‏تاریخ عرب قبل قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تاریخ عرب قبل قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن نے مکہ کو امّ القریٰ (آبادیوں کی ماں ) کیوں کہا؟

قرآن نے مکہ کو ام القرٰی ( آبادی کی ماں ) کیوں کہا ؟
 ارشاد باری تعالی ہے :

"وَهَذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا "(الانعام:92)

"یہی کتاب ہے ہم نے اس کو نازل کیا ہے ۔برکت والی ہے ۔ تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اس سے پہلے ہو چکی ہیں تاکہ آپ ڈرئیں(اہل) ام القری(مکہ ) اور اس کے ارد گرد والوں کو بھی "

مؤرخ ابن قتیبہ جس نے 276 ھ میں وفات پائی ہے لکھا : " سام بن نوح نے درمیانی زمین : مکہ ، اطراف مکہ مثلا : یمن، حضر موت، عمان ، بحرین ، سیرین ، وبار ، دو ،دہنا تک آباد ہو ا۔"

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں "اُم القریٰ" بستیوں کی اصل اور جڑ کو کہتے ہیں مکہ معظمہ تمام عرب کا دینی اور دنیاوی مرجع تھا اور جغرافیائی حیثیت میں بھی قدیم دنیا کے وسط میں مرکز کی طرف واقع ہے اور جدید دنیا (امریکہ) اس کے نیچے ہے اور روایات حدیث کے موافق پانی سے زمین بنائی گئی تو اول یہی جگہ کھلی تھی۔ ان وجوہ سے مکہ کو "ام القریٰ" فرمایا اور آس پاس سے مراد یا عرب ہے کیونکہ دنیا میں قرآن کے اول مخاطب وہی تھے۔ ان کے ذریعہ سے باقی دنیا کو خطاب ہوا اور یا سارا جہان مراد ہو جیسے فرمایا: لَیَکُونَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً۔

صاحب تفسیر مظہر ی فرماتے ہیں : تاریخی روایات کے مطابق ابتداء آفرینش میں پیدائش زمین کی ابتداء یہیں سے ہو ئی ہے ، نیز سارے عالم کا قبلہ اور عبادت میں مرکز توجہ یہی ہے ۔

سید سلیمان ندوی ( تاریخ ارض القرآن ) میں لکھا :کسی نے کہا کہ مکہ روحانی مرکز ہےجہاں روح کی سیرابی کا سامان فراہم کیا گیا ۔ اس لیے اس کو ام القری کہا ، بعض نے کہا قدیم جغرافیہ کے لحاظ سے یہ زمین کے عین وسط میں واقع ہے ۔ یہ شہر دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا اس کی ایک طرف مصری ، رومی ، یونانی تہذیب تھی اور دوسری طرف کلدانی ، ایرانی اور ہندی تہذیب تھی ۔بہر حال جو بھی اسباب ہو، تاریخ کی روشنی میں ہم اس کا تفصیلا جائزہ لیں گے ۔
تاریخ نے عرب میں چار بار انسانی طوفان آتے دیکھا ۔ایک حضرت مسیح سے ڈھائی یا تین ہزار سال پہلے ، پھر ایک طوفان پانچ سو سال قبل مسیح اٹھا جو نسبتا کم تھا ۔ تیسری بار معینی اور سبائی قبائل اٹھے اور پھیلے ،سب سے آخری انسانی سونامی جو پہلی صدی ہجری میں چھٹی صدی عیسوی کے بعد اٹھا سب سے زیا دہ پر زور ، وسیع الاثر تھا جو ایک طرف ہندوستان کے درو دیوار سے ٹکرایا تو دوسری طرف بحر ظلمات تک جا پہنچا ۔

قرآن مجید پر تاریخی اعتراضات - علامہ سید سلیمان ندوی

آزر (کی تاریخی حیثت )

آج مدارس اور خانقاہوں میں غوغا ہے کہ سائنس نے مذہب کے ایوان میں تزلزل ڈال دیا ہے، لیکن شاید یہ خبر نہ ہو کہ نہ صرف سائنس اور علوم عقلی کی موجوں نے زدرق ایمان کو تلاطم میں مبتلا کر رکھا ہے، بلکہ یورپ کا ہر علم و فن منافع عامہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ اپنی تہ میں زہر کی آمیزش ضرور رکھتا ہے۔ تاریخ اب سے پہلے ایک معصوم علم تھا، لیکن اب وہ ہر قسم کے جرائم کا مجموعہ ہو گئی ہے۔
قرآن مجید پر تاریخی اعتراضات - علامہ سید سلیمان ندوی ؒ 

تاریخ کی اب دو قسمیں ہو گئی ہیں: جدید تاریخ (ماڈرن ہسٹری) اور قدیم تاریخ (انیشنٹ ہسٹری)۔ قرآن مجید میں جن اشخاص اور قوموں کا ذکر ہے، ان کا تعلق زیادہ تر دنیا کی قدیم تاریخ سے ہے۔ قدیم تاریخ کا ابتدائی حصہ عموماً افسانہ مذہبی (میتھالوجی) سمجھا جاتا ہے۔ قرآن میں قوم نوح، عاد، ثمود کے متعلق جو واقعات عبرت انگیز مذکور ہیں، عموماً اب ان کو یورپین علماے تاریخ میتھالوجی اور افسانہ کہن سمجھتے ہیں۔ ہم نے اس موضوع پر ’’ارض القرآن‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں بدلائل تاریخ و آثار اقوام کی حقیقت و اصلیت اور قرآن میں ان کے متعلق جو کچھ مذکور ہے، یورپ کے مسلم تحقیقات اور علم الآثار سے اس کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔

اس مضمون میں اسی قسم کے ایک اور سلسلۂ اعتراضات کی طرف ہم کو توجہ کرنا ہے، یورپ کے علماے مشرقیات اور مسیحیت کے حامیان دین نے قرآن مجید کے متعلق ایک عجیب و غریب اصول موضوعہ بنا لیا ہے جن کے مطابق قرآن مجید کا کوئی نقطہ بھی اپنی جگہ پر صحیح نہیں، اصول مذکورہ یہ ہے کہ قرآن کا ہر واقعہ تاریخی یا تو کسی دوسری مذہبی کتاب میں مذکور ہے یا وہ اس سے خاموش ہے۔ صورت اول میں قرآن کا سرقہ ثابت اور وہ حکایت اس سے ماخوذ اور اگر وہ بدقسمتی سے تنہا قرآن کی روایت ہو تو وہ افسانہ محض اور میتھالوجی، لیکن اس اصول کے مطابق تو دنیا کی کوئی مذہبی تاریخ حملۂ ایراد سے محفوظ نہیں۔

نزول قرآن سے پہلے دنیا کے حالات پر ایک نظر

 نزول قرآن سے پہلے   دنیا  کے  مذہبی سیاسی اور سماجی حالات  کا جائزہ 

 مذاہب
چھٹی صدی عیسوی میں بد پرستی، شرک  ساری دنیا کا مذہب تھا ۔ قرآن کے الفاظ میں  " ظھر الفساد فی البر و البحر بماکسبت ایدی الناس "  کا منظر پیش کررہی تھی ۔

تمام سامی مذہب یہودیت ، عیسائیت اور ہندومذاہب اور بدھ مت  شر ک اور  نت نئی مذہبی بدعت میں  ایک دوسرے سے بازے لے جانے کی کوشش میں مصروف تھے   ایک اندازے کے مطابق صرف  ہندومذہب میں  33کروڑ دیوی اور دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی۔(1)

چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کے بڑے بڑے مذاہب اور ان کے صحیفے تحریف کا شکار ہوئے  ان کی  اصل صورت مسخ کئ گئی۔ حتی کہ  تالمود سے بھی شہادت ملتی ہے کہ بت پرستی میں یہود کو حد درجہ کشش تھی،  دیوتاوں اور بتوں کی پرستش  اسرائلی عوام کے دلوں میں   گھر کر چکی تھی ۔(2)

عیسائیت رومیوں کی بت پرستی کا شکار ہوگئی تھی ان میں عقیدہ تثلیث پوری زندگی میں سرایت کر چکا تھا  پوری مسیحی دنیا میں اس کو سرکاری عقیدہ کی حیثیت حاصل تھی  ایک سکالر عسائیت پر تبصرہ کرتے ہوئے  لکھتا ہے " تقریبا سب ہی کچھ  جو بت پرستی میں تھا ، عسائیت کے نام پر چلتا رہا  ۔۔۔انہوں نےغیر شعوری طور پر بہت آسانی سے کسی شہید کو پرانے دیوتاؤں کے اوصاف سے متصف کرکے کسی مقامی مجسمہ کو اس کا نام دے دیا۔۔۔۔۔400ء تک پہنچتے پہنچتے سورج دیوتا کے قدیم تیوہار نے مسیح کے یوم پیدائش کی شکل اختیار کرلی  " (3)
چھٹی صدی کے آغاز میں شام ،  عراق کے عیسائیوں اور مصر کے عیسائیوں کے درمیان  اس بات پر جنگ ہورہی تھی کہ حضرت مسیح کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کی تکفیر میں مشغول تھے ۔ (4)

باز نطینیوں کے سماجی زندگی میں زبر دست تضاد تھا ، ایک طرف  مذہبی رجحان   ان کے  ذہنوں میں سوار تھا ، ترک دنیا، رہبانیت ملک کے طول وعرض میں پھیلی  ہوئی تھی عام شہری بھی مذہبی مباحث میں گہری دلچسپی لیتا تھا ، ان  کے روزمرہ کی زندگی پر روحانیت اورباطنیت کی گہری چھاپ تھی لیکن یہی لوگ ہر قسم کے کھیل تماشوں کے غیر معمولی شائق بھی تھے سرکس کے میدان میں اسی ہزار تماش بینوں کے بیٹھنے کی گنجائش  تھی  ، رتھوں کے دوڑ کے مقابلے ہوا کرتے تھے عوام کو "نیلے " اور "ہرے " دو گروہوں میں بانٹ دیا گیا تھا  ان کے کھیل اکثر خونریز ہوا کرتے تھے ۔ (5)

مجوسی (ایران کے پارسی ) قدیم زمانہ عناصر اربعہ کی عبادت کرتے تھے جس میں سے سب سے پڑا عنصر آگ تھا انہوں نے جگہ جگہ آتش کدے تعمیر کی تھیں آگ اور سورج کی پرستش کے سوا ہر عقیدہ مٹ چکا تھا  اس کے لیے سخت احکام مقرر تھے جن پر ہر شہری کے لیے عمل درآمد لازمی تھا ۔ سرکاری ملازم کے لے لازم تھا کہ وہ دن میں چار بار سورج کی پوجا کریں چاند کی ، آگ کی اور پانی کی پوجا اس کے علاوہ تھی سونے جاگنے ، نہانے  کھانے پینے چھینکنے ، حجامت بنوانے ،  ناخن ترشوانے ، قضاء حاجت اور شمع جلانے غرض  ہر کام کے لیے دعائیں تھیں سرکاری حکم تھا کہ آگ کسی وقت بھی نہ بجھنے پائے اور آگ پانی ایک دوسرے سے نہ ملیں ، دھات کو زنگ نہ لگے ، اس لیے کہ معدنیات بھی ان کی نگاہ میں مقدس تھیں ۔ (6) ایران کا آخری بادشاہ یزد گرد نے عیسائیوں کو جنہوں نے عیسائیت سے توبہ کر لی تھی پابند کیا تھا کہ وہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے سورج کی پوجا کریں ۔  (7)

ایران میں مذہب زرتشت ساتویں صدی قبل مسیح میں ظاہر ہوا  اس کے پیرو کار  دو خداؤں کے قائل تھے ایک روشنی یا خیر کا خدا جس کو وہ آہورمزدایا یرزداں کہتے تھے دوسرا ظلمت یا شر کا خدا جس کا نام اہرمن تھا ، ان دونون خداؤں میں ہمیشہ کش مکش جاررہتی ۔ (8)
چھٹی صدی عیسوی میں بودھ مذہب صرف ہندوستان نہیں بلکہ پورے وسط ایشیاء میں پھیلاہواتھا  جہاں اس کے قافلہ کا پڑاؤ ہوتا وہاں  بدھ کی مورتی نصب کی جاتی اور ساتھ ہی ایک معبد تیار ہو جاتا  ۔ یہ مذہب انکار خدا سے شروع ہوا تھا لیکن اس کے پیروکاروں نے  بدھ کو ہی سب سے بڑا خدا بنا لیا ، حتی کہ  بدھ خود  بد پرستی کا  ہم نام ہوگیا۔ (9)

عرب بھی ان سے کم نہ تھے یہ عہد قدیم میں دین ابراہم کے پیروکا ر تھے جو دین توحید تھا ، بعد میں توحید کی  جگہ شرک نے لے  لی ۔ ہر قبیلہ اور علاقہ کا الگ الگ خدا تھا بلکہ ہر گھر صنم خانہ تھا۔ (10)   بیت اللہ (کعبہ ) کے اندر اور اس کے صحن میں تین سو ساٹھ بت تھے(11) اس کے علاوہ ارواح پرستی جیسے ان کے عقیدہ کے مطابق فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ، جن بھی خدا کے شریک ہیں ، ان کی عبادت کرنا ضروری سمجھتے تھے ۔ (12)
عرب اختلاف عقائد اور کثرت مذاہب کی بنا پر گویا کائنات مذہبی کا عالم اصغر تھا اور تعجب نہیں  کہ قرآن کے نزول کے لئے عرب کی سرزمین کا انتخاب منجملہ اور وجوہ کے ایک اس بناء پر بھی ہو کہ یہاں بحث و مناظرہ کے لئے اس کو ہر قسم کے مخاطب اور ہر مذہب کے وکیل مل جائیں گے ۔  نزول قرآن کے وقت عرب میں جو مستند مذاہب رائج تھے و ہ حسب ذیل تھے ، یہودیت ، نصرانیت ، مجوسیت(یہ ایران کاقدیم مذہب ہے جس کا بانی زرتشت بتا یا جا تا  ہے ) ، صائبیت  (محققین کا خیال ہے کہ  یہ بابل کا قدیم مذہب  ہے ارواح پرستی اور ستارہ پرستی کا اس میں رواج تھا  حضرت ابراہیم کی بعثت اس مذہب کی اصلاح کے لے ہوئی تھی )، حنفیت (قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفیت حضرت ابراہیم ؑ کے مذہب کا نام  تھا ) (تفصیل دیکھیں : علامہ سید سلیمان ندوی ؒ  کی  کتاب تاریخ ارض القرآن ص 447۔527)

بازنطینی سلطنت :
مشرق کے رومن شہنشاہی میں جس کا آغاز 395ء میں ہوا اور اختتام 1453ء  میں جب قسطنطنیہ پر عثمانی ترکوں کا قبضہ ہوگیا ۔ اس کا ذکر تاریخ میں  بازنطینی سلطنت کے نام سے آتاہے  عرب اس کو روم کہتے تھے ، چھٹی صدی عیسوی میں اس کے ماتحت یونان ، بلقان ، ایشیائے کوچک ، سیریا اور فلسطین ، پورا بحر روم کا علاقہ اور کل شمالی افریقہ  کے ممالک  شامل  تھے  ۔ اس کا پایۂ تخت قسطنطنیہ تھا ۔
  عوام پر  ظلم و ستم اور ٹیکسوں کے بھر مار کے خلاف 533ء کے ایک فساد میں قسطنطنیہ کے تیس ہزار آدمی قتل کئے گئے ۔  ان کا سب سے بڑا مشغلہ کسی نہ کسی ذریعہ سے مال حاصل کرنا پھر عیش و عشرت میں اس کو خرچ کرنا تھا ۔ دوسری طرف سماج میں عوام کی ایک بڑی تعداد کی  زندگی پر  رہبانیت اور ترک دنیا  کی چھاپ لگی ہوئی  تھی ۔  عوام میں افلاس کا یہ حال تھا کہ شامی اپنا قرض ادا کرنے کیے لیے اپنے بچوں کو فروخت کر دیتے ۔ (13)

ساسانی سلطنت :
اس کی بنیاد 224ء  میں ایران کا بادشاہ  ارد شیر نے  رکھی اس کی قلم رو میں اسیریہ، خوزستان، میڈیا ، فارس ، آذربائیجان ، طبرستان ، سرخس ، مرجا ن ، کرمان، مرو، بلخ ، سغد، سیستان ، ہرات ، خراسان ، خوارزم ، عراق اور یمن سب شامل تھے۔  المدائن اس کا پایہ تخت تھا یہ پانچویں صدی  اور اس کے بعد کے زمانے میں  اپنے تمدن و ثقافت ترقی، تعیش، اسراف و تبذیر کے آخری نقطہ پر تھا ۔ (14)

عوام سخت مفلوک الحال اور مصیبت زدہ تھے مختلف قسم  کے ٹیکسوں نے ان کی زندگی کو بوجھل کردیا تھا ، وہ زندگی سے تنگ آکر خانقاہوں اور معبدوں میں پناہ لے تھے یا  مختلف جنگوں میں حقیر ایندھن کی طرح کام آتے ۔
 اس کا اندازہ اس  واقعہ سے ہوگا جب مسلمانوں نے  ایران کا آخری بادشاہ یزد گرد کو شکست دی تو  اپنے دارالحکومت  مدائن سے   فرار ہوا۔   اس کے ساتھ ایک ہزار باورچی ایک ہزار مغنی ، ایک ہزار چیتوں کے منتظم اور ایک ہزار شکروں کی دیکھ کرنے والے موجود تھے۔(15)
 ملک کی تمام دولت اور وسائل بادشاہوں اور ان  کے تعلق داروں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے ، بادشاہ اپنے کو عام انسانوں سے بالا تر سمجھتے تھے اور خود کو  آسمانی خداؤں کی نسل میں شامل کرتے تھے  ۔خس-+رو دوم پرویز اپنے نام کے ساتھ درج ذیل القاب لکھتا تھا :
" خداؤں میں انسان فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی ، اس کے نام کا بول بالا، آفتاب کے ساتھ طلوع کرنے والا ، شب کی آنکھوں کا اجالا" (16)

ایرانی سلاطین خود کو مافوق البشر سمجھے جاتے تھے اگر ایرانی باشاہ فصد کھلواتا یا کوئی دوا استعمال کر تا تو دارالسلطنت میں اعلان کر دیا جاتا کہ آج بادشاہ سلامت نے فصد کھلوائی ہے یا دوا استعمال کی ہے ، اس اعلان کے بعد شہر میں نہ کوئی پیشہ ور اپنے کام میں  مشغول ہوتا اور نہ کوئی سرکاری دربار ی آدمی کوئی کام کر سکتا  ۔۔۔۔۔اگر اس کوچھینک آتی تو کسی کو دعائیہ کلمات کہنے کا حق نہ تھا ، وہ خود اگر دعا کر تا  تو  کوئی آمین بھی نہیں کہہ سکتا تھا ، اگر وہ اپنے کسی وزیر یا امیر کے گھر مہمان  ہوتا تو  اس دن سے  اس خاندان  کی ایک  نئی  زندگی اور  نئی جنتری شروع ہوتی   اور خطوط میں نئی تاریخ ڈالی جاتی،  ایک معینہ مد ت کے لئے ٹیکس معاف کر دئیے جا تے  اس کو  مختلف قسم کے اعزازات معافیوں او ر ترقیوں سے نواز ا جا تا صرف اس بناپر کہ بادشاہ سلامت نے اپنی تشریف آوری سے اس کو سرفراز کیا ۔
ایران میں پانچویں صدی کے آغاز میں "مزدک" ظاہر ہوا اس نے مال دولت اور عورت میں مکمل مساوات کی دعوت دی اس دعوت عام کے نتیجے میں ایرانی سماج کی حالت یہ ہوگئی کہ لوگ جس کے گھر میں چاہتے  گھس جاتے اور اس کے مال اور عورتوں پر تصرف کرتا۔(17)

ایران میں مانی کی تعلیمات کا اثر اب بھی باقی تھا ، مانی دنیا سے شر و فساد کا مادہ ختم کرنے کے لیے تجرد کی زندگی کا داعی تھا یہ مذہب زر تشتی کے ریفارمر کی حیثیت سے سامنے آیا تھا  اس کی رائی  ہے کہ  نور و ظلمت کا امتزاج بجائے خود ایک برائی ہے اس سے انسان کو چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے اس نے فنائیت سے ہم آغوش ہونے اور ظلمت پر غلبہ حاصل کرنے لیے نسل انسانی کے سلسلہ کو ختم کرنے  کے لے ازدواجی زندگی سے کنارہ کشی  کی دعوت دی۔ (18)

ہندوستان کی سیاسی حالت :
مورخین کی رائی ہے کہ ہندوستان کا  مذہبی اخلاقی اور معاشرتی طورپر سب سے تاریک دورچھٹی صدی عیسوی ہے مندروں میں بے حیائی کو عبادت کا رنگ دے دیا گیا تھا ستی جیسی انسانی تاریخ کی  بدترین رسم انگریزی اقتدار کے بعد ہی ختم ہوئی ۔(19)
ایک ظالمانہ طبقاتی نظام  نے ہندوستان  کے باشندوں کو چار طبقوں میں تقسیم کر دیا تھا :
1۔ مذہب کے اجارہ دار اور پروہت جن کو برہمن کہا جاتاتھا ۔
2۔ چھتری یعنی سپاہی اور فوج میں بھر تی ہونے والے افراد ۔
3۔ زراعت پیشہ اور تجارت کرنے والے یعنی ویش ۔
4۔ نوکر چاکر اور خدمت گار جن کو  اچھوت کہا جاتا تھا ۔
 یہی طبقہ آخری طبقہ   ہندو سماج  میں  سب بڑی تعداد میں   ہونے کے باوجود  سب سے زیادہ  پستی  میں  تھا ۔ اس  کے متعلق یہ تصور تھا کہ وہ خالق کائنات کے پاؤں سے پیدا  ہوا ہے ۔ اس لے اس کا کام باقی تینوں طبقوں کی خدمت کرنا  ہے ۔
ہندو سماج میں  سارے حقوق برہمنوں کے لیے تھے  ان کے سارے گنا ہ معاف تھے ، ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا تھا ، کوئی سزائے موت نہیں دی جاسکتی تھی  دوسری طرف  اچھوت نہ کما سکتے تھے نہ مال دولت جمع کرسکتے تھے نہ کسی برہمن کےقریب بیٹھ سکتے تھے نہ اس کے بدن کو چھو سکتے تھے ، مقدس کتابوں کا پڑھنا سننا  ان پر حرام تھا ۔(20)
اہل حرفہ و صنعت  جن کو وہ چنڈال کہتے تھے شہر سے باہر رہتے تھے غروب آفتاب کے بعد  ان کا شہر میں رہنا  جرم تھا طلوع آفتاب کے بعد وہ شہر میں داخل ہو سکتے تھے ۔ یہ  جابرانہ نظام قطب الدین ایبک (1206ء۔ 1210ء ) کے عہد میں ختم ہو ا  ان کے دور میں شہروں میں امراء کے محلات اور فقراء کے جھوپڑے ایک ساتھ تھے ۔

 جزیرۃ العرب  
قرآن مجید ، کتب حدیث اور اشعار عرب   کے مطابق عرب کے بعض لوگ حد درجہ بد اخلاق ہو چکے تھے شراب جوئے کے دیوانےتھے  ، قافلوں کو لوٹنا ، بے گناہوں کو تہ تیغ کر نا  عام با ت تھی ، بعض شقی  القلب لوگ غیرت کے نام سے  اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے اور کچھ  لوگ اپنی  اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل کر ڈالتے تھے ۔ عورتیں سامان کی طرح ورثہ  میں تقسیم ہوتی ، کوئی مرد  جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کر سکتا تھا۔ قبائلی ،خاندانی اور نسلی عصبیت کی بنا پر اکثر باہم جنگ جاری رہتی معمولی واقعہ پر طویل جنگوں کا سلسلہ چلتا جو چالیس چالیس سال تک جاری رہتی ۔

یورپ  
مشہور مورخ رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں کہ  پانچویں صدی سے لے کر دسویں صدی تک یورپ پر گہری تاریکی چھائی  ہوئی تھی ۔۔۔اس دور کی وحشیت و بر بریت زمانہ قدیم سے کئی درجہ بڑھی ہوئی تھی ۔اس کی مثال سڑ ی ہوئی لاش کی مانند تھی ۔۔۔ اٹلی ، فرانس جیسے ملکوں میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا  ۔ (21)
جہالت، ناخواندگی ، جسمانی گندگی،  اوہام و خرافات کی وجہ سے ان کی زندگی  وحشیوں  کی طرح  تھی،   ان کے پادری اور مذہبی لوگ جسم کو اذیت پہونچاتے ،  انسانی معاشرہ سے  فرار ہوکر جنگلوں اور بیابان میں  جنوروں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ۔اور مذہبی لوگوں میں  یہ بحث جاری تھی کہ عورت انسان ہے یا حیوان ؟ اس کے اندر ابدی روح ہے یا نہیں ؟ اس کو ملکیت اور خرید و فروخت کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟

--------------------------------------

(1)  (آر۔ سی دت کی کتاب ANCENT INDIA ج 3 ص 276 ،  نیز دیکھئے : L.S.S, O'MALLEY POPULAR HINDUISM THE RELIGION OF THE MASSES,(CAMBRIDGE, 1935, P 6.P)
(2)      (جیویش انسائیکلو پیڈیا ، جلد 12 ص 568، 569)
(3)     (the history of christianity in the light of modern knowleedge :p 407)
(4)     (ALFRED J. BUTLER کی کتاب " ARABS"  ONQUEST OF EGYPT AND THE LAST TEHIRTY YEARS OF ROMAN DOMINION" (OXFORD 1902) P . 44-45)
(5)     (T.WALTER WALL BANK AND ALASTAIR.M. TAYLOR . CIVILAZATION PAST AND PRESENT , 1954, P. 261)
(6)       (آرتھر کرسٹین سین : "ایران بعہد ساسانیان" ص اردو ترجمہ پروفیسر محمد اقبال اورنٹیل کالج لاہور 155)
(7)      ("یران بعہد ساسانیان " ص 186)
(8)      (ایران بعہد ساسانیان ص 183)
(9)      (ہندوستانی تمدن اردو ، ایشور اٹوپا ص 209 اور DSCOVERY OF INDIA  پنڈت جوہر لال نہرو ص 201-202)
نیز دیکھئے بودھ مذہب پر مقالہ " انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا"
(10)     (تفصیل دیکھیں : کتاب الاصنام ، ابن الکلبی ص 33)
(11)    (صحیح بخاری : کتاب المغازی ، باب فتح مکہ )
(12)    (کتاب الاصنام ص 44)
(13)    ( انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، مقالہ : " JUSTINIAN”)
(14)    ( تفصیل دیکھیں :  پروفیسر آر تھر کرسٹن سین کی کتاب " ایران بعہد ساسانیان  " )
(15)    (تاریخ ایران ،  شاہین مکاریوس عربی طبع ص 98)
(16)    ("ایران بعہد ساسان " ص 339)
(17)    (ایران بعہد ساسانیان ص 535۔536، مزید 543))
(18)    ( تفصیل دیکھیں : ایران بعہد ساسانیان ص 233- 269)
(19)    ( آر ، سی ، دت : ( ANCENT INDIA )ج 3  نیز  ستیارتھ پر کاش ، ص 344، دیانندسر سوتی )
(20)    ( اس ظالمانہ قانون کی تفصیل دیکھیں  : منوشاستر کے باب : 1۔2۔8۔9۔10۔11)
(21)    THE MAKING OF HUMANITY P 1164

مطالعہ ارض القرآن کی ضرورت اور اہمیت

مطالعہ  ارض قرآن کی ضرورت اور اہمیت
آج مسلمانوں کا وطن تمام دنیا ہے تاہم مولد اسلام ، موطن رسالت ، مہبط قرآن دنیا کا صرف ایک ہی گوشہ ہے یعنی" عرب" جس کو مادی زرخیزی کی محرومی نے گو " بن کھیتی کی زمین " (وادی غیر ذی زرع ) کا خطاب دیا ہے ۔ لیکن جس کی روحانی سیر حاصلی کی فروانی کا یہ عالم ہے کہ آج دنیا میں جہاں بھی روحانی کھیتی کا کوئی سرسبز قطعہ موجود ہے اسی کشت زاد الہی کے آخری کسان کی تخم ریزی و آب سیری کا نتیجہ ہے۔

اس مہبط وحی قرآنی اور موطن اول اسلام کی تقدیس اس بوڑھے پیغمبر (ابراہیم ؑ ) کے نام سے ہے جس نے اپنے جوان بیٹے (اسماعیل ؑ) کے خون سے اس " بن کھیتی کی زمین " کو سیراب کرنا چاہا ، جس کی سیرابی گردن کے خون سے مقدر نہ تھی ، بلکہ دل کے خون سے تھی ، جب دل کا خون اس پر برسا تو یہ شور و بے حاصل قطعہ حسب پیشین گوئی سابق لہلہا اٹھا ۔

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (٢٨) مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الإنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (٢٩) (الفتح )

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے ۔محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں ۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت توراۃ میں ۔ اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ۔(یہ ترجمہ تفیہم القرآن سے لیاگیاہے )

اس زمین کے اکثر حصہ کی مادی شوری و بے حاصلی ، حکمت الہی کا مقتضا تھی کہ سلاطین عالم کے دست حرص و ہوس سے اس ارض مقدس کی عصمت مصون رہے اور دست انسانی کے تمدن و صنعت کی سیاہی سے اس کی لوح، سادہ پاک اور فطری رہے تاکہ خود فطرۃ اللہ کا قلم صرف اپنے حروف و خطوط سے اس کی گلکاری کر سکے ، اور خدا کی فطرت کا خزانہ جو اس کھنڈر میں دفن تھا پیغمبر مذہب فطری کے وجود تک محفوظ رہے ۔

قرآن مجید میں لفظ "عرب" ملک عرب کے لیے کہیں نہیں بولا گیا ہے ، حضرت اسماعیل کی سکونت کے ذکر میں " واد غیر ذی زرع "وادی ناقابل کاشت کہا گیا ہے اکثر لوگ اس نام کو عرب کی حالت طبعی کا بیان سمجھتے ہیں ، حقیقت میں یہ لفظ" عرب" کا لفظی ترجمہ ہے چونکہ اس عہد میں اس غیر آباد ملک کا کوئی نام نہ تھا اس لیے خود لفظ غیر آباد ملک اس کا نام پڑ گیا توراۃ میں بھی اسماعیل کا مسکن "مدبار "بتایا گیا ہے جس کے معنی بیابان اور غیر آباد قطعہ کے ہیں اور جو باکل عرب کا ترجمہ اور" وادی غیر ذی زرع" کے مرادف ہے۔

سرزمین قرآن(عرب) کی تاریخ جس قدر بعد القرآن یعنی اسلام کے بعد روشن ہے اسی قدر قبل القرآن یعنی اسلام سے پہلے تاریک ہے قرآن مجید نے بر سبیل عبرت اور اظہار واقعہ ملک عرب کے متعدد اقوام و اشخاص و انبیاء کے حالات مجملا بیان کئے ہیں لیکن عرب کی قوم تصنیف و تالیف سے آشنا نہ تھی اس لئے ان اقوام، اشخاص اور اقطاع ملک کے تاریخی، سیاسی ،قومی، مذہبی اور جغرافی حالات کے بیان و تفصیل کی بنیاد مسلمان مصنفین نے صرف احتیاطا نہ زبانی روایات پر رکھی ہے لیکن اہل پورپ ان کے مقابل یونانی و رومانی سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں کے تحریری بیانات اور عرب کے آثار قدیمہ اور نقوش و کتبات پیش کر تے ہیں جو تنہا زبانی روایات سے ظاہر ہے کہ کہیں صحیح تر ماخذ ہیں ، اس بناء پر انہوں نے عرب قبل قرآن کی تاریخ کے متعلق باکل نیا عالم پیدا کردیا ہے جو ان کی نظر سے قرآن مجید کے بیان اور عر ب کے زبانی روایات نے عرب کی جو تصویر کھینچی ہے اس سے مختلف ہے اوور اس لئے ان کو اس میدان میں اعتراضات کا بڑا جولان گاہ نظر آتا ہے ۔

جرمن ، فرنچ ، اٹالین اور انگلش مستشرقین نے" تاریخ عرب قبل اسلام " پر محققانہ کتابیں لکھیں ، یونانی و رومانی تصنیفات سے جو عرب قبل اسلام کے حالات سے پر ہیں ، انتخاب و خلاصہ کیا ، قرآن مجید نے جن اقوام و بلاد کا ذکر کیا ہے ، ان کھنڈروں کا مشاہدہ کیا ان کے کتبات کو حل کیا ، اور ان سے عجیب و غریب نتائج مستنبط کئے ۔

تاہم وہ مسلمان نہیں یہودی یا عیسائی ہیں ، انہوں نے نہایت بے دردی سے قرآن کے فوائد کو پامال کیا ہے بعض متعصب مستشرقین نے ان معلومات کو غلط طور سے قرآن کی مخالفت میں استعمال کیا ہے ۔ اٹھارھویں صدی کے وسط میں ریونڈ فارسڑر (FORSTER) نے عرب کا تاریخی جغرافیہ (HISTORICAL GEGRAPHY OF ARAB) لکھا جس میں اس نے اپنی جہالت کے عجیب و غریب نمونے پیش کئے جن کو پڑھ کر کبھی ہنسی اور کبھی رونا آتا ہے لیکن کیا کیجئے کہ ہماری غفلت سے وہ قرآن کی صداقت تاریخی کا معیار ہے بعض پادری قرآن کے تاریخی اغلاط کو پیش کر تے ہیں لیکن ان کو پیش کر تے وقت افسوس ہے کہ تورات جس کو وہ معیار صحت سمجھتے ہیں بھول جا تے ہیں ۔

نولدیکی(NOLDEKE) نے عمالقا و عاد کی تحقیق میں ایک رسالہ لکھاہے جس میں ثابت کیا ہے کہ یہ غیر تاریخی قومیں ہیں ۔ و لکن (A.WLKEN) اور روبرٹس اسمتھ (ROBERTS,SMITH) عر ب کےادعا ئے نسب کا انکار کر تے ہیں ، عرب کےبعضااثری اکتشافات کی بناپر یورپ کےبعض سبک مغز مصنفین جرات کےساتھ کہتے ہیں کہ " قرآن کے پہلے کا عرب قرآن کے بعد کے عرب سے ہزار درجہ بہتر تھا"۔ لیکن سینٹ ہیپلیر ایک فرنچ مستشرق نے نہایت خوب جواب دیا ہے " کہ اگریہ صحیح ہوتا تو قرآن تمدن و تہذیب کے عام ابتدائی تعلیمات اور کم از کم محرمات نکاح کے بیان کی تکلیف گوارا نہ کرتا "

ان آثار قدیمہ کےاکتشافات نے ادیان عرب قبل اسلام کے معلومات میں نہایت سخت انقلاب پیدا کر دیا ہے ،جن سےاسلام کے مناقب و فضائل کا ایک نیاباب پیدا ہوگیا ہے۔

عہد قدیم میں مخالفین کے اعتراضات کانشانہ اعتقادات تھے لیکن اس عصرجدید میں جب ہمارے مخالفین عقائد اسلام کی مضبوطی کاامتحان کرچکے ہیں انہوں نے یہاں سے ہٹ کر تاریخ و تمدن کے میدان میں مورچے قائم کئے ہیں ۔ جس طرح ایرانی ویہودی مورخین کےمقابلہ میں ابن حنفیہ دینوری ؒ المتوفی 281ھ ،ابن قتیبہ ؒ المتوفی 276ھ اور ابن جریر طبری ؒ المتوفی 310ھ نےاسلام اور قرآن کی تاریخ کی تحقیق و تطبیق میں کوشش کی ، اس زمانہ میں جدید یورپین تاریخ کی اسلام و قرآن سے تطبیق دی جائے۔ اورپورپین تاریخی تحقیقات و اکتشافات کی غلطی کاپردہ چاک کیاجائے اورخود ان ہی کےکارخانوں کے بنے ہوئے ہتھیاروں سے ان کے حملوں کاجواب دیا جائے ۔ (یہ مضمون اختصار کےساتھ علامہ سیدسلیمان ندیؒ کی تاریخ ارض القرآن جلد اول ص 11۔17 سےماخوذ ہے )

بر سبیل مثال مستشرق آرتھر جیفری کی علمی خیانت کا ذکر کیا جانا ضروری ہے اس نے نہایت بے دردی سے قرآن کی حقانیت کو پامال کیا ہے ۔

آرتھر جیفری (انگریزی: Arthur Jeffery) 18 اکتوبر 1892ء کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پیدا ہوا۔ اس کی وفات 2 اگست 1959ء میں کینیڈا میں ہوئی۔ وہ ایک متعصب پروٹسٹنٹ عیسائی تھا۔ شروع میں قاہرہ میں مشرقی علوم کے اسکول میں سامی زبانوں کے استاذ کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعد ازاں 1938ء میں کولمبیا یونیورسٹی سے منسلک ہو گیا ۔

آرتھر جیفری نے ابن ابی داؤد کی کتاب، المصاحف کو اپنی تحقیق سے شائع کیا اور قرآن پر کئی کتابیں لکھیں، جن میں قرآن کے متن و جمع قرآن پر مباحث ہیں۔ اہل علم نے آرتھر کی تحقیق پر کئی اعتراضات کیے ہیں۔ ڈاکٹر محب الدین واعظ نے اپنی تحقیق میں نشاندہی کی ہے کہ کیسے آرتھر جیفری اپنی طرف سے اصل کتاب میں ابواب کے نام رکھتا ہے اور بعص جگہ الفاط تک شامل کیے ہیں۔

”آرتھر جیفری نے کتاب المصاحف کی تحقیق میں’ نسخہ ظاہریہ‘ کو بنیاد بنایا اور اس کا تقابل ’نسخۃ دار الکتب المصریۃ‘ سے کیاہے۔ آرتھر جیفری کا دعویٰ ہے کہ’نسخۃ دار الکتب المصریۃ‘ کا نسخہ ایک دوسرا نسخہ ہے حالانکہ وہ ’نسخہ ظاہریہ‘ ہی کی ایک نقل ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ دونوں نسخوں میں پہلا صفحہ موجود نہیں ہے۔“

آرتھر جیفری کے نزدیک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں قرآن تحریری شکل میں موجود نہیں تھا۔ اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ مستشرقین کی تحقیق کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ آرتھر جیفری نے لکھا ہے کہ اہل مغرب کی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم مسلمانوں کے لیے اپنی زندگی کے آخری حصے میں ایک کتاب (یعنی قرآن) مرتب کر رہے تھے۔ ابوبکر صدیق کے زمانے میں جمع قرآن کے کام کے بارے اس کا خیال یہ ہے کہ یہ ایک ذاتی جمع تھی نہ کہ سرکاری۔ اس کے گمان میں سرکاری سطح پر قرآن کی جمع کا کام عثمان بن عفان کے دور میں شروع ہوا۔ آرتھر جیفری نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ بعض اسکالرز کی تحقیق کے مطابق زید بن ثابت نے جمع قرآن کا کام صرف عثمان بن عفان کے لیے کیا تھا لیکن چونکہ عثمان کی شخصیت متنازع تھی لہٰذا بعض اصحاب نے جمع قرآن کے کام کی نسبت ابو بکر کی طرف کرنے کے لیے کچھ ایسی روایات وضع کر لیں جن کے مطابق زید بن ثابت کو ابو بکر کے زمانے میں جمع قرآن پر مامور کیا گیا تھا۔

دراصل جیفری قرآن کے تنقیدی نسخے کو اس طرح مرتب کرنا چاہتا تھا کہ ایک صفحے پرکوفی خط میں متن قرآن ہو اس کے سامنے دوسرے صفحے پر تصحیح و تنقیح شدہ حفص روایت ہو اور حواشی (Footnotes) میں قرآن حکیم کی تمام معلوم مختلف قراء توں کو بیان کردیا جائے۔ جیفری اپنی اس خواہش کے مطابق مکمل قرآنی نسخہ لانے میں تو کامیاب نہ ہوسکا مگر مصحف عثمانی کے مقابلm (Rival) دیگر نسخہ جات کو ڈھونڈ نکالنے میں اس نے بڑی عرق ریزی سے کام لیا۔ اور اسلامی علوم کے ورثہ میں سے مختلف قراء توں کی بنا پر ۱۵’بنیادی‘ اور ۱۳ ’ثانوی نسخہ جات کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس نے ۱۵ ’بنیادی نسخہ جات‘ کو حضرت عبداللہ بن مسعود،  حضرت ابی بن کعب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوموسیٰ اشعری،حضرت انس بن مالک ،حضرت حفصہ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت زید بن ثابت،حضرت عبداللہ بن زبیر،حضرت عبد اللہ ابن عمر، حضرت عائشہ،حضرت سالم،حضرت اُم سلمہ، حضرت عبید بن عمیررضی اللہ عنہم کی جانب منسوب کیا ۔

آرتھر جیفری مستشرقین کے اس طبقہ ثانی سے تعلق رکھتا ہے جنہوں نے نوآبادیاتی دور کے بعد زبان و بیان کے اسرار و رموز اور لسانیاتی مباحث کو اپنا موضوع تحقیق بنایا اور انہیں اپنے پیشرو مستشرقین کی طرح افریقہ اور ایشیاء کے مسلم علاقوں میں نو آبادیاتی آقاؤں کے مشیر بننے کا موقع نہ مل سکا۔ اب ایک جست اور آگے لگاتے ہوئے دورِ جدید کے مستشرقین مثلاً برنارڈ لومیس(Bernard Lemis) اور جان ۔او۔ وال(John. O.Voll) علاقائی اور اسلامی ثقافت کے مطالعہ کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ قرآن حکیم کومطالعہ کا میدان بناتے ہوئے جیفری کو اچھی طرح معلوم تھاکہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن حکیم کاحقیقی مقام و مرتبہ کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

’’عیسائیت بائبل کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام قرآن کے بغیرقطعی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ غالباً اسلامی نظام حیات کے لیے قرآن حکیم کی اسی اہمیت نے جیفری کو اپنی زندگی اس کے مطالعہ و تحقیق میں کھپانے پر آمادہ کیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ’’قرآن نبیﷺ کی تصنیف ہے اور اس کے حرف آغاز سے حرف آخر تک قرآن پر محمدﷺ کی مہرصاف طور پر جھلکتی ہے۔‘‘ جیفری نے منتخب قرآنی سورتوں کا خود ساختہ نئی ترتیب نزولی کے مطابق ترجمہ کیا اور اس نے تقریباً چھ ہزار ایسے مقامات کی نشاندہی کی جو کہ مصحف عثمانی سے مختلف تھے۔ اس نے قراء ات کے یہ سارے اختلاف تفسیر، لغت، ادب اور قراء ت کی کتابوں میں سے جمع کئے۔ اس کام کے لیے ابن ابوداؤد کی کتاب’کتاب المصاحف‘ اس کا بنیادی ماخذ رہی۔

جیفری ایڈن برگ کے بل (Bell)اور ییل(Yale) کے ٹوری (Torry) کے آزادانہ مطالعہ و تحقیق کا بڑا مداح اور مؤید ہے اور وہ ان دونوں کے انتقاد اعلیٰ(Higher Criticism) کے اُصولوں کا قرآن پر اطلاق اور ان کے اس نتیجے پر پہنچنے پر بھی رطب اللسان ہے کہ

’’محمدﷺ تحریری مواد جمع کرتے رہے۔ اس کی چھان پھٹک کرتے رہے اور اسے ایک مرتبہ کتاب کی شکل دینے کے لیے اس پرنظرثانی کرتے رہے تاکہ وہ اسے اپنی کتاب کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں(مگر) پیغمبرﷺ اس کتاب کو مرتب اور مکمل شکل میں پیش کرنے سے قبل ہی وفات پاگئے ۔

بل اور ٹوری کی پیروی میں جیفری بزعم خود ان کے انتقاد اعلیٰ کے اُصولوں کا نصوص قرآن پر اطلاق کادعویٰ کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی نامزد کمیٹی نے سرکاری نسخہ میں قرآن کے نام سے جومواد جمع کیا وہ یقیناً محمدﷺ سے درست طور پر منسوب ہے ماسوائے چند آیات کے جن کی اسناد مشکوک ہیں۔ تاہم کمیٹی نے ایک بہت بڑا مواد جو اس وقت کے اہم علمی مراکز میں پائے جانے والے قرآنی نسخہ جات میں موجود تھا، کو نظر انداز کردیا اور ایسا بہت سارا مواد قرآن میں شامل کردیا اگر محمدﷺکو کتاب کے حتمی شکل دینے کا موقع ملتا تو وہ اس مواد کوشامل نہ کرتے۔

یہ امر دلچسپی سے سے خالی نہیں کہ جیفری مصحف عثمانی میں جس مواد کے شامل کئے یا نہ کئے جانے کا خیال بڑی معصومیت کے ساتھ پیش کرتا ہے اس کی کوئی ایک مثال بھی صحیح اسناد کے ساتھ پیش نہیں کرسکا۔ اختلاف قراء ات پرمبنی روایات کاجو ذخیرہ اس نے (Materials) میں پیش کیا ہے ان روایات کی اسناد خود جیفری کے اعتراف کے مطابق مکمل ہیں اور نہ مستندi جیفری قرآن حکیم کو نبی اکرمﷺ کا کلام ثابت کرتے ہوئے قرآن کے پیرایہ اظہار کو غیر واضح اور غیر معیاری کہتا ہے مگر اس بارے میں وہ اپنے دعویٰ کی صداقت کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا۔


جیفری نے کئی سالوں تک قرآن حکیم کی متعدد قراء توں کے بارے میں مواد اکٹھا کیا۔ پھر قرآن حکیم کا تنقیدی نسخہ تیارکرنے کے لیے ۱۹۲۶ء میں پروفیسر برجسٹراسر (Bergstrasser) جس نے میونخ میں قرآن محل(Quranic Archive) بنایاہوا تھا، کے ساتھ اشتراک کیا۔ برجسٹراسر ۱۹۳۳ء میں راہی ملک عدم ہوا تو جیفری نے قرآن محل کے نئے ڈائریکٹر اور پروفیسر برجسٹراسر کے جانشین ڈاکٹر اوٹو پریکشل(Oto Pretzl) کے ساتھ اشتراک عمل جاری رکھا ’بدقسمتی‘ سے پریکشل دوسری جنگ عظیم کے دوران سباسٹوپل(Sebastopal) کے باہر ہلاک ہوگیا۔ اور اتحادی فوجوں کی بمباری سے سارا قرآن محل جل کر خاکستر ہوگیااور عمارت بھی تباہ و برباد ہوگئی۔ اسی طرح قرآن حکیم کے تنقیدی ایڈیشن کو روبہ عمل لانے کا عظیم منصوبہ شرمندہ تکمیل نہ ہوسکا۔ اس ناکامی پر جیفری اپنی تکلیف اور ذہنی اذیت ان الفاظ میں بیان کرتاہے۔

’’اب یہ امر تقریباً ناممکن ہے کہ ہماری نسل قرآنی متن کاحقیقی تنقیدی نسخہ دیکھ سکے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(حوالہ : اِختلاف قراء ات قرآنیہ اور مستشرقین(آرتھر جیفری کا خصوصی مطالعہ) تحریر :ڈاکٹر محمد اکرم چودھری,مترجم: علی اصغر سلیمی​ )

آرتھر جیفری کی کتابیں:

1-قرآن کریم کی متنی سرگذشت (The Textual History of the Qur'an)
2-قرآن پاک کے صوفیانہ حروف (The Mystic Letters of the Koran)
3-فاتحہ کے مختلف متن (A Variant Text of the Fatiha)
4-سمرقند نسخے کا املا (The Orthography of the Samarqand Codex)
5-قرآن کریم کی متنی سرگذشت کا مواد (Materials for the History of the Text of the Qur'an)
6-قرآن کی غیر ملکی فرہنگ (The Foreign Vocabulary of the Qur'an)
7-اسلام پر ایک ریڈر (A Reader on Islam)

حوالہ جات:

کتاب المصاحف مع تحقیق ڈاکٹر محب الدین واعظ : 463،464

The Textual History of the Qur’an by Arthur Jeffery, 1946
Jeffery's



نزول قرآن سے پہلے عرب کی زبانیں


12 ویں صدی عیسوی میں اندلس میں
لکھا گیا قرآن کا ایک صفحہ 
" اسلام اور عربی زبان کا ایسا لازوال رشتہ ہے کہ وہ کسی  عہد کسی ملک  میں منقطع نہیں ہو سکتا عربی زبان میں قرآن مجید کے نزول نے اس کی ابدیت اور  جہاں گیری پر آخری مہر لگادی ہے " (سید ابوالحسن علی ندوی  ؒ )
قرآن قریش کی زبان میں نازل ہو ا  قرآن مجید میں "بلسان قومہ" اور" عربی مبین" سے  اسی طرف اشارہ ہے ۔
قریش کی زبان  کی خوبی اور فصاحت کے دو سبب ائمہ لغت نے بیان کئے ہیں ۔ پہلا سبب یہ ہے کہ نزول قرآن سے کئی صدی  پہلے تمام عرب میں قریش کا قبیلہ اس لحاظ سے ممتاز تھا کہ اس  کا گذر  تجارتی  ذرائع سے نہ صرف عرب میں بلکہ آس پاس کے ممالک میں بھی ہو تا تھا ۔ اس بناء پر  اس کی زبان میں زیادہ وسعت پیدا ہوگئی  ، بلکہ بین العرب زبان  بن گئی  اس لے  قرآن کے لے ایسی زبان صر ف قریش کی ہوسکتی تھی ۔  دوسرا سبب یہ ہے کہ  حج کے لے تمام  ملک کا سالانہ مجمع صرف مکہ ہی کی سرزمین میں ہو تا تھا عرب کے  ہر  گوشہ سے لو گ یہا ں آتے تھے، عکاظ کا میلہ عرب کے لیے نہ صرف تجارت کا مرکز تھا بلکہ علمی  اکاڈیمی بھی  تھی  جہاں عرب کے معروف شعراء اپنا کلام پیش کر تے ، اس بناء  پر شہر مکہ کی زبان ایک  مشتر ک زبان تھی جو عرب کی تمام زبانوں سے زیادہ  فصیح اور بلیغ تھی ، شعرائے عرب بھی جب لوگ  حج کے لیے سمیٹ کر ایک نقطہ پر جمع ہو جاتے تھے اپنی شاعری کے لے لئے اسی  زبان کو  اختیار کرتے تھے ،جس کوعرب کا ہر عام و خاص  سمجھ سکتا تھا یہی سبب ہے کہ شعرائے عرب کے قصائد کی زبانوں میں اختلافات کے باوجود ایک قسم کی ہم رنگی پائی جاتی ہے  تمام عرب کو مخاطب کرنے کے لئے قرآن کے لیے یہی زبان زیادہ مناسب تھی ۔ قریش کے بارے میں  یہ خیال  درست نہیں کہ وہ   دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتاتھا ۔اس کے برعکس قرآن میں یہ ذکر آتا ہے کہ ہر سال ان کا قافلۂ تجارت  موسم سرما اور گرما میں  بیرون ملک جا تاتھا  بلکہ  جو قوم  دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتی ہے وہ اپنی زبان میں وسیع خیال نازک جذبات کی تعبیر نہیں کرسکتی لیکن قریش کی زبان  لطیف و نازک جذبات او ربلند و عالی خیالات کی تعبیر سےمالا مال ہے ۔زمانہ جاہلیت کے شعراء کا کلام اس کی گواہ ہے۔

     عربی مبین سے کیا مراد ہے ؟ مبین کے معنی ظاہر کرنے والا واضح کرنے والا کھولنے والا اکثر مفسرین نے ان آیتوں میں مبین کے یہی لغوی معانی   مراد لئے ہیں لیکن سید  سلیمان ندی اور دیگر  محققین کا خیال ہے کہ اس سے مراد  وہ  لہجہ ہے جو عرب میں رائج تھا عرب میں نزول قرآن کے وقت  عربی زبان کئی بولیوں اور لہجوں میں منقسم تھی ان میں جو فصیح ترین اور شریں ترین زبان تھی اس کا نام لسان عربی مبین تھا  جیسے اردو کے بہترین اور فصیح ترین زبان کو ہم اردوئے معلی کہتے ہیں ۔ اسی طریقہ سے باوجود اختلافات کے عربی زبان میں ایک خاص مستند اور ٹکسالی زبان تھی جس میں مختلف قبائل کے شعراء اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتے اور باہم  ایک دوسرے سے  گفتگو کرتے تھے اور یہی عربی مبین تھی ۔

     محدث حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے کہ حضرت بریدہ سے مروی ہے کہ لسان عربی مبین سے مراد جرہم  کی زبان ہے ۔جرہم قریش کے نانہال مورث اول کا نام ہے جس کے خاندان میں حضرت اسماعیل ؑ نے شادی کی تھی ، اگرچہ محدثین نے  اس روایت پر جرح کی ہے ۔ لیکن یہ روایت اپنے زمانہ کی  ترجمانی کررہی ہے ۔ اسی یا قوت نے معجم میں ( لفظ عرب کے  ذیل میں ) ہشام کلبی کی روایت سے لکھا ہے  چھٹی زبان جوعرب میں اللہ تعالی نے بلوائی اور جو ان  سے پہلے نہ تھی و حضرت اسماعیل کو بلوائی بنو اسماعیل لسان مبین بولے اور یہ چھٹے بزرگ ہیں جو عربی میں بولے ان کی زبان اور تحریر مبین ہے اور یہی زبان آج تمام عرب کی زبانوں پر غالب ہے۔پھر لکھتاہے المبین لمعد بن عدنان " مبین  معد بن عدنان کی زبان ہے ۔ احادیث صحیحہ میں ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے عہد میں جب قرآن کی نقلیں کرائیں تو کاتبوں کو حکم دیا کہ جس لغت کے تلفظ اور قراءت میں تمہاریے درمیان اختلاف ہو اس کو قریش کی لغت میں لکھو ۔ کہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے ۔ (تاریخ ارض القرآن، سید سلیمان ندوی ؒ  )

     مورخین کا اتفاق ہے کہ عربی  زبان سامی زبان کی ایک شاخ ہے ، ان  کے مطابق بنو سام کا اصل مسکن عرب تھا ، اس لحاظ سے قدیم سامی زبان کا اصل مرکز بھی عرب  کا  علاقہ ہے  ۔ اب جدید تحقیقات سے سامی قبائل کا سراغ عرب ، عراق  ، شام  ہر جگہ ملاہے ۔


سامی زبانوں کی جغرافی حدود
     بلاشبہ  شروع میں سام بن نوح  علیہ السلام کا خاندان اوران  کی زبان   ایک   تھی ،  بعد  میں جب یہ  سینکڑوں خاندانوں  اور  قبائل  میں   تبدیل ہوا ،  تو  ان کی زبان بھی   مختلف ہوگئی  ۔ ان میں  سب سے ممتاز  قبیلہ بنوارم  کا  تھا ۔ ان کی حکومت تمام عرب ، عراق ، شام اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی ۔ اس لحاظ سے ان ممالک کی قدیم زبان بھی   آرامی  تھی  ۔ السنہ سامیہ کے  محقق تھیوڈ نولڈیکی نے لکھا " یہ زبان (آرامی )عراق اور شام ،عراق اور عر ب میں بولی جاتی تھی بلکہ مصر اور ایران کی زبانوں میں بھی اس کے آثار ملتے  ہیں "( انسائیکلو پیڈ یا بر ٹانیکا  جلد 24 ص 623)

     تورات سے  بھی ثابت ہے کہ بابل (عراق) اور شام دونوں ملک میں قدیم زمانے میں بنو  ارم آباد تھے۔قرآن مجید اور عرب کے اشعار بھی اس کی تصدیق کر تے ہیں ۔  عاد اور ثمود کو و  ہ ارم کہتےتھے ، اس لحاظ سے ان ممالک کی قدیم زبان  آرامی عربی تھی ۔ واضح رہے کہ قدیم عربی زبان سے وہ بعینہ زبان  مراد نہیں جو  نزول قرآن کے وقت عرب میں بولی جاتی تھی اور جو اب تک محفوظ ہے اور نہ ہی آرامی سے وہ آرامی مراد ہے جس میں یہودیوں کی تالمود لکھی گئی ۔ اس  لے عربی زبان کی  ابتدائی  شاخ آرامی  تھی اور قدیم عربی کو   آرامی کہنا چاہیے ۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد ،  اسحاق اور اسماعیل کی زبان بھی آرامی تھی ۔ قبیلہ جرہم جن میں حضرت اسماعیل ؑآبسے تھے ان کی زبان بھی وہ عربی نہ تھی جو نزول قرآن  کے وقت قریش بولتے تھے ۔ اس لے  نسل اسماعیل کے بارے میں  یہ خیال کہ عربی ان کی اصلی زبان نہ تھی بلکہ جرہم کے ساتھ رہ کر انہوں نے سیکھی تھی درست نہیں ۔ قدیم ترین کتبات جن کی زبان آرامی عربی  ہے ان مقامات میں پائے گئے جن میں ثمود  آباد تھا ۔  محققین نے  ان کو " پروٹو عربک " ابتدائی عربی کا  نام دیا ۔ (انسائیکلو پیڈ یا بر ٹانیکا  جلد 24 ص 624)  اس لحاظ سے عاد اور ثمود  امم بائدہ کی زبان   آرامی عربی  تھی ۔

     محققین نے سامی زبان کو متعدد شاخوں میں تقسیم کیا ہے۔
عرب  علاقوں کی   زبانیں  : آرامی ، ثمودی ، مدیانی ، نبطی ، عدنانی ، سبائی ، حمیری ، حبشی ۔
 قدیم عراق بابل کی زبانیں   : آرامی ، کلدانی ، سریانی ۔
شام کے علاقوں کی  زبانیں  : آرامی ، فینقی ، عبرانی ، تدمری ۔
اسی طرح  انہوں نے  عرب کی تمام قوموں کو  تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے :عرب بائدہ  ، عرب عرباء یعنی بنو قحطان اور عرب مستعربہ یعنی بنو اسماعیل یہ تینوں طبقے تین مختلف زبانیں  بولتے تھے ، یہ تینوں زبانیں اپنی اصلیت کے روسے عربی ہی   تھی ۔
اس کے ساتھ  انہوں نے عرب کو جغرافیائی لحاظ سے  دو حصوں میں  تقیسم کیا ہے ، جنوبی قبائل اور شمالی قبائل،   بنو قحطان جنوبی عرب کے باشندے تھے جبکہ بنو اسماعیل شمالی عرب کے  رہنے والے تھے ۔

  اس لحاظ سے  ان کی زبان بھی دو شاخوں میں تقسیم ہے ۔ جنوبی عربی او ر شمالی عربی،  ان دونوں میں کئی لحاظ سے  اختلاف ہے ۔  علماء  لسانیات نے ان تمام اختلافات کو مختلف قبائل کی بولیوں  کی طرف منسوب کیا  جیسے جنوبی بولیا یہ تھیں : سبائی،  حمیر ی ، حضرموتی ، مہری ، حبشی ، وغیرہ ،  ان میں سے اکثر بولیاں   نزول قرآن تک بو لی جاتی تھیں ۔ گو بعد کو  حبشی تغیر  کے بعد ایک مستقل زبان بن گئی ۔ شمالی زبانوں کی حدود تدمر ( شام کے قریب ) اور حیرہ (عراق کے قریب ) سے شروع ہوتے ہیں ان کی حسب ذیل شاخیں ہیں  تدمری ، نبطی ، حجازی ، ان میں بھی  الفاظ حروف معانی اور قواعد کا باہم فرق ہے ، دو پہلی زبانوں میں آرامی کا اثر زیادہ نمایا ں ہے تدمری قرآن کی عربی سے الفاظ میں بہت  مختلف  ہے ۔  بلکہ عبرانی کےقریب قریب ہے ۔ نبطی جو اصحاب الحجر کی زبان تھی وہ قرآن کی عربی سے بہت قریب ہے ، نبطی خط بھی قدیم عربی خط  سے مشابہ ہے ۔
 جنوبی اور شمالی زبانوں کے چند اہم  اختلافات حسب ذیل ہیں ۔
1۔ الفاظ کا فرق ، بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو جنوبی زبانوں میں مستعمل ہیں وہ شمالی میں نہیں مثلا : المقہ : چاند  ، عرم : بند ، مزندن : لوح ۔
2۔ معانی میں فرق : لفظ ایک ہے لیکن معنی میں تخصیص ، تعمیم یا کسی اور قسم کا فرق ہے مثلا  ذو : جنوبی میں بادشاہ اور شمالی میں اس کے معنی ہیں والا ۔ بیت  قلعہ جبکہ شمالی میں  گھر کے لے  بولا جاتا ہے حضر : شہر اور شمالی میں  مستقل آبادی کو کہتے ہیں ۔
3۔ قواعد کا فرق : مثلا شمالی عرب میں علامت جمع " ن " ہے جنوبی میں " م "  شمالی عربی میں  حرف تعریف" الف" ہے جنوبی میں " میم " ۔

ان زبانوں میں ہر ایک کے قواعد صرف اور نحو و لغت پر ماہرین نے  متعدد کتابیں لکھی ہیں ، چند مشہور  اختلافات  مثلا  یہ کہ شمالی عرب  کے "س" کو جنوبی عرب میں " ت  "او ر" کا ف "کر دیتے تھے جیسے "ناس "کو" نات" اور" علیک "کو "علیش" الف لام تعریف کی جگہ الف میم ، طاب الھوا کی جگہ وہ طاب المھوا اسی طرح  حرف کو کم کردینا،  ماشاء اللہ کو  مشاء اللہ  کہنا ۔
قرآن مجید میں سبائی  حمیر ی زبان  کا ایک لفظ" عرم " سبا کے قصہ میں آیا ہے  حبشی کے کئی لفظ جو  عرب کے عیسائیوں میں اس سبب سے مستعمل تھے کہ جنوبی عرب میں عیسائیت وہیں سے  آئی تھی اس لے  قرآن مجید کی مذہبی زبان میں بھی وہی الفاظ چلے آئے ۔ مثلا : نفاق ، صحف ، برھان ، جیت ، مرج ، مائدہ ، مشکوۃ ، سورۃ ، حواری ، تبع ، استبرق ، ورق  وغیر ہ ۔


نزول قرآن کے وقت عربی زبان اپنے عروج کو پہنچی ہوئی تھی لیکن اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ اس کی ابتدا کس طرح ہوئی  اور کن کن مرحلوں سے گذر کر موجودہ حالت تک پہنچی؟ کیسے پہنچی؟ ان تمام حالات اور عوامل کا جائزہ لینا  مشکل ہے البتہ بعض مستشرقین اور ماہرین  آثار قدیمہ نے یمن شام اور شمالی حجاز  کے  دریافت شدہ  کتبوں سے قدیم عربی زبان سے متعلق بہت سی باتیں معلوم کرلی ہیں ان کتبوں اور نقوش کو قبائل کے  لہجوں کے اختلاف سے  تین گروہوں میں تقسیم کیا  گیا :

1۔ جنوبی عربی لہجہ : اس کے کتبے یمن کے علاقہ قتبان ، معین ، اور سبا  میں ملے ہیں ۔
2۔ شمالی عربی لہجہ : اس کے کتبے حجاز کے شمال میں ثمود کے رہنے کی جگہوں میں ملے ہیں ۔
3۔ آرامی نبطی لہجہ : یہ لہجے مذکورہ بالا لہجوں کے مقابلہ میں نئے ہیں ان لہجوں کے  رسم الخط میں بڑا اختلاف ہے جس سے انداز ہو تا ہے کہ ان سب زبانوں کے   رسم الخط  اور بولیوں میں  اختلاف ہے لیکن بعد  میں یہ اختلاف ختم ہوکر  ایک صاف ستھرا  شیریں لہجہ وجود میں آیا یقنیا  قرآن اسی لہجہ کی طرف عربی مبین  یا بلساقومہ سے اشارہ کر تا ہے ۔ جیسے ابھی ذکر ہوا ہے ۔
عرب قبائل  کے چند مشہور  لہجوں کی  مثالیں یہ ہیں :

1۔ جیسے قبیلہ مازن" ک" کو بدل "ب "کر دیتے تھے اور" ب "کو بدل کر" م "کردیتے تھے " مااسمک" کی جگہ  "باسمک"  اور" بکر " کی جگہ" مکر "بولتے تھےقبیلہ خشعم اورزبید "من"  حرف جار کے" نون "کو حذف کردیتے اور" خرجت من البیت" کی جگہ" خرجت ملبیت" کہتے تھے ۔ آج بھی مصر اور لبنان میں یہ لہجہ معروف ہے ۔
3۔ قبیلہ قضاعہ  عین کے بعدی  ہو تو اس کو ج سے بدل دیتے جیسے  راعی کی جگہ راعج ، قضاعہ والے الراعی خرج معی کو الراعج خرج معج کہتے تھے ، حمیر والے ال کی جگہ ام بولتے تھے جیسے البر کو امبر الصیام کو امصیام یا طاب الھوا کو طاب امھوا کہتے ۔
4۔ قبیلہ ہذیل ح کو ع سے بدل  دیتے  جیسے احل اللہ الحلال  کو اعل اللہ العلال کہتے اسی طرح الحسن کو العسن  کہتے قبیلہ تمیم لفظ کے ابتدائی ہمزہ کو عین سے بدل دیتے جیسے امان کو عمال ان کو عن کہتے تھے ۔
5۔ قبیلہ ربیعہ اور اسد مونث حاضر کے "ک "کو" ش" سے بدل دیتے تھے "علیک "کی جگہ "علیش" کہتے تھے یا عام " ک" کو " ش  "پڑھتے علیک کی جگہ علیش،  قبیلہ طئے آخری حرف کو حذف کردیتے جیسےیا  ابا الحسن کی جگہ یا ابا الحسا کہتے    ۔
6۔ بنو تمیم ہمزہ ابتداء کو عین کر دیتے تھے ، جیسے" اسلم "کو "عسلم "
7۔ بنو ہذیل ج کو عین کردیتے تھے جیسے" جرب"  کو "عرب  "
8۔ بنو قضاعہ ی کو جیم کردیتے تھے جیسے " تمیمی "  تمیمج "
9۔ بنو سعد ع کو ن کہتے تھے جیسے"  اعطی" کو" انطی "
10۔ قریش اور اسد کی زبان میں ہائے مضارع کو فتحہ  یا ضمہ ہو تا ہے  ان کے علاوہ دیگر قبائل کسرہ دیتے تھے ،  یَفعل کو   یِفعل  کہتےتھے ۔
11۔ ربیعہ اور مضر مونث میں کاف خطاب کے بعد ش بڑھا دیتے تھے جیسے " علیک " کی جگہ " علیش "
12۔ ج کو " گ " بولتے تھے یسے جبعہ کو گبعہ ۔
ان اختلافات کے علاوہ شاذ منفرد لغات جو عربی فلسفۂ لغت کی کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ بھی ان ہی زبانوں  کے بقایا ہیں ان ہی وجوہ سے لغویین عرب کا قول ہے ؛ ان  لغۃ العرب  لم تنتہ الینا بکلیتھا و ان الذی جاءنا عن العرب قلیل عن کثیر وان کثیر ا من الکلام  ذھب بذھاب اھلہ ( مزھر سیوطی : ص 43 مصر )
"عرب کی زبان ہم تک مکمل صورت میں نہیں پہنچی جو عربی کے الفاظ ہمارے پاس محفوظ ہیں وہ غیر محفوظ کے مقابلہ میں کم ہیں بہت سے الفاظ ان کے بولنے والوں کےساتھ مرجا نے سے  مٹ چکے ہیں ۔ " 
     اسی طرح شمالی عرب کے مختلف قبائل میں لہجہ تلفظ  اور الفاظ کی حرکات میں اختلاف تھا ، چنانچہ اوائل نزول قرآن تک یہ اختلاف موجود تھے  اس لیے  شعراء عرب کے وہ قصائد اور اشعار جو نزول قرآن سے پہلے سو دوسو  برس کے اندر لکھے گئے ۔ قرآن کی زبان اور جو  اس عہد کے  شعراء کے کلام کی زبان  میں زمین آسمان کا فرق ہے ہم قرآن  کے ایک ایک لفظ کا ترجمہ آسانی سے  کر سکتے ہیں ۔ شعرائے جاہلیت کے  کلام کے حل کرنے کے لئے قدم قدم پر لغت کی ضرورت پیش آتی ہے ۔
شمالی لہجہ جنوبی لہجہ کے مقابلے میں قدرے نیا  تھا ہمارے پا س قدیم جاہلی شعراء  کا کلام اسی عدنانی لہجہ میں ہے جیسے الاعشی اور طرفہ بن العبید قبیلہ تغلب سے تھے النابغہ الذبیانی اور عنترہ بن شداد العبسی قبیلہ مضر سے تھے یہ دونوں قبیلے عدنانی تھے بعض محققین کا یہ استدلال معقول لگتا ہے کہ عدنانی زبان اپنی اصل سامی کے زیادہ قریب ہے اس کی  دلیل محققین کے خیال میں  یہ ہے کہ یہ قبائل دیگر اہل زبان جیسے عبرانی بابلی اور اشوری کی طرح کبھی کسی کے غلام نہیں  بنے، صحراء نشین ہونے کی وجہ سے حملہ آوروں کی دست درازی سے بچے رہے ۔
عربی زبان میں لاکھوں الفاظ ہیں   آج تک کبھی استعمال میں نہیں آئے اور نہ قرآن  و حدیث میں مستعمل ہوئے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ مختلف قبائل کی زبانوں کے الفاظ کا ایک مخلوط مجموعہ ہے جو قرآن کی عربی کے ماورا ہے ۔ اہل لغت اور مصنفین صرف و نحو نے  ان اختلافات کو بہت کم محفو ظ رکھا ، کتاب سیبویہ ، خصائص ابن جنی ، اوضح المسالک ، مزہر سیوطی میں    شاذ اور خلاف قواعد یا قیاس کے نام  سے ان  شواہد کا تذکرہ ملتاہے   وہ درحقیقت قرآن کی عربی کے قواعد کے خلاف ہوں تو ہوں لیکن اصل عربی زبان  کے وہ خلاف نہ ہوں گے ۔  عام نحو کی کتابوں میں صرف ذو کے متعلق یہ بیان باقی رہ گیا ہے کہ وہ لغت طی میں الذی کے معنی میں ہے ۔
یہ زبان تمام شمالی عرب میں  یمن سے لے کر شام و عراق تک بولی جاتی تھی لیکن حجاز اور نجد کی زبان سب سے بہتر تھی او ر ان میں بھی قبیلہ بنی سعد اور قریش کی زبان اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ان دوقبیلوں کے انتساب پر فخر کیا ہے ۔ آپ ﷺ قریش میں پیدا ہوئے تھے اور بنو سعد میں پرورش پائی تھی ۔
قرآن کریم سے جو باتیں عربی زبان نزول قرآن  کے بارے میں  معلوم ہوتی ہیں  یہ ہیں :
1۔ تمام رسولوں کو رسالت کا پیغام اپنی ا پنی کی قومی زبان میں عطا کیا گیا ۔  اسی طرح  محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی ، ان کی اپنی قومی زبان عربی میں رسالت کا پیغام دیا گیا ۔ ( إبراهيم: ٤)
2۔ قرآن کی زبان عربی مبین ہے ۔  (النحل: ١٠٣)
3۔ قرآن کو آپ ﷺ کی زبان پر یا آپ ﷺ کی زبان کے ذریعے آسان بنادیا گیا ۔ (مريم: ٩٧)
4۔ قرآن رب العالمین کا اتاراہوا ہے ، اس کو عربی زبان میں  لیکر روح امین(جبریل ؑ)  نازل ہوئے۔ ( الشعراء: ١٩٢ – ٢٠٠)
5۔  قرآن نبی پاک کے قلب اطہر پر اتارا گیا  ۔( الشعراء: ١٩٢ – ٢٠٠)
6۔  قرآن کو عجمی زبان میں نہیں اتارا گیا ۔(النحل: ١٠٣، الشعراء: ١٩٢ – ٢٠٠)
7۔ قرآن عربی لسان میں ہے ۔  (الأحقاف: ١٢)
8۔ نبی ﷺ کو قرآن  سن کر یاد کرنے کا حکم دیا گیا   اور زبان کو حرکت دینے سے منع کیا  گیا ہے۔ ( القيامة: ١٦ – ١٩)

9۔ قرآن کو جمع  اور بیان کرنے کی ذمہ  داری خود اللہ تعالی نے لی ہے ۔ ( القيامة: ١٦ – ١٩)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