قیامت ، آخرت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
قیامت ، آخرت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جہنم کے کنارے کھڑا ہوا دوست۔۔۔۔۔۔۔

آپ کبھی قرآن کھول کر دیکھیں… یہ محض احکامات کی کتاب نہیں، یہ ایک زندہ اسکرین ہے۔ آپ پڑھتے ہیں اور منظر چلنے لگتا ہے۔ آوازیں سنائی دیتی ہیں، کردار سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور انسان محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ کسی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک حقیقی دنیا میں داخل ہو گیا ہے۔ سورۃ الصافات کی آیات 51 - 61 میں ایک ایسا ہی منظر ہے— ایسا منظر جسے پڑھ کر آدمی لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
جنت کا ایک رہائشی اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے اچانک کسی پرانی یاد میں گم ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
"میرا ایک دوست تھا… جو مجھے کہا کرتا تھا: کیا واقعی تم یقین کرتے ہو؟ کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے؟"
یہ آواز کتنی مانوس ہے! آج ہمارے اردگرد بھی بے شمار لوگ اسی لہجے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ آخرت کا ذکر سن کر ہنستے ہیں، ایمان کو پرانی کہانیوں کا حصہ سمجھتے ہیں، اور مرنے کے بعد کی زندگی کو خیالِ خام قرار دیتے ہیں۔
پھر جنتی ایک حیران کر دینے والی بات کرتا ہے:
"کیا تم جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟"
اور جب وہ جھانکتا ہے تو دیکھتا ہے کہ دنیا میں اسے ایمان سے روکنے والا وہی دوست آج جہنم کے عین درمیان کھڑا تڑپ رہا ہے۔
یہ کیسا لمحہ ہوگا؟
جسم تو جنت میں ہے مگر آنکھ جہنم کا وہ منظر دیکھ رہی ہے جس کا تصور بھی دل کو لرزا دیتا ہے۔
جنتی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے:

جنت : قرآن کے آئینے میں

قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے جب انسان جنت کے تذکروں سے گزرتا ہے تو ایک نرمی، ایک امید، اور ایک عجیب سی کشش دل پر طاری ہو جاتی ہے۔ جنت، وہ ابدی مقام ہے جو انسان کے اعمالِ صالحہ کا بہترین انعام ہے۔ لیکن قرآن جنت کو صرف ایک مادی مقام کے طور پر نہیں پیش کرتا بلکہ یہ روح، عقل، قلب اور خواہشات کے ہر گوشے کو سیراب کرنے والی حقیقت ہے۔ یہ مضمون قرآن کے آئینے میں جنت کی حقیقت، اس کی نعمتیں، اس کے مکین، اور سب سے بڑی نعمت یعنی دیدارِ الٰہی پر روشنی ڈالے گا۔

1. جنت کا تعارف قرآن کی زبانی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ آمَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـٰتُ ٱلْفِرْدَوْسِ نُزُلًۭا﴾  (الکہف: 107)
ترجمہ: "یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کے لیے فردوس کے باغات مہمانی کے طور پر ہوں گے۔"

یہ آیت بتاتی ہے کہ جنت کوئی عمومی انعام نہیں، بلکہ ایک خصوصی "نزُل" ہے، یعنی مہمان نوازی ہے رب کی طرف سے۔ ایمان اور عمل صالح کی قیمت پر یہ وہ مقام ہے جہاں سے اللہ تعالیٰ اپنے مہمانوں کی ضیافت کریں گے۔

2. جنت کے باغات اور نہریں

﴿وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ﴾  (البقرۃ: 25)
ترجمہ: "اور خوشخبری دے دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔"

نہریں جنت کا ایسا استعارہ ہیں جو تسلسل، روانی اور اطمینان کا نشان ہیں۔ قرآن میں بار بار اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ ان باغات میں نہ صرف پانی بلکہ دودھ، شہد، اور شراب طہور کی نہریں ہوں گی۔

جہنم: قرآن کے آئینے میں

قرآنِ مجید ہدایت کی کتاب ہے۔ وہ انسان کو صرف اچھائی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ برائی کے انجام سے خبردار بھی کرتا ہے۔ ان انجاموں میں سب سے خوفناک انجام "جہنم" ہے — ایک ایسی جگہ جہاں بندہ اپنے اعمال کے حساب کا تلخ پھل چکھتا ہے۔ قرآن مجید نے بارہا جہنم کا ذکر کیا ہے، نہ صرف ڈرانے کے لیے بلکہ انسان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے۔

1. جہنم کا مفہوم اور اس کے نام

"جہنم" کا لفظ عربی میں "گہرے، اندھیرے، اور بھڑکتی آگ" کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن نے اس کی کئی صورتیں اور نام ذکر کیے ہیں:

  • جہنم: عمومی نام، ہر نافرمان کے لیے

  • سعیر: بھڑکتی آگ

  • سقر: ایسی آگ جو جِلد کو جلا کر رکھ دے

  • لظیٰ: دہکتی ہوئی، شعلہ زن آگ

  • ہاویہ: گہرائیوں میں گرنے والی آگ

  • جحیم: تیز شعلوں والی آگ

”كَلَّا إِنَّهَا لَظَىٰ، نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ“
"ہرگز نہیں! وہ تو دہکتی ہوئی آگ ہے، جو کھال اتار لینے والی ہے۔" (الماعون: 15-16)

2. جہنم کے دروازے اور درجات

قرآن کے مطابق جہنم کے سات دروازے ہیں:

"وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ، لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ"
"اور یقیناً جہنم ان سب کا وعدہ کیا گیا مقام ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مقرر ہے۔" (الحجر: 43-44)

یہ دروازے مختلف گناہوں کے اعتبار سے تقسیم ہیں — کچھ منافقین کے لیے، کچھ کفار کے لیے، اور کچھ ان ظالموں کے لیے جنہوں نے دین کی روشنی کے باوجود ظلم کا راستہ اپنایا۔

قیامت: روشنی، عدالت اور فیصلے کا دن (سورۃ الزمرآیات: 67-75 کے تناظر میں)

وہ دن! جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، مگر اس کی لرزش دلوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ دن جب وقت تھم جائے گا، زمین لرز اُٹھے گی، آسمان سمٹ جائیں گے، اور انسان—جو اپنے وجود کی عظمت پر نازاں تھا—اپنے رب کی عظمت کے سامنے مٹی کے ذرّے سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔

قرآن کہتا ہے:
"وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ..."
انہوں نے اللہ کو وہ عظمت نہ دی، جو دینی چاہیے تھی!
وہ جو تمام زمین کو اپنی مٹھی میں لے لیتا ہے،
وہ جو آسمانوں کو لپیٹ کر ایک ہاتھ میں تھام لیتا ہے،
وہ جو اپنے جلال میں یکتا ہے،
اور جس کا شریک بنانا سب سے بڑی جہالت ہے۔

پھر اچانک...
ایک صور پھونکا جاتا ہے۔ کائنات ساکت۔
زندگی کی ہر رمق بے ہوش۔
جاندار، بے جان ہو چکے۔
کوئی صدا، کوئی حرکت، کوئی سانس باقی نہیں۔

خاموشی۔

پھر ایک اور صور بجتا ہے۔
اور کائنات کی بند آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
ہر قبر پھٹتی ہے، ہر وجود اٹھتا ہے،
اور سب نظریں جمائے، کسی ان دیکھے منظر کو تکنے لگتی ہیں۔

زمین... وہی جس پر نافرمانی کے درخت اگے تھے،
آج رب کے نور سے چمک رہی ہے۔
اب وہ روشنی سورج کی نہیں،
وہ روشنی تو عدل کی ہے،
جس کے سائے میں کوئی جھوٹ چھپ نہیں سکتا۔

کتابیں کھلتی ہیں۔
نامۂ اعمال!
ہر لفظ لکھا ہوا، ہر خیال قید،
اور ہر عمل گواہوں کے ساتھ موجود۔

نبی اور شہداء پیش کیے جاتے ہیں۔
عدالت لگتی ہے—ایسی عدالت جس میں نہ سفارش ہے، نہ رشوت،
نہ تاخیر، نہ فریب۔

شق القمر کا واقعہ ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ

 قرآن مجید کی سورہ قمر میں شق القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا۔

شق القمر کا واقعہ 

اس میں کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے۔ وہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں۔ بکھر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اور وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورۃ میں انہیں ملامت کی گئی ہے۔ 

کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہوجائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داور محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ( سورہ قمر :1)

قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔

یعنی چاند کا پھٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی جاتی رہی ہے، قریب آ لگی ہے اور نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کرہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہوگیا، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی چیز ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے۔ 

زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اس بارے میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے تفہیم القرآن میں ایک جگہ لکھا ہے کہ "
جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اَینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔
وہاں پیہم ترقی ہو گی بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو۔ اور وہاں خلافت الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔

عالم آخرت میں زمین کی کیا شکل بنے گی ؟

 آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ انشقاق میں فرمایا : اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ ’’ زمین پھیلا دی جاۓ گی‘‘۔

 سورۂ انفطار میں فرمایا : اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ، ’’ سمندر پھاڑ دیے جائیں گے ‘‘ 

جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جاۓ گا سورۂ تکویر میں فرمایا : اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ،’’ سمندر بھریے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے ‘‘۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جاۓ گی۔ 

اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر ، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کیطرح بنا دیا جاۓ گا۔

 یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۂ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : یَوْمَ تُبَدَّ لُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔’’ وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جاۓ گی۔ ‘‘ اور یہی زمین کی وہ شکل ہو گی جس پر حشر قائم ہو گا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرماۓ گا۔ 

پھر اس کی آخری اور دائمی شل وہ بنادی جاۓ گی جس کو سورۂ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : وَقَالُو ا لْحَمْدُ لِلہِ الَّذِ یْ صَدَ قَٓنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّ اُمِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآ ءُ ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ یعنی متقی لوگ ’’ کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا ، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہبنا سکتے ہیں۔ پس بہتریں اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ‘‘۔ 

آخرت کی دلیلیں : سید ابوالاعلی مودودیؒ


يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا   وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ  ، اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ  ۣ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ  ، اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۭ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ  (سورۂ روم آیات : 7-9)

لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا ؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیےپیدا کیا ہے۔مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کےمنکر ہیں۔اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ 

-----------------
آیات :  يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا   وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ  ، اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ  ۣ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ

سید ابوالاعلی مودودی ؒ اس کی تفسیر حاشیہ 5 میں  لکھتے ہیں : 

یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں :

ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بےشمار چیزیں اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں، اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں ۔

دوسرے یہ کہ اسے اپنی راہ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر بھی جانا چاہے جاسکتا ہے۔ حق اور باطل، صحیح اور غلط جس طریقے کو بھی اختیار کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ ہر راستے پر چلنے کے لیے اسے توفیق دے دی جاتی ہے اور اس پر چلنے میں وہ خدا کے فراہم کردہ ذرائع استعمال کرسکتا ہے، خواہ وہ خدا کی اطاعت کا راستہ ہو یا اس کی نافرمانی کا راستہ۔
تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حس رکھ دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ اختیاری اعمال اور غیر اختیار اعمال میں فرق کرتا ہے، اختیاری اعمال پر نیکی اور بدی کا حکم لگاتا ہے اور بداہۃ یہ رائے قائم کرتا ہے کہ اچھا عمل جزا کا اور برا عمل سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔

یوم الحساب کا دستور قرآن کی روشنی میں

قرآن میں قیامت کو " یوم الحساب "بھی کہاگیا ، اور قرآن میں اطلاع دی گئی کہ ہر انسان سے ان کی دنیاوی زندگی کے بارے میں حساب لیا جائے گا ، یہ حساب کن بنیادوں پر لیا جائے گا ؟ قرآن کے مطابق اس کی دو ہی بنیاد ہیں:

