مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے " آیا کہ سورۃ الدھر مکی ہے یا مدنی " مفسرین کے اختلافات کا تجزیہ کیا ، اس بارے میں روایت کا درایتی تجزیہ کرکے اس کے زمانہ نزول کا تعین کیا ۔ ساتھ ہی شان نزول کے بارے میں سلف کے نکتۂ نظر کا ذکر بیان کیا۔ سورتوں ، آیاتوں کے شان نزول اور زمانہ نزول کے بارے میں ان کی یہ بحث نہایت دلچسپ اور اہم ہے، اس سے شان نزول کے بارے میں ان کا نکتۂ نظر بھی معلوم ہوتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ۔
" اکثر مفسرین اس( سورۃ الدھر ) کو مکی قرار دیتے ہیں۔ علامہ زمخشری، امام رازی، قاضی بیضاوی، علامہ نظام الدین نیسا بوری، حافظ ابن کثیر اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اسے مکی ہی لکھا ہے، اور علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ یہی جمہور کا قول ہے لیکن بعض دوسرے مفسرین نے پوری سورت کو مدنی کہا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ سورت ہے تو مکی مگر آیات 8 تا 10 مدینے میں نازل ہوئی ہیں ۔