مدینہ کے متوسط دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مدینہ کے متوسط دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سورة الْمُنٰفِقُوْن : زمانہ نزول،تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی آیت کے فقرہ اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ سے ماخوذ ہے۔ یہ اس سورۃ کا نام بھی ہے اور اس کے مضمون کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں منافقین ہی کے طرز عمل پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

زمانہ نزول :

جیسا کہ ہم آگے چل کر بتائیں گے، یہ سورۃ غزوہ بنی المُصطَلِق سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی واپسی پر یا تو دوران سفر میں نازل ہوئی ہے، یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد فوراً ہی اس کا نزول ہوا ہے۔ اور ہم سورۃ نور کے دیباچے میں یہ بات بتحقیق بیان کرچکے ہیں کہ غزوہ بنی المصطلق شعبان 6 ھجری میں واقع ہوا تھا۔ اس طرح اس کی تاریخ نزول ٹھیک ٹھیک متعین ہوجاتی ہے۔

تاریخی پس منظر :

جس خاص واقعہ کے بارے میں یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس کا ذکر کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مدینے کے منافقین کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈال لی جائے، کیونکہ جو واقعہ اس موقع پر پیش آیا تھا وہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا سلسلۂ واقعات تھا جو بالآخر اس نوبت تک پہنچا۔


مدینہ طیبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے اوس اور خز رج کے قبیلے آپس کی خانہ جنگیوں سے تھک کر ایک شخص کی قیادت و سیادت پر قریب قریب متفق ہوچکے تھے اور اس بات کی تیاریاں کر رہے تھے کہ اس کو اپنا بادشاہ بنا کر باقاعدہ اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کر دیں، حتیٰ کہ اس کے لیے تاج بنا بھی لیا گیا تھا۔ یہ قبیلہ خزرج کا رئیس عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ قبیلہ خزرج میں اس کی بزرگی بالکل متفق علیہ تھی، اور اوس و خزرج اس سے پہلے کبھی ایک شخص کی قیادت پر جمع نہیں ہوئے تھے (ابن ہشام، ج 2 ص 234)۔

اس صورت حال میں اسلام کا چرچا مدینے پہنچا اور ان دونوں قبیلوں کے با اثر آدمی مسلمان ہونے شروع ہوگئے۔ ہجرت سے پہلے بیعت عَقَبہ ثانیہ کے موقع پر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ طیبہ تشریف لانے کی دعوت دی جا رہی تھی اس وقت حضرت عباس بن عبادہ بن نَضْلَۂ انصاری اس دعوت کو صرف اس مصلحت سے مؤخر کرنا چاہتے تھے کہ عبداللہ بن ابی بھی بیعت اور دعوت میں شریک ہوجائے، تاکہ مدینہ بالاتفاق اسلام کا مرکز بن سکے۔ لیکن جو وفد بیعت کے لیے حاضر ہوا تھا اس نے اس مصلحت کو کوئی اہمیت نہ دی اور اس کے تمام شرکاء جن میں دونوں قبیلوں کے 75 آدمی شامل تھے، ہر خطرہ مول لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دینے کے لیے تیار ہوگئے (ابن ہشام، ج 2، ص 89)۔ اس واقعہ کی تفصیلات ہم سورۃ انفال کے دیباچے میں بیان کرچکے ہیں۔

اس کے بعد جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے پہنچے تو انصار کے ہر گھرانے میں اسلام اتنا پھیل چکا تھا کہ عبداللہ بن ابی بےبس ہوگیا اور اس کو اپنی سرداری بچانے کی اس کے سوا کوئی صورت نظر نہ آئی کہ خود بھی مسلمان ہوجائے۔ چنانچہ وہ اپنے ان بہت سے حامیوں کے ساتھ، جن میں دونوں قبیلوں کے شیوخ اور سردار شامل تھے، داخل اسلام ہوگیا، حالانکہ دل ان سب کے جل رہے تھے، اور خاص طور پر ابن ابی کو اس بات کا سخت غم تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بادشاہی چھین لی ہے۔ کئی سال تک اس کا یہ منافقانہ ایمان اور اپنی ریاست چھن جانے کا یہ غم طرح طرح کے رنگ دکھاتا رہا۔ ایک طرف حال یہ تھا کہ ہر جمعہ کو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے بیٹھتے تو عبداللہ بن ابی اٹھ کر کہتا کہ " حضرت، یہ اللہ کے رسول آپ کے درمیان موجود ہیں جن کی ذات سے اللہ نے آپ کو عزت اور شرف بخشا ہے، لہٰذا آپ ان کی تائید کریں اور جو کچھ یہ فرماتے ہیں اسے غور سے سنیں اور ان کی اطاعت کریں " (ابن ہشام، ج 3، ص 111)۔ دوسری طرف کیفیت یہ تھی کہ روز بروز اس کی منافقت کا پردہ چاک ہوتا چلا جا رہا تھا اور مخلص مسلمانوں پر یہ بات کھلتی چلی جاتی تھی کہ وہ اس کے ساتھی اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور گروہ اہل ایمان سے سخت بغض رکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی راستے سے گزر رہے تھے کہ ابن ابی نے آپ کے ساتھ بد تمیزی کی۔ آپ نے حضرت سعد بن عبادہ سے اس کی شکایت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا، " یا رسول اللہ، اس شخص کے ساتھ نرمی برتیے آپ کی تشریف آوری سے پہلے ہم اس کے لیے تاج شاہی تیار کر رہے تھے، اب یہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس سے بادشاہی چھین لی ہے " (ابن ہشام، ج 2، ص 237۔ 238 )۔


جنگ بدر کے بعد جب یہود بنی قینقاع کی صریح بد عہدی اور بلا اشتعال سرکشی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر چڑھائی کی تو یہ شخص ان کی حمایت پر اٹھ کھڑا ہوا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زرہ پکڑ کر کہنے لگا کہ " یہ سات سو مردان جنگی، جو ہر دشمن کے مقابلے میں میرا ساتھ دیتے رہے ہیں، آج ایک دن میں آپ انہیں ختم کر ڈالنا چاہتے ہیں ؟ خدا کی قسم، میں آپ کو ہرگز نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ میرے ان حلیفوں کو معاف نہ کر دیں گے " (ابن ہشام، ج 3، ص 51۔52)۔

جنگ احد کے موقع پر اس شخص نے صریح غداری کی اور عین وقت پر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر میدان جنگ سے الٹا واپس آ گیا۔ جس نازک گھڑی میں اس نے یہ حرکت کی تھی اس کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ قریش کے لوگ تین ہزار کا لشکر لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مقابلے میں صرف ایک ہزار آدمی ساتھ لے کر مدافعت کے لیے نکلے تھے۔ ان ایک ہزار میں سے بھی یہ منافق تین سو آدمی توڑ لایا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف سات سو کی جمعیت کے ساتھ تین ہزار دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔


اس واقعہ کے بعد مدینے کے عام مسلمانوں کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہوگیا کہ یہ شخص قطعی منافق ہے، اور اس کے وہ ساتھی بھی پہچان لیے گئے جو منافقت میں اس کے شریک کار تھے۔ اسی بنا پر جنگ احد کے بعد جب پہلا جمعہ آیا اور یہ شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبہ سے پہلے حسب معمول تقریر کرنے کے لیے اٹھا تو لوگوں نے اس کا دامن کھینچ کر کہا " بیٹھ جاؤ، تم یہ باتیں کرنے کے اہل نہیں ہو "۔ مدینے میں یہ پہلا موقع تھا کہ علانیہ اس شخص کی تذلیل کی گئی۔ اس پر برہم ہو کر وہ لوگوں کی گردنوں پر سے کودتا پھاندتا مسجد سے نکل گیا۔ مسجد کے دروازے پر بعض انصاریوں نے اس سے کہا " یہ کیا حرکت کر رہے ہو، واپس چلو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استغفار کی درخواست کرو "۔ اس نے بگڑ کر جواب دیا " میں ان سے کوئی استغفار نہیں کرانا چاہتا " (ابن ہشام، ج 3، ص 111)۔

پھر 4 ہجری میں غزوہ بنی النضیر پیش آیا اور اس موقع پر اس شخص نے اور اس کے ساتھیوں نے اور بھی زیادہ کھل کر اسلام کے خلاف اعدائے اسلام کی حمایت کی۔ ایک طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ ان یہودی دشمنوں سے جنگ کی تیاری کر رہے تھے، اور دوسری طرف یہ منافقین اندر ہی اندر یہودیوں کو پیغام بھیج رہے تھے کہ ڈٹے رہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں، تم سے جنگ کی جائے گی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور تم کو نکالا جائے گا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ اس خفیہ ساز باز کا راز اللہ تعالیٰ نے خود کھول دیا، جیسا کہ سورۃ حشر کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔

لیکن اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اتنی پردہ دری ہوجانے کے باوجود جس وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ساتھ درگزر کا معاملہ فرما رہے تھے وہ یہ تھی کہ منافقین کا ایک بڑا جتھا اس کے ساتھ تھا۔ اَوس اور خزرج دونوں قبیلوں کے بہت سے سردار اس کے حامی تھے۔ مدینے کی آبادی میں کم از کم ایک تہائی تعداد اس کے ساتھیوں کی موجود تھی، جیسا کہ غزوہ احد کے موقع پر ظاہر ہوچکا تھا۔ ایسی حالت میں یہ کسی طرح مناسب نہ تھا کہ باہر کے دشمنوں سے لڑائی کے ساتھ ساتھ اندر کے ان دشمنوں سے بھی جنگ مول لے لی جاتی۔ اسی بنا پر ان کی منافقت کا حال جانتے ہوئے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مدت تک ان کے ساتھ ان کے ظاہری دعوائے ایمان کے لحاظ سے معاملہ فرماتے رہے۔ دوسری طرف یہ لوگ بھی نہ اتنی طاقت رکھتے تھے، نہ ہمت کہ علانیہ کافر بن کر اہل ایمان سے لڑ لیتے، یا کسی حملہ آور دشمن کے ساتھ کھلم کھلا مل کر میدان میں آ جاتے۔ بظاہر وہ اپنا ایک مضبوط جتھا بنائے ہوئے تھے مگر ان کے اندر وہ کمزوریاں موجود تھیں جن کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ حشر کی آیات 12۔ 14 میں صاف صاف کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے وہ مسلمان بنے رہنے میں ہی اپنی خیر سمجھتے تھے۔ مسجدوں میں آتے تھے۔ نمازیں پڑھتے تھے۔ زکوٰۃ بھی دے ڈالتے تھے۔ زبان سے ایمان کے وہ لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے جن کے کرنے کی مخلص مسلمانوں کو کبھی ضرورت پیش نہ آتی تھی۔ ان کے پاس اپنی ہر منافقانہ حرکت کے لیے ہزار جھوٹی توجہیں موجود تھیں جن سے وہ خاص طور پر اپنے ہم قبیلہ انصار کو یہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے رہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان تدبیروں سے وہ اپنے آپ کو ان نقصانات سے بھی بچا رہے تھے جو انصار کی برادری سے الگ ہوجانے کی صورت میں ان کو پہنچ سکتے تھے، اور فتنہ پروازی کے ان مواقع سے بھی فائدہ اٹھا رہے تھے جو اس برادری میں شامل رہ کر انہیں مل سکتے تھے۔

یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی منافقین کو غزوہ بنی المصْطَلِق کی مہم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے کا موقع مل گیا، اور انہوں نے بیک وقت دو ایسے عظیم فتنے اٹھا دیے جو مسلمانوں کی جمعیت کو بالکل پارہ پارہ کرسکتے تھے۔ مگر قرآن پاک کی تعلیم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت سے اہل ایمان کو جو بہترین تربیت ملی تھی اس کی بدولت ان دونوں فتنوں کا بر وقت قلع قمع ہوگیا اور یہ منافقین الٹے خود ہی رسوا ہو کر رہ گئے۔ ان میں سے ایک فتنہ وہ تھا جس کا ذکر سورۃ نور میں گزر چکا ہے۔ اور دوسرا فتنہ یہ ہے کہ جس کا اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے۔

اس واقعہ کو بخاری، مسلم، احمد، نسائی، ترمذی، بیہقی، طبرانی، ابن مردویہ، عبدالرزاق، ابن جریر طبری، ابن سعد اور محمد بن اسحاق نے بکثرت سندوں سے نقل کیا ہے۔ بعض روایات میں اس مہم کا نام نہیں لیا گیا ہے جس میں یہ پیش آیا تھا : اور بعض میں اسے غزوہ تبوک کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ مگر مغازی اور سیر کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر پیش آیا تھا۔ صورت واقعہ تمام روایات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے :

بنی المصطلق کو شکست دینے کے بعد ابھی لشکر اسلام اس بستی میں ٹھہرا ہوا تھا جو مریسبع نامی کنویں پر آباد تھی کہ یکایک پانی پر دو صاحبوں کا جھگڑا ہوگیا۔ ان میں سے ایک کا نام جہجاہ بن مسعود غفاری تھا جو حضرت عمر کے ملازم تھے اور ان کا گھوڑا سنبھالنے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ اور دوسرے صاحب سنان بن وَبَرالجہنی (دونوں اصحاب کے نام مختلف روایات میں مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ ہم نے یہ نام ابن ہشام کی روایت سے لیے ہیں ) تھے جن کا قبیلہ خزرج کے ایک قبیلے کا حلیف تھا۔ زبانی ترش کلامی سے گزر کر نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی اور جہجاہ نے سنان کے ایک لات رسید کر دی جسے اپنی قدیم یمنی روایات کی بنا پر انصار سخت توہین و تذلیل سمجھتے تھے۔ اس پر سنان نے انصار کو مدد کے لیے پکارا، اور جہجاہ نے مہاجرین کو آواز دی۔ ابن ابی نے اس جھگڑے کی خبر سنتے ہیں اوس اور خزرج کے لوگوں کو بھڑکانا اور چیخنا شروع کردیا کہ دوڑو اور اپنے حلیف کی مدد کرو۔ ادھر سے کچھ مہاجرین بھی نکل آئے قریب تھا کہ بات بڑھ جاتی اور اسی جگہ انصار و مہاجرین آپس میں لڑ پڑتے جہاں ابھی ابھی وہ مل کر ایک دشمن قبیلے سے لڑے تھے اور اسے شکست دے کر ابھی اسی کے علاقے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لیکن یہ شور سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکل آئے اور آپ نے فرمایا : ما بال دعوی الجاھلیۃ؟ مالکم ولدعوۃ الجاھلیۃ؟ دعوھا فانھا مُنْتِنَۃ "۔ یہ جاہلیت کی پکار کیسی؟ تم لوگ کہاں اور یہ جاہلیت کی پکار کہاں ؟ اسے چھوڑ دو، یہ بڑی گندی چیز ہے "۔ (یہ ایک بڑی اہم بات ہے جو اس موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمائی۔ اسلام کی صحیح روح کو سمجھنے کے لیے اسے ٹھیک ٹھیک سمجھ لینا ضروری ہے۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ دو آدمی اگر اپنے جھگڑے میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارنا چاہیں تو وہ کہیں، مسلمانو، آؤ اور ہماری مدد کرو، یا یہ کہ لوگو ہماری مدد کے لیے آؤ، لیکن اگر ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے قبیلے، یا برادری یا نسل و رنگ، یا علاقے کے نام پر لوگوں کو پکارتا ہے وت یہ جاہلیت کی پکار ہے، اور اس پکار پر لبیک کہہ کر آنے والے اگر یہ نہیں دیکھتے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون، اور حق و انصاف کی بنا پر مظلوم کی حمایت کرنے کے بجائے اپنے اپنے گروہ کے آدمی کی حمایت میں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوجاتے ہیں تو یہ جاہلیت کا فعل ہے جس سے دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے گندی اور گھناؤنی چیز قرار دیا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہارا اس جاہلیت کی پکار سے کیا واسطہ؟ تم اسلام کی بنیاد پر ایک ملت بنے تھے، اب یہ انصار اور مہاجر کے نام پر تمہیں کیسے پکارا جا رہا ہے، اور اس پکار پر تم کہاں دوڑے جا رہے ہو؟ علامہ سہیلی نے روض الانف میں لکھا ہے کہ فقہائے اسلام نے کسی جھگڑے یا اختلاف میں جاہلیت کی پکار بلند کرنے کو ایک فوج داری جرم قرار دیا ہے۔ ایک گروہ اس کی سزا پچاس ضرب تازیانہ قرار دیتا ہے۔ دوسرا گروہ دس ضرب تجویز کرتا ہے، اور تیسرا گروہ کہتا ہے کہ اس کی سزا حالات کی مناسبت سے دی جانی چاہیے۔ بعض حالات میں صرف زجر و توبیخ کافی ہے، بعض دوسرے حالات میں ایسی پکار بلند کرنے والے کو قید کرنا چاہیے، اور اگر یہ زیادہ شر انگیز ہو تو اس کے مرتکب کو سزائے تازیانہ دینی چاہیے۔) اس پر دونوں طرف کے صالح لوگوں نے آگے بڑھ کر معاملہ رفع دفع کردیا اور سنان نے جہجاہ کو معاف کر کے صلح کرلی۔

اس کے بعد ہر وہ شخص جس کے دل میں نفاق تھا عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچا اور ان لوگوں نے جمع ہو کر اس سے کہا کہ " اب تک تو تم سے امیدیں وابستہ تھیں اور تم مدافعت کر رہے تھے، مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمارے مقابلے میں ان کنگلوں (مدینہ کے منافقین ان تمام لوگوں کو جو اسلام قبول کر کے مدینہ میں آ رہے تھے، " جلابیب " کہا کرتے تھے۔ لغوی معنی تو اس لفظ کے گلیم پوش یا موٹے جھوٹے کپڑے پہننے والے کے ہیں، مگر اصل مفہوم جس میں وہ لوگ غریب مہاجرین کی تذلیل کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے تھے، کنگلے کے لفظ سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے۔ ) کے مدد گار بن گئے ہو "۔ ابن ابی پہلے ہی کھول رہا تھا۔ ان باتوں سے وہ اور بھی زیادہ بھڑک اٹھا کہنے لگا " یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی، ان پر اپنے مال تقسیم کیے، یہاں تک کہ اب یہ پھل پھول کر خود ہمارے ہی حریف بن گئے۔ ہماری اور ان قریش کے کنگلوں (یا اصحاب محمد ) کی حالت پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ اپنے کتے کو کھلا پلا کر موٹا کرتا کہ تجھی کو پھاڑ کھائے۔ تم لوگ ان سے ہاتھ روک لو تو یہ چلتے پھرتے نظر آئیں۔ خدا کی قسم، مدینے واپس پہنچ کر ہم میں سے جو عزت والا بنے وہ ذلیل کو نکال دے گا "۔

مجلس میں اتفاق سے حضرت زید بن ارقم بھی موجود تھے جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے۔ انہوں نے یہ باتیں سن کر اپنے چچا سے ان کا ذکر کیا، اور ان کے چچا نے جو انصار کے رئیسوں میں سے تھے، جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کردیا۔ حضرت نے زید کو بلا کر دریافت کیا تو انہوں نے جو کچھ سنا تھا من و عن دہرا دیا۔ (فقہاء نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے کہ ایک شخص کی بری بات دوسرے شخص تک پہنچانا اگر کسی دینی، اخلاقی یا ملی مصلحت کے لیے ہو تو یہ چغلی کی تعریف میں نہیں آتا۔ شریعت میں جس چغل خوری کو حرام کیا گیا ہے وہ فساد کی غرض سے اور لوگوں کو آپس میں لڑانے کے لیے چغلی کھانا ہے۔ ) حضور نے فرمایا شاید تم ابن ابی سے ناراض ہو۔ ممکن ہے تم سے سننے میں کچھ غلطی ہوگئی ہو۔ ممکن ہے تمہیں شبہ ہوگیا ہو کہ ابن ابی یہ کہہ رہا ہے۔ مگر زید نے عرض کیا نہیں حضور، خدا کی قسم میں نے اس کو یہ باتیں کہتے سنا ہے۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ابی کو بلا کر پوچھا تو وہ صاف مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ باتیں ہرگز نہیں کہیں۔ انصار کے لوگوں نے بھی کہا کہ حضور، لڑکے کی بات ہے۔ شاید اسے وہم ہوگیا ہو۔ یہ ہمارا شیخ اور بزرگ ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک لڑکے کی بات کا اعتبار نہ فرمایئے۔ قبیلے کے بڑے بوڑھوں نے زید کو بھی ملامت کی اور وہ بیچارے رنجیدہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ رہے۔ مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زید کو بھی جانتے تھے اور عبداللہ بن ابی کو بھی، اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اصل بات کیا ہے۔

حضرت عمر کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آ کر عرض کیا " مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ یا اگر مجھے یہ اجازت دینا مناسب خیال نہیں فرماتے تو خود انصار ہی میں سے معاذ بن جبل، یا عبّاد بن بشر، یا سعد بن معاذ، یا محمد بن مسلمہ کو حکم دیجیے (مختلف روایات میں مختلف انصاری بزرگوں کے نام آئے ہیں جن کے متعلق حضرت عمر نے عرض کیا تھا کہ آپ ان میں سے کسی شخص سے یہ خدمت لے لیں اگر مجھ سے اس لیے یہ کام لینا مناسب خیال نہیں فرماتے کہ میں مہاجر ہوں، میرے ہاتھوں اس کے مارے جانے سے فتنے بھڑک اٹھنے کا امکان ہے )۔ کہ وہ اسے قتل کر دیں "۔ مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، " ایسا نہ کرو، لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں ہی کو قتل کر رہا ہے۔ اس کے عبد آپ نے فوراً ہی کوچ کا حکم دے دیا، حالانکہ حضور کے معمول کے لحاظ سے وہ کوچ کا وقت نہ تھا۔ مسلسل 30 گھنٹے چلتے رہے یہاں تک کہ لوگ تھک کر چور ہوگئے۔ پھر آپ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اور تھکے ہوئے لوگ زمین پر کمر ٹکاتے ہی سو گئے۔ یہ آپ نے اس لیے کیا کہ جو کچھ میسیع کے کنوئیں پر پیش آیا تھا اس کے اثرات لوگوں کے ذہن سے محو ہوجائیں۔ راستے میں انصار کے ایک سردار حضرت اسید بن حضیر آپ سے ملے اور عرض کیا " یا رسول اللہ، آج آپ نے ایسے وقت کوچ کا حکم دیا جو سفر کے لیے موزوں نہ تھا اور آپ کبھی ایسے وقت میں سفر کا آغاز نہیں فرمایا کرتے تھے " ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا، " تم نے سنا نہیں کہ تمہارے ان صاحب نے کیا گوہر افشانی کی ہے ؟ " انہوں نے پوچھا کون صاحب؟ فرمایا عبداللہ بن ابی۔ انہوں نے پوچھا اس نے کیا کہا ؟ فرمایا " اس نے کہا ہے کہ مدینہ پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال باہر کرے گا "۔ انہوں نے عرض کیا، " یا رسول اللہ، خدا کی قسم، عزت والے تو آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے، آپ جب چاہیں اسے نکال سکتے ہیں "۔

رفتہ رفتہ یہ بات تمام انصار میں پھیل گئی اور ان میں ابن ابی کے خلاف سخت غصہ پیدا ہوگیا۔ لوگوں نے ابن ابی سے کہا جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معافی مانگو۔ مگر اس نے تڑخ کر جواب دیا " تم نے کہا کہ ان پر ایمان لاؤ۔ میں ایمان لے آیا تم نے کہا کہ اپنے مال کی زکوٰۃ دو۔ میں نے زکوٰۃ بھی دے دی۔ اب بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ میں محمد کو سجدہ کروں "۔ ان باتوں سے اس کے خلاف مومنین انصار کی ناراضی اور زیادہ بڑھ گئی اور ہر طرف سے اس پر پھٹکار پڑنے لگی۔ جب یہ قافلہ مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگا تو عبداللہ بن ابی کے صاحبزادے، جن کا نام بھی عبداللہ ہی تھا، تلوار سونت کر باپ کے آگے کھڑے ہوگئے اور بولے، " آپ نے کہا تھا کہ مدینہ واپس پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال دے گا، اب آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ عزت آپ کی ہے یا اللہ اور اس کے رسول کی۔ خدا کی قسم، آپ مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو اجازت نہ دیں "۔ اس پر ابن ابی چیخ اٹھا، " خزرج کے لوگو ! ذرا دیکھو، میرا بیٹا ہی مجھے مدینہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے "۔ لوگوں نے یہ خبر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچائی اور آپ نے فرمایا " عبداللہ سے کہو، اپنے باپ کو گھر آنے دے "۔ عبد اللہ نے کہا " ان کا حکم ہے تو اب آپ داخل ہو سکتے ہیں "۔ اس وقت حضور نے حضرت عمر سے فرمایا، " کیوں عمر، اب تمہارا کیا خیال ہے ؟ جس وقت تم نے کہا تھا کہ مجھے اس کو قتل کرنے کی اجازت دیجیے اس وقت اگر تم اسے قتل کر دیتے تو بہت سی ناکیں اس پر پھڑکنے لگتیں۔ آج اگر میں اس کے قتل کا حکم دوں تو اسے قتل تک کیا جا سکتا ہے "۔ حضرت عمر نے عرض کیا، " خدا کی قسم اب مجھے معلوم ہوگیا کہ اللہ کے رسول کی بات میری بات سے زیادہ مبنی بر حکمت تھی "۔ (اس سے دو اہم شرعی مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ جو طرز عمل ابن ابی نے اختیار کیا تھا، اگر کوئی شخص مسلم ملت میں رہتے ہوئے اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو وہ قتل کا مستحق ہے۔ دوسرے یہ کہ محض قانوناً کسی شخص کے مستحق قتل ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرور اسے قتل ہی کردیا جائے۔ ایسے کسی فیصلے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا اس کا قتل کسی عظیم تر فتنے کا موجب تو نہ بن جائے گا۔ حالات سے آنکھیں بند کر کے قانون کا اندھا دھند استعمال بعض اوقات اس مقصد کے خلاف بالکل الٹا نتیجہ پیدا کر دیتا ہے جس کے لیے قانون استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ایک منافق اور مفسد آدمی کے پیچھے کوئی قابل لحاظ سیاسی طاقت موجود ہو تو اسے سزا دے کر مزید فتنوں کو سر اٹھانے کا موقع دینے سے بہتر یہ ہے کہ حکمت اور تدبر کے ساتھ اس اصل سیاسی طاقت کا استیصال کردیا جائے جس کے بل پر وہ شرارت کر رہا ہو۔ یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر حضور نے عبداللہ بن ابی کو اس وقت بھی سزا نہ دی جب آپ اسے سزا دینے پر قادر تھے، بلکہ اس کے ساتھ برابر نرمی کا سلوک کرتے رہے، یہاں تک کہ دو تین سال کے اندر مدینہ میں منافقین کا زور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔)