ایک انسان کی ذاتی یاداخلی بنیاد ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو عقل، شعور اور دیگر بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تاکہ وہ خیر اور شر میں فرق کرسکے جیسے قرآن میں ارشاد ہے :

" اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ عَیۡنَیۡنِ ، وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیۡنِ ، وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ " (البلد:8- 10) 
(کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟ اور دونوں نمایاں راستے اُسے ﴿نہیں ﴾ دکھا دیے؟ )

انَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿ الحج : ۱﴾ کی تفسیر - سید ابوالاعلی مودویؒ


یہ زلزلہ قیامت کی ابتدائی کیفیات میں سے ہے اور اغلب یہ ہے کہ اس کا وقت وہ ہو گا جب کہ زمین یکایک الٹی پھرنی شروع ہو جاۓ گی اور سورج مشرق کے بجاۓ مغرب سے طلوع ہو گا۔ یہ بات قدیم مفسرین میں سے عَلْقَمہ اور شعبی نے بیان کی ہے کہ: یکون ذٰلک عند طلوع الشمس من مغربھا۔ اور یہی بات اس طویل حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو ابن جریر اور طبرانی اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ نفخ صور کے تین مواقع ہیں۔ ایک نفخ فَزَع ، دوسرا نفخ صَعْق اور تیسرا نفخ قیام الرب العالمین۔ یعنی پہلا نفخ عام سراسیمگی پیدا کرے گا ، دوسرے نفخ پر سب مر کر گر جائیں گے اور تیسرے نفخ پر سب لوگ زندہ ہو کر خدا کے حضور پیش ہو جائیں گے۔ پھر پہلے نفح کی تفصیلی کیفیت بیان کرتے ہوۓ آپ بتاتے ہیں کہ اس وقت زمین کی حالت اس کشتی کی سی ہو گی جو موجوں کے تھپیڑے کھا کر ڈگمگا رہی ہو، یا اس معلق قندیل کی سی جس کو ہوا کے جھونکے بری طرح جھنجھوڑ رہے ہوں۔ اس وقت زمین کی آبادی پر جو کچھ گزرے گی اس کا نقشہ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کھینچا گیا ہے۔مثلاً : 

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَۃٌ وَّا حِدَۃً وَحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُ کَّتَا دَکَّۃً وَّ احِدَۃً فَیَوْمَئِذٍ وَّ قَعَتِ الْوَ ا قِعَۃُ O (الحاقہ) ’’ پس جب صور میں ایک پھونک ماردی جاۓ گی اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں توڑ دیے جائیں گے تو وہ واقعہ عظیم پیش آ جاۓ گا‘‘۔ 

دنیا و آخرت میں زمین کی وراثت کا قاعدہ - سید ابوالاعلی مودودیؒ

وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ ﴿الانبیاء : ۱۰۵﴾ 

ترجمہ : "اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کےلیے۔"

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں " 

 اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک ایسا مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کر دیتا ہے ۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت و فرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے اور ان ہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے ۔ پھر اس قاعدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے ، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح ۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا میں پہلے وارث زمین رہی ہیں اور آج اس وراثت کی مالک بنی ہوئی ہیں ۔ یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کافر ، مشرک ، دہریے ، فاسق، فاجر، سب یہ وراثت پہلے بھی پاتے رہے ہیں اور آج بھی پا رہے ہیں ۔ جن قوموں میں وہ تمام اوصاف پاۓ گئے ہیں اور آج پاۓ جاتے ہیں جنہیں قرآن صاف الفاظ میں کفر ، فسق ، فجور، معصیت اور بدی سے تعبیر کرتا ہے ، وہ اس وراثت سے محروم نہیں ہوئیں بلکہ نوازی گئیں اور آج بھی نوازی جا ہی ہیں ۔ فرعون و نمرود سے لے کر اس زمانے کے کمیونسٹ فرمانرواؤں تک کتنے ہی ہیں جو کھلم کھلا خدا کے منکر، مخلاف ، بلکہ مد مقابل بنے ہیں اور پھر بھی وارث زمین ہوۓ ہیں ۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ یہ راۓ قائم کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان کردہ قاعدہ کلیہ تو غلط نہیں ہو سکتا ، اب لامحالہ غلطی جو کچھ ہے وہ ’’ صالح ‘‘ کے اس مفہوم میں ہے جو اب تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ صلاح کا ایک نیا تصور تلاش کرتے ہیں جس کے مطابق زمین کے وارث ہونے والے سب لوگ یدسں ’’ صالح ‘‘ قرار پا سکیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ہوں یا چنگیز اور ہلاکو ۔ اس نۓ تصور کی تلاش میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء ان کی رہنمائی کرتا ہے اور وہ قرآن کے تصور ’’ صلاح‘‘ کو ڈار دینی تصور ’’ صلاحیت‘‘( (Fitness سے لے جا کر ملا دیتے ہیں ۔ 

جنت اسی زمین پر ہوگی ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

عالم آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ انشقاق میں فرمایا : اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ۔ " زمین پھیلا دی جائے گی "۔ سورۃ انفطار میں فرمایا : اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ، " سمندر پھاڑ دیے جائیں گے " جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جائے گا سورۃ تکویر میں فرمایا : اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ، " سمندر بھردیے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے "۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جائے گی۔ 

اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر، پہاڑوں کو توڑ کر، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کی طرح بنا دیا جائے گا۔ یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۃ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔ " وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جائے گی۔ " اور یہی زمین کی وہ شکل ہوگی جس پر حشر قائم ہوگا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرمائے گا۔ پھر اس کی آخری اور دائمی شکل وہ بنادی جائے گی جس کو سورۃ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : وَقَالُوا لْحَمْدُ لِلِہ الَّذِیْ صَدَقَٓنَا وَعْدَہ وَ اَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآءُ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ یعنی متقی لوگ " کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے "۔ 

 اس سے معلوم ہوا کہ آخر کار یہ پورا کرہ جنت بنا دیا جائے گا اور خدا کے صالح و متقی بندے اس کے وارث ہوں گے۔ اس وقت پوری زمین ایک ملک ہوگی۔ پہاڑ، سمندر، دریا، صحرا، جو آج زمین کو بےشمار ملوں اور وطنوں میں تقسیم کر رہے ہیں، اور ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی بانٹے دے رہے ہیں، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گے۔

 (واضح رہے کہ صحابہ و تابعین میں سے ابن عباس (رض) اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اسی زمین پر ہوگی، اور سورۃ نجم کی آیت عِنْد سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی ہ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمأویٰ، کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں )

----------------------

تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ ، سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :83

حشر اسی زمین پر برپا ہوگا

ارشاد باری تعالی ہے ۔ 

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (سورہ ابراھیم :  48)

ڈراؤ انہیں اس دن سے جب کہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے 57 اور سب کے سب اللہ واحد قہّار کے سامنے بےنقاب حاضر ہوجائیں گے ۔

-------------------------------------

اس آیت سے اور قرآن کے دوسرے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں زمین و آسمان بالکل نیست و نابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظام طبیعی کو درہم برہم کر ڈالا جائے گا۔

 اس کے بعد نفخ صور اول اور نفخ صور آخر کے درمیان ایک خاص مدت میں، جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، زمین اور آسمانوں کی موجودہ ہیئت بدل دی جائے گی اور ایک دوسرا نظام طبیعت، دوسرے قوانین فطرت کے ساتھ بنا دیا جائے گا۔ 

وہی عالم آخرت ہوگا۔ پھر نفخ صور آخر کے ساتھ ہی تمام وہ انسان جو تخلیق آدم سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے تھے، از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے۔ 

اسی کا نام قرآن کی زبان میں حشر ہے جس کے لغوی معنی سمیٹنے اور اکٹھا کرنے کے ہیں۔

 قرآن کے اشارات اور حدیث کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پر برپا ہوگا، یہیں عدالت قائم ہوگی، یہیں میزان لگائی جائے گی اور قضیہ زمین برسر زمین ہی چکایا جائے گا۔

 نیز یہ بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ ہماری وہ دوسری زندگی جس میں یہ معاملات پیش آئیں گے محض روحانی نہیں ہوگی بلکہ ٹھیک اسی طرح جسم و روح کے ساتھ ہم زندہ کیے جائیں گے جس طرح آج زندہ ہیں، اور ہر شخص ٹھیک اسی شخصیت کے ساتھ وہاں موجود ہوگا جسے لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوا تھا۔(1)


--------------------------------------

1- تفہیم القرآن ، سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :57، سید ابوالاعلی موودیؒ


متعلہ مضامین :

1- قیامت کا منظر سورۃ الزلزال کی روشنی میں 

آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات


 آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات  سورۃ الفجر کی روشنی میں 
نام :

پہلے ہی لفظ والفجر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکۂ معظمہ میں اسلام قبول کرنے والوں کے خلاف ظلم کی چکی چلنی شروع ہو چکی تھی۔ اسی بنا پر اہل مکہ کو عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔
موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات ہے جس کا اہل مکہ انکار کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے جس طرح ترتیب وار استدلال کیا گیا ہے، اس کو اسی ترتیب کے ساتھ غور سے دیکھیے۔
سب سے پہلے فجر اور دس راتوں اور جفت اور طاق، اور رخصت ہوتی ہوئی رات کی قسم کھا کر سامعین سے سوال کیا گیا ہے کہ جس بات کا تم انکار کر رہے ہو اس کے برحق ہونے کی شہادت دینے کے لیے کیا یہ چیزیں کافی نہیں ہیں؟ یہ چیزیں اس باقاعدگی کی علامت ہیں جو شب و روز کے نظام میں پائی جاتی ہے، اور ان کی قسم کھا کر یہ سوال اس معنی میں کیا گیا ہے کہ خدا کے قائم کیے ہوئے اس حکیمانہ نظام کو دیکھنے کے بعد بھی کیا اس امر کی شہادت دینے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ نظام جس خدا نے قائم کیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ آحرت برپا کرے، اور اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ انسان سے اس کے اعمال کی بازپرس کرے۔
اس کے بعد انسانی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے بطور مثال عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام کو پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ حد سے گزر گئے اور زمین میں انہوں نے بہت فساد مچایا تو اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کا نظام کچھ اندھی بہری طاقتیں نہیں چلا رہی ہیں، نہ یہ دنیا کسی چوپٹ راجہ کی اندھیر نگری ہے، بلکہ ایک فرمانروائے حکیم و دانا اس پر حکمرانی کر رہا ہے جس کی حکمت اور عدل یہ تقاضا خود اس دنیا میں انسانی تاریخ کے اندر مسلسل نظر آتا ہے کہ عقلی اور اخلاقی حس دے کر جس مخلوق کو اس نے یہاں تصرف کے اختیارات دیے ہیں اس کا محاسبہ کرے اور اسے جزا اور سزا دے۔
اس کے بعد انسانی معاشرے کی عام اخلاقی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں عرب جاہلیت کی حالت تو اس وقت سب کے سامنے عملاً نمایاں تھی، اور خصوصیت کے ساتھ اس کے دو پہلوؤں پر تنقید کی گئی ہے۔ ایک، لوگوں کا مادہ پرستانہ نقطۂ نظر جس کی بنا پر وہ اخلاق کی بھلائی اور برائی کو نظر انداز کر کے محض دنیا کی دولت اور جاہ و منزلت کے حصول یا فقدان کو عزت و ذلت کا معیار قرار دیے بیٹھے تھے اور اس بات کو بھول گئے تھے کہ نہ دولت مندی کوئی انعام ہے، نہ رزق کی تنگی کوئی سزا، بلکہ اللہ تعالٰی ان دونوں حالتوں میں انسان کا امتحان لے ہے کہ دولت پاکر وہ کیا رویہ اختیار کرتا ہے اور تنگ دستی میں مبتلا ہو کر کس روش پر چل پڑتا ہے۔ دوسرے، لوگوں کا یہ طرز عمل کہ یتیم بچہ باپ کے مرتے ہی ان کے ہاں کس مپرسی میں مبتلا ہو جاتا ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، جس کا بس چلتا ہے مردے کی ساری میراث سمیٹ کر بیٹھ جاتا ہے اور کمزور حق داروں کو دھتا بتا دیتا ہے اور مال کی حرص لوگوں کو ایک ایسی نہ بجھنے والی پیاس کی طرح لگی ہوئی ہے کہ خواہ کتنا ہی مال مل جائے ان کا دل سیر نہیں ہوتا۔ اس تنقید سے مقصود لوگوں کو اس بات کا قائل کرنا ہے کہ دنیا کی زندگی میں جن انسانوں کا یہ طرز عمل ہے ان کا محاسبہ آخر کیوں نہ ہو۔
پھر کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا اور وہ اس روز ہوگا جب اللہ تعالٰی کی عدالت قائم ہوگی۔ اس وقت جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کی سمجھ میں وہ بات آ جائے گی جسے آج وہ سمجھانے سے نہیں مان رہے ہیں، مگر اس وقت سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ منکر انسان ہاتھ ملتا ہی رہ جائے گا کہ کاش میں نے دنیا میں اِس دن کے لیے کوئی سامان کیا ہوتا۔ مگڑ یہ ندامت اسے خدا کی سزا سے نہ بچا سکے گی۔ البتہ جن انسانوں سے دنیا میں پورے اطمینان قلب کے ساتھ اس حق کو قبول کر لیا ہوگا جسے آسمانی صحیفے اور خدا کے انبیاء پیش کر رہے تھے، خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا کے عطا کردہ اجر سے راضی ہوں گے، انہیں دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنے رب کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں اور جنت میں داخل ہو جائیں۔


