‏عجائب قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏عجائب قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قصۂ یوسفؑ: حق و باطل کی کشمکش اور قمیص کی گواہی

داستانِ یوسفؑ انسانی تاریخ کا وہ انوکھا باب ہے جہاں ایک لباس محض تن ڈھانپنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان حدِ فاصل بن کر ابھرا ہے۔ اس قصے میں 'قمیص' کا کردار ایک ایسے خاموش تفتیش کار کا ہے جو ہر موڑ پر حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اس سفر کا آغاز تب ہوتا ہے جب حسد کی آگ میں جلے بھائیوں نے معصوم یوسفؑ کو کنویں میں پھینکا اور ان کی قمیص پر ایک جانور کا جھوٹا خون مل کر اپنے والد حضرت یعقوبؑ کے سامنے پیش کر دیا۔ قرآنِ کریم اس منظر کو یوں بیان کرتا ہے: "وَجَآءُو عَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ" (اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے—سورہ یوسف: 18)۔ بھائیوں کا خیال تھا کہ خون آلود لباس ان کے من گھڑت قصے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دے گا، مگر حضرت یعقوبؑ نے جب دیکھا کہ قمیص تو خون سے بھری ہے مگر کہیں سے پھٹی ہوئی نہیں، تو ان کی فراست پکار اٹھیں کہ بھیڑیا کتنا سمجھدار تھا جس نے یوسف کو کھایا مگر قمیص سلامت رہنے دی۔ یوں قمیص کا سلامت ہونا بھائیوں کے پہلے بڑے جھوٹ کا سب سے بڑا مادی ثبوت بن گیا۔

وقت بدلا اور تقدیر یوسفؑ کو مصر کے شاہی محل میں لے آئی، جہاں آزمائش کا ایک نیا اور کٹھن مرحلہ درپیش تھا۔ جب عزیزِ مصر کی اہلیہ نے اپنی خواہشِ نفس کی تکمیل نہ ہونے پر حضرت یوسفؑ پر الزام لگایا، تو ایک بار پھر قمیص ہی حق و باطل کے فیصلے کے لیے میزان بن گئی۔ قرآن کہتا ہے: "وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ" (اور دونوں دروازے کی طرف لپکے اور عورت نے یوسف کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی—سورہ یوسف: 25)۔ اس موقع پر پیش کی گئی منطق آج کی جدید 'فرانزک تفتیش' کی روح معلوم ہوتی ہے۔ اس دور کے ایک دانشمند نے مشاہدہ کیا کہ: "اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ" (اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ہے، اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا ہے—سورہ یوسف: 26-27)۔ جب تفتیش ہوئی تو قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ملی، جس نے شاہی دربار میں یوسفؑ کی پاکدامنی پر لگی تہمت کو ہمیشہ کے لیے دھو ڈالا۔

جہنم کے کنارے کھڑا ہوا دوست۔۔۔۔۔۔۔

آپ کبھی قرآن کھول کر دیکھیں… یہ محض احکامات کی کتاب نہیں، یہ ایک زندہ اسکرین ہے۔ آپ پڑھتے ہیں اور منظر چلنے لگتا ہے۔ آوازیں سنائی دیتی ہیں، کردار سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور انسان محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ کسی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک حقیقی دنیا میں داخل ہو گیا ہے۔ سورۃ الصافات کی آیات 51 - 61 میں ایک ایسا ہی منظر ہے— ایسا منظر جسے پڑھ کر آدمی لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
جنت کا ایک رہائشی اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے اچانک کسی پرانی یاد میں گم ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
"میرا ایک دوست تھا… جو مجھے کہا کرتا تھا: کیا واقعی تم یقین کرتے ہو؟ کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے؟"
یہ آواز کتنی مانوس ہے! آج ہمارے اردگرد بھی بے شمار لوگ اسی لہجے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ آخرت کا ذکر سن کر ہنستے ہیں، ایمان کو پرانی کہانیوں کا حصہ سمجھتے ہیں، اور مرنے کے بعد کی زندگی کو خیالِ خام قرار دیتے ہیں۔
پھر جنتی ایک حیران کر دینے والی بات کرتا ہے:
"کیا تم جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟"
اور جب وہ جھانکتا ہے تو دیکھتا ہے کہ دنیا میں اسے ایمان سے روکنے والا وہی دوست آج جہنم کے عین درمیان کھڑا تڑپ رہا ہے۔
یہ کیسا لمحہ ہوگا؟
جسم تو جنت میں ہے مگر آنکھ جہنم کا وہ منظر دیکھ رہی ہے جس کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔
جنتی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے:

احسن القصص

سورہ یوسف کا نام قرآن میں احسن القصص (سب سےبہترین قصہ ) آیا ہے اس سورہ کے نزول کے بارے میں روایت ہے کہ یہودیوں کے اشارے پر کفار مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلّم کا امتحان لینے کے لیے، آپ کے سامنے  یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اس سوال کےجواب میں اللہ تعالی نے سورہ یوسف نازل فرمایا ۔

اس سورہ کو احسن القصص اس لحاظ سے کہاگیا کہ انسانی زندگی کے تمام بنیادی کردارں کو اس سورت میں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے ، اس قصہ میں زندگی کے ان تمام مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسان اور انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی بپچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر ، غرضکہ تمام وہ امور جو دین ، اخلاق اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں بڑی عمدگی اور تسلسل کے ساتھ ایک ہی سورت میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ قصہ کا آغازیوسف ؑ کے ایک خواب کے ذکر سے ہوتا ہے پھر اختتام بھی اسی خواب کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ گویا پورا قصہ حضرت یوسف ؑ کے خواب کی عملی تعبیر پر مشتمل ہے ۔ 

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ابراہیم ؑ کی نسل بنی اسحاق ؑ، جس کی اہم شاخ بنی یعقوب ( اسرائیل) ہے،اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پید اکیں ۔ انہیں سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ۔ ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاءاور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ بنی یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے اس سلسلہ نبوت کا سب سے پہلے نبی حضرت یوسف ؑ ہیں ۔ 

بائیبل کے مطابق یعقوب ؑ کی چار بیویاں تھیں ،جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے ۔ ان چارمیں سے ایک سے یوسف ؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین پیدا ہوئے ۔ علمائے بائیبل کی تحقیق کے مطابق یوسف ؑ کی پیدائش تقریبا 1906 قبل مسیح میں ہوئی ۔ یوسف ؑ جب سترہ سال کے تھے۔ تو ان کے بھائیوں نے ان سے حسد کرتے ہوئے ان کو کنویں میں بھینکا ، ایک قافلے نے ان کو کنویں سے نکال کر مصر لے جاکر عزیز مصر کو فروخت کردیا ۔ 

مصر پر اس زمانہ میں عربی النسل قوم کے پندرھویں خاندان کی حکومت تھی ۔ جو چرواہے بادشاہوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ لوگ ابراہیم ؑ کے زمانہ سے سلطنت مصر پر قابض تھے ۔ علماء بائیبل کے مطابق یوسف ؑ کے ہم عصر فرمانروا کا نام اپوفیس ( Apophis) تھا ۔ 

أَإِلٰهٌ مَعَ اللهِ ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے! (!IS THERE ANY GOD BESIDE ALLAH)

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدابھی ہے ؟ 


قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ ﴿اِن سے پُوچھو﴾ اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ 

اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ 

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟  ﴿اِن کاموں میں شریک﴾ ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ہے؟ 


 بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾   ﴿نہیں﴾، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔



 اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ 



اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں ﴿پہاڑوں کی﴾ میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں(میٹھا اور کھارا) کے درمیان پردے حائل کر دیے؟



ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟   کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے؟



بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾   نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔


اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ 

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور ﴿کون ہے جو﴾ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿یہ کام کرنے والا﴾ ہے؟

قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾  تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ 


 اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟

 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ﴿یہ کام کرتا﴾ ہے؟

تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾  بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟  اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ 

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟

قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾  کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔

 قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾ 

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا ۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾


بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 

----------------------------------------------------------------------
(سورۃ النمل: رکوع ۵، آیات 59-66)   ترجمہ: سید ابوالاعلی مودودی ؒ

وعدۂ الست یا عہد فطرت کیا ہے ؟

ارشاد باری تعالی ہے : 

 وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ  ۭ قَالُوْا بَلٰي  شَهِدْنَا ، اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ،  اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ، وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ  

ترجمہ:  "  اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمارا رب نہیں ہوں؟"  انہوں نے کہا  "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں " ۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ  ہم اس بات سے بےخبر تھے یا یہ نہ کہنے لگو کہ " شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا" ۔  دیکھو، اس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں ۔ اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں ۔ 

(سورۃ الاعراف : 133 تا 134)

