نظم قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نظم قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن کا معروضی اور موضوعاتی مطالعہ : اہمیت و ضرورت

یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے پاس قرآنِ مجید کی تفاسیر کا ایک بے پناہ ذخیرہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود قرآن کا براہِ راست پیغام ہم سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے اتنے وسیلے کھڑے کر دیے ہیں کہ اصل متن ان کے پیچھے کہیں دب سا گیا ہے۔ تفاسیر یقیناً ایک عظیم علمی سرمایہ ہیں، ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے ذریعے قرآن تک پہنچ رہے ہیں یا انہی میں الجھ کر رہ گئے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ آج کے قاری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ اس کے پاس معلومات کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کی کثرت نے اس کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ جب وہ تفاسیر کے طویل مباحث، فقہی اختلافات، اور تاریخی جزئیات میں داخل ہوتا ہے تو اکثر اصل سوال—“قرآن مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟”—پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے معروضی اور موضوعاتی مطالعہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

معروضی مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم قرآن کو اپنے پہلے سے قائم تصورات کے تابع نہ کریں، بلکہ خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں۔ ہم اپنی رائے کو اس پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اس کے اپنے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور موضوعاتی مطالعہ ہمیں یہ راستہ دیتا ہے کہ ہم قرآن کے بکھرے ہوئے اشارات کو یکجا کر کے ایک مربوط تصور حاصل کریں—چاہے وہ انسانی نفسیات ہو، معاشرتی اصول ہوں یا سننِ الٰہی۔

قرآن کا اسلوب اشاراتی ہے۔ وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے۔ اگر ہم اسے روایتی خطی (linear) انداز میں پڑھنے کی کوشش کریں گے تو یا تو ہمیں تشنگی محسوس ہوگی یا ہم تفصیلات کے لیے دوسری کتابوں پر انحصار بڑھاتے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم موضوعاتی انداز اختیار کریں—یعنی ایک موضوع سے متعلق تمام آیات کو جمع کریں—تو اچانک قرآن ہمارے سامنے ایک نئے انداز میں کھلنے لگتا ہے۔

قرآن کریم کا اسلوب استدلال - ڈاکٹر اسرار احمد

قرآن مجید کا اسلوب استدلال 
 قرآن کے طالب علم کو جاننا چاہیے کہ قرآن کا اسلوبِ استدلال منطقی نہیں‘ فطری ہے. انسان جس فلسفے سے واقف ہے اس کی بنیاد منطق ہے. چنانچہ ہمارے فلاسفہ اور متکلمین استخراجی منطق(Deductive Logic) سے اعتناء کرتے رہے ہیں‘ جبکہ قرآن مجید نے اسے سرے سے اختیار نہیں کیا. وقتی تقاضے کے تحت ہمارے متکلمین نے اسے اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں پہنچ پایا. ایمانی حقائق کو جب استخراجی منطق کے ذریعے سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تو یقین کم اور شک زیادہ پیدا ہوا. اس ضمن میں کانٹ کی بات حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہے ‘ لہذا علامہ اقبال نے بھی اپنے خطبات کا آغاز اسی حوالے سے کیا ہے. کانٹ نے حتمی طور پر ثابت کر دیا کہ کسی منطقی دلیل سے خدا کا وجود ثابت نہیں کیا جا سکتا. منطق میں اللہ کی ہستی کے اثبات کے لیے ایک دلیل لائیں گے تو منطق کی دوسری دلیل اسے کاٹ دے گی. جیسے لوہا لوہے کو کاٹتا ہے اسی طرح منطق‘ منطق کو کاٹ دے گی. قرآن نے اگرچہ کہیں کہیں منطق کو استعمال توکیا ہے لیکن وہ بھی منطقی اصطلاحات میں نہیں. قرآن مجید کا اسلوبِ استدلال فطری ہے اور اس کا انداز خطابی ہے. جیسے ایک خطیب جب خطبہ دیتا ہے تو جہاں وہ عقلی دلائل دیتا ہے وہاں جذبات سے بھی اپیل کرتا ہے. اس سے اس کے خطبے میں گہرائی و گیرائی پیداہوتی ہے.ایک لیکچر میں زیادہ تر دارومدار منطق پر ہوتا ہے. یعنی ایسی دلیل جو عقل کو قائل کر سکے . لیکن شعلہ بیان خطیب انسان کے جذبات کو اپیل کرتاہے. اس کو خطابی دلیل کہا جاتا ہے. یہی خطابی انداز اور استدلال قرآن نے استعمال کیا ہے.

قرآن کی سورتوں کی ترتیب نزولی کیا ہے؟


قرآنی سورتوں کی ترتیب نزولی کیا ہے ؟
قرآن کی سورتوں کی ترتیبِ نزولی میں اگرچہ بعض اختلافات ہیں لیکن مفسرین کے نزدیک اس ترتیب کی اہمیت ہے ، اس کے بغیر بعض آیات کی درست تفسیر کا تعین  نہیں ہوسکتا ،ہم یہاں  بحوالہ  "تنزیل القرآن" از علامہ ابن شہاب الزہری  (رحمہ اللہ، المتوفی 124 ہجری) کی کتاب سے نقل کررہے ہیں ۔ 

مکی اور مدنی سورتوں سے متعلق یہ جاننا ضروری ہے  کہ مفسرین کی اصطلاح میں "مکی آیات" وہ ہیں جو  ہجرت سے پہلے پہلے نازل ہوئیں، اور "مدنی آیات" وہ ہیں جو ہجرت مدینہ کے بعد نازل ہوئیں ۔ بعض لوگ "مکی" کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شہر مکہ میں نازل ہوئی اور "مدنی" کا یہ کہ وہ شہرِ مدینہ میں اُتری، لیکن یہ مطلب درست نہیں، اس لیے کہ کئی آیتیں ایسی ہیں جو شہرِ مکہ میں نازل نہیں ہوئیں لیکن چونکہ ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھیں اس لیے انہیں "مکی" کہا جاتا ہے۔ چنانچہ جو آیات منیٰ، عرفات یا سفرِ معراج کے دوران نازل ہوئیں وہ بھی "مکی" کہلاتی ہیں، یہاں تک کہ جو آیتیں سفرِ ہجرت کے دوران مدینہ کے راستے میں نازل ہوئیں، ان کو بھی "مکی" کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بعض سورتیں ایسی ہیں کہ وہ پوری کی پوری مکی یا پوری کی پوری مدنی ہیں، مثلاً سورۃ المدثر پوری مکی ہے، اور سورۃ آل عمران پوری مدنی، لیکن بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ پوری سورت مکی ہے، لیکن اس میں ایک یا چند آیات مدنی بھی ہیں۔ اور بعض مرتبہ اس کے برعکس بھی ہوا ہے۔ 


تین سورتیں ایسی ھیں جو جس ترتیب سے نازل ھوئی اُسی ترتیب سے موجودہ مصحف میں ھیں ، وہ یہ ہیں :  سورۃ ص – 38،  سورہ نوح 71،، اور  سورہ الانفطار- 82

  سورت کی دائیں طرف نزول کا ترتیب وار نمبر ھے ، اور سورت کے سامنے ترتیب تلاوت کے اعتبار سے  موجودہ مصحف کا نمبر ھے۔   

قرآن کا تعارف (حصہ 8) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف حصہ 7) جاوىد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 6) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 5)جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 3) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 2) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 1) جاويد احمد غامدى


 

قرآنی قصص کا انداز بیان - ابوالبشر احمد طیب

قرآن مجید کےقصص کا اسلوب بہت ہی منفرد ہے۔ اکثر قصص  کی مختلف کڑیوں کو مختلف مقامات میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن واقعات کی تمام کڑیاں، ہر مقام وموقع پر سیاق و سباق کے لحاظ سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔  ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان واقعات کی کڑیوں کا ایک خاص نظم  ہے، مکی سورتوں میں اکثر وافعات مختصر اشاروں پر مشتمل ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ مدنی سورتوں میں ان اشاروں میں طوالت آتی جاتی ہے۔ 

قرآنی قصص کے اسلوب کی ایک خوب صورت مثال حضرت موسی ؑ کا قصہ ہے ، ان کا ذکر قرآن مجید میں تیس مقامات میں ملتا ہے ، اس کے درج ذیل مراحل ہیں :

سورہ اعلی مکی سورہ میں حضرت موسی ؑ کے صحیفہ کی طرف صرف مختصر اشارہ ہے وہاں حضرت ابراھیم ؑ کے صحیفہ کے ساتھ موسی کے صحیفہ کا بھی ذکر آیا ۔ بھیر سورہ نجم  اور سورہ فجر جو مکی سورہ ہیں، دونوں میں عاد و ثمود کے ساتھ صرف فرعوں کا  ذکر آیا ہے لیکن حضرت موسی کا ذکر نہیں آیا  (الفجر : 13)،  سورہ اعراف میں جو انتالیسویں سورہ ہے اس میں حضرت موسی کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ ہے اس میں دیگر انبیاء کے بھی واقعات ہیں۔ 

قرآن مجید کا اسلوب - ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

تاریخ شاہد ہے کہ قرآن مجید سے متعلق مسلمانوں کی خدمات اور جدت طرازیوں کی ایک طویل داستان ہے، کسی نے قرآن مجید کے مفردات پر توجہ دی تو کسی نے قرآن کی  کتابت اور رسم الخط پر ، بعض نے قرآن کی قراءات اور مخارج حروف کی درست ادائیگی  پر عمر بیتادی، تو کچھ اہل علم نے قرآن کی زبان اور قواعد پر اپنی پوری  توجہ صرف کردی  اور کچھ لوگوں نے قرآن کے مضامین، معانی اور مطالب کو اہم سمجھا، کسی نے قرآن کے عقلی دلائل پر توجہ دی اور کسی نے اصول دین اور معاصر مسائل کا استنباط کیا، یا  کسی نے قرآن کی فصاحت و بلاغت نیز قرآن کے الفاظ کے معانی حقیقی اور مجازی  پر نگاہ ڈالی۔ غرض قرآن مجید  کے نزول  کے بعد علوم و فنون کے ایسے شاہکار سامنے آئیے جس کی مثال سابقہ اقوام میں نہیں ملتی ۔

 قرآن کی پہلی  وحی  ہی علم اور آگاہی سے متعلق تھی، مسلمان علم و حکمت کی اہمیت سے واقف تھے ارشاد باری تعالی ہے : 

" وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ(البقرة : 269)" 
( اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔) 

ہمارےعلماء نے  قرآن مجید کے اسالیب میں پنہاں خصوصیات کو مختلف ناموں سے بیان کیا ہے ۔  یہاں ان میں سے چند خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 

1- نظم قرآن 

اس سے مراد قرآن مجید کے کلمات اور الفاظ، آیات اور سورتوں کی بندش اور قرآن مجید کے مضامین کا باہمی ربط ہے ، جس کے لیے علماء نے" نظم قرآن" کی اصطلاح استعمال کی ہے ۔ نظم کےمعنی موتیوں کو ایک لڑی میں پرودینا ، گویا قرآن مجید کے الفاظ ، فقرے ، آیات اور سورتیں یا مضامین خوبصورت موتیوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ۔ بعض علماء نے آیات اور سورتوں کی ترتیب کیے لیے " نظام " اور " تناسب " کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے ، جبکہ الفاظ اورکلمات کی ترتیب کےلیے " نظم " کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ 

 قرآن مجید کے الفاظ کے نظم و نسق کا ایک پہلو صوتی ہم آہنگی ہے اس میں  الفاظ کو فقرے میں اس طرح جوڑا کیاگیا تا کہ وہ انسانی کلام کی فصاحت و بلاغت کے معیار کے مطابق ہو، اور قاری یا سامع کی سماعت میں خوشگوار تاثر پیدا ہو، اس پہلو سے قرآنی الفاظ کے صوتی ہم آہنگی کس درجہ اعلی ہے؟ وہ کسی مصری قاری کی تلاوت سن کر اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ اس کا اعتراف جدید دور کے صوتی نظام کے ماہرین نے بھی کیا ہے انہوں نے جدید آلات کی مدد سے قرآنی الفاظ کی صوتی آہنگ کا جائزہ لیا تو ان کے سامنے قرآن  کى صوتی آہنگ کا اعجاز ظاہر ہوا ۔

 اسی طرح علماء کے نزدیک  قرآن کریم کے تمام مضامین ، معانی اورمطالب میں باہم ربط پا یا جاتا ہے۔ بعض علماء نے قرآن مجید کے اس اسلوب کو ( بلا کسی تشبیہ کے ) غزل مسلسل کی طرح قرار دیا، جس طرح ایک غزل میں ہر شعر بظاہر الگ الگ معلوم ہوتا ہے لیکن غور کرنے سے تمام اشعار میں ایک گہری معنوی مناسبت پائی جاتی ہے ۔ جس کو وحدۃ الموضوع کہا جاتا ہے ۔ ہر شعر یا مختلف مضامین کے مابین ایک ہم آہنگی ہوتی ہے۔ 
   
ہر دور میں علماء نے قرآن مجید کی اس اندرونی ساخت ، آیات و سورتوں کی ترتیب اور تناسب کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ قرآن مجید کے مضامین کا باہمی تعلق اور ربط کس نوعیت کی ہے ؟ اور اس لے بھی کہ عام قاری جب قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے تو بظاہر مضامین میں بے ربطی محسوس کرتا ہے یا بہت سارے مضامین ایک طرح کے نظر آتے ہیں یا ایک ہی جگہ یا سورت میں مختلف مضامین یکجا ملتے ہیں ، اگر کسی جگہ توحید کا مضمون ہے تو آخرت کا بھی ہے، کہیں نبی کا تذکرہ ہے تو ساتھ ہی مختلف اقوام پر تبصرہ بھی ، کہیں اخلاقی تعلیمات ہیں تو ساتھ ہی فقہی احکام بھی ، قرآن مجید کے  اس طرح کے بنیادی مضامین تقریبا ہر سورت اورہر جگہ موجود ہیں۔     

مثلا سورہ فاتحہ کا آغاز توحید کے مضمون سے ہوتا ہے پھر فورا ہی آخرت کا ذکر آجا تا ہے اس کے بعد عبادت اور استعانت کا ذکر ہوا ، پھر صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا ہے، ساتھ ہی انعام یافتہ لوگوں  اور ضالین کی گمراہی کی طرف اشارہ  ۔ 

غرض یہ تمام مضامین اس ایک سورت میں موجود ہیں ۔ یہی اسلوب یا نظم، پورے قرآن مجید اور ہر سورت میں موجود ہے ۔  مفسرین کو معلوم ہوا کہ  اگر اس اندرونی ساخت یعنی نظم و نسق کو نظر انداز کرکے کسی کلمہ یا آیت کی تفسیر اور تشریح کی گئی ہے تو وہ قرآن کے اصل مدعا اور مطلب سے ہٹ جاتا ہے ۔ اس لئے علماء نے قرآن مجید کی اندرونی ساخت، آیات اور سورتوں کی ترتیب اور تناسب کو جاننے کی کوشش کی ہے ۔

اس نظم ونسق کا اعجاز یہ ہے کہ قرآن مجید کے تمام مضامین ہروقت قاری کی نظر میں ہوتےہیں ، دوسرا یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی اور مضامین اس طرح بکھرے ہوئے نہیں ہیں جس طرح دیگر آسمانی کتابوں میں ہیں ۔ بائبل کی کتابوں کو موضوعات کے حساب سے مرتب کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے کتاب پیدائش ، اس میں کائنات کی تخلیق کا ذکر ہے ، اسی  طرح  سے دیگر کتب کی ترتیب ہے ، اس کا نقصان یہ ہوا کہ جس کو کسی خاص موضوع سے دلچسپی ہے اس کا مطالعہ کر کے باقی دیگر موضوعات کو ہاتھ نہیں لگاتا ، اس لے کروڑوں یہودی اور عیسائی ایسے ہوں گے جنہوں نے بائبل کے ان حصوں میں کوئی دلچسپی نہیں لی جن سے ان کو لگاؤ نہیں تھی ۔ انہوں نے تورات ، زبور، انجیل کا صرف وہی حصہ پڑھا جس کی ان کو ضرورت تھی۔

 اگر قرآن مجید کے مضامین بھی اسی ترتیب سے ہوتا مثلا ایک کتاب عقائد ، ایک کتاب قانون ، ایک کتاب اخلاق ، تو قرآن پاک سے مسلمانوں کی دلچسپی کا حشر وہی ہوتا جوتورات اور انجیل کا ہوا ۔ یہی معاملہ دیگر علوم کی کتابوں کے ساتھ بھی ہے ۔ جس کو ادب سے دلچسپی ہے وہ کبھی معاشیات کی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگاتا ، اور جس کو فلسفہ سے لگاؤ ہے وہ کبھی دیگر کتابوں سے دلچسپی نہیں لیتا بلکہ فلسفہ کی کتب ہی زیادہ مطالعہ کرتا ہے ۔

  نظم قرآن کے بارے میں ہمارے قدیم مفسرین میں امام رازی ؒ کا نام سب سے زیادہ روشن ہے انہوں نے سورتوں اور بعض جگہ آیاتوں کی مناسبت بیان کی ہے، برصغیر میں مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے مختلف سورتوں کے مضامین کے مابین ربط اور ان  کی ترتیب میں پنہاں حکمتوں کو بیان کیا ، مولانا حمید الدین فراہی ؒ اور ان کے شاگر مولانا امین احسن اصلاحی ؒ نے ایک خاص نظام دریافت کیا ، پھر اس کی روشنی میں مولانا امین احسن اصلاحی ؒ اپنی تفسیر تدبر قرآن لکھی ہے۔ ان کے علاوہ سید ابوالاعلی مودودی ؒ اور مولانا مفتی شفیع ؒ نے بھی اپنی اپنی تفسیر میں سورتوں اور مضامین قرآن  کے مابین مناسبت کی نشان دہی کی ہے ۔

2- خطیبانہ اسلوب 


قرآن مجید کا اسلوب خطیبانہ ہے ، یہ قدیم عربی خطابت سے قریب ضرور ہے لیکن اس کی طرح نہیں، بلکہ قرآن مجید کا انداز خطابت کئی لحاظ سے مختلف ہے، قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ ﷺ اس کی تلاوت فرماتے اور پھر انہیں خطبات کو تحریری شکل دی جاتی ۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ آپ ﷺ بجائے تقریر کے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی ۔  ایک مرتبہ آپ ﷺ حرم شریف میں تھے کفار مکہ جمع تھے اور آپ کے ساتھ استہزاء کر رہے تھے ۔ آپ نے خطاب کا ارادہ فرمایا ہی تھا کہ سورہ نجم نازل ہونی شروع ہوگئی تو اپنی تقریر کے بجائے سورہ نجم کی تلاوت فرمائی ۔ 

مقرر جب تقریر کرتا ہے تو دوران خطاب بہت سی باتیں سامعین کی عقل اور فہم پر چھوڑ دیتاہے لیکن یہی باتیں جب تحریر میں لائی جاتی ہیں تو اس میں  بہت سی باتیں جن کا تعلق براہ راست سامعین سے یا ماحول سے ہوتی ہیں  رہ جاتی ہیں اس طرح  ایک قاری کے لیے تقریر کو تحریر کی صورت میں  سمجھنے میں دقت ہوتی ہے، یا تحریر شدہ تقریرکے سیاق و سباق کو ملانے لیے بعض وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ قاری  تقریرکے مدعا کو سمجھنے میں کچھ کمی محسوس کرےگا،  اس لے قرآن مجید  کو سمجھنا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہ اس ماحول اور اس دور کے حالات سے براہ راست آشنا تھے لیکن بعد والوں کے لیے قرآن مجید کو سمجھنے میں  مشکل پیش آئی۔ اس لیے مفسرین نے قرآن مجید کے خطبات کے تمام اشارات کو پر کرنے کی کوشش کی، اسی فن کو علماء نے تفسیر کا نام دیا، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ 

اس کی ایک مثال یہ ہے ارشاد باری تعالی ہے : 

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2) نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (3) أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (4)
 ( سورۃ المزمل) 

یہاں ہر فقرہ انتہائی مختصر ہے، ان جملوں کا مخاطب آپ ﷺ ہیں ، اس لیے آپ ﷺ کو ہی براہ راست اس خطاب کا علم تھا کہ یہاں کس لفظ کس فقرہ سے کیا مراد ہے؟  پھر بعد کے زمانے میں مفسرین نے اس خطیبانہ کلام کی تفصیلات  بیان کی ہے ۔ جس کی مثالیں تفسیر کی کتابوں ميں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ 

3-  ایجاز اور جامعیت  

 قرآن مجید میں مختلف مضامین ہیں، احکام،  شرائع، امثال، مواعظ ، تاریخی واقعات، مظاہر کائنات  اور مناظر قیامت، اللہ تعالی نے  ان  تمام باتوں کی وضاحت کےلیے مختلف  اسلوب تعبیر اختیار فرمایا، تشبیہ ، تمثیل، انشائیہ ، خبریہ، وغیرہ ۔ لیکن یہ سب  اسالیب غیرمعمولی ایجاز اور جامعیت کے حامل ہیں ، یہ ایجاز اگرچہ مدنی سورتوں میں بھی ہے لیکن مکی سورتوں کے ایجاز کی شان ہی اور ہے ۔ بعض جگہ ایک ایک لفظ میں معانی کا سمندر پنہاں ہے ۔ مکی سورتوں کے ایجاز کی ایک مثال یہ ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے : 

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (5) وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (6) وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (7) ( سورۃ المدثر ) 

اس آیت میں ہر فقرہ ایک ایک لفظ پر مشتمل ہے جیسے :  فَأَنْذِرْ ، فَكَبِّرْ ،فَطَهِّرْ، فَاهْجُرْ،  تَسْتَكْثِرُ، فَاصْبِرْ۔۔۔۔۔۔ ہر فقرہ الگ الگ ہدایات اور نصیحتوں  پر مشتمل ہے، جن کا مخاطب براہ راست آپ ﷺ ہیں، اس لئے مفسرین نے ان الفاظ اور فقروں  کی تفسیر آپ ﷺ کی سیرت پاک کی روشنی میں کی ہے،  جیسے "المدثر" ایک پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب آپ ﷺ پر پہلی بار غار حراء میں جبرائیل ؑ وحی لے کر آئے تھے تو آپ ﷺ کو نبوت کی ذمہ داری کا اتنی شدت سے احساس ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے تو یہ فرمارہے تھے کہ مجھے چادر میں لپیٹ دو، مجھے چادر میں لپیٹ دو، اس خطاب میں  يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سے اس پورے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، اس سے قرآن کے اسلوب کی جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ 

       ارشاد باری تعالی ہے  : 
 ( وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ) ( لقمان : 27)

" زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے ) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے ) ختم نہ ہوں گی"

4-  صداقت اور حقیقت 

 قرآن نے جو کچھ پیش کیا وہ سب صداقت اور حقیقت پر مبنی ہے، قرآن مجید میں کوئی بات خلاف عقل ، خلاف فطرت ، خلاف تہذیب یا اخلاق نہیں ہے۔

چانچہ آج علم اور ادب کی دنیا میں قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی ثقہ تحریر نہیں ہے ۔ یہ ایک متفقہ رائی ہے ، اس بات کے گواہ غیر مسلم سکالر بھی ہیں ۔ اس عظمت اور مقام میں دیگر آسمانی کتب کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مغرب کے پاس بائبل کے نام سے آسمانی کتابیں ہیں لیکن وہ جدید مغربی سکالروں کی نظر میں ہمیشہ مشکوک رہی ہیں ۔ قرآن گواہی دیتا ہے کہ

( فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ ( البقرة :  79) 
 " پس تباہی ہے اُن لوگوں کیلے جو اپنے ہاتھوں سے تحریر لکھ کر ، لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے  تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں ۔ اُن کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے  اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت ہے۔" 
  یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی طویل تاریخ میں اسلام کے نظریات اور خالص علم وادب کے مابین کبھی تعارض پیدا نہیں ہوا، اگرچہ  جدید دور میں  بعض نام نہاد روشن خیال ادباء اورنقاد کو یہ غلطی فہمی ہوئی کہ دین کا یا دینی نصوص کا ادب اور فن سے کیا تعلق ہے؟   یہ غلط فہمی در اصل مغرب سے منتقل ہوکر آئی ، چند مسلم ادیبوں  کے ذہنوں پر سوار ہوگئی، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ سچا ادب اور اور دین کے مابین کبھی تصادم نہیں ہوا۔ 

 بد قسمتی سے انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب کے پاس ادب اور فن کے نام سے ایسے لٹریچر وجود میں آئیے، جن کا حقیقی دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔  جس طرح ہومر نے اپنے الیڈ کی بنیاد من گھڑت افسانوں پر رکھی ہے اسی طرح جدید افسانہ اور ڈرامہ میں سچے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں۔ فکشن کے نام سے بہت سے افسانے اور ڈرامے  جھوٹے واقعات پر مبنی  ہیں ۔ جبکہ قرآن پاک اس طرح کے فنی خرافات سے پاک ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے :   (لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ و لا من خلفہ )،  قرآن نے علمی صداقت اور تاریخی حقائق کو ایسے اسلوب میں پیش کیا ہے  جو بجائے خود ایک معجزہ ہے۔

علماء اسلام نے ہر دور میں شعراء اور ادباء کا خیر مقدم کیا ۔ عربی ، فارسی اور اردو زبان کی ہزار سالہ تاریخ گواہ ہیں کہ اس دور کے تمام بڑے بڑے شعراء اور ادباء مسلمان تھے جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی قیادت کی ۔

5- معجزانہ اسلوب

قرآن کے معجزانہ اسلوب کو سب سے پہلے عرب کے ادباء ، خطباء اور ماہرین لغت نے محسوس کیا، اس لیے غلط فہمی سے کبھی قرآن کو جادو کا منتر اور کبھی شاعری کہتے، لیکن ان کو معلوم ہوا کہ قرآن نہ شاعری ہے نہ جادو کا منتر بلکہ قرآن مجید ایک منفرد نوعیت کا کلام ہے، اس کی مثال نہ عرب کی شاعری میں ہے نہ خطابت میں اور نہ عرب کی کہانت اور جادوئی منتر میں، قرآن میں شعر جیسی غنائیت اور موزونیت تو ہے پر وہ شاعری نہیں، قرآن میں  خطابت کا زور بیان بھی ہے لیکن وہ عرب خطباء کے کلام سے بالکل مختلف ہے، کلام عرب کی طرح  اختصار و جامعیت بھی ہے، لیکن اس میں  معانی و مطالب اور معارف و حقائق کی گہرائی بھی ہے ، حکمت و دانائى کی موتیاں بھی ، اس میں دلائل اور براہین کا تنوع اور استدلال اور قوت بیان بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ ان سب کے ساتھ یہ کلام فصاحت اور بلاغت کے اس اعلی معیار پر فائز ہے جس تک جن و بشر ملکر بھی نہیں پہنچ سکتے۔ 

ارشاد ہوا : 

وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ  فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ( البقرة : 23،  24)
              
ترجمہ : اگر تم قرآن کے بارے میں ذرہ بھی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے (محمد ﷺ ) پر اتارا ہے تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلالو۔ پھر بھی اگر تم یہ کام نہ کرسکو اور یقینا کبھی نہیں کرسکوگے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے وہ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ 

اس آیت میں خاص کر عرب کو زبردست چلینج دیا گیا ہے کہ اگر ایسا کلام کوئی انسان بنا سکتا ہے تو تم بڑے فصیح و بلیغ ہو تم سب مل کر قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ،  ساتھ ہی قرآن مجید نے دعوی کیا ہے کہ تم سب مل کر بھی ایسا نہیں کر سکوگے اور واقعہ یہ ہے کہ اہل عرب جو اپنی زبان و ادب پر ناز کرتے تھے ان سب کو اس چلینج کے بعد سانپ سونگھ گیا اور کوئی شخص یہ چلینج قبول کرنے کے لیے آگے نہ بڑھا، بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں اور خطیبوں  نے اس خدائی کلام کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اس طرح قرآن کا اعجاز ان پرہمیشہ ہمیشہ کے لیے  ثابت ہوگیا ۔ 

6-  قصص، امثال اور واقعات کا قرآنی اسلوب 

قرآن مجید کے زیادہ تر حصوں کا تعلق قصص، امثال ونظائر، انسانی جذبات واحساسات اور مناظر قیامت اور احوال آخرت کی تعبیرات سے ہیں اور یہ تقریبا تین چوتھائی ہیں، باقی ایک حصہ میں شرعی احکام اور کچھ تنبیہات ہیں۔  قرآن میں ان تمام موضوعات  کی تعبیر کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ( بلاتشبیہ  و تمثیل صرف وضاحت کے لیے ) جدید ادبی اصطلاحات میں واقعہ نگاری، منظر نگاری، تصویر کشی اور شخصیت نگاری یا خاکہ نگاری سے ملتا ہے ، ہم جب قیامت کے مناظر، واقعات، شخصیات اور دیگر مضامین کو قرآن کے لفظوں اور آیات میں  پڑھتے ہیں تو وہ نہ صرف ذہنوں میں نقش ہوتے ہیں بلکہ مجسم اور منقش ہوکر تصور کی نگاہوں کے سامنے نمایاں ہوجاتے ہیں ۔ قرآن میں اللہ تعالی نے الفاظ کے ذریعے جو تصویر کھینچی ہے رنگ ، سیاہی اور جدید کیمرے بھی اس سے عاجز ہے ، سید قطب شہید کے مطابق قرآن کےانداز بیان اور تعبیر کی اصل اساس ہی تصویر کشی اور منظر نگاری ہے ان کے مطابق اس اسلوب کو قرآن کے اکثر مضامین کے بیان  میں ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ صرف تشریعی احکام کا موضوع اس سے خارج ہے ۔ 

قرآن کریم کے اسلوب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ الفاظ ، معانی اور مطالب کی ذہنی اور متخیلہ صورت کو مجسم اور متحرک صورت میں پیش کیا گیا ہے ، تخیل سے مراد وہ معانی جو  انسانی وجدان میں پوشیدہ ہیں،  قرآن نے ان معانی کی  مجسم منظر کشی کی ہے ، ان کے ذریعے تخیل کو حرکت میں لا یاگیا تاکہ متخیلہ صورت ان مناظر اور حرکات سے مشابہ ہوجائے جو خارج کی زندگی میں رنگ اور صورت میں موجود ہے ۔ اگر قرآن ماضی کا کوئی واقعہ بیان کرتا ہے تو قاری یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ واقعہ اس کے سامنے وقوع پذیر ہے اس کا اندازہ جدید دور کی فلم بینی سے کيا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال درج ذیل آیت  ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: 

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لا يَعْقِلُونَ (الانفال: ٢٢)

کچھ شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتروہ ہے جو  بہرے، گونگے ہیں، جو کچھ نہیں سمجھتے۔ 

عربی زبان میں " الدواب"  کا لفظ عموما حیوانات کے لے استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں انسان بھی شامل ہے اس لحاظ سے " دابۃ" کے معنی ہیں زمین پر چلنے والا اور انسان بھی زمین پر چلتا ہے اس لیے اس کو بھی دابۃ کہ دیتے ہیں۔  لیکن اس لفظ کو انسان کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ  عموما حیوانات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ آیت میں  انسان کے لیے "دابۃ"  کا لفظ استعمال کرنا پھر اس کو گونگے بہرے کہ کر اس کی حیوانی حالت کو نمایاں کرنا جس کی وجہ سے وہ  قبول ہدایت سے محروم ہے۔ ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ  اس طرح ایک حیوان نما انسان کی تصویر نمایا ہوکر ہماری نگاہ میں آجا تی ہے اور ساتھ ہی "لایعقلون"  (وہ عقل سے کام نہیں لیتے ) کے اضافہ سے " حیوانی صفات  کی مزید وضاحت ہوگئی۔ اس طرح لغوی اور معنوی اعتبار سے قاری اور قرآن مجید کے الفاظ ، معانی اور متخیلہ صورت کے درمیان ایسی مطابقت ہوجاتی ہے جس طرح جدید اصطلاح کے مطابق ( بلاتشبیہ و تمثیل )  ایک فلم اور فلم بین کے مابین ہوتی ہے، یہ قرآن کے اسلوب بیان کا معجزانہ کمال ہے قرآن کے سوا کسی کلام میں اس جیسی خوبیاں  ہمیں نہیں مل سکتی ۔

 قرآن مجید کا ایک اسلوب منظرنگاری ہے، مختلف مناظر کو عام زندگی  سے قریب تر کر کے پیش کیا ہے ، قرآن نے اپنے معانی کو متحرک لفظوں کی مدد سے ایسی تصویر کشی کی کہ ان مناظر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردی ہے ، مثلا قیامت کے ہولناک مناظر کی تصویر کشی کی ہے۔  ارشاد باری تعالی ہے:

"یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا  " ( المزمل : 14)

جس دن زمین اور پہاڑ کا نپنے لگیں اور پہاڑ ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا :

" فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا  السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ " ( المزمل :17) 

 تو اس دن س تم  کیونکر بچوگے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور جس سے آسمان پھٹ جائے گا ۔
        قرآن کی تلاوت کے وقت ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کائنات کی ہرچیز زندہ اور متحرک ہے درخت،  انسان ، حیوان ، پہاڑ ، جنگل ، سمندر، بادل ، زمین،  آسمان ، چاند،  سورج،  ستارے  گویا ہر چیز زندہ مناظر ہے کائنات میں کوئی چیز مردہ اور بے جان اور ساکت نہیں ۔ جیسے " یسبح لہ ما فی السموات والارض"  کے مطابق کائنات میں ہر سو، ہر چگہ، ہر لمحہ اس کےمظاہر کی تسبیحات گونج رہی ہیں۔ جیسے ایک جگہ صبح کا منظر قرآن میں ملتا ہےگویا ایک جاندار کی طرح سانس لیتا محسوس ہوتا ہے ،  ارشاد باری تعالی ہے :

والصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسْ  (التکویر)  اور صبح کی قسم جب وہ سانس لیتی ہے !

اسی طرح  قرآن کی زبان میں رات بھی ایک جاندار کی طرح چلنے لگتی ہے۔

،واللَّیْلِ اِذَا یَسْر (الفجر : 4 )  قرآن کے نزدیک دن تیزی سے بھاگ کر رات کو تلاش کر تا ہے ۔

یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ   (الاعراف : 54)  "وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا  چلا آتا ہے "
        یہ چند مثالیں ہیں، اس طرح کی مثالیں قرآن کی ہر سورت اور ہر جگہ موجود ہیں ۔ 

----------------------------------------------
مصادر و مراجع : 

1- مولانا سید ابوالاعلی مودی ؒ کا مقدمہ جو تفہیم القرآن جلد اول میں ہے۔
2- مولا حمید الدین فراہی کے مختلف عربی مضامین جو اردو ترجمہ اور تشریح کے ساتھ  ان کے شاگرد مولانا امیں احسن اصلاحی اور جاوید احمد غامدی نے شائع کیے ہیں۔
3- سید قطب شہید کی کتاب "التصویر الفنی فی القرآن" جس کا  اردو ترجمہ  پروفیسر غلام احمد حریری نے"  قرآن مجید کے فنی محاسن" کے نام سے کیا ہے ۔ 


جدید لسانیات اور فہم قرآن - ابوالبشر احمد طیب

فہم قرآن کے لیے لسانیاتِ قرآن کا مطالعہ بہت اہم بھی ہے اور نازک بھی ، دور حاضر میں جدید لسانیات نے " نص " ( متن) کے مطالعہ سے متعلق بہت سے گوشے سامنے لائے ہیں ۔

مغربی ماہرین لسانیات و ادبیات سے ہمارے شعراء و ادباء کی طرح ہمارے کچھ مفسرین بھی متاثر ہوئے ، انہوں نے انہیں کے وضع کردہ اصول و ضوابط کی روشنی میں قرآنی لسانیات و ادبیات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے، اس فہرست میں بر صغیر کا مشہور نام غلام احمد پرویز ہے ، انہوں نے صرف عربی لغت کے ذریعہ قرآن کے معانی و مطالب بیان کرنے کی ناکام کو شش کی تھی، اسی طرح مکتبہ فراہی کے کچھ طالب علموں نے لسانیات کے جدید نظریات " ساختیات" اور "پس ساختیات" کو لسانیات قرآن پر اطلاق کرنے کو شش کی ہے۔ 

درحقیقت ،انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب میں وسیع پیمانہ پر لسانیات پر تحقیق ہوئی ان میں سے بعض ماہرین نے جدید اصول لسانیات کی روشنی میں انجیل اور دیگر قدیم مذہبی کتب کے متن کا مطالعہ کیاتھا ، ان کے طریقہ کار کو بعض مسلم علماء نے قرآن پر اطلاق کرنے کی کوشش کی تھی ، بر صغیر میں مولانا حمید الدین فراہی ؒ انہیں علماء میں سے ایک ہے، وہ جدید لسانیات و ادبیات سے متاثر تھے ، انہوں نے جدید لسانیات پر مصری علماء کی کتب کا مطالعہ کیا تھا ، جو فرانسیسی انگریزی اور جرمن زبان سے ترجمہ ہوکر عربی میں منتقل ہوئی تھیں۔


خاکسار عربی زبان وادب کا ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے یہ جانتا ہے کہ ہر زبان کا ایک خاص مزاج اور اسلوب ہے اور قرآن عربی " مبین " میں ہے ، اس کا خیال رکھے بغیر قرآنی متن کا مطالعہ ایک فعل عبث ہے ۔ اور یہ بھی ہے کہ قرآن کا متن ایک منفرد اور مقدس حیثیت رکھتا ہے اس کو انسانی کلام اور اس کی خصوصیات کی روشنی میں مطالعہ کرنا درست نہیں۔ 


قرآنی متن کے مطالعہ کے لیے ہمارے آئمہ کرام نے اہم اصول و ضوابط وضع کردئے ہیں ان کو بھی نظر میں رکھنا لازمی ہے ۔ ان کو نظر انداز کرکے صرف جدید لسانیات کی روشنی میں قرآنی متن کا مطالعہ خطرے سے خالی نہیں، اس سے قرآن کے تقدس اور اس کی صداقت پر بھی سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ 


اس اہم مسئلہ کے بارے میں ہمارے علماء کرام اور ماہرین قرآن کو تحقیق کرنا چاہیئے کہ مغربی لسانیات و ادبیات کے ماہرین کے وضع کردہ اصول و ضوابط کی روشنی میں قرآن کے متن کا تجزیہ اور اس کی تفہیم و تشریح کس حد تک درست ہے ؟

قرآن كا تعارف | ڈاکٹر شہزاد سلیم

(ماہنامہ اشراق،  شمارہ اپریل 2019 ء )

پس منظر


قرآن ایک منفردكتاب ہے۔ یہ خداے رب العزت كا انسانیت كے لیے آخری صحیفۂ ہدایت ہے۔ اس  سے پہلے وقتًا فوقتًا اس نےبہت سے پیغمبروں كو ہدایت سے سرفراز كیا۔ عہد نامۂ قدیم اور عہد نامۂ جدید كے بعد یہ خدا كا آخری عہد نامہ ہے جو اسنے لوگوں كی ہدایت كے لیے نازل فرمایا۔ یہ اُسی دین كو پیش كرتا ہے جو اِس سے پہلےسابقہ انبیا اور رسولوں نے پیش كیا۔ تا ہم پچهلے آسمانی صحیفوں كے برخلاف یہ اپنی اصل زبان اور صورت میں ہمارے پاس  محفوظ  ہے۔

قرآن کا تعارف
اس كی صنف ان كتابوں سے یكسر مختلف ہے جن سے ہم واقف اور مانوس ہیں۔ چنانچہ اس كے پڑھنے والے ہرسنجیدہ طالب علم كے لیے یہ  نہایت ضروری ہےكہ وہ اس كی صنف كا فہم ركهتا ہو۔ نیز اگر اس فہم كے ساتھ اس كتاب كے موضوع اور اسكی ترتیب سے بهی واقفیت پیدا كر لی جائے  توقاری اس كتاب كے فہم سے كما حقہٗ بہرہ یاب ہو سكتا ہے۔ وہ اس كتاب كو پڑھ كر حظ محسوس كرے گا اور اس كے ذہن كے دریچے وا ہوں گے۔ وہ خدا كی سنن اور افعال كا شاہد بن جائے گا اور رب كائنات سے اپنے آپ كو ہم كلام محسوس كرے گا۔  وہ خدا كو اگرچہ دیكھ نہیں سكتا، مگر اس كو محسوس كر پائے گا، كیونکہ وہ الہٰی اسالیب كلام اور آداب گفتگو سے اپنے آپ كو قریب محسوس كرے گا۔  اس كے بحر وجود كی موجیں متلاطم ہوں گی اور اس كے دل و دماغ پكار اٹهیں گے:

؎ ایں كتاب از آسمانے دیگر است۔

قرآن كی صنف


قرآن  ایک بے مثل ادبی شہ پارہ ہے جس كی نظیر انسانی كلام میں كہیں نہیں پائی جاتی۔ بلاشبہ، اس كتاب كی صنف كو  اسالیب اور تحریر كےموجودہ پیمانوں پر قیاس كرنا ایک مشكل امر ہے۔ تاہم اس كی سب سے قریبی مشابہت خطبا كے كلام سے قرار دی جا سكتی ہے۔ یہ كتاب مكالمات پر مشتمل ہے جو زندہ كرداروں كے ما بین ہوا  جو ساتویں صدی میں عرب كے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ یہ كردار ایک مخصوص پس منظر میں آپس میں ہم كلام ہوتے نظر آتے ہیں۔ جیسے كسی تمثیلیا ڈرامے  میں احوال اور پیش منظر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، بالكل ویسے ہی اس كتاب میں یہ پہلو ہمیں جابجا نظر آئے گا۔ الله تعالیٰ كی ذات والا صفات خود ان مكالمات كی مصنف ہے۔

نماز کائنات کی فطرت ہے۔ جاوید احمد غامدی

نماز کائنات کی فطرت ہے ۔ جاوید احمد غامدی 
نماز کائنات کی فطرت ہے ۔ انسان کی آنکھیں ہوں اور وہ اُن سے دیکھتا بھی ہو تو اِس حقیقت کو سمجھنے میں اُسے کوئی تردد نہیں ہوتا کہ اِس عالم کا ذرہ ذرہ فی الواقع اپنے پروردگار کی تسبیح و تحمیدکرتا اور اُس کے سامنے سجدہ ریز رہتا ہے ۔ وہ اگرچہ اِس تسبیح و تحمید کو نہیں سمجھتا ، مگر دیکھ تو سکتا ہے کہ دنیا کی سب چیزوں کا ظاہر جس طرح ہر لحظہ خدا کے سامنے سرافگندہ اور اُس کے حکم کی تعمیل میں سرگرم ہے ، اُن کا باطن بھی اِس سے مختلف نہیں ہو سکتا ۔ زمین پر چلتے ہوئے جانور، باغوں میں لہلہاتے ہوئے درخت، فضاؤں میں چہکتے ہوئے پرندے ، سمندروں میں تیرتی ہوئی مچھلیاں اور آسمان پر چمکتے ہوئے تارے اور سورج اور چاند، سب اپنے وجود سے اِس بات کی گواہی دیتے ہیں:

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ، وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٰ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ .﴿بنی اسرائیل ۷۱: ۴۴﴾

’’ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سب چیزیں جو آسمان و زمین میں ہیں ، اُس کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور کوئی چیز بھی نہیں ہے جو حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح نہ کر رہی ہو ، لیکن تم اُن کی تسبیح نہیں سمجھتے ۔ ‘‘

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " البیان" : خصائص و امتیازات (۱)

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018

قرآن مجید کو اس وضاحت کے ساتھ اتاراگیاہے کہ یہ سراسرہدایت اورحق کے معاملے میں پیداہوجانے والے اختلافات میں خداکی آخری حجت ہے۔اس کی دین میں یہی حیثیت ہے کہ اسے سیکھنے اوردوسروں کوسکھانے کاکام ہر زمانے میں حقیقی مسلمانوں کاہدف رہا ہے۔یہ کام شروع دورمیں بہت سادہ اورکسی حدتک آسان بھی تھاکہ لوگ اس کی زبان سے مکمل طورپرآشنا،اس کی آیات کے پس منظر اور جس ماحول میں یہ اُتریں،اُن سے اچھی طرح سے واقف تھے۔لیکن یہ قدرے مشکل اور پیچیدہ ہوتا چلا گیاجب اس کتاب کے براہ راست مخاطبین اس دنیامیں نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کی زبان میں کچھ ناگزیرتبدیلیاں رونماہونے لگیں۔ الفاظ میں متولد مفاہیم پیدا ہوئے تو بعض اسالیب متروک ہوکرنئی نئی صورتوں میں ظاہرہونے لگے۔اس سلسلے کی ایک مشکل اُن نومسلموں کے ہاں بھی پیدا ہوئی جو عربی زبان سے قطعی نابلدہونے کی بناپر اپنے اورقرآن کے درمیان میں ایک قدرتی حجاب دیکھتے تھے۔ 

یہ حالات تھے جن میں صاحبان علم کواس بات کا شدت سے احساس ہواکہ فہم قرآن کے کام کوباقاعدہ علمی طریقے سے انجام دیاجائے ۔سواُنھوں نے اسے متعددزبانوں میں بیان کرنا شروع کیاجوترجمہ کی ایک مستقل اورشان دار روایت کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔اس سے پہلے کتاب کا اصل مدعا جاننے کے لیے انھوں نے بہت سی تفسیری کاوشوں کابھی اہتمام کیااوراس کے لیے عام طورپردوطریقوں کواختیارکیا:ایک یہ کہ اپنی طرف سے کوئی بات کہنے کے بجاے صرف اگلے لوگوں کی آراکونقل کردیااوردوسرے یہ کہ اصل زبان سے استشہادکرتے ہوئے اورتاریخ کی حتمی شہادت اور آیات کے بین السطورسے مددلیتے ہوئے خوداس کے مطالب کوبیان کیا۔یہ کوششیں بہت سالوں تک اسی طرح ہوتی رہیں اور مسلمانوں کے تفسیری علم میں گراں قدراضافے کاباعث بنیں۔

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (2)


 جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن
" ​البیان" : خصائص و امتیازات (2) 

’’واو‘‘

’’واو‘‘ کا حرف بھی قرآن میں کثرت سے استعمال ہواہے ۔اسے مترجمین بالعموم’’اور‘‘کے لفظ سے اداکرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے درست ہے کہ عربی کے ’’واو‘‘ کی طرح یہ بھی اپنے اندرمعنی و مفہوم کی بہت سی وسعتیں رکھتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کواپنی گرفت میں لے لینا، ایک عام قاری کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ قرآن کے اصل فہم کوترجمے میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ’’ واو‘‘جس مقام پرجس معنی میں استعمال ہوا ہو، وہاں اُسی معنی کواداکرنے والے اردوکے الفاظ لائے جائیں۔ ’’البیان‘‘ میں یہ اہتمام کس قدر کیا گیا ہے، ذیل کی چندمثالیں بڑی حدتک اسے بیان کردیتی ہیں:

۱۔ ہاں

وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا.(النساء ۴: ۵)
’’ہاں،اِس سے فراغت کے ساتھ اُن کوکھلاؤ،پہناؤاوراُن سے بھلائی کی بات کرو۔‘‘


یتیموں کے بارے میں فرمایاہے کہ اگروہ نادان اوربے سمجھ ہوں تواُن کامال اُن کے حوالے نہ کرو۔اس ہدایت کا منشا یہ بالکل نہیں تھا کہ اُن کی واجبی ضروریات کوبھی پورانہ کیاجائے،چنانچہ اصل حکم پراستدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوھُمْ‘۔ یعنی، جہاں تک اُن کی ضروریات کاتعلق ہے توانھیں فراغت کے ساتھ پورا کرو۔ یہاں ’’واو‘‘کاترجمہ’’ اور‘‘کے لفظ سے کریں تویہ مدعاکسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں ’’ہاں‘‘ کا لفظ آسانی سے اس مشکل کوحل کردیتاہے۔
’’البیان‘‘ میں بعض مقامات پرکلام کی مناسبت سے اس’’ہاں‘‘میں مزیدلفظوں کا اضافہ بھی کیاگیاہے،جیساکہ ’’ہاں،البتہ‘‘ یا ’’اورہاں‘‘وغیرہ:

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (3)

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018 


’’تنوین‘‘

تنوین بھی ایک حرف ہے کہ اسے نحوی حضرات ’’ن‘‘ کاقائم مقام قراردیتے ہیں۔یہ اصل میں تنکیرکے لیے آتی ہے،مگرکلام عرب میں اس سے بعض دوسرے معانی کوبھی اداکیاجاتاہے۔ان میں سے ایک معنی تفخیم شان کابھی ہے اوراس کاترجمہ عام طورپراس کے صرف ایک پہلو کے لحاظ سے کیاجاتاہے،مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’’البیان‘‘ میں تفخیم کی اس تنوین کاترجمہ ہرجگہ ایک سانہیں کیاگیاکہ مختلف مقامات پراس کے مختلف پہلومرادہواکرتے ہیں،مثلاً:

۱۔ عظمت

سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(النور ۲۴: ۱)
’’یہ ایک عظیم سورہ ہے جس کوہم نے اتاراہے اوراس کے احکام (تم پر)فرض ٹھیرائے ہیں اوراس میں نہایت واضح تنبیہات بھی اتاری ہیں تاکہ تم یادرکھو۔‘‘


یہاں ’سُوْرَۃٌ‘ کی تنوین اصل میں اس کی عظمت اوراہمیت کے اظہارکے لیے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبرہے اوراس حذف سے مقصودیہ ہے کہ ساری توجہ خبرپرمرکوزہوکررہ جائے۔مزیدیہ کہ اگلے جملے، جیساکہ اسے ہم نے اتاراہے،اس کے احکام فرض ٹھیرادیے ہیں ،اس میں نہایت واضح تنبیہات اتاردی ہیں؛ان سب سے بھی ’سُوْرَۃٌ‘ کے اس لفظ میں عظمت واہمیت کاپہلوپیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ ’’ایک عظیم سورہ‘‘ کے الفاظ میں کیاگیاہے۔

۲۔ برتری

بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلآی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۲)
’’ہرگزنہیں،بلکہ یہ توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداکوایک برترطریقے پرپایاہے اورہم اُنھی کے قدم بہ قدم ٹھیک راستے پرچل رہے ہیں۔‘‘

نظم قرآن اور مدرسۂ فراہی - ساجد حمید

(ماہنامہ الاشراق،  تاریخ اشاعت:  نومبر 2017) 

مدرسۂ فراہی کے تصورِ نظم قرآن سے متعلق یہ سوال بہت اٹھایاجاتا ہے کہ یہ قرآن کے کلام میں موجود ہے یا خارج سے کلام الٰہی میں ڈالا جارہا ہے؟ ذیل کی سطور میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس سوال کا مختصراً جواب تو یہ ہے کہ مدرسۂ فراہی کا تصورِنظم قرآن خارجی نہیں، بلکہ یہ قرآن کے کلام ہی سے ماخوذ ہے۔اب اس کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

مقدر مقدمات


مولانا فراہی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ قرآن فہمی میں رکاوٹ مقدر مقدمات کونہ سمجھنے میں ہے۔۱؂ یہی بات دراصل نظم قرآن کے تصورکا خلاصہ ہے۔پہلے مولانا کے اس جملے کو سمجھتے ہیں۔مقدر سے مراد وہ بات ہے جو کلام کے پس منظر میں موجود ہوتی ہے، مگر لفظوں میں بیان نہیں ہوتی۔ مقدمہ اس بات کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر باتیں کی جاتی ہیں۔ جیسے باپ کا بیٹے کو یہ کہنا کہ سچ بولو، یہ اس مقدمے پر قائم ہے کہ ’’سچ بولنا اچھائی ہے‘‘۔ یہ مقدمہ اگر موجود نہ ہو تو باپ کے اس حکم میں کوئی جان نہیں ہے۔ ’’سچ بولو‘‘کے اس جملے میں ’’سچ اچھا ہے‘‘ ایک مقدر مقدمہ ہے۔ہماری تمام باتیں مقدر مقدمات پر قائم رہتے ہوئے ہی کہی اور سمجھی جاتی ہیں۔انھیں عموماً بولا نہیں جاتا۔

جب بھی ہم کوئی بات کہتے ہیں تووہ معاشرے، عقل ، تجربے ، تصورات ، تہذیب اوردین وغیرہ میں موجود کچھ مقدمات (باتوں) پر قائم ہوتی ہے۔ مثلاً جب برصغیر پاک و ہند میں ایک بیوی اپنے شوہر کویہ آواز دیتی ہے کہ ’راستہ بدل لو، کالی بلی راستہ کاٹ گئی ہے‘ تو ’’راستہ بدل لو‘‘ جملے کا ’’کالی بلی راستہ کاٹ گئی ہے‘‘ سے کوئی تعلق اس وقت تک واضح نہیں ہوتا، جب تک کہ ہم یہ مقدر نہ کھولیں کہ ’کالی بلی کا راستہ کاٹنا منحوس سمجھا جاتا ہے‘۔ تو گویا دونوں جملوں کا ربط اس توہّم پر مبنی ایک مقدر تصور کے جاننے پر منحصر ہے۔ اسی طرح غالب نے جب یہ کہا کہ:


ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی


تو اس شعر کے دونوں مصرعوں کاباہمی تعلق ایک مقدر مقدمے پر قائم ہے، وہ مقدر مقدمہ سیدنا عیسیٰ کی مسیحائی ہے۔ اگر کوئی شخص اس مقدر سے واقف نہیں ہو گا تو شعرکا نہ مضمون سمجھ سکے گا اور نہ اس سے حظ اٹھا سکے گا، کیونکہ دونوں مصرعوں کا ربط ہی اُس پر نہیں کھلے گا۔

فراہی مکتبِ فکر انھی مقدرات کے کھولنے کونظم کلام کہتا ہے۔یہ مقدرات اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں ہوتے، مگر کلام ان پر استوار ہوتا ہے۔ روز مرہ کی گفتگو ہو، یا علمی و تحقیقی مقالات ہوں، انھی مقدرات پر اپنے معنی پاتے، اور باتوں کو مربوط کرتے ہیں۔ان مقدرات کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ آفاقی مقدمات،جو تمام انسانوں کے تصورات میں موجود ہیں۔ مثلاً(ذہنی) سچ بولنا اچھائی ہے، (حسی) آسمان نیلا ہے۔ جیسے ’’گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا‘‘،میں گنبد نیلوفر ی سے مراد آسمان ہے۔

۲۔ علاقائی مقدمات، جو ایک علاقے میں تو موجود ہوں، مگر باقی دنیا ان سے ناواقف ہو ۔مثلاً اردو شعر کی روایت میں ستم زدہ عاشق کے رونے سے سیلاب آسکتے ہیں جس سے گھر اور بستیاں ویران ہو سکتی ہیں، جیسے:


گر یونہی روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے


یہ علاقائی مقدرات پھر دو قسم کے ہوتے ہیں:
۱۔ اس علاقے کے آفاقی، جیسے ہندوستان میں ذات پات میں برہمن کا تقدس اور شودر کا تذلل۔یا مثلاً برہمن کا غیب گو ہونا، غالب نے اس سے مضمون باندھا ہے:


دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض!

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے


۲۔ متکلم کے خود ساختہ مقدمات جسے وہ مقدار کی حیثیت سے استعمال کرے۔ جیسے علامہ اقبال کا تصورِ خودی، لیکن مقدر کے طور پر استعمال کے لیے شاعر کو اسے متعارف کرانا پڑتا ہے ۔اقبال نے اپنے اس تصور کا اپنی شاعری میں خوب تعارف کرایا ہے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ یہ تصور نیا ہے، لوگ اسے سمجھ نہیں سکیں گے، لہٰذا وہ مختلف پیرایوں سے اسے بیان کرتے ہیں، ہمارے عہد کے بعض شعرا نے علامتی شاعری کی ہے، لیکن وہ اپنی علامتوں کو متعارف نہ کراسکے، اس لیے علامتی شاعری ان کے حلقوں سے باہر نہ نکل سکی۔

اب اصول یہ سمجھیے کہ مقدرات دراصل وہ تصورات ہیں جو کلام میں کہی گئی باتوں میں مقدمات کا کردار ادا کرتے ہیں، جن پر معنی کا دارو مدار ہوتا ہے۔ یہ مقدرات جس قدر معروف ہوں گے اسی قدر کلام واضح دو ٹوک اور دلالت میں صریح ہوگا۔ لیکن بعض اوقات یہ مقدرات غیر اہل زبان کے ہاں مختلف ہونے کی وجہ سے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مثلاً اردو میں ’برسا ت کا دن‘ مضمون لکھنے کو دیا جائے تو یہ دل پسند اور خوب صورت وقت کا بیان ہو گا ، لیکن انگریزی کا rainy-day مصیبت کے لیے معروف ہے۔ اب جس کو اس کا پتا نہیں ہو گا،اس کے لیے اس جملے saving money for a rainy day کا مطلب ہوگا کہ پیسہ جمع کرکے برسات کے دنوں میں عیش کریں گے ، حالاں کہ انگریز یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں ایمرجنسی کے لیے روپے جمع کررہا ہوں۔ لہٰذا غیر زبان کے بعض مقدرات نا معلوم ہونے کی وجہ سے کلام غیر مفہوم رہ سکتا ہے۔یہی وہ بات ہے جو مولانا فراہی نے لکھی ہے کہ کلام کے مقدر مقدمات کونہ سمجھنے کی وجہ سے قرآن فہمی میں رکاوٹ رہی ہے۔ مقدر کلام کے دروبست سے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔۲؂ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے اہل زبان کے ہاں معروف نہ ہو، لیکن جب وہ معروف سے پھوٹا ہو گا تو فوراً سمجھ میں آئے گا، اور اگر معروف سے نہیں پھوٹا ہو گا تو مختلف فیہ ہو جائے گا، لہٰذا کلام مبہم یا زیادہ غور کا محتاج ہو جائے گا۔اسی عمل سے لسانی ارتقا ہوتا ہے اور الفاظ اپنے دامنِ معنی کو وسیع کرتے جاتے، اور بعض معانی کواپنے دامن سے نکال پھینکتے رہتے ہیں۔کلام کے دروبست سے پیدا ہونے والے مقدر کو ذیل کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں:


میں کلاس میں داخل ہوا، طالب علم شور مچارہے تھے۔مجھے دیکھتے ہی سب احتراماً خاموش ہو کر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ پھر میں پڑھانے لگا۔


اس کلام میں واحد متکلم کو آخری جملے نے استاد کی حیثیت دے دی ہے۔یہ مقدر کلام کے دروبست نے پیدا کیا ہے۔اب اگر میں اس کی شرح میں لکھ دوں کہ استاد نے ایسا کہاتو غلط نہ ہوگا۔اگر ایسا نہ کیا جائے تواوپر خط کشیدہ میں اور ’’احتراماً‘‘ اور ’’پڑھانے‘‘ کا ربط واضح نہیں ہوگا۔

مختصر یوں کہیے کہ ہمارے ذہنوں میں کچھ مانے اور جانے بوجھے تصورات ہوتے ہیں، جن کوذہن میں رکھ کر ہم بات کرتے ہیں، لیکن ان کو لفظوں میں نہیں بتاتے۔ایسی باتوں کو مقدرات کہتے ہیں، کلام کے معنی کا بڑا انحصار انھی کے علم و دریافت پر کھڑا ہوتا ہے۔عرب اپنے مزاج میں عجمیوں سے زیادہ مقدر مقدمات پر انحصار کرتے ہیں۔ان کے کلام کا یہ وصف ’خیر الکلام أقل و أدل‘، ان کے کلام کو دنیا سے ممتاز کرتا ہے۔قرآن بھی انھی کے اسلوب میں اترا ہے۔ ایسے کلام میں مقدرات کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے۔لہٰذا ایسا کلام اعلیٰ تر ذکاوت اور ژرف نگاہی کا تقاضا کرتا ہے۔ عجمیوں کا یہ مزاج نہیں تھا، اس لیے انھیں قرآن غیر مربوط دکھائی دیتارہا، کیونکہ دو جملوں کو جوڑنے والے مقدرات ان پر منکشف نہیں ہوئے تو وہ کلام کے ربط کونہ پاسکے۔

انھی مقدرات کے تحت تعلیل، تقابل، اصل، فرع، اعتراض اور استدراک وغیرہ کے تعلق کلام میں پیدا ہوتے اور معنی آفرینی کرتے ہیں۔


معنوی بندھن اور مقدرات


محذوف مقدرات کے بعد دوسری اہم چیز کلام کے معنی کے بندھن میں ان مقدرات کا کردارہے۔ درج ذیل مثال پر غور فرمائیں:

o ماں نے بیٹے سے کہا: بہت گرمی لگ رہی ہے۔

بیٹے کی طرف سے چند ممکنہ جوابات یہ ہوسکتے ہیں:

o امی، اے سی چلا لیں۔

o سورج نے تو جلانے کی قسم کھا رکھی ہے۔

o ہاں گرمی تو جانے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

یہ جوابات ماں کی بات سے واضح طور پر مربوط ہیں۔ کسی کو ان کے ربط سے انکار نہیں ہو گا۔ لیکن ماں کی اسی بات کہ بہت گرمی لگ رہی ہے کے جواب میں ذرا بیٹے کے ان جملوں پر توجہ دیجیے:

o امی، ابھی آیا۔
o امی، ذرا انتظار کریں ، نہار ہا ہوں۔
o اماں، فرج خراب ہے۔

یہ جوابات بظاہر غیر متعلق ہیں، لیکن ایک مقدر مفہوم پر منحصر ہیں، اس لیے بظاہر غیر متعلق ہوتے ہوئے بھی عین متعلق ہیں۔ ماں نے جب کہا کہ گرمی لگ رہی ہے تو بیٹے نے یہ سمجھا کہ والدہ کہہ رہی ہیں کہ آکر میرا پنکھا چلادو ، یا مجھے ٹھنڈا پانی دو۔ تینوں جملے اس مفہوم کو سامنے رکھ کر جواب میں کہنے ممکن ہیں ۔ اگر والدہ کے اس جملہ کہ گرمی لگ رہی ہے، میں یہ مقدر نہ مانا جائے کہ والدہ پنکھا چلانے یا ٹھنڈاپانی مانگ رہی ہیں تو یہ تینوں جواب غلط ہیں۔ بیٹے نے اس سادہ جملے میں مقدر معنی کو محسوس کیا ہے، اس لیے اس کے احساس کے مطابق اس نے نہایت متعلق باتیں کہی ہیں۔لیکن جو اس جملے کا یہ مقدر نہ سمجھے، وہ بیٹے کو بے وقوف سمجھے گا کہ کس طرح کے غیر متعلق جواب دیے جارہا ہے۔ لہٰذا مقدر مفاہیم دو باتوں کے درمیان بندھن کا کام کرتے ہیں، جو بظاہر مختلف یا غیر متعلق ہوتے ہیں۔
یہ بندھن کئی پہلوؤں سے ہو سکتا ہے۔ ہم یہاں چارعمومی طور پر ممکن مقدرات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔

۱۔ مفہوم، جملہ جس بات کو کہنے کے لیے بولا گیا ہے۔ مثلاًماں نے بیٹے سے کہا: بہت گرمی لگ رہی ہے، کا جملہ موسم کی حالت کا پتا دے رہا ہے۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ والدہ صرف موسم پر تبصرہ کررہی ہیں)۔

۲۔ مدعا: جملہ جس بات کو سامع تک پہنچانا چاہتا ہے۔ مثلاً اس جملے میں ماں بیٹے کوکہنا چاہتی ہے کہ گرمی ہے پنکھا چلادیا جائے، یا ٹھنڈا پانی پینے کو دیا جائے وغیرہ۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ والدہ گرمی کا کہہ کر کچھ مطالبہ کررہی ہیں)۔

۳۔ نتائج: کہی گئی بات کے کچھ نتیجے نکلیں گے۔ مثلاًیہ کہ موسم خوشگوار نہیں ہے، باہر جانا آسان نہیں ہے ، ماں تکلیف میں ہے، وغیرہ۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ والدہ موسم کا کہہ کر کسی کام سے روکنا چاہتی ہیں، یا کچھ نتائج کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہیں)۔

۴۔ تقاضا: اس جملے کے کچھ تقاضے پیدا ہوں گے۔ مثلاً پنکھا فوراً چلنا چاہیے، ماں کی تکلیف زائل ہونی چاہیے، وغیرہ۔ (اس میں مقدر یہ ہے کہ مدعا پر عمل کیا جائے، نتائج کا خیال رکھا جائے ، دی گئی اطلاع کو پیش نظر رکھا جائے)۔ ]یہ اوپر کے تینوں مقدرات کا خیال رکھنا ہے[۔

یہ سارے معنی اس جملے کا ممکنہ حصہ ہیں جو ماں نے بیٹے سے کہا۔ اگرچہ بولے نہیں گئے۔اب اگلے جملے ان میں سے کسی کی رعایت کرتے ہوئے بولے جائیں تو وہ ایک ربط رکھتے ہوں گے خواہ وہ بظاہر غیر مربوط معلوم ہوتے ہوں۔
مثلاً بیٹا ماں کو کہے: اچھا میں پنکھا چلاتا ہوں، یا وہ کہے کہ ماں ، بجلی نہیں آرہی ہے، یا وہ کہے: ماں، میں نے کہا تھا ناکہ اس وقت باہر نہ جاؤ، واضح طور پر مربوط ہوں گے۔پہلا اور دوسرا جواب تقاضے کے پہلو سے ہے ، تیسرا نتائج کے اعتبار سے ہے ۔ لیکن اگر بیٹا ماں سے کہے کہ میں نہا رہا ہوں، تو یہ جملہ قدرے غیر متعلق لگ رہا ہے۔ لیکن وہ بھی مربوط ہے، تقاضے کے لحاظ سے وہ کہنا چاہتا ہے کہ میں نہا رہا ہوں آپ کا پنکھا فوراًنہیں چلا سکتا۔آپ کو کچھ انتظار کرنا ہوگا، یا خود اٹھ کر چلا لیں۔
اب غالب کے درج ذیل شعر پراس زاویۂ نگاہ سے غور کیجیے کہ اس نے کس طرح مقدرمقدمات سے دو مصرعوں کو مربوط بنایا ہے:


گھرہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا


ان دونوں مصرعوں کا دور دور تک کوئی باہمی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک شاعرانہ اور دو مادی تجربے پر مبنی مقدمات مقدر ہیں ۔شاعرانہ مقدمہ یہ ہے کہ رونے سے اتنا پانی جمع ہوجاتا ہے کہ گھر غرقاب ہوجاتا ہے۔پہلے مصرعے میں یہی مقدر مقدمہ موجود ہے۔ اگر میں نہ روتا، یعنی گھر غرقاب نہ بھی ہوتا تو تب بھی ویران ہوتا۔ دوسرے مصرعے میں دومادی تجربے پر مبنی مقدر ات کو بطور دلیل بنایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اگر سمندر سے پانی نکال دیا جائے تو باقی بیایاں ہی بچے گا۔دوسرا یہ کہ بیاباں ویران ہوتا ہے ۔ اب دونوں مصرعے نہایت مربوط ہیں، یعنی شاعر اپنے مخاطب سے کہتا ہے کہ تم مجھے کہہ رہے ہو کہ تمھارے رونے سے تمھارا گھر پانی میں غرقاب ہو کر ویران ہوگیا ہے، اگر تم نہ روتے تو گھر ویران نہ ہوتا، تو تمھاری بات درست نہیں، اس لیے کہ میرے نہ رونے سے گھر غرقاب نہ ہوتا تو تب بھی گھر ویران ہی ہوتا، اس لیے کہ یہاں اگرپانی نہ ہوتا تو ویران بیاباں ہوتا، کیونکہ بحر سے پانی نکال دیا جائے تو اس کے بعد بیاباں ہی نمودار ہوگا، آباد گھر تو برآمد نہیں ہوگا۔


لفظی مقدرات



باتوں اور جملوں کی طرح لفظ بھی مقدرات کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ جن چیزوں کے نام یا علامت ہیں، ان کے اوصاف و خصائص کویہ مقدرات کے طور پر اپنے جلو میں لیے کلام میں چلتے ہیں۔ مثلاً پانی کا لفظ، سیال ہونے، مشروب ہونے، آگ اور پیاس بجھانے والا ہونے، جیسے متعدد مقدرات اپنے ساتھ رکھتا ہے۔اردو محاورے ’آگ پانی کا کھیل‘ اور ’پانی میں آگ لگانا‘ میں پانی اور آگ کے وہ اوصاف مقدر کا کام کررہے ہیں جو دونوں کومادی دنیا میں یکجا نہیں ہونے دیتے۔
بسم اللہ میں صفاتِ رحمن و رحیم پر اسی زاویے سے غور کریں۔ برکت و سازگاری رحمت کا ایک مقدر مفہوم ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے اس کا پڑھناطلب برکات و ساز گاری کے لیے ہے۔قرآن مجید کی سورتوں میں سرنامے کے طور پر اس کا استعمال رحمت اور ہدایت کے اس تعلق سے ہے جو سورۂ رحمن میں بتایا گیا ہے کہ ’اَلرَّحْمٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘۔ یہی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’رحمۃً للعالمین‘ کہنے میں پیش نظر ہے۔یعنی براہِ مہربانی و خیر خواہی صحیح بات کی طرف ہدایت رحمت کا ایک مقدر حصہ ہے۔ یہاں دیکھیے کہ کس طرح رحمت اپنے مقدر مفہومات سے معنی آفرینی اور ربط کا عمل سرانجام دے رہی ہے۔مولانا فراہی اور ان کے پہلی اور دوسری نسل کے تلامذہ انھی مقدرات کو پہچانتے اور معنی میں ربط تلاش کرتے ہیں۔یہ ہر گز خارج سے داخل کیے گئے تصورات نہیں ہیں۔
یوں مقدرات وہ بنیادی اکائی ہیں، جن پراجزاے کلام کا معنوی ربط قائم ہوتا ہے۔قرآن مجید نے انسانی فطرت، عرب سماج، دین ابراہیمی، عرب لسانی تصورات، اخلاقی حسن و قبح، انسان اور عربوں کے عقلی مسلمات،مادی تجربات، اور ظواہر کائنات وغیرہ پر مبنی مقدمات پر اپنے کلام کی معنویت کی بنیادیں استوار کی ہیں۔ ان کے بیچوں بیچ اس نے نئے الوہی ، اسلامی، اخلاقی اور حکمت الٰہیہ کے مقدمات کو بھی متعارف کراکے مقدرات کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب قرآن مجید سے چندمثالیں دیکھتے ہیں۔
مولانا فراہی نے سورۂ نجم کی ایک آیت کے جملے: ’فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی‘ (۵۳: ۳۲) پر لکھا ہے:
یعنی اپنے مزکی ہونے (یا پاکی داماں) کی حکایت اتنی نہ بڑھاؤ، کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے کون متقی ہے۔ تو مولانا کہتے ہیں کہ اس سے یہ واضح ہوا کہ تزکیہ دراصل تقویٰ ہے۔۳؂ آیت کے خط کشیدہ الفاظ کا موازنہ کریں۔ مولانا کی مراد یہ ہے کہ ’تُزَکُّوْا‘ میں تقویٰ کا مفہوم مقدر تھا، تبھی اس پر یہ جملہ بولنا مربوط ہو گا کہ وہ متقیوں کو جانتا ہے۔ میں مولانا فراہی کا حوالہ اس لیے دے رہا ہوں تاکہ یہ واضح ہو کہ میں یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا کہ نظم کلام کا داخلی جزو ہے، بلکہ اس تصور کے موجدِ اول نے یہی بات کہی ہے۔
اب ایک مجموعۂ آیات کو دیکھیے کہ مولانا نے اسے کیسے حل کیا ہے:


وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ. وَالْاَرْضَ فَرَشْنٰھَا فَنِعْمَ الْمٰھِدُوْنَ. وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ. فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ اِنِّیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ.(الذاریات۵۱: ۴۷۔۵۰) 
’’آسمان کو ہم نے عظیم قدرت کے ساتھ بنایا ہے اور ہم بڑی وسعت رکھنے والے ہیں۔ اور زمین کو ہم نے بچھا دیا ہے، سو کیا خوب بچھانے والے ہیں۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تا کہ تم یاددہانی حاصل کرو۔ اِس لیے دوڑو اللہ کی طرف، میں اُسی کی طرف سے تمھیں ایک کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔‘‘


مولانا فراہی یہ کہتے ہیں کہ اس مجموعۂ آیات میں جوڑے جوڑے بنانے کا ذکر خدا کی قدرت اور حکمت پر دلالت کر رہا ہے، پھر اس دارفانی کے تتمہ۴؂ آخرت پر دلالت کررہا ہے، اور پھر اعمال کے لیے مجازات کے تتمہ پر دلالت کررہا ہے۔ ۵؂ مولانا کی بات کا مطلب یہ ہے کہ آسمان کے لیے ’بَنَیْنَا‘ (عمارت)کا لفظ اور زمین کے لیے ’فَرَشْنَا‘ (فرش یا زمین)کا لفظ بولا گیا ، پھر کہا گیا کہ ہم نے ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے۔ تو واضح ہوا کہ زمین و آسمان عمارت اور فرش ہونے کی وجہ سے جوڑا جوڑا ہوئے۔ گویا اگر کسی جگہ صرف عمارت تو ہو، مگر نیچے زمین نہ ہوتو گھر نہ بنا، اسی طرح فرش تو ہو، مگرعمارت نہ ہوتو تب بھی گھر نہ ہوا۔تو یوں گھر بنانے کے لیے آسمان اور زمین ایک دوسرے کے لیے تتمہ ہوئے۔ یعنی دونوں مل کر گھر تشکیل کرتے ہیں۔ پھر کلام آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر چیز کو جوڑے جوڑے اس لیے بنایا کہ تم ان سے یاددہانی حاصل کرو۔ مراد یہ کہ ہر چیز کو جوڑا اس لیے بنایا کہ تم اس کائنات پر اس زاویے سے نگاہ دوڑا کر ایک مخفی حکمت کو جانو کہ ہر چیز جوڑا جوڑا ہے۔ لیکن قرآن کی یاددہانی مادی نہیں، بلکہ روحانی ہے ۔ اس لیے کلام آگے بڑھا تو کہا کہ اللہ کی طرف لپکو۔اور اس لپکنے کی دعوت کو ’نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ‘ سے جوڑ کر ڈر انا قرار دیا۔ اب جب ہر چیز جوڑا ہے، اور جوڑے تذکیر کے لیے بنائے گئے، اس تذکیر سے نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ کی طرف بڑھو، ورنہ مارے جاؤ گے تو کلام منہ کھول کر اعلان کررہا ہے کہ چیزیں جوڑا جوڑا بنانے کے عمل میں کوئی خبردار ہونے کی چیز موجود ہے۔ اس سے مولانا فراہی نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ کون سا جوڑا ہے جس سے خبر دار ہونا چاہیے تو قرآن کے مضامین کی روشنی میں انھوں نے زمین کے فرش اور آسمان کے عمارت ہونے جیسے دو جوڑے نکالے ہیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا ایک جوڑا ہونا چاہیے جو اس دنیا کے تتمہ کا کام کرے۔ اور دوسرے یہ کہ اعمال کا تتمہ ان کی جزا و سزا ہے۔ یہ دونوں جوڑے بلاشبہ تتمہ بھی ہیں، لیکن ساتھ ہی ’نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ‘ کی دعوت کا حصہ بھی ۔ اسے مختصراً یوں سمجھیے:

آسمان اور زمین مل کر اس دنیا کومکمل بناتے ہیں،
یہ اس اصول پر ہے کہ ہر چیز جوڑا جوڑا ہے، جن کے ملنے سے ایک یونٹ مکمل ہوتا ہے،
جوڑا جوڑا بنایا جاناایک نشان ہے جس سے نصیحت حاصل ہوتی ہے،
یہ نصیحت خدا کی طرف بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔

لہٰذا جوڑوں کے اس اصول میں کوئی ایسی بات ہے جو خدا کی یاددہانی دلوں میں ڈالتی ہے۔

اب چیزوں پر غور کریں تو ہر چیز کا جوڑا ہے، مگر اس دنیا کا جوڑا نہیں ہے۔ یعنی یہ دنیا دارالعمل ہے، لیکن دار العمل دار الجزا کا تقاضا کرتا ہے۔تب جاکر اس کی نیکی بدی کے شعور والے انسا ن کی زندگی کی معنویت مکمل ہوتی ہے۔
تو اس دارالعمل کا جوڑا دار الجزا ہونا چاہیے، یعنی آخرت۔

یہ وہ شان دار استدلال ہے جو مولانا نے ان آیات کے نظم سے کشید کیا ہے۔ اسی کو مولاناکہتے ہیں کہ نظم حکمتِ قرآن کا دروازہ ہے۔

غرض یہ کہ لفظ، جملے، پیراگراف، سورتیں اور پھر ابواب اسی طرح کے مقدرات کے ساتھ مربوط ہو کر ایک شان دار مرتب کتاب کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ اس مضمون کا تنگ ناے اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ان تمام پہلوؤں پر بات ہو سکے۔ لیکن مذکورہ بالا اصول اور اس کی روشنی میں چند مثالیں امید ہے بات کو سمجھانے کے لیے مفید ہوں گی۔ اس اصول کی عملی تطبیق کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مدرسۂ فراہی کے اکابرین کی تفاسیر کو پڑھا جائے۔ مولانا فراہی رحمہ اللہ کا ’’مجموعہ تفاسیر‘‘، مولانا امین احسن صاحب اصلاحی رحمہ اللہ کی ’’تدبر قرآن‘‘ اور استاذی الجلیل غامدی صاحب دامت برکاتہ کی ’’البیان‘‘ اسی نظم کی دریافت پر مبنی تفاسیر ہیں۔ ان کا اس زاویے سے مطالعہ اس بات کو مزید واضح کرے گا کہ نظمِ قرآن خارج سے قرآن کے کلام میں نہیں ڈالا گیا ، بلکہ اس کے الفاظ و جمل کی دلالت اس طرف لے جاتی ہے۔وہ زاویہ یہ ہے کہ کلام کے مقدرات کو کھول کر مربوط کرنے کا نام نظم قرآن ہے۔ ان کے علاوہ فراہی صاحب کی ’’دلائل النظام‘‘ اصلاحی صاحب کی ’’مبادی تدبر قرآن‘‘ اوراستاذ گرامی کی ’’میزان‘‘ میں ’’اصول و مبادی‘‘ کا باب اور ’’البیان‘‘ کا ’’خاتمہ‘‘ بھی مفید مطلب ثابت ہوگا۔ لیکن مقدرات کے کھولنے اور نظم واضح کرنے کی عملی صورت بہرحال صرف تفاسیر ہی میں ملے گی۔

وہ تفاسیر، جو شانِ نزول، فلسفہ، منطق، تصوف اور اسلاف کی آرا پر مشتمل ہیں ، وہ دراصل خارج سے متن قرآن کی تفسیر کرنا ہے، جب کہ ہم پیروانِ مدرسۂ فراہی، اسی معنی کو قبول کرتے ہیں، جن کو قرآن کے الفاظ ،جمل اور سیاق و سباق وغیرہ اپنے معانی اور ان سے وابستہ مقدرات کے طور پر قبول کرتے ہوں۔ یہ اتنا محکم ضابطہ ہے کہ اس میں کسی مفسر کی غلطی پکڑنے اوراس کی تفسیر کی اصلاح و تصحیح کا باب ہمیشہ وا رہتا ہے۔ مثلاً اگر مولانا فراہی کسی مقدر کو غلط کھولیں اورکلام کسی اور مقدر کی طرف اشارہ کررہا ہو تو فکرفراہی کا ایک طالب علم بھی ان سے اختلاف کرکے اصلاح کر سکتا ہے ۔اسی بات کو استاذ گرامی یوں کہتے کہ قرآن کے شہرستان معانی کا ایک ہی دروازہ ہے، اور وہ لفظ ہے۔

لیکن جب معنیِ قرآن کا فیصلہ خارج سے ہونا ہو، اور ان لوگوں کے اقوال سے ہونا ہو، جنھیں امامت کا درجہ حاصل ہوتو پھر اصلاح و تصحیح کی کوئی گنجایش نہیں رہتی ۔ یہ مقام صرف رسولِ خدا کو حاصل ہے کہ ان کی بات سے چون و چرا نہ کیا جائے۔ آپ کے بعد یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے۔اسی وجہ سے مدرسۂ فراہی سنتِ متواترہ کو قرآن کی حتمی تفسیر مانتا ہے۔ لیکن خبر آحاد کے بارے میں توقف اور غور وفکر کا قائل ہے، اس لیے کہ آپ سے ان کی نسبت کے ظن اور روایت بالمعنیٰ میں خطا کے امکان نے اس کا مقامِ معصومیت اس سے چھین لیا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ سنتِ متواترہ بھی لسانی تواتر کا حصہ ہے، یہ بھی خارج سے تفسیر نہیں ہے۔ جب قرآن ’اَقِمِ الصَّلٰوۃَ‘ کہتا ہے،توہم ’الصَّلٰوۃ‘ کے معنی پنجگانہ نماز صرف اس لیے نہیں کرتے کہ یہ سنت متواتر ہ میں آیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ عہدِ نزولِ قرآن سے تا حال ’الصَّلٰوۃ‘ کے لغت میں متواتر معنی یہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱؂ حجج القرآن ۲۷۔ واضح رہے کہ نظم کے داخلی ذرائع میں اور بھی پہلو ہیں، مگر یہاں صرف مقدرا ت پر بات کرنا پیش نظر ہے، اس لیے کہ یہ بنیادی چیز ہے۔
۲؂ آگے قرآن سے دی گئی مثالوں میں ’وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰہَا‘، والی آیات اسی نوع کی مثال ہے۔
۳؂ رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن ۱۱۸۔
۴؂ Complemental Halfوہ چیز جو کسی مجموعہ کو مکمل کرنے میں آدھا کردار ادا کرتی ہو یا کسی یونٹ کو مکمل کرتی ہو۔
۵؂ رسائل الامام الفراہی فی علوم القرآن ۱۱۹۔