مدینہ کے ابتدائی دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مدینہ کے ابتدائی دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سورة الطَّلَاق : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : اس سورۃ کا نام ہی الطلاق نہیں ہے، بلکہ یہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے، کیونکہ اس طلاق ہی کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اسے سورۃ النساْ القصری بھی کہا ہے، یعنی چھوٹی سورۃ نساءْ۔

زمانۂ نزول :

حضرت عبداللہ بن مسعود نے  صراحت فرمائی ہے، اور سورۃ کے مضمون کی اندرونی شہادت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ اس کا نزول لازماً سورۃ بقرہ کی ان آیات کے بعد ہوا ہے جن میں طلاق کے احکام پہلی مرتبہ دیئے گئے تھے۔ اگرچہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اس کا زمانہ نزول کیا ہے لیکن بہر حال روایات سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جب سورۃ بقرہ کے احکام کو سمجھنے میں لوگ غلطیاں کرنے لگے، اور عملاً بھی ان سے غلطیوں کا صدور ہونے لگا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے یہ ہدایت نازل فرمائیں۔ 

موضوع اور مضمون :

اس سورۃ کے احکام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان ہدایات کو پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے جو طلاق اور عدت کے متعلق اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہوچکی ہیں : 

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ، فَاِمْسَکٌ بِمَعْرُوْ فٍ اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسِانٍ (البقرہ۔ 229) " طلاق دو بار ہے، پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے رخصت کردیا جائے " 

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُ وْ ءٍ۔۔۔۔۔ وَبُعُوْلَتُھُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّ ھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْا اِصْلَاحاً (البقرہ۔ 228 )۔ " اور مطلقہ عورتیں (طلاق کے بعد ) تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں ۔۔۔ اور ان کے شوہر اس مدت میں ان کو (اپنی زوجیت میں ) واپس لے لینے کے حق دار ہیں اگر وہ اصلاح پر آمادہ ہوں "۔ 

فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ بَعْدُ حَتٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہٗ۔۔۔۔۔۔۔ (البقرہ۔ 130)۔ 

" پھر اگر وہ (تیسری بار) اس کو طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ اس عورت کا نکاح کسی اور سے ہوجائے ۔۔۔ "۔ 

اِذٰا نَکَحْتُمُ الْمُؤٰمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَالَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَھَا (الاحزاب۔ 49)۔ " جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرسکو "۔ 

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْ نَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْ نَ اَزْوَاجاً یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرِ وَّ عَشْراً (البقرہ۔234)۔ " اور تم میں سے جو لوگ مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار مہینے دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں "۔ 

ان آیات میں جو قواعد مقرر کیے گئے تھے وہ یہ تھے : 

1)۔ ایک مرد زیادہ سے زیادہ اپنی بیوی کو تین طلاق دے سکتا ہے۔ 

2)۔ ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا حق رہتا ہے اور عدت گزر جانے کے بعد وہی مرد و عورت پھر نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، اس کے لیے تحلیل کی کوئی شرط نہیں ہے۔ لیکن اگر مرد تین طلاقیں دے دے تو عدت کے اندر رجوع کا حق ساقط ہوجاتا ہے، اور دوبارہ نکاح بھی اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہ ہوجائے اور وہ کبھی اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے دے۔ 

3)۔ مدخولہ عورت، جس کو حیض آتا ہو، اس کی عدت یہ ہے کہ اسے طلاق کے بعد تین مرتبہ حیض آ جائے۔ ایک طلاق یا دو طلاق کی صورت میں اس عدت کے معنی یہ ہیں کہ عورت ابھی تک اس شخص کی زوجیت میں ہے اور وہ عدت کے اندر اس سے رجوع کرسکتا ہے۔ لیکن اگر مرد تین طلاق دے چکا ہو تو یہ عدت رجوع کی گنجائش کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اس لیے ہے کہ اس کے ختم ہونے سے پہلے عورت کسی اور شخص سے نکاح نہیں کرسکتی۔ 

4)۔ غیر مدخولہ عورت، جسے ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے، اس کے لیے کوئی عدت نہیں ہے۔ وہ چاہے تو طلاق کے بعد فوراً نکاح کرسکتی ہے۔ 

5)۔ جس عورت کا شوہر مر جائے اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ 

اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سورۃ طلاق ان قواعد میں سے کسی قاعدے کو منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے، بلکہ دو مقاصد کے لیے نازل ہوئی ہے۔ 

ایک یہ کہ مرد کو طلاق کا جو اختیار دیا گیا ہے اسے استعمال کرنے کے ایسے حکیمانہ طریقے بتائے جائیں جن سے حتی الامکان علیٰحدگی کی نوبت نہ آنے پائے، اور علیٰحدگی ہو تو بدرجہ آخر ایسی حالت میں ہو جبکہ باہمی موافقت کے سارے امکانات ختم ہوچکے ہوں۔ کیونکہ خدا کی شریعت میں طلاق کی گنجائش صرف ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر رکھی گئی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس بات کو سخت ناپسند فرماتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان جو ازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہو وہ پھر کبھی ٹوٹ جائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ مَا احَلَ اللہ شیئاً ابغض الیہ من الطلاق۔ " اللہ نے کسی ایسی چیز کو حلال نہیں کیا ہے جو طلاق سے بڑھ کر اسے ناپسند ہو " (ابو داؤد)۔ اور ابغض الحلال الی اللہ عزّ و جَل الطلاق۔ " تمام حلال چیزوں میں اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے "۔ (ابو داؤد)۔ 

دوسرا مقصد یہ ہے کہ سورۃ بقرہ کے احکام کے بعد جو مزید مسائل جواب طلب باقی رہ گئے تھے ان کا جواب دے کر اسلام کے عائلی قانون کے اس شعبہ کی تکمیل کر دی جائے۔ اس سلسلے میں یہ بتایا گیا ہے کہ جن مدخولہ عورتوں کو حیض آنا بند ہوگیا ہو، یا جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو، طلاق کی صورت میں ان کی عدت کیا ہوگی۔ اور جو عورت حاملہ ہو اسے اگر طلاق دے دی جائے یا اس کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت کی مدت کیا ہے۔ اور مختلف قسم کی مطلقہ عورتوں کے نفقہ اور سکونت کا انتظام کس طرح کیا جائے ۔

( تفہیم القرآن ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

سورة التَّغَابُن : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت نمبر 9 کے فقرے ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُن سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ سورۃ جس میں لفظ تغابن آیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :

مقاتل اور کَلْبی کہتے ہیں کہ اس کا کچھ حصہ مکی ہے اور کچھ مدنی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ابتدا سے آیت 13 تک مکی ہے اور آیت 14 سے آخر سورۃ تک مدنی۔ مگر مفسرین کی اکثریت پوری سورۃ کو مدنی قرار دیتی ہے۔ اگرچہ اسمیں کوئی اشارہ ایسا نہیں پایا جاتا جس سے اس کا زمانہ نزول متعین کیا جاسکتا ہو، لیکن مضمون کلام پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً یہ مدینہ طیبہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہوگی۔ اسی وجہ سے اس میں کچھ رنگ مکی سورتوں کا سا اور کچھ مدنی سورتوں کا سا پایا جاتا ہے۔ 

موضوع اور مضمون :

اس سورۃ کا موضوع ایمان و طاعت کی دعوت اور اخلاق حسنہ کی تعلیم ہے۔ کلام کی ترتیب یہ ہے کہ پہلی چار آیتوں کا خطاب تمام انسانوں سے ہے، پھر آیت 5 سے 10 تک ان لوگوں سے خطاب کیا گیا ہے جو قرآن کی دعوت کو نہیں مانتے، اور اس کے بعد نمبر 11 سے آخر تک کی آیات کا روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس دعوت کو مانتے ہیں۔ 

تمام انسانوں کو خطاب کر کے چند مختصر فقروں میں انہیں چار بنیادی حقیقتوں سے آگاہ کیا گیا ہے : 

اول یہ کہ یہ کائنات، جس میں تم رہتے ہو، بےخدا نہیں ہے بلکہ اس کا خالق اور مالک اور فرمانروا ایک ایسا قادر مطلق خدا ہے جس کے کامل اور بےعیب ہونے کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز دے رہی ہے۔ 

دوسرے یہ کہ یہ کائنات بےمقصد اور بےحکمت نہیں ہے بلکہ اس کے خالق نے اسے سراسر بر حق پیدا کیا ہے۔ یہاں اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ یہ ایک فضول تماشا ہے جو عبث ہی شروع ہوا اور عبث ہی ختم ہوجائے گا۔ 

تیسرے یہ کہ تمہیں جس بہترین صورت کے ساتھ خدا نے پیدا کیا ہے اور پھر جس طرح کفر و ایمان کا اختیار تم پر چھوڑ دیا ہے، یہ کوئی لا حاصل اور لایعنی کام نہیں ہے کہ تم خواہ کفر اختیار کرو یا ایمان، دونوں صورتوں میں اس کا کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہو۔ در اصل خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ تم اپنے اس اختیار کو کس طرح استعمال کرتے ہو۔ 

چوتھے یہ کہ تم غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ نہیں ہو۔ آخر کار تمہیں اپنے خالق کی طرف پلٹ کر جانا ہے اور اس ہستی سے تمہیں سابقہ پیش آنا ہے جو کائنات کی ہر چیز سے واقف ہے، جس سے تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہیں، جس پر دلوں کے چھپے ہوئے خیالات تک روشن ہیں۔ 

کائنات اور انسان کی حقیقت کے بارے میں یہ چار بنیادی باتیں بیان کرنے کے بعد کلام کا رخ ان لوگوں کی طرف مڑتا ہے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، اور انہیں تاریخ کے اس منظر کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے جو پوری انسانی تاریخ میں مسلسل نظر آتا ہے کہ قوموں پر قومیں اٹھتی ہیں اور بالآخر تباہی سے دوچار ہوتی ہیں۔ انسان اپنی عقل سے اس منظر کی ہزار توجہیں کرتا رہا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت بتاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قوموں کی تباہی کے بنیادی اسباب صرف دو تھے : 

ایک یہ کہ اس نے جن رسولوں کو ان کی ہدایت کے لیے بھیجا تھا، ان کی بات ماننے سے انہوں نے انکار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بھی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ خود ہی اپنے فلسفے گھڑ گھڑ کر ایک گمراہی سے دوسری گمراہی میں بھٹکتی چلی گئیں۔ 

دوسرے یہ کہ انہوں نے آخرت کے عقیدے کو بھی رد کردیا اور اپنے زعم میں یہ سمجھ لیا کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے جس میں ہی اپنے خدا کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہو۔ اس چیز نے ان کے پورے رویہ زندگی کو بگاڑ کر رکھ دیا اور ان کے اخلاق و کردار کی گندگی اس حد تک بڑھتی چلی گئی کہ آخر کار خدا کے عذاب ہی نے آ کر دنیا کو ان کے وجود سے پاک کیا۔ 

تاریخ انسانی کے یہ دو سبق آموز حقائق بیان کر کے منکرین حق کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہوش میں آئیں اور اگر پچھلی قوموں کا سا انجام نہیں دیکھنا چاہتے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور ہدایت پر ایمان لے آئیں جو اللہ نے قرآن مجید کی صورت میں نازل فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آخر کار وہ دن آنے والا ہے جب تمام اولین و آخرین ایک جگہ جمع کیے جائیں گے اور تم میں سے ہر ایک کا غبن سب کے سامنے کھل جائے گا۔ پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمام انسانوں کی قسمت کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا کہ ایمان و عمل صالح کی راہ کس نے اختیار کی تھی، اور کفر و تکذیب کی رہ پر کون چلا تھا۔ پہلا گروہ ابدی جنت کا حق دار ہوگا اور دوسرے گروہ کے حصے میں دائمی جہنم آئے گی۔ 