(تفسیری حاشیہ کےلیے  ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )





بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الۡفَجۡرِ ۙ﴿۱﴾ وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ ۙ﴿۲﴾ وَّ الشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ ۙ﴿۳﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَسۡرِ ۚ﴿۴﴾ ہَلۡ فِیۡ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیۡ حِجۡرٍ ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۪ۙ﴿۶﴾ اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۪ۙ﴿۷﴾ الَّتِیۡ لَمۡ یُخۡلَقۡ مِثۡلُہَا فِی الۡبِلَادِ ۪ۙ﴿۸﴾ وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ ۪ۙ﴿۹﴾ وَ فِرۡعَوۡنَ ذِی الۡاَوۡتَادِ ﴿۪ۙ۱۰﴾ الَّذِیۡنَ طَغَوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۪ۙ۱۱﴾ فَاَکۡثَرُوۡا فِیۡہَا الۡفَسَادَ ﴿۪ۙ۱۲﴾ فَصَبَّ عَلَیۡہِمۡ رَبُّکَ سَوۡطَ عَذَابٍ ﴿ۚۙ۱۳﴾ اِنَّ رَبَّکَ لَبِالۡمِرۡصَادِ ﴿ؕ۱۴﴾ فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ﴿ؕ۱۵﴾ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزۡقَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَہَانَنِ ﴿ۚ۱۶﴾ کَلَّا بَلۡ لَّا تُکۡرِمُوۡنَ الۡیَتِیۡمَ ﴿ۙ۱۷﴾ وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾ وَ تَاۡکُلُوۡنَ التُّرَاثَ اَکۡلًا لَّمًّا ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ تُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿ؕ۲۰﴾ کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الۡاَرۡضُ دَکًّا دَکًّا ﴿ۙ۲۱﴾ وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾ وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ قَدَّمۡتُ لِحَیَاتِیۡ ﴿ۚ۲۴﴾ فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَہٗۤ اَحَدٌ ﴿ۙ۲۵﴾ وَّ لَا یُوۡثِقُ وَ ثَاقَہٗۤ اَحَدٌ ﴿ؕ۲۶﴾ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۷﴾ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی ، اور جُفت اور طاق کی ، اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو۔ کیا اِس میں کسی صاحب ِ عقل کے لیے کوئی قسم ہے1؟
تم نے2 دیکھا نہیں کہ تمہارے ربّ نے کیا برتاوٴ کیا اُونچے ستونوں والے عادِ اِرَم 3 کے ساتھ ، جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی4؟ اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں5؟ اور میخوں والے فرعون6 کے ساتھ؟ یہ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلا تھا۔ آخر کار تمہارے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ گھات لگائے ہوئے ہے7۔
مگر 8انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا ربّ جب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے ربّ نے مجھے عزت دار بنا دیا۔ اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل 9کر دیا۔ ہرگز نہیں10، بلکہ تم یتیم سے عزّت کا سلوک نہیں کرتے11 اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دُوسرے کو نہیں اُکساتے12، اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو13، اور مال کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہو14۔ ہرگز نہیں15، جب زمین پے در پے کوُٹ کوُٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی، اور تمہارا ربّ جلوہ فرما ہوگا 16 اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے، اور جہنّم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل17 ؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا! پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں، اور اللہ جیساباندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔
﴿دُوسری طرف ارشاد ہوگا﴾ اے نفسِ مطمئن18، چل اپنے ربّ کی طرف19 اِس حال میں کہ تُو ﴿اپنے انجامِ نیک سے﴾ خوش﴿ اور اپنے ربّ کے نزدیک﴾ پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے ﴿نیک﴾ بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنّت میں۔ ؏١
(ماخوز از تفہیم القرآں جلد 6 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )

اس بارے میں مزید مطالعہ کریں :
1- قیامت اور آخرت کا اثبات اور سُوْرَةُ الْمُرْسَلٰت کے دلائل

2- توحید کی دعوت ، قیامت اور احوال قیامت کی تصویرسُورَۃ ُ الغاَشِیہ کی روشنی میں

الوہیت اور علم غیب، سید ابوالاعلی مودودیؒ




ارشاد باری تعالی ہے :-

"قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ" 

ان سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔  (سورۃ النمل : 65) 

سید ابوالاعلی مودودی ؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

" اوپر تخلیق، تدبیر اور رزاقی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے الہ واحد (یعنی اکیلے خدا اور اکیلے مستحق عبادت) ہونے پر استدلال کی گیا تھا۔ اب خدائی کی ایک اور اہم صفت، یعنی علم کے لحاظ سے بتایا جارہا ہے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ لاشریک ہے، آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے، سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے۔ سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جس سے اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔

غیب کے معنی مخفی، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحا اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو، جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو فردا فردا بعض انسانوں کے علم میں ہیں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں، اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کے علم میں نہ کبھی تھیں نہ آج ہیں نہ آئندہ کبھی آئیں گی، ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں اور دوسری مخلوقات کا ہے کہ بعض چیزیں ان میں سے کسی سے مخفی اور کسی کو معلوم نہیں، اور بےشمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کو بھی معلوم نہیں۔ یہ تمام اقسام کے غیب صرف ایک ذات پر روشن ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں، سب شہادت ہی شہادت ہے۔

اس حقیقت کو بیان کرنے میں سوال کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو اوپر تخلیق و تدبیر کائنات اور رزاقی کے بیان میں اختیار کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صفات کے آثار تو بالکل نمایاں ہیں جنہیں ہر شخص دیکھ رہا ہے، اور ان کے بارے میں کفار و مشرکین تک یہ مانتے تھے اور مانتے ہیں کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں، اس لیے وہاں طرز استدلال یہ تھا کہ جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں ہے تو پھر خدائی میں تم نے دوسروں کو کیسے شریک بنالیا اور عبادت کے مستحق وہ کس بنا پر ہوگئے؟ لیکن علم کی صفت اپنے کوئی محسوس آثار نہیں رکھتی جن کی طرف اشارہ کیا جاسکے۔ یہ معاملہ صرف غور و فکر ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس لیے اس کو سوال کے بجائے دعوے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، اب یہ ہر صاحب عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو؟ یعنی تمام ان احوال اور اشیاء اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی، اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریاد رس اور حاجت روا اور مشکل کشا ہوسکے؟

الوہیت اور علم غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان نے جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اس حقیقت سے بالکل بدیہی طور پر آگاہ ہے کہ قسمتوں کا بنانا اور بگاڑنا، دعاؤں کا سننا، حاجتیں پوری کرنا اور ہر طالب امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اسی ہستی کا کام ہوسکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو، اسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اسے لازما عالم الغیب بھی سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی عقل بلا ریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ حقیقت ہے کہ خالق اور مدبر اور مجیب الدعوات اور رازق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جیسا کہ اوپر کی آیات میں ثابت کیا گیا ہے تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، آخر کون اپنے ہوش و حواس میں یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جن یا نبی یا ولی کو، یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں؟ اور عالم بالا کے بےحدو حساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے؟ اور ان میں سے ہر ایک میں کس کس طرح کی مخلوقات موجود ہیں؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں؟ یہ سب کچھ اللہ کو تو لازما معلوم ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے، اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے، لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اس کار خلاقی و رزاقی سے کہ وہ ان چیزوں کو جانے؟

پھر یہ صفت قابل تجزیہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بندہ مثلا صرف زمین کی حد تک اور زمین میں بھی صرف انسانوں کی حد تک عالم الغیب ہو، یہ اسی طرح قابل تجزیہ نہیں ہے جس طرح خدا کی خلاَّقی و رزَّاقی اور قَیُّومی و پروردگاری قابل تجزیہ نہیں ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوں گے، رحم مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعت حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہوسکتا ہے؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا ؟ کیا وہ اس بےحدو حساب خلقت کا خالق ہے؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جرثومے کو وجود بخشا تھا ؟ کیا اس نے ان کی ماؤں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی؟ کیا اس نے ان کی زندہ ولادت کا انتظام کیا تھا ؟ کیا اس نے ان میں سے ایک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی؟ کیا وہ ان کی موت اور حیات ان کی صحت اور مرض، ان کی خوشحالی اور بدحالی اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا ؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے اس کے بعد؟ اور صرف انسانوں کی حد تک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہوسکتی ہیں؟ یہ کام تو لازما زمین اور آسمانوں کے عالمگیر انتظام کا ایک جز ہے، جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کررہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کی تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔

اسی بنا پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے، اور کسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کردے، لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔

" وعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ "

" اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا" (الانعام، آیت 59)


" اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚوَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔ "

" اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحم میں کیا (پرورش پارہا) ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی"۔ (لقمان، آیت 34)


" يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ "


" وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کرسکتے الا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انہیں علم دے"۔ (البقرہ، آیت 255)


قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر انبیاء علیہم السلام اور خود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اس امر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ان کو غیب کا صرف اتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سورۃ انعام کی آیت 50، الاعراف آیت 187، التوبہ آیت 101، ہود آیت 31، احزاب آیت 63، الاحقاف آیت 9، التحریم آیت 3، اور الجن آیات 26 تا 28، اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں ۔


قرآن کی یہ تمام تصریحات زیر بحث آیت کی تائید و تشریح کرتی ہیں جن کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی" جمیع ماکان وما یکون" کا علم رکھتا ہے، قطعا ایک غٰر اسلامی عقیدہ ہے۔ شیخین (امام بخاری اور مسلم ) ترمذی، نسائی، امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ" من زعم انہ رای النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعلم ما یکون فی غد فقد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول " قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ "


یعنی جس نے یہ دعوی کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانتے ہیں کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے"۔ ابن المنذر حضرت عبداللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا " اے محمد،ﷺ ! قیامت کب آئے گی؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے، کل میں کیا کماؤں گا ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں، مروں گا کہاں؟ ان سوالات کے جواب میں سورۃ لقمان کی وہ آیت حضور نے سنائی جو اوپر نقل کی ہے۔" اِنَّ اللہَ عِندَہُ عِلمَ السِّاعَۃِ"۔ پھر بخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث کی وہ مشہور روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریل ؑ نے انسانی شکل میں آکر حضور سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضور نے جواب دیا" ما المسئول عنھا باعلم من السائل۔" (جس سے پوچھا جارہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا)۔ پھر فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور یہی مذکورہ بالا آیت حضور نے تلاوت فرمائی۔


-----------------------------------
(تفہیم القرآن ، سورة النمل حاشیہ نمبر : 83 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )


قیامت کا منظر

قیامت اور آخرت کا منظر سُوْرَةُ الْاِنْفِطَار کی روشنی میں

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ اِنفَطَرَت سے ماخوذ ہے۔ انفطار مصدر ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر آیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کا اور سورۂ تکویر کا مضمون ایک دوسرے سے نہایت مشابہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سورتیں قریب قریب ایک ہی زمانے میں نازل ہوئی ہیں۔
موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع آخرت ہے۔ مسند احمد، ترمذی، ابن المنذر، طبرانی، حاکم اور ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ ارشاد بیان کیا:
” جو شخص چاہتا ہے کہ روز قیامت کو اس طرح دیکھے لے جیسے آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے تو سورۂ تکویر اور سورۂ انفطار، اور سورۂ انشقاق کو پڑھ لے“
اس میں سب سے پہلے روزِ قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آ جائے گا تو ہر شخص کے سامنے اس کا کیا دھرا سب آ جائے گا۔ اس کے بعد انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ جس رب نے تجھ کو وجود بخشا اور جس کے فضل و کرم سے آج تو سب مخلوقات سے بہتر جسم اور اعضاء لیے پھرتا ہے، اس کے بارے میں یہ دھوکا تجھے کہاں سے لگ گیا کہ وہ صرف کرم ہی کرنے والا ہے، انصاف کرنے والا نہیں ہے؟ اس کے کرم کے معنی یہ تو نہیں ہیں کہ تو اس کے انصاف سے بے خوف ہو جائے۔ پھر انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ تو کسی غلطی فہمی میں مبتلا نہ رہے، تیرا پورا نامۂ اعمال تیار کیا جا رہا ہے۔ اور نہایت معتبر کاتب ہر وقت تیری تمام حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہے ہیں۔ آخر میں پورے زور کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یقیناً روز جزا برپا ہونے والا ہے جس میں نیک لوگوں کو جنت کا عیش اور بد لوگوں کو جہنم کا عذاب نصیب ہوگا۔ اس روز کوئی کسی کے کام نہ آ سکے گا، فیصلے کے اختیارات بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے۔

(مزید تفسیر حاشیہ کے لے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ ۙ﴿۱﴾ وَ اِذَا الۡکَوَاکِبُ انۡتَثَرَتۡ ۙ﴿۲﴾ وَ اِذَا الۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ﴿ۙ۳﴾ وَ اِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ ۙ﴿۴﴾ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ وَ اَخَّرَتۡ ؕ﴿۵﴾ یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الۡکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾ الَّذِیۡ خَلَقَکَ فَسَوّٰىکَ فَعَدَلَکَ ۙ﴿۷﴾ فِیۡۤ اَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ؕ﴿۸﴾ کَلَّا بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ ۙ﴿۹﴾ وَ اِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾ کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾ اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۚ۱۳﴾ وَ اِنَّ الۡفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ ﴿ۚۖ۱۴﴾ یَّصۡلَوۡنَہَا یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿۱۵﴾ وَ مَا ہُمۡ عَنۡہَا بِغَآئِبِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ۙ۱۷﴾ ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۸﴾ یَوۡمَ لَا تَمۡلِکُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَیۡئًا ؕ وَ الۡاَمۡرُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ﴿٪۱۹﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
جب آسمان پھٹ جائے گا، اور جب تارے بکھر جائیں گے، اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے، اور جب قبریں کھول دی جائیں گی، اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا۔
اے انسان، کس چیز نے تجھے اپنے اُس ربّ ِ کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نِک سُک سے درست کیا، تجھے متناسِب بنایا، اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا ہر گز نہیں بلکہ ﴿اصل بات یہ ہے کہ ﴾ تم لوگ جزا و سزا کو جھُٹلاتےہو، حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں، ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں
یقیناً نیک لوگ مزے میں ہوں گے اور بے شک بدکار لوگ جہنّم میں جائیں گے ۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اُس سے ہر گز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہو گا۔ ؏١


(تفہیم القرآن جلد 6 ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )



توحید کی دعوت

توحید کی دعوت ، قیامت اور احوال قیامت کی تصویرسُورَۃ ُ الغاَشِیہ  کی روشنی میں  

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ الغاشیۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ کی روشنی میں
زمانہ نزول :

سورت کا پورا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بھی ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر یہ وہ زمانہ تھا جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تبلیغِ عام شروع کر چکے تھے اور مکہ کے لوگ بالعموم اسے سن سن کر نظر انداز کیے جا رہے تھے۔
موضوع اور مضمون :

اس کے موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغ زیادہ تر دو ہی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کرنے پر مرکوز تھی۔ ایک توحید، دوسرے آخرت اور اہل مکہ ان دونوں باتوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضمون اور انداز بیاں پر غور کیجیے۔
اس میں سب سے پہلے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے اچانک ان کے سامنے ایک سوال پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں اس وقت کی بھی کچھ خبر ہے جب سارے عالم پر چھا جانے والی ایک آفت نازل ہوگی؟ اس کے بعد فوراً بعد ہی تفصیل بیان کرنی شروع کر دی گئی ہے کہ اس وقت سارے انسان دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر دو مختلف انجام دیکھیں گے۔ ایک وہ جو جہنم میں جائیں گے اور انہیں ایسے اور ایسے سخت عذاب جھیلنے ہوں گے۔ دوسرے وہ جو عالی مقام جنت میں جائیں گے اور ان کو ایسی اور ایسی نعمتیں میسر ہوں گی۔
اس طرح لوگوں کو چونکانے کے بعد یکلخت مضمون تبدیل ہوتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو قرآن کی تعلیمِ توحید اور خبرِ آخرت کو سن کر ناک بھوں چڑھا رہے ہیں، اپنے سامنے کی ان چیزوں کو نہیں دیکھتے جن سے ہر وقت انہیں سابقہ پیش آتا ہے؟ عرب کے صحرا میں جن اونٹوں پر ان کی ساری زندگی کا انحصار ہے، کبھی یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ کیسے ٹھیک انہیں خصوصیات کے مطابق بن گئے جیسی خصوصیات کے جانور کی ضرورت ان کی صحرائی زندگی کے لیے تھی؟ اپنے سفروں میں جب یہ چلتے ہیں تو انہیں یہ آسمان نظر  آتا ہے، یا پہاڑ، یا زمین۔ انہی تین چیزوں پر یہ غور کریں۔ اوپر یہ آسمان کیسے چھا گیا؟ سامنے یہ پہاڑ کیسے کھڑے ہو گئے؟ نیچے یہ زمین کیسے بچھ گئی؟ کیا یہ سب کچھ کسی قادر مطلق صانعِ حکیم کی کاریگری کے بغیر ہو گیا ہے؟ اگر یہ مانتے ہیں کہ ایک خالق نے بڑی حکمت اور بڑی قدرت کے ساتھ ان چیزوں کو بنایا ہے، اور کوئی دوسرا ان کی تخلیق میں شریک نہیں ہے، تو اسی کو اکیلا رب ماننے سے انہیں کیوں انکار ہے؟ اور اگر یہ مانتے ہیں کہ وہ خدا یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر تھا، تو آخر کس معقول دلیل سے انہیں یہ ماننے میں تامل ہے کہ وہی خدا قیامت لانے پربھی قادر ہے؟ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے؟ جنت اور دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے؟
اس مختصر اور نہایت معقول استدلال سے بات سمجھانے کے بعد کفار کی طرف سے رخ پھیر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں، تم ان پر جبار بنا کر تو مسلط کیے نہیں گئے ہو کہ زبردستی ان سے منوا کر ہی چھوڑو۔ تمہارا کام نصیحت کرنا ہے، سو تم نصیحت کیے جاؤ۔ آخرکار انہیں آنا ہمارے ہی پاس ہے۔ اس وقت ہم ان سے پورا پورا حساب لیں گے اور نہ ماننے والوں کو بھاری سزا دیں گے۔
(مزید تفسیری حاشیوں کے لے ترجمہ میں درج نمبروں پر کلک کریں )





بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ الۡغَاشِیَۃِ ؕ﴿۱﴾ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ ۙ﴿۲﴾ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾ تَصۡلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ﴿۴﴾ تُسۡقٰی مِنۡ عَیۡنٍ اٰنِیَۃٍ ؕ﴿۵﴾ لَیۡسَ لَہُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِیۡعٍ ۙ﴿۶﴾ لَّا یُسۡمِنُ وَ لَا یُغۡنِیۡ مِنۡ جُوۡعٍ ؕ﴿۷﴾ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاعِمَۃٌ ۙ﴿۸﴾ لِّسَعۡیِہَا رَاضِیَۃٌ ۙ﴿۹﴾ فِیۡ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ ﴿ۙ۱۰﴾ لَّا تَسۡمَعُ فِیۡہَا لَاغِیَۃً ﴿ؕ۱۱﴾ فِیۡہَا عَیۡنٌ جَارِیَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾ فِیۡہَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۳﴾ وَّ اَکۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾ وَّ نَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَۃٌ ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ زَرَابِیُّ مَبۡثُوۡثَۃٌ ﴿ؕ۱۶﴾ اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ﴿ٝ۱۷﴾ وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ ﴿ٝ۱۸﴾ وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾ وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ ﴿ٝ۲۰﴾ فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰی وَ کَفَرَ ﴿ۙ۲۳﴾ فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الۡعَذَابَ الۡاَکۡبَرَ ﴿ؕ۲۴﴾ اِنَّ اِلَیۡنَاۤ اِیَابَہُمۡ ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا حِسَابَہُمۡ ﴿٪۲۶﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے1 ؟ کچھ چہرے2 اُس روز خوف زدہ ہوں گے، سخت مشقت کر رہے ہوں گے، تھکے جاتے ہوں گے، شدید آگ میں جھُلس رہے ہوں گے، کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا، خاردار سُوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ3 ہوگا، جو نہ موٹا کرے نہ بھُوک مٹائے ۔ کچھ چہرے اُس روز بارونق ہوں گے، اپنی کار گزاری پر خوش ہوں گے4، عالی مقام جنّت میں ہوں گے، کوئی بےہودہ بات وہاں نہ سُنیں گے5، اُس میں چشمے رواں ہوں گے، اُس کے اندر اُونچی مسندیں ہوں گی، ساغر رکھے ہوئے ہوں گے6، گاوٴ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔
﴿یہ لوگ نہیں مانتے﴾ تو کیا یہ اُونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟ آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اُٹھایا گیا؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی7؟
اچھاتو ﴿اے نبی ؐ ﴾ نصیحت کیے جاوٴ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو8۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اس کی بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے، پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمّہ ہے۔ ؏

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، مفکراسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )

 اس موضوع سے متعلق مزید مطالعہ کریں :

1-  آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات سورۃ الفجر کی روشنی میں

قیامت اور آخرت کا اثبات

قیامت اور آخرت کا اثبات اور سُوْرَةُ الْمُرْسَلٰت کے دلائل 


نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ المرسلٰت کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کا پورا مضمون یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کی دو سورتیں سورہ قیامہ، اور سورہ دہر، اور اس کے بعد کی دو سورتیں، سورہ نبا اور سورہ نازعات اگر ملا کر پڑھی جائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی دور کی نازل شدہ سورتیں ہیں اور ایک ہی مضمون ہے جس کو ان میں مختلف پیرایوں سے اہل مکہ کے ذہن نشین کرایا گیا ہے۔


موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع قیامت اور آخرت کا اثبات، اور ان نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا ہے جو ان حقائق کے انکار اور اقرار سے آخرکار برآمد ہوں گے۔
پہلی سات آیتوں میں ہواؤں کے انتظام کو اس حقیقت پر گواہ قرار دیا گیا ہے کہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس قیامت کے آنے کی خبر دے رہے ہیں وہ ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ ان میں استدلال یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے زمین پر یہ حیرت انگیز انتظام قائم کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتی، اور جو صریح حکمت اس انتظام میں کارفرما نظر آ رہی ہے وہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آخرت ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ حکیم کا کوئی فعل عبث اور بے مقصد نہیں ہو سکتا، اور آخرت نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہے کہ یہ سارا کارخانۂ ہستی سراسر فضول ہے۔
اہل مکہ بار بار کہتے تھے کہ جس قیامت سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو اسے لا کر دکھاؤ تب ہم اسے مانیں گے۔ آیت 8 سے 15 تک ان کے اس مطالبے کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ کوئی کھیل یا تماشا نہیں ہے کہ جب کوئی مسخرا اسے دکھانے کا مطالبہ کرے اسی وقت وہ فوراً دکھا دیا جائے۔ وہ تو تمام نوع انسانی، اور اس کے تمام افراد کے مقدمے کے فیصلے کا دن ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالٰی نے ایک خاص وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی وقت پر وہ آئے گا اور جب آئے گا تو ایسی ہولناک شکل میں آئے گا کہ آج جو لوگ مذاق کے طور پر اس کا مطالبہ کر رہے ہیں اس وقت ان کے حواس باختہ ہو جائیں گے۔ اس وقت انہی رسولوں کی شہادتوں پر ان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا جن کی دی ہوئی خبر کو یہ منکرین آج بڑی بے باکی کے ساتھ جھٹلا رہے ہیں، پھر انہیں خود پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کیا ہے۔
آیت 16 سے 28 تک مسلسل قیامت اور آخرت کے وقوع اور وجوب کے دلائل دیے گئے ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی اپنی تاریخ، اس کی اپنی پیدائش، اور جس زمین پر وہ زندگی بسر کر رہا ہے اس کی اپنی ساخت اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ قیامت کا آنا اور عالم آخرت کا برپا ہونا ممکن بھی ہے اور اللہ تعالٰی کی حکمت کا تقاضا بھی۔ انسانی تاریخ بتا رہی ہے کہ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ آخرکار بگڑیں اور تباہی سے دوچار ہوئیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آخرت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی قوم کا رویہ اگر متصادم ہو تو اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو اس اندھے کا انجام ہوتا ہے جو سامنے آتی ہوئی گاڑی کے مقابلے میں بگ ٹٹ چلا جا رہا ہو اور اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ کائنات کی سلطنت میں صرف قوانین طبیعی (Physical laws) ہی کارفرما نہیں ہیں بلکہ ایک قانون اخلاقی (Moral law) بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت خود اس دنیا میں بھی مکافات عمل کا سلسلہ جاری ہے لیکن دنیا کی موجودگی زندگی میں یہ مکافات چونکہ اپنی کامل و مکمل صورت میں واقع نہیں ہو رہی ہے اس لیے کائنات کا اخلاقی قانون لازماً یہ تقاضا کرتا ہے کہ کوئی وقت ایسا آئے جب یہ بھرپور طریقے سے واقع ہو اور ان تمام بھلائیوں اور برائیوں کی پوری جزا و سزا دی جائے جو یہاں جزا سے محروم رہ گئی ہیں یا سزا سے بچ نکلی ہیں۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو، اور انسان کی پیدائش دنیا میں جس طرح ہوتی ہے اس پر اگر انسان غور کرے تو اس کی عقل –بشرطیکہ وہ سلیم ہو—اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کر سکتی کہ جس خدا نے ایک حقیر نطفہ سے ابتداء کر کے اسے پورا آدمی بنایا ہے اس کے لیے اسی آدمی کو پھر پیدا کر دینا یقیناً ممکن ہے۔ زندگی بھر انسان جس زمین پر رہتا ہے، مرنے کے اس کےاجزائے جسم کہیں غائب نہیں ہو جاتے، اسی زمین پر ان کا ایک ایک ذرہ موجود رہتا ہے۔ اسی زمین کے خزانوں سے وہ بنتا اور پھلتا پھولتا اور پرورش پاتا ہے، اور پھر اسی زمین کے خزانوں میں واپس جمع ہو جاتا ہے۔ جس خدا نے اسے پہلے زمین کے ان خزانوں سے نکالا تھا وہی ان میں جمع ہوجانے کے بعد اسے پھر ان سے نکال لا سکتا ہے۔ اس کی قدرت پر غور کرو تو تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ ایسا کر سکتا ہے اور اس کی حکمت پر غور کرو تو تم اس سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ زمین پر جو اختیارات اس نے تمہیں دیے ہیں ان کے صحیح اور غلط استعمال کا حساب لینا یقیناً اس کی حکمت کا تقاضا ہے اور بلا حساب چھوڑ دینا سراسر حکمت کے خلاف ہے۔
اس کے بعد آیات 28 سے 40 تک آحرت کے منکرین کا، اور 41 سے 45 تک ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اس پر ایمان لا کر دنیا میں اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی ہے، اور عقائد و افکار، اخلاق و اعمال، اور سیرت و کردار کی ان برائیوں سے اجتناب کیا ہے جو چاہے آدمی کی دنیا بناتی ہوں مگر اس کی عاقبت خراب کر دینے والی ہوں۔
آخرت میں منکرین آخرت اور خدا کی بندگی سے منہ موڑنے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو کچھ مزے اڑانے ہیں اڑا لو آخر کار تمہارا انجام سخت تباہ کن ہوگا اور بات اس پر ختم کی گئی ہے کہ اس قرآن سے بھی جو شخص ہدایت نہ پائے اسے پھر دنیا میں کوئی چیز ہدایت نہیں دے سکتی۔


(مزید تفسیر کے لیے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۙ﴿۱﴾ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۙ﴿۲﴾ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشۡرًا ۙ﴿۳﴾ فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ﴿۴﴾ فَالۡمُلۡقِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۵﴾ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ﴿۶﴾ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۷﴾ فَاِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتۡ ۙ﴿۸﴾ وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتۡ ۙ﴿۹﴾ وَ اِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡ ﴿ۙ۱۰﴾ وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡ ﴿ؕ۱۱﴾ لِاَیِّ یَوۡمٍ اُجِّلَتۡ ﴿ؕ۱۲﴾ لِیَوۡمِ الۡفَصۡلِ ﴿ۚ۱۳﴾ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۵﴾ اَلَمۡ نُہۡلِکِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾ ثُمَّ نُتۡبِعُہُمُ الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾ کَذٰلِکَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۸﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۹﴾ اَلَمۡ نَخۡلُقۡکُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾ فَجَعَلۡنٰہُ فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ ﴿ۙ۲۱﴾ اِلٰی قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿ۙ۲۲﴾ فَقَدَرۡنَا ٭ۖ فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ ﴿۲۳﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۴﴾ اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾ اَحۡیَآءً وَّ اَمۡوَاتًا ﴿ۙ۲۶﴾ وَّ جَعَلۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسۡقَیۡنٰکُمۡ مَّآءً فُرَاتًا ﴿ؕ۲۷﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۸﴾ اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾ اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾ لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾ اِنَّہَا تَرۡمِیۡ بِشَرَرٍ کَالۡقَصۡرِ ﴿ۚ۳۲﴾ کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ﴿ؕ۳۳﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۴﴾ ہٰذَا یَوۡمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾ وَ لَا یُؤۡذَنُ لَہُمۡ فَیَعۡتَذِرُوۡنَ ﴿۳۶﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۳۷﴾ ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ ۚ جَمَعۡنٰکُمۡ وَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۳۸﴾ فَاِنۡ کَانَ لَکُمۡ کَیۡدٌ فَکِیۡدُوۡنِ ﴿۳۹﴾ وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے اُن ﴿ہواوٴں ﴾ کی جو پے درپے بھیجی جاتی ہیں، پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں اور ﴿بادلوں کو ﴾ اُٹھا کر پھیلاتی ہیں، پھر ﴿ اُن کو﴾ پھاڑ کر جُدا کرتی ہیں، پھر ﴿دلوں میں خدا کی﴾ یاد ڈالتی ہیں، عُذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر1 ، جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے2 وہ ضرور واقع ہونے والی ہے3۔
پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے4 ، اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا5، اور پہاڑ دُھنَک ڈالے جائیں گے، اور رسُولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا6﴿ا س روز وہ چیز واقع ہوجائے گی﴾ ۔ کِس روز کے لیے کام اُٹھا رکھا گیا ہے؟ فیصلے کے روز کے لیے ۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ تباہی ہے اُس دن جُھٹلانے والوں کےلیے7۔
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا8؟ پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں9 گے۔ مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے10۔
کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا اور ایک مقرر مدت تک11 اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا12؟ تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں13 ۔ تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے14۔
کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا، زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی، اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا15؟ تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے16۔
چلو17 اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے ۔ چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے18، نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لَپَٹ سے بچانے والا۔ وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چِنگاریاں پھینکے گی﴿جو اُچھلتی ہوئی یُوں محسُوس ہوں گی﴾ گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں19۔ تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے۔
یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں20۔ تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے۔
یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے۔ اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو21۔ تباہی ہے اُس دن جھُٹلانے والوں کے لیے ۔ ؏١



(ماخوز از تفہیم القرآن، جلد ششم ، مولانا سیدابوالاعلی مودویؒ )

تصور قیامت پر قرآنی دلائل

 تصور قیامت کے منکرین کے لئے  سُوْرَةُ النَّبَا کے دلائل 


نام :

دوسری آیت کے فقرے عن النبا العظیم کے لفظ النبا کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے، اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس سورت کے مضامین کا عنوان بھی ہے، کیونکہ نبا سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے اور سورت میں ساری بحث اسی پر کی گئی ہے۔
زمانۂ نزول :

سورۂ قیامہ سے سورۂ نازعات تک سب سورتوں کا مضمون ایک دوسرے سے مشابہ ہے اور یہ سب مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔
موضوع اور مضمون :

