یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
جہنم کے کنارے کھڑا ہوا دوست۔۔۔۔۔۔۔
جنت : قرآن کے آئینے میں
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے جب انسان جنت کے تذکروں سے گزرتا ہے تو ایک نرمی، ایک امید، اور ایک عجیب سی کشش دل پر طاری ہو جاتی ہے۔ جنت، وہ ابدی مقام ہے جو انسان کے اعمالِ صالحہ کا بہترین انعام ہے۔ لیکن قرآن جنت کو صرف ایک مادی مقام کے طور پر نہیں پیش کرتا بلکہ یہ روح، عقل، قلب اور خواہشات کے ہر گوشے کو سیراب کرنے والی حقیقت ہے۔ یہ مضمون قرآن کے آئینے میں جنت کی حقیقت، اس کی نعمتیں، اس کے مکین، اور سب سے بڑی نعمت یعنی دیدارِ الٰہی پر روشنی ڈالے گا۔
1. جنت کا تعارف قرآن کی زبانی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
2. جنت کے باغات اور نہریں
جہنم: قرآن کے آئینے میں
قرآنِ مجید ہدایت کی کتاب ہے۔ وہ انسان کو صرف اچھائی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ برائی کے انجام سے خبردار بھی کرتا ہے۔ ان انجاموں میں سب سے خوفناک انجام "جہنم" ہے — ایک ایسی جگہ جہاں بندہ اپنے اعمال کے حساب کا تلخ پھل چکھتا ہے۔ قرآن مجید نے بارہا جہنم کا ذکر کیا ہے، نہ صرف ڈرانے کے لیے بلکہ انسان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے۔
1. جہنم کا مفہوم اور اس کے نام
"جہنم" کا لفظ عربی میں "گہرے، اندھیرے، اور بھڑکتی آگ" کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن نے اس کی کئی صورتیں اور نام ذکر کیے ہیں:
-
جہنم: عمومی نام، ہر نافرمان کے لیے
-
سعیر: بھڑکتی آگ
-
سقر: ایسی آگ جو جِلد کو جلا کر رکھ دے
-
لظیٰ: دہکتی ہوئی، شعلہ زن آگ
-
ہاویہ: گہرائیوں میں گرنے والی آگ
-
جحیم: تیز شعلوں والی آگ
”كَلَّا إِنَّهَا لَظَىٰ، نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ“
"ہرگز نہیں! وہ تو دہکتی ہوئی آگ ہے، جو کھال اتار لینے والی ہے۔" (الماعون: 15-16)
2. جہنم کے دروازے اور درجات
قرآن کے مطابق جہنم کے سات دروازے ہیں:
"وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ، لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُومٌ"
"اور یقیناً جہنم ان سب کا وعدہ کیا گیا مقام ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مقرر ہے۔" (الحجر: 43-44)
یہ دروازے مختلف گناہوں کے اعتبار سے تقسیم ہیں — کچھ منافقین کے لیے، کچھ کفار کے لیے، اور کچھ ان ظالموں کے لیے جنہوں نے دین کی روشنی کے باوجود ظلم کا راستہ اپنایا۔
قیامت: روشنی، عدالت اور فیصلے کا دن (سورۃ الزمرآیات: 67-75 کے تناظر میں)
وہ دن! جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، مگر اس کی لرزش دلوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ دن جب وقت تھم جائے گا، زمین لرز اُٹھے گی، آسمان سمٹ جائیں گے، اور انسان—جو اپنے وجود کی عظمت پر نازاں تھا—اپنے رب کی عظمت کے سامنے مٹی کے ذرّے سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔
خاموشی۔
شق القمر کا واقعہ ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ
قرآن مجید کی سورہ قمر میں شق القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا۔
| شق القمر کا واقعہ |
اس میں کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے۔ وہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں۔ بکھر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اور وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورۃ میں انہیں ملامت کی گئی ہے۔
کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہوجائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داور محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ( سورہ قمر :1)
قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔
یعنی چاند کا پھٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی جاتی رہی ہے، قریب آ لگی ہے اور نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کرہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہوگیا، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی چیز ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے۔
زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ
عالم آخرت میں زمین کی کیا شکل بنے گی ؟
آخرت کی دلیلیں : سید ابوالاعلی مودودیؒ
یوم الحساب کا دستور قرآن کی روشنی میں
انَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿ الحج : ۱﴾ کی تفسیر - سید ابوالاعلی مودویؒ
دنیا و آخرت میں زمین کی وراثت کا قاعدہ - سید ابوالاعلی مودودیؒ
جنت اسی زمین پر ہوگی ، سید ابوالاعلی مودودیؒ
حشر اسی زمین پر برپا ہوگا
--------------------------------------
1- تفہیم القرآن ، سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :57، سید ابوالاعلی موودیؒ
متعلہ مضامین :
1- قیامت کا منظر سورۃ الزلزال کی روشنی میں
آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الۡفَجۡرِ ۙ﴿۱﴾ وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ ۙ﴿۲﴾ وَّ الشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ ۙ﴿۳﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا یَسۡرِ ۚ﴿۴﴾ ہَلۡ فِیۡ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیۡ حِجۡرٍ ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۪ۙ﴿۶﴾ اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۪ۙ﴿۷﴾ الَّتِیۡ لَمۡ یُخۡلَقۡ مِثۡلُہَا فِی الۡبِلَادِ ۪ۙ﴿۸﴾ وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ ۪ۙ﴿۹﴾ وَ فِرۡعَوۡنَ ذِی الۡاَوۡتَادِ ﴿۪ۙ۱۰﴾ الَّذِیۡنَ طَغَوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۪ۙ۱۱﴾ فَاَکۡثَرُوۡا فِیۡہَا الۡفَسَادَ ﴿۪ۙ۱۲﴾ فَصَبَّ عَلَیۡہِمۡ رَبُّکَ سَوۡطَ عَذَابٍ ﴿ۚۙ۱۳﴾ اِنَّ رَبَّکَ لَبِالۡمِرۡصَادِ ﴿ؕ۱۴﴾ فَاَمَّا الۡاِنۡسَانُ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ رَبُّہٗ فَاَکۡرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَکۡرَمَنِ ﴿ؕ۱۵﴾ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابۡتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزۡقَہٗ ۬ۙ فَیَقُوۡلُ رَبِّیۡۤ اَہَانَنِ ﴿ۚ۱۶﴾ کَلَّا بَلۡ لَّا تُکۡرِمُوۡنَ الۡیَتِیۡمَ ﴿ۙ۱۷﴾ وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾ وَ تَاۡکُلُوۡنَ التُّرَاثَ اَکۡلًا لَّمًّا ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ تُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿ؕ۲۰﴾ کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الۡاَرۡضُ دَکًّا دَکًّا ﴿ۙ۲۱﴾ وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾ وَ جِایۡٓءَ یَوۡمَئِذٍۭ بِجَہَنَّمَ ۬ۙ یَوۡمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَ اَنّٰی لَہُ الذِّکۡرٰی ﴿ؕ۲۳﴾ یَقُوۡلُ یٰلَیۡتَنِیۡ قَدَّمۡتُ لِحَیَاتِیۡ ﴿ۚ۲۴﴾ فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَہٗۤ اَحَدٌ ﴿ۙ۲۵﴾ وَّ لَا یُوۡثِقُ وَ ثَاقَہٗۤ اَحَدٌ ﴿ؕ۲۶﴾ یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۷﴾ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾ فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی ، اور جُفت اور طاق کی ، اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو۔ کیا اِس میں کسی صاحب ِ عقل کے لیے کوئی قسم ہے1؟
تم نے2 دیکھا نہیں کہ تمہارے ربّ نے کیا برتاوٴ کیا اُونچے ستونوں والے عادِ اِرَم 3 کے ساتھ ، جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی4؟ اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں5؟ اور میخوں والے فرعون6 کے ساتھ؟ یہ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلا تھا۔ آخر کار تمہارے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ گھات لگائے ہوئے ہے7۔ مگر 8انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا ربّ جب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے ربّ نے مجھے عزت دار بنا دیا۔ اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل 9کر دیا۔ ہرگز نہیں10، بلکہ تم یتیم سے عزّت کا سلوک نہیں کرتے11 اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دُوسرے کو نہیں اُکساتے12، اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو13، اور مال کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہو14۔ ہرگز نہیں15، جب زمین پے در پے کوُٹ کوُٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی، اور تمہارا ربّ جلوہ فرما ہوگا 16 اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے، اور جہنّم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل17 ؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا! پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں، اور اللہ جیساباندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ ﴿دُوسری طرف ارشاد ہوگا﴾ اے نفسِ مطمئن18، چل اپنے ربّ کی طرف19 اِس حال میں کہ تُو ﴿اپنے انجامِ نیک سے﴾ خوش﴿ اور اپنے ربّ کے نزدیک﴾ پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے ﴿نیک﴾ بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنّت میں۔ ؏١