اس کے بعد ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کو مخاطب کر کے چند اہم ہدایات انہیں دی جاتی ہیں : 

ایک یہ کہ دنیا میں جو مصیبت بھی آتی ہے، اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ ایسے حالات میں جو شخص ایمان پر ثابت قدم رہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، ورنہ گھبراہٹ یا جھنجلاہٹ میں مبتلا ہو کر جو آدمی ایمان کی راہ سے ہٹ جائے، اس کی مصیبت تو اللہ کے اذن کے بغیر دور نہیں ہو سکتی، البتہ وہ ایک اور مصیبت، جو سب سے بڑی مصیبت ہے، مول لے لیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا دل اللہ کی ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ '

دوسرے یہ کہ مومن کا کام صرف ایمان لے آنا ہی نہیں ہے بلکہ ایمان لانے کے بعد اسے عملاً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اطاعت سے اگر وہ رو گردانی اختیار کرے گا تو اپنے نقصان کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق پہنچا کر بری الذمہ ہوچکے ہیں۔ 

تیسرے یہ کہ مومن کا اعتماد اپنی طاقت یا دنیا کی کسی طاقت پر نہیں بلکہ صرف اللہ پر ہونا چاہیے۔ 

چوتھے یہ کہ مومن کے لیے اس کا مال اور اس کے اہل و عیال ایک بہت بڑی آزمائش ہیں کیونکہ زیادہ تر انہی کی محبت انسان کو ایمان و طاعت کی راہ سے منحرف کرتی ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو اپنے اہل و عیال سے ہوشیار رہنا چاہیے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کے حق میں راہ خدا کے رہزن نہ بننے پائیں، اور انہیں اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے تاکہ ان کا جنس زر پر ستی کے فتنوں سے محفوظ رہے۔ 

پانچویں یہ کہ ہر انسان اپنی استطاعت کی حد تک ہی مکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کرے۔ البتہ مومن کو جس بات کی کوشش کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اپنی حد تک خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے میں وہ کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور اس کی گفتار، کردار اور معاملات اس کی اپنی کوتاہی کے باعث حدود اللہ سے متجاوز نہ ہوجائیں ۔

------------------------------------------------

( تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )


سورة الصَّف: زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : چوتھی آیت کے فقرے یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہ صَفّاً سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ صف آیا ہے۔ 

زمانہ نزول :

کسی معتبر روایت سے اس کا زمانہ نزول معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ غالباً جنگ احد کے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے بین السطور میں جن حالات کی طرف اشارہ محسوس ہوتا ہے وہ اسی دور میں پائے جاتے تھے۔ 

موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع ہے مسلمانوں ایمان میں اخلاص اختیار کرنے اور اللہ کی راہ میں جان لڑانے پر ابھارنا۔ اس میں ضعیف الایمان مسلمانوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے، اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان کا جھوٹا دعویٰ کر کے اسلام میں داخل ہوگئے تھے، اور ان کو بھی جو مخلص تھے۔ بعض آیات کا خطاب پہلے دونوں گروہوں سے ہے، بعض میں صرف منافقین مخاطب ہیں، اور بعض کا روئے سخن صرف مخلصین کی طرف ہے۔ انداز کلام سے خود معلوم ہوجاتا ہے کہ کہاں کون مخاطب ہے۔ 

آغاز میں تمام ایمان لانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہایت مبغوض ہیں وہ لوگ جو کہیں کچھ اور کریں کچھ، اور نہایت محبوب ہیں وہ لوگ جو راہ حق میں لڑنے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ 

پھر آیت 5 سے 7 تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے رسول اور اپنے دین کے ساتھ تمہاری روش وہ نہ ہونی چاہیے جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بنی اسرائیل نے اختیار کی۔ حضرت موسیٰ کو وہ خدا کا رسول جاننے کے باوجود جیتے جی تنگ کرتے رہے، اور حضرت عیسیٰ سے کھلی کھلی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود وہ ان کو جھٹلانے سے باز نہ آئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس قوم کے مزاج کا سانچہ ہی ٹیڑھا ہو کر رہ گیا اور اس سے ہدایت کی توفیق سلب ہوگئے۔ یہ کوئی ایسی قابل رشک حالت نہیں ہے کہ کوئی دوسری قوم اس میں مبتلا ہونے کی تمنا کرے۔ 

پھر آیت 8۔9 میں پوری تحدی کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور ان سے ساز باز رکھنے والے منافقین اللہ کے اس نور کو بجھانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کرلیں، یہ پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا میں پھیل کر رہے گا اور مشرکین کو خواہ کتنا ہی ناگوار ہو، رسول برحق کا لایا ہوا دین ہر دوسرے دین پر غالب آ کر رہے گا۔ 

اس کے بعد آیات 10 سے 13 میں اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرو۔ آخرت میں اس کا ثمرہ خدا کے عذاب سے نجات، گناہوں کی مغفرت، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کا حصول ہے، اور دنیا میں اس کا انعام خدا کی تائید و نصرت اور فتح و ظفر ہے۔ 

آخر میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے اللہ کی راہ میں ان کا ساتھ دیا تھا اس طرح وہ بھی " انصار اللہ " بنیں تاکہ کافروں کے مقابلہ میں ان کو بھی اسی طرح اللہ کی تائیش حاصل ہو جس طرح پہلے ایمان لانے والوں کو حاصل ہوئی تھی۔


( تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 

سورة الْحَشْر: زمانہ نزول، موضوع اور مضامین - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : دوسری آیت کے فقرے اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِھِمْ لِاَ وَّلِ الْحَشْرِ سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ الحشر آیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :

بخاری و مسلم میں حضرت سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے سورۃ حشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ غزوہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس طرح سورۃ انفال غزوہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت سعید بن جبیر کی دوسری روایت میں ابن عباس (رض) کے الفاظ یہ ہیں کہ : قل سورۃ النَّضِیْر یعنی یوں کہو کہ یہ سورۃ نضیر ہے۔ یہی بات مجاہد، قتادہ، زہری، ابن زید، یزید بن رومان، محمد بن اسحاق وغیرہ حضرات سے بھی مروی ہے۔ ان سب کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اس میں جن اہل کتاب کے نکالے جانے کا ذکر ہے ان سے مراد بنی النضیر ہی ہیں۔ یزید بن رومان، مجاہد اور محمد بن اسحاق کا قول یہ ہے کہ از اول تا آخر یہ پوری سورۃ اسی غزوہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ 

اب رہا یہ سوال کہ یہ غزوہ کب واقع ہوا تھا ؟ امام زہری نے اس کے متعلق عرہ بن زبیر کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ جنگ بدر کے چھ مہینے بعد ہوا ہے۔ لیکن ابن سعد، ابن ہشام اور بَلَاذُرِی اسے ربیع الاول 4 ہجری کا واقعہ بتاتے ہیں، اور یہی صحیح ہے۔ کیونکہ تمام روایات اس امر میں متفق ہیں یہ غزوہ بِئر مَعُونَہ کے سانحہ کے بعد پیش آیا تھا، اور یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بئَر معونہ کا سانحہ جنگ احد کے بعد رونما ہوا ہے نہ کہ اس سے پہلے۔ 

تاریخی پس منظر :

اس سورۃ کے مضامین کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مدینہ طیبہ اور حجاز کے یہودیوں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے، کیونکہ اس کے بغیر آدمی ٹھیک ٹھیک یہ نہیں جان سکتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخر کار ان کے مختلف قبائل کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کے حقیقی اسباب کیا تھے۔ 

عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑ سکے۔ اور عرب سے باہر کے یہودی مؤرخین و مصنفین نے ان کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آ کر وہ اپنے بقیہ ابنائے ملت سے بچھڑ گئے تھے، اور دنیا کے یہودی سرے سے ان کو اپنوں میں شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتیٰ کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کرلی تھی۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں ان میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہود عرب کی تاریخ کا بیشتر انحصار ان زبانی روایات پر ہے جو اہل عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھا خاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلا ہوا تھا۔ 

حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آخر عہد میں یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اس کا قصہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت موسیٰ نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عمالقہ کو نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں، بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آ کر فرمان نبی کی تعمیل کی، مگر عمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوبصورت جوان تھا، اسے انہوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے فلسطین واپس پہنچے۔ اس وقت حضرت موسیٰ کا انتقال ہوچکا تھا۔ ان کے جانشینوں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعت موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بنا پر انہوں نے اس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کردیا، اور اسے مجبوراً یثرب واپس آ کر یہیں بس جانا پڑا (کتاب الاغانی، ج 19، ص 94)۔ اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ 12 سو برس قبل مسیح سے یہاں آباد ہیں۔ لیکن در حقیقت اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہل عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔ 

دوسری یہودی مہاجرت، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق 587 قبل مسیح میں ہوئی جبکہ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتر بتر کردیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آ کر وادی القریٰ، تیماء اور یثرب میں آباد ہوگئے تھے (فُتُوح البلدان، البلاذری)۔ لیکن اس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ 

درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب 70 عیسوی میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا، اور پھر 132 میں انہیں اس سر زمین سے بالکل نکال باہر کیا، اس دور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آ کر انہوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے، وہاں ٹھہر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سود خواری کے ذریعہ سے ان پر قبضہ جما لیا۔ ایلہ، مقنا، تبوک، تیماء، وادی القریٰ، خدک، اور خیبر پر ان کا تسلط اسی دور میں قائم ہوا۔ اور بنی قرَیظہ، بنی نضیر، بنی یہدَل، اور بنی قینُقَاع بھی اسی دور میں آ کر یثرب پر قابض ہوئے۔ 

یثرب میں آباد ہونے والے قبائل میں سے بنی نضیر اور بنی قریظہ زیادہ ممتاز تھے، کیونکہ وہ کاہنوں (Priests) یا (Co hens) کے طبقہ میں سے تھے، انہیں یہودیوں میں عالی نسب مانا جاتا تھا اور ان کو اپنی ملت میں مذہبی ریاست حاصل تھی۔ یہ لوگ جب مدینہ میں آ کر آباد ہوئے اس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو انہوں نے دبا لیا اور عملاً اس سرسبز و شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ اس کے تقریباً تین صدی بعد 450 ء یا 451 میں یمن کے اس سیلاب عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورۃ سبا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے قوم سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے غسانی شام میں، لخمی جبرہ (عراق) میں، بنی خزاعہ جدہ و مکہ کے درمیان، اور اوس و خزرج یثرب میں جا کر آباد ہوئے۔ یثرب پر چونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے، اس لیے انہوں نے اول اول اوس و خزرج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چار و ناچار بنجر زمینوں پر بس گئے جہاں ان کو قوت لایموت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا۔ آخر کار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غسانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر اس نے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اوس، و خزرج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہوگیا۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے، بنی نضیر اور بنی قریظہ شہر کے باہر جا کر بسنے پر مجبور ہوگئے۔ تیسرے قبیلے بنی قَلْینقاع کی چونکہ ان دونوں قبیلوں سے اَن بَن تھی اس لیے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا، مگر یہاں رہنے کے لیے اسے قبیلہ خزرج کی پناہ لینی پڑی۔ اور اس کے مقابلہ میں بنی نضیر و بنی قریظہ نے قبیلہ اوس کی پناہ لی تاکہ اطراف یثرب میں امن کے ساتھ رہ سکیں۔ ذیل کے نقشہ سے واضح ہوگا کہ اس نئے انتظام کے ماتحت یثرب اور اس کے نواح میں یہودی بستیاں کہاں کہاں تھیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے، آغاز ہجرت تک، حجاز میں عموماً اور یثرب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایاں خد و خال یہ تھے : 