اس کا مضمون بھی وہی ہے جو سورۂ مرسلات کا ہے، یعنی قیامت اور آخرت کا اثبات اور اس کو ماننے یا نہ ماننے کے نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا۔
مکۂ معظمہ میں جب اول اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کی خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہو جآئے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اسی جسم کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس محاسبہ میں جو لوگ مومن و صالح ثابت ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر و فاسق ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔
ان تینوں باتوں میں سے پہلی بات اگرچہ اہل مکہ کو سخت ناگوار تھی، لیکن بہرحال وہ اللہ تعالٰی کی ہستی کے منکر نہ تھے، اس کے رب اعلٰی اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے، اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اس لیے جھگڑا صرف اس امر میں تھا کہ دائی کی صفات و اختیارات میں اور الوہیت کی ذات میں ان کی کوئی شرکت ہے یا نہیں۔
دوسری بات کو مکے کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے، مگر اس امر سے انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعوائے رسالت سے پہلے انہی کے درمیان گزاری تھی، اس میں انہوں نے کبھی آپ کو جھوٹا یا فریب کار، یا نفسانی اغراض کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے والا نہ پایا تھا۔ وہ خود آپ کی دانائی و فرزانگی، سلامت روی اور اخلاق کی بلندی کے قائل و معترف تھے۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے باوجود انہیں دوسروں کو باور کرانا تو درکنار، اپنی جگہ خود بھی یہ باور کرنے میں سخت مشکل پیش آ رہی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سارے معاملات میں تو راست باز ہیں مگر صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جھوٹے ہیں۔
اس طرح پہلی دو باتیں اہل مکہ کے لیے دراصل اتنی زیادہ الجھن کی موجب نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ اس کو جب ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں سب سے زیادہ اسی کا مذاق اڑایا، اسی پر سب سے بڑھ کر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا، اور اسے بالکل بعید از عقل و امکان سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابل یقین بلکہ ناقابل تصور ہونے کے چرچے کرنے شروع کر دیے۔ مگر اسلام کی راہ پر ان کو لانے کے لیے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا عقیدہ ان کے ذہن میں اتارا جائے، کیونکہ اس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملے میںان کا طرز فکر سنجیدہ ہو سکتا، خیر و شر کے معاملہ میں ان کا معیارِ اقدار بدل سکتا، اور دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام ان کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے، البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی خود بخود ذہن نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اور بیچ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن کے برحق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دیے گئے ہیں۔
اس دور کی سورتوں میں آخرت کے مضمون کی اس تکرار کا سبب اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضامین پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اس میں سب سے پہلے ان چرچوں اور چہ میگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قیامت کی خبر سن کر مکہ کے ہر کوچہ و بازار اور اہل مکہ کی ہر محفل میں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں یہ زمین نظر نہیں آتی جسے ہم نے تمہارے لیے فرش بنا رکھا ہے؟ کیا یہ بلند و بالا پہاڑ تمہیں نظر نہیں آتے جنہیں ہم نے زمین میں گاڑ رکھا ہے؟ کیا تم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہم نے تمہیں مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے؟ کیا تم اپنی نیند کو نہیں دیکھتے جس کے ذریعے ہم نے تم کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد ہر چند گھنٹے آرام لینے پر مجبور کر رکھا ہے؟ کیا تم رات اور دن کی آمدورفت کو نہیں دیکھتے جسے ٹھیک تمہاری ضرورت کے مطابق ہم باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں؟ کیا تم اپنے اوپر آسمانوں کے مضبوط بندھے ہوئے نظام کو نہیں دیکھتے؟ کیا یہ سورج تمہیں نظر نہیں آتا جس کی بدولت ہمیں روشنی اور حرارت میسر آ رہی ہے؟ کیا تم ان بارشوں کو نہیں دیکھتے جو بادلوں سے برس رہی ہیں اور ان کے ذریعے سے غلے اور سبزیاں اور گھنے باغ اگ رہے ہیں؟ یہ ساری چیزیں کیا تمہیں یہی بتا رہی ہیں کہ جس قادر مطلق نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت لانے اور آخرت برپا کرنے سے عاجز ہے؟ اور اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے کیا اس کو دیکھتے ہوئے تمہاری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہے مگر بجائے خود پورا کارخانہ بے مقصد ہے؟ آخر اس سے زیادہ لغو اور بے معنی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کارخانے میں انسان کو پیش دست (Foreman) کے منصب پر مامور کر کے اسے یہاں بڑے وسیع اختیارات تو دے دیے جائیں مگر جب وہ اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے؟ نہ کام بنانے پر پنشن اور انعام، نہ کام بگاڑنے پر بازپرس اور سزا؟
یہ دلائل دینے کے بعد پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ فیصلے کا دن یقیناً اپنے مقرر وقت پر آ کر رہے گا۔ صور میں بس ایک پھونک مارنے کی دیر ہے، وہ سب کچھ جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے سامنے آ جائے گا اور تم آج چاہے مانو یا نہ مانو، اس وقت جہاں جہاں بھی تم مرے پڑے ہوگے وہاں سے فوج در فوج اپنا حساب دینے کے لیے نکل آؤ گے۔ تمہارا انکار اس واقعہ کو پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔
اس کے بعد آیت 21 سے 30 تک بتایا گیا ہے کہ جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے ہاں لکھا ہوا ہے، اور ان کی خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے تیار ہے جہاں ان کے اعمال کا بھرپور بدلہ انہیں دیا جائے گا۔ پھر آیت 31 سے 36 تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب دہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کر لی ہے، اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انہیں ان کی خدمات ک صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زائد کافی انعام بھی دیا جائے گا۔
آخر میں خدا کی عدالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں کسی کے اَڑ کر بیٹھ جانے اور اپنے متوسلین کو بخشوا کر چھوڑنے کا کیا سوال، کوئی بلا اجازت زبان تک نہ کھول سکے گا، اور اجازت بھی اس شرط کے ساتھ ملے گی کہ جس کے حق میں سفارش کا اذن ہو صرف اسی کے لیے سفارش کرے اور سفارش میں کوئی بے جا بات نہ کہے۔ نیز سفارش کی اجازت صرف ان لوگوں کے حق میں دی جائے گی جو دنیا میں کلمۂ حق کے قائل رہے ہیں اور محض گناہ گار ہیں۔ خدا کے باغی اور حق کے منکر کسی سفارش کے مستحق نہ ہوں گے۔ پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا ہے کہ جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ قریب ہی آ لگا ہے، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے لیکن اس تنبیہ کے باوجود جو اس سے انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آ جائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ اس وقت اس کا یہ احساس اسی دنیا کے بارے میں ہوگا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ ثُمَّ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾ اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾ وَّ الۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ﴿۪ۙ۷﴾ وَّ خَلَقۡنٰکُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ﴿۸﴾ وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾ وَّ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾ وَّ جَعَلۡنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ﴿۪۱۱﴾ وَّ بَنَیۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا ﴿۪ۙ۱۳﴾ وَّ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ﴿ۙ۱۴﴾ لِّنُخۡرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ جَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ﴿ؕ۱۶﴾ اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾ یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا ﴿ۙ۱۸﴾ وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ سُیِّرَتِ الۡجِبَالُ فَکَانَتۡ سَرَابًا ﴿ؕ۲۰﴾ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا ﴿۪ۙ۲۱﴾ لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا ﴿ۙ۲۲﴾ لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحۡقَابًا ﴿ۚ۲۳﴾ لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا بَرۡدًا وَّ لَا شَرَابًا ﴿ۙ۲۴﴾ اِلَّا حَمِیۡمًا وَّ غَسَّاقًا ﴿ۙ۲۵﴾ جَزَآءً وِّفَاقًا ﴿ؕ۲۶﴾ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ حِسَابًا ﴿ۙ۲۷﴾ وَّ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا ﴿ؕ۲۸﴾ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا ﴿ۙ۲۹﴾ فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِیۡدَکُمۡ اِلَّا عَذَابًا ﴿٪۳۰﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں1؟ ہر گز نہیں2، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا۔ ہاں، ہر گز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا3۔
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا4، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ5 دیا، اور تمہیں﴿ مَردوں اور عورتوں کے﴾ جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا6 ، اور تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا7، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا8، اور تمہارے اوپر سات مضبُوط آسمان قائم کیے9، اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا10، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعہ سے غلّہ اور سبزی اور گھنے باغ اُگائیں11؟
بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے ، جس روز صور میں پھُونک ما ر دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آوٴ گے12۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا حتٰی کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا، اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے13۔
در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے14، سرکشوں کا ٹھکانا ، جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں15 گے۔ اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے، کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون16، ﴿اُن کے کرتُوتوں﴾ کا بھر پُور بدلہ۔ وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا17، اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی18۔ اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہر گز اضافہ نہ کریں گے۔ ؏١


(تفہیم القرآن ، سید ابولاعلی مودودی ؒ )

قیامت کا منظر سُوْرَةُ الزِّلْزَال کی روشنی میں

زمانۂ نزول

اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عطاء، جابر اور مجاہد کہتے ہیں کہ یہ مکی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ایک قول اس کی تائید کرتا ہے۔ بخلاف اس کے قتادہ اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ مدنی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی دوسرا قول اس کے مدنی ہونے کی تائید میں نقل ہوا ہے۔

 اس کے مدنی ہونے پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اُس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے جو ابن ابی حاتم نے ان سے نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثال ذرۃ شرا یرہ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں اپنا عمل دیکھنے والا ہوں؟ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں، میں نے عرض کیا "یہ بڑے بڑے گناہ؟" آپ نے جواب دیا "ہاں" میں نے عرض کیا "اور یہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی؟" حضور نے فرمایا ہاں۔ اس پر میں نے کہا "پھر تو میں مارا گیا؟" حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا "خوش ہو جاؤ اے ابو سعید، کیونکہ ہر نیکی اپنے جیسی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔" اس حدیث سے اس سورت کے مدنی ہونے پر استدلال کی بنا یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری مدینے کے رہنے والے تھے اور غزوۂ احد کے بعد سن بلوغ کو پہنچے۔ اس لیے اگر یہ سورت ان کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی، جیسا کہ ان کے بیان سے ظاہر ہے، تو اسے مدنی ہونا چاہیے لیکن صحابہ اور تابعین کا جو طریقہ آیات اور سورتوں کی شان نزول کے بارے میں تھا، اس کی تشریح سورۂ دہر کے مضمون میں بیان کی جا چکی ہے، اس لیے کسی صحابی کا یہ کہنا ہے کہ یہ آیت فلاں موقع پر نازل ہوئي، اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا نزول اسی وقت ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو سعید نے ہوش سنبھالنے کے بعد جب پہلی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے یہ سورت سنی ہو اس وقت اس کے آخری حصے سے خوف زدہ ہو کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے وہ سوالات کیے ہوں جو اوپر درج کیے گئے ہیں اور اس واقعہ کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہو کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ عرض کیا۔ اگر یہ روایت سامنے نہ ہو تو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے والا ہر شخص یہی محسوس کرے گا کہ یہ مکی سورت ہے، بلکہ اس کے مضمون اور اندازِ بیان سے تو اس کو یہ محسوس ہوگا کہ یہ مکہ کے بھی اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہوگی جب نہایت مختصر اور انتہائی دلنشین طریقہ سے اسلام کے بنیادی عقائد لوگوں کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے۔ 

موضوع اور مضمون


اس کا موضوع ہے موت کے بعد دوسری زندگی اور اس میں ان سب اعمال کا پورا کچا چٹھا انسان کے سامنے آ جانا جو اس نے دنیا میں کیے تھے۔ سب سے پہلے تین مختصر تقریروں میں یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی کس طرح واقع ہوگی اور وہ انسان کے لیے کیسی حیران کن ہوگی۔ پھر دو فقروں میں بتایا گیا ہے کہ یہی زمین جس پر رہ کر انسان نے بے فکری کے ساتھ ہر طرح کے اعمال کیے ہیں، اور جس کے متعلق کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ یہ بے جان چیز کسی وقت اس کے افعال کی گواہی دے گی، اس روز اللہ تعالٰی کے حکم سے بول پڑے گی اور ایک ایک انسان کے متعلق یہ بیان کردے گی کہ کس وقت کہاں اس نے کیا کام کیا تھا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس دن زمین کے گوشے گوشے سے انسان گروہ در گروہ اپنے مرقدوں سے نکل نکل کر آئیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں، اور اعمال کی یہ پیشی ایسی مکمل اور مفصل ہوگی کہ کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہ رہ جائے گی جو سامنے نہ آ جائے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَہَا ۙ﴿۱﴾ وَ اَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَہَا ۙ﴿۲﴾ وَ قَالَ الۡاِنۡسَانُ مَا لَہَا ۚ﴿۳﴾ یَوۡمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَہَا ۙ﴿۴﴾ بِاَنَّ رَبَّکَ اَوۡحٰی لَہَا ؕ﴿۵﴾ یَوۡمَئِذٍ یَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوۡا اَعۡمَالَہُمۡ ؕ﴿۶﴾ فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
جب زمین اپنی پُوری شدّت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی(1) ، اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی،(2) اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے،(3) اُس روز وہ اپنے ﴿اُوپر گزرے ہوئے﴾ حالات بیان کرے گی،(4) کیونکہ تیرے ربّ نے اُسے ﴿ایسا کرنے کا ﴾ حکم دیا ہوگا۔ اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے (5) تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔(6) پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔(7)   ؏

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 1

اصل الفاظ ہیں زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا۔ زلزلہ کے معنی پے در پے زور زور سے حرکت کرنے کے ہیں۔ پس زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو جھٹکے پر جھٹکے دے کر شدت کے ساتھ ہلا ڈالا جائے گا۔ اور چونکہ زمین کو ہلانے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ زمین کا کوئی مقام یا کوئی حصہ یا علاقہ نہیں بلکہ پوری کی پوری زمین ہلا ماری جائے گی۔ پھر اس زلزلے کی مزید شدت کو ظاہر کرنے کے لیے زِلْزَالَهَا کا اس پر اضافہ کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں " اس کا ہلایا جانا " اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ایسا ہلایا جائے گا جیسا اس جیسے عظیم کرے کو ہلانے کا حق ہے، یا جو اس کے ہلائے جانے کی انتہائی ممکن شدت ہوسکتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس زلزلے سے مراد وہ پہلا زلزلہ لیا ہے جس سے قیامت کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا یعنی جب ساری مخلوق ہلاک ہوجائے گا اور دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ لیکن مفسرین کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جس سے قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، یعنی جب تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ زندہ ہوکر اٹھیں گے۔ یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعد کا سارا مضمون اسی پر دلالت کرتا ہے۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 2
یہ وہی مضمون ہے جو سورۃ انشقاق آیت 4 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا وَتَخَلَّتْ " اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی" اس کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہاں جس شکل اور جس حالت میں بھی پڑے ہوں گے ان سب کو وہ نکال کر باہر ڈال دے گی، اور بعد کا فقرہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت ان کے جسم کے تمام بکھرے ہوئے اجزاء جمع ہوکر از سر نو اسی شکل و صورت میں زندہ ہوجائیں گے جس میں وہ پہلی زندگی کی حالت میں تھے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں گے کہ زمین کو یہ کیا ہورہا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مرے ہوئے انسانوں ہی کو وہ باہر نکال پھینکنے پر اکتفا نہ کرے گی، بلکہ ان کو پہلی زندگی کے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات کی شہادتوں کا جو انبار اس کی تہوں میں دبا پڑا ہے اس سب کو بھی وہ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اس پر بعد کا یہ فقرہ دلالت کرتا ہے کہ زمین اپنے اوپر گزرے حالات بیان کرے گی۔ تیسرا مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ سونا، چاندی، جواہر اور ہر قسم کی دولت جو زمین کے پیٹ میں ہے اس کے بھی ڈھیر کے ڈھیر وہ باہر نکال کر رکھ دے گی اور انسان دیکھے گا کہ یہی ہیں وہ چیزیں جن پر وہ دنیا میں مرا جاتا تھا، جن کی خاطر اس نے قتل کیے، حق داروں کے حقوق مارے، چوریاں کیں، ڈاکے دالے، خشکی اور تری میں قزاقیاں کیں، جنگ کے معرکے برپا کیے اور پوری قوموں کو تباہ کر ڈالا۔ آج وہ سب کچھ سامنے موجود ہے اور اس کے کسی کام کا نہیں ہے بلکہ الٹا اس کے لیے عذاب کا سامان بنا ہوا ہے۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 3
انسان سے مراد ہر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ زندہ ہوکر ہوش میں آتے ہی پہلا تاثر ہر شخص پر یہی ہوگا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے، بعد میں اس پر یہ بات کھلے گی کہ یہ روز محشر ہے۔ اور انسان سے مراد آخرت کا منکر انسان بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ جس چیز کو وہ غیر ممکن سمجھتا تھا وہ اس کے سامنے برپا ہورہی ہوگی اور وہ اس پر حیران و پریشان ہوگا۔ رہے اہل ایمان تو ان پر یہ حیرانی و پریشانی طاری نہ ہوگی، اس لیے کہ سب کچھ ان کے عقیدہ و یقین کے مطابق ہورہا ہوگا۔ ایک حد تک اس دوسرے معنی کی تائید سورۃ یسین کی آیت 52 کرتی ہے جس میں ذکر آیا ہے کہ اس وقت منکرین آخرت کہیں گے کہ مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا " کس نے ہمارے خواب گاہ سے ہمیں اٹھا دیا"؟ اور جواب ملے گا ۆھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۔ " یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں نے سچ کہا تھا"۔ یہ آیت اس معاملہ میں صریح نہیں ہے کہ کافروں کو یہ جواب اہل ایمان ہی دیں گے، کیونکہ آیت میں اس کی تصریح نہیں ہے، لیکن اس امر کا احتمال ضرور ہے کہ اہل ایمان کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 4
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا " جانتے ہو اس کے وہ حالات کیا ہیں"؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا " وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور بندی کے بارے میں اس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی" (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، عبد بن حمید، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب) حضرت ربیعہ الخرشی کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیاد ہے اور اس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے خواہ اچھا ہو یا برا"۔ (معجم الطبرانی) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " قیامت کے روز زمین ہر اس عمل کو لے آئے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا گیا ہو" پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائیں (ابن مردویہ، بیہقی) حضرت علی کے حالات میں لکھا ہے کہ جب آپ بیت المال کا سب روپیہ اہل حقوق میں تقسیم کر کے اسے خالی کر دیتے تو اس میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر فرماتے " تجھے گواہی دینی ہوگی کہ میں نے تجھ کو حق کے ساتھ بھرا اور حق ہی کے ساتھ خالی کردیا"۔

زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے روز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات اور واقعات بیان کرے گی، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کن ہوگی کہ آخر زمین کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علوم طبیعی کے اکتشافات اور سینما، لاؤڈاسپیکر، ریڈیو، ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈ، الیکڑانکس وغیرہ ایجادات کے اس دور میں یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان اپنی زبان سے جو کچھ بولتا ہے اس کے نقوش ہوا میں، ریڈیائی لہروں میں، گھروں کی دیواروں اور ان کے فرش اور چھت کے ذرے ذرے میں، اور اگر کسی سڑک یا میدان یا کھیت میں آدمی نے باتکی ہو تو ان سب کے ذرات میں ثبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس وقت چاہے ان ساری آوازوں کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں سے دہروا سکتا ہے جس طرح کبھی وہ انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔ انسان اپنے کانوں سے اس وقت سن لے گا کہ یہ اس کی اپنی ہی آوازیں ہیں، اور اس کے سب جاننے والے پہچان لیں گے کہ جو کچھ وہ سن رہے ہیں وہ اسی شخص کی آواز اور اسی کا لہجہ ہے۔ پھر انسان نے زمین پر جہاں جس حالت میں بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اس کے گرد و پیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور اس کی تصویر ان پر نقش ہوچکی ہے۔ بالکل گھپ اندھیرے میں بھی اس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں ایسی شعاعیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اجالا کوئی معنی نہیں رکھتا، وہ ہر حالت میں اس کی تصویر لے سکتی ہیں، یہ ساری تصویریں قیامت کے روز ایک متحرک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی اور یہ دکھا دیں گی کہ وہ زندگی بھر کس وقت، کہاں کہاں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو براہ راست خود جانتا ہے، مگر آخرت میں جب وہ عدالت قائم کرے گا تو جس کو بھی سزا دے گا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے دے گا۔ اس کی عدالت میں ہر مجرم انسان کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا جائے گا اس کو ایسی مکمل شہادتوں سے ثابت کردیا جائے گا کہ اس کے مجرم ہونے میں کسی کلام کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ سب سے پہلے تو وہ نامہ اعمال ہے جس میں ہر وقت اس کے ساتھ لگے ہو ٤ ے کراما کاتبین اس کے ایک ایک قول اور فعل کا ریکارڈ درج کر رہے ہیں (قٓ۔ آیات 17۔18۔ الانفطار آیات 1 تا 12) یہ نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ پڑھ اپنا کارنامہ حیات، اپنا حساب لینے کے لیے تو خود کافی ہے (بنی اسرائیل 14) انسان اسے پڑھ کر حیران رہ جائے گا کہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں ہے جو اس میں ٹھیک ٹھیک درج نہ ہو (الکہف 49) اس کے بعد انسان کا اپنا جسم ہے جس سے اس نے دنیا میں کام لیا ہے۔ اللہ کی عدالت میں اس کی اپنی زبان شہادت دے گی کہ اس سے وہ کیا کچھ بولتا رہا ہے، اس کے اپنے ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے کہ ان سے کیا کیا کام اس نے لیے ( النور 24) اس کی آنکھیں شہادت دیں گے، اس کے کان شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کیا کچھ سنا۔ اس کے جسم کی پوری کھال اس کے افعال کی شہادت دے گی۔ وہ حیران ہوکر اپنے اعضا سے کہے گا کہ تم بھی میرے خلاف گواہی دے رہے ہو؟ اس کے اعضا جواب دیں گے کہ آج جس خدا کے حکم سے ہر چیز بول رہی ہے اسی کے حکم سے ہم بھیبول رہے ہیں ( حم السجدہ 20 تا 24) اس پر مزید وہ شہادتیں ہیں جو زمین اور اس کے پورے ماحول سے پیش کی جائیں گی جن میں آدمی اپنی آوازیں خود اپنے کانوں سے اور اپنی حرکات کی ہوبہو تصویریں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ انسان کے دل میں جو خیالات، ارادے اور مقاصد چھپے ہوئے تھے، اور جن نیتوں کے ساتھ اس نے سارے اعمال کیے تھے وہ بھی نکال کر سامنے رکھ دیے جائیں گے، جیسا کہ آگے سورۃ عادیات میں آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے قطعی اور صریح اور ناقابل انکار ثبوت سامنے آجانے کے بعد انسان دم بخود رہ جائے گا اور اس کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کا موقع باقی نہ رہے گا (المرسلات، آیات 35۔36)

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 5
اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں ہوگا، خاندان، جتھے، پارٹیاں، قومیں سب بکھر جائیں گی۔ یہ بات قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورۃ انعام میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روز لوگوں سے فرمائے گا کہ " لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا تھا" (آیت 94) اور سورۃ مریم میں فرمایا یہ " اکیلا ہمارے پاس آئے گا" (آیت 80) اور یہ کہ " ان میں سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہوگا" (آیت 95) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں جگہ جگہ مرے تھے، زمین کے گوشے گوشے سے گروہ در گروہ چلے آرہے ہوں گے، جیسا کہ سورۃ نباء میں فرمایا گیا " جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی تم فوج در فوج آجاؤ گے" ( آیت 18) اس کے علاوہ جو مطلب مختلف مفسرین نے بیان کیے ہیں ان کی گنجائش لفظ اشتاتا میں نہیں ہے، اس لیے ہمارے نزدیک وہ اس لفظ کے معنوی حدود سے باہر ہیں، اگرچہ بجائے خود صحیح ہیں اور قرآن و حدیث کے بیان کردہ احوال قیامت سے مطابقت رکھتے ہیں ۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 6
اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں، یعنی ہر ایک کو بتایا جائے کہ وہ دنیا میں کیا کر کے آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے۔ اگرچہ یہ دوسرے معنی بھی لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ کے لیے جاسکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے لِّيُرَوْا جَزٓاءَ اَعْمَالَهُمْ (تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے) نہیں فرمایا ہے بلکہ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ (تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں) فرمایا ہے۔ اس لیے پہلے معنی ہی قابل ترجیح ہیں، خصوصا جبکہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کافر و مومن، صالح و فاسق، تابع فرمان اور نافرمان، سب کو ان کے نامہ اعمال ضرور دیے جائیں گے ( مثال کے طور پر ملاحظۃ ہو الحاقہ آیات 19 و 25، اور الانشقاق، آیات 7 و 10) ظاہر ہے کہ کسی کو اس کے اعمال دکھانے، اور اس کارنامہ اعمال اس کے حوالہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ علاوہ بریں زمین جب اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات پیش کرے گی تو حق و باطل کی وہ کشمکش جو ابتدا سے برپا ہے اور قیامت تک برپا رہے گی، اس کا پورا نقشہ بھی سب کے سامنے آجائے گا، اور اس میں سب ہی دیکھ لیں گے کہ حق کے لیے کام کرنے والوں نے کیا کچھ کیا، اور باطل کی حمایت کرنے والوں نے ان کے مقابلہ میں کیا کیا حرکتیں کیں۔ بعید نہیں کہ ہدایت کی طرف بلانے والوں اور ضلالت پھیلانے والوں کی ساری تقریریں اور گفتگوئیں لوگ اپنے کانوں سے سن لیں۔ دونوں طرف کی تحریروں اور لٹریچر کا پورا ریکارڈ جوں کا توں سب کے سامنے لاکر رکھ دیا جائے۔ حق پرستوں باطل پرستوں کے ظلم، اور دونوں گروہوں کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں کے سارے مناظر میدان حشر کے حاضرین اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔

 سورة الزلزال حاشیہ نمبر : 7
اس ارشاد کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے اور یہ بالکل صحیح ہے کہ آدمی کی کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہیں ہوگی جو اس کے نامہ اعمال میں درج ہونے سے رہ گئی ہو، اسے وہ بہرحال دیکھ لے گا۔ لیکن اگر دیکھنے سے مراد اس کی جزا و سزا دیکھنا لیا جائے تو اس کا یہ مطلب لینا بالکل غلط ہے کہ آخرت میں ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی جزا اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بدی کی سزا ہر شخص کو دی جائے گی، اور کوئی شخص بھی وہاں اپنی کسی نیکی کی جزا اور کسی بدی کی سزا پانے سے نہ بچے گا۔ کیونکہ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ایک ایک برے عمل کی سزا اور ایک ایک اچھے عمل کی جزا الگ الگ دی جائے گی۔ دوسرے اسکے معنی یہ بھی ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا صالح مومن بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے قصور کی سزا پانے سے نہ بچے گا اور کوئی بدترین کافر و ظالم اور بدکار انسان بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے اچھے فعل کا اجر پائے بغیر نہ رہے گا۔ یہ دونوں معنی قرآن اور حدیث کی تصریحات کے بھی خلاف ہیں، اور عقل بھی اسے نہیں مانتی کہ یہ تقاضائے انصاف ہے۔ عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات آخر کیسے سمجھ میں آنے کے قابل ہے کہ آپ کا کوئی خادم نہایت وفادار اور خدمت گزار ہو، لیکن آپ اس کے کسی چھوٹے سے قصور کو بھی معاف نہ کریں، اور اس کی ایک ایک خدمت کا اجر و انعام دینے کے ساتھ اس کے ایک ایک قصور کو گن گن کر ہر ایک کی سزا بھی اسے دے ڈالیں۔ اسی طرح یہ بھی عقلا ناقابل فہم ہے کہ آپ کا پروردہ کوئی شخص جس پر آپ کے بےشمار احسانات ہوں، وہ آپ سے غداری اور بےوفائی کرے اور آپ کے احسانات کا جواب ہمیشہ نمک حرامی ہی سے دیتا رہے، مگر آپ اس کے مجموعی رویے کو نظر انداز کر کے اس کی ایک ایک غداری کی الگ سزا اور اس کی ایک ایک خدمت کی، خواہ وہ کسی وقت پانی لاکر دے دینے یا پنکھا جھل دینے ہی کی خدمت ہو، الگ جزا دیں۔ اب رہے قرآن و حدیث تو وہ وضاحت کے ساتھ مومن، منافق، کافر، مومن صالح، مومن خطاکار، مومن ظالم و فاسق، محض کافر، اور کافر مفسد و ظالم وغیرہ مختلف قسم کے لوگوں کی جزا و سزا کا ایک مفصل قانون بیان کرتے ہیں اور یہ جزا و سزا دنیا سے آخرت تک انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔

اس سلسلے میں قرآن مجید اصولی طور پر چند باتیں بالکل وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے :

اول یہ کہ کافر و مشرک اور منافق کے اعمال (یعنی وہ اعمال جن کو نیکی سمجھا جاتا ہے) ضائع کردیے گئے، آخرت میں وہ ان کا کوئی اجر نہیں پاسکیں گے، ان کا اگر کوئی اجر ہے بھی تو وہ دنیا ہی میں ان کو مل جائے گا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف 147۔ التوبہ 17۔67 تا 69۔ ہود 15۔16۔ ابراہیم 18۔ الکہف 104۔105۔ النور 39۔ الفرقان 23۔ الاحزاب 19۔ الزمر 65۔ الاحقاف 20۔

دوم یہ کہ بدی کی سزا اتنی ہی دی جائے گی جتنی بدی ہے، مگر نیکیوں کی جزا اصل فعل سے زیادہ دی جائے گی، بلکہ کہیں تصریح ہے کہ ہر نیکی کا اجر اس سے 10 گنا ہے، اور کہیں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ جتنا چاہے نیکی کا اجر بڑھا کر دے۔ ملاحظہ ہو البقرہ 261۔ الانعام 160۔ یونس 26۔27۔ النور 38۔ القصص 84۔ سباء 37۔ المومن 40۔

سوم یہ کہ مومن اگر بڑے گناہوں سے پرہیز کریں گے تو ان کے چھوٹے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ النساء 31۔ الشوری 37۔ النجم 32۔ 

چہارم یہ کہ مومن صالح سے ہلکا حساب لیا جائے گا، اس کی برائیوں سے درگزر کیا جائے گا اور اس کے بہترین اعمال کے لحاظ سے اس کو اجر دیا جائے گا۔ العنکبوت 7۔ الزمر 35۔ الاحقاف 16۔ الانشقاق 8۔

احادیث بھی اس معاملہ کو بالکل صاف کردیتی ہیں۔ اس سے پہلے ہم سورۃ انشقاق کی تفسیر میں وہ احادیث نقل کرچکے ہیں جو قیامت کے روز ہلکے حساب اور سخت حساب فہمی کی تشریح کرتے ہوئے حضور نے فرمائی ہیں (تفہیم القرآن، جلد ششم، الانشقاق، حاشیہ 6) حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ اتنے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ " یا رسول اللہ کیا میں اس ذرہ برابر برائی کا نتیجہ دیکھوں گا جو مجھ سے سرزد ہوئی"؟ حضور نے فرمایا " اے ابوبکر دنیا میں جو معاملہ بھی تمہیں ایسا پیش آتا ہے جو تمہیں ناگوار ہو وہ ان ذرہ برابر برائیوں کا بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوں، اور جو ذرہ برابر نیکیاں بھی تمہاری ہیں انہیں اللہ آخرت میں تمہارے لیے محفوظ رکھ رہا ہے" (ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی فی الاوسط، بیہقی فی الشعب، ابن المنذر، حاکم، ابن مردویہ، عبد بن حمید) حضرت ابو ایوب انصاری سے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ " تم میں سے جو شخص نیکی کرے گا اس کی جزا آخرت میں ہے اور جو کسی قسم کی برائی کرے گا وہ اسی دنیا میں اس کی سزا مصائب اور امراض کی شکل میں بھگت لے گا" (ابن مردویہ) قتادہ نے حضرت انس کے حوالہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ "اللہ تعالیٰ مومن پر ظلم نہیں کرتا، دنیا میں اس کی نیکیوں کے بدلے وہ رزق دیتا ہے اور آخرت میں ان کی جزا دے گا۔ رہا کافر، تو دنیا میں اس کی بھلائیوں کا بدلہ چکا دیا جاتا ہے، پھر جب قیامت ہوگی تو اس کے حساب میں کوئی نیکی نہ ہوگی" ( ابن جریر) مسروق حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ عبداللہ بن جدعان جاہلیت کے زمانہ میں صلح رحمی کرتا تھا، مسکین کو کھانا کھلاتا تھا، مہمان نواز تھا، اسیروں کو رہائی دلواتا تھا۔ کیا آخرت میں یہ اس کے لیے نافع ہوگا ؟ حضور نے فرمایا نہیں، اس نے مرتے وقت تک کبھی یہ نہیں کہا کہ رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین " میرے پروردگار، روز جزا میں میری خطا معاف کیجیو"۔ (ابن جریر) اسی کے جوابات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض اور لوگوں کے بارے میں بھی دیے ہیں جو جاہلیت کے زمانہ میں نیک کام کرتے تھے، مگر مرے کفر و شرک ہی کی حالت میں تھے۔ لیکن حضور کے بعض ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کی نیکی اسے جہنم کے عذاب سے تو نہیں بچا سکتی، البتہ جہنم میں اس کو وہ سخت سزا نہ دی جائے گی جو ظالم اور فاسق اور بدکار کافروں کو دی جائے گی۔ مثلا حدیث میں آیا ہے کہ حاتم طائی کی سخاوت کی وجہ سے اس کو ہلکا عذاب دیا جائے گا (روح المعانی)

تاہم یہ آیت انسان کو ایک بہت اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اپنا ایک وزق اور اپنی ایک قدر رکھتی ہے، اور یہی حال بدی کا بھی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں آنے والی چیز ہے، یونہی نظر انداز کر دینے والی چیز نہیں ہے۔ اس لیے کسی چھوٹی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں چاہیے، کیونکہا یسی بہت سی نیکیاں مل کر اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک بہت بڑی نیکی قرار پاسکتی ہیں، اور کسی چھوٹی سے چھوٹی بدی کا ارتکاب بھی نہ کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بہت سے چھوٹے گناہ مل کر گناہوں کا ایک انبار بن سکتے ہیں۔ یہی بات ہے جس کو متعدد احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عدی بن حاتم سے یہ روایت منقول ہے کہ حضور نے فرمایا " دوزخ کی آگ سے بچو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا دینے یا ایک اچھی بات کہنے ہی کے ذریعہ سے ہو"۔ انہی حضرت عدی سے صحیح روایت میں حضور کا یہ قول نقل ہوا ہے کہ " کسی نیک کام کو بھی حقیر نہ سمجھو خواہ وہ کسی پانی مانگنے والے کے برتن میں ایک ڈول ڈال دینا ہو، یا یہی نیکی ہو کہ تم اپنے کسی بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو"۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نے عورتوں کو خطاب کر کے فرمایا " اے مسلمان عورتو، کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہاں کوئی چیز بھیجنے کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی کیوں نہ ہو"۔ مسند احمد، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضور فرمایا کرتے تھے " اے عائشہ ان گناہوں سے بچی رہنا جن کو چھوٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ کے ہاں ان کی پرستش بھی ہونی ہے"۔ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا " خبردار، چھوٹے گناہوں سے بچ کر رہنا، کیونکہ وہ سب آدمی پر جمع ہوجائیں گے یہاں تک کہ اسے ہلاک کردیں گے"۔ (گناہ کبیرہ اور صغیرہ کے فرق کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، النساء حاشیہ 53۔ جلد پنجم، النجم حاشیہ 32)

(ماخوذ از تفہیم القرآن ج 6، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )