ اس  کا گذر  تجارتی  ذرائع سے نہ صرف عرب میں بلکہ آس پاس کے ممالک میں بھی ہو تا تھا ۔ اس بناء پر  اس کی زبان میں زیادہ وسعت پیدا ہوگئی  ، بلکہ بین العرب زبان  بن گئی  اس لے  قرآن کے لے ایسی زبان صر ف قریش کی ہوسکتی تھی ۔  دوسرا سبب یہ ہے کہ  حج کے لے تمام  ملک کا سالانہ مجمع صرف مکہ ہی کی سرزمین میں ہو تا تھا عرب کے  ہر  گوشہ سے لو گ یہا ں آتے تھے، عکاظ کا میلہ عرب کے لیے نہ صرف تجارت کا مرکز تھا بلکہ علمی  اکاڈیمی بھی  تھی  جہاں عرب کے معروف شعراء اپنا کلام پیش کر تے ، اس بناء  پر شہر مکہ کی زبان ایک  مشتر ک زبان تھی جو عرب کی تمام زبانوں سے زیادہ  فصیح اور بلیغ تھی ، شعرائے عرب بھی جب لوگ  حج کے لیے سمیٹ کر ایک نقطہ پر جمع ہو جاتے تھے اپنی شاعری کے لے لئے اسی  زبان کو  اختیار کرتے تھے ،جس کوعرب کا ہر عام و خاص  سمجھ سکتا تھا یہی سبب ہے کہ شعرائے عرب کے قصائد کی زبانوں میں اختلافات کے باوجود ایک قسم کی ہم رنگی پائی جاتی ہے  تمام عرب کو مخاطب کرنے کے لئے قرآن کے لیے یہی زبان زیادہ مناسب تھی ۔ قریش کے بارے میں  یہ خیال  درست نہیں کہ وہ   دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتاتھا ۔اس کے برعکس قرآن میں یہ ذکر آتا ہے کہ ہر سال ان کا قافلۂ تجارت  موسم سرما اور گرما میں  بیرون ملک جا تاتھا  بلکہ  جو قوم  دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتی ہے وہ اپنی زبان میں وسیع خیال نازک جذبات کی تعبیر نہیں کرسکتی لیکن قریش کی زبان  لطیف و نازک جذبات او ربلند و عالی خیالات کی تعبیر سےمالا مال ہے ۔زمانہ جاہلیت کے شعراء کا کلام اس کی گواہ ہے۔

     عربی مبین سے کیا مراد ہے ؟ مبین کے معنی ظاہر کرنے والا واضح کرنے والا کھولنے والا اکثر مفسرین نے ان آیتوں میں مبین کے یہی لغوی معانی   مراد لئے ہیں لیکن سید  سلیمان ندی اور دیگر  محققین کا خیال ہے کہ اس سے مراد  وہ  لہجہ ہے جو عرب میں رائج تھا عرب میں نزول قرآن کے وقت  عربی زبان کئی بولیوں اور لہجوں میں منقسم تھی ان میں جو فصیح ترین اور شریں ترین زبان تھی اس کا نام لسان عربی مبین تھا  جیسے اردو کے بہترین اور فصیح ترین زبان کو ہم اردوئے معلی کہتے ہیں ۔ اسی طریقہ سے باوجود اختلافات کے عربی زبان میں ایک خاص مستند اور ٹکسالی زبان تھی جس میں مختلف قبائل کے شعراء اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتے اور باہم  ایک دوسرے سے  گفتگو کرتے تھے اور یہی عربی مبین تھی ۔

     محدث حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے کہ حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ لسان عربی مبین سے مراد جرہم  کی زبان ہے ۔جرہم قریش کے نانہال مورث اول کا نام ہے جس کے خاندان میں حضرت اسماعیل ؑ نے شادی کی تھی ، اگرچہ محدثین نے  اس روایت پر جرح کی ہے ۔ لیکن یہ روایت اپنے زمانہ کی  ترجمانی کررہی ہے ۔ اسی یا قوت نے معجم میں ( لفظ عرب کے  ذیل میں ) ہشام کلبی کی روایت سے لکھا ہے  چھٹی زبان جوعرب میں اللہ تعالی نے بلوائی اور جو ان  سے پہلے نہ تھی و حضرت اسماعیل کو بلوائی بنو اسماعیل لسان مبین بولے اور یہ چھٹے بزرگ ہیں جو عربی میں بولے ان کی زبان اور تحریر مبین ہے اور یہی زبان آج تمام عرب کی زبانوں پر غالب ہے۔پھر لکھتاہے المبین لمعد بن عدنان " مبین  معد بن عدنان کی زبان ہے ۔ احادیث صحیحہ میں ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے عہد میں جب قرآن کی نقلیں کرائیں تو کاتبوں کو حکم دیا کہ جس لغت کے تلفظ اور قراءت میں تمہاریے درمیان اختلاف ہو اس کو قریش کی لغت میں لکھو ۔ کہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے ۔ (تاریخ ارض القرآن، سید سلیمان ندوی ؒ  )

     مورخین کا اتفاق ہے کہ عربی  زبان سامی زبان کی ایک شاخ ہے ، ان  کے مطابق بنو سام کا اصل مسکن عرب تھا ، اس لحاظ سے قدیم سامی زبان کا اصل مرکز بھی عرب  کا  علاقہ ہے  ۔ اب جدید تحقیقات سے سامی قبائل کا سراغ عرب ، عراق  ، شام  ہر جگہ ملاہے ۔


سامی زبانوں کی جغرافی حدود
     بلاشبہ  شروع میں سام بن نوح  علیہ السلام کا خاندان اوران  کی زبان   ایک   تھی ،  بعد  میں جب یہ  سینکڑوں خاندانوں  اور  قبائل  میں   تبدیل ہوا ،  تو  ان کی زبان بھی   مختلف ہوگئی  ۔ ان میں  سب سے ممتاز  قبیلہ بنوارم  کا  تھا ۔ ان کی حکومت تمام عرب ، عراق ، شام اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی ۔ اس لحاظ سے ان ممالک کی قدیم زبان بھی   آرامی  تھی  ۔ السنہ سامیہ کے  محقق تھیوڈ نولڈیکی نے لکھا " یہ زبان (آرامی )عراق اور شام ،عراق اور عر ب میں بولی جاتی تھی بلکہ مصر اور ایران کی زبانوں میں بھی اس کے آثار ملتے  ہیں "( انسائیکلو پیڈ یا بر ٹانیکا  جلد 24 ص 623)

     تورات سے  بھی ثابت ہے کہ بابل (عراق) اور شام دونوں ملک میں قدیم زمانے میں بنو  ارم آباد تھے۔قرآن مجید اور عرب کے اشعار بھی اس کی تصدیق کر تے ہیں ۔  عاد اور ثمود کو و  ہ ارم کہتےتھے ، اس لحاظ سے ان ممالک کی قدیم زبان  آرامی عربی تھی ۔ واضح رہے کہ قدیم عربی زبان سے وہ بعینہ زبان  مراد نہیں جو  نزول قرآن کے وقت عرب میں بولی جاتی تھی اور جو اب تک محفوظ ہے اور نہ ہی آرامی سے وہ آرامی مراد ہے جس میں یہودیوں کی تالمود لکھی گئی ۔ اس  لے عربی زبان کی  ابتدائی  شاخ آرامی  تھی اور قدیم عربی کو   آرامی کہنا چاہیے ۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد ،  اسحاق اور اسماعیل کی زبان بھی آرامی تھی ۔ قبیلہ جرہم جن میں حضرت اسماعیل ؑآبسے تھے ان کی زبان بھی وہ عربی نہ تھی جو نزول قرآن  کے وقت قریش بولتے تھے ۔ اس لے  نسل اسماعیل کے بارے میں  یہ خیال کہ عربی ان کی اصلی زبان نہ تھی بلکہ جرہم کے ساتھ رہ کر انہوں نے سیکھی تھی درست نہیں ۔ قدیم ترین کتبات جن کی زبان آرامی عربی  ہے ان مقامات میں پائے گئے جن میں ثمود  آباد تھا ۔  محققین نے  ان کو " پروٹو عربک " ابتدائی عربی کا  نام دیا ۔ (انسائیکلو پیڈ یا بر ٹانیکا  جلد 24 ص 624)  اس لحاظ سے عاد اور ثمود  امم بائدہ کی زبان   آرامی عربی  تھی ۔

     محققین نے سامی زبان کو متعدد شاخوں میں تقسیم کیا ہے۔
عرب  علاقوں کی   زبانیں  : آرامی ، ثمودی ، مدیانی ، نبطی ، عدنانی ، سبائی ، حمیری ، حبشی ۔
 قدیم عراق بابل کی زبانیں   : آرامی ، کلدانی ، سریانی ۔
شام کے علاقوں کی  زبانیں  : آرامی ، فینقی ، عبرانی ، تدمری ۔
اسی طرح  انہوں نے  عرب کی تمام قوموں کو  تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے :عرب بائدہ  ، عرب عرباء یعنی بنو قحطان اور عرب مستعربہ یعنی بنو اسماعیل یہ تینوں طبقے تین مختلف زبانیں  بولتے تھے ، یہ تینوں زبانیں اپنی اصلیت کے روسے عربی ہی   تھی ۔
اس کے ساتھ  انہوں نے عرب کو جغرافیائی لحاظ سے  دو حصوں میں  تقیسم کیا ہے ، جنوبی قبائل اور شمالی قبائل،   بنو قحطان جنوبی عرب کے باشندے تھے جبکہ بنو اسماعیل شمالی عرب کے  رہنے والے تھے ۔

  اس لحاظ سے  ان کی زبان بھی دو شاخوں میں تقسیم ہے ۔ جنوبی عربی او ر شمالی عربی،  ان دونوں میں کئی لحاظ سے  اختلاف ہے ۔  علماء  لسانیات نے ان تمام اختلافات کو مختلف قبائل کی بولیوں  کی طرف منسوب کیا  جیسے جنوبی بولیا یہ تھیں : سبائی،  حمیر ی ، حضرموتی ، مہری ، حبشی ، وغیرہ ،  ان میں سے اکثر بولیاں   نزول قرآن تک بو لی جاتی تھیں ۔ گو بعد کو  حبشی تغیر  کے بعد ایک مستقل زبان بن گئی ۔ شمالی زبانوں کی حدود تدمر ( شام کے قریب ) اور حیرہ (عراق کے قریب ) سے شروع ہوتے ہیں ان کی حسب ذیل شاخیں ہیں  تدمری ، نبطی ، حجازی ، ان میں بھی  الفاظ حروف معانی اور قواعد کا باہم فرق ہے ، دو پہلی زبانوں میں آرامی کا اثر زیادہ نمایا ں ہے تدمری قرآن کی عربی سے الفاظ میں بہت  مختلف  ہے ۔  بلکہ عبرانی کےقریب قریب ہے ۔ نبطی جو اصحاب الحجر کی زبان تھی وہ قرآن کی عربی سے بہت قریب ہے ، نبطی خط بھی قدیم عربی خط  سے مشابہ ہے ۔
 جنوبی اور شمالی زبانوں کے چند اہم  اختلافات حسب ذیل ہیں ۔
1۔ الفاظ کا فرق ، بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو جنوبی زبانوں میں مستعمل ہیں وہ شمالی میں نہیں مثلا : المقہ : چاند  ، عرم : بند ، مزندن : لوح ۔
2۔ معانی میں فرق : لفظ ایک ہے لیکن معنی میں تخصیص ، تعمیم یا کسی اور قسم کا فرق ہے مثلا  ذو : جنوبی میں بادشاہ اور شمالی میں اس کے معنی ہیں والا ۔ بیت  قلعہ جبکہ شمالی میں  گھر کے لے  بولا جاتا ہے حضر : شہر اور شمالی میں  مستقل آبادی کو کہتے ہیں ۔
3۔ قواعد کا فرق : مثلا شمالی عرب میں علامت جمع " ن " ہے جنوبی میں " م "  شمالی عربی میں  حرف تعریف" الف" ہے جنوبی میں " میم " ۔

ان زبانوں میں ہر ایک کے قواعد صرف اور نحو و لغت پر ماہرین نے  متعدد کتابیں لکھی ہیں ، چند مشہور  اختلافات  مثلا  یہ کہ شمالی عرب  کے "س" کو جنوبی عرب میں " ت  "او ر" کا ف "کر دیتے تھے جیسے "ناس "کو" نات" اور" علیک "کو "علیش" الف لام تعریف کی جگہ الف میم ، طاب الھوا کی جگہ وہ طاب المھوا اسی طرح  حرف کو کم کردینا،  ماشاء اللہ کو  مشاء اللہ  کہنا ۔
قرآن مجید میں سبائی  حمیر ی زبان  کا ایک لفظ" عرم " سبا کے قصہ میں آیا ہے  حبشی کے کئی لفظ جو  عرب کے عیسائیوں میں اس سبب سے مستعمل تھے کہ جنوبی عرب میں عیسائیت وہیں سے  آئی تھی اس لے  قرآن مجید کی مذہبی زبان میں بھی وہی الفاظ چلے آئے ۔ مثلا : نفاق ، صحف ، برھان ، جیت ، مرج ، مائدہ ، مشکوۃ ، سورۃ ، حواری ، تبع ، استبرق ، ورق  وغیر ہ ۔


نزول قرآن کے وقت عربی زبان اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی لیکن اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ اس کی ابتدا کس طرح ہوئی  اور کن کن مرحلوں سے گذر کر موجودہ حالت تک پہنچی؟ کیسے پہنچی؟ ان تمام حالات اور عوامل کا جائزہ لینا  مشکل ہے البتہ بعض مستشرقین اور ماہرین  آثار قدیمہ نے یمن شام اور شمالی حجاز  کے  دریافت شدہ  کتبوں سے قدیم عربی زبان سے متعلق بہت سی باتیں معلوم کرلی ہیں ان کتبوں اور نقوش کو قبائل کے  لہجوں کے اختلاف سے  تین گروہوں میں تقسیم کیا  گیا :

1۔ جنوبی عربی لہجہ : اس کے کتبے یمن کے علاقہ قتبان ، معین ، اور سبا  میں ملے ہیں ۔
2۔ شمالی عربی لہجہ : اس کے کتبے حجاز کے شمال میں ثمود کے رہنے کی جگہوں میں ملے ہیں ۔
3۔ آرامی نبطی لہجہ : یہ لہجے مذکورہ بالا لہجوں کے مقابلہ میں نئے ہیں ان لہجوں کے  رسم الخط میں بڑا اختلاف ہے جس سے انداز ہو تا ہے کہ ان سب زبانوں کے   رسم الخط  اور بولیوں میں  اختلاف ہے لیکن بعد  میں یہ اختلاف ختم ہوکر  ایک صاف ستھرا  شیریں لہجہ وجود میں آیا یقنیا  قرآن اسی لہجہ کی طرف عربی مبین  یا بلساقومہ سے اشارہ کر تا ہے ۔ جیسے ابھی ذکر ہوا ہے ۔
عرب قبائل  کے چند مشہور  لہجوں کی  مثالیں یہ ہیں :

1۔ جیسے قبیلہ مازن" ک" کو بدل "ب "کر دیتے تھے اور" ب "کو بدل کر" م "کردیتے تھے " مااسمک" کی جگہ  "باسمک"  اور" بکر " کی جگہ" مکر "بولتے تھےقبیلہ خشعم اورزبید "من"  حرف جار کے" نون "کو حذف کردیتے اور" خرجت من البیت" کی جگہ" خرجت ملبیت" کہتے تھے ۔ آج بھی مصر اور لبنان میں یہ لہجہ معروف ہے ۔
3۔ قبیلہ قضاعہ  عین کے بعدی  ہو تو اس کو ج سے بدل دیتے جیسے  راعی کی جگہ راعج ، قضاعہ والے الراعی خرج معی کو الراعج خرج معج کہتے تھے ، حمیر والے ال کی جگہ ام بولتے تھے جیسے البر کو امبر الصیام کو امصیام یا طاب الھوا کو طاب امھوا کہتے ۔
4۔ قبیلہ ہذیل ح کو ع سے بدل  دیتے  جیسے احل اللہ الحلال  کو اعل اللہ العلال کہتے اسی طرح الحسن کو العسن  کہتے قبیلہ تمیم لفظ کے ابتدائی ہمزہ کو عین سے بدل دیتے جیسے امان کو عمال ان کو عن کہتے تھے ۔
5۔ قبیلہ ربیعہ اور اسد مونث حاضر کے "ک "کو" ش" سے بدل دیتے تھے "علیک "کی جگہ "علیش" کہتے تھے یا عام " ک" کو " ش  "پڑھتے علیک کی جگہ علیش،  قبیلہ طئے آخری حرف کو حذف کردیتے جیسےیا  ابا الحسن کی جگہ یا ابا الحسا کہتے    ۔
6۔ بنو تمیم ہمزہ ابتداء کو عین کر دیتے تھے ، جیسے" اسلم "کو "عسلم "
7۔ بنو ہذیل ج کو عین کردیتے تھے جیسے" جرب"  کو "عرب  "
8۔ بنو قضاعہ ی کو جیم کردیتے تھے جیسے " تمیمی "  تمیمج "
9۔ بنو سعد ع کو ن کہتے تھے جیسے"  اعطی" کو" انطی "
10۔ قریش اور اسد کی زبان میں ہائے مضارع کو فتحہ  یا ضمہ ہو تا ہے  ان کے علاوہ دیگر قبائل کسرہ دیتے تھے ،  یَفعل کو   یِفعل  کہتےتھے ۔
11۔ ربیعہ اور مضر مونث میں کاف خطاب کے بعد ش بڑھا دیتے تھے جیسے " علیک " کی جگہ " علیش "
12۔ ج کو " گ " بولتے تھے یسے جبعہ کو گبعہ ۔
ان اختلافات کے علاوہ شاذ منفرد لغات جو عربی فلسفۂ لغت کی کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ بھی ان ہی زبانوں  کے بقایا ہیں ان ہی وجوہ سے لغویین عرب کا قول ہے ؛ ان  لغۃ العرب  لم تنتہ الینا بکلیتھا و ان الذی جاءنا عن العرب قلیل عن کثیر وان کثیر ا من الکلام  ذھب بذھاب اھلہ ( مزھر سیوطی : ص 43 مصر )
"عرب کی زبان ہم تک مکمل صورت میں نہیں پہنچی جو عربی کے الفاظ ہمارے پاس محفوظ ہیں وہ غیر محفوظ کے مقابلہ میں کم ہیں بہت سے الفاظ ان کے بولنے والوں کےساتھ مرجا نے سے  مٹ چکے ہیں ۔ " 
     اسی طرح شمالی عرب کے مختلف قبائل میں لہجہ تلفظ  اور الفاظ کی حرکات میں اختلاف تھا ، چنانچہ اوائل نزول قرآن تک یہ اختلاف موجود تھے  اس لیے  شعراء عرب کے وہ قصائد اور اشعار جو نزول قرآن سے پہلے سو دوسو  برس کے اندر لکھے گئے ۔ قرآن کی زبان اور جو  اس عہد کے  شعراء کے کلام کی زبان  میں زمین آسمان کا فرق ہے ہم قرآن  کے ایک ایک لفظ کا ترجمہ آسانی سے  کر سکتے ہیں ۔ شعرائے جاہلیت کے  کلام کے حل کرنے کے لئے قدم قدم پر لغت کی ضرورت پیش آتی ہے ۔
شمالی لہجہ جنوبی لہجہ کے مقابلے میں قدرے نیا  تھا ہمارے پا س قدیم جاہلی شعراء  کا کلام اسی عدنانی لہجہ میں ہے جیسے الاعشی اور طرفہ بن العبید قبیلہ تغلب سے تھے النابغہ الذبیانی اور عنترہ بن شداد العبسی قبیلہ مضر سے تھے یہ دونوں قبیلے عدنانی تھے بعض محققین کا یہ استدلال معقول لگتا ہے کہ عدنانی زبان اپنی اصل سامی کے زیادہ قریب ہے اس کی  دلیل محققین کے خیال میں  یہ ہے کہ یہ قبائل دیگر اہل زبان جیسے عبرانی بابلی اور اشوری کی طرح کبھی کسی کے غلام نہیں  بنے، صحراء نشین ہونے کی وجہ سے حملہ آوروں کی دست درازی سے بچے رہے ۔
عربی زبان میں لاکھوں الفاظ ہیں   آج تک کبھی استعمال میں نہیں آئے اور نہ قرآن  و حدیث میں مستعمل ہوئے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ مختلف قبائل کی زبانوں کے الفاظ کا ایک مخلوط مجموعہ ہے جو قرآن کی عربی کے ماورا ہے ۔ اہل لغت اور مصنفین صرف و نحو نے  ان اختلافات کو بہت کم محفو ظ رکھا ، کتاب سیبویہ ، خصائص ابن جنی ، اوضح المسالک ، مزہر سیوطی میں    شاذ اور خلاف قواعد یا قیاس کے نام  سے ان  شواہد کا تذکرہ ملتاہے   وہ درحقیقت قرآن کی عربی کے قواعد کے خلاف ہوں تو ہوں لیکن اصل عربی زبان  کے وہ خلاف نہ ہوں گے ۔  عام نحو کی کتابوں میں صرف ذو کے متعلق یہ بیان باقی رہ گیا ہے کہ وہ لغت طی میں الذی کے معنی میں ہے ۔
یہ زبان تمام شمالی عرب میں  یمن سے لے کر شام و عراق تک بولی جاتی تھی لیکن حجاز اور نجد کی زبان سب سے بہتر تھی او ر ان میں بھی قبیلہ بنی سعد اور قریش کی زبان اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ان دوقبیلوں کے انتساب پر فخر کیا ہے ۔ آپ ﷺ قریش میں پیدا ہوئے تھے اور بنو سعد میں پرورش پائی تھی ۔
قرآن کریم سے جو باتیں عربی زبان نزول قرآن  کے بارے میں  معلوم ہوتی ہیں  یہ ہیں :
1۔ تمام رسولوں کو رسالت کا پیغام اپنی ا پنی کی قومی زبان میں عطا کیا گیا ۔  اسی طرح  محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی ، ان کی اپنی قومی زبان عربی میں رسالت کا پیغام دیا گیا ۔ ( إبراهيم: ٤)
2۔ قرآن کی زبان عربی مبین ہے ۔  (النحل: ١٠٣)
3۔ قرآن کو آپ ﷺ کی زبان پر یا آپ ﷺ کی زبان کے ذریعے آسان بنادیا گیا ۔ (مريم: ٩٧)
4۔ قرآن رب العالمین کا اتاراہوا ہے ، اس کو عربی زبان میں  لیکر روح امین(جبریل ؑ)  نازل ہوئے۔ ( الشعراء: ١٩٢ – ٢٠٠)
5۔  قرآن نبی پاک کے قلب اطہر پر اتارا گیا  ۔( الشعراء: ١٩٢ – ٢٠٠)
6۔  قرآن کو عجمی زبان میں نہیں اتارا گیا ۔(النحل: ١٠٣، الشعراء: ١٩٢ – ٢٠٠)
7۔ قرآن عربی لسان میں ہے ۔  (الأحقاف: ١٢)
8۔ نبی ﷺ کو قرآن  سن کر یاد کرنے کا حکم دیا گیا   اور زبان کو حرکت دینے سے منع کیا  گیا ہے۔ ( القيامة: ١٦ – ١٩)

9۔ قرآن کو جمع  اور بیان کرنے کی ذمہ  داری خود اللہ تعالی نے لی ہے ۔ ( القيامة: ١٦ – ١٩)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت ابراھیم ؑ کے ابتدائی مذہبی تفکرات

سید ابوالاعلی مودودیؒ 

” قوم ابراہیم (علیہ السلام) کے جو حالات(قرآن میں ) بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف چاند، سورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔ اس لیے قدرتی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حقیقت کا آغاز اسی سوال سے ہونا چاہیے تھا کہ کیا فی الواقع ان میں سے کوئی رب ہوسکتا ہے؟ اسی مرکزی سوال پر انھوں نے غور و فکر کیا اور آخر کار اپنی قوم کے سارے خداؤں کو ایک اٹل قانون کے تحت غلاموں کی طرح گردش کرتے دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ جن جن کے رب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان میں سے کسی کے اندر بھی ربُوبیّت کا شائبہ تک نہیں ہے، رب صرف وہی ایک ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور بندگی پر مجبور کیا ہے۔


اس قصہ کے الفاظ سے عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر چاند دیکھا اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر سورج دیکھا اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو یہ کہا، اس پر ایک عام ناظر کے ذہن میں فوراً یہ سوال کھٹکتا ہے کہ کیا بچپن سے آنکھ کھولتے ہی روزانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رات طاری نہ ہوتی رہی تھی اور کیا وہ ہر روز چاند، تاروں اور سورج کو طلوع و غروب ہوتے نہ دیکھتے تھے؟ ظاہر ہے کہ یہ غور و فکر تو انہوں نے سن رشد کو پہنچنے کے بعد ہی کیا ہوگا۔ پھر یہ قصہ اس طرح کیوں بیان کیا گیا ہے کہ جب رات ہوئی تو یہ دیکھا اور دن نکلا تو یہ دیکھا ؟ گویا اس خاص واقعہ سے پہلے انہیں یہ چیزیں دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا، حالانکہ ایسا ہونا صریحاً مستبعد ہے۔ یہ شبہ بعض لوگوں کے لیے اس قدر ناقابل حل بن گیا کہ اسے دفع کرنے کی کوئی صورت انہیں اس کے سوا نظر نہ آئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش کے متعلق ایک غیر معمولی قصہ تصنیف کریں۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش ایک غار میں ہوئی تھی جہاں سن رشد کو پہنچنے تک وہ چاند، تاروں اور سورج کے مشاہدے سے محروم رکھے گئے تھے۔ 


حالانکہ بات بالکل صاف ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی کسی داستان کی ضرورت نہیں ہے۔ نیوٹن کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا اور اس سے اس کا ذہن اچانک اس سوال کی طرف متوجہ ہوگیا کہ اشیاء آخر زمین پر ہی کیوں گرا کرتی ہیں، یہاں تک غور کرتے کرتے وہ قانون جذب و کشش کے استنباط تک پہنچ گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے نیوٹن نے کبھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہیں دیکھی تھی؟ ظاہر ہے کہ ضرور دیکھی ہوگی اور بارہا دیکھی ہوگی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اسی خاص تاریخ کو سیب گرنے کے مشاہدے سے نیوٹن کے ذہن میں وہ حرکت پیدا ہوئی جو اس سے پہلے روز مرہ کے ایسے سینکڑوں مشاہدات سے نہ ہوئی تھی؟ اس کا جواب اگر کچھ ہوسکتا ہے تو یہی کہ غور وفکر کرنے والا ذہن ہمیشہ ایک طرح کے مشاہدات سے ایک ہی طرح متأثر نہیں ہوا کرتا۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، مگر ایک وقت اسی چیز کو دیکھ کر یکایک ذہن میں ایک کھٹک پیدا ہوجاتی ہے جس سے فکر کی قوتیں ایک خاص مضمون کی طرف کام کرنے لگتی ہیں۔ یا پہلے سے کسی سوال کی تحقیق میں ذہن الجھ رہا ہوتا ہے اور یکایک روز مرہ ہی کی مشاہدات میں سے کسی ایک چیز پر نظر پڑتے ہی گتھی کا وہ سرا ہاتھ لگ جاتا ہے جس سے ساری الجھنیں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بھی پیش آیا۔ راتیں روز آتی تھیں اور گزر جاتی تھیں۔ سورج اور چاند اور تارے سب ہی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور ابھرتے رہتے تھے۔ لیکن وہ ایک خاص دن تھا جب ایک تارے کے مشاہدے نے ان کے ذہن کو اس راہ پر ڈال دیا جس سے بالآخر وہ توحید الٰہ کی مرکزی حقیقت تک پہنچ کر رہے۔ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذہن پہلے سے اس سوال پر غور کر رہا ہو کہ جن عقائد پر ساری قوم کا نظام زندگی چل رہا ہے ان میں کس حد تک صداقت ہے، اور پھر ایک تارا یکایک سامنے آکر کشود کار کے لیے کلید بن گیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تارے کے مشاہدے ہی سے ذہنی حرکت کی ابتدا ہوئی ہو۔ 


اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب حضرت ابراہیم ہی نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے، اور جب چاند اور سورج کو دیکھ کر انہیں اپنا رب کہا، تو کیا اس وقت عارضی طور پر ہی سہی، وہ شرک میں مبتلا نہ ہوگئے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالب حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور و فکر کے لیے ٹھیرتا ہے، اصل اعتبار ان منزلوں کا نہیں ہوتا بلکہ اصل اعتبار اس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کر رہا ہے اور اس آخری مقام کا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتا ہے۔ بیچ کی منزلیں ہر جویائے حق کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان پر ٹھیرنا بسلسلہ طلب و جستجو ہوتا ہے نہ کہ بصورت فیصلہ۔ اصلاً ٹھیراؤ سوالی و استفہامی ہوا کرتا ہے نہ کہ حکمی۔ طالب جب ان میں سے کسی منزل پر رک کر کہتا ہے کہ ” ایسا ہے“ تو دراصل یہ اس کی آخری رائے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ”ایسا ہے“؟ اور تحقیق سے اس کا جواب نفی میں پاکر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھیرتا رہا وہاں وہ عارضی طور پر کفر یا شرک میں مبتلا رہا۔"


( تفہیم القرآن سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :53 جلد اول ص 556-557)


یہ بھی پڑھیں !

آغاز وحی کا قصہ


محدثین نے آغاز وحی کا قصہ اپنی اپنی سندوں کے ساتھ امام زہری سے، اور انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر سے اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے۔ 


"وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی ابتدا سچے (اور بعض روایات میں ہے اچھے) خوابوں کی شکل میں ہوئی۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر آپ تنہائی پسند ہوگئے اور کئی کئی شب و روز غار حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہ (رض) نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زہری نے تعبُّد سے کی ہے۔ یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے، کیونکہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایا گیا تھا) آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ (رض) کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپ کے لیے مہیا کر دیتی تھیں۔ 

غار حرا

ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپ سے کہا "پڑھو" اس کے بعد حضرت عائشہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا "میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں"۔ اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے گی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے کہا "میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں"۔ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوت برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے پھر کہا "میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں"۔ اس نے تیسری مرتبہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اقرا باسم ربک الذی خلق (پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) یہاں تک کہ مالم یعلم (جسے وہ نہ جانتا تھا) تک پہنچ گیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کانپتے لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خدیجہ کے پاس پہنچ کر کہا "مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ" چنانچہ آپ کو اڑھا دیا گیا۔ جب آپ پر سے خوف زدگی کی کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے فرمایا "اے خدیجہ، یہ مجھے کیا ہوگیا ہے"۔ پھر سارا قصہ آپ نے ان کو سنایا اور کہا "مجھے اپنی جان کا ڈر ہے" انہوں نے کہا "ہر گز نہیں، آپ خوش ہوجائیے۔ خدا کی قسم، آپ کو خدا کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ امانتیں ادا کرتے ہیں)، بےسہارا لوگوں کا بار برداشت کرتے ہیں، نادار لوگوں کو کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں" 

ورقہ بن نوفل کی کی شہادت

پھر وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو ان کے چچا زاد بھائی تھے، زمانۂ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے، عربی اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھے، بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا بھائی جان، ذرا اپنے بھتیجے کا قصہ سنیے۔ ورقہ نے حضور سے کہا بھتیجے تم کو کیا نظر آیا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ ورقہ نے کہا "یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ ہے) جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا تھا۔ کاش میں آپ کے زمانۂ نبوت میں قوی جوان ہوتا۔ کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا "کیا لوگ مجھے نکال دیں گے؟" ورقہ نے کہا "ہاں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے آپ کا وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی پرزور مدد کروں گا" مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا۔

نزول وحی سے پہلے آپﷺ کو رسالت کا علم نہ تھا 

 یہ قصہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ اس چیز کا طالب یا متوقع ہونا تو درکنار، آپ کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ آپ کے ساتھ پیش آئے گا۔ وحی کا نزول اور فرشتے کا اس طرح سامنے آنا آپ کے لیے اچانک ایک حادثہ تھا جس کا تاثر آپ کے اوپر وہی ہوا جو ایک بےخبر انسان پر اتنے بڑے ایک حادثہ کے پیش آنے سے فطری طور پر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تو مکہ کے لوگوں نے آپ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے، مگر ان میں کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ 

نبوت سے پہلے آپ کی زندگی 


اس قصے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ نبوت سے پہلے آپ کی زندگی کیسی پاکیزہ تھی اور آپ کا کردار کتنا بلند تھا۔ حضرت خدیجہ (رض) کوئی کم سن خاتون نہ تھیں بلکہ اس واقعہ کے وقت ان کی عمر 55 سال تھی اور پندرہ سال سے وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریک زندگی تھیں۔ بیوی سے شوہر کی کوئی کمزوری چھپی نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے اس طویل ازدواجی زندگی میں آپ کو اتنا عالی مرتبہ انسان پایا تھا کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو غار حراء میں پیش آنے والا واقعہ سنایا تو بلا تامل انہوں نے یہ تسلیم کرلیا کہ فی الواقع اللہ کا فرشتہ ہی آپ کے پاس وحی لے کر آیا ہے۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل بھی مکہ کے ایک بوڑھے باشندے تھے، بچپن سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی دیکھتے چلے آ رہے تھے۔ اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر تو وہ آپ کے حالات سے اور بھی زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔ انہوں نے بھی جب یہ واقعہ سنا تو اسے کوئی وسوسہ نہیں سمجھا بلکہ سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک بھی آپ اتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابل تعجب امر نہ تھا۔ 

(بحوالہ  تفہیم القرآن :تفسیر سورہ العلق )