--------------------------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں : 
اوپر کا سلسلہ بیان اس بات پر ختم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بندگی و اطاعت کا عہد لیا تھا۔ اب عام انسانوں کی طرف خطاب کر کے انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے، درحقیقت تم سب اپنے خالق کے ساتھ ایک میثاق میں بندھے ہوئے ہو اور تمہیں ایک روز جواب دہی کرنی ہے کہ تم نے اس میثاق کی کہاں تک پابندی کی ۔

جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ تخلیق آدم کے موقع پر پیش آیا تھا۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرح پوری نسل آدم کو بھی، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت اُبَیّ بن کعب نے غالباً نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفادہ کر کے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس مضمون کی بہترین شرح ہے۔ وہ فرماتے ہیں :۔

اصحاب اعراف کون لوگ ہوں گے ؟

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُمْ يَطْمَعُوْنَ (سورۃ الاعراف  46؀۔ )

ترجمہ :" اور ان کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت کو پکار کر کہٰں گے کہ آپ پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو، وہ اس میں ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن متوقع ہوں گے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجاب سے مراد جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار ہے : وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّاۢ بِسِيْمٰىهُمْ، حجاب مراد جیسا کہ خود قراان کے دوسرے مقام سے واضح ہے، وہ دیور ہے جو دوزخ اور جنت کے درمیان کھڑی کردی جائے گی۔ سورۃ حدید میں ہے۔ فضرب بینہم بسور (حدید ۔14) (پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی) ایک ایسی دیوار کے طور و عرض کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو پورے عالم جنت اور سارے عالمِ دوزخ کے درمیان حد فاصل کا کام دے گا جب کہ صرف جنت کی وسعتوں کی تمثیل قراان نے آسمانوں اور زمین کی وسعتوں سے دی ہے۔ 

کیا حضرت خضرؑ انسان تھے؟

اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔

حضرت داؤد ؑ کی زندگی کا ایک حیرت انگیز واقعہ

ارشاد باری تعالی ہے : 
" اے نبی (ﷺ ) ! صبر کرو ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں ، اور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا۔ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے ۔ پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اسکی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے ، اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔

 پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے ان مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے؟۔ جب وہ داؤد کے پاس پہنچا تو وہ ا نہیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ انہوں نے کہا : 

’’ڈریے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے ، بے انصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہ راست بتایئے ۔ یہ میرا بھائی ہے ، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا‘‘ ۔ 

داؤد نے جواب دیا :

 ’’ اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا ، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں ، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں ، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں ‘‘

(یہ بات کہتے کہتے ) داؤد سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا ۔ تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے  ۔ (ہم نے اس سے کہا)

’’ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے ‘‘ 


( سورہ ص آیات 18 تا 26 )


مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ نے اس واقعہ پر  بائیبل کے حوالے سے  اپنا تبصرہ لکھا ، وہ لکھتے ہیں ۔


" جن لوگوں نے بائیبل (عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب مقدس )کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس میں حضرت داؤد پر اُوریاہ حِتّی (Orian the Hittite)کی بیوی سے زنا کرنے ، اور پھر اوریاہ کو ایک جنگ میں قصداً ہلاک کروا کر اس کی بیوی سے نکاح کر لینے کا صاف صاف الزام لگایا گیا ہے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی عورت، جس نے ایک شخص کی بیوی ہوتے ہوئے اپنے آپ کو داؤد کے حوالے کیا تھا، حضرت سلیمان علیہ السلام کی ماں تھی۔ یہ پورا قصہ بائیبل کی کتاب سموئیل دوم ، باب 11۔12 میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہے ۔ نزول قرآن سے صدیوں پہلے یہ بائیبل میں درج ہو چکا تھا۔ دنیا بھر کے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو بھی اپنی کتاب مقدس کی تلاوت کرتا، یا اسے سنتا تھا، وہ اس قصے سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اس پر ایمان بھی لاتا تھا۔ انہی لوگو ں کے ذریعہ سے یہ دنیا میں مشہور ہوا اور آج تک حال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں بنی اسرائیل اور عبرانی مذہب کی تاریخ پر کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جاتی جس میں حضرت داؤد کے خلاف اس الزام کو دہرایا نہ جاتا ہو۔ اس مشہور قصے میں یہ بات بھی ہے کہ:

’’خداوند نے نَاتَن کو داؤد کے پاس بھیجا۔ اس نے اس کے پاس آ کر اس سے کہا کسی شہر میں دو شخص تھے ۔ ایک امیر، دوسرے غریب۔ اس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلّے تھے ۔ پر اس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا تھا۔ اور وہ اس کے اور اس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اسی نوالے میں کھاتی اور اسکے پیالہ سے پیتی اور اس کی گود میں سوتی تھی اور اس کے لیے بطور بیٹی کے تھی۔ اور اس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اس نے مسافر کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلّے میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اس غریب کی بھیڑ لے لی اور اس شخص کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکائی۔تب داؤد کا غضب اس شخص پر بشدت بھڑکا اور اس نے ناتن سے کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم، وہ شخص جس نے یہ کام کیا واجب القتل ہے ۔ اس شخص کو اس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ایسا کام کیا اور اسے ترس نہ آیا۔ تب ناتن نے داؤد سے کہا کہ وہ شخص تو ہی ہے ـــــــ تو نے حتّی اوریاہ کو تلوار سے مارا اور اس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اس کو بنی غمّون کی تلوار سے قتل کروایا۔‘‘ (2۔سموئیل،باب 12۔ فقرات 1 تا 11)

اس قصے اور اس کی اس شہرت کی موجودگی میں یہ ضرورت باقی نہ تھی کہ قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی تفصیلی بیان دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے بھی نہیں کہ وہ اپنی کتاب پاک میں ایسی باتوں کو کھول کر بیان کرے ۔اس لیے یہاں پردے پردے ہی میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا اور اہل کتاب نے اسے بنا کیا دیا ہے ۔ اصل واقعہ جو قرآن مجید کے مذکورہ بالا بیان سے صاف سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اوریاہ (یا جو کچھ بھی اس شخص کا نام رہا ہو) سے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے ۔ اور چونکہ یہ خواہش ایک عام آدمی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک جلیل القدر فرمانروا اور ایک زبردست دینی عظمت رکھنے والی شخصیت کی طرف سے رعایا کے ایک فرد کے سامنے ظاہر کی گئی تھی، اس لیے وہ شخص کسی ظاہری جبر کے بغیر بھی اپنے آپ کو اسے قبول کرنے پر مجبور پا رہا تھا۔ اس موقع پر، قبل اس کے کہ وہ حضرت داؤد کی فرمائش کی تعمیل کرتا، قوم کے دو نیک آدمی اچانک حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ایک فرضی مقدمے کی صورت میں یہ معاملہ ان کے سامنے پیش کر دیا۔ حضرت داؤد ابتداء میں تو یہ سمجھے کہ یہ واقعی کوئی مقدمہ ہے ۔ چنانچہ انہوں نے اسے سن کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن زبان سے فیصلہ کے الفاظ نکلتے ہی ان کے ضمیر نے تنبیہ کی کہ یہ تمثیل پوری طرح ان کے اور اس شخص کے معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے ، اور جس فعل کو وہ ظلم قرار دے رہے ہیں اُس کا صدور خود اُن سے اُس شخص کے معاملہ میں ہو رہا ہے ۔ یہ احساس دل میں پیدا ہوتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور توبہ کی اور اپنے اس فعل سے رجوع فرما لیا۔

بائیبل میں اس واقعہ کی وہ گھناؤنی شکل کیسے بنی؟ یہ بات بھی تھوڑے سے غور کے بعد سمجھ میں آجاتی ہے ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت داؤد کو اُس خاتون کی خوبیوں کا کسی ذریعہ سے علم ہو گیا تھا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ایسی لائق عورت ایک معمولی افسر کی بیوی ہونے کے بجائے ملک کی ملکہ ہونی چاہیے ۔ اس خیال سے مغلوب ہو کر انہوں نے اس کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے طلاق دے دے ۔ اس میں کوئی قباحت انہوں نے اس لیے محسوس نہ کی کہ بنی اسرائیل کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کے ہاں یہ ایک معمولی بات تھی کہ ایک شخص اگر کسی کی بیوی کو پسند کرتا تو بی تکلف اس سے درخواست کر دیتا تھا کہ اسے میرے لیے چھوڑ دے ۔ ایسی درخواست پر کوئی برا نہ مانتا تھا۔ بلکہ بسا اوقات دوست ایک دوسرے کے پاس خاطر سے بیوی کو خود طلاق دے دیتے تھے تاکہ دوسرا اس سے شادی کر لے ۔ لیکن یہ بات کرتے وقت حضرت داؤد کو اس امر کا احساس نہ ہوا کہ ایک عام آدمی کی طرف سے اس طرح کی خواہش کا اظہار تو جبر و ظلم کے عنصر سے خالی ہو سکتا ہے ، مگر ایک فرمانروا کی طرف سے جب ایسی خواہش ظاہر کی جائے تو وہ جبر سے کسی طرح بھی خالی نہیں ہو سکتی۔ اس پہلو کی طرف جب اس تمثیلی مقدمہ کے ذریعہ سے ان کو توجہ دلائی گئی تو وہ بلا تامّل اپنی اس خواہش سے دست بردار ہو گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ مگر بعد میں کسی وقت جب ان کی کسی خواہش اور کوشش کے بغیر اس خاتون کا شوہر ایک جنگ میں شہید ہو گیا، اور انہوں نے اس سے نکاح کر لیا، تو یہودیوں کے خبیث ذہن نے افسانہ تراشی شروع کر دی، اور یہ خبیث نفس اس وقت اور زیادہ تیزی سے کام کرنے لگا جب بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت سلیمانؑ کا دشمن ہو گیا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ 582)۔ ان محرکات کے زیر اثر یہ قصہ تصنیف کر ڈالا گیا کہ حضرت داؤد نے معاذاللہ اوریاہ کی بیوی کو اپنے محل کی چھت پر سے اس حالت میں دیکھ لیا تھا کہ وہ برہنہ نہا رہی تھی۔ انہوں نے اس کو اپنے ہاں بلوایا اور اس سے زنا کا ارتکاب کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ پھر انہوں نے اوریاہ کو بنی عمّون کے مقابلہ پر جنگ میں بھیج دیا اور فوج کے کمانڈر ہوآب کو حکم دیا کہ اسے لڑائی میں ایسی جگہ مقرر کر دے جہاں وہ لازماً مارا جائے ۔ اور جب وہ مارا گیا تو انہوں نے اس کی بیوی سے شادی کر لی، اور اسی عورت کے پیٹ سے سلیمان (علیہ السلام ) پیدا ہوئے ۔ یہ تمام جھوٹے الزامات ظالموں نے اپنی ’’ کتاب مقدس‘‘ میں ثبت کر دیے ہیں تاکہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے رہیں اور اپنی قوم کے ان دو بزرگ ترین انسانوں کی تذلیل کرتے رہیں جو حضرت موسیٰ کے بعد ان کے سب سے بڑے محسن تھے ۔

قرآن مجید کے مفسرین میں سے ایک گروہ نے تو ان افسانوں کو قریب قریب جوں کا توں قبول کر لیا ہے جو بنی اسرائیل کے ذریعہ سے ان تک پہنچے ہیں ۔ اسرائیلی روایات کا صرف اتنا حصہ انہوں نے ساقط کیا ہے جس میں حضرت داؤد پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور عورت کے حاملہ ہو جانے کا ذکر تھا۔ باقی سارا قصہ ان کی نقل کردہ روایات میں اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح وہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا۔ دوسرے گروہ نے سرے سے اس واقعہ ہی کا انکار کر دیا ہے کہ حضرت داؤد سے کوئی ایسا فعل صادر ہوا تھا جو دنبیوں والے مقدمہ سے کوئی مماثلت رکھتا ہو۔ اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے اس قصے کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہیں ، جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور خود قرآن کے سیاق و سباق سے بھی وہ کوئی مناسبت نہیں رکھتیں ۔ لیکن مفسرین ہی میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک بات تک پہنچا ہے اور قرآن کے واضح اشارات سے قصے کی اصل حقیقت پا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں :

مسروق اور سعید بن جبیر، دونوں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ’’حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس عورت کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اپنی بیوی کو میرے لیے چھوڑ دے ‘‘۔(ابن جریر)
علامہ زَمَخشری اپنی کشّا ف میں لکھتے ہیں کہ ’’ جس شکل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس شخص سے صرف یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اُن کے لیے پنی بیوی کو چھوڑ دے ۔‘‘

علامہ ابوبکر جصّاص اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ عورت اس شخص کی منکوحہ نہیں بلکہ صرف مخطوبہ یا منسوبہ تھی، حضرت داؤد نے اسی عورت سے نکاح کا پیغام دے دیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہو ا کیونکہ انہوں نے اپنے مومن بھائی کے پیغام پر پیغام دیا تھا حالانکہ ان کے گھر میں پہلے سے کئی بیویاں موجود تھیں (احکام القرآن )۔ بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے ۔ لیکن یہ بات قرآن کے بیان سے پوری مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن مجید میں مقدمہ پیش کرنے والے کے جو الفاظ نقل ہوئے ہیں ہو ہ یہ ہیں کہ لِیْ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا۔ ’’میرے پاس بس ایک ہی دُنبی ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسے میرے حوالہ کر دے ‘‘۔ یہی بات حضرت داؤد نے بھی اپنے فیصلہ کیں ارشاد فرمائی کہ فَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ۔’’ اس بت تیری دنبی مانگنے میں تجھ پر ظلم کیا۔‘‘ یہ تمثیل حضرت داؤد اور اوریاہ کے معاملہ پر اسی صورت میں چسپاں ہو سکتی ہے جبکہ وہ عورت اس شخص کی بیوی ہو۔ پیغام پر پیغام دینے کا معاملہ ہوتا تو پھر تمثیل یوں ہوتی کہ ’’ ایک دنبی لینا چاہتا تھا اور اس نے کہا کہ یہ بھی میرے لیے چھوڑ دے ۔‘‘

قاضی ابوبکر ابن العربی احکام القرآن میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ اصل واقعہ بس یہی ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص سے کہا کہ میرے لیے اپنی بیوی چھوڑ دے ، اور سنجیدگی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا ــــــ قرآن میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ شخص ان کے اس مطالبہ پر اپنی بیوی سے دست پردار ہو گیا اور حضرت داؤد نے اس عورت سے اس کے بعد شادی بھی کر لی اور حضرت سلیمانؑ اسی بطن سے پیدا ہوئے ــــــ جس بات پر عتاب ہوا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انہوں نے ایک عورت کے شوہر سے یہ چاہا کہ وہ ان کی خاطر اسے چھوڑ دے ــــــــ یہ فعل خواہ فی الجملہ جائز ہی ہو مگر منصب نبوت سے بعید تھا، اسی لیے ان پر عتاب بھی ہوا اور ان کو نصیحت بھی کی گئی۔‘‘

یہی تفسیر اس سیاق و سباق سے بھی مناسبت رکھتی ہے جس میں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ سلسلہ کلام پر غور کرنے سے یہ با ت صاف معلوم ہوتے ہے کہ قرآن مجید میں اس مقام پر یہ قصہ دو اغراض کے لیے بیان کیا گیا ہے ۔ پہلی غرض نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر کی تلقین کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ ’’ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو‘‘۔ یعنی تمہیں تو ساحر اور کذاب ہی کہا جا رہا ہے ، لیکن ہمارے بندے داؤد پر تو ظالموں نے زنا اور سازشی قتل تک کے الزامات لگا دیے ، لہٰذا ان لوگوں سے جو کچھ بھی تم کو سننا پڑے اسے برداشت کرتے رہو۔ دوسری غرض کفار کو یہ بتانا ہے کہ تم لوگ ہر محاسبے سے بے خوف ہو کر دنیا میں طرح طرح کی زیادتیاں کرتے چلے جاتے ہو، لیکن جس خدا کی خدائی میں تم یہ حرکتیں کر رہے ہو وہ کسی کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا، حتیٰ کہ بو بندے اس کے نہایت محبوب و مقرب ہوتے ہیں ، وہ بھی اگر ایک ذرا سی لغزش کے مرتکب ہو جائیں تو خداوند عالم ان سے سخت مواخذہ کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا گیا کہ ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو ایسی اور ایسی خوبیوں کا مالک تھا، مگر جب اس سے ایک بے جا بات سرزد ہو گئی تو دیکھو کہ ہم نے اسے کس طرح سرزنش کی۔

اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی اور باقی رہ جاتی ہے جسے رفع کر دینا ضروری ہے ۔تمثیل میں مقدمہ پیش کرنے والے نے یہ جو کہا ہے کہ اس شخص کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے جسے یہ مانگ رہا ہے ، اس سے بظاہر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید حضرت داؤد پاس 99 بیویاں تھیں اور وہ ایک عورت حاصل کر کے 100 کا عدد پورا کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن دراصل تمثیل کے ہر ہر جُّز ء کا حضرت داؤد اور اوریاہ حتّی کے معاملے لفظ بہ لفظ چسپاں ہونا ضروری نہیں ہے ۔ عام محاورے میں دس، بیس، پچاس وغیرہ اعداد کا ذکر صرف کثرت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ ٹھیک تعداد بیان کرنے لے لیے ۔ ہم جب کسی سے کہتے ہیں کہ دس مرتبہ تم سے فلاں بات کہہ دی تو اس کا مطلب یہ نہی ہوتا کہ دس بار گِن کر وہ بات کہی گئی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے بارہا وہ بات کہی جاچکی ہے ۔ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے ۔ تمثیلی مقدمہ میں وہ شخص حضرت داؤد کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ آپ کے پاس متعدد بیویاں ہیں ، اور پھر بھی آپ دوسرے شخص کی بیوی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی بات مفسر نیسابوری نے حضرت حسنؓ بصری سے نقل کی ہے کہ لم یکن لداؤد تسع وتسعون امرأۃ وانما ھٰذا مثل، ’’ حضرت داؤد کی 99 بیویاں نہ تھیں بلکہ یہ صرف ایک تمثیل ہے ۔‘‘

(اس قصے پر تفصیلی بحث مولانا مودودیؒ  نے اپنی کتاب تفہیمات حصہ دوم میں کی ہے ۔ جو اصحاب اس  بیان کردہ تاویل کی ترجیح کے مفصل دلائل معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کتاب کے صفحات 29 تا 44 ملاحظہ فرمائیں ۔)



( تفہیم القرآن جلد چہارم ص 323- 327 ، سُوْرَةُ صٓ حاشیہ نمبر :28 ،  سید ابوالاعلی مودودی ؒ  )

قرآنی قصص کا اسلوب

قرآن میں کئی تاریخی واقعات اور معجزات کا تذکرہ ہے جن کو علماء نے علمِ تذکیر بایّام اللہ کا نا م دیا ہے، دراصل یہ علمِ تاریخ ہے۔ اس کو اصطلاح میں علمِ قصص بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مذہبی تاریخ ہے جس کو مختصرا قرآن بیان کرتا ہے۔ اس میں حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آخری نبیؐ تک کی اہم قوموں اور پیغمبروں کے احوال و واقعات بیان کیے گئے ہیں۔


ان واقعات کے بیان کرنے کی ایک بڑی غرض انذار اور عبرت آموزی ہے۔ چنانچہ ایک طرف آخری نبی کے مخاطبین کو بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے، بلکہ پچھلی دعوتوں ہی کی تجدید اور ان کی تکمیل ہے، تو دوسری طرف منکرین کو خبر دار کیا گیا ہے کہ سنت اللہ کے مطابق ایک دن ان کو بھی اسی انجامِ بد سے دوچار ہونا ہے جس سے ان سے پہلے کی سرکش قومیں دوچار ہو چکی ہیں۔ 

اسی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین و تشفی دی گئی ہے کہ حق و باطل کی اس لڑائی میں حق کو فتح حاصل ہو گی اور باطل سرنگوں ہو گا۔ اس باب میں اللہ کی سنت ناقابلِ تغیر ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا گیا ہے:


وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ. (سورۂ ہود۱۱: ۲۰)


’’اور رسولوں کے احوال میں سے یہ سارے قصے ہم تم سے بیان کرتے ہیں (اور غرض یہ ہے) کہ ان کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو تقویت دیں، (اس کو جمائے رکھیں) اور جو حق بات ان قصّوں میں ہے وہ تم تک پہنچ چکی ہے اور (اس میں) مومنوں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔‘‘


قرآنی قصص کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت اجمال کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، یہاں تک کہ بعض قصّوں میں صرف اشارے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ صرف تین سورتوں، یوسف، کہف، مریم، میں واقعات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اجمال ہو یا تفصیل، دونوں با مقصد ہیں۔ جہاں اجمال ہے وہاں ہدایت کے نقطۂ نظر سے اجمال ہی مطلوب ہے اور جہاں تفصیل ہے وہاں تذکیر کا پہلو متقاضی تھا کہ اس کو کھول کر بیان کیا جائے۔


تاریخی واقعات کے بیان سے قرآن کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ اہلِ ایمان اس سے یاد دہانی حاصل کریں، جیسا کہ سورۂ ہود کی مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے ’’و ذکریٰ للمومنین‘‘۔ اس سلسلے میں قرآن میں خاص طور اہلِ کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کے واقعات مکرّر بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان دیکھ لیں کہ ان کی دینی اور دنیوی بربادی کے اسباب کیا تھے۔ مثلاً یہودیوں کے مذہبی افتراق اور فرقہ بندی کے حوالے سے فرمایا گیا ہے:

قرآنی قصص کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں اختلافی امور کو نظر انداز کر کے قصّے کے مرکزی خیال کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ کہف میں اصحابِ کہف اور ان کے کتوں کی تعداد اور غار میں ان کی مدتِ قیام کے بارے میں پہلے سے مختلف رائیں تھیں (آیات ۲۲ تا ۲۵)، اس لیے قرآن نے ان کو مبہم ہی رہنے دیا اور ان غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کر کے قصہ کی اصل روح کو نمایاں کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ نیکو کار بندوں کی مدد کے سلسلے میں خدا کا وعدہ سچا ہے (سورۂ کہف۔ ۲۱)۔ لیکن مفسرین نے حسب عادت اس اختلافی مسئلے میں قیاس آرائی سے گریز نہیں کیا ہے۔

( علوم قرآن ، جاوید احمد غامدی ) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمونہ کے طور پر ہم  یہاں اصحاب کھف کا قصہ  جس طرح قرآن نے بیان کیا نقل کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوگا کہ قرآنی قصص کا انداز اسلوب کیا ہے ۔ آسانی کے لیے عربی متن کے بغیر  صرف اردو ترجمہ پیش نظر ہے، ترجمہ تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ سے ماخوذ ہے ۔  واقعہ ایک تمہید  سے شروع ہو تا ہے، اس میں  نزول قرآن کا مقصد نمایا کیا ،  اس  کے بعد  اہل کتاب پر سخت تنقید کی گئی اور آخر میں  نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے )

 ارشاد باری تعالی ہے :

" تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اِس بات کا نہ اُنھیں کوئی علم ہے اورنہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑی بات ہے جو ان کےمُنہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔" 

"اچھا، تو اے محمدؐ ،شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سرو سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخرِ کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔"

                                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 تمہید کے بعد اصل واقعہ کا آغاز ان الفاظ میں  ہے ۔

" کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے(اصحاب کھف )  ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا:

” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“ 

تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ، پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔ 

ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔  ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا :



” ہمارا ربّ تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ۔


 ہم اُسے چھوڑ کر کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکاریں گے۔

 اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے۔"



” یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دُوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ 


 یہ لوگ ان کے معبُود، ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ 

آخراُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھُوٹ باندھے؟ "



"اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبُودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔


  تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کےلیے سروسامان مہیّا کر دے گا۔“


تم انہیں غار میں دیکھتے  تو تمہیں یُوں نظر آتا کہ سُورج جب نِکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔  یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولیِّ مُرشد نہیں پاسکتے۔ 

تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔اور ان کا کُتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو اُلٹے پاوٴں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔

اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا:

”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟ “

 دُوسروں نے کہا:



” شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔“


پھروہ بولے:



”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا۔


 چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کےلیے لائے۔

 اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ 

اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبر دستی ہمیں اپنی مِلّت میں واپس لے جائیں گے، 

اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے“۔



                                                          

                                              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں اس رد عمل کا ذکر ہے جو  اصحاب کھف کے زندہ ہونے کے بعد  لوگوں  نےکیا ۔ 

ارشاد باری تعالی ہے : 

" اِس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی۔ ﴿مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی﴾ اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ ا کرہے تھے کہ اِن ﴿اصحابِ کھف﴾کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا:

”اِن پر ایک دیوار چُن دو، اِن کا ربّ ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے۔“

مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے (حکمران )  اُنہوں نے کہا:



”ہم تو اِن پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔“



                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




(یہاں سے  اس واقعہ کا اختتام ہے  واقعہ کا اصل مخاطب یعنی محمد ﷺ کو اس کی روشنی میں آخری پیغام دیا ارشاد باری تعالی ہے : )

" کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔ کہو:



" میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے" ۔


 کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو۔

اور دیکھو،کسی چیز کے بارےمیں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا۔ ﴿تم کچھ نہیں کر سکتے﴾ اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو: 



” اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملےمیں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔“


۔۔۔۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور ﴿کچھ لوگ مدّت کے شمار میں﴾  سال اور بڑھ گئے ہیں۔ تم کہو، 



"اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے ،


 آسمانوں اور ز مین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا!

 زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبر گیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔"

اے نبیؐ ، تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے ﴿جُوں کا تُوں﴾ سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، ﴿اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو﴾ اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔

اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟

کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ صاف کہہ دو کہ 

" یہ حق ہے"  تمہارے ربّ کی طرف سے ، 

اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ ہم نے ﴿انکار کرنے والے﴾ ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔

  وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھُون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ!

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں  پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!