یہ تھے وہ حالات جن میں یہ سورت، اغلب یہ ہے کہ حضور کے مدینہ پہنچنے کے بعد نازل ہوئی۔
------------------------------------------------

( تفہیم القرآن ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )

سورة الْحَدِیْد : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت 25 کے فقرے وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْد سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :

یہ بالاتفاق مدنی سورت ہے اور اس کے مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ غالباً یہ جنگ احد اور صلح حدیبیہ کے درمیان کسی زمانہ میں نازل ہوئی ہے۔ وہی زمانہ تھا جب مدینہ کی مختصر سی اسلامی ریاست کو ہر طرف سے کفار نے اپنے نرغے میں لے رکھا تھا اور سخت بےسرو سامانی کی حالت میں اہل ایمان کی مٹھی بھر جماعت پورے عرب کی طاقت کا مقابلہ کر رہی تھی۔ اس حالت میں اسلام کو اپنے پردوں سے صرف جانی قربانی ہی درکار نہ تھی بلکہ مالی قربانی بھی درکار تھی، اور اس سورۃ میں اسی قربانی کے لیے پر زور اپیل کی گئی ہے۔ اس قیاس کو آیت 10 مزید تقویت پہنچاتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ فتح کے بعد جو لوگ اپنے مال خرچ کریں گے اور خدا کی راہ میں جنگ کریں گے وہ ان لوگوں کے برابر کبھی نہیں ہو سکتے جو فتح سے پہلے جان و مال کی قربانیاں دیں۔ اور اسی کی تائید حضرت اَنَس کی وہ روایت کرتی ہے جسے ابن مردویہ نے نقل کیا ہے اَلَمْ یَأنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُھُمْ لِذِکْرِ اللہِ کے متعلق فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کے آغاز سے 17 برس بعد اہل ایمان کو جھنجھوڑنے والی یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حساب سے اس کا زمانہ نزول 4 ھ اور 5 ھ کے درمیان قرار پاتا ہے ۔

موضوع اور مضمون :

اس کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین ہے۔ اسلام کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں، جبکہ عرب کی جاہلیت سے اسلام کا فیصلہ کن معرکہ برپا تھا، یہ سورۃ اس غرض کے لیے نازل فرمائی گئی تھی کہ مسلمانوں کو خاص طور پر مالی قربانیوں کے لیے آمادہ کیا جائے اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرائی جائے کہ ایمان محض زبانی اقرار اور کچھ ظاہری اعمال کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے دین کے لیے مخلص ہونا اس کی اصل روح اور حقیقت ہے۔ جو شخص اس روح سے خالی ہو اور خدا اور اس کے دین کے مقابلہ میں اپنی جان و مال اور مفاد کو عزیز تر رکھے اس کا اقرار ایمان کھوکھلا ہے جس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے ہاں نہیں ہے ۔


اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ سامعین کو اچھی طرح یہ احساس ہوجائے کہ کس عظیم ہستی کی طرف سے ان کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد حسب ذیل مضامین سلسلہ وار ارشاد ہوئے ہیں :


ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی راہ خدا میں مال صرف کرنے سے پہلو تہی نہ کرے۔ ایسا کرنا صرف ایمان ہی کے منافی نہیں ہے بلکہ حقیقت کے اعتبار سے بھی غلط ہے۔ کیونکہ یہ مال دراصل خدا ہی کا مال ہے جس پر تم کو خلیفہ کی حیثیت سے تصرف کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ کل یہی مال دوسروں کے پاس تھا، آج تمہارے پاس ہے، اور کل کسی اور کے پاس چلا جائے گا۔ آخر کار اسے خدا ہی کے پاس رہ جانا ہے جو کائنات کی ہر چیز کا وارث ہے۔ تمہارے کام اس مال کا کوئی حصہ اگر آسکتا ہے تو صرف وہ جسے تم اپنے زمانہ تصرف میں خدا کے کام پر لگا دو۔

خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا اگرچہ ہر حال میں قابل قدر ہے، مگر ان قربانیوں کی قدر و قیمت مواقع کی نزاکت کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ ایک موقع وہ ہوتا ہے جب کفر کی طاقت بڑی زبردست ہو اور ہر وقت یہ خطرہ ہو کہ کہیں اسلام اس کے مقابلہ میں مغلوب نہ ہوجائے۔ دوسرا موقع وہ ہوتا ہے جب کفر و اسلام کی کشمکش میں اسلام کی طاقت کا پلڑا بھاری ہوجائے اور ایمان کو دشمنان حق کے مقابلہ میں فتح نصیب ہو رہی ہو۔ یہ دونوں حالتیں اپنی اہمیت کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں اس لیے جو قربانیاں ان مختلف حالتوں میں دی جائیں وہ بھی اپنی قیمت میں برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اسلام کے ضعف کی حالت میں اس کو سربلند کرنے کے لیے جانیں لڑائیں اور مال صرف کریں ان کے درجہ کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو اسلام کے غلبے کی حالت میں اس کو مزید فروغ دینے کے لیے جان و مال قربان کریں۔

راہ حق میں جو مال بھی صرف کیا جائے وہ اللہ کے ذمے قرض ہے، اور اللہ اسے نہ صرف یہ کہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس دے گا بلکہ اپنی طرف سے مزید اجر بھی عنایت فرمائے گا۔

آخرت میں نور انہی اہل ایمان کو نصیب ہوگا جنہوں نے راہ خدا میں اپنا مال خرچ کیا ہو۔ رہے وہ منافق جو دنیا میں اپنے ہی مفاد کو دیکھتے رہے اور جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہی کہ حق غالب ہوتا ہے یا باطل، وہ خواہ دنیا کی اس زندگی میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہے ہوں، مگر آخرت میں ان کو مومنوں سے الگ کردیا جائے گا، نور سے وہ محروم ہوں گے اور ان کا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا۔

مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی طرح نہ ہوجانا چاہیے جن کی عمریں دنیا پرستی میں بیت گئی ہیں اور جن کے دل زمانہ دراز کی غفلتوں سے پتھر ہوگئے ہیں۔ وہ مومن ہی کیا جس کا دل خدا کے ذکر سے نہ پگھلے اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے نہ جھکے ۔

اللہ کے نزدیک صدیق اور شہید صرف وہ اہل ایمان ہیں جو اپنا مال کسی جذبہ ریا کے بغیر صدق دل سے اس کی راہ میں صرف کرتے ہیں۔

دنیا کی زندگی محض چند روز کی بہار اور ایک متاع غرور ہے۔ یہاں کا کھیل کود، یہاں کی دلچسپیاں، یہاں کی آرائش و زیبائش، یہاں کی بڑائیوں پر فخر، اور یہاں کا دھن و دولت، جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوششیں کرتے ہیں، سب کچھ ناپائدار ہے۔ اس کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جو پہلے سر سبز ہوتی ہے، پھر زرد پڑجاتی ہے اور آخر کار بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ پائیدار زندگی دراصل آخرت کی زندگی ہے جہاں بڑے نتائج نکلنے والے ہیں۔ تمہیں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی ہے تو یہ کوشش جنت کی طرف دوڑنے میں صرف کرو۔

دنیا میں راحت اور مصیبت جو بھی آتی ہے اللہ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق آتی ہے۔ مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ مصیبت آئے تو ہمت نہ ہار بیٹھے، اور راحت آئے تو اترا نہ جائے۔ یہ تو ایک منافق اور کافر کا کردار ہے کہ اللہ اس کو نعمت بخشے تو وہ اپنی جگہ پھول جائے، فخر جتانے لگے، اور اسی نعمت دینے والے خدا کے کام میں خرچ کرتے ہوئے خود بھی تنگ دلی دکھائے اور دوسروں کو بھی بخل کرنے کا مشورہ دے۔

اللہ نے اپنے رسول کھلی کھلی نشانیوں اور کتاب اور میزان عدل کے ساتھ بھیجے تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور اس کے ساتھ لوہا بھی نازل کیا تاکہ حق قائم کرنے اور باطل کا سر نیچا کرنے کے لیے طاقت استعمال کی جائے۔ اس طرح اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسانوں میں سے کون لوگ ایسے نکلتے ہیں جو اس کے دین کی حمایت و نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کی خاطر جان لڑا دیں۔ یہ مواقع اللہ نے تمہاری اپنی ہی ترقی و سرفرازی کے لیے پیدا کیے ہیں، ورنہ اللہ اپنے کام کے لیے کسی کا محتاج نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے انبیاء آتے رہے جن کی دعوت سے کچھ لوگ راہ راست پر آئے اور اکثر فاسق بنے رہے۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) آئے جن کی تعلیم سے لوگوں میں بہت سی اخلاقی خوبیاں پیدا ہوئیں، مگر ان کی امت نے رہبانیت کی بدعت اختیار کرلی۔ اب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا ہے۔ ان پر جو لوگ ایمان لائیں گے اور خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے، اللہ ان کو اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور انہیں وہ نور بخشے گا جس سے دنیا کی زندگی میں وہ ہر ہر قدم پر ٹیڑھے راستوں کے درمیان سیدھی راہ صاف دیکھ کر چل سکیں گے۔ اہل کتاب چاہے اپنے آپ کو اللہ کے فضل کا ٹھیکہ دار سمجھتے رہیں، مگر اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، اسے اختیار ہے جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے۔

یہ ہے ان مضامین کا خلاصہ جو اس سورت میں ایک ترتیب کے ساتھ مسلسل بیان ہوئے ہیں ۔
---------------------------------------------

(تفہیم القرآن ، سید ابو الاعلی مودودی ؒ )

سورة الْفَتْح : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت کے الفاظ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا سے ماخوذ ہے۔ یہ محض اس سورت کا نام ہی نہیں بلکہ مضمون کے لحاظ سے بھی اس کا عنوان ہے کیونکہ اس میں اس فتح عظیم پر کلام کیا گیا ہے جو صلح حدیبیہ کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کو عطا فرمائی تھی۔

زمانۂ نزول :


روایات اس پر متفق ہیں کہ اس کا نزول ذی القعدہ 6 ھ میں اس وقت ہوا تھا جب آپ کفار مکہ سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے جا رہے تھے

تاریخ پس منظر :


جن واقعات کے سلسلے میں یہ سورت نازل ہوئی ان کی ابتداء اس طرح ہوئی ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ تشریف لے گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا فرمایا ہے۔ پیغمبر کا خواب ظاہر ہے کہ محض خواب و خیال نہ ہوسکتا تھا وہ تو وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے اور آگے چل کر آیت 27 میں اللہ تعالیٰ نے توثیق کر دی ہے کہ یہ خواب ہم نے اپنے رسول کو دکھایا تھا۔ اس لیے درحقیقت یہ نرا خواب نہ تھا بلکہ ایک الہی اشارہ تھا جس کی پیروی کرنا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ضروری تھا۔


بظاہر اسباب اس ہدایت پر عمل کرنے کی کوئی صورت ممکن نظر نہ آتی تھی۔ کفار قریش نے 6 سال سے مسلمانوں کے لیے بیت اللہ کا راستہ بند کر رکھا تھا اور اس پوری مدت میں کسی مسلمان کو انہوں نے حج اور عمرے تک کے لیے حدود حرم کے قریب نہ پھٹکنے دیا تھا۔ اب آخر یہ کیسے توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ایک جمعیت کے ساتھ مکہ میں داخل ہونے دیں گے۔ عمرے کا احرام باندھ کر جنگی ساز و سامان ساتھ لیے ہوئے نکلنا گویا خود لڑائی کو دعوت دینا تھا اور غیر مسلح جانے کے معنی اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان خطرے میں ڈالنے کے تھے۔ ان حالات میں کوئی شخص یہ نہ سمجھ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس اشارے پر عمل کیا جائے تو کیسے۔


مگر پیغمبر کا منصب یہ تھا کہ اس کا رب جو حکم بھی اس کو دے وہ بےکھٹکے اس پر عمل کر گذرے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بلا تامل اپنا خواب صحابہ کرام کو سنا کر سفر کی تیاری شروع کر دی۔ آس پاس کے قبائل میں بھی آپ نے اعلان عام کرا دیا کہ ہم عمرے کے لیے جا رہے ہیں جو ہمارے ساتھ چلنا چاہے وہ آ جائے۔ جن لوگوں کی نگاہ ظاہری اسباب پر تھی انہوں نے سمجھا کہ یہ لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی آپ کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہ ہوا۔ مگر جو اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھتے تھے انہیں اس امر کی کوئی پروا نہ تھی کہ انجام کیا ہوگا۔ ان کے لیے بس یہ کافی تھا کہ اللہ کا اشارہ ہے اور اس کا رسول تعمیل حکم کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد کوئی چیز ان کو رسول خدا کا ساتھ دینے سے روک نہ سکتی تھی۔ 1400 صحابی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی معیت میں اس نہایت خطرناک سفر پر جانے کے لیے تیار ہوگئے۔

ذی القعدہ 6 ھ کے آغاز میں یہ مبارک قافلہ مدینہ سے روانہ ہوا۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر سب نے عمرے کا احرام باندھا۔ قربانی کے لیے 70 اونٹ ساتھ لیے جن کی گردنوں میں ھدی کی علامت کے طور پر قلادے پڑے ہوئے تھے۔ پر تلوں میں صرف ایک ایک تلوار رکھ لی جس کی تمام زائرین حرم کو عرب کے معروف قاعدے کے مطابق اجازت تھی اور اس کے سوا کوئی سامان جنگ ساتھ نہ لیا۔ اس طرح یہ قافلہ لبیک لبیک کی صدائیں بلند کرتا ہوا بیت اللہ کی طرف چل پڑا۔


اس وقت مکہ اور مدینے کے تعلقات کی جو نوعیت تھی، عرب کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ ابھی پچھلے سال ہی تو شوال 5 ھ میں قریش نے قبائل عرب کی متحدہ طاقت کے ساتھ مدینے پر چڑھائی کی تھی اور غزوہ احزاب کا مشہور معرکہ پیش آ چکا تھا۔ اس لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اتنے بڑے قافلے کے ساتھ اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کے گھر کی طرف روانہ ہوئے تو پورے عرب کی نگاہیں اس عجیب سفر کی طرف مرکوز ہوگئیں اور لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ یہ قافلہ لڑنے کے لیے نہیں جا رہا ہے بلکہ ماہ حرام میں، احرام باندھ کر، ھدی کے اونٹ ساتھ لیے ہوئے بیت اللہ کا طواف کرنے جا رہا ہے اور قطعی طور پر غیر مسلح ہے۔

قریش کے لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس اقدام نے سخت پریشانی میں ڈال دیا۔ ذی القعدہ کا مہینہ ان حرام مہینوں میں سے تھا جو صدہا برس سے عرب میں حج و زیارت کے لیے محترم سمجھے جاتے تھے۔ اس مہینے میں جو قافلہ احرام باندھ کر حج یا عمرے کے لیے جا رہا ہو اسے روکنے کا کسی کو حق نہ تھا، حتی کہ کسی قبیلے سے اس کی دشمنی بھی ہو تو عرب کے مسلمہ قوانین کی رو سے وہ اپنے علاقے سے اس کے گذرنے میں مانع نہ ہوسکتا تھا۔ قریش کے لوگ اس الجھن میں پڑگئے کہ اگر ہم مدینے کے اس قافلے پر حملہ کر کے اسے مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے روکتے ہیں تو پورے ملک میں اس پر شور مچ جائے گا۔ عرب کا ہر شخص پکار اٹھے گا کہ یہ سراسر زیادتی ہے۔ تمام قبائل عرب یہ سمجھیں گے کہ ہم خانہ کعبہ کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ ہر قبیلہ اس تشویش میں مبتلا ہوجائے گا کہ آئندہ کسی کو حج اور عمرہ کرنے دینا یا نہ کرنے دینا اب ہماری مرضی پر موقوف ہے، جس سے بھی ہم ناراض ہو گے اسے بیت اللہ کی زیارت کرنے سے اسی طرح روک دیں گے جس طرح آج مدینے کے ان زائرین کو روک رہے ہیں۔ یہ ایسی غلطی ہوگی کہ جس سے سارا عرب ہم سے منحرف ہوجائے گا۔ لیکن اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اتنے بڑے قافلے کے ساتھ بخیریت اپنے شہر میں داخل ہوجانے دیتے ہیں تو پورے ملک میں ہماری ہوا اکھڑ جائے گی اور لوگ کہیں گے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مرعوب ہوگئے۔ آخرکار بڑی شش و پنج کے بعد ان کی جاہلانہ حمیت ہی ان پر غالب آ کر رہی اور انہوں نے اپنی ناک کی خاطر یہ فیصلہ کرلیا کہ کسی قیمت پر بھی اس قافلے کو شہر میں داخل نہیں ہونے دینا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بنی کعب کے ایک شخص کو مخبر کی حیثیت سے آگے بھیج رکھا تھا تاکہ وہ قریش کے ارادوں اور ان کی نقل و حرکت سے آپ کو بروقت مطلع کرتا رہے۔ جب آپ عسفان پہنچے تو اس نے آکر آپ کو اطلاع دی کہ قریش کے لوگ پوری تیاری کے ساتھ ذی طوی کے مقام پر پہنچ گئے ہیں اور خالد بن ولید کو انہوں نے 200 سواروں کے ساتھ کراع الغمیم کی طرف آگے بھیج دیا ہے تاکہ وہ آپ کا راستہ روکیں۔ قریش کی چال یہ تھی کہ کسی نہ کسی طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں سے چھیڑ چھاڑ کر کے ان کو اشتعال دلائیں اور پھر اگر لڑائی ہوجائے تو پورے ملک میں یہ مشہور کر دیں کہ یہ لوگ دراصل آئے تھے لڑنے کے لیے، مگر بہانہ انہوں نے عمرے کا کیا تھا اور احرام محض دھوکہ دینے کے لیے باندھ رکھا تھا۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ اطلاع پاتے ہی فورا راستہ بدل دیا اور ایک نہایت دشوار گذار راستہ سے سخت مشقت اٹھا کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے جو عین حرم کی سرحد پر واقع تھا۔ یہاں بنی خزاعہ کا سردار بدیل بن ورقا اپنے قبیلے کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ آپ کس غرض کے لیے آئے ہیں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے، صرف بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف ہمارے پیش نظر ہے۔ یہی بات ان لوگوں نے جا کر قریش کے سرداروں کو بتا دی اور ان کو مشورہ دیا کہ وہ ان زائرین حرم کا راستہ نہ روکیں۔ مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور انہوں نے احابیش کے سردار حلی بن علقمہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ کو واپس جانے پر آمادہ کرے۔ سرداران قریش کا مقصد یہ تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی بات نہ مانیں گے تو وہ ان سے ناراض ہو کر پلٹے گا اور پھر احابیش کی پوری طاقت ہمارے ساتھ ہوگی۔ مگر جب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سارا قافلہ احرام بند ہے، ھدی کے اونٹ سامنے کھڑے ہیں جن کی گردنوں میں قلاوے پڑے ہوئے ہیں، اور یہ لوگ لڑنے کے لیے نہیں بلکہ بیت اللہ کا طواف کرنے کے لیے آئے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کوئی بات کیے بغیر مکہ کی طرف پلٹ گیا اور اس نے جا کر قریش کے سرداروں سے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ لوگ بیت اللہ کی عظمت مان کر اس کی زیارت کے لیے آئے ہیں اگر تم ان کو روکو گے تو احابیش اس کام میں تمہارا ساتھ ہرگز نہ دیں گے۔ ہم تمہارے حلیف اس لیے نہیں بنے ہیں کہ تم حرمتوں کو پامال کرو اور ہم اس میں تمہاری حمایت کریں۔


پھر قریش کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی آیا اور اس نے اپنے نزدیک بڑی اونچ نیچ سمجھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ آپ مکہ میں داخل ہونے کے ارادے سے باز آجائیں، مگر آپ نے اس کو بھی وہی جواب دیا جو بنی خزاعہ کے سردار کو دیا تھا کہ ہم لڑائی کے ارادے سے نہیں آئے ہیں بلکہ بیت اللہ کی تعظیم کرنے والے بن کر ایک دینی فریضہ بجا لانے کے لیے آئے ہیں۔ واپس جا کر عروہ نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ میں قیصر و کسری اور نجاشی کے درباروں میں بھی گیا ہوں، مگر خدا کی قسم، میں نے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس طرح محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فدائی دیکھا ہے ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے ہاں بھی نہیں دیکھا۔ ان لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ محمد وضو کرتے ہیں تو ان کے اصحاب پانی کا ایک قطرہ تک زمین پر نہیں گرنے دیتے اور سب اپنے جسم پر کپڑوں پر مل لیتے ہیں۔ اب تو لوگ سوچ لو کہ تمہارا مقابلہ کس سے ہے۔

اس دوران جبکہ ایلچیوں کی آمدورفت اور گفت و شنید کا یہ سلسلہ جاری تھا، قریش کے لوگ بار بار یہ کوشش کرتے رہے کہ چپکے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کیمپ پر چھاپے مار کر صحابہ کو اشتعال دلائیں اور کسی نہ کسی طرح ان سے کوئی ایسا اقدام کرا لیں جس سے لڑائی کا بہانہ ہاتھ آ جائے۔ مگر ہر مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے صبر و ضبط اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حکمت و فراست نے ان کی ساری تدبیروں کو ناکام کردیا۔ ایک دفعہ ان کے چالیس پچاس آدمی رات کے وقت آئے اور مسلمانوں کے پڑاؤ پر پتھر اور تیر برسانے لگے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے ان سب کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے پیش کردیا۔ مگر آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا۔ ایک اور موقع پر تنعیم کی طرف سے 80 آدمی عین نماز فجر کے وقت آئے اور انہوں نے اچانک چھاپہ مار دیا۔ یہ لوگ بھی پکڑے گئے، مگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں بھی رہا کردیا۔ اس طرح قریش کی اپنی ہر چال اور ہر تدبیر میں ناکامی ہوتی چلی گئی۔


آخر کار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود اپنی طرف سے حضرت عثمان غنی (رض) کو ایلچی بنا کر مکہ بھیجا اور ان کے ذریعے سے سرداران قریش کو یہ پیغام دیا کہ ہم جنگ کے لیے نہیں بلکہ زیارت کے لیے ھدی ساتھ لے کر آئے ہیں، طواف اور قربانی کر کے واپس چلے جائیں گے۔ مگر وہ لوگ نہ مانے اور حضرت عثمان (رض) کو مکہ ہی میں روک لیا۔ اس دوران یہ خبر اڑ گئی کہ حضرت عثمان (رض) قتل کر دیے گئے ہیں، اور ان کے واپس نہ آنے سے مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ یہ خبر سچی ہے۔ اب مزید تحمل کا کوئی موقع نہ تھا۔ مکہ میں داخلہ کی بات تو دوسری تھی، اس کے لیے طاقت کا استعمال ہرگز پیش نظر نہ تھا۔ مگر جب نوبت سفیر کے قتل تک پہنچ گئی تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا کہ مسلمان جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کیا اور ان سے اس بات پر بیعت لی کہ اب یہاں سے ہم مرتے دم تک پیچھے نہ ہٹیں گے۔ موقع کی نزاکت نگاہ میں ہو تو آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کوئی معمولی بیعت نہ تھی۔ مسلمان صرف 1400 تھے اور کسی سامان جنگ کے بغیر آئے تھے۔ اپنے مرکز سے ڈھائی سو میل دور، عین مکہ کی سرحد پر ٹھیرے ہوئے تھے، جہاں دشمن اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوسکتا تھا اور گرد و پیش سے اپنے حامی قبیلوں کو لا کر بھی انہیں گھیرے میں لے سکتا تھا۔ اس کے باوجود ایک شخص کے سوا پورا قافلہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر مرنے مارنے کی بیعت کرنے کے لیے بلا تامل آمادہ ہوگیا۔ اس سے بڑھ کر ان لوگوں کو اخلاص ایمانی اور راہ خدا میں ان کی فدائیت کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔ یہی وہ بیعت ہے جو بیعت رضوان کے نام سے تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔


بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمان (رض) کے قتل کی خبر غلط تھی۔ وہ خود بھی واپس آ گئے اور قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو کی قیادت میں ایک وفد بھی صلح کی بات چیت کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کیمپ میں پہنچ گیا۔ اب قریش اپنی اس ضد سے ہٹ گئے تھے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو سرے سے مکہ میں داخل ہی نہ ہونے دیں گے۔ البتہ اپنی ناک بچانے کے لیے ان کا صرف یہ اصرار تھا کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں، آئندہ سال آپ عمرے کے لیے آ سکتے ہیں۔ طویل گفت و شنید کے بعد جن شرائط پر صلح نامہ لکھا گیا وہ یہ تھیں : 1. دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی، اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ اور علانیہ کوئی کاروائی نہ کی جائے گی۔


2. اس دوران قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس جائے گا اسے آپ واپس کر دیں گے اور آپ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا اسے وہ واپس نہ کریں گے۔


3. قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا اسے اس کا اختیار ہوگا۔

4. محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سال واپس جائیں گے اور آئندہ سال وہ عمرے کے لیے آ کر تین دن مکہ میں ٹھیر سکتے ہیں، بشرطیکہ پر تلوں میں صرف ایک ایک تلوار لے کر آئیں اور کوئی سامان حرب ساتھ نہ لائیں۔ ان تین دنوں میں اہل مکہ ان کے لیے شہر خالی کر دیں گے (تاکہ کسی تصادم کی نوبت نہ آئے)۔ مگر واپس جاتے ہوئے وہ یہاں کے کسی شخص کو اپنے ساتھ لے جانے کے مجاز نہ ہوں گے۔

جس وقت اس معاہدے کی شرائط طے ہو رہی تھیں، مسلمانوں کا پورا لشکر سخت مضطرب تھا۔ کوئی شخص بھی ان مصلحتوں کو نہیں سمجھ رہا تھا جنہیں نگاہ میں رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ شرائط قبول فرما رہے تھے۔ کسی کی نظر اتنی دور رس نہ تھی کہ اس صلح کے نتیجے میں جو خیر عظیم رونما ہونے والی تھی اسے دیکھ سکے۔ کفار قریش اسے اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے اور مسلمان اس پر بےتاب تھے کہ ہم آخر دب کر یہ ذلیل شرائط کیوں قبول کریں۔ حضرت عمر فاروق (رض) جیسے بالغ النظر مدبر تک کا یہ حال تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد کبھی میرے دل میں شک نے راہ نہ پائی تھی، مگر اس موقع پر میں بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا۔ وہ بےچین ہو کر حضرت ابو بکر صدیق (رض) کے پاس گئے اور کہا " کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ پھر آخر ہم اپنے دین کے معاملے میں یہ ذلت کیوں اختیار کریں؟" انہوں نے جواب دیا " اے عمر! وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا"۔ پھر ان سے صبر نہ ہوا جاکر یہی سوالات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بھی کیے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی ان کو ویسا ہی جواب دیا جیسا حضرت ابو بکر (رض) نے دیا تھا۔ بعد میں حضرت عمر (رض) مدتوں اس پر نوافل اور صدقات ادا کرتے رہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس گستاخی کو معاف فرما دے جو اس روز ان سے شان رسالت میں ہوگئی تھی۔


سب سے زیادہ دو باتیں اس معاہدے میں لوگوں کو بری طرح کھل رہی تھیں۔ ایک شرط نمبر 2 جس کے متعلق لوگ کہتے تھے کہ یہ صریح نامساوی شرط ہے۔ اگر مکہ سے بھاگ کر آنے والوں کو ہم واپس کریں تو مدینہ سے بھاگ کر جانے والے کو کیوں نہ واپس کریں؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس پر فرمایا جو ہمارے ہاں سے بھاگ کر ان کے پاس چلا جائے وہ آخر ہمارے کس کام کا ہے؟ اللہ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔ اور جو ان کے ہاں سے بھاگ کر ہمارے پاس آ جائے اسے اگر ہم واپس کر دیں گے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی کوئی اور صورت پیدا فرما دے گا۔ دوسری چیز جو لوگوں کے دلوں میں کھٹک رہی تھی وہ چوتھی شرط تھی۔ مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ اسے ماننے کے معنی یہ ہیں کہ تمام عرب کے سامنے گویا ہم ناکام واپس جا رہے ہیں۔ مزید براں یہ سوال بھی دلوں میں خلش پیدا کر رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خواب میں دیکھا تھا کہ ہم مکہ میں طواف کر رہے ہیں، مگر یہاں تو ہم طواف کیے بغیر واپس جانے کی شرط مان رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس پر لوگوں کو سمجھایا کہ خواب میں آخر اسی سال طواف کرنے کی صراحت تو نہ تھی۔ شرائط صلح کے مطابق اس سال نہیں تو اگلے سال انشاء اللہ طواف ہوگا۔

جلتی پر تیل کا کام جس واقعہ نے کیا وہ یہ تھا کہ عین اس وقت جب صلح کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، سہیل بن عمرو کے اپنے صاحبزادے ابو جندل، جو مسلمان ہوچکے تھے اور کفار مکہ نے ان کو قید کر رکھا تھا، کسی نہ کسی طرح بھاگ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کیمپ میں پہنچ گئے۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فریاد کی کہ مجھے اس حبس بےجا سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے لیے یہ حالت دیکھ کر ضبط کرنا مشکل ہوگیا۔ مگر سہیل بن عمرو نے کہا کہ صلح نامے کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو، شرائط تو ہمارے اور آپ کے درمیان طے ہوچکی ہیں، اس لیے اس لڑکے کو میرے حوالے کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی حجت تسلیم فرمالی اور ابو جندل ظالموں کے حوالے کر دیے گئے۔


صلح سے فارغ ہو کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ اب یہیں قربانی کر کے سر منڈواؤ اور احرام ختم کر دو۔ مگر کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین مرتبہ حکم دیا، مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم پر اس وقت رنج و غم اور دل شکستگی کا ایسا شدید غلبہ تھا کہ انہوں نے اپنی جگہ سے حرکت نہ کی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پورے دور رسالت میں اس ایک موقع کے سوا کبھی یہ صورت پیش نہ آئی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کو حکم دیں اور وہ اس کی تعمیل کے لیے دوڑ نہ پڑیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس پر سخت صدمہ ہوا اور آپ نے اپنے خیمے میں جا کر ام المومنین حضرت ام سلمہ سے اپنی کبیدہ خاطری کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ بس خاموشی کے ساتھ تشریف لے جا کر خود اپنا اونٹ ذبح فرمائیں اور حجام کو بلا کر اپنا سر منڈوا لیں۔ اس کے بعد لوگ خود بخود آپ کے عمل کی پیروی کریں گے اور سمجھ لیں گے کہ جو فیصلہ ہوچکا ہے وہ اب بدلنے والا نہیں ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپ کے فعل کو دیکھ کر لوگوں نے بھی قربانیاں کرلیں، سر منڈوا لیے یا بال ترشوا لیے اور احرام سے نکل آئے۔ مگر دل ان کے غم سے کٹے جا رہے تھے۔


اس کے بعد جب یہ قافلہ حدیبیہ کی صلح کو اپنی شکست اور ذلت سمجھتا ہوا مدینہ کی طرف واپس جا رہا تھا، اس وقت ضجنان کے مقام پر (یا بقول بعض کراع الغمیم کے مقام پر) یہ سورت نازل ہوئی، جس نے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ صلح جس کو وہ شکست سمجھ رہے ہیں دراصل فتح عظیم ہے۔ اس کے نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے جو میرے لیے دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔ پھر یہ سورت آپ نے تلاوت فرمائی اور خاص طور پر حضرت عمر (رض) کو بلا کر اسے سنایا کیونکہ وہ سب سے زیادہ رنجیدہ تھے۔



اگرچہ اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن کر ہی مطمئن ہوگئے تھے، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گذری تھی کہ اس صلح کے فوائد ایک ایک کرتے کھلتے چلے گئے یہاں تک کہ کسی کو بھی اس امر میں شک نہ رہا کہ فی الواقع یہ صلح ایک عظیم الشان فتح تھی۔


1. اس میں پہلی مرتبہ عرب میں اسلامی ریاست کا وجود باقاعدہ تسلیم کیا گیا۔ اس سے پہلے تک عربوں کی نگاہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کی حیثیت محض قریش اور قبائل عرب کے خلاف خروج کرنے والے ایک گروہ کی تھی اور ان کو برادری سے باہر (Outlaw ) سمجھتے تھے۔ اب خود قریش ہی نے آپ سے معاہدہ کر کے سلطنت اسلامی کے مقبوضات پر آپ کا اقتدار مان لیا اور قبائل عرب کے لیے یہ دروازہ بھی کھول دیا کہ ان دونوں سیاسی طاقتوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں حلیفانہ معاہدات کرلیں ۔


2. مسلمانوں کے لیے زیارت بیت اللہ کا حق تسلیم کر کے قریش نے آپ سے آپ گویا یہ بھی مان لیا کہ اسلام کوئی بےدینی نہیں ہے جیسا کہ وہ اب تک کہتے چلے آ رہے تھے، بلکہ عرب کے مسلمہ ادیان میں سے ایک ہے اور دوسرے عربوں کی طرح اس کے پیرو بھی حج و عمرہ کے مناسک ادا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس سے اہل عرب کے دلوں کی وہ نفرت کم ہوگئی جو قریش کے پروپیگنڈا سے اسلام کے خلاف پیدا ہوگئی تھی۔


3. دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوجانے سے مسلمانوں کو امن میسر آ گیا اور انہوں نے عرب کے تمام اطراف و نواح میں پھیل کر اس تیزی سے اسلام کی اشاعت کی کہ صلح حدیبیہ سے پہلے پورے 19 سال میں اتنے آدمی مسلمان نہ ہوئے تھے جتنے اس کے بعد دو سال کے اندر ہوگئے۔ یہ اسی صلح کی برکت تھی کہ یا تو وہ وقت تھا جب حدیبیہ کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ 1400 آدمی آئے تھے، یا دو ہی سال کے بعد جب قریش کی عہد شکنی کے نتیجے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ پر چڑھائی کی تو دس ہزار کا لشکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمرکاب تھا۔


4. قریش کی طرف سے جنگ بند ہوجانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ موقع مل گیا کہ اپنے مقبوضات میں اسلامی حکومت کو اچھی طرح مستحکم کرلیں اور اسلامی قانون کے اجراء سے مسلم معاشرے کو ایک مکمل تہذیب و تمدن بنا دیں۔ یہی وہ نعمت عظمی ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورۃ مائدہ کی آیت 3 میں فرمایا کہ " آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے"۔


5. قریش سے صلح کے بعد جنوب کی طرف سے اطمینان نصیب ہوجانے کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں نے شمال{زیر} عرب اور وسط عرب کی تمام مخالف طاقتوں کو با آسانی مسخر کرلیا۔ صلح حدیبیہ پر تین ہی مہینے گذرے تھے کہ یہودیوں کا سب سے بڑا گڑھ خیبر فتح ہوگیا اور اس کے بعد فدک، وادی القری، تیما اور تبوک کی یہودی بستیاں اسلام کے زیر نگیں آتی چلی گئیں۔ پھر وسط عرب کے وہ تمام قبیلے بھی، جو یہود و قریش کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھتے تھے، ایک ایک کر کے تابع فرمان ہوگئے۔ اس طرح حدیبیہ کی صلح نے دو ہی سال کے اندر عرب میں قوت کا توازن اتنا بدل دیا کہ قریش اور مشرکین کی طاقت دب کر رہ گئی اور اسلام کا غلبہ یقینی ہوگیا۔

یہ تھیں وہ برکات جو مسلمانوں کو اس صلح سے حاصل ہوئیں جسے وہ اپنی ناکامی اور قریش اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے۔ سب سے زیادہ جو چیز اس صلح میں مسلمانوں کو ناگوار ہوئی تھی اور جسے قریش نے اپنی جیت سمجھا تھا کہ مکہ سے بھاگ کر مدینہ جانے والوں کو واپس کردیا جائے گا اور مدینہ سے بھاگ کر مکہ جانے والوں کو واپس نہ کیا جائے گا۔ مگر تھوڑی ہی مدت گذری تھی کہ یہ معاملہ بھی قریش پر الٹا پڑا اور تجربہ نے بتا دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نگاہ دور رس نے اس کے کن نتائج کو دیکھ کر یہ شرط قبول کی تھی۔ صلح کے کچھ دنوں بعد مکہ سے ایک مسلمان ابو بصیر قریش کی قید سے بھاگ نکلے اور مدینہ پہنچے۔ قریش نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے معاہدے کے مطابق انہیں ان لوگوں کے حوالے کردیا جو ان کی گرفتاری کے لیے مکہ سے بھیجے گئے تھے۔ مگر مکہ جاتے ہوئے راستے میں وہ پھر ان کی گرفت سے بچ نکلے اور ساحل بحیرہ احمر کے اس راستے پر جا بیٹھے جس سے قریش کے تجارتی قافلے گذرتے تھے۔ اس کے بعد جس مسلمان کو بھی قریش کی قید سے بھاگ نکلنے کا موقع ملتا وہ مدینہ جانے کے بجائے ابو بصیر کر ٹھکانے پر پہنچ جاتا، یہاں تک کہ 70 آدمی جمع ہوگئے اور انہوں نے قریش کے قافلوں پر چھاپے مار مار کر ان کا ناطقہ تنگ کردیا۔ آخرکار قریش نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو مدینہ بلا لیں اور حدیبیہ کے معاہدے کی وہ شرط آپ سے آپ ساقط ہوگئی۔


یہ تاریخی پس منظر نگاہ میں رکھ کر اس سورت کو پڑھا جائے تو اسے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔


( تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

سورة الْاَحْزَاب : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اورمباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام آیت ٢٠ کے فقرہ یَحْسَبُونَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْھَبُوْا سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :

اس سورۃ کے مضامین تین اہم واقعات سے بحث کرتے ہیں۔ ایک غزوۂ احزاب جو شوال ٥ ھجری میں پیش آیا۔ دوسرے غزوۂ بنی قُرَیْظَہ جو ذی القعدہ ٥ ھجری میں پیش آیا۔ تیسرے حضرت زینب سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح جو اسی سال ذی القعدہ میں ہوا۔ ان تاریخی واقعات سے سورۃ کا زمانۂ نزول ٹھیک متعین ہوجاتا ہے۔

تاریخی پس منظر :

جنگ اُحُد (شوال ٣ ھ) میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کیے ہوئے تیر اندازوں کی غلطی سے لشکر اسلام کو جو شکست نصیب ہوگئی تھی اس کی وجہ سے مشرکین عرب، یہود اور منافقین کی ہمتیں بہت بڑھ گئی تھیں اور نہیں امید بندھ چلی تھی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان بڑھتے ہوئے حوصلوں کا اندازہ ان واقعات سے ہوسکتا ہے جو احد کے بعد پہلے ہی سال میں پیش آئے۔ جنگ احد پر دو مہینوں سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ نجد کے قبیلۂ بنی اَسَدْ نے مدینہ طیبہ پر چھاپا مارنے کی تیاریاں کیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی روک تھام کے لیے سَرِیَّۂ ابو سَلَمہ (اصطلاح میں سَرِیہ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود شریک نہ ہوتے تھے۔ اور غزْوہ اس جنگ یا مہم کو کہا جاتا ہے جس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود قیادت فرماتے تھے ) بھیجنا پڑا۔ پھر صفر ٤ ھ میں قبائل عَضَل اور قارَہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند آدمی مانگے تاکہ وہ ان علاقہ میں جا کر لوگوں کو دین اسلام کی تعلیم دیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ اصحاب کو ان کے ساتھ کردیا۔ مگر رجیع (جدہ اور رابغ کے درمیان ) پہنچ کر وہ لوگ قبیلۂ ھُذَیل کے کفار کو ان بےبس مبلغین پر چڑھا لائے، ان میں سے چار کو قتل کردیا، اور دو صاحبوں (حضرت خُبَیب بن عَدِی اور حضرت زید بن الدَّثِنَّہ ) کو لے جا کر مکۂ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ پھر اسی ماہ صفر میں بنی عامر کے ایک سردار کی درخواست پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اور وفد جو چالیس (یا بقول بعض ٧٠) انصاری نوجوانوں پر مشتمل تھا، نجد کی طرف روانہ کیا۔ مگر ان کے ساتھ بھی غداری کی گئی اور بنی سلیم کے قبائل عُصَیَّہ اور رِعْل اور ذکْوان نے بِئر مَعُونہ کے مقام پر اچانک نرغہ کر کے ان سب کو قتل کردیا۔ اسی دوران میں مدینے کا یہودی قبیلہ بنی النَّضِیر دلیر ہو کر مسلسل بد عہدیاں کرتا رہا، یہاں تک کہ ربیع الاوّل ٤ ھ میں اس نے خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کر دینے کی سازش تک کر ڈالی۔ پھر جمادی الاولیٰ ٤ ھ میں بنی غَطَفان کے دو قبیلوں، بنو ثَعْلَبَہ اور بنو مُحَارِب نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں کیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خود ان کی روک تھام کے لیے جانا پڑا۔ اس طرح جنگ اُحْد کی شکست سے جو ہوا اکھڑی تھی وہ مسلسل سات آٹھ مہینے تک اپنا رنگ دکھاتی رہی۔

لیکن وہ صرف محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عزم و تدبر اور صحابۂ کرام کا جذبۂ فدا کاری تھا جس نے تھوڑی مدت کے اندر ہی حالات کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ عربوں کے معاشی مقاطعہ نے اہل مدینہ کے لیے جینا دشوار کر رکھا تھا۔ گرد و پیش کے تمام مشرک قبائل چیرہ دست ہو رہے تھے۔ خود مدینہ کے اندر یہود اور منافقین مار آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر ان مٹھی بھر مومنین صادقین نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کی قیادت میں پے درپے ایسے اقدامات کیے جن سے عرب میں اسلام کا رعب صرف بحال ہی نہیں ہوگیا، بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔

جنگ احزاب سے پہلے کے غزوات :

 ان میں سے اولین اقدام وہ تھا جو جنگ اُحُد کے فوراً ہی بعد کیا گیا۔ جنگ کے ٹھیک دوسرے روز جبکہ بکثرت مسلمان زخمی تھے اور بہت سے عزیز ترین اقارب کی شہادت پر کہرام برپا تھا اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی زخمی اور حضرت حمزہ کی شہادت پر دلفگار تھے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کے فدائیوں کو پکارا کہ لشکر کفار کے تعاقب میں چلنا ہے تاکہ وہ کہیں راستے سے پلٹ کر پھر مدینے پر حملہ آور نہ ہوجائیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اندازہ بالکل صحیح تھا کہ کفار قریش ہاتھ آئی ہوئی فتح کا کوئی فائدہ اٹھائے بغیر واپس تو چلے گئے ہیں، لیکن راستے میں جب کسی جگہ ٹھہریں گے تو اپنی اس حماقت پر نادم ہوں گے اور دوبارہ مدینے پر چڑھ آئیں گے۔ اس بناء پر آپ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا اور فوراً ٣٦٠ جاں نثار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ مکہ کے راستے میں جب حَمْرأ الاسد پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین روز تک پڑاؤ کیا تو ایک ہمدرد غیر مسلم کے ذریعہ سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ ابو سُفْیان اپنے ٢٩٧٨ آدمیوں کے ساتھ مدینے سے ٣٦ میل دور الرَّوحأ کے مقام پر ٹھہرا ہوا تھا اور یہ لوگ فی الواقع اپنی غلطی کو محسوس کر کے پھر پلٹ آنا چاہتے تھے، لیکن یہ سن کر ان کی ہمت ٹوٹ گئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لشکر لیے ہوئے ان کے تعاقب میں چلے آ رہے ہیں۔ اس کارروائی کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوا کہ قریش کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہوگئے، بلکہ گرد و پیش کے دشمنوں کو بھی یہ معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کی قیادت ایک انتہائی بیدار مغز اور اولوالعزم ہستی کر رہی ہے اور مسلمان اس کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیا رہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، صفحات ٢٢٩۔ ٢٣٠۔ ٣٠٣)

پھر جوں ہی بنی اسد نے مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاریاں شروع کیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخبروں نے بروقت آپ کو ان کے ارادوں سے باخبر کردیا۔ قبل اس کے کہ وہ چڑھ آتے، آپ نے حضرت ابو سَلَمہ (اُمّ المومنین حضرت ام سلمہ کے پہلے شوہر) کی قیادت میں ڈیڑھ سو آدمیوں کا ایک لشکر ان کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا۔ یہ فوج اچانک ان کے سر پر پہنچ گئی۔ بدحواسی کے عالم میں وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ان کا سارا مال اسباب مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا۔

اس کے بعد بنی النَّضیر کی باری آئی۔ جس روز انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اسی روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینے سے نکل جاؤ، اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کردیا جائے گا۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن ابیّ نے ان کو تڑی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دو، میں دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا، بنی قُرَیظہ تمہاری مدد کریں گے اور نجد سے بنی غَطَفان بھی تمہاری مدد کے لیے آئیں گے۔ ان باتوں میں آ کر انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہلا بھیجا کہ ہم اپنا علاقہ نہیں چھوڑیں گے، آپ سے جو کچھ ہوسکے کرلیجئے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوٹس کی میعاد ختم ہوتے ہی ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے حامیوں میں سے کسی کی یہ ہمت نہ پڑی کہ مدد کو آتا۔ آخر کار انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیئے کہ ان میں سے ہر تین آدمی ایک اونٹ پر جو کچھ لاد کرلے جا سکتے ہیں لے جائیں اور باقی سب کچھ مدینہ ہی میں چھوڑ جائیں گے۔ اس طرح مضافات مدینہ کا وہ پورا محلہ جس میں بنی نضیر رہتے تھے، ان کے باغات اور گڑھیوں اور سر و سامان سمیت مسلمانوں کے ہاتھ آگیا اور اس بد عہد قبیلے کے لوگ خیبر، وادی القُریٰ اور شام میں تتّر بتّر ہوگئے۔

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی غَطَفان کی طرف توجہ کی جو مدینے پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہے تھے۔ آپ چار سو کا لشکر لے کر نکلے اور ذات الرِّقاع کے مقام پر اس کو جالیا۔ اس اچانک حملے نے ان کے حواس باختہ کر دیے اور کسی جنگ کے بغیر وہ اپنے گھر بار اور مال اسباب چھوڑ کر پہاڑوں میں منتشر ہوگئے۔

اس کے بعد شعبان ٤ ہجری میں آپ ابو سفیان کے اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے نکلے جو اس نے احد سے پلٹتے ہوئے دیا تھا۔ خاتمۂ جنگ پر اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی طرف رخ کر کے اعلان کیا تھا کہ ان موعدکم بدر للعام المقبل (آئندہ سال بدر کے مقام پر ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہوگا) اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں ایک صحابی کے ذریعہ سے یہ اعلان کرا دیا تھا کہ نعم، ھی بیننا وبینک موعد (ٹھیک ہے، یہ بات ہمارے اور تیرے درمیان طے ہوگئی )۔ اس قرارداد کے مطابق طے شدہ وقت پر آپ ١٥ سو صحابیوں کو لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ ادھر سے ابو سفیان دو ہزار کا لشکر لے کر چلا مگر مُرَّ الظَّہران (موجودہ وادی فاطمہ ) سے آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر میں آٹھ دن اس کا انتظار کیا اور اس دوران میں مسلمان تجارت کر کے ایک درہم کے دو درہم کماتے رہے۔ اس واقعہ سے وہ دھاک جو اُحُد میں اکھڑی تھی پہلے سے زیادہ جم گئی۔ اس نے پورے عرب پر یہ بات کھول دی کہ اب تنہا قریش محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (اس کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، ص ٣٠٤)

اس دھاک میں ایک اور واقعہ نے مزید اضافہ کیا۔ عرب اور شام کی سرحد پر دومتہ الجَنْدَل (موجودہ الجَوف ) ایک اہم مقام تھا جہاں سے عراق اور مصر و شام کے درمیان عرب کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ اس مقام کے لوگ قافلوں کو تنگ کرتے اور اکثر لوٹ لیتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ربیع الاول ٥ ھ میں ایک ہزار کا لشکر لے کر ان کی تادیب کے لیے خود تشریف لے گئے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے کی ہمت نہ کرسکے اور بستی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اس سے پورے شمالی عرب پر اسلام کی ہیبت بیٹھ گئی اور قبائل نے یہ سمجھ لیا کہ مدینے میں جو زبردست طاقت پیدا ہوئی ہے اس کا مقابلہ اب ایک دو قبیلوں کے بس کا کام نہیں ہے۔

غزوۂ احزاب :

یہ حالات تھے جن میں غزوۂ احزاب پیش آیا، یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا ایک مشترک حملہ تھا جو مدینے کی اس طاقت کو کچل دینے کے لئے کیا گیا تھا۔۔۔ اس کے تحریک بنی النَّضِیر کے ان لیڈروں نے کے تھی جو جلا وطن ہو کر خیبر میں مقیم ہوگئے تھے۔ انہوں نے دورہ کر کے قریش اور غطفان اور ہُذَیل اور دوسرے بہت سے قبائل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب مل کر بہت بڑی جمیعت کے ساتھ مدینے پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ ان کی کوششوں سے شوال ٥ ھ میں قبائل عرب کی اتنی بڑی جمیعت اس چھوٹی سی بستی پر حملہ آور ہوگئی جو اس سے پہلے عرب میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی۔ اس میں شمال کی طرف بنی النَّضِیر اور قَیْنقُاع کے وہ یہودی آئے جو مدینے سے جلا وطن ہو کر خیبر اور وادی القُریٰ میں آباد ہوئے تھے۔ مشرق کی طرف سے غَطَفان کے قبائل (بنو سُلَیم، فَزارہ، مُرَّہ، اَشجع، سَعد اور اَسَد وغیرہ) نے پیش قدمی کی۔ اور جنوب کی طرف سے قریش اپنے حلیفوں کی ایک بھاری جمیعت لے کر آگے بڑھے۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد دس بارہ ہزار تھی۔

یہ حملہ اگر اچانک ہوتا تو سخت تباہ کن ہوتا۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ میں بےخبر بیٹھے ہوئے نہ تھے بلکہ آپ کے خبر رساں اور تحریک اسلامی کے ہمدرد اور متاثرین جو تمام قبائل میں موجود تھے، آپ کو دشمنوں کی نقل و حرکت سے برابر مطلع کرتے رہتے تھے (یہ قوم پرست جتھوں کے مقابلے میں ایک نظریاتی تحریک کی فوقیت کا ایک اہم سبب ہوتا ہے۔ قوم پرست جتھے صرف اپنی قوم کے افراد کی تائید و حمایت ہی پر انحصار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک اصولی و نظریاتی تحریک اپنی دعوت سے ہر سمت میں بڑھتی ہے اور خود ان جتھوں کے اندر سے اپنے حامی نکال لاتی ہے۔ ) قبل اس کے کہ یہ جم غفیر آپ کے شہر پہنچتا، آپ نے چھ دن کے اندر مدینہ کے شمال غربی رخ پر ایک خندق کھدوا لی اور کوہ سَلْع کو پشت پر لے کر تین ہزار فوج کے ساتھ خندق کی پناہ میں مدافعت کے لیے تیار ہوگئے۔ مدینہ کے جنوب میں باغات اس کثرت سے تھے (اور اب بھی ہیں ) کہ اس جانب سے کوئی حملہ اس پر نہ ہوسکتا تھا۔ مشرق میں حرات (لادے کی چٹانیں ) ہیں جن پر سے کوئی اجتماعی فوج کشی آسانی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہی کیفیت مغربی جنوبی گوشے کی بھی ہے۔ اس لیے حملہ صرف اُحُد کے مشرقی اور مغربی گوشوں سے ہوسکتا تھا اور اسی جانب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کھدوا کر شہر کو محفوظ کرلیا تھا۔ یہ چیز سرے سے کفار کے جنگی نقشے میں تھی ہی نہیں کہ انہیں مدینے کے باہر خندق سے سابقہ پیش آئے گا، کیونکہ اہل عرب اس طریق دفاع سے ناآشنا تھے۔ ناچار انہیں جاڑے کے زمانے میں ایک طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ گھروں سے تیار ہو کر نہیں آئے تھے۔

اس کے بعد کفار کے لیے صرف ایک ہی تدبیر باقی رہ گئی تھی، اور وہ یہ کہ بنی قریظہ کے یہودی قبیلے کو غداری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا۔ چونکہ اس قبیلے سے مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سے بےفکر ہو کر اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھجوا دیے تھے جو بنی قریظہ کی جانب تھیں اور ادھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ کیا تھا۔ کفار نے اسلامی دفاع کے اس کمزور پہلو کو بھانپ لیا۔ ان کی طرف سے بنی النَّضیر کا یہودی سردار حُیّی بن اَخْطَب بنی قریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ ابتداءً انہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جب ابن اخطب نے ان سے کہا کہ " دیکھو، میں اس وقت عرب کی متحدہ طاقت اس شخص پر چڑھا لایا ہوں، یہ اسے ختم کر دینے کا نادر موقع ہے، اس کو اگر تم نے کھو دیا تو پھر دوسرا کوئی موقع نہ مل سکے گا "، تو یہودی ذہن کی اسلام دشمنی اخلاق کے پاس و لحاظ پر غالب آ گئی اور بنی قریظہ عہد توڑنے پر آمادہ ہوگئے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس معاملے سے بھی بےخبر نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً انصار کے سرداروں (سعد بن غُبّادہ، سعد بن معاذ، عبداللہ بن رواعہ اور خَوّات بن جبیر ) کو ان کے پاس تحقیق حال اور فہمائش کے لیے بھیجا۔ چلتے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قریظہ عہد پر قائم رہیں تو آ کر سارے لشکر کے سامنے علی ا لاعلان یہ خبر سنا دینا۔ لیکن اگر وہ نقض عہد پر مصر ہوں صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سن کر پست ہمت نہ ہوجائیں۔ یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سے کہہ دیا کہ لا عقد بیننا وبین محمد ولا عھد۔ " ہمارے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی عہد پیما نہیں ہے " ،۔ اس جواب کو سن کر وہ لشکر اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کردیا : عَضَل وقارَہ۔ یعنی قبیلہ عَضَل وقارَہ نے رجیع کے مقام پر مبلغین اسلام کے وفد سے جو غداری کی تھی، وہی کچھ اب بنی قریظہ کر رہے ہیں۔

یہ خبر بہت جلدی مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہوگیا۔ کیونکہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آ گئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصہ خطرے میں پڑگیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچے بھی اسی جانب تھے۔ اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہوگئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کر دیے۔ کسی نے کہا کہ " ہم سے تو وعدے تو قیصر و کسریٰ کے ملک فتح ہوجانے کے کیے جا رہے تھے، اور حال یہ ہے کہ ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔ " کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذ سے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑگئے ہیں ہمیں جا کر ان کی حفاظت کرنی ہے۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کرلو اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے حوالے کر دو۔ یہ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہوگیا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نفاق موجود تھا۔ صرف صادق و مخلص اہل ایمان ہی تھے جو اس کڑے وقت میں بھی فدا کاری کے عزم پر ثابت قدم رہے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینے کے پھلوں کی پیداوار کا تیسرا حصہ لے کر واپس چلے جائیں۔ لیکن جب انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان شرائط صلح کے متعلق مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا " یا رسول اللہ، یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں ؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے ؟ یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا " میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہو کر تم پر پل پڑا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں۔ " اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ " اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری خاطر یہ معاہدہ کر رہے ہیں تو اسے ختم کر دیجیے۔ یہ قبیلے ہم سے اس وقت بھی ایک حبہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے۔ اور اب تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے ؟ ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہی ہے، یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کر دے "۔ یہ کہہ کر انہوں نے معاہدے کے اس مسودے کو چاک کردیا جس پر ابھی دستخط نہ ہوئے تھے۔

اسی دوران میں قبیلۂ غَطَفان کی شاخ اشجع کے ایک صاحب نعیم بن مسعُود مسلمان ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابھی تک کسی کو بھی میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم جا کر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو (اسی موقعہ پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا اَلْحَرْبُ خُدْعَۃ۔ یعنی جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے۔) چنانچہ وہ پہلے بنی قریظہ کے پاس گئے جن سے ان کا بہت میل جول تھا، اور ان سے کہا کہ قریش اور غطفان تو محاصرے سے تنگ آ کر واپس بھی جا سکتے ہیں، ان کا کچھ نہ بگڑے گا، مگر تمہیں مسلمانوں کے ساتھ اسی جگہ رہنا ہے، وہ لوگ اگر چلے گئے تو تمہارا کیا بنے گا۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک جنگ میں حصہ نہ لو جب تک ان باہر سے آئے ہوئے قبائل کے چند نمایاں آدمی تمہارے پاس یرغمال کے طور پر نہ بھیج دیے جائیں۔ یہ بات بنی قریظہ کے دل میں اتر گئی اور انہوں نے متحدہ محاذ کے قبائل سے یرغمال طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر یہ صاحب قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ بنی قریظہ کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں، بعید نہیں کہ وہ تم سے یرغمال کے طور پر کچھ آدمی مانگیں اور انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کر کے اپنا معاملہ صاف کرلیں۔ اس لیے ذرا ان کے ساتھ ہوشیاری سے معاملہ کرنا۔ اس سے متحدہ محاذ کے لیڈر بنی قریظہ کی طرف سے کھٹک گئے اور انہوں نے قرظی سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اس طویل محاصرے سے اب ہم تنگ آ گئے ہیں، اب ایک فیصلہ کن لڑائی ہوجانی چاہیے، کل تم ادھر سے حملہ کرو اور ہم ادھر سے یکبارگی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ بنی قریظہ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ آپ لوگ اپنے چند نمایاں آدمی یرغمال کے طور پر ہمارے حوالہ نہ کر دیں، ہم جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس جواب سے متحدہ محاذ کے لیڈروں کو یقین آگیا کہ نعیم کی بات سچی تھی۔ انہوں نے یرغمال دینے سے انکار کردیا اور اس سے بنی قریظہ نے سمجھ لیا کہ نعیم نے ہم کو ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اس طرح یہ جنگی چال بہت کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے دشمنوں کے کیمپ میں پھوٹ ڈال دی۔

اب محاصرہ پچیس دن سے زیادہ طویل ہوچکا تھا۔ سردی کا زمانہ تھا۔ اتنے بڑے لشکر کے لیے پانی اور غذا اور چارے کی فراہمی بھی مشکل تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اور پھوٹ پڑجانے سی بھی محاصرین کے حوصلے پست ہوچکے تھے۔ اس حالت میں یکایک ایک رات سخت آندھی آئی جس میں سردی اور کڑک اور چمک تھی، اور اتنا اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھائی دیتا تھا۔ آندھی کے زور سے دشمنوں کے خیمے الٹ گئے اور ان کے اندر شدید افراتفری برپا ہوگئی۔ قدرت خداوندی کا یہ کاری وار وہ نہ سہہ سکے۔ راتوں رات ہر ایک نے اپنے گھر کی راہ لی اور صبح جب مسلمان اٹھے تو میدان میں ایک دشمن بھی موجود نہ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان کو دشمنوں سے خالی دیکھ کر فوراً ارشاد فرمایا : لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھٰذا ولکنکم تغزونھم۔ یعنی " اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کر سکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے "۔ یہ حالات کا بالکل صحیح اندازہ تھا۔ قریش ہی نہیں، سارے دشمن قبائل متحد ہو کر اسلام کے خلاف اپنا آخری داؤ چل چکے تھے۔ اس میں ہار جانے کے بعد اب ان میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ مدینے پر حملہ آور ہونے کی جرأت کرسکتے۔ اب حملے (offensive) کی قوت دشمنوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔

غزوؤ بنی قریظہ :

خندق سے پلٹ کر جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) نے آ کر حکم سنایا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں، بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے، ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہئے۔ یہ حکم پاتے ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً اعلان فرمایا کہ " جو کوئی سمع و طاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے "۔ اس اعلان کے ساتھ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنی قریظہ کی طرف روانہ کردیا۔ وہ جب وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی، لیکن یہ بدزبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچا سکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالا اور حملہ آوروں سے مل کر مدینے کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کردیا۔ حضرت علی (رض) کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں۔ لیکن جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا گیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ محاصرہ کی شدت کو وہ دو تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کرسکے اور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردیا کہ وہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ (رض) ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کر دیں گے اسے فریقین مان لیں گے۔ انہوں نے حضرت سعد (رض) کو اس امید پر حکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدتوں سے چلے آ رہے تھے وہ ان کا لحاظ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قَیْنقُاع اور بنی النضیر کو نکل جانے دیا گیا تھا۔ خود قبیلۂ اَوس کے لوگ بھی حضرت سعد (رض) سے تقاضا کر رہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں۔ لیکن حضرت سعد (رض) ابھی بھی دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے۔ اور یہ معاملہ بھی ان کی سامنے تھا کہ اس آخری یہودی قبیلے نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بد عہدی کر کے اہل مدینہ کو تباہ کر دینے کا کیا سامان کیا تھا۔ اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مرد قتل کر دیے جائیں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے ان غداروں نے پندرہ سو تلواریں، تین سو زرہیں، دو ہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں۔ اگر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا جبکہ مشرکین یکبارگی خندق پار کر کے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعد (رض) نے ان لوگوں کے معاملہ میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا۔

معاشرتی اصلاحات :

 جنگ اُحُد اور جنگ احزاب کے درمیان، دو سال کا یہ زمانہ اگرچہ ایسے ہنگاموں کا زمانہ تھا جن کی بدولت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو ایک دن کے لیے بھی امن اور اطمینان نصیب نہ ہوا۔ لیکن اس پوری مدت میں نئے مسلم معاشرے کی تعمیر، اور ہر پہلو میں زندگی کی اصلاح کا کام برابر جاری رہا یہی زمانہ تھا جس میں مسلمانوں کے قوانین نکاح و طلاق قریب قریب مکمل ہوگئے اور وراثت کا قانون بنا، شراب اور جوئے کو حرام کیا گیا، اور معیشت و معاشرت کے دوسرے بہت سے پہلوؤں میں نئے ضابطے نافذ کئے گئے۔

اس سلسلے کا ایک اہم مسئلہ جو اصلاح کا تقاضا کر رہا تھا تَبْنِیتْ (گود لینے یا بیٹا بنانے ) کا مسئلہ تھا۔ عرب کے لوگ جس بچے کو متبنیٰ بنا لیتے تھے وہ بالکل ان کی حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اسے وراثت ملتی تھی۔ اس سے منہ بولی ماں اور منہ بولی بہنیں وہی خلا ملا رکھتی تھیں جو حقیقی بیٹے اور بھائی سے رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ منہ بولے باپ کے مر جانے کے بعد اس کی بیوہ کا نکاح اسی طرح ناجائز سمجھا جاتا تھا جس طرح سگی بہن اور حقیقی ماں کے ساتھ کسی کا نکاح حرام ہوتا ہے۔ اور یہی معاملہ اس صورت میں بھی کیا جاتا تھا جب منہ بولا بیٹا مر جائے یا اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ منہ بولے باپ کے لیے وہ عورت سگی بہو کی طرح سمجھی جاتی تھی۔ یہ رسم قدم قدم پر نکاح اور طلاق اور وراثت کے ان قوانین سے ٹکراتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ اور سورۃ نساء میں مقرر فرمائے تھے ان کی رو سے جو لوگ حقیقت میں وراثت کے حق دار تھے یہ رسم ان کا حق مار کر ایک ایسے شخص کو دلواتی تھی جو سرے سے کوئی حق نہ رکھتا تھا۔ ان کی رو سے جن عورتوں اور مردوں کے درمیان رشتۂ نکاح حلال تھا، یہ رسم ان کے باہمی نکاح کو حرام کرتی تھی۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ اسلامی قانون جن بد اخلاقیوں کا سد باب کرنا چاہتا تھا، یہ رسم ان کے پھیلنے میں مددگار تھی کیونکہ رسم کے طور پر منہ بولے رشتے میں خواہ کتنا ہی تقدُّس پیدا کردیا جائے، بہرحال منہ بولی ماں، منہ بولی بہن اور منہ بولی بیٹی حقیقی ماں اور بیٹی کی طرح نہیں ہو سکتی۔ ان مصنوعی رشتوں کے رسمی تقدس پر بھروسہ کر کے مردوں اور عورتوں کے درمیان جب حقیقی رشتہ داروں کا سا خلا ملا ہو تو وہ برے نتائج پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان وجوہ سے اسلامی قانون نکاح و طلاق، قانون وراثت اور قانون حرمت زنا کا یہ تقاضا تھا کہ متبنّیٰ کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھنے کے تخیل کا قطعی استیصال کردیا جائے۔

لیکن یہ تخیل محض ایک قانونی حکم کے طور پر اتنی سی بات کر دینے سے ختم نہیں ہوسکتا تھا کہ۔۔ " منہ بولا رشتہ کوئی حقیقی رشتہ نہیں ہے۔ " صدیوں کے جمے ہوئے تعصبات اور اوہام محض اقوال سے نہیں بدل جاتے۔ حکماً لوگ اس بات کو مان بھی لیتے کہ یہ رشتے حقیقی رشتے نہیں ہیں، پھر بھی منہ بولی ماں اور منہ بولے بیٹے کے درمیان منہ بولے بھائی اور بہن کے درمیان، منہ بولے باپ اور بیٹی کے درمیان، منہ بولے خسر اور بہو کے درمیان نکاح کو لوگ مکروہ سمجھتے رہتے۔ نیز ان کے درمیان خلا ملا بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا۔ اس لیے ناگزیر تھا کہ یہ رسم عملاً توڑی جائے، اور خود رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنفس نفیس اس کو توڑیں۔ کیونکہ جو کام حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود کیا ہو، اور اللہ کے حکم سے کیا ہو، اس کے متعلق کسی مسلمان کے ذہن میں کراہت کا تصور باقی نہ رہ سکتا تھا۔ اسی بنا پر جنگ احزاب سے کچھ پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ آپ اپنے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ (رض) کی مطلقہ بیوی سے خود نکاح کرلیں، اور اس حکم کی تعمیل آپ نے محاصرۂ بنی قریظہ کے زمانہ میں فرمائی۔ (غالباً تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ عدت ختم ہونے کا انتظار تھا، اور اسی دوران میں جنگی مصروفیات پیش آگئی تھیں )۔

نکاح زینب (رض) پر پروپیگنڈے کا طوفان :

یہ کام ہونا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پروپیگنڈے کا ایک طوفان یکلخت اٹھ کھڑا ہوا۔ مشرکین اور منافقین اور یہود سب آپ کی پے در پے کامیابیوں سے جلے بیٹھے تھے۔ اُحُد کے بعد احزاب اور بنی قریظہ تک دو سال کی مدت میں جس طرح وہ زک پر زک اٹھاتے چلے گئے تھے اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں آگ لگ رہی تھی۔ وہ اس بات سے بھی مایوس ہوچکے تھے کہ اب وہ کھلے میدان میں لڑ کر کبھی آپ کو زیر کر سکیں گے۔ اس لیے انہوں نے اس نکاح کے معاملے کو اپنے لیے ایک خدا داد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ اب ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس اخلاقی برتری کو ختم کر سکیں گے جو ان کی طاقت اور ان کی کامیابیوں کا اصل راز ہے چنانچہ یہ افسانے تراشے کہ (معاذاللہ) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہو کو دیکھ کر عاشق ہوگئے تھے، بیٹے کو اس تعلق خاطر کا علم ہوگیا، اس نے بیوی کو طلاق دے دی، اور باپ نے اس کے بعد بہو سے بیاہ رچا لیا۔ حالانکہ یہ بات صریحاً لغو تھی۔ حضرت زینب (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ بچپن سے جوانی تک ان کی ساری عمر آپ کے سامنے گزری تھی۔ کسی وقت ان کو دیکھ کر عاشق ہوجانے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اصرار کر کے حضرت زید (رض) سے ان کا نکاح کرایا تھا۔ ان کا سارا خاندان اس پر راضی نہ تھا کہ قریش کے اتنے اونچے گھرانے کی لڑکی ایک آزاد کردہ غلام سے بیاہی جائے۔ خود حضرت زینب (رض) بھی اس رشتے سے ناخوش تھیں۔ مگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے سب مجبور ہوگئے، اور حضرت زید (رض) کے ساتھ ان کی شادی کر کے عرب میں اس امر کی پہلی مثال پیش کر دی گئی کہ اسلام ایک آزاد کردہ غلام کو اٹھا کر شرفائے قریش کے برابر لے آیا ہے۔ اگر فی الواقع حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی میلان حضرت زینب (رض) کی جانب ہوتا تو زید بن حارِثہ سے ان کا نکاح کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی، آپ خود ان سے نکاح کرسکتے تھے۔ لیکن بےحیا مخالفین نے ان سارے حقائق کے موجود ہوتے یہ عشق کے افسانے تصنیف کیے، خوب نمک مرچ لگا لگا کر ان کو پھیلایا اور اس پروپیگنڈے کا صور اس زور سے پھونکا کہ خود مسلمانوں کے اندر بھی ان کی گھڑی ہوئی روایات پھیل گئیں۔

پردہ کے ابتدائی احکام :

یہ بات کہ دشمنوں کے تصنیف کیے ہوئے یہ افسانے مسلمانوں کی زبانوں پر چڑھنے سے بھی نہ رکے اس امر کی کھلی ہوئی علامت تھی کہ معاشرے میں شہوانیت کا عنصر حد اعتدال سے بڑھا ہوا تھا۔ یہ خرابی اگر موجود نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ ذہن ایسی پاک ہستی کے متعلق ایسے بےسر و پا اور اس قدر گھناؤنے افسانوں کی طرف ادنیٰ التفات بھی کرتے، کجا کہ زبانیں ان کو دہرانے لگتیں۔ یہ ٹھیک موقع تھا جبکہ اسلامی معاشرے میں ان اصلاحی احکام کے نفاذ کی ابتدا کی گئی جو " حجاب " (پردے ) کے عنوان سے بیان کیے جاتے ہیں۔ ان اصلاحات کا آغاز اس سورے سے کیا گیا، اور ان کی تکمیل ایک سال بعد سورۃ نور میں کی گئی، جبکہ حضرت عائشہ پر بہتان کا فتنہ کھڑا ہوا۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ نور، دیباچہ)۔

حضور کی خانگی زندگی کے معاملات :

اسی زمانہ میں دو مسئلے اور بھی توجہ طلب تھے۔ اگرچہ بظاہر ان کا تعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خانگی زندگی سے تھا، مگر جو ذات اپنی جان خدا کے دین کو پروان چڑھانے کے لیے کھپا رہی تھی اور ہمہ تن اس کار عظیم میں منہمک تھی اس کے لیے خانگی زندگی کا سکون فراہم کرنا، اور اس کو پریشانیوں سے بچانا، اور اس کو لوگوں کے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھنا بھی خود دین ہی کے مفاد کے لیے ضروری تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نی سرکاری طور پر ان دونوں مسئلوں کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مالی حیثیت سے تنگ حال تھے۔ ابتدائی چار سال تک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی ذریعۂ آمدنی تھا ہی نہیں۔ ٤ ھ میں بنی النضیر کی جلا وطنی کے بعد ان کی متروکہ زمینوں کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضروریات کے لیے مخصوص کردیا گیا۔ مگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کنبے کے لیے کافی نہ تھا۔ ادھر منصب رسالت کے فرائض اتنے بھاری تھے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم اور دل و دماغ کی ساری طاقتیں اور آپ کے اوقات کا ایک ایک لمحہ سونتے ڈال رہے تھے اور آپ اپنی معاش کے لیے ذرہ برابر بھی کوئی فکر یا کوشش نہ کرسکتے تھے۔ ان حالات میں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات خرچ کی تنگی کے باعث آپ کے سکون طبع میں خلل انداز ہوتی تھیں تو اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذہن پر دہرا بار پڑجاتا تھا۔

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت زینب (رض) کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار بیویاں موجود تھیں۔ حضرت سودہ (رض)، حضرت عائشہ (رض)، حضرت حَفْصہ (رض) اور حضرت اُمِّ سَلَمہ رضی اللہ عنھا۔ اُمّ المومنین حضرت زینب (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس پر مخالفین نے یہ اعتراض اٹھایا، اور مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس سے شبہات ابھرنے لگے کہ دوسروں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع ٹھہرا دیا گیا ہے، مگر خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ پانچویں بیوی کیسے کرلی۔

موضوع اور مباحث :

یہ مسائل تھے جو سورۃ احزاب کے نزول کے زمانے میں پیش آئے تھے اور انہی پر اس سورے میں کلام فرمایا گیا ہے۔
اس کے مضامین پر غور کرنے، اور پس منظر کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری سورۃ ایک خطبہ نہیں ہے جو بیک وقت نازل ہوا ہو، بلکہ یہ متعدد احکام و فرامین اور خطبات پر مشتمل ہے جو اس زمانہ کے اہم واقعات کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے نازل ہوئے اور پھر یکجا جمع کر کے ایک سورۃ کی شکل میں مرتب کر دیے گئے۔ اس کے حسب ذیل اجزاء صاف طور پر ممیز نظر آتے ہیں۔

١۔ پہلا رکوع غزوۂ احزاب سے کچھ پہلے نازل شدہ معلوم ہوتا ہے۔ تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اس رکوع کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت حضرت زید (رض) حضرت زینب (رض) کو طلاق دے چکے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ضرورت کو محسوس فرما رہے تھے کہ متبنیٰ کے بارے میں جاہلیت کے تصورات اور اوہام و رسوم کو مٹایا جائے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ لوگ منہ بولے رشتوں کے معاملے میں محض جذباتی بنیادوں پر جس قسم کے نازک اور گہرے تصورات رکھتے ہیں وہ اس وقت تک ہرگز نہ مٹ سکیں گے جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود آگے بڑھ کر اس رسم کو نہ توڑ دیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بنا پر سخت متردد تھے اور قدم بڑھاتے ہوئے ہچکچا رہے تھے کہ اگر اس موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید (رض) کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا تو اسلام کے خلاف ہنگامہ اٹھانے کے لیے منافقین اور یہود اور مشرکین کو، جو پہلے ہی بھرے بیٹھے ہیں، ایک زبردست شوشہ ہاتھ آ جائے گا۔ اس موقع پر رکوع اول کی آیات نازل ہوئیں ۔

٢۔ رکوع دوم و سوم میں غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ یہ دونوں رکوع ان لڑائیوں کے بعد نازل ہوئے ہیں۔

٣۔ چوتھے رکوع کے آغاز سے آیت ٣٥ تک کی تقریر دو مضامین پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو، جو اس تنگی و عسرت کے زمانے میں بےصبر ہو رہی تھیں، اللہ تعالیٰ نے نوٹس دیا ہے کہ دنیا اور اس کی زینت، اور خدا و رسول اور آخرت میں سے کسی ایک کو انتخاب کرلو۔ اگر تمہیں پہلی چیز مطلوب ہے تو صاف کہہ دو، تمہیں ایک دن کے لیے بھی اس تنگی میں مبتلا نہ رکھا جائے گا بلکہ بخوشی رخصت کردیا جائے گا۔ اور اگر دوسری چیز پسند ہے تو صبر کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا ساتھ دو۔ دوسرے حصے میں اس معاشرتی اصلاح کی طرف پہلا قدم اٹھایا گیا جس کی ضرورت اسلام کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ذہن اب خود محسوس کرنے لگے تھے۔ اس سلسلہ میں اصلاح کی ابتدا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے کرتے ہوئے ازواج مطہرات کو حکم دیا گیا کہ تبرُّجِ جاہلیّت سے پرہیز کریں، وقار کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور غیر مردوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں سخت احتیاط ملحوظ رکھیں۔ یہ پردے کے احکام کا آغاز تھا۔

٤۔ آیت ٣٦ سے ٤٨ تک کا مضمون حضرت زینب (رض) کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح کے سلسلہ میں ہے۔ اس میں ان تمام اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو مخالفین کی طرف سے اس نکاح پر کیے جا رہے تھے، ان تمام شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ و مقام کیا ہے، اور خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار و منافقین کے جھوٹے پروپیگنڈے پر صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے۔

٥۔ آیت ٤٩ میں طلاق کے قانون کی ایک دفعہ بیان ہوئی ہے۔ یہ ایک منفرد آیت ہے جو غالباً انہی واقعات کے سلسلے میں کسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔

٦۔ آیت ٥٠۔ ٥٢ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نکاح کا خاص ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات واضح کر دی گئی کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان متعدد پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں جو ازدواجی زندگی کے معاملہ میں عام مسلمانوں پر عائد کی گئی ہیں ۔

٧۔ آیت ٥٣۔ ٥٥ میں معاشرتی اصلاح کا دوسرا قدم اٹھایا گیا۔ یہ حسب ذیل احکام پر مشتمل ہے :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں غیر مردوں کی آمد و رفت پر پابندی۔ ملاقات اور دعوت کا ضابطہ۔ ازواج مطہرات کے بارے میں یہ قانون کہ گھروں میں صرف ان کے قریبی رشتہ دار آ سکتے ہیں، باقی رہے غیر مرد، تو انہیں اگر کوئی بات کہنی ہو یا کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے کہیں یا مانگیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے بارے میں یہ حکم کہ وہ مسلمانوں کے لیے ماں کی طرح حرام ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح نہیں ہو سکتا۔

٨۔ آیت ٥٦۔ ٥٧ میں ان چہ میگوئیوں پر سخت تنبیہ کی گئی ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح اور آپ کی خانگی زندگی پر کی جا رہی تھیں اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دشمنوں کی اس عیب چینی سے اپنے دامن بچائیں اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجیں۔ نیز یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو درکنار، اہل ایمان کو تو عام مسلمانوں پر بھی تہمتیں لگانے اور الزامات عائد کرنے سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔

٩۔ آیت ٥٩ میں معاشرتی اصلاح کا تیسرا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس میں تمام مسلمان عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ جب گھروں سے باہر نکلیں تو چادروں سے اپنے آپ کو ڈھانک کر اور گھونگٹ ڈال کر نکلیں۔


اس کے بعد آخر سورۃ تک افواہ بازی کی اس مہم (Whispering Campaign ) پر سخت زجر و توبیخ کی گئی ہے جو منافقین اور اراذل نے اس وقت برپا کر رکھی تھی۔
--------------------------------------------
(تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )