اصلاح و تربیت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اصلاح و تربیت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن سے حقیقی استفادہ کا راستہ — چار بنیادی ستون

قرآنِ کریم محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ہدایت، تربیت اور انقلابِ انسانیت کا وہ جامع منشور ہے جس نے ایک بے سمت قوم کو دنیا کی رہنما قوم بنا دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آج ہم قرآن رکھتے ہوئے بھی اس کے حقیقی ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟ اس کا جواب اسی سنتِ نبوی ﷺ میں پوشیدہ ہے جس کے ذریعے قرآن صحابہ کرامؓ تک منتقل ہوا۔ قرآن سے مکمل استفادہ کے لیے چار بنیادی کام ایسے ہیں جن کے بغیر یہ تعلق ادھورا بلکہ بے روح رہ جاتا ہے۔

پہلا ستون: کثرتِ تلاوت — قرآن سے دائمی ربط

قرآن کے ساتھ پہلا اور بنیادی تعلق تلاوت ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جس سے قرآن دل میں داخل ہوتا ہے۔ سورۃ المزمل میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا:

"وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا"
(قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو)

یہ حکم محض نبی ﷺ کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ایک اصول ہے۔ کثرتِ تلاوت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے، اس کے شعور کو بیدار کرتی ہے اور اسے قرآن کے نور سے منور کرتی ہے۔ جس دل میں قرآن کی تلاوت جاری رہتی ہے، وہ دل مردہ نہیں ہوتا۔

نفسیاتی الجھنیں اور سکونِ قلب کا قرآنی نسخہ

انسانی زندگی خیالات کے ایک نہ ختم ہونے والے تسلسل کا نام ہے۔ کبھی یہ خیالات ہمیں امید کی روشنی دکھاتے ہیں اور کبھی خوف و حزن کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جہاں نفسیاتی امراض کی بھرمار ہے، وہاں قرآنِ کریم کا یہ نسخہ آج بھی اتنا ہی کارگر ہے جتنا صدیوں پہلے تھا۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہر سوچ ہماری اپنی ہے؟ اور "خیال" اور "وسوسے" میں بنیادی فرق کیا ہے؟

عام فہم انداز میں سمجھا جائے تو ’خیال‘ ایک فطری عمل ہے۔ یہ کسی ضرورت، مشاہدے یا یادداشت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً بھوک لگنے پر کھانے کا خیال آنا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا۔ خیال بذاتِ خود برا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی عقل کے متحرک ہونے کی علامت ہے۔

دوسری طرف ’وسوسہ‘ ایک بیرونی مداخلت ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الناس میں "الوسواس الخناس" کا ذکر ملتا ہے، جو وہ چھپ کر حملہ کرنے والا ہے جو انسان کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ وسوسہ دراصل وہ منفی، بے بنیاد اور خوفزدہ کر دینے والی سوچ ہے جو اچانک ذہن میں پیدا کی جاتی ہے۔ خیال شعور سے جنم لیتا ہے، جبکہ وسوسہ لاشعور پر حملہ کر کے انسان کے جذبات میں خلل ڈالتا ہے۔

شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار "خوف" اور "حزن" (غم) ہے۔ وہ انسان کو مستقبل کے اندیشوں سے ڈراتا ہے اور ماضی کے پچھتاووں میں الجھائے رکھتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ان کیفیات کا واحد حل ’ذکرِ الٰہی‘ میں رکھا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے" (الرعد: 28)۔ یہ اطمینان دراصل اسی ذہنی انتشار اور وسوسوں کے طوفان کے خلاف ایک حفاظتی دیوار ہے۔

حق و باطل کا قرآنی میزان

امتِ مسلمہ کی تاریخ پر اگر تدبر کی نظر ڈالی جائے تو ہمیں ایک عجیب مگر سبق آموز حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہر دور میں دین کی خدمت کے نام پر مختلف تحریکیں، جماعتیں، ادارے اور افراد نمودار ہوئے۔ ہر ایک نے اپنی تعبیر، اپنا زاویہ نظر، اور اپنا راستہ چنا۔ کچھ نے سچائی کے کچھ گوشے پالئے، کچھ نے اخلاص سے سفر کا آغاز کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ تحریکیں تاریخ کی دھول میں دفن ہوگئیں، کچھ کے صرف نام رہ گئے، اور کچھ حقیقتاً تاریخ کی نفع بخش وراثت بن گئیں۔ سوال یہ ہے: کیا قرآن نے حق و باطل کی پہچان اور ان کی تاریخی حیثیت کے بارے میں کوئی اصول بیان کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ سورہ رعد میں ایک نہایت پراثر تمثیل کے ذریعے حق و باطل کے فرق کو واضح کرتا ہے:
"فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءًۭ ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَـٰلَ" (الرعد: 17)
"جو جھاگ ہے وہ تو زائل ہو جاتا ہے، اور جو لوگوں کو نفع دیتا ہے وہ زمین میں باقی رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے۔"

یہ آیت محض ایک فطری مشاہدہ نہیں بلکہ ایک الہیٰ قانون بیان کرتی ہے:
 باطل عارضی ہوتا ہے، وہ جھاگ کی طرح ابھرتا ہے، مگر جلدی ہی مٹ جاتا ہے۔
حق وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع مند ہو، وہی زمین میں باقی رہتا ہے، تاریخ اسی کو محفوظ رکھتی ہے۔

میڈیا، فیک نیوز اور قرآن حکیم : ایک تجزیاتی مطالعہ

  تمہید

دورِ جدید میں میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔ معلومات کی تیز رفتار ترسیل نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی فیک نیوز (Fake News) اور گمراہ کن اطلاعات کا سیلاب بھی آیا ہے۔ قرآنِ کریم، جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ہمیں اس فتنے سے محفوظ رہنے کے اصول فراہم کرتا ہے۔ اس تحریر میں ہم میڈیا کے کردار، فیک نیوز کے اثرات، اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اس کے سدباب پر غور کریں گے۔

1. میڈیا اور معلومات کی ترسیل

میڈیا کا بنیادی کام معلومات کی فراہمی ہے، جو مختلف شکلوں میں ہوسکتی ہے:

  • روایتی میڈیا: اخبارات، ریڈیو، ٹی وی

  • ڈیجیٹل میڈیا: ویب سائٹس، سوشل میڈیا، یوٹیوب

  • سوشل میڈیا: فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، ٹیلیگرام

ان ذرائع نے جہاں معلومات کی رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں افواہوں اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو بھی ممکن بنایا ہے۔

2. فیک نیوز: ایک خطرناک ہتھیار

فیک نیوز کسی بھی غلط، جھوٹی یا گمراہ کن خبر کو کہتے ہیں جسے کسی مخصوص ایجنڈے، پروپیگنڈے، یا سنسنی پھیلانے کے لیے پھیلایا جاتا ہے۔

فیک نیوز کے مقاصد:

  • عوام کو گمراہ کرنا

  • کسی خاص نظریے یا سیاسی ایجنڈے کو فروغ دینا

  • شخصیات یا گروہوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا

  • فرقہ واریت اور انتشار کو ہوا دینا

دعا کى قبوليت - مولانا وحيد الدين خان

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
دعا کى قبوليت 

قرآن کی اِس آیت میں ایک بندۂ مومن کے لیے عظیم تسکین (solace) کا سامان موجود ہے۔اس میں ایک مومن بندے کے لیےدعاکا ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ بندہ اللہ رب العالمین سے ایک چیز کا طالب ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا اس کے معاملہ کو سنبھالنے والا بن جائے۔ اِس آیت کو لے کر ایک بندۂ مومن کہہ سکتا ہے— خدایا، میں آخری حد تک ایک عاجز انسان ہوں، لیکن قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ تیری رحمت بہت وسیع ہے۔ خدایا، تو نے میرے گناہوں کے بارے میں یہ فرمادیا ہے کہ تو خود اس کو معاف فرمائے گا۔ اب میں جو دعا کررہا ہوں تو کیا تو میری دعا کو ریجکٹ کردے گا۔ یعنی جب تو بندوں کے معاملے میں اتنا فیاض ہے کہ بغیر مانگے ہوئے تو اعلان کررہا ہے کہ تو ان کے گناہوں کو معاف فرمائے گا تو جب میں خود سے سوال کررہا ہوں تو کیا تو اس کو پورا نہیں فرمائے گا۔

احسن القصص

سورہ یوسف کا نام قرآن میں احسن القصص (سب سےبہترین قصہ ) آیا ہے اس سورہ کے نزول کے بارے میں روایت ہے کہ یہودیوں کے اشارے پر کفار مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلّم کا امتحان لینے کے لیے، آپ کے سامنے  یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اس سوال کےجواب میں اللہ تعالی نے سورہ یوسف نازل فرمایا ۔

اس سورہ کو احسن القصص اس لحاظ سے کہاگیا کہ انسانی زندگی کے تمام بنیادی کردارں کو اس سورت میں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے ، اس قصہ میں زندگی کے ان تمام مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسان اور انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی بپچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر ، غرضکہ تمام وہ امور جو دین ، اخلاق اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں بڑی عمدگی اور تسلسل کے ساتھ ایک ہی سورت میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ قصہ کا آغازیوسف ؑ کے ایک خواب کے ذکر سے ہوتا ہے پھر اختتام بھی اسی خواب کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ گویا پورا قصہ حضرت یوسف ؑ کے خواب کی عملی تعبیر پر مشتمل ہے ۔ 

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ابراہیم ؑ کی نسل بنی اسحاق ؑ، جس کی اہم شاخ بنی یعقوب ( اسرائیل) ہے،اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پید اکیں ۔ انہیں سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ۔ ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاءاور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ بنی یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے اس سلسلہ نبوت کا سب سے پہلے نبی حضرت یوسف ؑ ہیں ۔ 

بائیبل کے مطابق یعقوب ؑ کی چار بیویاں تھیں ،جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے ۔ ان چارمیں سے ایک سے یوسف ؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین پیدا ہوئے ۔ علمائے بائیبل کی تحقیق کے مطابق یوسف ؑ کی پیدائش تقریبا 1906 قبل مسیح میں ہوئی ۔ یوسف ؑ جب سترہ سال کے تھے۔ تو ان کے بھائیوں نے ان سے حسد کرتے ہوئے ان کو کنویں میں بھینکا ، ایک قافلے نے ان کو کنویں سے نکال کر مصر لے جاکر عزیز مصر کو فروخت کردیا ۔ 

مصر پر اس زمانہ میں عربی النسل قوم کے پندرھویں خاندان کی حکومت تھی ۔ جو چرواہے بادشاہوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ لوگ ابراہیم ؑ کے زمانہ سے سلطنت مصر پر قابض تھے ۔ علماء بائیبل کے مطابق یوسف ؑ کے ہم عصر فرمانروا کا نام اپوفیس ( Apophis) تھا ۔ 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 6)، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 5) ، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ3)، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن (حصہ 2) ، جاويد احمد غامدى


 

قانون وراثت اور قرآن(حصہ 1) ، جاويد احمد غامدى


 

قرآن میں ہر شخص اپنا تذکرہ پڑھ لے - ڈاکٹر ظفر الاسلام اصلاحی

قرآن کی نصیحت اور یاد دہانی سادہ اور عام فہم لفظوں میں ہرفرد کے لیے بالکل عام ہے۔  وہ سب کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتا ہے اور اپنے خالق ومالک کی طرف پلٹ کر آنے کی بار بار دعوت دیتا ہے ۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اس کتابِ عظیم کے لیے ’ذکر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اللہ ربّ العزت کا ارشادہے:

 اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۸۷ (ص۳۸:۸۷) یہ تو بس تمام دنیا کے لیے یاددہانی ہے۔

وَمَا ہُوَاِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۵۲ۧ (القلم۶۸:۵۲)یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔

 اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۲۷ۙلِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَــقِيْمَ۝۲۸ۭ (التکویر ۸۱:۲۷-۲۸) یہ تو سارے جہاں والوں کے لیے ایک نصیحت ہے تم میں سے ہراس شخص کے لیے جو راہِ راست پر چلنا چاہتا ہو۔

 فَاَيْنَ تَذْہَبُوْنَ۝۲۶ۭ  اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۲۷ۙ (التکویر ۸۱:۲۶-۲۷) پس تم کہاں بھاگے جا رہے ہو، یہ (قرآن) تو ساری دنیا کے لوگوں کے لیے نصیحت اور یاددہانی ہے۔

 وَھٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰہُ ۝۰ۭاَفَاَنْتُمْ لَہٗ مُنْكِرُوْنَ۝۵۰ۧ (الانبیاء۲۱:۵۰) اور یہ بابرکت ذکر ہم نے (تمھارے لیے ) نازل کیا ہے۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو ؟

 قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا۝۰ۭاِنْ ہُوَاِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ۝۹۰ۧ (الانعام ۶:۹۰)  کہہ دو میں اس (دعوت دین )پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے ۔

ایک جگہ اس کتاب کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے: وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ۝۱ۭ  (ص۳۸:۱)۔ ’ذکر ‘و ’ذکریٰ‘ کا مفہوم تقریباً وہی ہے ، جو موعظت یا نصیحت کا ہے۔ اس کے مفہوم میں: ’’نصیحت یا اچھی بات بتانا ، یاد دلانا یا یاد دہانی کراتے رہنا، سب کچھ شامل ہے‘‘۔

حضرت سلیمان ؑ اور تمثال (تصویر یا مجسمہ سازی ) کا فن اور ہمارے مفسرین کی غلط فہمی

ارشاد باری تعالی :   یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾ ( سورہ سبا) 

 اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے 19۔ ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں تصویریں20، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں21۔۔۔۔ اے آلِ داؤد عمل کو شکر کے طریقے پر 22، میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہیں۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ نے سورہ سبا کی  مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے تمثال یعنی تصویر اور مجسمہ سازی کی شرعی حیثیت کا تفصیل سے جائزہ لیا اور بعض قدیم اور جدید مغرب زدہ مفسرین پرغلط فہمی پر سخت تنقید کی ہے وہ لکھتے ہیں:  

" اصل میں لفظ تَمَاثِیل استعمال ہوا ہے جو تِمثَال کی جمع ہے۔ تمثال عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے قطع نظر اس اصل سے کہ وہ کوئی انسان ہو یا حیوان، کوئی درخت ہو یا پھول یا دریا یا کوئی دوسری بے جان چیز۔التمشال اسم للشئ المصنوع مشبھا بخلا من خلق اللہ (لسان العرب)"" تمثال نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو خدا کی بنائی ہوئی کسی چیز کے مانند بنائی گئی ہو ‘‘ التمثال کل ما صور علی صورۃ غیرہ من حیوان و غیر حیوان۔ (تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بے جان ‘‘۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے جو ’’ تماثیل ‘‘ بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جب سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔

آیات درود کی تفسیر و تشریح اور اس کی شرعی حیثیت فقہاء اسلام کی نظر میں - از سید ابوالاعلی مودودیؒ

آیات : ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا "  ﴿۵۸﴾ (سورہ الاحزاب ) 

ترجمہ : 

 اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں (حاشیہ نمبر106،)  اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو(حاشیہ نمبر107) 
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان  اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ 

تفسیر : 

 حاشیہ نمبر :106 میں سید ابوالاعلی مودودی  لکھتے ہیں :

" اللہ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ پر بے حد مہربان ہے ، آپ کی تعریف فرماتا ہے ، آپؐ کے کام میں برکت دیتا ہے ، آپؐ کا نام بلند کرتا ہے اور آپ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے۔ 

ملائکہ کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپؐ سے غایت درجے کی محبت رکھتے ہیں اور آپؐ حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپؐ کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے ، آپؐ کے دین کو سر بلند کرے ، آپؐ کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپؐ کو مقام محمُود پر پہنچائے۔

 سیاق و سباق پر نگاہ ڈالنے سے صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ اس سلسلۂ بیان میں یہ بات کس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب دشمنانِ اسلام اس دینِ مبین کے فروغ پر اپنے دِل کی جلن نکالنے کے لیے حضورؐ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اُچھال کر وہ آپؐ کے اُس اخلاقی اثر کو ختم کر دیں گے جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ ان حالات میں یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے دُنیا کو یہ بتایا کہ کفّار و مشرکین اور منافقین میرے نبی کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کی جتنی چاہیں کوشش کر دیکھیں ، آخر کار وہ منہ کی کھائیں گے ، اس لیے کہ میں اُس پر مہربان ہوں اور ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے وہ سب اُس کے حامی اور ثنا خواں ہیں۔ وہ اس کی مذمت کر کے کیا پا سکتے ہیں جبکہ میں اس کا نام بلند کر رہا ہوں اور میرے فرشتے اس کی تعریفوں کے چرچے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روز دعا کر رہے ہیں کہ ربّ العالمین، محمدؐ کا مرتبہ اور زیادہ اونچا کر اور اس کے دین کو اور زیادہ فروغ دے"۔

لھو الحدیث - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ لقمان : ۷﴾

ترجمہ : اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے 5 جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر  بھٹکا دے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے ۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں :

 اصل لفظ ہیں’’ لَھُوَ الْحَدِیث‘‘ یعنی ایسی بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے ۔لعنت کے اعتبار سے تو ان الفاظ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں ہے ۔ لیکن استعمال میں ان کا اطلاق بُری اور فضول اور بے ہودہ باتوں پر ہی ہوتا ہے ،مثلاً گپ ،خرافات ، ہنسی مذاق ،داستانیں، افسانے اور ناول ، گانا بجانا ، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ۔ 

ختم قلوب کی حقیقت اور اس کے بارے میں قانون الٰہی ـ مولانا امین احسن اصلاحی ؒ

یہاں (سورۃ البقرۃ کی آیت "ختم اللہ علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ ولہم عذاب عظیم") جس ختم قلوب کا ذکر ہے اس کے بارے میں دو باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں۔

 ایک یہ کہ اس ختم سے مراد ختم ظاہری نہیں ہے بلکہ ختم معنوی مراد ہے۔ جہاں تک ظاہری چیزوں کے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا تعلق ہے یہ لوگ ان کو دیکھتے، سنتے اور سمجھتے تھے لیکن اس مشرب کے لوگ اپنی سمجھ بوجھ کی تمام قوتیں اور صلاحیتیں دنیا کے ظواہر و محسوسات ہی تک محدود رکھتے ہیں، ان ظواہر و محسوسات کے پس پردہ جو حقائق ہیں ان کی طرف نہ تو یہ خود متوجہ ہوتے ہیں اور نہ کسی دوسرے توجہ دلانے والے کی بات پر کان ہی دھرتے ہیں۔ دنیا اور زخارف دنیا میں ان کا انہماک اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کسی اور چیز کی طرف توجہ کرنے کی ان کے اندر گنجائش ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ اپنی ذہانت و فطانت اسی ایک مقصد پر صرف کرتے ہیں۔ 

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آسمان وزمین کا طول وعرض ناپنے میں تو ان کی عقل بڑی تیز ہوجاتی ہے لیکن روحانی اقدار و حقائق کے معاملہ میں وہ بالکل ہی کند ہوتی ہے۔ یہ صورت حال ان کے مذاق کو بھی اس قدر بگاڑ دیتی ہے کہ صرف وہی باتیں ان کو اچھی لگتی ہیں جن سے ان کے اس بگرے ہوئے مذاق کو غذا ملے۔ جن کو باتوں سے اس کی حوصلہ شکنی ہو، خواہ وہ کتنی ہی معقول ہوں، ان سے ان کی طبیعت کو وحشت ہوتی ہے۔  اسی صورت حال کو یہاں ختم قلوب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔

خورد ونوش کے قرآنی احکام

 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ،  اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ۔ 

 ( سورۃ البقرۃ: 172، 173) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔ ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

-----------------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے :

" اگر تم ایمان لا کر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر وہ ساری چھوت چھات، اور زمانہء جاہلیّت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربّیوں اور پادریوں نے، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھاؤ پیو۔ اسی مضمون کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مَنْ صَلّٰی صَلوٰ تَنَا و َ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الخ یعنی جس نے وہی نماز پڑھی جو ہم پڑھتے ہیں اور اسی قبلے کی طرف رخ کیا جس کی طرف ہم رخ کرتے ہیں اور ہمارے ذبیحے کو کھایا وہ مسلمان ہے۔

وحدت ادیان کا گمراہ کن فلسفہ - مولانا صلاح الدین یوسف

ارشاد باری تعالی ہے : " اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ   وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ( البقرۃ : 62) 

"مسلمان ہوں، یہودی ہوں،  نصاری  ہوں یا صابی  ہوں جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ "
وحدت ادیان کا گمراہ کن فلسفہ ۔ مولانا صلاح الدین یوسف 

بعض جدید مفسرین کو اس آیت کے مفہوم سمجھنے میں بڑی غلطی لگی ہے اور اس سے انہوں نے "وحدت ادیان " کا فلسفہ کشید کرنے کی مذموم کو سعی کی ہے ۔ یعنی رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو بھی جس دین کو مانتا ہے اور اس کے مطابق ایمان رکھتا اور اچھے عمل کرتا ہے اس کی نجات ہوجائے گی۔

 یہ فلسفہ سخت گمراہ کن ہے آیت کی صحیح تفسیر یہ ہےکہ جب اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں یہود کی بدعملیوں اور سرکشیوں اور اس کی بنا پر ان کے مستحق عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا تو ذہن میں اشکال پیدا ہوسکتا تھا کہ ان یہود میں جو لوگ صحیح کتاب الٰہی کے پیروکار اور اپنے پیغمبر کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ فرمایا یا کیا معاملہ فرمائے گا ؟

زنا کی سزا جلد اور رجم کے بارے میں قرآن کا حکم ۔ امین احسن اصلاحی ؒ

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ  ۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ (سورہ النور : 2 ) 

ترجمہ : 

زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارو اور خدا کے قانون کی تنقید کے معاملے میں ان کے ساتھ کوئی نرمی تمہیں دامن گیر نہ ہونے پائے اگر تم اللہ اور روز آخر پم سچا ایمان رکھتے ہو اور چاہئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود رہے ۔
--------------------
اس کی تفسیر میں امین احسن اصلاحی ؒ لکھتے ہیں : 

معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل زنا کو ہے اس لئے کہ معاشرہ کے استحکام کا انحصار رحمی رشتہ کی پاکیزگی اور اس کے ہر قسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے اور زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کر کے معاشرے کو  انتشار کی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کے بجائے ڈھوروں ڈنگروں کا ایک۔  گلہ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو ایک مستوجب سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی بالکل پہلے ہی مرحلہ سے اس انتشار کو روکنے کے لئے احکام دیئے۔ چنانچہ نساء کی آیات 16-15 میں اس سلسلہ کے ابتدائی احکام دیئے گئے جب کہ حالات حدود و تعزیرات کے نفاذ کے لئے ابھی سازگار نہیں ہوئے تھے اور ساتھ ہی یہ اشارہ فرما دیا گیا کہ اس بات میں قطعی اور آخری احکام بعد میں نازل ہوں گے۔ چنانچہ اس آیت سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔ زانیہ اور زانی دونوں کے لئے یہ حکم ہوا کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں ۔

زنا کے قانونی، اخلاقی اور تاریخی پہلوؤں کا جائزہ ۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ  ۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔  (سورہ النور : 2 ) 

ترجمہ :
زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔  اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔  اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ 

--------------------------
آیت کی تفسیر میں  سید مودودیؒ لکھتے ہیں : 

" اس مسئلے کے بہت سے قانونی، اخلاقی اور تاریخی پہلو تشریح طلب ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا جائے تو موجودہ زمانے میں ایک آدمی کے لیے اس تشریع الہی کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے ذیل میں ہم اس کے مختلف پہلوؤں پر سلسلہ وار روشنی ڈالیں گے :

(١) زنا کا عام مفہوم جس سے ہر شخص واقف ہے، یہ ہے کہ " ایک مرد اور ایک عورت بغیر اس کے کہ ان کے درمیان جائز رشتہ زن و شوہر ہو، باہم مباشرت کا ارتکاب کریں"۔

 اس فعل کا اخلاقا برا ہونا، یا مذہبا گناہ ہونا، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہونا، ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں۔ اور اس میں بجز ان متفرق لوگوں کے جنہوں نے اپنی عقل کو اپنی نفس پرستی کے تابع کردیا ہے، یا جنہوں نے خبطی پن کی اپچ کو فلسفہ طرازی سمجھ رکھا ہے، کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاق رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت خود زنا کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے۔