(ماخوز از تفہیم القرآں جلد 6 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )
اس بارے میں مزید مطالعہ کریں : 1- قیامت اور آخرت کا اثبات اور سُوْرَةُ الْمُرْسَلٰت کے دلائل 2- توحید کی دعوت ، قیامت اور احوال قیامت کی تصویرسُورَۃ ُ الغاَشِیہ کی روشنی میں |
الوہیت اور علم غیب، سید ابوالاعلی مودودیؒ
قیامت کا منظر
اس میں سب سے پہلے روزِ قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آ جائے گا تو ہر شخص کے سامنے اس کا کیا دھرا سب آ جائے گا۔ اس کے بعد انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ جس رب نے تجھ کو وجود بخشا اور جس کے فضل و کرم سے آج تو سب مخلوقات سے بہتر جسم اور اعضاء لیے پھرتا ہے، اس کے بارے میں یہ دھوکا تجھے کہاں سے لگ گیا کہ وہ صرف کرم ہی کرنے والا ہے، انصاف کرنے والا نہیں ہے؟ اس کے کرم کے معنی یہ تو نہیں ہیں کہ تو اس کے انصاف سے بے خوف ہو جائے۔ پھر انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ تو کسی غلطی فہمی میں مبتلا نہ رہے، تیرا پورا نامۂ اعمال تیار کیا جا رہا ہے۔ اور نہایت معتبر کاتب ہر وقت تیری تمام حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہے ہیں۔ آخر میں پورے زور کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یقیناً روز جزا برپا ہونے والا ہے جس میں نیک لوگوں کو جنت کا عیش اور بد لوگوں کو جہنم کا عذاب نصیب ہوگا۔ اس روز کوئی کسی کے کام نہ آ سکے گا، فیصلے کے اختیارات بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے۔توحید کی دعوت
توحید کی دعوت ، قیامت اور احوال قیامت کی تصویرسُورَۃ ُ الغاَشِیہ کی روشنی میں
نام :
پہلی ہی آیت کے لفظ الغاشیۃ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ کی روشنی میں زمانہ نزول : سورت کا پورا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بھی ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر یہ وہ زمانہ تھا جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تبلیغِ عام شروع کر چکے تھے اور مکہ کے لوگ بالعموم اسے سن سن کر نظر انداز کیے جا رہے تھے۔ موضوع اور مضمون : اس کے موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغ زیادہ تر دو ہی باتیں لوگوں کے ذہن نشین کرنے پر مرکوز تھی۔ ایک توحید، دوسرے آخرت اور اہل مکہ ان دونوں باتوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضمون اور انداز بیاں پر غور کیجیے۔ اس میں سب سے پہلے غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانے کے لیے اچانک ان کے سامنے ایک سوال پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں اس وقت کی بھی کچھ خبر ہے جب سارے عالم پر چھا جانے والی ایک آفت نازل ہوگی؟ اس کے بعد فوراً بعد ہی تفصیل بیان کرنی شروع کر دی گئی ہے کہ اس وقت سارے انسان دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر دو مختلف انجام دیکھیں گے۔ ایک وہ جو جہنم میں جائیں گے اور انہیں ایسے اور ایسے سخت عذاب جھیلنے ہوں گے۔ دوسرے وہ جو عالی مقام جنت میں جائیں گے اور ان کو ایسی اور ایسی نعمتیں میسر ہوں گی۔ اس طرح لوگوں کو چونکانے کے بعد یکلخت مضمون تبدیل ہوتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو قرآن کی تعلیمِ توحید اور خبرِ آخرت کو سن کر ناک بھوں چڑھا رہے ہیں، اپنے سامنے کی ان چیزوں کو نہیں دیکھتے جن سے ہر وقت انہیں سابقہ پیش آتا ہے؟ عرب کے صحرا میں جن اونٹوں پر ان کی ساری زندگی کا انحصار ہے، کبھی یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ یہ کیسے ٹھیک انہیں خصوصیات کے مطابق بن گئے جیسی خصوصیات کے جانور کی ضرورت ان کی صحرائی زندگی کے لیے تھی؟ اپنے سفروں میں جب یہ چلتے ہیں تو انہیں یہ آسمان نظر آتا ہے، یا پہاڑ، یا زمین۔ انہی تین چیزوں پر یہ غور کریں۔ اوپر یہ آسمان کیسے چھا گیا؟ سامنے یہ پہاڑ کیسے کھڑے ہو گئے؟ نیچے یہ زمین کیسے بچھ گئی؟ کیا یہ سب کچھ کسی قادر مطلق صانعِ حکیم کی کاریگری کے بغیر ہو گیا ہے؟ اگر یہ مانتے ہیں کہ ایک خالق نے بڑی حکمت اور بڑی قدرت کے ساتھ ان چیزوں کو بنایا ہے، اور کوئی دوسرا ان کی تخلیق میں شریک نہیں ہے، تو اسی کو اکیلا رب ماننے سے انہیں کیوں انکار ہے؟ اور اگر یہ مانتے ہیں کہ وہ خدا یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر تھا، تو آخر کس معقول دلیل سے انہیں یہ ماننے میں تامل ہے کہ وہی خدا قیامت لانے پربھی قادر ہے؟ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے؟ جنت اور دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے؟ اس مختصر اور نہایت معقول استدلال سے بات سمجھانے کے بعد کفار کی طرف سے رخ پھیر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں، تم ان پر جبار بنا کر تو مسلط کیے نہیں گئے ہو کہ زبردستی ان سے منوا کر ہی چھوڑو۔ تمہارا کام نصیحت کرنا ہے، سو تم نصیحت کیے جاؤ۔ آخرکار انہیں آنا ہمارے ہی پاس ہے۔ اس وقت ہم ان سے پورا پورا حساب لیں گے اور نہ ماننے والوں کو بھاری سزا دیں گے۔
