تذکیر القرآن، مولانا وحید الدین خاں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تذکیر القرآن، مولانا وحید الدین خاں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن کی تفسیر کے لیے کیا انداز اختیا ر کیاجائے؟ مولانا وحید الدین خان

قرآن اگرچہ ایک اعلی ترین علمی کتاب ہے، اس میں فطری حدود کے اندر علم وعقل کی پوری رعایت رکھی گئی ہے۔ مگر قرآن میں کسی بات کو ثابت کرنے کے لئے معروف علمی اور فنی انداز اختیا ر نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ فنی آداب اور علمی اصطلاحات کو چھوڑ کر اصل بات کو موثر دعوتی اسلوب میں بیان کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا مقصد علمی مطالعہ بیش کرنا نہیں ہے اس کا مقصد تذکیر و نصیحت ہے اور تذکیر و نصیحت کے لیے ہمیشہ سادہ اسلوب کارآمد ہوتا ہے نہ کہ فنی اسلوب ۔ 
قرآن کی تفسیر اور اس کا انداز کیا ہو؟



تاہم ایک طالب علمانہ ضرورت ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک آدمی قرآن کے بیانات کی علمی تفصیلات اور اس کے فنی پہلوؤں کو جانناچاہے ۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ قرآن کی تفسیر کے لیے کیا انداز اختیا ر کیاجائے۔ قرآن کی تفسیر اگر اس کے اپنے سادہ دعوتی اسلوب میں کی جائے تو اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ تفسیر میں نصیحت اور تذکیر کی فضا باقی رہے گی جو قرآن کا اصل مقصود ہے مگر ایسی صورت میں خالص علمی تقاضوں کی رعایت نہ ہو سکے گی ۔ دوسری طرف اگر علمی و فنی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مفصل تفسیر لکھی جائے تو بعض خاص طبیعتوں کو وہ پسند آسکتی ہے ۔ مگر عام لوگوں کے لیے وہ ایک خشک دستاویز بن کر رہ جائے گی ۔ مزید یہ کہ وہ قرآن کے اصل مقصد ــــــــــــــــ تذکیر و نصحیت کو مجروح کرنے کی قیمت پر ہوگا ۔ 

اس مسئلہ کا ایک سادہ حل یہ ہے کہ تفسیر اور معلومات کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ قرآن کے ساتھ جو تفسیر شائع کی جائے وہ خود تو نصیحت اور تذکیر کے انداز میں ہو ۔ اس کے بعد اس سے الگ ایک مستقل کتاب قاموس القرآن یا قرآنی انسائیکلوپیڈیا کے طور مرتب کرکے شائع کی جائے ۔ اس دوسری کتاب میں وہ تمام فنی بحثیں اور علمی اور تاریخی معلومات ہوں جو قرآنی حوالوں کو تفصیلی انداز میں سمجھنے کے لیے ضروری ہیں ۔ مثلا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے متعلق آیات کے ذیل میں جو تفسیر لکھی جائے اس میں تو آنجناب کی زندگی کے صرف قابل عبرت پہلوؤں کی وضاحت ہو جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں ۔ ان کے علاوہ آپ کے بارے میں جو تاریخی اور اثریاتی معلومات ہیں ان کا قاموس القرآن میں جمع کر دیا جائے جن کو آدمی لفظ " ابراھیم " کے تحت دیکھ سکے ۔ اسی طرح نحوی ، فقہی ، کلامی اور طبیعتی مسائل کی تفصیلات بھی قرآن کی انسائیکلوپیڈیا میں درج ہوں نہ کہ قرآن کی تفسیر میں ۔ 

نرم گفتاری ۔ مولانا وحید الدین خان

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ چڑیاں خدا کی تسبیح پڑھتی ہیں(24:41)۔دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ گدھے کی آواز سب سے بری آواز ہوتی ہے ،اس لیے جب تم بات کرو تو گدھے کی طرح مت چیخو بلکہ آہستہ آواز سے بولو(31:19)۔

اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو وہ آواز پسند ہے جس میں چڑیوں کے چہچہے کی سی مٹھاس ہو خدا کو وہ آواز پسند نہیں جس میں آدمی گدھے کی طرح زور زور سے بولنے لگے اور سننے والے کے لیے سمع خراشی کا باعث ہو۔

انسان کے جسم میں زبان انتہائی قیمتی عضو ہے۔اسی زبان کے ذریعہ آدمی اپنے خیال کو دوسرے کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔اسی کے ذریعہ دو آدمی باہم تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ تاہم زبان کو استعمال کرنے کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ایک یہ کہ آدمی محبت اور خیرخواہی کے جذبے سے بولے۔وہ جب بولے تو اس لیے بولے کہ وہ دوسروں تک وہ بات پہنچا دینا چاہتا ہے جو اس کے نزدیک بہترین بات ہے۔اس کی زبان ہمیشہ بھلائی کی زبان ہو۔اسی کے ساتھ اس کا انداز کلام سنجیدہ اور معقول ہو۔وہ جو بات کہے شرافت اور متانت کے ساتھ کہے۔

اس کے برعکس زبان کے استعمال کی دوسری صورت وہ ہے جس کی ایک مثال گدھے کی صورت میں پائی جاتی ہے یعنی منہ سے ایسی آواز نکالنا جو سننے والوں کو گراں گزرے۔قرآن کے مطابق آدمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کوبے معنی شوروغل سے بچائے۔ وہ طنز اور بد گوئی سے پوری طرح بچے۔وہ اپنی زبان کو ایسے انداز سے استعمال نہ کرے جو سننے والوں کو ناگوار ہو۔انسان کے بول کو چڑیوں کے چہچہےکی مانند ہونا چاہیے نہ کہ گدھے کی چیخ کی مانند۔

دعا کى قبوليت - مولانا وحيد الدين خان

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
دعا کى قبوليت 

قرآن کی اِس آیت میں ایک بندۂ مومن کے لیے عظیم تسکین (solace) کا سامان موجود ہے۔اس میں ایک مومن بندے کے لیےدعاکا ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ بندہ اللہ رب العالمین سے ایک چیز کا طالب ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا اس کے معاملہ کو سنبھالنے والا بن جائے۔ اِس آیت کو لے کر ایک بندۂ مومن کہہ سکتا ہے— خدایا، میں آخری حد تک ایک عاجز انسان ہوں، لیکن قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ تیری رحمت بہت وسیع ہے۔ خدایا، تو نے میرے گناہوں کے بارے میں یہ فرمادیا ہے کہ تو خود اس کو معاف فرمائے گا۔ اب میں جو دعا کررہا ہوں تو کیا تو میری دعا کو ریجکٹ کردے گا۔ یعنی جب تو بندوں کے معاملے میں اتنا فیاض ہے کہ بغیر مانگے ہوئے تو اعلان کررہا ہے کہ تو ان کے گناہوں کو معاف فرمائے گا تو جب میں خود سے سوال کررہا ہوں تو کیا تو اس کو پورا نہیں فرمائے گا۔

رسالت اور دعوت محمدی ﷺ کی حقیقت سورہ براءۃ کی روشنی میں از مولانا وحید الدین خان

قسط (ا)

آیت : 1۔ تا ۔4:۔ موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے اور جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت وارد کرکے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے ۔

یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتا ہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتا ہے ان پر وہ آخری حد تک کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کردی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس لیے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کردیا جاتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں آئی۔ ان کے اوپر خد اکی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیا گیا۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہل توحید کو مکہ کے اہل شرک پر غالب کرکے ان کے اوپر اتمام حجت کردیا گیا۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کرلو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمہاری خاتمہ کردیا جائے گا۔

پھر یہ سارا معاملہ تقوی کے اصول پر کیا گیا نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر۔ مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کردیا گیا۔ ان کو پیشگی انتباہ کے ذریعہ کئی مہینے تک سوچنے کا موقع دیا گیا۔ آخرت وقت تک ان کے لیے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جو لوگ توبہ کرلیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہوجائیں۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملہ کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھا گیا، وغیرہ ۔

دین و ایمان کا معیار ۔ مولانا وحید الدین خاں

تذکیر القرآن  : سورۃ البقرۃ ، تفسیرآیات 135 تا 141

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے یہود و نصاری اپنے کو منسوب کیے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی کی دعوت کے مطابق دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہوکر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس یہود کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی ہر فخر نفسیات پر زد پڑتی تھی، اس لیے وہ آپ کے دشمن بن گئے ۔

جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبر ان کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے۔ اس لیے وہی شخصیتیں ان کو شخصیتیں نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خد اکی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علماء کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے۔ مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انہوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ 

قبلہ کا تعین

مولانا وحید الدین خاں 

تذکیر القرآن : سورۃ البقرۃ ،  تفسیر آیات 144 تا 147

قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭوَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙاِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ  ، اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 

ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ پس ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس کو تم پسند کرتے ہو، اب اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو۔ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رخ کو اسی کی طرف کرو۔ اور اہل کتاب خوب جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے رب کی جانب سے ہے۔ اور اللہ بےخبر نہیں اس سے جو وہ کر رہے ہیں ۔

اور اگر تم ان اہل کتاب کے سامنے تمام دلیلیں پیش کردو تب بھی وہ تمہارے قبلہ کو نہ مانیں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرسکتے ہو۔ اور نہ وہ خود ایک دوسرے کے قبلہ کو مانتے ہیں۔ اور اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، اگر تم ان کی خواہشوں کی پیروی کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور ان میں سے ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے، حالاں کہ وہ اس کو جانتا ہے۔ حق وہ ہے جو تیرا رب کہے۔ پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔
--------------------------------------
 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقہ کی پیروی کرتے تھے۔ اسی بناء پر آپ نے ابتداءً بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔

قبلہ اول کی تبدیلی ۔ مولانا وحید الدین خاں

تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ : تفسیر آیات 142 تا 143

سَيَقُوْلُ السُّفَهَاۗءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا ۭ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ  وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ۭ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ۭ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَةً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللّٰهُ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ   

اب بےوقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا۔ کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔  اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بات بھاری ہے، مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ بےشک اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔

------------------------------------

 قبلہ کا تعلق مظاہر عبادت سے ہے نہ کہ حقیقت عبات سے۔ قبلہ کا اصل مقصد عبادت کی تنظیم کے لیے ایک عمومی رخ کا تعین کرنا ہے۔ ہر سمت اللہ کی سمت ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے جو سمت بھی مقرر کردے وہی اس کی پسندیدہ عبادتی سمت ہوگی، خواہ وہ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف۔ مگر لمبی مدت تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عبادت کرنے کی وجہ سے قبلہ اول کو تقدس حاصل ہوگیا تھا۔ چنانچہ 2 ھ میں جب قبلہ کی تبدیلی کا اعلان ہوا تو بہت سے لوگوں کے لیے اپنے ذہن کو اس کے مطابق بنانا مشکل ہوگیا۔

حضرت ابراھیم ؑ کا وصیت نامہ - مولانا وحید الدین خاں

سورۃ البقرۃ : تفسیر آیات 130 تا 134:

ارشاد باری تعالی ہے :

"اور کون ہے جو ابراہیم کے دین کو پسند نہ کرے، مگر وہ جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ حالاں کہ ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ جب اس کے رب نے کہا کہ اپنے آپ کو حوالے کردو تو اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کیا۔ اور اسی کی نصیحت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور اسی کی نصیحت کی یعقوب نے اپنی اولاد کو۔ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمھارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔ پس ایمان کے سوا کسی اور حالت پر تم کو موت نہ آئے۔ کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے۔ انھوں نے کہا ہم اسی خدا کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے آباء- ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کرتے آئے ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں ۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے اعمال کی پوچھ نہ ہوگی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت عین وہی تھی جو حضرت ابراہیم کی دعوت تھی۔ مگر یہود ، جو حضرت ابراہیم کا پیرو ہونے پر فخر کرتے تھے، آپ کی دعوت کے سب سے بڑے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی  جس دین ابراہیمی کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے وہ "اسلام" تھا۔ یعنی اللہ کے لیے کامل حوالگی و سپردگی۔ قرآن کے مطابق یہی حضرت ابراہیم کا دین تھا اور اپنی اولاد کو انہوں نے اسی کی وصیت کی۔ اس کے برعکس یہود نے حضرت ابراہیم کی طرف جو دین منسوب کر رکھا تھا اس میں حوالگی و سپردگی کا کوئی سوال نہ تھا۔ اس میں آزادانہ زندگی گزارتے ہوئے محض سستے تخیلات کے تحت جنت کی ضمانت حاصل ہوجاتی تھی۔ پیغمبر عربی کے لائے ہوئے دین میں نجات کا دارومدار تمام تر عمل پر تھا، جب کہ یہود نے اللہ کے مقبول بندوں کی جماعت سے وابستگی اور عقیدت کو نجات کے لیے کافی سمجھ لیا تھا۔ اول الذکر کے نزدیک دین آسمانی ہدایات کا نام تھا اور ثانی الذکر کے نزدیک محض ایک گروہی مجموعہ کا جو نسلی روایات اور قومی تخیلات کے تحت ایک خاص صورت میں بن گیا تھا۔ 

ماضی یا حال کے بزرگوں سے اپنے کو منسوب کرکے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہمارا انجام بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے عمل کیکمی ان کے عمل کی زیادتی سے پوری ہوجائے گی۔ یہود اس خوش فہمی کو یہاں تک لے گئے کہ انہوں نے نجات متوارث کا عقیدہ وضع کرلیا۔ انہوں نے اپنی تمام امیدیں اپنے بزرگوں کے تقدس پر قائم کرلیں۔ مگر یہ نفسیاتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہر ایک کے آگے وہی آئے گا جو اس نے کیا۔ ایک سے نہ دوسرے کے جرائم کی پوچھ ہوگی اور نہ ایک کو دوسرے کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کیے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ "تم نہ مرنا مگر اسلام پر" یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی، تمہاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا ۔ (1) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1-  تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں 

حضرت ابراھیم ؑ اور بعثت محمد ﷺ- مولانا وحید الدین خاں

خانہ کعبہ 

ارشاد باری تعالی ہے : 

" اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے اکھٹا ہونے کی جگہ اور امن کا مقام ٹھیرایا۔ اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو، جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں، پھلوں کی روزی عطا فرما۔ اللہ نے کہا جو انکار کرے گا، میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا۔ پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔" سورۃ البقرۃ ؛ تفسیر آیات 125 تا 126:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ساری دنیا کے اہل ایمان ہر سال اپنے وطن کو چھوڑ کر بیت اللہ آتے ہیں۔ یہاں کسی کے لیے کسی ذی حیات پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ حرم کعبہ کو دائمی طور پر عبادت کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی یاد کی جاتی ہے۔ اور اللہ کے لیے رکوع و سجود کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ خشک علاقہ تھا جہاں ریتلی زمینوں اور پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتاہائی طور پر غیر محفوظ تھا۔ چار ہزار برس پہلے حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ اپنے خاندان کو اس علاقہ میں لے جاؤ اور اس کو وہاں بسا دو۔ حضرت ابراہیم نے ادنی تامل کے بغیر اس کی تعمیل کی۔ اور جب خاندان کو اس بے آب و گیاہ مقام پر پہنچا چکے تو دعا کی کہ خدا یا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کردی۔ اب تو اپنے بندے کی پکار کو سن لے اور اس بستی کو امن و امان کی بستی بنا دے۔ اور اس خشک زمین پر ان کے لیے خصوصی رزق کا انتظام فرما۔ دعا قبول ہوئی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ آج تک امن اور رزق کی کثرت کا نمونہ بنا ہوا ہے ۔

ھجرت سے قبل مدینہ کے یھودی قبائل کی ظالمانہ سیاست - مولانا وحید الدین خاں

قدیم مدینہ کے اطراف میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ یہ سب موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کے جاہل تعصبات نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اپنی دنیوی سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل۔ اوس اور خزرج کے ساتھ مل گئے تھے۔ بنونضیر اور بنوقریظہ نے قبیلہ اوس کا ساتھ پکڑ لیا تھا۔ بنوقینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بنے ہوئے تھے۔

 اس طرح دو گروہ بن کر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جنگ بعاث اسی قسم کی ایک جنگ تھی جو ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے واقع ہوئی۔ ان لڑائیوں میں یہود مشرک قبائل کے ساتھ مل کر دو محاذ بنا لیتے۔ ایک محاذ میں شامل ہونے والے یہودی دوسرے محاذ میں شامل ہونے والے یہودیوں کو قتل کرتے اور ان کو ان کے گھروں سے بے گھر کرتے۔ پھر جب جنگ ختم ہوجاتی تو وہ تورات کا حوالہ دے کر اپنے ہم مذہبوں سے چندہ کی اپیلیں کرتے تاکہ اپنے گرفتار بھائیوں کو فدیہ دے کر مشرک قبائل کے ہاتھ سے چھڑایا جا سکے۔ انسان کے جان و مال کے احترام کے بارے میں وہ خدا کے حکم کو توڑتے اور پھر اپنی ظالمانہ سیاست کا شکار ہونے والوں کے ساتھ نمائشی ہمدردی کرکے ظاہر کرتے کہ وہ بہت دیندار ہیں۔ 

عرب کے یہود نے رسول اللہ ﷺ کا انکارکیوں کیا ؟ - مولانا وحید الدین خاں

تورات اللہ کی کتاب تھی جو یہود پر اتری۔ مگر دھیرے دھیرے تورات کی حیثیت ان کے یہاں قومی تبرک کی ہوگئی۔ قومی عظمت اور نجات کی علامت کے طور پر یہود اب بھی اس کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رہنما کتاب کے مقام سے اس کو انہوں نے ہٹا دیا تھا۔ حضرت موسی ؑ کے بعد بار بار ان کے درمیان انبیاء اٹھے، مثلاً یوشع نبی، داود نبی، زکریا نبی، یحیی نبی، وغیرہ۔ ان کے آخری نبی حضرت عیسیٰ تھے۔ یہ تمام انبیاء یہود کو یہ نصیحت دینے کے لیے آئے کہ تورات کو اپنی عملی زندگیوں میں شامل کرو۔ مگر تورات کے تقدس پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ آواز ان کے لیے تمام آوازوں سے زیادہ ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ وہ خدا کے نبیوں کو نبی ماننے سے انکار کرتے، حتی کہ ان کو قتل کرڈالتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات کے نام پر وہ جس زندگی کو اختیار کیے ہوئے تھے وہ حقیقۃً نفسانیت اور دنیا پرستی کی ایک زندگی تھی۔ جس کے اوپر انہوں نے خدا کی کتاب کا لیبل لگا لیا تھا۔ خدا کے نبی جب بے آمیز حق کی دعوت پیش کرتے تو ان کو نظر آتا کہ یہ دعوت ان کی مذہبی حیثیت کی نفی کر رہی ہے۔ اب ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھتیں۔ وہ نبیوں کے اعتراف کے بجائے ان کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتے ۔

عرب کے بنی اسرائیل اور قرآن

(قرآن میں دیگر اقوام کے مقابلے میں  سب سے زیادہ  بنی اسرائیل کو مخاطب کیا گیا اس دوران ان کی اچھی صفات کی تعریف کی گئی اور ان کی بے دینی کی مذمت  ، خاص کر سورۃ البقرۃ ، آل عمران  میں ان کا ذکر آیا ہے ،یہاں ہم نے بنی اسرائیل کے متعلق  سورۃ البقرہ کی چند آیات کی تفسیر  مولانا وحید الدین خاں کی تفسیر" تذکیر القرآن"  سے انتخاب کیا ہے ۔ 

 مولانا وحید الدین خاں نے اپنی تفسیر میں تفسیر کا  ایک خاص اسلوب اختیار کیا ہے اس میں قرآنی معانی اور مطالب کو سامنے رکھ کر خیالات کا رواں اظہار کیا ہے اس میں قرآن کے مطالب کی وضاحت کے ساتھ قاری کو اصلاحی نصیحت بھی ملتی ہے ۔ اس کے لیے  وہ چند آیات کا نتخاب کرتے ہیں پھر ان کی روشنی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اس کو تو تفسیر کہنا مشکل ہے بلکہ جیسے انہوں نے اس کا نام رکھا ہے " تذکیر القرآن " قرآن کی نصیحت کہنا زیادہ درست ہے ۔ اس میں قاری دیکھ سکتا ہے  کہ مولانا جن آیات کی وضاحت کرتے ہیں اس میں نصیحت کا پہلو زیادہ نمایا نظر آتا ہے ۔ آئیے مولانا کی تذکیر  کی روشنی بنی اسرائیل کی سرگزشت کا مطالعہ کریں ۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورۃ البقرۃ ، تفسیر آیت 91 تا 96:
 یہود جو قرآن کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، اس کی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ وہ پہلے سے حق پر ہیں اور حق پرستوں کی سب سے بڑی جماعت (اسرائیل) سے وابستگی رکھتے ہیں۔ مگر یہ در اصل گروہ پرستی تھی جس کو انہوں نے حق پرستی کے ہم معنی سمجھ رکھا تھا۔ وہ گروہی حق کو خالص حق کا مقام دیے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں ظاہر ہوا تو وہ اس کو لینے کے لیے آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر خالص حق ان کا مقصود ہوتا تو ان کے لیے یہ جاننا مشکل نہ ہوتا کہ قران کا آنا خود ان کی مقدس کتاب تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہے اور یہ کہ قرآن کے نزول کے بعد اب قرآن ہی کتابِ حق ہے نہ کہ ان کا اپنا گروہی مذہب ۔

حسن سلوک

انسان کے اوپر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبادت گزار بنے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ دوسرا حق بندوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس حسن سلوک کا آغاز اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور پھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے سے گزر کر ان تمام انسانوں تک پہنچ جاتا ہے جن سے عملی زندگی میں سابقہ بھائی کے ساتھ درست ہے۔ اور وہ وہی ہے جو انصاف اور خیر خواہی کے مطابق ہو۔ 

تفسیر تذکیر القرآن کی خصوصیات

1- تذکیر القرآن کا مقصد قرآن کی یاد دہانی ہے ۔ قرآن کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ نصیحت ہے ۔ تذکیر القرآن کی ترتیب میں سب سے زیادہ اسی پہلو کا لحاظ کیا گیا ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لیے نصیحت بن سکے ۔

2- قرآن عام انسانی کتاب کی طرح ابواب کے انداز میں نہیں ہے ۔ مگر اس کا عام انداز یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک پورا پیغام ہے ۔ ایک ایک " پیراگراف" میں ایک ایک بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تذکیر القرآن مین اشی شذراتی انداز کو تشریح کے لیے اختیار کیا گیا ہے ۔ یعنی قرآن کا ایک ٹکڑا یا ایک " پیراگراف " لے کر اس میں جو بات کہی گئی ہے اس کو مسلسل مضمون کی صورت میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تشریح کو پڑھتے وہئے قاری کے ذہن میں معانی کا سلسلہ نہ ٹوٹے اور وہ قرآن کی تذکیری غذا مسلسل لیتا چلا جائے ۔ 

3- تذکیر القرآن کی ترتیب یہ رکھی گئی ہے کہ پہلے قرآن کا زیر تشریح ٹکڑا " پیراگراف" درج کیا گیا ہے ۔ اس کے نیچے اس کا ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کے بعد ایک لکیر دے کر متعلقہ ٹکڑے کی تشریح ہے ۔ جہاں تشریح ختم ہو تی ہے وہاں پھر قرآن کا اگلا ٹکڑا درج کرکے دوربارہ مذکورہ ترتیب سے ترجمہ اور تشریح درج ہے ۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک پوری سورہ تفسیر ہے ۔ اس ترتیب میں قاری ہر تشریح کو پڑھتے ہوئے بیک وقت اس کا متن بھی سامنے رکھ سکتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی ۔ 

4- تذکیر القرآن میں یہ حکمت ملحوظ رکھی گئی ہے کہ ہر جزء میں ایک پوری بات آجائے ۔ آدمی اگر ایک صفحہ پڑھے تب بھی قرآنی نصیحت کا کوئی حصہ اسے مل جائے اور زیادہ صفحات پڑھے تب بھی ۔ 

5- تذکیر القرآن میں ترجمہ کا جو انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ وہ نہ پوری طرح لفظی او رنہ پوری طرح بامحاورہ ۔ بلکہ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے۔ دونوں ہی انداز کے اپنے اپنے فائدے ہیں اور درمیانی انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے ۔ 

6- تفسیرمیں عام طور پر تفصیل سے پرہیز کیا ہے ، زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے ، وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں بھی باقی رہے ، قرآن ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف وہ انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے تفسیر میں بس انھیں اصل پہلوؤں کو غیر فنی انداز میں نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 




جمعہ 13 نومبر 1981 وحید الدین خاں 

(دیباچہ تذکیر القرآن )

فرآن ربانی دستر خوان ہے

قرآن کو کچھ لوگ فضائل کی کتاب سمجھتے ہیں ، کچھ لوگ مسائل کی کتاب اور کچھ لوگ سیاست کی کتاب ۔ تینوں باتوں میں جزئی صداقت ہے مگر ان میں سے کوئی بھی قرآن کی صحیح تعبیر نہیں ۔

قرآن کو فضائل کی کتاب ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی آ یتوں اور سورتوں میں طلسماتی برکتیں چھپی ہوئی ہیں ۔ اور قرآن کے محض الفاظ کو دہرا لینا برکتوں کے حصول کے لیے کافی ہے ۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو قرآن کی وہ تمام آیتیں بے معنی ہوجاتی ہیں جن میں آدمی کو غور کرنے پر ابھارا گیا ہے ۔ قرآن ایسی آیتوں سے بھرا ہوا ہے جو آدمی کو اکساتی ہیں کہ وہ الفاظ سے گزر کر معانی کی گہرائی میں اترنے کی کوشش کرے ۔ وہ قرآن میں تدبر کرے اور قرآنی زاویہ نگاہ سے اپنے آپ کو اور کائنات کو دیکھنے ۔ ان تعلیمات کی روشنی میں دیکھئے تو قرآن کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے جن کی فکری قوتیں بیدار ہوں ، جو قرآن سے ذہنی غذا حاصل کریں اور عبرت کی نگاہ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزاریں ۔ ایسی حالت میں قرآن کو فضائل کی کتاب کہنا قرآن کی تصغیر ہے ۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ذہنوں کو کھولنے والی کتاب نہیں ۔ وہ برکت کی کتاب ہے جس کو بند ذہن کے ساتھ پڑھاجائے اور پھر بند غلاف میں محفوظ کر کے رکھ دیا جائے ۔ 

اسی طرح قرآن کو مسائل کی کتاب کہنا بھی قرآن پر ظلم کرنا ۔ "مسائل" کے لفظ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن ایسے اعمال کی کتاب ہے جن کو ظاہری آداب کے ساتھ ادا کرلینا کافی ہے ، حالانکہ قرآن میں اس کے مطلوب اعمال کے ظاہری آداب کا ذکر ہی نہیں ۔ قرآن آدمی کو ایمان کی دعوت دیتا ہے مگر وہ اس ایمان کو ایمان نہیں مانتا جو داخل القلب ایمان نہ ہو، جس میں صحت مخارج کے ساتھ کلمہ ایمان کےالفاظ کو دہرا دیا گیا ہو ۔ قرآن کے نزدیک حقیقی ایمان وہ ہے جو روح میں اتر جائے جس میں آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں ، قرآن نماز کو فلاح کا ذریعہ بتایا ہے مگر قرآن کی مطلوب نماز وہ ہے جو خشوع کی نماز ہو نہ کہ سہو کی نماز ۔ و الہانہ شیفتگی شامل ہو جو قومی ہیروؤں کے ذکر میں ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ قرآن کے نزدیک قربانی بہت بڑا عمل ہے مگر وہ قربانی نہیں جو گوشت اور خون کے ہم معنی ہو بلکہ وہ قربانی جو آدمی کے لیے تقوی کا ذریعہ بن جائے ۔

اس طرح کے بے شمار احکام ہیں جو بتا تے ہیں کہ قرآن معروف معنوں میں مسائل کی کتاب نہیں بلکہ حقیقت کی کتاب ہے ۔ وہ انسان کے اندر زندہ عمل دیکھنا چاہتا ہے نہ کہ محض ظاہری آداب و قواعد والا عمل ۔

قرآن میں یقینا بعض سیاسی نوعیت کے احکام ہیں ۔ مگر قرآن کو کتاب سیاست سمجھنا ایساہی ہے جیسے بعض جزئی مشابہت کی بنا پر انسان کو معاشی حیوان سمجھنا ۔ اس نکتہ نظر کے حاملین یہ دیکھتے ہیں کہ نبی آخر الزماں ﷺ کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا کہ دعوت و تبلیغ سے شروع ہوکر آپ کا مشن حکومت و سیاست تک پہنچا۔ اس بنا پر وہ کہتے ہیں کہ خدا کے پیغمبر اس لئے آتے ہیں کہ مخصوص احکام کی بنیاد پر خدا کی حکومت قائم کریں۔ مگر قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان کا مشن الگ الگ نہ تھا بلکہ سب کا مشن ایک تھا ۔ حتی کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کا ذکر کر کے نبی آخرالزماں سے کہا گیا ہے کہ تم بھی انھیں کی پیروی کرو(فبھداھم اقتدہ) ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب نبیوں کا مشن خدائی حکومت قائم کرنا ہو تا ہے تو آخری نبی کے سوا دوسرے نبیوں نے بھی آپ کی طرح حکومت کیوں نہ قائم کی۔

اس نکتہ نظر کے حاملین اس کا جواب دیتے ہیں کہ عمل کی حد تک تمام نبیوں نے خدائی حکومت کے قیام کے لیے جد وجہد کی ۔ البتہ کسی کا عمل کوشش کے مرحلہ میں رہ گیا اور کسی کا عمل آخری نتیجہ تک پہنچا ۔ مگر یہ جواب متعدد وجوہ سے غلط ہے ۔ مثال کے طور پر حضرت موسی ؑ کو لیجئے ۔ اگر آنجناب کا مشن یہ تھا کہ مصر کے اقتدار سے فرعون کو بے دخل کر کے وہاں خدائی قانون کی حکومت قائم کریں تو ایسا کیوں ہوا کہ جب خدا نے فرعون کو ہلاک کر دیا اور اس کی پوری جنگی طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا تو حضرت موسی ؑ مصر چھوڑ کر صحرائے سینا میں چلے گئے ۔ آگر آپ ﷺ کا مشن مصر میں حکومت الہیہ قائم کر نا تھا تو فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں اس کا پورا موقع آپ  کے لیے کھل چکا تھا ۔ ایسی حالت میں مصر کو چھوڑ کر چلے جانے کی کیا توجیہ کی جائے گی ۔


حقیقت یہ ہے کہ قرآن خدائی نعمتوں کا ابدی خزانہ ہے ، قرآن خدا کا تعارف ہے ، قرآن بندے اور خدا کا مقام ملاقات ہے ۔ مگر اس قسم کے مفروضہ خیالات نے قرآن کو لوگوں کے لیے ایک ایسی کتاب بنادیا جو یا تو لفظی مجموعہ ہے جس سے ہر آدمی بس اپنے مخصوص ذہن کے تصدیق حاصل کرلے ۔ وہ اصلا خود اپنے آپ کو پائے اور یہ سمجھ کر خوش ہو کہ اس نے خدا کو پا لیا ہے ۔

(دیباچہ ، تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں )

سستی نجات کے مقدس نسخے

آرزوؤں (امانی) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جو یہود نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں اور جو اپنی ظاہری فریبی کی وجہ سے عوام میں خوب پھیل گئی تھیں۔ 

 (اکاذیب مختلقۃ سمعوھا من علمائہم فنقلوھا علی القلید، البحر المحیط عن ابن عباس ومجاھد والفراء) 

ان قصے کہانیوں کا خلاصہ یہ تھا کہ جہنم کی آگ یہود کے لیے نہیں ہے۔ ان میں اپنے بزرگوں سے منسوب کرکے ایسی باتیں ملائی گئی تھیں جن سے یہ ثابت ہو کہ بنی اسرائیل اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ جس دین کو مانتے ہیں اس میں ایسے طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں کہ اس کی معمولی معمولی چیزیں بھی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے ور جنت کے باغوں میں پہنچا دینے کے لیے کافی ہیں ۔

سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت کشش رکھتے تھے کیونکہ اس میں ان کو اپنی اس خوش خیالی کی تصدیق مل رہی تھی کہ ان کو اپنی غیر ذمہ دارانہ زندگی پر روک لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی جدوجہد کے بغیر محض ٹونے ٹوٹکے کی برکت سے جنت میں پہنچ جائیں گے۔

 چنانچہ جو یہودی علماء بزرگوں کے حوالے سے یہ خوش کن کہانیاں سناتے تھے ان کو لوگوں کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ آخرت کے معاملہ کو آسان بنانا ان کے لیے شان دار دنیوی تجارت کا ذریعہ بن گیا۔ ان کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ان کے اوپر نذرانوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ لوگوں کو مفت جنت حاصل کرنے کا راستہ بتاتے تھے، لوگوں نے اس کے بدلے ان کے لیے اپنی طرف سے مفت دنیا فراہم کردی۔ 

یہی ہر دور میں حامل کتاب قوموں کا مرض رہا ہے۔ جو لوگ اس قسم کے لذیذ خوابوں میں جی رہے ہوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ چند رسمی اعمال کے سوا ان پرکسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہے۔ جو اس خوش گمانی میں مبتلا ہوں کہ ان کے سارے حقوق خدا کے یہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں، ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گورا نہیں کرتے۔ کیونکہ ایسی باتیں ان کو اپنی میٹھی نیند کو خراب کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ ان کو زندگی کی برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کردیتی ہیں ۔



تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ تفسیر آیات 78 تا 82، مولانا وحید الدین خاں ) 

قرآن فہمی کے شرائط

قرآن ایک فکری کتاب ہے اور فکری کتاب میں ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیر کی گنجائش رہتی ہے ۔ اس لئے قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پڑھنے والا خالی الذھن ہو ۔ اگر پڑھنے والے کا ذہن خالی نہ ہو تو وہ قرآن میں خود اپنی بات پڑھے گا ۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کی مثال لیجئے ۔ 

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ۭ وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ  : سورۃ البقرۃ : 165) 

"کچھ لو گ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مد مقابل بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کر تے ہیں جیسی محبت اللہ کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ حالاں کہ ایمان رکھنے والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔ "

ایک شخص جو سیاسی ذوق رکھتا ہو اور سیاسی اکھیڑ پچھاڑکو کام سمجھتا ہو وہ جب اس آیت کو پڑھے گا تو اس کا ذہن پوری آیت میں بس انداد (مدمقابل ) پر رک جائے گا ۔ وہ قرآن سے " مد مقابل " کا لفظ لے لے گا اور بقیہ مفہوم کو اپنے ذہن سے جوڑ کر کہے گا کہ اس سے مراد سیاسی مقابل ٹھہرانا ہے ۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو خدا کا سیاسی مد مقابل بنائے ۔ اس تشریح کے مطابق یہ آیت اس کے لیے اس بات کا اجازت نامہ بن جائے گا کہ جس کو وہ خدا کا " سیاسی مد مقابل " بنا ہوا دیکھے اس سے ٹکراؤ شروع کر دے ۔

 اس کے بر عکس جو آدمی سادہ مفہوم متعین کر ے گا ۔ ایسے شخص کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں مد مقابل ٹھہرا نے کی جس صورت کا ذکر ہے وہ باعتبار محبت ہے نہ کہ باعتبار سیاست ۔ یعنی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ آدمی کو سب سے زیادہ محبت صرف خدا سے کرنا چاہئے ۔ " حب شدید " کے معاملے میں کسی دوسرے کو خدا کا ہمسر نہیں بنانا چاہئے۔ 

قرآن کا ایک عمومی مفہوم ہے اور اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن پڑھے ۔ مگر جو شخص قرآن کے گہرے معانی تک پہنچنا چاہے اس کو ایک اور شرط پوری کر نی پڑتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ وہ اس راہ کا مسافر بنے جس کا مسافر اس کو قرآن بنانا چاہتا ہے ۔ قرآن آدمی کی عملی زندگی کی رہنما کتاب ہے اور کسی عملی کتاب کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی عملا ان تجربات سے گزرے جن کی طرف اس کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے ۔ 

یہ عمل کوئی سیاسی یا سماجی عمل نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک نفسیاتی عمل ہے ۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنے نفس کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے نہ کہ حقیتا کسی خارج کے مقابلہ میں ۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی ظاہری دنیا کی سطح پر نہ جئے بلکہ غیب کی دنیا کی سطح پر جئے ۔ اس سلسلے میں جن مراحل کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے ان کو وہ شخص کیسے سمجھ سکتاہے جو ان مراحل سے آشنا نہ ہوا ہو ۔ 

قرآن چاہتا ہے کہ آدمی صرف اللہ سے ڈرے اور صرف اللہ سے محبت کرے ۔ اب جس کا دل اللہ کی محبت میں نہ تڑپا ہو ، جس کے بدن کے رونگٹے اللہ کے خوف سے نہ کھڑے ہوئے ہوں وہ کیسے جان سکتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا کیا ہے اور اللہ سے محبت کرنا کیا ۔

 قرآن چاہتا ہے کہ آدمی خدائی مشن میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرے کہ وہ اس کو اپنا ذاتی مسئلہ بنالے ۔ اب جس شخص نے خدا کے کام کو اپنا ذاتی کام نہ بنایا ہو وہ کیوں کر جانے گا کہ خدا کے ساتھ اپنے کو شامل کرنے کا مطلب کیا ہے ۔

 قرآن یہ چاہتا ہے کہ آدمی انسانوں کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم نہ ہو بلکہ خدا کی طرف سے برسنے والے فیضان میں اپنے کو گم کرے ۔ اب جس شخص پر ایسے صبح وشام ہی نہ گزرے ہوں جب کہ خدا کے فیضان میں وہ نہا اٹھے وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ خدائی فیضان میں نہانے کا مطلب کیا ہے ۔

 قرآن چاہتا ہے کہ آدمی جہنم سے بھاگے اور جنت کی طرف دوڑے ۔ اب جو شخص اس طرح زندگی گزارے کہ جہنم کو اس نے اپنا مسئلہ نہ بنایا ہو اور جنت اس کی ضرورت نہ بنی ہو اس کو کیا معلوم کہ جہنم سے بھاگنا کیا ہو تا ہے اور جنت کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے ۔

 قرآن چاہتا ہے کہ آدمی اللہ کی عظمت و کبریائی کے احساس سے سر شار وہ ۔ اب جو شخص اپنی عظمت و کبریائی کے مینار میں لذت لے رہا ہو اس کو اس کیفیت کا ادراک کہاں ہو سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کی کبریائی کو اس طرح پاتا ہے کہ اپنی طرف اس کو عجز کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ 


قرآنی عمل اصلا نفس یا انسان کے اندرونی وجود کی سطح پر ہو تا ہے ۔ مگر انسان کسی خلا میں زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتا ہے ۔ اس لئے قرآنی عمل باعتبار حقیقت ذاتی عمل ہونے کے باوجود دو پہلوؤں سے دوسرے انسانوں سے بھی متعلق ہوجاتا ہے ۔ ایک اس اعتبار سے کہ آدمی جس قرآنی راستہ کو خود اپنا تا ہے اسی راستہ کو اختیار کرنے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی راستہ کو خود اپناتا ہے اسی راستہ کو اختیار کر نے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم ہو تا ہے ۔ یہ رشتہ آدمی کو بے شمار تجربات سے گزارتا ہے جو مختلف صورتوں میں آخر وقت تک جاری رہتا ہے ۔

 دوسرے یہ کہ مختلف قسم کے انسانوں کے درمیان زندگی گزار تے ہوئے طرح طرح کے تعلقات و معاملات پیش آتے ہیں ۔ کسی سے لینا ہو تا ہے اور کسی کو دینا ، کسی سے اتفاق ہو تا ہے اور کسی سے اختلاف ، کسی سے دوری ہوتی ہے اور کسی سے قربت ۔ ان مواقع پر آدمی کیا رویہ اختیار کرے اور کس قسم کا رد عمل پیش کرے ، قرآن ان امور میں اس کی مکمل رہنمائی کر تا ہے ۔

 اگر آدمی اپنی خواہش پر چلنا چاہے تو قرآن کا یہ باب اس پر بند رہے گا اور اگر وہ اپنے کو قرآن کی ماتحتی میں دیدے تو اس پر قرآنی تعلیمات کے ایسے بھید کھلیں گے جو کسی اور طرح اس پر کھل نہیں سکتے ۔ 


قرآن آدمی کو جو مشن دیتا ہے وہ حقیتا کوئی " نظام " قائم کرنے کا مشن نہیں ۔ بلکہ اپنے آپ کو قرآنی کردار کی صورت میں ڈھالنے کا مشن ہے ۔ قرآن کا اصل مخاطب فرد ہے نہ کہ سماج ۔ اس لئے قرآن کا مشن فرد پر جاری ہوتا ہے نہ کہ سماج پر ۔  تاہم افراد کی قابل لحاظ تعداد اپنے آپ کو قرآن کے مطابق ڈھالتی ہے تو اس کے سماجی نتائج بھی لازما نکلنا شروع ہو تے ہیں ۔ یہ نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ حالات کے اعتبار سے ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں ۔ 

قرآن میں مختلف انبیاء کے واقعات انھیں سماجی نتائج اور سماجی رد عمل کے مختلف نمونے ہیں اور اگر آدمی اپنی آنکھیں کھول رکھی ہوں تو وہ ہر صورت حال کی بابت قرآن میں رہنمائی پا تا چلاجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ قرآن فطرت انسانی کی کتاب ہے ۔ قرآن کو وہی شخص بخوبی طورپر سمجھ سکتا ہے جس کے لیے قرآن اس کی فطرت کا مثنی بن جائے ۔

( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں ) 

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے

قرآن عام طرز کی علمی تصنیف نہیں ، وہ ایک دعوتی کتاب ہے .

 اللہ تعالی نے اپنے ایک بندے کو ساتویں صدی عیسوی کے ثلث اول میں ایک خاص قوم کے اندر اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا اور اس کو اپنے پیغام کی پیغامبری پر مامور فرمایا ۔ اس پیغمبر نے اپنے ماحول میں یہ کام شروع کیا اور اسی کے ساتھ قرآن کا تھوڑا تھوڑا حصہ حسب ضرورت اس کے اوپر اترتا رہا ، یہاں تک کہ 23 سال میں پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے ساتھ قرآن بھی تکمیل ہوگئی ۔

 قرآن اگرچہ خدا کی ابدی رہنمائی ہے مگر مذکورہ ترتیب نے اسی کے ساتھ اس کو تاریخی کتاب بھی بنا دیا ہے ۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی ابدی رہنمائی کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔

 ایسی حالت میں بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا آدمی کو ایک نئے مسئلہ سے دوچار کر دیتا ہے ۔ قرآن کی تفسیر اگر اس ابتدائی پس منظر کی روشنی میں کی جائے جس میں قرآن کے احکام اترے تھے تو قرآن قدیم زمانہ کی ایک تاریخی کتاب معلوم ہوگی ۔ اس کے بر عکس قرآن کی تفسیر اگر اس کی ابدی اہمیت کی بنیاد پر کی جائے تو اس کا تاریخی پہلو مجروح ہو تا دکھائی دیتا ہے ۔

اس مسئلہ کی وجہ سے بعد کے زمانے میں قرآن کی تفسیر کرنا ایک ایسا کام بن گیا ہے ۔ جس میں دوگونہ پہلوؤں کو نبھانا ضروری  ہو۔

تذکیر القرآن ( مولانا وحید الدین خان کی  تفسیر ) میں  یہی دوگونہ انداز اختیار کیا گیا ہے ۔ اس میں تاریخی پس منظر بھی مختصر طور پر دکھایا گیا ہے مگر اس طرح نہیں کہ قرآن ایک تاریخی کتاب معلوم ہونے لگے ، اسی طرح اس میں قرآنی تعلیمات کو آج کے حالات کے مطابق کرتے ہوئے بیان کیاگیا ہے ، مگر ایسا نہیں کہ قرآن اپنی تاریخی بنیاد سے بالکل علیحدہ ہوجائے ۔

( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحیدالدین خاں ) 

قرآن کا مقصدِ نزول

قرآن کس لئے اتارا گیا ہے، ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کے بارے میں خدا کی اسکیم کو بتانے کے لیے۔

 انسان کو خدا نے ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ موجودہ محدود دنیا میں پچاس سال یا سوسال گزار کر اس کو آخرت کی دنیا میں داخل کردیا جاتا ہے ۔ جہاں اس کو مستقل طور پر رہنا ہے۔ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا انجام پانے کی جگہ ہے ۔ آج کی زندگی میں آدمی جیسا عمل کرے گا اسی کے مطابق وہ اپنی اگلی زندگی میں اچھا یا برابدلہ پائے گا ۔ کوئی اپنی نیک کرداری کے نتیجہ میں ابدی طور پر جنت میں جائےگا اور کوئی اپنی بد کرداری کی وجہ سے ابدی طور پر جہنم میں۔ 

قرآن اس لئے اتارا گیا کہ اس سنگین مسئلہ سے آدمی کو باخبر کرے اور اس کو بتائے کہ اگلی زندگی میں برے انجام سے بچنے کے لیے اسے اپنی موجودہ زندگی میں کیا کرنا چاہئے۔ 

خدانے انسان کو فہم و شعور کے اعتبار سے اسی صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے جو اس کو انسانوں سے مطلوب ہے۔ پھر اس نے گرد وپیش کی پوری کائنات کو مطلوبہ درست کر دار کا عملی مظاہرہ بنادیا ہے ۔ تاہم یہ سب کچھ خاموش زبان میں ہے۔ انسانی فطرت احساسات کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور فطرت کے مظاہر تمثیل کی صورت میں۔ 

قرآن اس لئے آیا کہ فطرت اور کائنات میں جوکچھ خاموش زبان میں موجود ہے وہ نطق کی زبان میں اس کا اعلان کردے تاکہ کسی کے لیے اس کا سمجھنا مشکل نہ رہے۔

 فطرت اور کائنات اگر آدمی کی خاموش رہنما ہیں تو قرآن ایک ناطق رہنما۔ 

مزید یہ کہ قرآن ایک ایسے پیغمبر پر اتارا گیا جو غلبہ کا پغمبر تھا ۔ پچھلے انبیاء صرف داعی کی حیثیت سے بھیجے گئے۔ ان کا کام اس وقت ختم ہو جاتاتھا جب کہ وہ اپنی مخاطب قوم کو خدا کی مرضی سے پوری طرح آگاہ کردیں۔ انھوں نے اپنی مخاطب قوموں کی زبان میں کلام کیا ۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کر تے  ہوئے ان کی بات نہیں مانی ۔ اس طرح پچھلے زمانوں میں خدا کی مرضی انسان میں عملی صورت اختیار نہ کرسکی ۔

 پیغمبر آخرالزماں کو خدا نے غلبہ کی نسبت دی۔ یعنی آپ ﷺ کے لیے فیصلہ کر دیا کہ آپ کا مشن صرف پیغام رسانی پر ختم نہ ہوگا بلکہ خدا کی خصوصی مدد سے اس کو عملی واقعہ بننے تک پہنچایا جائے گا ۔ اس خدائی فیصلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے دین کے حق میں ہمیشہ کے لیے ایک مزید تائیدی بنیاد فراہم ہوگئی۔ یعنی مذکورہ بالا اہتمام کے علاوہ انسان کی حقیقی زندگی میں خدا کی مرضی کا ایک کامل عملی نمونہ۔

پچھلے زمانہ میں خدا کے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی دعوت کو لے کر آئے جس کو لے کر پیغمبر آخرالزماں کو بھیجاگیا تھا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ عام طور پر ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان کے پیغام کو نہ مانا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے خلاف سمجھتے تھے ۔ ان کو غلط طور پر یہ اندیشہ تھا کہ اگر انھوں نے خدا کے سچے دین کو پکڑا تو ان کی بنی بنائی دنیا تباہ ہو جاے گی ۔ قرآن کی تاریخ اس اندیشہ کی عملی تردید ہے ۔

 قرآن کے ذریعہ جو تحریک چلائی گئی اس کو خدا نے اپنی خصوصی نصرت کے ذریعہ دعوت سے شروع کر کے واقعہ بننے کے مرحلہ تک پہنچایا اور اس کے عملی نتائج کو دیا ۔ اس طرح خدا کے دین کی ایک مستقل تاریخ وجود میں آگئی ۔ اب قیامت تک لوگ حقیقی تاریخ کی زبان میں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کے سچے دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کس طرح زمین و آسمان کی تمام برکتیں نازل ہوتی ہیں ۔ 

پھر اسی کے ذریعہ قرآن کی مستقل حفاظت کا انتظام بھی کردیا گیا۔ ایک بڑے جغرافیہ میں اہل اسلام کا اقتدار اور وہاں اسلامی تہذیب و تمدن کا غلبہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قرآن کو ایسا حفاظتی ماحول مل جائے جہاں کوکئی اس میں کسی قسم کی تبدیلی پر قاادر نہ ہو سکے ۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا غلبہ تقریبا ڈیڑھ ہزار سال سے قرآن کا چوکیدار بناہوا ہے ۔

( دیباچہ تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں ) 

رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے میں مدینہ کے لوگوں کی سبقت

مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ اپنے یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی آمد کی خبر ان کے لیے ایک مانوس خبر تھی۔ یہ مسلمان طبعی طور پر اس امید میں تھے کہ جن یہودیوں کی باتیں سن کر ان کے دل کے اندر قبول اسلام کا ابتدائی جذبہ ابھرا تھا وہ یقیناً خود بھی آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ وہ پرجوش طور پر ان یہودیوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر جاتے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دینے والے بنیں ۔

مگر مسلمانوں کو اس وقت سخت دھچکا لگتا جب وہ دیکھتے کہ ان کی امیدوں کے برعکس یہود ان کی دعوت پر لبیک کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسکے نتیجہ میں ایک اور نزاکت پیدا ہو رہی تھی۔ جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رقابت اور عناد رکھتے تھے وہ مسلمانوں سے کہتے کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ اتنا یقینی نہیں جتنا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ اتنا یقینی ہوتا تو یہ یہودی علماء ضرور ان کی طرف دوڑ پڑتے۔ کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔

مگر کسی بات کو قبول کرنے کے لیے اس بات کا جانناکافی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ یہود کا حال یہ تھا کہ انہوں نے خود اپنے پاس کی ان کتابوں میں تبدیلیاں کر ڈالیں جن کو وہ آسمانی کتابیں مانتے تھے۔ اپنی مقدس کتابوں میں وہ جس بات کو اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے اس میں تاویل یا تحریف کرکے اس کو اپنی خواہش کے مطابق بنا لیتے۔ وہ اپنے دین کو اپنے دنیوی مفادات کے تابع بنائے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس قسم کی غیر سنجیدگی کا ثبوت دے رہے ہوں وہ اپنے سے باہر کسی حق کو ماننے پر کیسے راضی ہوجائیں گے ۔

کوئی بات خواہ کتنی ہی برحق ہو، اگر آدمی اس کا انکار کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل ڈھونڈھ لے گا۔ اس تاویل کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے معاملہ کی سنگینی آدمی کے دل سے نکل جاتی ہے۔ وہ خدا کے حکم کو سنتا ہے مگر لفظی تاویل کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس حکم کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنا دیتی ہے جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے ۔


(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ تفسیر آیات : 75 تا 77، مولانا وحید الدین خاں )