‏قرآنی مکالمات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏قرآنی مکالمات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

أَإِلٰهٌ مَعَ اللهِ ! کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے! (!IS THERE ANY GOD BESIDE ALLAH)

کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدابھی ہے ؟ 


قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ ﴿اِن سے پُوچھو﴾ اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ 

اَمَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَہۡجَۃٍ ۚ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُنۡۢبِتُوۡا شَجَرَہَا ؕ 

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟  ﴿اِن کاموں میں شریک﴾ ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ہے؟ 


 بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ یَّعۡدِلُوۡنَ ﴿ؕ۶۰﴾   ﴿نہیں﴾، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔



 اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَہَاۤ اَنۡہٰرًا وَّ جَعَلَ لَہَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیۡنَ الۡبَحۡرَیۡنِ حَاجِزًا ؕ 



اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں ﴿پہاڑوں کی﴾ میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں(میٹھا اور کھارا) کے درمیان پردے حائل کر دیے؟



ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟   کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے؟



بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ؕ۶۱﴾   نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔


اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ وَ یَجۡعَلُکُمۡ خُلَفَآءَ الۡاَرۡضِ ؕ 

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور ﴿کون ہے جو﴾ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿یہ کام کرنے والا﴾ ہے؟

قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۶۲﴾  تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ 


 اَمَّنۡ یَّہۡدِیۡکُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ مَنۡ یُّرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟

 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی ﴿یہ کام کرتا﴾ ہے؟

تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾  بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟  اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ 

ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟

قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾  کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔

 قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾ 

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا ۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾


بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 

----------------------------------------------------------------------
(سورۃ النمل: رکوع ۵، آیات 59-66)   ترجمہ: سید ابوالاعلی مودودی ؒ

اصحاب کھف کا مکالمہ

" اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡکَہۡفِ وَ الرَّقِیۡمِ ۙ کَانُوۡا مِنۡ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿۹﴾ اِذۡ اَوَی الۡفِتۡیَۃُ اِلَی الۡکَہۡفِ  فَقَالُوۡا : "

کیا تم سمجھتے ہو کہ غاراور کتبے والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے ۔   اور انہوں نے کہا کہ : 

" رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً وَّ ہَیِّیٔۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا"  ﴿۱۰﴾

 ” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“

"  فَضَرَبۡنَا عَلٰۤی اٰذَانِہِمۡ فِی الۡکَہۡفِ سِنِیۡنَ عَدَدًا ﴿۱۱﴾ ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴿۱۲﴾   نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ نَبَاَہُمۡ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّہُمۡ فِتۡیَۃٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّہِمۡ وَ زِدۡنٰہُمۡ ہُدًی ﴿۱۳﴾ وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ  اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا :" 

 تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ، پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔  ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں  ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے۔ جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا : 


" رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا " ﴿۱۴﴾

" ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً ؕ لَوۡ لَا یَاۡتُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭ بَیِّنٍ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا " ﴿ؕ۱۵﴾ 

 "وَ اِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡ وٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُہَیِّیٔۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا"  ﴿۱۶﴾

قرآنی مکالمات : جن کا ایک مکالمہ


یہ مکالمہ سورۃ الجن میں ہے " الجن" اس سورت کا نام بھی ہے،  اس میں جنوں کے قرآن سن کر  اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ (1)
ارشاد باری تعالی ہے : 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اُوۡحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسۡتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الۡجِنِّ فَقَالُوۡۤا : 

اے نبی ؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا پھر ﴿جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے ﴾ کہا:

 اِنَّا سَمِعۡنَا قُرۡاٰنًا عَجَبًا ۙ﴿۱﴾ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الرُّشۡدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ؕ وَ لَنۡ نُّشۡرِکَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًا ۙ﴿۲﴾

” ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے  جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“

 وَّ اَنَّہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّ لَا وَلَدًا ۙ﴿۳﴾ 

اور یہ کہ” ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“

وَّ اَنَّہٗ کَانَ یَقُوۡلُ سَفِیۡہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا ۙ﴿۴﴾

اور یہ کہ” ہمارےنادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“

 وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنۡ لَّنۡ تَقُوۡلَ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۙ﴿۵﴾ 

رب العالمین ، موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ

موسی ؑ اور فرعون کا مکالمہ 

اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ  ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا :

”  ظالم قوم کے پاس جا ۔۔۔۔ فرعون کی قوم کے پاس ۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“

  موسی نے عرض کیا :

” اے میرے ربّ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھُٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔  اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 
اللہ تعالی نے  فرمایا :

” ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر  ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جاوٴ اور اس سے کہو، ہم 
  کو ربّ العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“

فرعون نے کہا :

” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟  تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے، اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا  ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔“

موسیٰؑ نے جواب دیا:

” اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔  پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا  اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“

سورة الرحمن

 سورہ رحمن کا اسلوب باکل منفرد ہے اس میں کائنات کے اہم مظاہر کا مشاہدہ کرواگیا ہے ،  ہر مظاہر کے ذکر کے بعد انسان اور جنون سے سوال کیا گیا کہ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 31 مرتبہ یہ سوال دہرا گیا اس طرح سورت میں ایک خوبصورت اہنگ اور سر  قاری کی دلچسپی میں اضافہ کرتا ہے اور ذہن کو بھی بیدار رکھتا ہے ۔  
پوری سورت میں کائنات کے مختلف مظاہر کو بطور شہادت بیش فرماکر انسان اور جنوں کو چلینج دیا گیا کہ تم اپنے رب کی کن کن چیزوں کا انکار کر وگے؟  پھر انسان اور جنوں کو آگاہ کیا گیا ایک زبدست چلینج درج ذیل الفاظ میں  دیا گیا  ارشاد ہوا: 

سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ﴿٣١﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾  فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾


 اس کا آغاز ایک منفرد انداز سے ہوتا ہے ،  الرحمن،  اللہ کی صفت سے جملہ خبریہ میں  بطور مبتدا  اس کا آغاز ہوتا  ہے قاری اس سے آگاہ ہوکر خبروں کے لیے  منتظر ہوتا ہے  اس کے بعد فورا مختلف خبروں کا ذکر آتا ہے اس کا  اختتام بھی صفت باری تعالی  پر ہوتا ہے ۔ اس کی آیات میں قافیہ بندی بھی ہے ۔ 

یہ سورۃ  قاری عبد الباسط کی تلاوت اور عربی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ ایک  ترتیب اور نظم  کے ساتھ قاری کے لیے پیش کی جاتی ہے ۔ 


بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

الرَّحْمَـٰنُ ﴿١﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿٢﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿٣﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿٤﴾

 الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿٥﴾ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ﴿٦﴾ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿٧﴾

 أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿٨﴾ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ﴿٩﴾

 وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿١٠﴾ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ﴿١١﴾ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ﴿١٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٣﴾ 

خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ﴿١٤﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ﴿١٥﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٦﴾

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ﴿١٧﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿١٨﴾ 

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿٢٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢١﴾

 يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٢٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٣﴾

 وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ﴿٢٤﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٥﴾

 كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿٢٦﴾ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴿٢٧﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢٨﴾

 يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ﴿٢٩﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٠﴾

 سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ ﴿٣١﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٢﴾

 يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿٣٣﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٤﴾ 

يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿٣٥﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٦﴾

 فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ﴿٣٧﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٣٨﴾

 فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ﴿٣٩﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٠﴾

يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ﴿٤١﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٢﴾

 هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ﴿٤٣﴾ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ﴿٤٤﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٥﴾

 وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ﴿٤٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٧﴾

 ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ﴿٤٨﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٤٩﴾

 فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ﴿٥٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥١﴾

 فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ﴿٥٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٣﴾

 مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ﴿٥٤﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٥﴾

 فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٥٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٧﴾ 

كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿٥٨﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٥٩﴾

 هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴿٦٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦١﴾

 وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿٦٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٣﴾

 مُدْهَامَّتَانِ ﴿٦٤﴾ 

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٥﴾

 فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿٦٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٧﴾

فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ﴿٦٨﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٦٩﴾

 فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ﴿٧٠﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧١﴾

 حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ﴿٧٢﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٣﴾

 لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿٧٤﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٥﴾ 

مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ﴿٧٦﴾

 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٧٧﴾

 تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴿٧٨﴾

-------------------

اردو ترجمہ : از سید ابوالاعلی مودودی ؒ 


اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔

رحمن نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے ۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھا یا ۔ 

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں  اور تارے درخت سب سجدہ ریز ہیں ۔ آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تو لو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو ۔ 

زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیۓ بنایا اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں ۔ کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوۓ ہیں ۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی ۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 

انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوۓ گارے سے بنا یا  اور جن کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا ۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن عجائب قدرت  کو جھٹلاؤ گے؟ 

دونوں مشرق اور دونوں مغرب ، سب کا مالک پروردگار ہی ہے ۔

 پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 

دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ با ہم مل جائیں ، پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے ۔

 پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟

ان سمندروں سے موتی اور  مونگے نکلتے ہیں۔

  پس اے جن و انس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟

اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوۓ ہیں ۔ 

پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ ع

 ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کے کن کن کما لات کو جھٹلاؤ گے؟ 

زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اسی سے مانگ رہے ہیں ۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔

 پس اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمید ہ کو جھٹلاؤ گے؟ ۔

اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیۓ فارغ ہو ۓ جاتے ہیں، 

(پھر دیکھ لیں گے کہ )، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ تے ہو؟۔ 

اے گرہ جن و انس اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ۔ نہیں بھاگ سکتے ۔ اس کے لیۓ بڑا زور چاہیے ۔ 

اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو ) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں  چھوڑ دیا جاۓ گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے ۔

 اے جن و انس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

 پھر (کیا بنے گی اس وقت ) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جا ۓ گا؟

 اے جن و انس (اس وقت ) تم اپنے کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ 

اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گنا ہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہو گی ۔

 پھر پھر (دیکھ لیا جاۓ گا کہ ) تم دونوں گروہ رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو

۔ مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیۓ جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جاۓ گا ۔ 

اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

 (اس وقت کہا جاۓ گا ) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے ۔ اسی جہنم اور کھولتے ہوۓ پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں  گے ۔

 پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟ ع

 اور ہر اس شخص کے لیۓ جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ 

دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر و بیز ریشم کے ہوں گے ، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑی ہوں گی ۔ 

اپنے رب کی کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے۔؟

 ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہو گا۔ 

ا پنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

 ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ۔

 پھر اے جن و انس ، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے ؟

 اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 گھنے سر سبز و شاداب باغ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

 دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوۓ ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 ان میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 ان نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟

 خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے ان کو نہ چھوا ہو گا ۔

 اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟ 

وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے۔ 

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ 

بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام ۔ع



حضرت موسی ؑ اور خضر ؑ کی گفتگو (سُوْرَةُ الْكَهْف : 60 تا 82)


وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ :

(جب موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا)

"لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا "

(”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاوٴں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔“)

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ، فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ:

(پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نِکل کر اس طرح دریامیں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔ آگے جا کر موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے کہا)

" اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا "

(”لاوٴ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں۔“ )

قَالَ : " اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ عَجَبًا "

(خادم نے کہا”آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر ﴿آپ سے کرنا﴾ بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔“)

قَالَ: " ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ "

(موسیٰؑ نے کہا”اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔“ )

معرکۂ احد کے واقعات پر قرآن کا تبصرہ

معرکۂ احد کے واقعات پر قرآن کا تبصرہ

سورہ آل عمران کی  آیات 121 تا 129 میں   ان واقعات و حالات پر تبصرہ ہے جو غزوہ احد کے موقع پر پیش آئے اور یہ سلسلہ بیان اس  سورۃ کے آخر تک چلا جاتا ہے ۔ غزوہ احد میں مسلمانوں کی اپنی ہی ایک جماعت کے بے تدبیری سے جو شکست پیش آئی اس نے اسلام اور کفر کی اس کشمکش سے تعلق رکھنے والے ہر گروہ پر کسی نہ کسی پہلو سے اثر ڈالا۔ مسلمانوں میں جو لوگ کمزور ایمان والے  تھے وہ اس حادثہ سے بد دل ہوگئے اور ان کی اس بددلی سے منافقین نے فائدہ اٹھا کر ان کے دلوں میں اسلام، اسلام کے مستقبل اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مختلف قسم کے وسوسے بھرنے شروع کردئیے۔ یہود کو بھی اس حادثے سے بڑی شہ ملی، وہ از سرِ نو اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں سرگرم ہوگئے۔ قریش کو بدر کی شکست سے جو ضرب پہنچی تھی اس کا زخم بھی گویا اس واقعہ سے مندمل ہوگیا اور وہ پھر یہ حوصلہ کرنے لگے کہ اسلام کو زک پہنچائی جا سکتی ہے ۔
یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ احد کے واقعات پر تبصرہ کر کے ان تمام غلط فہمیوں کو دور کیا جائے جو اس موقع پر مخالفین، لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کر رہے تھے۔ ساتھ ہی یہی بہترین موقع تھا اس بات کے لیے کہ مسلمانون کی کمزوریوں اور غلطیوں پر گرفت کی جائے اور آئندہ ان کو ان سے احتراز کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ یہ امت کمزوریوں سے پاک ہو کر اس منصب کی ان ذمہ داریوں کی صحیح طور پر اہل ہوسکے، جس پر ’ کنتم خیر امۃ‘ والی آیت میں اس کو سرفراز کیا گیا ہے۔ چنانچہ جب اس سورۃ میں بات یہاں تک پہنچی کہ تمہی غالب اور فتحمند ہوگے اور تمہارے مخالفوں کی کوئی چال بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی بشرطیکہ تم صبر اور تقوی پر قائم رہو تو بہترین موقع گویا احد کے واقعات پر تبصرہ کر کے یہ دکھانے کا آگیا کہ صبر اور تقوی کے پہلو سے وہ کیا خامیاں ابھی جماعتی زندگی میں موجود تھیں جو اس افتاد کا باعث ہوئیں اور اس سے انفرادی اور اجتماعی اصلاح و تزکیہ کے کیا کیا سبق ملتے ہیں۔ (ماخوذ از تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی  ) 

اس کا انداز بیان یہ ہے کہ جنگ احد کے سلسلہ میں جتنے اہم واقعات پیش آئے تھے ان میں سے ایک ایک کو لے کر اس پر چند جچے تلے فقروں میں نہایت سبق آموز تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے اس کے واقعاتی پس منظر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔
شوال سن ٣ ہجری کی ابتدا میں کفار قریش تقریباً ٣ ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ تعداد کی کثرت کے علاوہ ان کے پاس ساز و سامان بھی مسلمانوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا، اور پھر وہ جنگ بدر کے انتقام کا شدید جوش بھی رکھتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تجربہ کار صحابہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں محصور ہو کر مدافعت کی جائے۔ مگر چند نوجوانوں نے، جو شہادت کے شوق سے بےتاب تھے اور جنھیں بدر کی جنگ میں شریک ہونے کا موقعہ نہ ملا تھا، باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا۔ آخر کار ان کے اصرار سے مجبور ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باہر نکلنے ہی کا فیصلہ فرما لیا۔ ایک ہزار آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، مگر مقام شوط پر پہنچ کر عبداللہ ابن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ عین وقت پر اس کی اس حرکت سے مسلمانوں کے لشکر میں اچھا خاصہ اضطراب پھیل گیا، حتٰی کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگ تو ایسے دل شکستہ ہوئے کہ انہوں نے بھی پلٹ جانے کا ارادہ کرلیا تھا، مگر پھر اولو العزم صحابہ کی کوششوں سے یہ اضطراب رفع ہوگیا۔ ان باقی ماندہ سات سو آدمیوں کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور احد کی پہاڑی کے دامن میں (مدینہ سے تقریباً چار میل کے فاصلہ پر) اپنی فوج کو اس طرح صف آرا کیا کہ پہاڑ پشت پر تھا اور قریش کا لشکر سامنے۔ پہلو میں صرف ایک درہ ایسا تھا جس سے اچانک حملہ کا خطرہ ہوسکتا تھا۔ وہاں آپ نے عبداللہ بن جبیر کے زیر قیادت پچاس تیر انداز بٹھا دیے اور ان کو تاکید کر دی کہ ”کسی کو ہمارے قریب نہ پھٹکنے دینا، کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا، اگر تم دیکھو کہ ہماری بوٹیاں پرندے نوچے لیے جاتے ہیں تب بھی تم اس جگہ سے نہ ٹلنا۔ “ اس کے بعد جنگ شروع ہوئی۔ ابتدا ءً مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں ابتری پھیل گئی۔ لیکن اس ابتدائی کامیابی کو کامل فتح کی حد تک پہنچانے کے بجائے مسلمان مال غنیمت کی طمع سے مغلوب ہوگئے اور انہوں نے دشمن کے لشکر کو لوٹنا شروع کردیا۔ ادھر جن تیر اندازوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا، انہوں نے جو دیکھا کہ دشمن بھاگ نکلا ہے اور غنیمت لٹ رہی ہے، تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر غنیمت کی طرف لپکے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر نے ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تاکیدی حکم یاد دلا کر بہتیرا روکا مگر چند آدمیوں کے سوا کوئی نہ ٹھیرا۔ اس موقع سے خالد بن ولید نے جو اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے، بر وقت فائدہ اٹھایا اور پہاڑی کا چکر کاٹ کر پہلو کے درہ سے حملہ کردیا۔ عبداللہ بن جبیر نے جن کے ساتھ صرف چند آدمی رہ گئے تھے، اس حملہ کو روکنا چاہا مگر مدافعت نہ کرسکے اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ دوسری طرف جو دشمن بھاگ گئے تھے وہ بھی پلٹ کر حملہ آور ہوگئے۔ اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ گیا اور مسلمان اس غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ان کا ایک بڑا حصہ پراگندہ ہو کر بھاگ نکلا۔ تاہم چند بہادر سپاہی ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے۔ اتنے میں کہیں سے یہ افواہ اڑ گئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے۔ اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے ہوش و حواس بھی گم کر دیے اور باقی ماندہ لوگ بھی ہمت ہار کر بیٹھ گئے۔ اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد و پیش صرف دس بارہ جاں نثار رہ گئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود زخمی ہوچکے تھے۔ شکست کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی۔ لیکن عین وقت پر صحابہ کو معلوم ہوگیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ ہیں، چنانچہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد جمع ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بسلامت پہاڑی کی طرف لے گئے۔ اس موقع پر یہ ایک معما ہے جو حل نہیں ہو سکا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے کفار مکہ کو خود بخود واپس پھیر دیا۔ مسلمان اس قدر پراگندہ ہوچکے تھے کہ ان کا پھر مجتمع ہو کر باقاعدہ جنگ کرنا مشکل تھا۔ اگر کفار اپنی فتح کو کمال تک پہنچانے پر اصرار کرتے تو ان کی کامیابی بعید نہ تھی۔ مگر نہ معلوم کس طرح وہ آپ ہی آپ میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے۔(تفہیم القرآن، سید ابوالاعلی مودودیؒ  )

 اب اس روشنی میں  آیات کی تلاوت فرمائیے ۔ 

 وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ  ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ      (١٢١)
(جب تم صبح کو اپنے گھر سے نکلے اور مسلمانوں کو جنگ کے مقامات پر متعین کیا اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔)

یہ آیت  تمہید ہے اس تبصرے کی جو جنگ احد کے واقعات اور ان سے پیدا شدہ اثرات پر آگے آ رہا ہے۔ یہ جنگ چونکہ ابھی تازہ تازہ ہوئی تھی، اس وجہ سے ہر شخص کے سامنے تھی، نام لیے بغیر بھی اس کے واقعات کی طرف اشارہ کردینا کافی تھا۔ لیکن یہ تبصرہ چونکہ بعض ایسے حالات و اثرات پر بھی تھا جن کے بعض گوشے بعض پارٹیوں کی درپردہ سازشوں سے تعلق رکھنے والے تھے یا ان کا تعلق ذہنی و قلبی تصورات و تاثرات سے تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات، سمیع و علیم، کا حوالہ دے کر تمہید ہی میں سب کو متنبہ کردیا کہ اس تبصرے پر کسی کے لیے چون و چرا، ردوقدح اور بحث و تردید کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے کہ یہ تبصرہ اس کی طرف سے ہے جو سب کچھ جانتا سنتا ہے۔ اس نے جو کچھ بھی کہا ہے سب کچھ بے خطا سمع و علم پر مبنی ہے ۔  (ماخوذ از تدبر قرآن، امین احسن اصلاحی  ) 

ذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا  ۙوَاللّٰهُ وَلِيُّهُمَا  ۭ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ     (١٢٢)
(جب تم میں سے دو جماعتوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مدد گار تھا۔ اور اللہ ہی پر چاہئے کہ مومنین بھروسہ کریں ۔)

 اس آیت میں  جن دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے، مفسرین کے بیان کے مطابق، وہ قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے اندر منافقین کی شرارت کی وجہ سے کچھ بزدلی پیدا ہوئی لیکن پھر وہ سنبھل گئے۔ منافقین درحقیت اس جنگ کے لیے نکلنا نہیں چاہتا تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی اس کمزوری کا اندازہ تھا۔ چنانچہ آپ نے یہ چاہا کہ نکلنے سے پہلے صحیح صورتِ حال سامنے آجائے۔ اس کے لیے امتحاناً آپ نے مسلمانوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ قریش کا مقابلہ مدینہ کے ہی اندر سے کیا جائے یا باہر نکل کر، اس کا جواب سچے اور پکے مسلمانوں کی طرف سے تو ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ باہر نکل کر، چنانچہ انہوں نے پورے جوش وجذبے کے ساتھ یہی جواب دیا۔ لیکن منافقین نے مدینہ میں محصور ہو کر مقابلے کی مصلحتیں سمجھانے کی کوشش کی۔ آنحضرت نے جب صورتِ حال کا اندازہ کرلیا، منافقین کی کمزوری آپ پر واضح ہوگئی تو آپ نے وہی کیا جو آپ کے دل میں تھا اور جس کا اظہار آپ کے جان نثار ساتھیوں نے کیا تھا۔ منافقین نے جب دیکھا کہ ان کی یہ سازش ناکام ہوگئی تو وہ نکلنے کو تو مسلمانوں کے ساتھ نکلے، لیکن نکلنے کے بعد ان کے لیڈر ابن ابی نے ان کو ورغلایا اور اس چیز کو بہانہ بنا کر کہ اس کے مشورے کی قدر نہیں کی گئی، راستے میں تین سو آدمیوں کے لشکر کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اس واقعہ سے قدرتی طور پر مسلمانوں کی بعض جماعتوں کے حوصلے پر اثر پڑا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار کفار کے مقابلے میں کل ایک ہزار تھی۔ ایک ہزار آدمیوں میں سے تین سو آدمیوں کا عین موقع پر فرار، ظاہر ہے کہ ایک اہم حادثہ تھا جس سے کمزور طبائع کا اثر لینا قدرتی امر تھا۔ قرآن نے اس کمزوری پر گرفت کی اور فرمایا کہ جو مسلمان اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں اللہ ان کا مددگار اور کارساز ہوتا ہے اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان خدا کی مدد اور اس کی کارسازی پر پورا پورا بھروسہ رکھیں۔ جب خدا ساتھ ہے تو منافقوں اور بزدلوں کی کوئی جماعت ساتھ چھوڑ بھی دے تو اس سے کیا بنتا بگڑتا ہے ۔ (تدبر قرآن )

 وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ     (١٢٣)

(آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کرچکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے۔ لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے۔ )

ایمان اور  توکل کا تقاضا واضح کرنے کے بعد بدر کے واقعہ کی بھی یاد دہانی فرما دی کہ جب تمہاری عددی قلت اور مادی بے سروسامانی کے باوجود ابھی کل خدا نے تمہاری مدد فرمائی اور تمہیں شاندار فتح دی تو اس خدا سے کیوں مایوس ہوتے ہو وہ آج بھی تمہارا حامی و ناصر اور ولی و کارساز ہے ۔
  اذلۃ‘ ذلیل کی جمع ہے۔ ذلیل عزیز کا مقابل لفظ ہے۔ عزیز کے معنی ہیں غالب، زور آور اور دوسروں کی دسترس سے باہر، ذلیل کے معنی کمزور، ناتوان اور دوسروں کے لیے لقمہ تر کے ہیں۔ اخلاقی رذالت اس لفظ کے بنیادی اجزا میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے لوازم بعیدہ میں سے ہے۔ چنانچہ یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ’’أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ : وہ مسلمانوں کے لیے نہایت نرم اور کافروں کے لیے نہایت سخت ہیں‘‘۔ یعنی اگر کفار ان کے اندر انگلی دھنسانا اور ان کو اپنے اغراض کے لیے نرم کرنا چاہیں تو وہ پتھر کی چٹان ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے نہایت نرم خو ہیں۔ وہ ان سے جس طرح چاہیں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آیت زیر بحث میں بھی یہ لفظ مسلمانوں کی صرف اس وقت کی عددی و مادی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، اس میں اخلاقی ضعف و ذلت کا کوئی شائبہ نہیں ہے ۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ، میں تقوی کا لفظ، جیسا کہ ہم آیت 120 کے تحت اشارہ کرچکے ہیں، اپنے وسیع معنی میں ہے، یعنی ایمان اور توکل اور خدا کو ولی اور کارساز ماننے کے تقاضے کے خلاف بزدلی اور بے ہمتی کی راہ اختیار کرنے سے بچو۔ خدا کی شرک گزاری کا صحیح حق ادا کرنے کے لیے یہ تقوی ضروری ہے۔ جو لوگ عزم و ہمت سے خالی ہوں گے وہ شیطان سے ہر قدم پر مار کھائیں گے اور حق کے بجائے باطل کی راہ اختیار کرلیں گے۔ ایسے لوگ خدا کی شکر گزاری کا حق ادا نہ کرسکیں گے ۔


مسلمانوں نے جب یہ دیکھا کہ ایک طرف دشمن تین ہزار ہیں اور ہمارے ایک ہزار میں سے بھی تین سو الگ ہوگئے ہیں تو ان کے دل ٹوٹنے لگے۔ اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے یہ الفاظ کہے تھے۔
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُنْزَلِيْنَ    ١٢٤  بَلٰٓى ۙاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ      ١٢٥
 بےشک، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ کر آئیں گے اسی آن تمہارا رب ﴿تین ھزار نہیں﴾ پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔

وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَلِتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ ۭوَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ     ١٢٦ 
’ جعلہ‘ میں ضمیر کا مرجع وہ وعدہ نصرت ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ سے جو تمہاری مدد کا خاص طور پر وعدہ فرمایا تو یہ اس لیے کہ یہ تمہارے لیے بشارت کا باعث ہو اور تمہیں مخالفین و منافقین کے رویّے سے جو بد دلی ہوئی ہے وہ دور ہوجائے۔ اگر یہ بشارت نہ بھی اترتی جب بھی اہل ایمان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ فتح و نصرت ہمیشہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ عزیز و غالب ہے جس کو چاہے فتح و غلبہ عطا فرمائے، اور حکیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس آیت پر مزید بحث ہم سورۂ انفال میں کریں گے ۔
(تدبر قرآن ) 

حضرت نوح ؑ کی سرگزشت

حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت
 (سورہ نوح کی روشنی میں )

  اس سورہ  میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے مراحل، ان کے طویل صبر و انتظار اور بالآخر ان کی قوم کے مبتلائے عذاب ہونے کی سرگزشت نہایت  جامعیت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اور مقصود اس سے انسانوں کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں وہ دیکھ سکیں  کہ اللہ کے رسول کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے صبر و انتظارکے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، ساتھ ہی یہ بھی دیکھ لیں کہ اللہ تعالی  اگرچہ ایک طویل مدت تک مہلت دیتا ہے لیکن بالآخر پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو اس طرح پکڑتا ہے کہ کوئی ان کو چھڑانے والا نہیں بنتا ۔ اس سورت میں شروع سے لے کر آخر تک صرف حضرت نوح  (علیہ السلام) کی دعوت کے مراحل بیان ہوئے ہیں۔ صرف بعض آیات بیچ میں موقع کی مناسبت سے ضمنا  آئی ہیں۔

 قوموں کے معاملہ میں سنت الٰہی جس کی وضاحت قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوئی یہ  ہے کہ جب بھی  کسی قوم کا اخلاقی فساد اس حد کو پہنچ جا ئے  کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کن عذاب کی مستحق بن جا ئے  تو عذاب بھیجنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک رسول بھیج کر اس پر اپنی حجت تمام کر دیتا  ہے تاکہ کسی کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ اسی سنت کے مطابق اس نے قوم نوح پر عذاب بھیجنے سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کو آگاہ کیا۔ ارشاد فرمایا :
"اے میری قوم !  اللہ نے مجھے تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ میں تمہیں اس عذاب سے ہوشیار کر دوں جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے ۔کہ اللہ کی بندگی کرو، اس کے مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی سے بچو اور میری اطاعت کرو ۔اللہ تمہارے ( پچھلے گناہ) معاف کر دے گا اور تم کو مہلت دے گا ایک معین مدت تک۔ بے شک اللہ کی مقرر کی ہوئی مدت جب آجائے گی تو وہ ٹالے نہیں ٹلے گی۔ کاش کہ تم اسے سمجھتے !"
      اس کے بعد حضرت نوح ( علیہ السلام) کی دعوت کے دوسرےمرحلہ کا بیان ہے ۔ جب آپ نے اپنے رب سے استغاثہ کیا ہے کہ دعوت کی راہ میں  ان کی شب و روز کی ساری تگ و دو قوم پر بالکل بے اثر رہی۔قرآن سے یہ بات واضح ہے کہ جتنی طویل مدت تک حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت دی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ قرآن میں تصریح ہے کہ وہ اپنی قوم کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا۔ لیکن اس کے باوجود اس کا جو حاصل رہا وہ خود حضرت نوح علیہ السلام  ہی کے الفاظ میں یہ ہے کہ
 "جتنا ہی زیادہ میں نے ان کو پکارا وہ اتنا ہی زیادہ مجھ سے بھاگے"
ان کی دعوت کی معقولیت ہر شخص پر واضح تھی ان کی دعوت چونکہ نفس کی خواہشات کے خلاف تھی اس وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے جتنا ہی ان کا تعاقب کیا اتنا ہی وہ بھاگے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کی باتوں کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور اپنی زندگی کو بدلنا ان کے لیے ناممکن ہے تو سلامتی گریز و فرار ہی میں ہے تاکہ اپنے مجرم ضمیر کو احساس جرم کی اذیت سے بچا سکیں۔حقیقت سے فرار اختیار کرنے والوں کے پاس اس کے سوا کوئی دوسر ی تدبیر اور کیا ہو سکتی ہے !
        حضرت نوح علیہ السلام  نے  قوم کے فرارکی تصویر کشی کی ہے فرمایا :
" میں نے جب جب ان کو پکارا کہ وہ توبہ و استغفارکریں تاکہ تو ان کی مغفرت فرمائے  تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں، اپنے اوپر اپنی چادریں لپیٹ لیں، اپنی بات پر اڑ گئے اور نہایت گھمنڈ کا اظہار کیا ۔"
        پھر نہایت بلیغ الفاظ میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے تیسرے مرحلہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے  جب قوم نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں اور اپنے اوپر اپنی چادریں بھی لپیٹ لی ہیں۔
" تو پھر میں نے ان کو ڈنکے کی چوٹ پکارا ۔پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی سمجھایا اور چپکے چپکے بھی ۔"
        یعنی انہوں  نے  بھی اپنی دعوت کے لب و لہجہ کو تیز سے تیز تر اور بلند سے بلند تر کردیا۔جہاں ڈنکے کی چوٹ بات کہنے کی ضرورت ہوئی وہاں بے دریغ ڈنکے کی چوٹ اپنی بات سنائی اور جہاں دیکھا کہ ان کے اندر گھس کر کچھ سنانے سمجھانے کا موقع ہے تو  وہ طریقہ بھی آزمایا۔غرض انہوں نے نرم و گرم اور پوشیدہ و علانیہ ہر پہلو سے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے تاکہ فرض بلاغ میں کوئی کوتاہی نہ رہ جائے۔  ع         "حدی را تیز ترمی خواں چو محمل را گراں بینی !"
        حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا طریق دعوت یہی رہا ہے کہ ان کی قوم کی بیزاری دعوت سے جتنی ہی بڑھتی گئی ہے اتنا ہی ان کا جوش دعوت  میں اضافہ ، ان کا لب و لہجہ بلند، جھنجھوڑنے والا اور پر جوش ہوتا گیا ہے۔ حق اور اہل حق کی فطرت یہی ہے، مزاحمت کی شدت حق کی سطوت کو نمایاں کرتی اور اہل حق کے ولولہ کو دبانے کے بجائے ابھارتی ہے۔ ع
        "رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور۔۔۔۔"

        اس موقع پر  حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی اس دعوت کی وضاحت فرمائی ہے جو نہایت دل سوزی اور محبت سے انہوں نے اپنی قوم کو دی۔ فرمایا:
 " میں نے کہاکہ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، بے شک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے ۔وہ تم پر اپنے  ابر رحمت کے دو نگڑے برسائے گا اور مال و اولاد سے تمہیں فروغ بخشے گا اور تمہارے واسطے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا"
 یعنی  ان کو سمجھایا کہ لوگو، اپنے رب سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگو، ہر چند تمہارے گناہ بہت ہیں لیکن اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ وہ بڑا ہی مغفرت فرمانے والا ہے۔ صرف مغفرت ہی  نہیں بلکہ تمہاری  اولاد ،  تمہارے مال  اور باغ   میں بھی برکت عطافرمائے گا ۔
        آخر میں  حضر ت نوح ؑ نے قوم کے ہٹ دھرموں کی بلاوت پر اظہار تعجب  کرتے ہوئے  فرمایا :
" تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خدا کی عظمت کے ظہور کے متوقع نہیں ہو ! حالانکہ اس نے تمہاری خلقت کو مختلف مراحل سے گزارا ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اس نے بنائے تہ بہ تہ سات آسمان اور چاند کو ان کے اندر روشنی بنایا اور سورج کو چراغ اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے اگایا خاص اہتمام سے ۔ پھرو ہ تم کو اسی میں لوٹاناہے اور اسی سے تم کو نکالے گا، بے روک اور اللہ ہی نے تمہارے لیے زمین کو ہموار بنایا کہ تم اس کی کھلی راہوں میں چلو ۔"
        یہاں سے کلام پھر حضرت نوح ( علیہ السلام) کی دعاسے مربوط ہوگیا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے  ( قَالَ نُوح رَبّ) فرماکر یہ واضح کردیا گیا کہ اب حضرت نوح ( علیہ السلام) کی دعا پھر آ رہی ہے ۔حضرت نوح ( علیہ السلام) یہاں  اس ردعمل کا ذکر فرما رہے ہیں جس کا آپ کی قوم کی طرف سے دعوت کے تیسرے مرحلہ جو اتمام حجت کا آخری مرحلہ تھا، اظہار ہوا۔ جب انہوں  نے سارے جتن کر ڈالے لیکن ان سنگ دلوں نے  ان  کوئی بات بھی نہیں سنی بلکہ اپنے انہی لیڈروں کی پیروی کی جن کے مال و اولاد کی کثرت نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا ہے۔ یعنی مال و اولاد نے شکر گزاری کے بجائے ان کے استکبار کو بڑھایا ہے جس کے سبب سے وہ اپنی روش پر اڑ گئے اور ان کی کوئی بات سننی ان کو گوارا نہیں۔ اس گھمنڈ میں  ان کی  دعوت کو  شکست دینے، اپنے عوام کو  ان  سے برگشتہ کرنے اور  ان کے  خلاف بھڑکانے کے لیے انہوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں۔
" نوح  ؑنے دعا کی، اے میرے رب ! انہوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور جن کی اولاد نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا، اور انہوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں اور(  چال بازی کرنےوالوں نے ) کہا کہ ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو اور ہرگز نہ چھوڑ"دُوّ" کو اور نہ "سُواع "کو اور نہ" یغوث،" "یعوق" اور "نسر" کو"
        یہ ان کے خاص خاص بڑے بتوں کے نام ہیں۔ ان کی خدائی کا سکّہ ان کے عوام کے دلوں پر جما ہوا تھا اس وجہ سے ان کے نام لے کر انہوں نے عوام کو للکارا کہ اپنے ان بزرگ دیوتائوں پر مضبوطی سے جمے رہو۔ اگر تم ذرا کمزور پڑے تو تمہارا دین آبائی خطرے میں پڑجائے گا ۔
        ان بتوں کے ناموں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ عربی نام ہیں۔ قوم نوح ؑ کا مسکن شمالی حجاز تھا اس وجہ سے اس کی زبان کا عربی ہونا بعید نہیں۔ ان بتوں کی سخت جانی قابل واد ہے کہ طوفان نے قوم نوح کے ایک ایک نقش کو مٹا دیا لیکن ان بتوں کی خدائی پھر بھی باقی رہی۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں مختلف قبائل عرب میں ان بتوں کی پرستش پھر رائج ہوگئی چنانچہ "وُد ّ"قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنی کلب کا بت تھا۔ "سُوَاع "کی پرستش قبیلہ ہذیل کرتا تھا۔ "یغُوث" قبیلہ طے کی بعض شاخوں کا بت تھا۔ "یعوق" قبیلہ ہمدان کی ایک شاخ کا دیوتا تھا۔ "نسر " قبیلہ حمیر کی ایک شاخ میں بچتا تھا۔ یہاں ان بتوں کا ذکر جس ترتیب سے آیا ہے اس سے گمان ہوتا ہے کہ قوم نوح میں ان کے مراتب کی ترتیب یہی تھی۔ یعنی" ود "اور "سواع "کا مرتبہ سب سے اونچا تھا اور "یغوث"، "یعوق "اور "نسر "مرتبہ میں ان سے نیچے تھے ۔
         یہاں  حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے لیڈروں کی روش پر غم و زند وہ کا اظہار فرمایا ہے اور ساتھ ہی ان کی زبان سے بے ساختہ  بد دعا بھی نکلی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کے تیسرے مرحلے میں پہنچ کر دیکھ لیا کہ اس قوم میں جتنا جوہر تھا وہ نکل آیا ہے۔ اب جو باقی ہے اس کی کوئی افادیت نہیں اس کے مٹ جانے ہی میں خیر ہے۔فرمایا :
 "اور انہوں نے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر ڈالا۔ اور اب تو ان گمراہی میں ہی اضافہ کر ۔"
         اسی مرحلے میں جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی قوم فرعون کے لیے بد دعا کی تھی  جو سورہ یونس میں مذکور ہیں ۔" اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر پٹیاں باندھ دے کہ اب وہ درد ناک عذاب دیکھ ہی کر ایمان لائیں۔"
       حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا بالکل صحیح وقت پر، ایک صحیح مقصد کے لیے تھی اس وجہ سے پہلا فقرہ زبان سے نکلتے ہی پوری دعا قبول ہوگئی۔ اس وجہ سے اس کو دعا کے پہلے ہی فقرے کے بعد رکھ دیا۔ اس قسم کی تضمین کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں  ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ان کو پانی اور آگ دونوں کے عذاب سے سابقہ پیش آیا۔ اس دنیا میں وہ پانی میں ڈوبے اور آخرت میں دوزخ کی آگ میں پڑیں گے۔جب ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ اپنی قوت و جمعیت اور اپنے مزعومہ دیوتائوں کے بل پر اکڑتے لیکن جب اللہ کا عذاب آدھمکا تو اس کے مقابل میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہ تھا ۔
        ارشاد فرمایا :
" وہ اپنے گناہوں کی پاداش ہی میں غرق کیے گئے پانی میں، پھر داخل کیے گئے آگ میں، پس اللہ کے مقابل میں انہوں نے کسی کو اپنا مدد گار نہیں پایا"
        قبولیت دعا  کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا پھر شروع ہوگئی۔ چنانچہ (قال نوح رب) کے الفاظ نے اس کو تضمین سے ممتاز کردیا۔التباس سے بچنے کے لیے ان کا اعادہ ضروری ہوا ۔
   "اور نوح ؑ نے دعا کی، اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑ ۔اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ناکاروں اور کافروں ہی کو جنم دیں گے ۔"
        یہ امر یہاں واضح رہے کہ اگرچہ ہر بچہ فطرۃ اللہ پر ہوتا ہے لیکن اس کے بنائو یابگاڑ میں سب سے زیادہ دخل والدین کی تربیت اور معاشرہ و ماحول کے اثرات کا ہوتا ہے۔ ماحول اچھا ہوگا تو امید ہے کہ بچہ ایمان و اسلام پر پروان چڑھے گا اور اگر ماحول کا فرانہ ہوا تو جیسا کہ ( ابواہ یھودانہ وینصرانہ) والی حدیث سے واضح ہے بچہ بھی ماحول ے رنگ ہی میں رنگ جائے گا۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) نے اپنے معاشرہ کو اچھی طرح پھٹک کے دیکھ لیا تھا کہ اس میں ایمان اور نیکی کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے اس وجہ سے انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ اب صرف ناکاروں اور کافروں ہی کو جہنم دیں گے۔ ان کی کو کھ سے اب کوئی مومن و مسلم جنم لینے والا نہیں ہے ۔
       آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لیے اپنے والدین کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان کے ساتھ  ان کے گھر میں پناہ گیرہوئیے اور تمام مومنین و مومنات کے لیے مغفرت کی دعا مانگی اور ان لوگوں کی تباہی پر یہ دعا ختم کی جنہوں نے شرک و کفر پر اصرار  کرکے اپنے لیے اس تباہی کی دعوت دی۔فرمایا :

"اے میرے رب ! میری مغفرت فرما، میرے ماں باپ کی مغفرت فرما اور جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہوں ان کی مغفرت فرما اور تمام مومنین و مومنات کی مغفرت فرما اور کافروں کی ہلاکت ہی میں اضافہ کر !"