زبان، لباس، تہذیب، تمدن، ہر لحاظ سے انہوں نے پوری طرح عربیت کا رنگ اختیار کرلیا تھا، حتیٰ کہ ان کی غالب اکثریت کے نام تک عربی ہوگئے تھے۔ 12 یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے، ان میں سے بنی زَعُوراء کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ ان کے چند گنے چنے علماء کے سوا کوئی عبرانی جانتا تک نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کے یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے ان کی زبان اور خیالات اور مضامین میں شعرائے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انہیں ممیز کرتی ہو۔ ان کے اور عربوں کے درمیان شادی بیاہ تک کے تعلقات قائم ہوچکے تھے۔ در حقیقت ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا۔ لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے، اور انہوں نے شدت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیت برقرار رکھی تھی۔ یہ ظاہری عربیت انہوں نے صرف اس لیے اختیار کی تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں نہ رہ سکتے تھے۔ 

ان کی اس عربیت کی وجہ سے مغربی مستشرقین کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ شاید یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے، یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔ لیکن اس امر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ یہودیوں نے حجاز میں کبھی کوئی تبلیغی سرگرمی دکھائی ہو، یا ان کے علماء نصرانی پادریوں اور مشنریوں کی طرح اہل عرب کو دین یہود کی طرف دعوت دیتے ہوں۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ اہل عرب کو وہ اُمّی (Gentiles) کہتے تھے، جس کے معنی صرف ان پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان امیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلیوں کے لیے حلال و طیب ہے۔ سرداران عرب کے ماسوا، عام عربوں کو وہ اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ انہیں دین یہود میں داخل کر کے برابر کا درجہ دے دیں۔ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، نہ روایات عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرور ملتا ہے جو یہودی ہوگئے تھے۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجائے صرف اپنے کاروبار سے دلچسپی تھی۔ اسی لیے حجاز میں یہودیت ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض چند اسرائیلی قبیلوں کا سرمایہ فخر و ناز ہی بنی رہی۔ البتہ یہودی علماء نے تعویذ گنڈوں اور فال گیر اور جادوگری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا جس کی وجہ سے عربوں پر ان کے " علم " اور " عمل " کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ 

معاشی حیثیت سے ان کی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ چونکہ وہ فلسطین و شام کے زیادہ متمدن علاقوں سے آئے تھے، اس لیے وہ بہت سے ایسے فنون جانتے تھے جو اہل عرب میں رائج نہ تھے۔ اور باہر کی دنیا سے ان کے کاروباری تعلقات بھی تھے۔ ان وجوہ سے یثرب اور بالائی حجاز میں غلے کی در آمد اور یہاں سے چھوہاروں کی برآمد ان کے ہاتھ میں آگئی تھی۔ مرغ بانی اور ماہی گیری پر بھی زیادہ تر انہی کا قبضہ تھا۔ پارچہ بانی کا کام بھی ان کے ہاں ہوتا تھا۔ جگہ جگہ میخانے بھی انہوں نے قائم کر رکھے تھے جہاں شام سے شراب لا کر فروخت کی جاتی تھی۔ بنی قینقاع زیادہ تر سنار اور لوہار اور ظروف سازی کا پیشہ کرتے تھے۔ اس سارے بَنَج بیوپار میں یہ یہودی بےتحاشا منافع خوری کرتے تھے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کاروبار سود خواری کا تھا جس کے جال میں انہوں نے گرد و پیش کی عرب آبادیوں کو پھانس رکھا تھا، اور خاص طور پر عرب قبائل کے شیوخ اور سردار، جنہیں قرض لے لے کر ٹھاٹھ جمانے اور شیخی بگھارنے کی بیماری لگی ہوئی تھی، ان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ یہ بھاری شرح سود پر قرضے دیتے، اور پھر سود در سود کا چکر چلاتے تھے جس کی گرفت میں آ جانے کے بعد مشکل ہی سے کوئی نکل سکتا تھا۔ اس طرح انہوں نے عربوں کو معاشی حیثیت سے کھوکھلا کر رکھا تھا، مگر اس کا فطری نتیجہ یہ بھی تھا کہ عربوں میں بالعموم ان کے خلاف ایک گہری نفرت پائی جاتی تھی۔ 

ان کے تجارتی اور مالی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ عربوں میں کسی کے دوست بن کر کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ لیکن دوسری طرف ان کے مفاد ہی کا تقاضا یہ بھی تھا کہ عربوں کو باہم متحد نہ ہونے دیں، اور انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں، کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ جب بھی عرب قبیلے باہم متحد ہوئے، وہ ان بڑی بڑی جائدادوں اور باغات اور سرسبز زمینوں پر انہیں قابض نہ رہنے دیں گے جو انہوں نے اپنی منافع خوری اور سود خواری سے پیدا کی تھیں۔ مزید برآں اپنی حفاظت کے لیے ان کے ہر قبیلے کو کسی نہ کسی طاقتور عرب قبیلے سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کرنے پڑتے تھے، تاکہ کوئی دوسرا زبردست قبیلہ ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اس بنا پر بارہا انہیں نہ صرف ان عرب قبائل کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا، بلکہ بسا اوقات ایک یہودی قبیلہ اپنے حلیف عرب قبیلہ کے ساتھ مل کر کسی دوسرے یہودی قبیلے کے خلاف جنگ آزما ہوجاتا تھا جس کے حلیفانہ تعلقات فریق مخالف سے ہوتے تھے۔ یثرب میں بنی قریظہ اور بنی نضیر اوس کے حلیف تھے اور بنی قینقاع خزرج کے۔ ہجرت سے تھوڑی مدت پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جو خونریز لڑائی بُعاث کے مقام پر ہوئی تھی اس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔ 

یہ حالات تھے جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ آپ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اولین کام کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اوس اور خزرج اور مہاجرین کو ملا کر ایک برادری بنائی، اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی تھی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے۔ اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن امور کی پابندی قبول کی تھی : 

ان علی الیھود نفقتھم و علی المسلمین نفقتھم، وان بینھم النصر علیٰ من حارب اھل ھٰذہ الصحیفۃ، وان بینہم النصح والنصیحۃ والبر دون الاثم، وانہ لم یاثم امرؤٌ بحلیفہ، وان النصر للمظلوم، وان الیھود ینفقون مع المؤمنین ماداموا محاربین، وان یثرب حرام جوفھا لاھل ھٰذہ الصحیفۃ ……… وانہ ما کان بین اھل ھٰذہ الصحیفۃ من حَدَثٍ او اشتجار یخاف فسادہ فان مردہ الی اللہ عزو جل و الیٰ محمد رسول اللہ ……… وانہ لا تجار قریش ولا من نصرھا، وان بینھم النصر علی من دھم یثرب۔ علی کل اناس حصتہم من جانبھم الذی قِبَلَھم۔ (ابن ہشام، ج 2، ص 147 تا 150 )

" یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا، اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اٹھائیں گے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے، ………… اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکاء معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے ……… ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا۔ 

یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کردیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے۔ 

ایک یہ کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محض ایک رئیس قوم دیکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کر کے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے مگر انہوں نے دیکھا کہ آپ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود ان کے اپنے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا) اور معصیت چھوڑ کر ان احکام الہیٰ کی اطاعت اختیار کرنے اور ان اخلاقی حدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیاء بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی۔ ان کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ یہ عالمگیر اصولی تحریک اگر چل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا۔ 

دوسرے یہ کہ اوس و خزرج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر، اور یہ دیکھ کر کہ گرد و پیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اس اسلامی برادری میں شامل ہو کر ایک ملت بنتے جا رہے ہیں، انہیں یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انہوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا الو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی وہ اب اس نئے نظام میں نہ چل سکے گی بلکہ اب ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ 

تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدن کی جو اصلاح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کر رہے تھے اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سد باب شامل تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سود کو بھی آپ ناپاک کمائی اور حرام خوری قرار دے رہے تھے جس سے انہیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپ کی فرمانروائی قائم ہوگئی تو آپ اسے قانوناً ممنوع کر دیں گے۔ اس میں ان کو اپنی موت نظر آتی تھی۔ 

ان وجوہ سے انہوں نے حضور کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔ آپ کو زک دینے کے لیے کوئی چال، کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا۔ وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بد گمان ہوجائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے تاکہ وہ اس دین سے بر گشتہ ہوجائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے تھے تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جا سکیں۔ فتنے بر پا کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔ ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا۔ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔ اوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کے ہدف تھے جن سے ان کے مدت ہائے دراز کے تعلقات چلے آ رہے تھے۔ جنگ بعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہوجائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا۔ مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا، ان میں سے جونہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتے تھے۔ اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کر کے اس کے ناک میں دم کر دیتے، اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا، اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے اس لیے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔ اس کی متعدد مثالیں تفسیر طبری تفسیر نیسابوری، تفسیر طبرسی اور تفسیر روح المعانی میں سورۃ آل عمران، آیت 75 کی تشریح کرتے ہوئے نقل کی گئی ہیں۔ 


معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کرچکے تھے۔ مگر جب بدر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اٹھے اور ان کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی۔ اس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں یہ افواہیں اڑانی شروع کر دی تھیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے، اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی، اور اب ابوجہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے۔ لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔ بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ " خدا کی قسم اگر محمد نے ان اشراف عرب کو قتل کردیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے "۔ پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سرداران قریش مارے گئے تھے ان کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔ پھر مدینہ واپس آ کر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کے ساتھ عشق کیا گیا تھا۔ آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ربیع الاول 3 ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا (ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ طبری)۔ 


یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑ دیا، بنی قینقاع تھا، یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے اور چونکہ یہ سنار، لوہار اور ظروف ساز تھے، اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کثرت سے جانا آنا پڑتا تھا۔ ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔ آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔ سات سو مردان جنگی ان کے اندر موجود تھے۔ اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خزرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبداللہ بن ابی ان کا پشتی بان تھا۔ بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا، اور خاص طور پر ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو بر سر عام برہنہ کردیا گیا۔ اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہوگیا۔ جب حالات اس حد کو پہنچ گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی۔ مگر انہوں نے جواب دیا " اے محمد، تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انہیں مار لیا۔ ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔ " یہ گویا صاف صاف اعلان جنگ تھا۔ آخر کار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شوال (اور بروایت بعض ذی القعدہ) 2 ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کرلیا۔ صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبداللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کر دیں۔ چنانچہ حضور نے اس کی درخواست قبول کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلات صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں (ابن سعد، ابن ہشام، تاریخ طبری)۔ ان دو سخت اقدامات (یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ مگر اس کے بعد شوال 3 ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ کر آئے، اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں، اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں، تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوئے، حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب معرکہ احد میں مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچا تو ان کی جرأتیں اور بڑھ گئیں، یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہوگئی اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ (صفر 4 ھ) کے بعد عمرو بن امیہ ضمری نے انتقامی کارروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا جو دراصل ایک معاہِلہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون بہا مسلمانوں پر واجب آگیا تھا، اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے، اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خون بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔ وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے جس کی دیوار کے سائے میں آپ تشریف فرما تھے۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بر وقت خبردار کردیا، اور آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ 

اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔ حضور نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی وہ میرے علم میں آ گئی ہے۔ لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ، اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھہرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا۔ اس کی گردن مار دی جائے گی۔ دوسری طرف عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا، بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کو آئیں گے، تم ڈٹ جاؤ اور ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔ اس جھوٹے بھروسے پر انہوں نے حضور کے الٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے، آپ سے جو کچھ ہو سکے کر لیجیے۔ اس پر ربیع الاول 4 ھ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا محاصرہ کرلیا، اور صرف چند روز کے محاصرہ کے بعد (جس کی مدت بعض روایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آئی ہے ) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہوگئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کرلے جا سکیں گے لے جائیں گے۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینہ کی سر زمین خالی کرالی گئی۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہو کر یہاں ٹھہر گئے۔ باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔

یہی واقعہ ہے جس سے اس سورۃ میں بحث کی گئی ہے۔ 

موضوع اور مضامین :

سورۃ کا موضوع، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جنگ بنی نضیر پر تبصرہ ہے۔ اس میں بحیثیت مجموعی چار مضامین بیان ہوئے ہیں۔ 

(1)۔ پہلی چار آیتوں میں دنیا کو اس انجام سے عبرت دلائی گئی ہے جو ابھی ابھی بنی نضیر نے دیکھا تھا۔ ایک بڑا قبیلہ جس کے افراد کی تعداد اس وقت مسلمانوں کی تعداد سے کچھ کم نہ تھی، جو مال و دولت میں مسلمانوں سے بہت بڑھا ہوا تھا، جس کے پاس جنگی سامان کی بھی کمی نہ تھی، جس کی گڑھیاں بڑی مضبوط تھیں، صرف چند روز کے محاصرے کی تاب بھی نہ لاسکا اور بغیر اس کے کہ کسی ایک آدمی کے قتل کی بھی نوبت آئی ہوتی وہ اپنی صدیوں کی جمائی بستی چھوڑ کر جلا وطنی قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ مسلمانوں کی طاقت کا کرشمہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے نبرد آزما ہوئے تھے اور جو لوگ اللہ کی طاقت سے ٹکرانے کی جرأت کریں وہ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ 

(2)۔ آیت 5 میں قانون جنگ کا یہ قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ جنگی ضروریات کے لیے دشمن کے علاقے میں جو تخریبی کارروائی کی جائے وہ فساد فی الارض کی تعریف میں نہیں آتی۔ 

(3)۔ آیت 6 سے 10 تک یہ بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کی زمینوں اور جائدادوں کا بندوبست کس طرح کیا جائے جو جنگ یا صلح کے نتیجے میں اسلامی حکومت کے زیر نگیں آئیں۔ چونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ ایک مفتوحہ علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اس لیے یہاں اس کا قانون بیان کردیا گیا۔ 

(4)۔ آیت 11 سے 17 تک منافقین کے اس رویہ پر تبصرہ کیا گیا ہے جو انہوں نے جنگ بنی نضیر کے موقع پر اختیار کیا تھا، اور ان اسباب کی نشان دہی کی گئی ہے جو در حقیقت ان کے اس رویہ کی تہہ میں کام کر رہے تھے۔ 

(5)۔ آخری رکوع پورا ایک نصیحت ہے جس کے مخاطب وہ تمام لوگ ہیں جو ایمان کا دعویٰ کر کے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے ہوں، مگر ایمان کی اصل روح سے خالی رہیں۔ اس میں ان کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل تقاضا کیا ہے، تقویٰ اور فسق میں حقیقی فرق کیا ہے، جو قرآن کو ماننے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے، اور جس خدا پر ایمان لانے کا وہ اقرار کرتے ہیں وہ کن صفات کا حامل ہے۔
---------------------------------------------------

( تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 

سورة مُحَمَّد : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :آیت نمبر 2 کے فقرے " وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ " سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اسم گرامی آیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا ایک اور مشہور نام " قتال " بھی ہے جو آیت 20 کے فقرے "وَّذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ" سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :

اس کے مضامین یہ شہادت دیتے ہیں کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں اس وقت نازل ہوئی جب جنگ کا حکم تو دیا جا چکا تھا مگر ابھی جنگ عملا شروع ہوئی نہ تھی۔

تاریخی پس منظر :

جس زمانے میں یہ سورت نازل ہوئی ہے اس وقت صورتحال یہ تھی کہ مکہ معظمہ میں خاص طور پر اور عرب کی سرزمین میں بالعموم ہر جگہ مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا تھا۔ مسلمان ہر طرف سے سمٹ کر مدینہ طیبہ کے دارالامان میں جمع ہوگئے تھے، مگر کفار قریش یہاں بھی ان کو چین سے بیٹھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ مدینے کی چھوٹی سی بستی ہر طرف سے کفار کے نرغے میں گھری ہوئی تھی اور وہ اسے مٹا دینے پر تلے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے لیے اس حالات میں دو ہی چارہ کار باقی رہ گئے تھے۔ یا تو وہ دین حق کی دعوت و تبلیغ ہی سے نہیں بلکہ اس کی پیروی تک سے دست بردار ہو کر جاہلیت کے آگے سپر ڈال دیں، یا پھر مرنے مارنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور سر دھڑ کی بازی لگا کر ہمیشہ کے لیے اس امر کا فیصلہ کر دیں کہ عرب کی سرزمین میں اسلام کو رہنا ہے یا جاہلیت کو۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر مسلمانوں کو اسی عزیمت کی راہ دکھائی جو اہل ایمان کے لیے ایک ہی راہ ہے۔ اس نے پہلے سورۃ حج (آیت 39) میں ان کو جنگ کی اجازت دی، اور پھر سورۃ بقرہ (آیت 190) میں اس کا حکم دے دیا۔ مگر اس وقت ہر شخص جانتا تھا کہ ان حالات میں جنگ کے معنی کیا ہیں۔ مدینے میں اہل ایمان کی ایک مٹھی بھر جمعیت تھی جو پورے ایک ہزار مردان جنگی بھی فراہم کرنے کے قابل نہ تھی، اور اس سے کہا جا رہا تھا کہ سارے عرب کی جاہلیت سے ٹکرا جانے کے لیے تلوار لے کر کھڑی ہوجائے۔ پھر لڑائی کے لیے جس سروسامان کی ضرورت تھی وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ایک ایسی ہستی مشکل سے ہی فراہم کرسکتی تھی جس کے اندر سینکڑوں بےخانماں مہاجر ابھی پوری طرح بسے بھی نہ تھے اور چاروں طرف سے اہل عرب نے معاشی مقاطعہ کر کے اس کی کمر توڑ رکھی تھی۔

موضوع اور مضمون :

یہ حالات تھے جن میں یہ سورت نازل فرمائی گئی۔ اس کا موضوع اہل ایمان کو جنگ کے لیے تیار کرنا اور ان کو اس سلسلے میں ابتدائی ہدایات دینا تھا۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ قتال بھی رکھا گیا ہے۔ اس میں ترتیب وار حسب ذیل مضامین ارشاد ہوئے ہیں :
آغاز میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دو گروہوں کے درمیان مقابلہ درپیش ہے۔ ایک گروہ کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ حق کو ماننے سے انکار کرچکا ہے اور اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑا ہوگیا ہے اور دوسرے گروہ کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ اس حق کو مان گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک فیصلہ یہ ہے کہ پہلے گروہ کی تمام سعی و عمل کو اس نے رائیگاں کردیا اور دوسرے گروہ کے حالات درست کر دیے۔
اس کے بعد مسلمانوں کو ابتدائی جنگی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان کو اللہ کی مدد اور راہنمائی کا یقین دلایا گیا ہے۔ ان کو اللہ کی راہ میں قربانیاں کرنے پر بہترین اجر کی امید دلائی گئی ہے اور انہیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ راہ حق میں ان کی کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ دنیا سے لے کر آخرت تک وہ ان کا اچھے سے اچھا پھل پائیں گے۔
پھر کفار کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی تائید و راہنمائی سے محروم ہیں۔ ان کی کوئی تدبیر اہل ایمان کے مقابلے میں کارگر نہ ہوگی اور دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہت برا انجام دیکھیں گے۔
انہوں نے اللہ کے نبی کو مکہ سے نکال کر یہ سمجھا کہ انہیں بڑی کامیابی نصیب ہوئی ہے حالانکہ دراصل یہ کام کر کے انہوں نے اپنی تباہی کو خود اپنے اوپر دعوت دے دی۔
اس کے بعد منافقین کی طرف روئے سخن پھرتا ہے جو جنگ کا حکم آنے سے پہلے تو بڑے مسلمان بنے پھرتے تھے، مگر یہ حکم آ جانے کے بعد ان کے ہوش اڑ گئے تھے اور وہ اپنی عافیت کی فکر میں کفار سے ساز باز کرنے لگے تھے تاکہ اپنے آپ کو جنگ کے خطرات سے بچا لیں۔ ان کو صاف صاف خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے دین کے معاملے میں منافقت اختیار کرنے والوں کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔ یہاں تو بنیادی سوال جس پر تمام مدعیان ایمان کی آزمائش ہو رہی ہے یہ ہے کہ آدمی حق کے ساتھ ہے یا باطل کے ساتھ؟ اس کی ہمدردیاں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہیں یا کفر اور کفار کے ساتھ؟ وہ اپنی ذات اور اپنے مفاد کو عزیز رکھتا ہے یا اس حق کو جس پر ایمان لانے کا وہ دعوی کر رہا ہے؟ اس آزمائش میں جو شخص کھوٹا نکلتا ہے وہ مومن ہی نہیں ہے، کجا کہ اس کی نماز اور اس کا روزہ اور اس کی زکوٰۃ خدا کے ہاں کسی اجر کی مستحق ہو۔

پھر مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ اپنی قلت تعداد اور بےسروسامانی اور کفار کی کثرت اور ان کے سروسامان کی فراوانی دیکھ کر ہمت نہ ہاریں، ان کے آگے صلح کی پیشکش کر کے کمزوری کا اظہار نہ کریں جس سے ان کی جراتیں اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں اور زیادہ بڑھ جائیں، بلکہ اللہ کے بھروسے پر اٹھیں اور کفر کے اس پہاڑ سے ٹکرا جائیں۔ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے، وہی غالب رہیں گے اور یہ پہاڑ ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گا۔

آخر میں مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دی گئی ہے۔ اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی معاشی حالت بہت پتلی تھی، مگر سامنے مسئلہ یہ درپیش تھا کہ عرب میں اسلام اور مسلمانوں کو زندہ رہنا ہے یا نہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت و نزاکت کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمانوں اپنے آپ کو اور اپنے دین کو کفر کے غلبہ سے بچانے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی جانیں بھی لڑائیں اور جنگی تیاری میں اپنے مالی وسائل بھی پوری امکانی حد تک کھپا دیں۔ اس لیے مسلمانوں سے فرمایا گیا کہ اس وقت جو شخص بھی بخل سے کام لے گا وہ دراصل اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ خود اپنے آپ ہی کو ہلاکت کے خطرے میں ڈال لے گا۔ اللہ تو انسانوں کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے دین کی خاطر قربانیاں دینے سے ایک گروہ اگر جی چرائے گا تو اللہ اسے ہٹا کر دوسرا گروہ اس کی جگہ لے آئے گا۔
---------------------------
(تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

سورة الْاَنْفَال : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

زمانہ نزول :

یہ سورۃ سن ٢ ہجری میں جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی ہے اور اس میں اسلام و کفر کی اس پہلی جنگ پر مفصل تبصرہ کیا گیا ہے۔ جہاں تک سورۃ کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے، غالباً یہ ایک ہی تقریر ہے جو بیک وقت نازل فرمائی گئی ہوگی، مگر ممکن ہے کہ اس کی بعض آیات جنگ بدر ہی سے پیدا شدہ مسائل کے متعلق بعد میں اتری ہوں اور پھر ان کو سلسلہ تقریر میں مناسب جگہوں پر درج کر کے ایک مسلسل تقریر بنا دیا گیا ہو۔ بہر حال کلام میں کہیں کوئی ایسا جوڑ نظر نہیں آتا جس سے یہ گمان کیا جا سکے کہ یہ الگ الگ دو تین خطبوں کا مجموعہ ہے۔

تاریخی پس منظر :


قبل اس کے کہ اس سورۃ پر تبصرہ کیا جائے، جنگ بدر اور اس سے تعلق رکھنے والے حالات پر ایک تاریخی نگاہ ڈال لینی چاہیے۔


نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ابتدائی دس بارہ سال میں، جبکہ آپ مکہ معظمہ میں مقیم تھے، اس حیثیت سے اپنی پختگی و استواری ثابت کرچکی تھی کہ ایک طرف اس کی پشت پر ایک بلند سیرت، عالی ظرف اور دانشمند علمبردار موجود تھا جو اپنی شخصیت کا پورا سرمایہ اس کام میں لگا چکا تھا اور اس کے طرز عمل سے یہ حقیقت پوری طرح نمایاں ہوچکی تھی کہ وہ اس دعوت کو انتہائی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے اٹل ارادہ رکھتا ہے اور اس مقصد کی راہ میں ہر خطرے کو انگیز کرنے اور ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف اس دعوت میں خود ایسی کشش تھی کہ وہ دلوں اور دماغوں میں سرایت کرتی چلی جارہی تھی اور جہالت و جاہلیت اور تعصبات کے حصار اس کی راہ روکنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ اسی وجہ سے عرب کے پرانے نظام جاہلی کی حمایت کرنے والے عناصر، جو ابتداءً اس کو استخفاف کی نظر سے دیکھتے تھے، مکی دور کے آخری زمانہ میں اسے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھنے لگے تھے اور اپنا پورا زور اسے کچل دینے میں صرف کر دینا چاہتے تھے۔ لیکن اس وقت تک چند حیثیات سے اس دعوت میں بہت کچھ کسر باقی تھی :


اوّلاً: یہ بات ابھی پوری طرح ثابت نہیں ہوئی تھی کہ اس کو ایسے پیرووں کی ایک کافی تعداد بہم پہنچ گئی ہے جو صرف اس کے ماننے والے ہی نہیں ہیں، بلکہ اس کے اصولوں کا سچا عشق بھی رکھتے ہیں، اس کو غالب و نافذ کرنے کی سعی میں اپنی ساری قوتیں اور اپنا تمام سرمایہ زندگی کھپا دینے کے لیے تیار ہیں، اور اس کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کر دینے کے لیے، دنیا بھر سے لڑ جانے کے لیے، حتیٰ کہ اپنے عزیز ترین رشتوں کو بھی کاٹ پھینکنے کے لیے آمادہ ہیں۔ اگرچہ مکہ میں پیروان اسلام نے قریش کے ظلم و ستم برداشت کر کے اپنی صداقت ایمانی اور اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کی مضبوطی کا اچھا خاصا ثبوت دے دیا تھا، مگر ابھی یہ ثابت ہونے کے لیے بہت سی آزمائشیں باقی تھیں کہ دعوت اسلامی کو جانفروش پیرووں کا وہ گروہ میسر آگیا ہے جو اپنے نصب العین کے مقابلہ میں کسی چیز کو بھی عزیز تر نہیں رکھتا۔


ثانیاً: اس دعوت کی آواز اگرچہ سارے ملک میں پھیل گئی تھی، لیکن اس کے اثرات منتشر تھے، اس کی فراہم کردہ قوت سارے ملک میں پر اگندہ تھی، اس کو وہ اجتماعی طاقت بہم نہ پہنچی تھی جو پرانے جمے ہوئے نظام جاہلیت سے فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تھی۔


ثالثاً: اس دعوت نے زمین میں کسی جگہ بھی جڑ نہیں پکڑی تھی بلکہ ابھی تک وہ صرف ہوا میں سرایت کر رہی تھی۔ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں تھا جہاں وہ قدم جما کر اپنے موقف کو مضبوط کرتی اور پھر آگے بڑھنے کی سعی کرتی، اس وقت تک جو مسلمان جہاں بھی تھا اس کی حیثیت نظام کفر شرک میں بالکل ایسی تھی جیسے خالی معدے میں کُنِین، کہ معدہ ہر وقت اسے اگل دینے کے لیے زور لگا رہا ہو اور قرار پکڑنے کے لیے اس کو جگہ ہی نہ ملتی ہو۔


رابعاً: اس وقت تک اس دعوت کو عملی زندگی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے کر چلانے کا موقع نہیں ملا تھا۔ نہ یہ اپنا تمدن قائم کر سکی تھی، نہ اس نے اپنا نظام معیشت و معاشرت اور نظام سیاست مرتب کیا تھا اور نہ دوسری طاقتوں سے اس کے معاملات صلح و جنگ پیش آئے تھے۔ اس لیے نہ تو ان اخلاقی اصولوں کا مظاہرہ ہو سکا تھا جن پر یہ دعوت زندگی کے پورے نظام کو قائم کرنا اور چلانا چاہتی تھی، اور نہ یہی بات آزمائش کی کسوٹی پر اچھی طرح نمایاں ہوئی تھی کہ اس دعوت کا پیغمبر اور اس کے پیرووں کا گروہ جس چیز کی طرف دنیا کو دعوت دے رہا ہے اس پر عمل کرنے میں وہ خود کس حد تک راستباز ہے۔


بعد کے واقعات نے وہ مواقع پیدا کر دیے جن سے یہ چاروں کمیاں پوری ہوگئیں ۔


مکی دور کے آخری تین چار سالوں سے یثرب میں آفتاب اسلام کی شعاعیں مسلسل پہنچ رہی تھیں اور وہاں کے لوگ متعدد وجوہ سے عرب کے دوسرے قبیلوں کی بہ نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ اس روشنی کو قبول کرنے جا رہے تھے۔ آخر کار نبوت کے بارھویں سال حج کے موقع پر ٧٥ نفوس کا ایک وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رات کی تاریکی میں ملا اور اس نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول کیا بلکہ آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو اپنے شہر میں جگہ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ یہ اسلام کی تاریخ میں ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔ اہل یثرب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محض ایک پناہ گزیں کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا کے نائب اور اپنے امام و فرمانروا کی حیثیت سے بلا رہے تھے۔ اور اسلام کے پیروؤں کو ان کا بلاوا اس لیے نہ تھا کہ وہ ایک اجنبی سر زمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پا لیں، بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں وہ یثرب میں جمع ہو کر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم معاشرہ بنا لیں۔ اس طرح یثرب نے در اصل اپنے آپ کو ”مدینةالاسلام“ کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے قبول کر کے عرب میں پہلا دار الاسلام بنا لیا۔


اس پیش کش کے معنی جو کچھ تھے اس سے اہل مدینہ ناواقف نہ تھے۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹا سا قصبہ اپنے آپ کو پورے ملک کی تلواروں اور معاشی و تمدنی بائیکاٹ کے مقابلہ میں پیش کر رہا تھا۔ چنانچہ بیعتِ عَقَبہ کے موقع پر رات کی اس مجلس میں اسلام کے ان اولین مددگاروں (انصار) نے اس نتیجہ کو خوب اچھی طرح جان بوجھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا۔ عین اس وقت جبکہ بیعت ہو رہی تھی، یثربی وفد کے ایک نوجوان رکن اسعد بن زرارہ (رض) نے، جو پورے وفد میں سب سے کم سن شخص تھے اٹھ کر کہا :۔


رویدًایا اھل یثرب! اِنا لم نضرب الیہ اکباد الا بل الا و نحن نعلم انہ رسول اللہ، و ان اخراجہ الیوم مناوأة للعرب کافة، وقتل خیارکم، وتضکم السیوف۔ فاما انتم قوم تصبرون علیٰ ذٰلک فخذوہ و اجرہ علی اللہ، واما انتم قوم تخافون من انفسکم خیفة فذروہ فبینو ا ذٰلک فھوا عذرلکم عند اللہ۔


”ٹھہرو اے اہل یثرب ہم لوگ جو ان کے پاس آئے ہیں تو یہ سمجھتے ہوئے آئے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج انہیں یہاں سے نکال کرلے جانا تمام عرب سے دشمنی مول لینا ہے۔ اس کے نتیجہ میں تمہارے نونہال قتل ہوں گے اور تلواریں تم پر برسیں گی۔ لہٰذا اگر تمہیں اپنی جانیں عزیز ہیں تو پھر چھوڑ دو اور صاف صاف عذر کر دو کیونکہ اس وقت عذر کر دینا خدا کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہوسکتا ہے۔“


اسی بات کو وفد کے ایک دوسرے شخص عباس بن عبادہ بن نضلہ نے دوہرایا :


اتعلمون علام تبایعون ھٰذا الرجل؟ (قالو انعم، قال) انکم تبایعونہ علی حزب الاحمر و الاسود من الناس۔ فان کنتم ترون انکم اذا نھکت اموالکم مصیبة واشرافکم قتلا المتموہ فمن الاٰن فدعوہ، فھو واللہ ان فعلتم خزی الدنیا والاٰخرة و ان کنتم ترون انکم وافون لہ بنا دعو تموہ الیہ علی نھکة الاموال وقتل الاشراف فخذوہ، فھو و اللہ خیر الدنیا و الاٰخرة۔


”جانتے ہو اس شخص سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ (آوازیں، ہاں جانتے ہیں) تم اس کے ہاتھ پر بیعت کر کے دنیا بھر سے لڑائی مول لے رہے ہو۔ پس اگر تمہارا خیال یہ ہو کہ جب تمہارے مال تباہی کے اور تمہارے اشراف ہلاکت کے خطرے میں پڑجائیں تو تم اسے دشمنوں کے حوالے کر دو گے تو بہتر ہے کہ آج ہی سے اسے چھوڑ دو کیونکہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ہے۔ اور اگر تمہارا ارادہ یہ ہے کہ جو بلاوا تم اس شخص کو دے رہے ہو اس کو اپنے اموال کی تباہی اور اپنے اشراف کی ہلاکت کے باوجود تباہ ہوگے تو بےشک اس کا ہاتھ تھام لو کہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔“


اس پر تمام وفد نے بالا تفاق کہا فانا ناخذہ علیٰ مصیبة الاموال وقتل الاشراف۔


”ہم اسے لے کر اپنے اموال کو تباہی اور اپنے اشراف کو ہلاکت کے خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہیں“۔ تب وہ مشہور بیعت واقع ہوئی جسے تاریخ میں بیعت عَقَبہ ثانیہ کہتے ہیں ۔


دوسری طرف اہل مکہ کے لیے یہ معاملہ جو معنی رکھتا تھا۔ وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔ دراصل اس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو، جن کی زبردست شخصیت اور غیر معمولی قابلیتوں سے قریش کے لوگ واقف ہوچکے تھے، ایک ٹھکانا میسر آرہا تھا۔ اور ان کی قیادت و رہنمائی میں پیروان اسلام، جن کی عزیمت و استقامت اور فدائیت کو بھی قریش ایک حد تک آزما چکے تھے، ایک منظم جتھے کی صورت میں مجتمع ہوئے جاتے تھے۔ یہ پرانے نظام کے لیے موت کا پیغام تھا۔ نیز مدینہ جیسے مقام پر مسلمانوں کی اس طاقت کے مجتمع ہونے سے قریش کو مزید خطرہ یہ تھا کہ یمن سے شام کی طرف جو تجارتی شاہراہ ساحل بحر احمر کے کنارے کنارے جاتی تھی، جس کے محفوظ رہنے پر قریش اور دوسرے بڑے بڑے مشرک قبائل کی معاشی زندگی کا انحصار تھا، وہ مسلمانوں کی زد میں آجاتی تھی اور اس شہ رگ پر ہاتھ ڈال کر مسلمان نظام جاہلی کی زندگی دشوار کرسکتے تھے۔ صرف اہل مکہ کی وہ تجارت جو اس شاہراہ کے بل پر چل رہی تھی ڈھائی لاکھ اشرفی سالانہ تک پہنچتی تھی۔ طائف اور دوسرے مقامات کی تجارت اس کے ماسوا تھی۔


قریش ان نتائج کو خوب سمجھتے تھے۔ جس رات بیعت عقبہ واقع ہوئی اسی رات اس معالہ کی بھنک اہل مکہ کے کانوں میں پڑی اور پڑتے ہی کھلبلی مچ گئی۔ پہلے تو انھوں نے اہل مدینہ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توڑنے کی کوشش کی۔ پھر جب مسلمان ایک ایک دو دو کر کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اور قریش کو یقین ہوگیا کہ اب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وہاں منتقل ہوجائیں گے تو وہ اس خطرے کو روکنے کے لیے آخری چارہ کار اختیار کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ ہجرت نبوی سے چند ہی روز پہلے قریش کی مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں بڑی ردّ وکد کے بعد آخر کار یہ طے پا گیا کہ بنی ہاشم کے سوا تمام خانوادہ ہائے قریش کا ایک ایک آدمی چھانٹا جائے اور یہ سب لوگ مل کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کریں تاکہ بنی ہاشم کے لیے تمام خاندانوں سے تنہا لڑنا مشکل ہوجائے اور وہ انتقام کے بجائے خون بہا قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ لیکن خدا کے فضل اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعتماد علی اللہ اور حسن تدبیر سے ان کی یہ چال ناکام ہوگئی اور حضور بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔ اس طرح جب قریش کو ہجرت کے روکنے میں ناکامی ہوئی تو انھوں نے مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابی کو (جسے ہجرت سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانے کی تیاری کرچکے تھے اور جس کی تمناؤں پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ پہنچ جانے اور اوس و خزرَج کی اکثریت کے مسلمان ہوجانے سے پانی پھر چکا تھا) خط لکھا کہ ”تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے، ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ یا تو تم خود اس سے لڑو یا اسے نکال دو، ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے“۔ عبداللہ بن ابی اس پر کچھ آمادہ شر ہوا، مگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بر وقت اس کے شر کی روک تھام کر دی۔ پھر سعد بن معاذ رئیس مدینہ عمرے کے لیے مکہ گئے۔ وہاں عین حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو ٹوک کر کہا الا اراک تطوف بمکة اٰمنًا وقداویتم الصُباة وزعمتم انکم تنصرونھم وتعینونھم؟ لو لا انک مع ابی صفوان ما رجعت الیٰ اھلک سالمًا (تم تو ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو اور ان کی امداد و اعانت کا دم بھرو اور ہم تمہیں اطمینان سے مکہ میں طواف کرنے دیں؟ اگر تم اُمَیّہ بن خَلَف کے مہمان نہ ہوتے تو زندہ یہاں سے نہیں جا سکتے تھے)۔ سعد نے جواب میں کہا واللہ لئن منعتنی ھٰذا الا منعک ما ھوا شد علیک منہ، طریقک علی المدینة (بخدا اگر تم نے مجھے اس چیز سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سے روک دوں گا جو تمہارے لیے اس سے شدید تر ہے، یعنی مدینہ پر سے تمہاری رہ گذر)۔ یہ گویا اہل مکہ کی طرف سے اس بات کا اعلان تھا کہ زیارت بیت اللہ کی راہ مسلمانوں پر بند ہے، اور اس کا جواب اہل مدینہ کی طرف سے یہ تھا کہ شامی تجارت کا راستہ مخالفین اسلام کے لیے پر خطر ہے۔


اور فی الواقع اس وقت مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی تدبیر بھی نہ تھی کہ اس تجارتی شاہرہ پر اپنی گرفت مضبوط کریں تاکہ قریش اور وہ دوسرے قبائل جن کا مفاد اس راستہ سے وابستہ تھا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اپنی معاندانہ و مزاحمانہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور ہوجائیں۔ چنانچہ مدینہ پہنچتے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو خیز اسلامی سوسائٹی کے ابتدائی نظم و نسق اور اطراف مدینہ کی یہودی آبادیوں کے ساتھ معاملہ طے کرنے کے بعد سب سے پہلے جس چیز پر توجہ منعطف فرمائی وہ اسی شاہراہ کا مسئلہ تھا۔ اس مسئلے میں حضور نے دو اہم تدبیریں اختیار کیں ۔


ایک یہ کہ مدینہ اور ساحل بحر احمر کے درمیان اس شاہراہ سے متصل جو قبائل آباد تھے ان کے ساتھ گفت و شنید شروع کی تاکہ وہ حلیفانہ اتحاد یا کم از کم ناطرفداری کے معاہدے کرلیں۔ چنانچہ اس میں آپ کو پوری کامیابی ہوئی۔ سب سے پہلے جُہَینَہ سے، جو ساحل کے قریب پہاڑی علاقہ یننُع اور ذوالُعشَیرہ سے متصل تھا وفاعی معاونت (Defensivealliance) کی قرار داد ہوئی۔ پھر سن ٢ ہجری کے وسط میں بنی مدلِج بھی اس قرارداد میں شریک ہوگئے کیونکہ وہ بنی ضمرہ کے ہمسائے اور حلیف تھے۔ مزید برآں تبلیغ اسلام نے ان قبائل میں اسلام کے حامیوں اور پیرووں کا بھی ایک اچھا خاصا عنصر پیدا کردیا۔


دوسری تدبیر آپ نے یہ اختیار کی کہ قریش کے قافلوں کو دھمکی دینے کے یے اس شاہراہ پر پیہم چھوٹے چھوٹے دستے بھیجنے شروع کیے اور بعض دستوں کے ساتھ آپ خود بھی تشریف لے گئے۔ پہلے سال اس طرح کے چار دستے گئے جو مغازی کی کتابوں میں سَرِیّہَ حمزہ، سریہ عبیدہ بن حارث، سریہ سعد بن ابی وقاص اور غزوہ البواء کے نام سے موسوم ہیں ۔*1* اور دوسرے سال کے ابتدائی مہینوں میں دو میزید تاختیں اسی جانب کی گئیں جن کو اہل مغازی غزوہ بواط اور غزوہ ذوالعشیرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان تمام مہموں کی دوخصوصیتیں قابل لحاظ ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں سے کسی میں نہ تو کشت و خون ہوا اور نہ کوئی قافلہ لوٹا گیا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تاختوں کا اصل مقصود قریش کو ہوا کا رخ بتانا تھا۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے کسی تاخت میں بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کا کوئی آدمی نہیں لیا بلکہ تمام دستے خالص مکی مہاجریں سے ہی مرتب فرماتے رہے کہ تاکہ حتٰی الامکان یہ کشمکش قریش کے اپنے ہی گھر والوں تک محدود رہے اور دوسرے قبیلوں کے اس میں الجھنے سے آگ پھیل نہ جائے۔ ادھر سے اہل مکہ بھی مدینہ کی طرف غارت گرد سے بھیجتے رہے، چنانچہ انہی میں سے ایک دستے نے کرز بن جابر الفہری کی قیادت میں عین مدینہ کے قیرب ڈاکہ مارا اور اہل مدینہ کے مویشی لوٹ لیے۔ قریش کی کوشش اس سلسلہ میں یہ رہی کہ دوسرے قبیلوں کو بھی اس کشمکش میں الجھا دیں، نیز یہ کہ انہوں نے بات کو محض دھمکی تک محدود نہ رکھا بلکہ لوٹ مار تک نوبت پہنچا دی۔


حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ شعبان سن ٢ ہجری (فروری یا مارچ ٦٢٣ ء) میں قریش کا ایک بہت بڑا قافلہ، جس کے ساتھ تقریباً ٥٠ ہزاراشرفی کا مال تھا اور تیس چالیس سے زیادہ محافظ نہ تھے، شام سے مکہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقہ میں پہنچا جو مدینہ کی زد میں تھا۔ چونکہ مال زیادہ تھا، محافظ کم تھے، اور سابق حالات کی بنا پو خطرہ قوی تھا کہ کہیں مسلمانوں کا کوئی طاقتور دستہ اس پر چھاپہ نہ مار دے، اس لیے سردار قافلہ ابو سفیان نے اس پُر خطر علاقہ میں پہنچتے ہی ایک آدمی کو مکہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ وہاں سے مدد لے آئے۔ اس شخص نے مکہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے مطابق اپنے اونٹ کے کام کاٹے، اس کی ناک چیر دی، کجادے کو الٹ کر رکھ دیا اور اپنا قمیص آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کردیا کہ : یا معشر قریش! اللطیمہ الطیمہ، اموالکم مع ابع سفیان قد عرض لھا محمد فی اصحابہ، لا اریٰ ان تدرکوھا، الغوث، الغوث، (قریش والو! اپنے قافلہ تجارت کی خبر لو، تمہارے مال جو ابوسفیان کے ساتھ ہیں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے آدمی لے کر ان کے در پے ہوگیا ہے، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پا سکو گے، دوڑو دوڑو مدد کے لیے)۔ اس پر سارے مکہ میں ہیجان بر پا ہوگیا۔ قریش کے تمام بڑے بڑے سردار جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ تقریباً ایک ہزار مردان جنگی جن میں سے ٦٠٠ زرہ پوش تھے اور جن میں ١٠٠ سواروں کا رسالہ بھی شامل تھا، پوری شان و شوکت کے ساتھ لڑنے کے لیے چلے۔


ان کے پیش نظرصرف یہی کام نہ تھا کہ اپنے قافلے کو بچا لائیں بلکہ وہ اس ارادے سے نکلے تھے کہ اس آئے دن کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں، اور مدینہ میں یہ مخالف طاقت جو ابھی نئی نئی مجتمع ہوئی شروع ہوئی ہے اسے کچل ڈالیں، اور اس نواح کے قبائل کو اس حد تک مرعوب کر دیں کہ آئندہ کے لیے یہ تجارتی راستہ بالکل محفوظ ہوجائے۔


اب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے، جو حالات سے ہمیشہ باخبر رہتے تھے، محسوس فرمایا کہ فیصلہ کی گھڑی آپہنچی ہے اور یہ ٹھیک وہ وقت ہے جبکہ ایک جسورانہ اقدام اگر نہ کر ڈالا گیا تو تحریک اسلامی ہمیشہ کے لیے بےجان ہوجائے گی، بلکہ بعید نہیں کہ اس تحریک کے لیے سر اٹھانے کا پھر کوئی موقع ہی باقی نہ رہے نئے دارالہجرت میں آئے ابھی پورے دوسال بھی نہیں ہوئے ہیں۔ مہاجرین بےسروسامان، انصار ابھی ناآزمودہ، یہودی قبائل برسر مخالفت، خود مدینہ میں منافقین و مشرکین کا ایک اچھا خاصا طاقتور عنصر موجود، اور گردوپیش کے تمام قبائل قریش سے مرعوب بھی اور مذہباً ان کے ہمدرد بھی، ایسے حالات میں اگر قریش مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں تو ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن اگر وہ حملہ نہ کریں اور صرف اپنے زور سے قافلے کو بچا کر ہی نکال لے جائیں اور مسلمان دبکے بیٹھے رہیں تب بھی یک لخت مسلمانوں کی ایسی ہوا اکھڑے گی کہ عرب کا بچہ بچہ ان پر دلیر ہوجائے گا اور ان کے لیے ملک بھر میں پھر کوئی جائے پناہ باقی نہ رہے گی۔ آس پاس کے سارے قبائل قریش کے اشاروں پر کام کرنا شروع کردیں گے۔ مدینہ کے یہودی اور منافقین و مشرکین علی الاعلان سر اٹھائیں گے اور دارالہجرت میں جینا مشکل کر دیں گے۔ مسلمانوں کا کوئی رعب واثر نہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے کسی کو ان کی جان، مال اور آبرو پر ہاتھ ڈالنے میں تامل ہو۔ اس بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عزم فرمالیا کہ جو طاقت بھی اس وقت میسر ہے اسے لے کر نکلیں اور میدان میں فیصلہ کریں کہ جینے کا بل بوتا کس میں ہے اور کس میں نہیں ہے۔


اس فیصلہ کن اقدام کا ارادہ کر کے آپ نے انصار و مہاجری کو جمع کیا اور ان کے سامنے ساری پوزیشن صاف صاف رکھ دی کہ ایک طرف شمال میں تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف جنوب سے قریش کا لشکر چلا آرہا ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک تمہیں مل جائے گا، بتاؤ تم کس کے مقابلہ پر چلنا چاہتے ہو؟ جواب میں ایک بڑے گروہ کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہوا کہ قافلے پر حملہ کیا جائے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش نظر کچھ اور تھا اس لیے آپ نے اپنا سوال دہرایا۔ اس پر مہاجرین میں سے مقداد بن عمرو نے اٹھ کر کہا یا رسول اللہ ! امض لما امرک اللہ، فانا معک حیثما احببت، لا نقول لک کما قال بنوا سرائیل لموسٰی اذھب انت وربک فقاتلا انا ھٰھُنا قاعدون، وٰلِکن اذھب انت وربک فقاتلا انا معکما مقاتلون مادامت عین منا تطرف۔ ”یا رسول اللہ، جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اسی طرف چلیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں جس طرف بھی آپ جائیں۔ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا دونوں لڑیں، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں ہم کہتے ہیں چلیے آپ اور آپ کا خدا، دونوں لڑیں اور ہم آپ کے ساتھ جانیں لڑائیں گے جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے۔“ مگر لڑائی کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا، کیونکہ ابھی تک فوجی اقدامات میں ان سے کوئی مدد نہیں لی گئی تھی اور ان کے لیے یہ آزمائش کا پہلا موقع تھا کہ اسلام کی حمایت کا جو عہد انہوں نے اول روز کیا تھا اسے وہ کہاں تک نباہنے کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براہ راست ان کو مخاطب کیے بغیر پھر اپنا سوال دہرایا۔ اس پر سعد بن معاذ اٹھے اور انہوں نے عرض کیا شاید حضور کا روئے سخن ہماری طرف ہے؟ فرمایا ہاں۔ انہوں نے کہا لقداٰمنا بک وصدقناک و شھدنا ان ماجئت بہ ھو الحق و اعطیناک عھودنا و مواثیقنا علی السّمع و الطاعة۔ فامض یا رسول اللہ لما اردت۔ فوالذی بعثک بالحق لو استعرضت بنا ھٰذا البحر فخضتَہ لخضناہ معک وما تخلف منا رجل واحد۔ ومانکرہان تلقی بنا عدونا غدًا انا لنصبر عندالحرب صُدُقٌ عند اللقآء ولعل اللہ یریک منا مانقر بہ عینک فسر بنا علیٰ برکة اللہ۔”ہم آپ پر ایمان لائے ہیں، آپ کی تصدیق کرچکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ سے سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں۔ پس اے اللہ کے رسول، جو کچھ آپ نے ارادہ فرما لیا ہے اسے کر گزریے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ ہمیں لے کر سامنے سمندر پر جا پہنچیں اور اس میں اتر جائیں تو ہم آپ کے ساتھ کر دیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا بھڑیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے، مقابلہ میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اللہ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھوادے جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہمیں لے چلیں ۔“


ان تقریروں کے بعد فیصلہ ہوگیا کہ قافلہ کے بجائے لشکر قریش ہی کے مقابلہ پر چلنا چاہیے۔ لیکن یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا۔ جو لوگ اس تنگ وقت میں لڑائی کے لیے اٹھے تھے ان کی تعداد ٣ سو سے کچھ زاہد تھی (٨٦ مہاجرم، ٦١ قبیلہ اوس کے اور ١٧٠ قبیلہ خزرج کے ) جن میں صرف دو تین کے پاس گھوڑے تھے اور باقی آدمیوں کے لیے ١٧٠ اونٹوں سے زیادہ نہ تھے جن پر تین تین چار چار اشخاص باری باری سے سوار ہوتے تھے۔ سامان جنگ بھی بالکل ناکافی تھا۔ صرف ٦٠ آدمیوں کے پاس زرہیں تھیں۔ اسی لیے چند سر فروش فدائیوں کے سوا اکثر آدمی جو اس خطر ناک مہم میں شریک تھے دلوں میں سہم رہے تھے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جانتے بوجھتے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ مصلحت پرست لوگ جو اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے مگر ایسے ایمان کے قائل نہ تھے جس میں جان و مال کا زیاں ہو، اس مہم کو دیوانگی سے تعبیر کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دینی جذبے نے ان لوگوں کو پاگل بنا دیا ہے۔ مگر نبی اور مومنین صادقین سمجھ چکے تھے کہ یہ وقت جان کی بازی لگانے ہی کا ہے اس لیے اللہ کے بھروسے پر وہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے سیدھی جنوب مغرب کی راہ لی جدھر سے قریش کا لشکر آرہا تھا۔ حالانکہ اگر ابتدا میں قافلے کو لوٹنا مقصود ہوتا تو شمال مغرب کی راہ لی جاتی۔ *2*

١٧ رمضان کو بدر کے مقام پر فریقین کا مقابلہ ہوا۔ جس وقت دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ تین کافروں کے مقابلے میں ایک مسلمان ہے اور وہ بھی پوری طرح مسلح نہیں ہے، تو خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے اور انتہائی خضوع وتضرع کے ساتھ عرض کرنا شروع کیا اللھم ھٰذہ قریش قد اتت بخیلائھا تحاول ان تکذب رسولک، اللھم فنصرک الذی وعدتنی، اللھم ان تھلک ھٰذہ العصابة الیوم لا تعبد”خدایا، یہ ہیں قریش، اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں، خداوند ! بس اب آجائے تیری وہ مدد جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، اے خدا اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہوگی۔“

اس معرکہ کار زار میں سب سے زیادہ سخت امتحان مہاجرین مکہ کا تھا جن کے اپنے بھائی بند سامنے صف آرا تھے۔ کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا چچا، کسی کا ماموں، کسی کا بھائی اس کی تلوار کی زد میں آ رہا تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کاٹنے پڑ رہے تھے۔ اس کڑی آزمائش سے صرف وہی لوگ گزر سکتے تھے جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ حق سے رشتہ جوڑا ہوا ور باطل کے ساتھ سارے رشتے قطع کر ڈالنے پر تل گئے ہوں۔ اور انصار کا امتحان بھی کچھ کم سخت نہ تھا۔ اب تک تو انہوں نے عرب کے طاقتور ترین قبیلے، قریش اور اس کے حلیف قبائل کی دشمنی صرف اسی حد تک مول لی تھی کہ ان کے علی الرغم مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دے دی تھی۔ لیکن اب تو وہ اسلام کی حمایت میں ان کے خلاف لڑنے بھی جا رہے تھے جس کے معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹی سی بستی جس کی آبادی چند ہزار نفوس سے زیادہ نہیں ہے، سارے ملک عرب سے لڑائی مول لے رہی ہے۔ یہ جسارتے صرف وہی لوگ کرسکتے تھے جو کسی صداقت پر ایسا ایمان لے آئے ہوں کہ اس کی خاطر اپنے ذاتی مفاد کی انہیں ذرہ برابر پرواہ نہ رہی ہو۔ آخر کار ان لوگوں کی صداقت ایمانی خدا کی طرف سے نصرت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور قریش اپنے سارے غرور طاقت کے باوجود ان بےسرو سامان فدائیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے، ٧٠ قید ہوئے اور ان کا سروسامان غنیمت میں مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار جوان کے گلہائے سرِسَبَد اور اسلام کی مخالفت تحریک کے روح رواں تھے اس معرکہ میں ختم ہوگئے اور اس فیصلہ کن فتح عرب میں اسلام کو ایک قابل لحاظ طاقت بنا دیا۔ جیسا کہ ایک مغربی محقق نے لکھا ہے”بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا، مگر بدر کے بعد وہ مذہب ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا“۔

مباحث :


یہ ہے وہ عظیم الشان معرکہ جس پر قرآن کی اس سورۃ میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ مگر اس تبصرے کا انداز تمام ان تبصروں سے مخطلف ہے جو دنیوی بادشاہ اپنی فوج کی فتحیابی کے بعد کیا کرتے ہیں ۔

اس میں سب سے پہلے ان خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو اخلاق حیثیت سے ابھی مسلمانوں میں باقی تھیں تاکہ آئندہ اپنی مزید تکمیل کے لیے سعی کریں ۔


پھر ان کو بتایا گیا ہے کہ اس فتح میں تائید الہٰی کا کتنا بڑا حصہ تھا تاکہ وہ اپنی جرأت و شہامت پر نہ پھولیں بلکہ خدا پر توکل اور خدا کے رسول کی اطاعت کا سبق لیں ۔


پھر اس اخلاقی مقصد کو واضح کیا گیا ہے جس کے لیے مسلمانوں کو یہ معرکہ حق و باطل برپا کرنا ہے اور ان اخلاقی صفات کی توضیح کی گئی ہے جن سے اس معرکہ میں انہیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔


پھر مشرکین اور منافقین اور یہود اور ان لوگوں کو جو جنگ میں قید ہو کر آئے تھے، نہایت سبق آموز انداز میں خطاب کیا گیا ہے۔


پھر ان اموال کے متعلق، جو جنگ میں ہاتھ آئے تھے، مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ انہیں اپنا مال نہ سمجھیں بلکہ خدا کا مال سمجھیں، جو کچھ اللہ اس میں سے ان کا حصہ مقرر کرے اسے شکر یہ کے ساتھ قبول کرلیں اور جو حصہ اللہ اپنے کام اور اپنے غریب بندوں کے امداد کے لیے مقرر کرے اس کو برضا و رغبت گوارا کرلیں ۔


پھر قانون جنگ و صلح کے متعلق وہ اخلاقی ہدایات دی گئی ہیں جن کی توضیح اس مرحلے میں دعوت اسلامی کے داخل ہوجانے کے بعد ضروری تھی تاکہ مسلمان اپنی صلح و جنگ میں جاہلیت کے طریقوں سے بچیں اور اور دنیا پر ان کی اخلاقی برتری قائم ہو اور دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اسلام اوّل روز سے اخلاق پر عملی زندگی کی بنیاد رکھنے کی جو دعوت دے رہا ہے اس کی تعبیر واقعی عملی زندگی میں کیا ہے۔

پھر اسلامی ریاست کے دستوری قانون کی بعض دفعات بیان کی گئی ہیں جن سے دارالالسلام کے مسلمان با شندوں کی آئینی حیثیت ان مسلمانوں سے الگ کر دی گئی ہے جو دارالا سلام کے حدود سے باہر رہتے ہوں ۔

-----------------------------------------------
(تفہیم القرآن جلد اول ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

سورة الْبَقَرَة : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر و مضامین - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اس سورۃ کا نام ” بقرۃ“ اس لیے ہے کہ اس میں ایک جگہ گائے کا ذکر آیا ہے۔ قرآن کی ہر سورۃ میں اس قدر وسیع مضامین بیان ہوئے ہیں کہ ان کے لیے مضمون کے لحاظ سے جامع عنوانات تجویز نہیں کیے جاسکتے۔ عربی زبان اگرچہ اپنی لغت کے اعتبار سے نہایت مالدار ہے، مگر بہر حال ہے تو انسانی زبان ہی۔ انسان جو زبانیں بھی بولتا ہے وہ اس قدر تنگ اور محدود ہیں کہ وہ ایسے الفاظ یا فقرے فراہم نہیں کرسکتیں جو ان وسیع مضامین کے لیے جامع عنوان بن سکتے ہوں۔ اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے قرآن کی بیشتر سورتوں کے لیے عنوانات کے بجائے نام تجویز فرمائے جو محض علامت کا کام دیتے ہیں۔ اس سورۃ کو بقرہ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں گائے کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ” وہ سورۃ جس میں گائے کا ذکر آیا ہے۔


زمانہ نزول :


اس سورۃ کا بیشتر حصّہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ہے، اور کمتر حصّہ ایسا ہے جو بعد میں نازل ہوا اور مناسبت مضمون کے لحاظ سے اس میں شامل کردیا گیا۔ حتیٰ کہ سود کی ممانعت کے سلسلہ میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں حالانکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کی زندگی کے بالکل آخری زمانہ میں اتری تھیں۔ سُورۃ کا خاتمہ جن آیات پر ہوا ہے وہ ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوچکی تھیں مگر مضمون کی مناسبت سے ان کو بھی اسی سورۃ میں ضم کردیا گیا ہے۔


شان نزول :


اس سورۃ کے سمجھنے کے لیے پہلے اس کا تاریخی پس منظر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے : 

(١) ہجرت سے قبل جب تک مکہ میں اسلام کی دعوت دی جاتی رہی، خطاب بیشتر مشرکین عرب سے تھا جن کے لیے اسلام کی آواز ایک نئی اور غیر مانوس آواز تھی۔ اب ہجرت کے بعد سابقہ یہودیوں سے پیش آیا جن کی بستیاں مدینہ سے بالکل متصل ہی واقع تھیں۔ یہ لوگ توحید، رسالت، وحی، آخرت اور ملائکہ کے قائل تھے، اس ضابطہء شرعی کو تسلیم کرتے تھے جو خدا کی طرف سے ان کے نبی موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا، اور اصولاً ان کا دین وہی اسلام تھا جس کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم دے رہے تھے۔ لیکن صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور ہٹا  دیا تھا۔ ان کے عقائد میں بہت سے غیر اسلامی عناصر کی آمیزش ہوگئی تھی جن کے لیے توراۃ میں کوئی سَنَد موجود نہ تھی۔ ان کی عملی زندگی میں بکثرت ایسے رسُوم اور طریقے رواج پاگئے تھے جو اصل دین میں نہ تھے اور جن کے لیے توراۃ میں کوئی ثبوت نہ تھا۔ خود توراۃ کو انہوں نے انسانی کلام کے اندر خلط ملط کردیا تھا، اور خدا کا کلام جس حد تک لفظاً یا معنیً محفوظ تھا اس کو بھی انہوں نے اپنی من مانی تاویلوں اور تفسیروں سے مسخ کر رکھا تھا۔ دین کی حقیقی روح ان میں سے نکل چکی تھی اور ظاہری مذہبیت کا محض ایک بےجان ڈھانچہ باقی تھا جس کو وہ سینہ سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے علماء اور مشائخ، ان کے سرداران قوم اور ان کے عوام، سب کی اعتقادی، اخلاقی اور عملی حالت بگڑ گئی تھی، اور اپنے اس بگاڑ سے ان کو ایسی محبت تھی کہ وہ کسی اصلاح کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے۔ صدیوں سے مسلسل ایسا ہو رہا تھا کہ جب کوئی اللہ کا بندہ انہیں دین کا سیدھا راستہ بتانے آتا تو وہ اسے اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے اور ہر ممکن طریقہ سے کوشش کرتے تھے کہ وہ کسی طرح اصلاح میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ لوگ حقیقت میں بگڑے ہوئے مسلمان تھے جن کے ہاں بدعتوں اور تحریفوں، موشگافیوں اور فرقہ بندیوں، استخواں گیری و مغز افگنی، خدا فراموشی و دنیا پرستی کی بدولت انحطاط اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ وہ اپنا اصل نام ”مسلم“ تک بھول گئے تھے، محض ” یہُودی“ بن کر رہ گئے تھے اور اللہ کے دین کو انہوں نے محض نسل اسرائیل کی آبائی وراثت بنا کر رکھ دیا تھا۔ 

پس جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ ان کو اصل دین کی طرف دعوت دیں، چنانچہ سورۃ بقرہ کے ابتدائی پندرہ سولہ رکوع اسی دعوت پر مشتمل ہیں۔ ان میں یہودیوں کی تاریخ اور ان کی اخلاقی و مذہبی حالت پر جس طرح تنقید کی گئی ہے، اور جس طرح ان کے بگڑے ہوئے مذہب و اخلاق کی نمایاں خصُوصیّات کے مقابلہ میں حقیقی دین کے اصول پہلو بہ پہلو پیش کیے گئے ہیں، اس سے یہ بات بالکل آئینے کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ایک پیغمبر کی اُمّت کے بگاڑ کی نوعیت کیا ہوتی ہے، رسمی دینداری کے مقابلہ میں حقیقی دینداری کس چیز کا نام ہے، دین حق کے بنیادی اصول کیا ہیں اور خدا کی نگاہ میں اصل اہمیّت کِن چیزوں کی ہے۔ 

(٢) مدینہ پہنچ کر اسلامی دعوت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ مکہ میں تو معاملہ صرف اُصُول دین کی تبلیغ اور دین قبول کرنے والوں کی اخلاقی تربیت تک محدود تھا، مگر جب ہجرت کے بعد عرب کے مختلف قبائل کے وہ سب لوگ جو اسلام قبول کرچکے تھے، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہونے لگے اور انصار کی مدد سے ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کی بنیاد پڑگئی تو اللہ تعالیٰ نے تمدّن، معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست کے متعلق بھی اُصُولی ہدایات دینی شروع کیں اور یہ بتایا کہ اسلام کی اساس پر یہ نیا نظام زندگی کس طرح تعمیر کیا جائے۔ اس سورۃ کے آخری ٢٣ رکوع زیادہ تر انہی ہدایات پر مشتمل ہیں، جن میں سے اکثر ابتدا ہی میں بھیج دی گئی تھیں اور بعض متفرق طور پر حسب ضرورت بعد میں بھیجی جاتی رہیں۔

 (٣) ہجرت کے بعد اسلام اور کفر کی کشمکش بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ ہجرت سے پہلے اسلام کی دعوت خود کفر کے گھر میں دی جا رہی تھی اور متفرق قبائل سے جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے وہ اپنی اپنی جگہ رہ کر ہی دین کی تبلیغ کرتے اور جواب میں مصائب اور مظالم کے تختہء مشق بنتے تھے۔ مگر ہجرت کے بعد جب یہ منتشر مسلمان مدینہ میں جمع ہو کر ایک جتھا بن گئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کرلی تو صورت حال یہ ہوگئی کہ ایک طرف ایک چھوٹی سی بستی تھی اور دوسری طرف تمام عرب اس کا استیصال کر دینے پر تلا ہوا تھا۔ اب اس مٹھی بھر جماعت کی کامیابی کا ہی نہیں بلکہ اس کے وجود و بقا کا انحصار بھی اس بات پر تھا کہ اوّلاً وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے مسلک کی تبلیغ کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کرے۔ ثانیاً وہ مخالفین کا برسر باطل ہونا اس طرح ثابت و مبرہن کر دے کہ کسی ذی عقل انسان کو اس میں شبہہ نہ رہے۔ ثالثًا بےخان و ماں ہونے اور تمام ملک کی عداوت و مزاحمت سے دوچار ہونے کی بنا پر فقر و فاقہ اور ہمہ وقت بےامنی و بےاطمینانی کی جو حالت ان پر طاری ہوگئی تھی اور جن خطرات میں وہ چاروں طرف سے گھر گئے تھے، ان میں وہ ہراساں نہ ہوں، بلکہ پورے صبر وثبات کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کریں اور اپنے عزم میں ذرا تزلزل نہ آنے دیں۔ رابعاً وہ پوری دلیری کے ساتھ ہر اس مسلّح مزاحمت کا مسلّح مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں جو ان کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے کسی طاقت کی طرف سے کی جائے، اور اس بات کی ذرا پروا نہ کریں کہ مخالفین کی تعداد اور ان کی مادّی طاقت کتنی زیادہ ہے۔ خامسًا ان میں اتنی ہمّت پیدا کی جائے کہ اگر عرب کے لوگ اس نئے نظام کو، جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے، فہمائش سے قبول نہ کریں، تو انہیں جاہلیّت کے فاسد نظام زندگی کو بزور مٹا دینے میں بھی تامل نہ ہو۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان پانچوں امور کے متعلق ابتدائی ہدایات دی ہیں۔ 

(٤) دعوت اسلامی کے اس مرحلہ میں ایک نیا عنصر بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا تھا، اور یہ منافقین کا عنصر تھا۔ اگرچہ نفاق کے ابتدائی آثار مکہ کے آخری زمانہ میں بھی نمایاں ہونے لگے تھے، مگر وہاں صرف اس قسم کے منافق پائے جاتے تھے جو اسلام کے برحق ہونے کے تو معترف تھے اور ایمان کا اقرار بھی کرتے تھے لیکن اس کے لیے تیار نہ تھے کہ اس حق کی خاطر اپنے مفاد کی قربانی اور اپنے دنیوی تعلقات کا انقطاع اور ان مصائب و شدائد کو بھی برداشت کرلیں جو اس مسلک حق کو قبول کرنے کے ساتھ ہی نازل ہونے شروع ہوجاتے تھے۔ مدینہ پہنچ کر اس قسم کے منافقین کے علاوہ چند اور قسموں کے منافق بھی اسلامی جماعت میں پائے جانے لگے۔ ایک قسم کے منافق وہ تھے جو قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض فتنہ برپا کرنے کے لیے جماعت مسلمین میں داخل ہوجاتے تھے۔ دوسری قسم کے منافق وہ تھے جو اسلامی جماعت کے دائرۂ اقتدار میں گھر جانے کی وجہ سے اپنا مفاد اسی میں دیکھتے تھے کہ ایک طرف مسلمانوں میں بھی اپنا شمار کرائیں اور دوسری طرف مخالفین اسلام سے بھی ربط رکھیں تاکہ دونوں طرف کے فوائد سے متمتع ہوں اور دونوں طرف کے خطرات سے محفوظ رہیں۔ تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جو اسلام اور جاہلیّت کے درمیان متردّد تھے۔ انہیں اسلام کے برحق ہونے پر کامل اطمینان نہ تھا۔ مگر چونکہ ان کے قبیلے یا خاندان کے بیشتر لوگ مسلمان ہوچکے تھے اس لیے یہ بھی مسلمان ہوگئے تھے۔ چوتھی قسم میں وہ لوگ شامل تھے جو امر حق ہونے کی حیثیت سے تو اسلام کے قائل ہوچکے تھے مگر جاہلیّت کے طریقے اور اوہام اور رسمیں چھوڑنے اور اخلاقی پابندیاں قبول کرنے اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بار اٹھانے سے ان کا نفس انکار کرتا تھا۔ سُورۃ بقرہ کے نزول کے وقت ان مختلف اقسام کے منافقین کے ظہور کی محض ابتدا تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف صرف اجمالی اشارات فرمائے تھے۔ بعد میں جتنی جتنی ان کی صفات اور حرکات نمایاں ہوتی گئیں اسی قدر تفصیل کے ساتھ بعد کی سورتوں میں ہر قسم کے منافقین کے متعلق ان کی نوعیت کے لحاظ سے الگ الگ ہدایات بھیجی گئیں۔ ”


---------------------------------------------------

(تفہیم القرآن جلد اول ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ )