اس بارے میں سب کو اتفاق ہے کہ قرآن کے سوروں(سورتوں)کے اندر آیتوں کی جو ترتیب ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہے، لیکن خود سوروں کی ترتیب جو موجودہ قرآن میں ہے کہ پہلے سورۂ فاتحہ، پھر سورۃ بقرہ وغیرہ، وہ کس نے دی؟ ذیل کی روایت بخاری و مسلم نے تو نہیں البتہ طبری، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن حنبل، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے نقل کی ہے کہ ایک دن حضرت ابن عباس رض نے حضرت عثمان رض سے پوچھا کہ سورہ انفال کو جو چھوٹا ہے، سورۃ برأت سے جو بڑا ہے، پہلے کیوں رکھا گیا ہے؟ اور سورۃ برأت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی نہیں ہے، یہ کیوں؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض وقت کئی کئی سورے بہ یک وقت جزأً جزأً بھی نازل ہوتے تھے، (اس کا کچھ حصہ اور اس کا کچھ حصہ)۔ جب آپ پر کوئی چیز نازل ہوتی تو کاتب کو بلا کر لکھاتے اور کہتے کہ اسے فلاں سورے کے فلاں مقام پر درج کرو۔ سورۃ انفال ہجرت کے آغاز پر نازل ہوا اور سورۃ برأت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری زمانے میں،دونوں کے مندرجات میں مماثلت ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایاکہ یہ دونوں ایک ہی سورت ہیں۔ اس لیے میں نے ان دونوں کو پاس پاس تو رکھا ( یعنی ان کی ترتیب تو جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، باقی رکھی) لیکن ان کے درمیان بسم اللہ (اپنی طرف سے) نہیں بڑھایا اور سورۃ انفال کو (مختصر تر ہونے کے باوجود) سات لمبے سوروں ہی میں رکھا۔ اس ایک روایت کی اساس پر (جس کے راویوں میں ایک غیر معروف شخص ہونے کے باعث یہ نہیں معلوم کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بعینہ یہ الفاظ کہے یا ان کے مفہوم کو یوں بیان کیا گیا) بعض مؤلفوں نے یہ خیال کیا ہے کہ سوروں کی ترتیب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دی (ذیل تفسیر ابن کثیر ص 11 تا 12 مع حاشیہ)۔
یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
حفاظت قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حفاظت قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کا اختلاف - ڈاکٹر اسرار احمد ؒ
![]() |
| ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کا اختلاف |
قرآن حکیم کی ترتیب کے ضمن میں پہلی بات جو بالکل متفق علیہ اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے وہ یہ ہے کہ ترتیب ِنزولی بالکل مختلف ہے اور ترتیب ِمصحف بالکل مختلف ہے. اکثر و بیشتر جو سورتیں ابتدا میں نازل ہوئیں وہ آخر میں درج ہیں اور ہجرت کے بعد جوسورتیں نازل ہوئی ہیں (البقرۃ ‘ آل عمران‘ النساء‘ المائدۃ)ان کو شروع میں رکھاگیاہے. تو اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ترتیب ِنزولی اور ترتیب مصحف مختلف ہے.
جہاں تک ترتیب نزولی کا تعلق ہے‘ اس سے ہر طالب علم کو دلچسپی ہوتی ہے جو قرآن مجید پر غور کرنا چاہتا ہے. اس لیے کہ ترتیبِ نزولی کے حوالے سے قرآن حکیم کے معانی اور مفاہیم کا ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے. ایک تو یہ کہ ایک خاص پس منظر کے ساتھ سورتیں جڑتی ہوئی چلی جاتی ہیں. ابتدا میں کیا حالات تھے جن میں یہ سورتیں نازل ہوئیں‘ پھر حالات نے کیا پلٹا کھایا تو اگلی سورتیں نازل ہوئیں. چنانچہ ترتیبِ نزولی کے حوالے سے قرآن حکیم کو مرتب کیا جائے تو ایک اعتبار سے وہ سیرت النبیؐ کی کتاب بن جائے گی. اس لیے کہ آغاز وحی کے بعد سے لے کر آپؐ کے انتقال تک وہ زمانہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا. دوسرے یہ کہ اس پورے زمانے کے ساتھ قرآن مجید کی آیات اور سورتوں کا جو مجموعی ربط ہے ترتیب نزولی کی مدد سے اسے سمجھنے اور غور و فکر کرنے میں مدد ملتی ہے.
قرآن کی نزولی و مصحفی ترتیب کی تشکیل و تدوین کی مختصر تاریخ - مفتی محمد ہاشم
![]() |
| قرآن کی نزولی و مصحفی ترتیب کی تشکیل و تدوین کی مختصر تاریخ |
عربی زبان میں’’جمع القرآن‘‘ کالفظ دو (۲)معانی میں استعمال ہوتا ہے:
1) زبانی حفظ کے معنی میں
2) کتابت اور تدوین کے معنی میں
عہدِرسالت میں مذکورہ دونوں معنوں میں حفاظت ِقرآن کا انتظام ہوا-جہاں تک پہلے معنی کا تعلق ہے تو خود رسول اللہ(ﷺ)نے قرآنِ کریم کو اپنے سینہ میں محفوظ کیا اور قرآنِ کریم آپ (ﷺ)کے صفحاتِ قلب پر نقش تھا-نیز آپ(ﷺ)کے دور میں متعدد صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ) قرآنِ کریم کے حافظ تھے،جہاں تک دوسرے معنی میں حفاظت ِقرآن کا تعلق ہے تو اس کا اہتمام بھی دورِ نبوی (ﷺ)میں بخوبی ہوا-آپ (ﷺ)کی نگرانی میں اور آپ(ﷺ)کے سامنے مکمل قرآنِ کریم لکھا گیا،اگرچہ پتھروں،کاغذ اور چمڑے کے ٹکڑوں پر تھا ، لیکن یہ بات حتمی ہے کہ ابھی رسول اللہ(ﷺ)کا انتقال نہیں ہوا تھا کہ قرآنِ کریم اکثر صحابہ کرام(رضی اللہ عنہ)کے سینوں میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اشیاء پر تحریری شکل میں بھی موجود تھا-
حفاظتِ قرآن مجید کے طریقے:
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)