(مزید تفسیری حاشیوں کے لے ترجمہ میں درج نمبروں پر کلک کریں )
|
قیامت اور آخرت کا اثبات
قیامت اور آخرت کا اثبات اور سُوْرَةُ الْمُرْسَلٰت کے دلائلپہلی ہی آیت کے لفظ المرسلٰت کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ زمانۂ نزول : اس کا پورا مضمون یہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کی دو سورتیں سورہ قیامہ، اور سورہ دہر، اور اس کے بعد کی دو سورتیں، سورہ نبا اور سورہ نازعات اگر ملا کر پڑھی جائیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی دور کی نازل شدہ سورتیں ہیں اور ایک ہی مضمون ہے جس کو ان میں مختلف پیرایوں سے اہل مکہ کے ذہن نشین کرایا گیا ہے۔ موضوع اور مضمون : اس کا موضوع قیامت اور آخرت کا اثبات، اور ان نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا ہے جو ان حقائق کے انکار اور اقرار سے آخرکار برآمد ہوں گے۔ پہلی سات آیتوں میں ہواؤں کے انتظام کو اس حقیقت پر گواہ قرار دیا گیا ہے کہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس قیامت کے آنے کی خبر دے رہے ہیں وہ ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ ان میں استدلال یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے زمین پر یہ حیرت انگیز انتظام قائم کیا ہے اس کی قدرت قیامت برپا کرنے سے عاجز نہیں ہو سکتی، اور جو صریح حکمت اس انتظام میں کارفرما نظر آ رہی ہے وہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آخرت ضرور ہونی چاہیے، کیونکہ حکیم کا کوئی فعل عبث اور بے مقصد نہیں ہو سکتا، اور آخرت نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہے کہ یہ سارا کارخانۂ ہستی سراسر فضول ہے۔ اہل مکہ بار بار کہتے تھے کہ جس قیامت سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو اسے لا کر دکھاؤ تب ہم اسے مانیں گے۔ آیت 8 سے 15 تک ان کے اس مطالبے کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے کہ وہ کوئی کھیل یا تماشا نہیں ہے کہ جب کوئی مسخرا اسے دکھانے کا مطالبہ کرے اسی وقت وہ فوراً دکھا دیا جائے۔ وہ تو تمام نوع انسانی، اور اس کے تمام افراد کے مقدمے کے فیصلے کا دن ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالٰی نے ایک خاص وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اسی وقت پر وہ آئے گا اور جب آئے گا تو ایسی ہولناک شکل میں آئے گا کہ آج جو لوگ مذاق کے طور پر اس کا مطالبہ کر رہے ہیں اس وقت ان کے حواس باختہ ہو جائیں گے۔ اس وقت انہی رسولوں کی شہادتوں پر ان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا جن کی دی ہوئی خبر کو یہ منکرین آج بڑی بے باکی کے ساتھ جھٹلا رہے ہیں، پھر انہیں خود پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے کس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کیا ہے۔ آیت 16 سے 28 تک مسلسل قیامت اور آخرت کے وقوع اور وجوب کے دلائل دیے گئے ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی اپنی تاریخ، اس کی اپنی پیدائش، اور جس زمین پر وہ زندگی بسر کر رہا ہے اس کی اپنی ساخت اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ قیامت کا آنا اور عالم آخرت کا برپا ہونا ممکن بھی ہے اور اللہ تعالٰی کی حکمت کا تقاضا بھی۔ انسانی تاریخ بتا رہی ہے کہ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ آخرکار بگڑیں اور تباہی سے دوچار ہوئیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آخرت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی قوم کا رویہ اگر متصادم ہو تو اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو اس اندھے کا انجام ہوتا ہے جو سامنے آتی ہوئی گاڑی کے مقابلے میں بگ ٹٹ چلا جا رہا ہو اور اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ کائنات کی سلطنت میں صرف قوانین طبیعی (Physical laws) ہی کارفرما نہیں ہیں بلکہ ایک قانون اخلاقی (Moral law) بھی کام کر رہا ہے جس کے تحت خود اس دنیا میں بھی مکافات عمل کا سلسلہ جاری ہے لیکن دنیا کی موجودگی زندگی میں یہ مکافات چونکہ اپنی کامل و مکمل صورت میں واقع نہیں ہو رہی ہے اس لیے کائنات کا اخلاقی قانون لازماً یہ تقاضا کرتا ہے کہ کوئی وقت ایسا آئے جب یہ بھرپور طریقے سے واقع ہو اور ان تمام بھلائیوں اور برائیوں کی پوری جزا و سزا دی جائے جو یہاں جزا سے محروم رہ گئی ہیں یا سزا سے بچ نکلی ہیں۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہو، اور انسان کی پیدائش دنیا میں جس طرح ہوتی ہے اس پر اگر انسان غور کرے تو اس کی عقل –بشرطیکہ وہ سلیم ہو—اس بات کو ماننے سے انکار نہیں کر سکتی کہ جس خدا نے ایک حقیر نطفہ سے ابتداء کر کے اسے پورا آدمی بنایا ہے اس کے لیے اسی آدمی کو پھر پیدا کر دینا یقیناً ممکن ہے۔ زندگی بھر انسان جس زمین پر رہتا ہے، مرنے کے اس کےاجزائے جسم کہیں غائب نہیں ہو جاتے، اسی زمین پر ان کا ایک ایک ذرہ موجود رہتا ہے۔ اسی زمین کے خزانوں سے وہ بنتا اور پھلتا پھولتا اور پرورش پاتا ہے، اور پھر اسی زمین کے خزانوں میں واپس جمع ہو جاتا ہے۔ جس خدا نے اسے پہلے زمین کے ان خزانوں سے نکالا تھا وہی ان میں جمع ہوجانے کے بعد اسے پھر ان سے نکال لا سکتا ہے۔ اس کی قدرت پر غور کرو تو تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ ایسا کر سکتا ہے اور اس کی حکمت پر غور کرو تو تم اس سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ زمین پر جو اختیارات اس نے تمہیں دیے ہیں ان کے صحیح اور غلط استعمال کا حساب لینا یقیناً اس کی حکمت کا تقاضا ہے اور بلا حساب چھوڑ دینا سراسر حکمت کے خلاف ہے۔ اس کے بعد آیات 28 سے 40 تک آحرت کے منکرین کا، اور 41 سے 45 تک ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے اس پر ایمان لا کر دنیا میں اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کی ہے، اور عقائد و افکار، اخلاق و اعمال، اور سیرت و کردار کی ان برائیوں سے اجتناب کیا ہے جو چاہے آدمی کی دنیا بناتی ہوں مگر اس کی عاقبت خراب کر دینے والی ہوں۔ آخرت میں منکرین آخرت اور خدا کی بندگی سے منہ موڑنے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو کچھ مزے اڑانے ہیں اڑا لو آخر کار تمہارا انجام سخت تباہ کن ہوگا اور بات اس پر ختم کی گئی ہے کہ اس قرآن سے بھی جو شخص ہدایت نہ پائے اسے پھر دنیا میں کوئی چیز ہدایت نہیں دے سکتی۔ (مزید تفسیر کے لیے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )
|
تصور قیامت پر قرآنی دلائل
تصور قیامت کے منکرین کے لئے سُوْرَةُ النَّبَا کے دلائل
نام :
دوسری آیت کے فقرے عن النبا العظیم کے لفظ النبا کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے، اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس سورت کے مضامین کا عنوان بھی ہے، کیونکہ نبا سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے اور سورت میں ساری بحث اسی پر کی گئی ہے۔
زمانۂ نزول :
سورۂ قیامہ سے سورۂ نازعات تک سب سورتوں کا مضمون ایک دوسرے سے مشابہ ہے اور یہ سب مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔
موضوع اور مضمون :
اس کا مضمون بھی وہی ہے جو سورۂ مرسلات کا ہے، یعنی قیامت اور آخرت کا اثبات اور اس کو ماننے یا نہ ماننے کے نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا۔
مکۂ معظمہ میں جب اول اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کی خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہو جآئے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اسی جسم کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس محاسبہ میں جو لوگ مومن و صالح ثابت ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر و فاسق ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔
ان تینوں باتوں میں سے پہلی بات اگرچہ اہل مکہ کو سخت ناگوار تھی، لیکن بہرحال وہ اللہ تعالٰی کی ہستی کے منکر نہ تھے، اس کے رب اعلٰی اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے، اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اس لیے جھگڑا صرف اس امر میں تھا کہ دائی کی صفات و اختیارات میں اور الوہیت کی ذات میں ان کی کوئی شرکت ہے یا نہیں۔
دوسری بات کو مکے کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے، مگر اس امر سے انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دعوائے رسالت سے پہلے انہی کے درمیان گزاری تھی، اس میں انہوں نے کبھی آپ کو جھوٹا یا فریب کار، یا نفسانی اغراض کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے والا نہ پایا تھا۔ وہ خود آپ کی دانائی و فرزانگی، سلامت روی اور اخلاق کی بلندی کے قائل و معترف تھے۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے باوجود انہیں دوسروں کو باور کرانا تو درکنار، اپنی جگہ خود بھی یہ باور کرنے میں سخت مشکل پیش آ رہی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سارے معاملات میں تو راست باز ہیں مگر صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جھوٹے ہیں۔
اس طرح پہلی دو باتیں اہل مکہ کے لیے دراصل اتنی زیادہ الجھن کی موجب نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ اس کو جب ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں سب سے زیادہ اسی کا مذاق اڑایا، اسی پر سب سے بڑھ کر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا، اور اسے بالکل بعید از عقل و امکان سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابل یقین بلکہ ناقابل تصور ہونے کے چرچے کرنے شروع کر دیے۔ مگر اسلام کی راہ پر ان کو لانے کے لیے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا عقیدہ ان کے ذہن میں اتارا جائے، کیونکہ اس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملے میںان کا طرز فکر سنجیدہ ہو سکتا، خیر و شر کے معاملہ میں ان کا معیارِ اقدار بدل سکتا، اور دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام ان کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے، البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی خود بخود ذہن نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اور بیچ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن کے برحق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دیے گئے ہیں۔
اس دور کی سورتوں میں آخرت کے مضمون کی اس تکرار کا سبب اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضامین پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اس میں سب سے پہلے ان چرچوں اور چہ میگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قیامت کی خبر سن کر مکہ کے ہر کوچہ و بازار اور اہل مکہ کی ہر محفل میں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں یہ زمین نظر نہیں آتی جسے ہم نے تمہارے لیے فرش بنا رکھا ہے؟ کیا یہ بلند و بالا پہاڑ تمہیں نظر نہیں آتے جنہیں ہم نے زمین میں گاڑ رکھا ہے؟ کیا تم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہم نے تمہیں مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے؟ کیا تم اپنی نیند کو نہیں دیکھتے جس کے ذریعے ہم نے تم کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد ہر چند گھنٹے آرام لینے پر مجبور کر رکھا ہے؟ کیا تم رات اور دن کی آمدورفت کو نہیں دیکھتے جسے ٹھیک تمہاری ضرورت کے مطابق ہم باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں؟ کیا تم اپنے اوپر آسمانوں کے مضبوط بندھے ہوئے نظام کو نہیں دیکھتے؟ کیا یہ سورج تمہیں نظر نہیں آتا جس کی بدولت ہمیں روشنی اور حرارت میسر آ رہی ہے؟ کیا تم ان بارشوں کو نہیں دیکھتے جو بادلوں سے برس رہی ہیں اور ان کے ذریعے سے غلے اور سبزیاں اور گھنے باغ اگ رہے ہیں؟ یہ ساری چیزیں کیا تمہیں یہی بتا رہی ہیں کہ جس قادر مطلق نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت لانے اور آخرت برپا کرنے سے عاجز ہے؟ اور اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے کیا اس کو دیکھتے ہوئے تمہاری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہے مگر بجائے خود پورا کارخانہ بے مقصد ہے؟ آخر اس سے زیادہ لغو اور بے معنی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کارخانے میں انسان کو پیش دست (Foreman) کے منصب پر مامور کر کے اسے یہاں بڑے وسیع اختیارات تو دے دیے جائیں مگر جب وہ اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے؟ نہ کام بنانے پر پنشن اور انعام، نہ کام بگاڑنے پر بازپرس اور سزا؟
یہ دلائل دینے کے بعد پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ فیصلے کا دن یقیناً اپنے مقرر وقت پر آ کر رہے گا۔ صور میں بس ایک پھونک مارنے کی دیر ہے، وہ سب کچھ جس کی تمہیں خبر دی جا رہی ہے سامنے آ جائے گا اور تم آج چاہے مانو یا نہ مانو، اس وقت جہاں جہاں بھی تم مرے پڑے ہوگے وہاں سے فوج در فوج اپنا حساب دینے کے لیے نکل آؤ گے۔ تمہارا انکار اس واقعہ کو پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔
اس کے بعد آیت 21 سے 30 تک بتایا گیا ہے کہ جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے ہاں لکھا ہوا ہے، اور ان کی خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے تیار ہے جہاں ان کے اعمال کا بھرپور بدلہ انہیں دیا جائے گا۔ پھر آیت 31 سے 36 تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب دہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کر لی ہے، اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انہیں ان کی خدمات ک صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زائد کافی انعام بھی دیا جائے گا۔
آخر میں خدا کی عدالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں کسی کے اَڑ کر بیٹھ جانے اور اپنے متوسلین کو بخشوا کر چھوڑنے کا کیا سوال، کوئی بلا اجازت زبان تک نہ کھول سکے گا، اور اجازت بھی اس شرط کے ساتھ ملے گی کہ جس کے حق میں سفارش کا اذن ہو صرف اسی کے لیے سفارش کرے اور سفارش میں کوئی بے جا بات نہ کہے۔ نیز سفارش کی اجازت صرف ان لوگوں کے حق میں دی جائے گی جو دنیا میں کلمۂ حق کے قائل رہے ہیں اور محض گناہ گار ہیں۔ خدا کے باغی اور حق کے منکر کسی سفارش کے مستحق نہ ہوں گے۔ پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا ہے کہ جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ قریب ہی آ لگا ہے، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے لیکن اس تنبیہ کے باوجود جو اس سے انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آ جائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ اس وقت اس کا یہ احساس اسی دنیا کے بارے میں ہوگا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَمَّ یَتَسَآءَلُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ۙ﴿۴﴾ ثُمَّ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾ اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾ وَّ الۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ﴿۪ۙ۷﴾ وَّ خَلَقۡنٰکُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ﴿۸﴾ وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾ وَّ جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾ وَّ جَعَلۡنَا النَّہَارَ مَعَاشًا ﴿۪۱۱﴾ وَّ بَنَیۡنَا فَوۡقَکُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا ﴿۪ۙ۱۳﴾ وَّ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ﴿ۙ۱۴﴾ لِّنُخۡرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا ﴿ۙ۱۵﴾ وَّ جَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ﴿ؕ۱۶﴾ اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾ یَّوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا ﴿ۙ۱۸﴾ وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتۡ اَبۡوَابًا ﴿ۙ۱۹﴾ وَّ سُیِّرَتِ الۡجِبَالُ فَکَانَتۡ سَرَابًا ﴿ؕ۲۰﴾ اِنَّ جَہَنَّمَ کَانَتۡ مِرۡصَادًا ﴿۪ۙ۲۱﴾ لِّلطَّاغِیۡنَ مَاٰبًا ﴿ۙ۲۲﴾ لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحۡقَابًا ﴿ۚ۲۳﴾ لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا بَرۡدًا وَّ لَا شَرَابًا ﴿ۙ۲۴﴾ اِلَّا حَمِیۡمًا وَّ غَسَّاقًا ﴿ۙ۲۵﴾ جَزَآءً وِّفَاقًا ﴿ؕ۲۶﴾ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ حِسَابًا ﴿ۙ۲۷﴾ وَّ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا ﴿ؕ۲۸﴾ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا ﴿ۙ۲۹﴾ فَذُوۡقُوۡا فَلَنۡ نَّزِیۡدَکُمۡ اِلَّا عَذَابًا ﴿٪۳۰﴾
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟ کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں1؟ ہر گز نہیں2، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا۔ ہاں، ہر گز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا3۔
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا4، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ5 دیا، اور تمہیں﴿ مَردوں اور عورتوں کے﴾ جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا6 ، اور تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا7، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا8، اور تمہارے اوپر سات مضبُوط آسمان قائم کیے9، اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا10، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعہ سے غلّہ اور سبزی اور گھنے باغ اُگائیں11؟ بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے ، جس روز صور میں پھُونک ما ر دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آوٴ گے12۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا حتٰی کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا، اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے13۔ در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے14، سرکشوں کا ٹھکانا ، جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں15 گے۔ اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے، کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون16، ﴿اُن کے کرتُوتوں﴾ کا بھر پُور بدلہ۔ وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا17، اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی18۔ اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہر گز اضافہ نہ کریں گے۔ ؏١ (تفہیم القرآن ، سید ابولاعلی مودودی ؒ ) |
قیامت کا منظر سُوْرَةُ الزِّلْزَال کی روشنی میں
زمانۂ نزول
اس کے مدنی ہونے پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اُس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے جو ابن ابی حاتم نے ان سے نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثال ذرۃ شرا یرہ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں اپنا عمل دیکھنے والا ہوں؟ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں، میں نے عرض کیا "یہ بڑے بڑے گناہ؟" آپ نے جواب دیا "ہاں" میں نے عرض کیا "اور یہ چھوٹے چھوٹے گناہ بھی؟" حضور نے فرمایا ہاں۔ اس پر میں نے کہا "پھر تو میں مارا گیا؟" حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا "خوش ہو جاؤ اے ابو سعید، کیونکہ ہر نیکی اپنے جیسی دس نیکیوں کے برابر ہوگی۔" اس حدیث سے اس سورت کے مدنی ہونے پر استدلال کی بنا یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خدری مدینے کے رہنے والے تھے اور غزوۂ احد کے بعد سن بلوغ کو پہنچے۔ اس لیے اگر یہ سورت ان کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی، جیسا کہ ان کے بیان سے ظاہر ہے، تو اسے مدنی ہونا چاہیے لیکن صحابہ اور تابعین کا جو طریقہ آیات اور سورتوں کی شان نزول کے بارے میں تھا، اس کی تشریح سورۂ دہر کے مضمون میں بیان کی جا چکی ہے، اس لیے کسی صحابی کا یہ کہنا ہے کہ یہ آیت فلاں موقع پر نازل ہوئي، اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا نزول اسی وقت ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو سعید نے ہوش سنبھالنے کے بعد جب پہلی مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے یہ سورت سنی ہو اس وقت اس کے آخری حصے سے خوف زدہ ہو کر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے وہ سوالات کیے ہوں جو اوپر درج کیے گئے ہیں اور اس واقعہ کو انہوں نے اس طرح بیان کیا ہو کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ عرض کیا۔ اگر یہ روایت سامنے نہ ہو تو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے والا ہر شخص یہی محسوس کرے گا کہ یہ مکی سورت ہے، بلکہ اس کے مضمون اور اندازِ بیان سے تو اس کو یہ محسوس ہوگا کہ یہ مکہ کے بھی اس ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہوگی جب نہایت مختصر اور انتہائی دلنشین طریقہ سے اسلام کے بنیادی عقائد لوگوں کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے۔
موضوع اور مضمون
اس کا موضوع ہے موت کے بعد دوسری زندگی اور اس میں ان سب اعمال کا پورا کچا چٹھا انسان کے سامنے آ جانا جو اس نے دنیا میں کیے تھے۔ سب سے پہلے تین مختصر تقریروں میں یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی کس طرح واقع ہوگی اور وہ انسان کے لیے کیسی حیران کن ہوگی۔ پھر دو فقروں میں بتایا گیا ہے کہ یہی زمین جس پر رہ کر انسان نے بے فکری کے ساتھ ہر طرح کے اعمال کیے ہیں، اور جس کے متعلق کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ یہ بے جان چیز کسی وقت اس کے افعال کی گواہی دے گی، اس روز اللہ تعالٰی کے حکم سے بول پڑے گی اور ایک ایک انسان کے متعلق یہ بیان کردے گی کہ کس وقت کہاں اس نے کیا کام کیا تھا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس دن زمین کے گوشے گوشے سے انسان گروہ در گروہ اپنے مرقدوں سے نکل نکل کر آئیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں، اور اعمال کی یہ پیشی ایسی مکمل اور مفصل ہوگی کہ کوئی ذرہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہ رہ جائے گی جو سامنے نہ آ جائے۔

