‏کائنات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏کائنات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن مجید اور کائنات: جدید سائنس کی روشنی میں

 قرآن مجید نہ صرف روحانی ہدایت کا سرچشمہ ہے، بلکہ اس میں کائنات، فطرت، اور تخلیق کے بارے میں گہرے اشارات بھی موجود ہیں۔ یہ اشارات جدید سائنس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار انسانوں کو کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن مجید کی چند آیات کو پیش کریں گے، جن میں کائنات کے بارے میں اشارات موجود ہیں، اور جدید دور کے مفسرین نے ان کی جو تفسیر کی ہے، اس کا مختصر ذکر کریں گے۔

۱۔ کائنات کی ابتدا: بگ بینگ تھیوری

قرآن مجید میں کائنات کی ابتدا کے بارے میں واضح اشارہ سورہ الانبیاء کی آیت 30 میں ملتا ہے:

"کیا وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا، نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا؟  کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟"  (الانبیاء: 30)

اس آیت میں "آسمان اور زمین کا باہم ملے ہوئے ہونا" اور پھر ان کا جدا ہونا، جدید سائنس کی بگ بینگ تھیوری سے مماثلت رکھتا ہے۔ جدید مفسرین، جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر موريس بوکائے، نے اس آیت کو بگ بینگ تھیوری کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کائنات ایک ابتدائی نقطے (singularity) سے پھیلی ہے، جو جدید سائنس کے مطابق بگ بینگ کا نظریہ ہے۔

۲۔ کائنات کی وسعت اور پھیلاؤ

سورہ الذاریات کی آیت 47 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔"  (الذاریات: 47)

اس آیت میں "وسعت دینے والے ہیں" کا ذکر جدید سائنس کے "کائنات کے پھیلاؤ" (Expansion of the Universe) کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔ 1920 کی دہائی میں ایڈون ہبل نے دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ جدید مفسرین، جیسے ڈاکٹر نعیم احمد، نے اس آیت کو جدید فلکیات کے تناظر میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت کائنات کے پھیلاؤ کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔

شق القمر کا واقعہ ۔ سید ابوالاعلی مودودی ؒ

 قرآن مجید کی سورہ قمر میں شق القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا۔

شق القمر کا واقعہ 

اس میں کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے۔ وہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں۔ بکھر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اور وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورۃ میں انہیں ملامت کی گئی ہے۔ 

کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہوجائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داور محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ( سورہ قمر :1)

قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔

یعنی چاند کا پھٹ جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی جاتی رہی ہے، قریب آ لگی ہے اور نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کرہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہوگیا، اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی چیز ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے۔ 

قرآن حکیم : فلسفۂ خیر و شر پر ایک نظر

قرآن حکیم : خیر اور شر کے فلسفہ پر ایک نظر 
انسان نے جب سے زندگی کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش شروع کی ہے اس وقت سے خیر اور شر کا موضوع اس کے غور و فکر کا بنیادی مسئلہ رہا ہے ، ہر زمانے کے فلسفیوں نے اس موضوع پر رائی زنی کی ہے ، اہل مذہب نے بھی اس عقدہ کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس موضوع کو چند سوالات نے مزید الجھا دیا وہ یہ ہیں : 

1- کیا خیر اور شر دو الگ الگ چیزیں ہیں یا دونوں کا وجود محض اضافی اور نسبتی  ہے یعنی کیا زمانہ اور حالات کے لحاظ سے خیر اور شر کا معیار بدل جا تا ہے ؟

2- کیا خیر اور شر کا تصور انسان کی فطرت میں لکھا ہوا ہے اگر ایسا ہے تو وہ کون سا معیار اور کسوٹی ہے جن پر پرکھ کر معلوم کیا جاسکے کہ یہ خیر ہے اور یہ شر ہے ؟

3- اگر خیر اور شر کا معیار فطری ہے تو قوموں ، ملتوں اور گروہوں اور افراد کے درمیاں اختلافات کیوں ہیں ؟ 

ان سوالات پر ہرزمانہ کے دانشوروں ، حکیموں اور فلسفیوں نے غور و فکر کے بعد اپنی اپنی رائے ظاہر کی  ہے۔ لیکن قرآن حکیم اس بارے میں  ایک خاص نقطہ نظر پیش کرتا ہے ، یہاں قرآن مجید کا نقطہ نظر اور چند مشہور فلسفیوں کی آراء کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جاتاہے ۔

کچھ فلسفیوں کا خیال ہے کہ خیر اور شر نغمہ کے زیر و بم اور تصویر کے سرخ اور سیاہ دھبوں کی طرح ہے ۔ ان فلسفیوں کے نمائدے ہیرا قلیطس اور سینٹ آگسٹائن وغیرہ ہیں ، ان کے نزدیک نغمہ کے زیر و بم کی طرح خیر اور شر، نیکی اور بدی دونوں دنیا کے لیے ضروری ہیں ۔ ان سے دنیا کی رنگینی میں اضافہ ہو تا ہے ۔ مادی اشیاء کے متعلق تو یہ کہنا درست ہے کہ کہ گندی سے گندی چیز بھی کام آجا تی ہے گندگی سے بنی کھاد بھی اپنی جگہ بڑی قیمت رکھتی ہے لیکن اخلاقیات کے متعلق یہ معیار درست نہیں ۔ سچ اور جھوٹ ، ایمانداری اور بے ایمانی برابر نہیں ہوسکتی ۔ ارشاد باری تعالی ہے : 

" قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ " (المائدہ : 100)

"اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ بری چیز اور عمدہ چیز بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ بری چیز کی کثرت تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو۔ "

کائنات میں انسان کا مقام - ابوالبشر احمد طیب

کائنات میں انسان کا مقام 
انسان کے لیے یہ سوالات ہمیشہ انتہائی اہم رہے ہیں کہ اس وسیع کائنات میں اس کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اور اس کے لیے دنیا میں زندگی گزار نے کا صحیح رویہ کیا ہے ۔ اس پر ہر زمانہ میں دانشوروں اور فلسفیوں نے مختلف جوابات دیے ہیں ۔ اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے بھی رہنمائی ملتی ہے ۔ 

جہاں تک فلسفیوں کا تعلق ہے تو سقراط سے پہلے دو مکتب فکر نمایا ں ہیں ۔ ان میں ایک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کائنات میں انسان دیگر حیوانات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ، جو انجام ان حیوانات کا ہے وہی انجام اس کا بھی ہے ۔ 

دوسرا مکتبہ فکر سو فسطائیوں کا ہے جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کائنات کا محور اور مرکز ہے یہی اس کائنات میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے اندر جو صلاحیتیں اور قوتیں پوشیدہ ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے اس کوبڑا مقام اور مرتبہ دیا ہے ۔ وہ انسان میں ایک عقل یزدانی (Divine Reason) کے وجود کے قائل ہیں ۔ جہاں تک سقراط کا تعلق ہے تو تمام فلسفیوں میں اس کا مقام اونچا ہے اس کا مشہور کلمہ کہ " اے انسان تو اپنے آپ کو پہنچان " ایتھنز کے معبد ڈلفی پر منقش ہے ۔ سقراط نے سب سے پہلے توجہ دلائی کہ دیگر مخلوقات سے اہم خود انسان ہے وہ خود اپنے کو پہنچانے کہ وہ کیا ہے اور قدرت نے اس کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ سقراط کے ہاں انسان کو ہی اصل اہمیت حاصل ہے ، دوسری چیزوں کی حیثیت اس کے ہاں ثانوی تھی ۔ اس کے شاگر افلاطوں نے اسی فکر کو آگے بڑھایا ۔ اس کو زندگی کے مختلف شعبوں : اخلاقیات ، سیاسیات ، نفسیات اور اجتماعیات وغیرہ میں اطلاق کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے نزدیک انسان حیوان نہیں اگرچہ اس کی پیدائش حیوان کے طریقہ پر ہوئی ہے ۔ انسان کے اندر ایک روح بھی ہے جو ملکوتی عقل کا حصہ ہے ۔ جس کے ذریعے انسان اس کائنات کے ابدی کلیات کو معلوم کر سکتا ہے ۔ انسان کا ایک جسم بھی ہے وہ اس ملکوتی عقل پر کمنڈ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس پر قابو پائے اور اس کمنڈ کو توڑ کر مادی جسم سے بلند ہوکر غور و فکر کرے ۔ 

خدا کی ذات و صفات کی معرفت - ابوالبشر احمد طیب

خدا کی ذات و صفات کی معرفت 
مذہب اور فلسفہ دونوں اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے زندگی کی رہنمائی کے لیے وجود میں آئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفہ عقل پر اعتماد کرتا ہے جبکہ مذہب وحی الہی سے رہنمائی لیتا ہے ۔ بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ مذہب کا عقل سے کوئی تعلق نہیں اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور کائنات کے متعلق قرآن مجید اور فلسفہ کے بنیادی مسائل کا تقابلی مطالعہ کیا جائے درج ذیل مضمون اسی مقصد لیے لیے ترتیب دیا گیا اس کے لیے ہم نے مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب " فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن حکیم کی روشنی میں " سے استفادہ کیا ۔ 

ابتدائی دور کے یونانی فلسفیوں نے زندگی اور کائنات کی مختلف طریقوں سے توجیہ کی ہے بعض یونانی فلسفیوں جیسے تھیلیز(624 ق م - 554ق م ) انیکسی مانڈر (610 ق م - 546ق م) کا کہنا ہے کہ کائنات کو کسی دیوی یا دیوتا نے پیدا نہیں کیا ، چھٹی صدی قبل مسیح کے فلسفی شاعر زینو فینسز(Zenophanes) نے دیوتاؤں پر سخت تنقید کی اس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی شکلوں پر دیوتاؤں کو بنایا ہے جبکہ خدا ہر لحاظ سے انسان سے مختلف ہے خدا ایک وحدت ہے جس کی ابتدا ہے نہ انتہا ۔۔اس کے نزدیک خدا ہی کائنات ہے ۔ عظیم فلسفی سقراط (470 ق م - 399 ق م) نے خدا کی وحدانیت کا تصور دیا اس جرم میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا ۔ افلاطون (428 ق م -347 ق م) کا کہنا ہے کہ خدانے تمام کائنات کو پید ا کیا اور انسان میں اپنی روح پھونکی ۔ البتہ ان تمام فلسفیوں میں ارسطو (384 ق م – 322 ق م ) خد ا کی وحدانیت پر پختہ یقین رکھتاتھا ، اس کے نزدیک خدا کائنات کا خالق ہے، وہی محرک اول ہے ، کائنات کو چلانے والا بھی وہی ہے ۔ اسی طرح رواقی فلسفی خدا کی وحدانیت کے شدت سے قائل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خدا نے ہر چیز پیدا کی ہے ، برائی پر سزا اور نیکی پر جزا دیتا ہے ، رواقیوں کا فلسفہ وحدت الوجود کے تصور پر مبنی ہے۔ 

قرآن میں وہ کون سی امانت کا ذکر ہے جو آسمان اور زمین اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے مگر انسان نے اسے اٹھالیا ؟

ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا

(  سورۃ الاحزاب:  72 )

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بےشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے  ۔ 

 اس آیت کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" کلام کو ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے اور اس حیثیت میں ہوتے ہوئے اگر وہ دنیا کی زندگی کو محض ایک کھیل سمجھ کر بےفکری کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو کس طرح اپنے ہاتھوں خود اپنا مستقبل خراب کرتا ہے۔

اس جگہ " امانت " سے مر اد وہی " خلافت " ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے اسے اپنی بےشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کیے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا اور غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنے۔ یہ اختیارات چونکہ انسان نے خود حاصل نہیں کیے ہیں بلکہ اللہ نے اسے دیے ہیں، اور ان کے صحیح و غلط استعمال پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اس لیے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کو " خلافت " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہاں انہی کے لیے " امانت " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

تخلیق کا راز

اس راز کو اللہ تعالی نے  یوں بیان فرمایا ، ارشاد باری تعالی ہے : 

اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ  ۭ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ  ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ  (النمل : 64 ) 

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ﴿ان کاموں میں حصہ دار﴾ ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ 

اس کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہوکر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (law of Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Labo ratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔

نماز کائنات کی فطرت ہے۔ جاوید احمد غامدی

نماز کائنات کی فطرت ہے ۔ جاوید احمد غامدی 
نماز کائنات کی فطرت ہے ۔ انسان کی آنکھیں ہوں اور وہ اُن سے دیکھتا بھی ہو تو اِس حقیقت کو سمجھنے میں اُسے کوئی تردد نہیں ہوتا کہ اِس عالم کا ذرہ ذرہ فی الواقع اپنے پروردگار کی تسبیح و تحمیدکرتا اور اُس کے سامنے سجدہ ریز رہتا ہے ۔ وہ اگرچہ اِس تسبیح و تحمید کو نہیں سمجھتا ، مگر دیکھ تو سکتا ہے کہ دنیا کی سب چیزوں کا ظاہر جس طرح ہر لحظہ خدا کے سامنے سرافگندہ اور اُس کے حکم کی تعمیل میں سرگرم ہے ، اُن کا باطن بھی اِس سے مختلف نہیں ہو سکتا ۔ زمین پر چلتے ہوئے جانور، باغوں میں لہلہاتے ہوئے درخت، فضاؤں میں چہکتے ہوئے پرندے ، سمندروں میں تیرتی ہوئی مچھلیاں اور آسمان پر چمکتے ہوئے تارے اور سورج اور چاند، سب اپنے وجود سے اِس بات کی گواہی دیتے ہیں:

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ، وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٰ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ .﴿بنی اسرائیل ۷۱: ۴۴﴾

’’ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سب چیزیں جو آسمان و زمین میں ہیں ، اُس کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور کوئی چیز بھی نہیں ہے جو حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح نہ کر رہی ہو ، لیکن تم اُن کی تسبیح نہیں سمجھتے ۔ ‘‘

قرآن اور فلسفیانہ تجسُّس- سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے "آگاہ رہو! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے، سب کے سب اللہ کے مملوک ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا ﴿ اپنے خود ساختہ﴾ شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ﴿ کھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو﴾ سنتے ہیں۔ (سورۃ یونس : 66، 67) 

---------------------
سید ابوالاعلی مودودی ؒ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں " یہ ایک تشریح طلب مضمون ہے جسے بہت مختصر لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔ فلسفیانہ تجسّس، جس کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ اس کائنات میں بظاہر جو کچھ ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی حقیقت پوشیدہ ہے یا نہیں اور ہے تو وہ کیا ہے، دنیا میں ان سب لوگوں کے لیے جو وحی و الہام سے براہ راست حقیقت کا علم نہیں پاتے، مذہب کے متعلق رائے قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ 


کوئی شخص بھی خواہ وہ دہریت اختیار کرے یا شرک یا خدا پرستی، بہرحال ایک نہ ایک طرح کا فلسفیانہ تجسّس کیے بغیر مذہب کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا۔ اور پیغمبروں نے جو مذہب پیش کیا ہے اس کی جانچ بھی اگر ہو سکتی ہے تو اسی طرح ہو سکتی ہے کہ آدمی، اپنی بساط بھر، فلسفیانہ غور و فکر کر کے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ پیغمبر ہمیں مظاہرِ کائنات کے پیچھے جس حقیقت کے مستور ہونے کا پتہ دے رہے ہیں وہ دل کو لگتی ہے یا نہیں۔ 


اس تجسّس کے صحیح یا غلط ہونے کا تمام تر انحصار طریق تجسّس پر ہے۔ اس کے غلط ہونے سے غلط رائے اور صحیح ہونے سے صحیح رائے قائم ہوتی ہے۔ اب ذرا جائزہ لے کر دیکھیے کہ دنیا میں مختلف گروہوں نے اس تجسّس کے لیے کون کون سے طریقے اختیار کیے ہیں :

پانی ، بارش ، قرآن اور سائنسی تحقیقات


ارشاد باری تعالی ہے : 

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ (الانبیاء : 30 ) " اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا "

پانی ایک بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مائع ہے۔ یہ تمام حیات کے لیے نہایت اہم ہے۔ پانی نے کرۂ ارض کے ٪70.9 حصّے کو گھیرا ہوا ہے۔
سائنس دان کے مطابق پانی کیمیائی طور پر یہ ایک ایٹم آکسیجن اور دو ایٹم ہائیڈروجن سے مل کر بنا ہے۔


قرآن کے ایک ہزار سے زیادہ آیات جدید سائنس کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اور اس میں بیسیوں آیات صرف آبیات یعنی بانی کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں۔ قرآن میں موجود آبیات کے متعلق حقائق جدید سائنس سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ [ قرآن اور جدید سائنس،" ڈاکٹرذاکر نائیک، صفحہ 16، اور " قرآن، بائبل اور جدید سائنس،" : ڈاکٹرمارس بوکائے، صفحہ 125]


آبی چکر: (water cycle)


آج سائنس دان جس تصور کو آبی چکر (water cycle ) کے نام سے ذکر کرتے ہیں، اسے پہلے 1580ء میں برنارڈپیلیسی (Bernard Pallissy) نامی ایک شخص نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سمندروں سے کس طرح پانی بخارات میں تبدیل ہوتا ہے اور کس طرح وہ سرد ہو کر بادلوں کی شکل میں آتا ہے۔ کس طرح زمین سے بلند ہوکر تکثیف (Condensation) ہوتا ہے اور بارش برستی ہے۔ پھر یہ پانی جھیلوں، جھرنوں، ندیوں اور دریائوں میں آتا ہے اور بہتا ہوا واپس سمندر میں چلا جاتا ہے اس طرح پانی کا یہ چکر جاری رہتا ہے ۔


قرآنی استدلال کی ایک مثال

اس کے لیے ہم نےسورۃ الرعد کا انتخاب کیا ہے اس سورۃ میں اللہ تعالی نے بتایا کہ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں وہی حق ہے،اس سورہ کی  ساری تقریر اسی مرکزی مضمون کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار مختلف کائناتی حقائق سے توحید ، معاد اور رسالت کی حقانیت پر استدلال کیا گیا ، ان پر ایمان لانے کے اخلاقی و روحانی قوائد سمجھائے گئے ہیں، ان کو نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہیں، اور یہ ذہن نشین کیا گیا ہے کہ کفر سراسر ایک حماقت اور جہالت ہے۔ پھر چونکہ اس سارے بیان کا مقصد محض دماغوں کو مطمئن کرنا ہی نہیں ، دلوں کو ایمان کی طرف کھینچنا بھی ہے، اس لیے نرے منطقی استدلال سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ ایک ایک دلیل اور ایک ایک شہادت کو پیش کرنے کے بعد ٹھیر کر طرح طرح سے تخویف، ترہیب، ترغیب ، اور مشفقانہ تلقین کی گئی ہے تاکہ نادان لوگ اپنی گمراہانہ ہٹ دھرمی سے باز آجائیں۔

دورانِ تقریر میں جگہ جگہ مخالفین کے اعتراضات کا ذکر کئے بغیر ان کے جوابات دیے گئے ہیں، اور ان شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے یا مخالفین کی طرف سے ڈالے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ اہلِ ایمان کو بھی  تسلی دی گئی ہے۔ 

مطالعہ اس طریقے سے کریں کہ سب پہلے ترجمہ پر غور فرمائیں شروع سے لیکر آخر تک پوری توجہ سے ایک مرتبہ  مطالعہ کریں اس کےبعد  مرکزی مضمون کو ذھن میں  رکھتے ہوئے دوبارہ غور فرمائیں اس طرح سورت کے مجموعی مطالب واضح ہونے کے بعد حاشیہ پر نظر ڈالیں اس کے لیے ترجمہ پر درج نمبر پر کلک کریں ۔ یہ ترجمہ  اور حاشیہ ہم نے مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کی آن لائن  تفہیم القرآن  سے انتخاب کیا ہے ۔

------------------------------------

ارشاد باری تعالی ہے : 

ا۔ل۔م۔ر، یہ کتاب الہٰی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے، مگر ﴿تمہاری قوم کے﴾ اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔1

وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں2، پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا3، اور اُس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کاپابند بنایا۔4 اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقتِ مقرر تک کے لیے چل رہی ہے5 اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے6، شاید کہ تم اپنے ربّ کی ملاقات کا یقین کرو۔7

اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیے ہیں۔ اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں، اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے۔8 ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیےجو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خِطّے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں۔9 انگور کے باغ ہیں،کھیتیاں ہیں، کھجُور کے درخت ہیں جن میں کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے۔10 سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔11

قرآن کے مطابق کائنات کی وسعت

" کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایا ہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتا ہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جا سکے۔

اورایک نشانی رات ہے… پروفیسر خورشید احمد

ضبط ِگریہ تو ہے پر دل پہ جو اِک چوٹ سی ہے
قطرے آنسو کے ٹپک پڑتے ہیں دو چار ہنوز

جس طرح دن ایک حقیقت ہے، اسی طرح رات بھی ایک حقیقت ہے۔ روشنی اور تاریکی، سپید و سیاہ ، سکون و اضطراب، بہا ر و خزاں، شیریں و تلخ، یہ سبھی زندگی کے حقائق ہیں، اور قافلۂ زندگی ان تمام مراحل سےدوچار رہتا ہے۔ زندگی نام ہی نشیب وفراز سے گزرنے کا ہے۔
کارخانۂ قدرتِ حق ایک صورت کو دوسری صورت سے بدلنے میں ہمہ وقت مصروف ہے اور انسان کا اصل امتحان اسی دھوپ چھائوں کے درمیان رازِ حیات کی تلاش و جستجو میں ہے۔ گردشِ لیل و نہار کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ جانا جائے کہ ہر تبدیلی کے مقابلے میں انسان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ آیا وہ بھی ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ ہوا کے رُخ کی سمت میں اُڑنا شروع ہوجاتاہے، یا اپنے نہ بدلنے والے مقاصد ِ حیات کی خدمت کے لیے نیا عزم اور نیا راستہ تلاش کرنے کی جستجو میں مصروف ہو جاتاہے۔
ہرتبدیلی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرورِ ایّام کی ہر کروٹ کارزارِ زندگی میں کچھ نئے میدانوں کا اضافہ کرتی ہے۔ لیل و نہار کی ہر گردش ایک نئی آزمایش کا باب کھولتی ہے۔ اصل اہمیت زمانے کی اس گردش کی نہیں، بلکہ اس ردعمل کی ہے جو اس کے نتیجے میں رُونما ہوتا ہے اور انسان کے بلند عزم یا پست ہمتی کا پتا اسی ردعمل سے چلتا ہے۔ گردش لیل و نہار کے اس پہلو کا مطالعہ ہدایت ربّانی کی روشنی میں کیا جائے تو بڑے اہم، سبق آموز اور ہوش ربا پہلو نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ 

قرآنِ پاک، زمین و آسمان کے خالق و مالک کے اقتدار اعلیٰ اور اس کی نشانیوں کی طرف اس طرح اشارہ کرتا ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّہَارِ وَيُوْلِجُ النَّہَارَ فِي الَّيْلِ (لقمٰن۳۱:۲۹) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں؟

روشن دن کا رات کی آغوش میں دم توڑ دینا اور پھر تاریک رات کے بطن سے روشنی ٔ سحر کا رُونما ہونا ربِّ جلیل و کریم کی قدرت اور اس کے اقتدار کی دلیل ہے اور سوچنے سمجھنے والوں کے لیے ایک نشانی بھی۔ یہ کائنات کے قوانین اور زمانے کی گردش کی آئینہ دار ہے اور خود انسانی زندگی اور معاملات کے لیے اس میں عبرت ، بصیرت اور رہنمائی کے بے شمار پہلو اور اسباق پوشیدہ ہیں:
يُقَلِّبُ اللہُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ ۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۝۴۴ (النور ۲۴:۴۴) رات اور دن کا اُلٹ پھیر وہی [اللہ] کر رہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے، آنکھوں والوں کے لیے۔

قرآن کا یہ خاص اسلوب ہے کہ وہ ایک معلوم و محسوس چیز کی طرف توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ایسی چیز جو ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے، جو ہمارے لیے اتنی واضح اور بیّن ہے کہ ہم اس پر سے یونہی گزر جاتے ہیں۔ قرآن کریم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم کائنات کی ان نشانیوں پر سے یونہی نہ گزر جائیں، بلکہ ایک لمحہ توقف کر کے ان پر غور کریں اور دیکھیں کہ تفکّر و تدبر کے بے شمارگوشے وہ اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں۔ دن اور رات کی آمدورفت، جو ہمارے لیے بس ایک روز مرّہ کی سی حیثیت اختیار کرچکی ہے،کوئی بے معنی شے نہیں ہے۔ اس کے دامن میں عبرت و معرفت کے دفتر پنہاں ہیں۔ قرآن پاک اس نگاہ کوبیدار کرنا چاہتا ہے، جو گردش لیل و نہار کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں کو دیکھ اور سمجھ سکے اور انسان اس علم و بصیرت کی روشنی میں ایک دانش مندانہ رویہ اختیار کرسکے۔

مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے یہاں پر وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ رات میں دن ظاہر کردے یا دن میں رات نمودار کردے، یا ان کی آمدوشد میں منٹ یا سیکنڈ کا فرق ہی پیدا کردے۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کے اندر، اہلِ نظر کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ ’عبرۃ‘ کا مفہوم ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا [بھی]ہے، یعنی جو لوگ وہ نظر رکھتے ہیں، جو ظاہر کے اندر باطن اور جزئیات کے اندر کلیات کو دیکھنے والی ہے، ان کو اِن مشاہدات کے بعد اس بات میں ذرا بھی شک باقی نہیں رہ سکتا کہ یہ کائنات ایک خداے حکیم و قدیر کی بنائی ہوئی ہے، جو اس ساری کائنات پر یکّہ و تنہا حاکم و متصرف ہے۔ اس وجہ سے تنہا وہی حق دار ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کی جائے۔ یہ امرملحوظ رہے کہ ’عبرۃ‘ انسانیت کا اصلی جوہر ہے۔ اگر یہ جوہر کسی کے اندر نہیں ہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے، اور جو آنکھ ظاہر کے اندر باطن نہ دیکھ سکے وہ کور ہے۔(تدبر قرآن، ج۵، ص ۴۲۱)

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدئہ بینا نہ ہوا

سیّد قطب شہیدؒ نے اپنی معرکہ آرا تفسیر فی ظلال القرآن میں تحریر فرمایا ہے:
’’گردش لیل و نہار کے نظام پر غوروفکر، قرآنِ مجید کا ایک اہم موضوع ہے۔ رات اور دن کے بدلنے کا یہ نظام مسلسل چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کا تغیّر و تبدل رُونما نہیں ہوا ہے۔ اس سے وہ ناموسِ کائنات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے، جو اس کائنات میں کارفرما ہے۔ اس ناموسِ کائنات پر غوروفکر سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس باریکی کے ساتھ اس نظام کو چلا رہا ہے۔ قرآنِ کریم اپنے مؤثر اندازِ بیان کے ساتھ ان مناظر کے ان اثرات کو تازہ کردیتا ہے، جو بالعموم مانوس ہونے کی وجہ سے انسانی ذہن اور یادداشت سے مٹ گئے ہوتے ہیں۔مگر آیاتِ قرآنی کے مطالعے کے بعد انسان ان مناظر کو ایک نئے احساس کے ساتھ دیکھتا ہے اور ہربار ان سے بالکل نیا تاثر لیتا ہے۔ ذرا یہ بات ذہن میں لایئے کہ اگر انسان گردش لیل و نہار کو پہلی مرتبہ دیکھے تو اس کا تاثر کیا ہو؟ لیکن انسانی احساس اور اِدراک، دن اور رات کی گردش کے مناظر کو دیکھتے دیکھتے بجھ سا گیا ہے، حالاں کہ رات اور دن کے اس نظام نے اپنی خوب صورتی اور انوکھے پن میں کسی چیز کی کمی نہیں پیدا ہونے دی۔ درحقیقت جب انسان اس کائنات پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ایک بڑی مسرت اور خوشی کو گنوا دیتا ہے، اس طرح اس کائنات کی حقیقی خوب صورتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوکر رہ جاتی ہے۔ 

قرآن عظیم کا یہ کمال ہے کہ وہ ہماری بجھی ہوئی حِس کو تازہ کردیتا ہے، اور ہمارے چھپے ہوئے شعور اور خوابیدہ احساسات کو تجدید و توانائی بخشتا ہے۔ ہمارا سرد مہر دل پُرجوش اور ہمارا کُند وجدان تیز تر ہوجاتا ہے۔ پھر ہم کائنات کو یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ گویا ہم نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ پھر ہم اس کائنات کے مظاہر پر غور کرتے ہیں۔ پھر ہمیں نظر آنے لگتا ہے کہ دست ِ قدرت ہرجگہ کام کر رہا ہے۔ ہمارےماحول کی ہرچیز میں اسی خالق و مالک کی صنعت کاری ہے اور اس کائنات کی ہرچیز میں اسی پروردگار کے نشانات روشن ہیں، اور ہمارے لیے عبرتیں ہی عبرتیں ہیں___

اللہ تعالیٰ ہم پر یہ کتنا بڑا احسان فرماتا ہے کہ جیسے ہی ہم اس کائنات کے مناظر میں سے کسی منظر پر غور کرتے ہیں، تو ہمیں ایک حیاتِ تازہ مل جاتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کی ہرچیز کے بارے میں ایک نیا احساس اور ایسی مسرت ملتی ہے کہ گویا ہم اس منظر کو پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ اگر حساس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ کائنات بہت ہی خوب صورت ہے اور ہماری فطرت، فطرتِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ فی الحقیقت ہماری فطرت اس سرچشمے سے پھوٹی ہے، جس سے اس کائنات نے وجود پایا۔ جب ہم اس کائنات کی روح سے پیوست ہوجاتے ہیں، تو ہمیں عجیب اطمینان و سکون نصیب ہوتا ہے۔ خوشی، محبت اور طمانیت ملتی ہے، بالکل اسی طرح ، جیسے کوئی شخص براہِ راست اپنے محبوب سے مل جائے۔

’’اس کائنات کی گہری معرفت کے نتیجے میں، ہمیں اس میں اللہ کا نُور نظر آتا ہے اور یہی ہے مفہوم اللہ کے نور سماوات والارض ہونے کا۔ جب ہم اپنے وجود، اپنے نفس اور اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں، تو اس میں ہرجگہ، ہرسمت اللہ کا نُور نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار ہمیں توجہ دلاتا ہے کہ ہم اس کائنات کے روز مرہ مناظر کو ذرا گہرے غوروفکر کے ساتھ دیکھیں۔ قرآن دعوت دیتا ہے کہ: اُن مظاہر اور مناظر پر سے غافل لوگوں کی طرح نہ گزر جائو آنکھیں بند کرکے، کیوں کہ اس دنیا میں تمھارا یہ سفر نہایت بامقصد ہے۔ یہاں سے کچھ لے کر جائو، لیکن افسوس: انسان ہیں کہ خالی ہاتھ جارہے ہیں‘‘۔(فی ظلال القرآن، ترجمہ: معروف شاہ شیرازی، ج۴، ص۹۲۲، ۹۲۳)

وقت کی ان کروٹوں کو آیاتِ الٰہی قرار دیا گیا اور ان کو ذریعہ ذکر بتایا گیا ہے:
وَہُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا۝۶۲ (الفرقان ۲۵:۶۲) وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہراس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار ہونا چاہے۔
دوسرے مقام پر دن رات کو ’آیات‘ سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ:
اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۝۸۶ (النمل ۲۷:۸۶) کیا ان کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اس میں بہت سی نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے، جو ایمان لاتے تھے۔

ان آیات پر غور کرنے سے جہاں گردش لیل و نہار کی طبیعی اور اخلاقی حکمتوں کا علم ہوتا ہے۔ وہیں ہمیں غوروفکر کا ایک اسلوب بھی ملتا ہے، جس کے ذریعے ہم صرف دن اور رات ہی کی گردش نہیں، بلکہ گزرتے ہوئے زمانے کے برسوں، مہینوں، دنوں حتیٰ کہ لمحوں کی ہر کروٹ پر بصیرت کی نگاہ ڈال سکتے ہیں۔ اس سے عبرت کے درس حاصل کرسکتے ہیں اور حال و مستقبل کی تعمیر کے لیے روشنی اور رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔
رات صرف تاریک نہیں ہوتی ، بلکہ قدرت کے اس نظام میں اس کا بھی بڑا اہم وظیفہ ہے۔ اور دن صرف روشن ہی نہیں ہوتا، اس روشنی کے پہلو بہ پہلو بہت سے سایے بھی ہوتے ہیں، جو کچھ حلقوں کو سورج کی روشنی کے باوجود دامِ سیاہ میں گرفتار رکھتے ہیں، اور کچھ انسانوں کے لیے کمرِہمت کسنے کی دعوت اور گوشۂ آرام طلبی کو مسترد کرنے کی پکار بن جاتے ہیں۔ قرآن کریم جہاں ان حقائق زندگی سے ہمیں بلند تر اخلاقی حقائق کو سمجھنے کی دعوت دے رہا ہے، وہیں ہمیں یہ تعلیم بھی دے رہا ہے کہ اس نقطۂ نظر سے زندگی کے چند در چند پہلوئوں اور زمانے کی ہر گردش پر نگاہ ڈالیں اور ان اخلاقی حقائق کو سمجھیں، جو سطح بین نگاہوں سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔


*

دن اور رات اور ماہ و سال کی یہ گردش ہمیں اس حقیقت کا احساس بھی دلاتی ہے کہ تبدیلی اور تغیّر محض کوئی ماضی کے واقعات یا اتفاقی حادثات نہیں ہیں، بلکہ فطرت کا ایک قانون ہیں۔
’ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں‘۔ زندگی نام ہی تبدیلیوں کا ہے۔ یہ تبدیلیاں خوش آیند بھی ہوسکتی ہیں، ناپسندیدہ بھی۔ بلندی کی سمت میں بھی ہوسکتی ہیں اور پستی کی طرف بھی۔ ان سے روشنیوں میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور تاریکیوں میں بڑھوتری بھی۔ یہ تعمیر کی راہ ہموار کرنے والی بھی ہوسکتی ہیں اور اس راہ میں کانٹے بکھیرنے والی بھی۔لیکن جس کی نگاہ زندگی کے حقائق پر ہے، وہ ان میں سے کسی تبدیلی پر بھی قناعت کرکے نہیں بیٹھ جاتا۔ نہ ’خیر‘ کی سمت میں کوئی کامیابی اس میں غلط بھروسا، غرّہ یا غفلت پیدا کرتی ہے اور نہ ’شر‘ کے کسی جھونکے کا وقتی غلبہ اس میں مایوسی، ہمت شکنی اور بے کیفی کا کہرام برپا کرتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شمع کی لَو جتنی تیز ہوگی اور روشنی کا ہالہ جتنا بڑھے گا، تاریکیوں سے مقابلے کا میدان بھی اتنا ہی وسیع سے وسیع تر ہوجائے گا۔{ FR 1133 } اور حق و باطل کی کشمکش کا دائرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ حق و باطل کی اس کشمکش میں ذرا سی غفلت بھی بے پناہ گھاٹے اور نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کبھی ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جو ناخوش گوار اور ناموافق ہیں، تو اسے یہ یقین رہتا ہے کہ اس ناخوش گوار حالت کو دوام حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ قابلِ تغیّر ہے اور اسے بدلنے کی کوشش ہی ایک صاحب ِ بصیرت کے لیے کرنے کا کام ہے۔ وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اور وقت کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ وہ کسی ایک تبدیلی کو بھی مستقل اور دائمی نہیں سمجھتا، بلکہ تاریخ کی طول طویل شاہراہ پر نگاہ ڈال کر صاف صاف نشانِ منز ل دیکھ لیتا ہے۔
وقت، تاریخ اور زمانے کے تغیّرات کا یہ شعور انسان کے لیے بڑا قیمتی سرمایہ ہے اور شب و روز کی گردش کا ہرلمحہ اسی کا درس دیتا ہے۔ اگر یہ احساس نہ ہو تو انسان نہ کامیابیوں میں علم اور برداشت کا مظاہرہ کرسکے اور نہ ناکامیوں میں صبر اور وقار کا اظہار۔ نہ فتح مندیاں اس کا دماغ خراب کردیں اور نہ شکستیں اس کا کلیجہ پھاڑ دیں۔ نہ اچھے حال میں وہ راہِ اعتدال پر قائم رہ سکے اور نہ بُرے حال میں وہ خودشکنی و خودکُشی کی راہ پر دوڑ پڑے۔ اسی گردشِ ایام پر غوروفکر انسان میں شعورِ زمان (Time Consciousness)پیدا کرتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ وہ محض ایک لمحہ حال (Moment in Time)میں زندگی نہ گزارے بلکہ پورے جادئہ وقت (Time Stream) کو اپنی نگاہ میں رکھے۔ اسلام صبر، قناعت، شکر اور مجاہدے کی جن اقدار کا درس دیتا ہے، ان کو صرف اسی ذہنی پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے اوراسی فضا میں ان پر عمل ہوسکتا ہے۔


*


قرآنِ پاک میں رات کی آمد کو ایک ایسا واقعہ قرار دیا گیا ہے، جس سے ذہن کو فوری طور پر اس خالقِ لیل و نہار کی طرف رجوع کرنا چاہیے، جس کے قبضۂ قدرت میں ہر شے ہے اور جس کی مرضی کے بغیر زمانے کی سطح پر کوئی جنبش نہیں ہوتی:
وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الَّيْلُ۝۰ۚۖ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ۝۳۷ۙ (یٰسین۳۶:۳۷) اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے ، ہم اس کے اُوپر سے دن ہٹادیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔
قدرتِ الٰہی سے روشن زمین و آسمان پر تاریکی کا پردہ غالب آجاتا ہے اور انسان نیچے، اُوپر، دائیں بائیں غرض ہر سمت میں تاریکی ہی تاریکی کو غالب پاتا ہے۔
انسان اس تاریکی سے نیند کی آغوش میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ دوسری آیت ِ قرآنی انسان کو اس کے ربّ کی قدرت اور اس کے اقتدار و اختیار کا احساس دلاتی ہے:
وَہُوَالَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْہِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى۝۰ۚ ثُمَّ اِلَيْہِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۶۰ۧ (الانعام ۶:۶۰) وہی ہے جو رات کو تمھاری روحیں قبض کرتاہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمھیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقررہ مدت پوری ہو۔آخرکار اسی کی طرف تمھاری واپسی ہے، پھر وہ تمھیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو؟
ان قرآنی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رات اور دن کی یہ گردش اس ابدی سچائی جاننے اور پہچاننے کی دعوت دیتی ہے کہ اس کے پیچھے جو قوت کارفرما ہے، اُسے سمجھا جائے اور جن مقاصد کے لیے وہ رفتارِ زمانہ میں یہ تبدیلیاں کر رہا ہے، ان کو پورا کرنے کی سعی کی جائے۔ رات محض تاریکی کا ایک پردہ نہیں، دراصل یہ ایک مہلت ہے جو اس ہستی کی طرف سے انسان کو ملتی ہے، جس کے ہاتھ میں انسانوں کی جان ہے، جس میں وہ ہمیں کاروبارِ حیات سے کھینچ کر اس حالت میں لے آتا ہے،کہ جس میں محنت اور جدوجہد کے دوران صرف کی ہوئی قوت کو بحال کیا جائے اور پھر دوبارہ کاروبارِ عالم کی طرف انسانوں کو بھیج دیا جائے۔ اس حقیقت کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ:
وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا۝۴۷ (الفرقان ۲۵:۴۷)وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمھارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا۔
ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱- یہ گردش لیل و نہار بے مقصد نہیں ہے۔ اس کو سطحی نظر سے نہ دیکھا جائے، بلکہ اس کے ذریعے انسان ان مقاصد کا شعور حاصل کرنے کی کوشش کرے، جن کی خاطر حکیم مطلق نے دن اور رات، روشنی اور تاریکی کا یہ نظام بنایا ہے۔
۲- اس کا ایک واضح مقصد یہ ہے کہ انسان کی کام اور آرام کی فطری ضرورتیں پوری ہوں۔ انسان کے جسم و جان کے یہ تقاضے ہیں کہ ان میں جدوجہد اور راحت و آرام کے درمیان ایک فطری توازن قائم ہو۔ لیکن یہ آرام محض براے آرام نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ کارگاہِ حیات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے انسان اپنے آپ کو تیار کرے۔ وہ آرام، جس کے بعد انسان نئی طلوع ہوتی صبح کے تقاضوںکو پورا کرنے کے لیے نہیں اُٹھتا اور جو نئی جدوجہد پر منتج نہیں ہوتی، وہ راحت اور آرام نیند کا آرام نہیں، موت کی علامت تھا۔ خالق کا عطاکردہ آرام دراصل وہ آرام ہے ،جو جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اگر انسان اس کو نظرانداز کردے، تو وہ اپنے مقصد کو کھو دیتا ہے اور اس کی سرحدیں موت سے جاملتی ہیں۔ یہ رات کا ایک حرکی تصور (dynamic view) ہے جو قرآن سے ملتا ہے، اور جس کی بناپر صبح و شام اوردن اور رات انسان کی عملی زندگی کے لیے علامتیں (symbols) بن جاتے ہیں۔ پھر ان علامتوں کی مدد سے انسان زندگی کے وسیع میدان میں بے شمار چیزوں کو سمجھ سکتا ہے اور انھیں ان کے صحیح پس منظر میں ان کے ٹھیک ٹھیک مقام پر رکھ کر ان کے بارے میں صحیح رویہ اختیار کرسکتا ہے۔
۳- قرآن ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ زندگی کے ان واقعات سے اپنے ذہن کو ان کے پسِ پشت کارفرما قوتوں پر غوروفکر کی طرف راغب کریں اور صرف مادی اور طبیعی پہلوئوں ہی پر غور نہ کریں بلکہ ان کے اخلاقی پہلوئوں پر بھی توجہ صرف کریں۔ پھر اسبابِ حیات ہی کو انتہاے زندگی نہ سمجھ لیں، بلکہ ان اسباب کے ذریعے مسبب الاسباب تک پہنچیں اور اس کے دامنِ رحمت کے سایے کی طلب میں بے چین و بے قرار ہوکر، اس کی مرضی جاننے اور اس پر چلنے کی دیوانہ وار کوشش کریں۔لاریب، وقت کی ہر کروٹ اور زمانے کی ہر جنبش کے پیچھے اس کی حکمت ِ بالغہ کام کر رہی ہے۔ عقل مند وہ انسان ہے، جو اس حکمت کو پانے کی جستجو کرتا ہے اور اپنے ربّ سے اپنا تعلق استوار کرتا ہے۔


*


اگر ہم اس معاملے پر دوسرے پہلو سے غور کریں تو محسوس کریں گے کہ رات دوقسم کے کرداروں کو نمایاں کرتی ہے:
ایک گروہ وہ ہے جسے روشنی سے نفرت ہے اور جو تاریکی کا پرستار ہے۔ دن کے اُجالے میں بھی یہ تاریکیوں ہی کی تلاش میں مصروف رہتا ہے اور رات کی چادر کے جلد از جلد پھیل جانے کی آرزو کرتا ہے۔ رات کی آمد اس کی تمنائوں کی بہار ہوتی ہے۔ اس کی ساری سرگرمیاں شب کے اندھیروں میںفروغ پاتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں جس فساد کو پھیلاکر یہ گروہ اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اندھیروں کے پردے ہی میں برپا کیے جاسکتے ہیں۔ جرائم کے ارتکاب اور سازشوں کے جال پھیلانے سے لے کر، دوسروں کے مال، جان اور عزّت و آبرو پر حملہ کرنے کے لیے رات کی تاریکی اس گروہ کو بہترین مو اقع فراہم کرتی ہے ۔ اس لیے یہ اس کی تمنا کرتا ہے اور اسی کے لیے یہ رات کو استعمال کرتاہے۔ انسانی معاشرے پر جب اندھیرا چھاتا ہے تو یہ گروہ سرگرمِ عمل ہوتا ہے اور صبح کی روشنی جب اُفق کو پُرنور کردیتی ہے، تو یہ اپنی پناہ گاہوں میں جا چھپتا ہے۔ جس رات کو مالک نے آرام کے لیے بنایا تھا، یہ گروہ اسے انسانوں کے لیے حرام کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور فساد فی الارض کا باعث ہوتا ہے۔ زمین میں فساد نام ہے اللہ کے دیے ہوئے احکام کو توڑنے اور اس کی جگہ دوسرے طریقوں کو رائج کرنے کا:

اَوْلِيٰۗــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۝۰ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۝۰ۭ (البقرہ ۲:۲۵۷) ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔
اہلِ کفر اور اہلِ فساد کی یہی روش ہے اور رات ان کو بالکل بے نقاب کردیتی ہے۔ جس طرح چمگادڑ اندھیرے میں ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح یہ شیطانی گروہ بھی اندھیرے کے دوران میدان میں آتا ہے اور معاشرے کا صاحب ِ بصیرت گروہ اس کو دیکھ بھی لیتا ہے اور اس کے مقابلے میں مدافعت اور جان،مال اور آبرو کی حفاظت کا بندوبست بھی کرتا ہے۔
انسانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے، جس نے نُورِ ہدایت سے اکتساب کیا ہے۔ اس کے لیے رات ’لباس‘ اور ’سکینت‘ ہے۔ وہ اس سے نئی قوتِ کار حاصل کرتا ہے۔ تاریکی کا کوئی پرتو اس کے روشن دل ودماغ پر نہیں پڑتا۔ وہ اس موقعے کو جسم کے آرام اور روح کی غذا کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ ایسی نیند سے اجتناب کرتا ہے جو غفلت کا رنگ لیے ہو،اور جو چوروں اور نقب زنوں کا سہارا ہو۔ وہ رات کی تاریکیوں میں اپنی، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے معاشرے کی حفاظت کا بندوبست کرتا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے ایک فوج رات کے وقت دشمن کے شب خون کی مدافعت کے لیے سامان کرتی ہے۔ ایسے چوکنّے اور ہوشیار لوگ ہی ان خطرات سے محفوظ رہتے ہیں، جو فسادپرست عناصر سے ان کو لاحق ہیں اور جن کے لیے رات ان عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے۔ پھر یہ گروہ آرام تو ضرور کرتا ہے لیکن مزید کام کے لیے تیار ہونے کی خاطر، اس کا آرام بے مقصد نہیں ہوتا، بامقصد ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کبھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ رات کی تاریکی میں دل زندہ چراغ کی طرح روشن رہتا ہےاور اندھیروں کو کبھی غالب نہیں ہونے دیتا۔
یہ گروہ رات کو صرف جسم کے آرام ہی کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ روح کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صرف کرتا ہے۔ جس طرح جسم آرام اور نیند کا مطالبہ کرتا ہے،اسی طرح روح محاسبہ، عبادات اوردُعا کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ جسم کا تقاضا ہے تو یہ روح کی غذا ہے۔ خدا پرست انسانوں کا یہ گروہ رات کو آرام کے لیے بھی استعمال کرتا ہے اور محاسبہ، عبادت اور دُعا کے لیے بھی:

قُـمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا۝۲ۙ نِّصْفَہٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِيْلًا۝۳ۙ اَوْ زِدْ عَلَيْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا۝۴ۭ اِنَّا سَـنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا۝۵ اِنَّ نَاشِـئَۃَ الَّيْلِ ہِيَ اَشَدُّ وَطْـاً وَّاَقْوَمُ قِيْلًا۝۶ۭ (المزمل۷۳: ۲تا ۶) (اے محمدؐ) رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرو یا کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو ٹھیرٹھیر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔درحقیقت رات کا اُٹھنا، نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور (قرآن) ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
محاسبے اور دُعا کے لیے بھی یہ بہترین وقت ہے، جیساکہ متعدد احادیث ِ مبارکہ میں آتا ہے کہ اس وقت بندے اور رب کے درمیان کوئی شے حائل نہیں ہوتی اور دینے والا سب کچھ دینے کے لیے سب سے زیادہ آمادہ ہوتا ہے اور پکارتا ہے:’ہے کوئی مانگنے والا؟‘ سمجھ دار وہ ہے جو رات کو ان کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ پھر رات کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور شب کے پردوں کے باوجود نُور غالب رہتا ہے:
اَللہُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۝۰ۙ يُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ(البقرہ ۲:۲۵۷) جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے، اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔


*


رات کا طول بھی اپنے اندر غوروفکر کے چند پہلو رکھتا ہے۔ ہر رات برابر کی طویل نہیں ہوتی ۔ ایک ہی سال میں رُونما ہونے والی ہر رات دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ محض ایک طبیعی حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس امرواقعہ کی معنویت کے پہلو بے شمار ہیں۔
اسی طرح رات کی گراں باری ہرہر فرد کے لیے مختلف نوعیت کی ہوتی ہے۔ جو اپنے مقصد کو سمجھتا ہے اور اس کے لیے خلوص اور توکّل کے ساتھ مصروفِ کار ہے، وہ نہ رات سے گھبراتا ہےاور نہ رات کے اندھیروں سے خوف کھاتا ہے۔ اس کا کام اپنا چراغ روشن رکھنا ہے۔ وہ چراغ جو پہاڑی کا چراغ ثابت ہوتا ہے اور دُور دُور تک اندھیروں کا سینہ چیر کر رہ نوردوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن، جس کی نگاہ اپنے اصل سے ہٹ گئی ہو، اس کے لیے ہر رات پہاڑ ہوجاتی ہے، جسے صبح کرنا ’لانا ہے جوئے شِیر کا!‘
دراصل رات کے اصل طول کے احساس کا انحصار انسان کے وجدان اور رویے پر ہے۔ بات شاعری کی نہیں لیکن ’شب ِ ہجر‘ اور ’شب ِ وصل‘ میں جو فرق ہے، وہ ساعتوں کے طول کا نہیں احساس کی کیفیت اور شدت کا ہے۔ اس لیے جس کی نگاہ ایک انمٹ مقصد پر ہو اور جس کا کام اللہ کے دین کو قائم کرنا ہو (جو ایک مسلمان کا مقصد وجود ہے) اس کے لیے دن اور رات میں کوئی فرق نہیں۔ سرما کی رات ہو یا گرما کی، خزاں کی شب ہو یا بہار کی۔ اسے اپنا کام انجام دینا ہے۔ رات اس کے لیے جو معنویت رکھتی ہے، اس کی پیمایش ساعتوں اور لمحوں سے نہیں کی جاسکتی ۔ اس کے لیے تو: ’جاوداں ، پیہم رواں، ہر دم جواں ہے زندگی‘ کی سی سرشاری چاہیے۔


*


قرآنِ پاک میں دن اور را ت کا ذکر جس انداز میں کیا گیا ہے، اس میں ایک بڑا معنی خیز پہلو یہ ہے کہ دن سے رات اور رات سے دن کے رُونما ہونے کا منظر ۔ ہر رات کو ایک دن ختم ہونا ہے۔ کامیاب ہیں وہ خوش نصیب، جو رات کا استقبال اس طرح کرتے ہیں کہ صبحِ نو کے لیے تیاری کریں:

یوں اہلِ توکّل کی بسر ہوتی ہے
ہر لمحہ بلندی پہ نظر ہوتی ہے
گھبرائیں نہ ظلمت سے گزرنے والے
آغوش میں ہر شب کے سحر ہوتی ہے

جس طرح بیماری سے انسان کو صحت کی ضرورت و عظمت کا احساس ہوتا ہے، اسی طرح رات بھی دن کے نُور کی اہمیت اور اس کی ضرورت کے احساس کو تیز تر کرنے کا ذریعہ ہے۔ جس نے رات سے یہ سبق سیکھ لیا، اس کی رات احساس سے محروم انسانوں کے ’دن‘ سے ہزار گنا بہتر ہے:

شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی
کچھ مصلحت اسی میں ہو پروردگار کی


(ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن ، تاریخ اشاعت مئی 2018  بانی سید ابوالاعلی مودویؒ )

فلسفۂ کائنات کا قرآنی تصور

فلسفۂ کائنات  کا قرآنی تصور 

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ   ،  الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا  ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ بَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ ۭ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ     رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّاڰ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ     
رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰي رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ  ۭاِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ      سورہ آل عمران : 190-194)

ترجمہ  " زمیناور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کےلیے بہت نشانیا ں ہیں جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غورو فکر کرتے ہیں۔ وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں﴾”پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو پاک ہے اس سے کہ عبث کا م کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ،تُو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسےدرحقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔ مالک! ہم نے ایک پکار نے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی،پس اے ہمارے آقا!جو قُصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انھیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔خدا وند! جو وعدے تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کےدن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ، بے شک تُو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔“


"  محبت دنیا کے ان اندھوں کا ذکر کرنے کے بعد، جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کے لیے اس قسم کی کٹ حجتیاں پیدا کر رہے تھے جن کی تفصیل اوپر بیان ہوئی اب یہ ان ارباب بصیرت کا بیان ہورہا ہے جو اللہ کو ہر جگہ اور ہر حال میں یاد رکھتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت پر برابر غور کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ذکر و فکر خود بخود ان کو اس نتیجے تک پہنچا دیتا ہے کہ یہ عظیم کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہوسکتا، اور جب بے غایت و بے مقصد نہیں ہوسکتا تو لازم ہے کہ محض اتنے ہی پر تمام نہ ہوجائے جتنا ظاہر ہو رہا ہے بلکہ ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں گنہگار اور نیکو کار دونوں اپنے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں اور اس دنیا کی خلقت میں جو عظیم حکمت پوشیدہ ہے وہ ظاہر ہو ۔

 آسمان و زمین کی خلقت اور رات اور دن کی آمد و شد میں جو نشانیاں ہیں ان کی طرف یہاں صرف اجمالی اشارہ ہے۔ ان کی تفصیل پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔ قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ گوناگوں پہلوؤں سے آفاق کی ان نشانیوں کو نمایاں کیا ہے جو شہادت دیتی ہیں کہ اس کائنات کے پیچھے صرف ایک عظیم طاقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ عظیم حکمت بھی ہے، صرف بے پناہ قدرت ہی نہیں بلکہ بے پایاں رافت و رحمت بھی ہے۔ صرف بے اندازہ کثرت ہی نہیں ہے بلکہ اس کثرت کے اندر نہایت حیرت انگیز توافق و توازن بھی ہے۔ یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ اس دنیا کا پیدا ہونا نہ تو کوئی اتفاق سانحہ ہے نہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے بلکہ یہ ایک قدیر و حکیم، عزیز و غفور اور سمیع و علیم کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اس وجہ سے یہ بات اس کی فطرت کے خلاف ہے کہ خیر و شر اور نیک و بد کے درمیان اتمیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے یا یوں ہی تمام ہوجائے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ یا تو اس کا کوئی خالق و مالک ہی نہیں ہے، یہ آپ سے آپ کہیں سے آ دھمکی ہے اور اسی طرح چلتی رہے گی یا یہ کہ نعوذ باللہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرے مزاج کا ہے جو کسی کو گداگر، کسی کو تونگر، کسی کو ظالم اور کسی کو مظلوم بنا کر اس کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں اس قدرت اور اس حکمت کے بالکل منافی ہیں جن کی شہادت اس کائنات کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے۔ ایسی علیم و حکیم ہستی کی شان علم و حکمت کے یہ بات بالکل منافی ہے کہ وہ کوئی بے حکمت کام کرے ۔

اس طرح اس کائنات کی قدرت و حکمت پر غور کرنے والا شخص نہ صرف خدا تک بلکہ اقرار آخرت تک خود پہنچ جاتا ہے اور جس کا ذہن اس حقیقت تک پہنچ جائے گا ظاہر ہے کہ جزا و سزا کے تصور سے اس کا دل کا نپ اٹھے گا اور اس کے اندر شدید داعیہ اس بات کے لیے پیدا ہوگا کہ وہ اس عذاب اور اس رسوائی سے پناہ مانگے جو ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو اس دنیا کو بس ایک کھلنڈرے کا کھیل سمجھتے رہے اور اس طرح انہوں نے اپنی ساری زندگی بالکل بطالت میں گزار دی ۔


 یہ ان آیات کا سیدھا سادا مطلب ہوا۔ ان پر مزید غور کیجیے تو چند اور باتیں بھی سامنے آئیں گی اور وہ بھی نہایت قیمتی ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن کے نزدیک اولو الالباب صرف وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کے نظام پر غور کر کے خدا کے ذکر اور آخرت کی فکر تک رہنمائی حاصل کریں۔ جن کو یہ چیز حاصل نہیں ہوئی وہ اگرچہ آسمان و زمین کی تمام مسافت ناپ ڈالیں اور چاند و مریخ تک سفر کر آئیں لیکن وہ اولو الالباب نہیں ہیں۔ ان کے سروں پر کھوپڑیاں تو ہیں لیکن ان کے اندر مغز نہیں ہے۔ اگر ان کے اندر مغز ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ انہیں سب کچھ نظر آجاتا اور یہ تل کی اوٹ میں چھپاہوا پہاڑ نظر نہ آتا۔ دوسری یہ کہ جہاں تک خدا کا تعلق ہے وہ فکر و نطر کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اس کائنات کی بدیہی حقیقت بلکہ ابدہ البدیہیات ہے۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی منادی کر رہا ہے۔ ہماری فطرت اس کی شہادت دے رہی ہے۔ انسان کے اندر اگر عقلِ سلیم ہو تو وہ خدا کو اسی طرح دیکھتی ہے جس طرح سلیم آنکھ سورج کو دیکھتی ہے۔ خدا کو پانے کے لیے یہ کافی ہے کہ انسان اس کو یاد رکھے۔ البتہ آخرت کا معاملہ تفکر و تدبر کا محتاج ہے۔ تیسری یہ کہ جہاں تک ذکرِ الٰہی کا تعلق ہے وہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ اس کے لیے قیام و قعود، نرمی و گرمی اور صبح و مسا کی کوئی قید نہیں ہے۔ انسان کی مادی زندگی کے بقا کے لیے جس طرح سانس کی آمد و شد ضروری ہے اسی طرح اس کی روحانی زندگی کے بقا کے لیے اللہ کی یاد ضروری ہے اور قرآن کی زیر بحث آیات سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اولو الالباب کی خاص صفت یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔ چوتھی یہ کہ دین میں جس طرح ذکر مطلوب ہے اسی طرح فکر بھی مطلوب ہے۔ اگر ذکر ہو اور فکر نہ ہو تو بسا اوقات یہ ذکر صرف زبان کا ایک شغل بن کے رہ جاتا ہے۔ اس سے معرفت کے دروازے نہیں کھلتے۔ اولوالالباب کے ذکر کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ اس کے اتھ فکر بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے قدم درجہ بدرجہ حکمت و معرفت میں راسخ ہوتے جاتے ہیں اس لیے کہ یہی فکر، آخرت کے یقین کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ پانچویں یہ کہ اس کائنات میں تفکر سے جس طرح اولوالالباب اس حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے اس وجہ سے ایک روز عدل کا ظہور ضروری ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی ان پر واضح ہوجاتی ہے کہ اس دن حقیقی رسوائی سے وہ لوگ دو چار ہوں گے جو جھوٹی شفاعتوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں اس لیے کہ اس دن ایسے بدقسمتوں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا ۔"  ( مولانا امین احسن اصلاحی )

"اللہ کی توحید اور فردیت کی، اس کی حکمت وصنعت کی اور اس کی قدرت وحاکمیت کی نظام فلکی اور اس کی تفصیلات، چاند، سورج، ستاروں کی تعداد، ان کے درمیان فاصلے، ان کے باہمی تعلقات وتاثرات، ان کی گردشوں کی پیمائش، گرہن کے اسباب واوقات، انکے طلوع وغروب، نور وحرارت وغیرہ کے قاعدہ ضابطہ، اس قسم کی تفصیلات سے علم ہیئت کی کتابوں کے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ رہی زمین تو ہیئت ارض، مساحت ارض، طبقات ارض، معدنیات ارض، کشش ارض، ہواؤں اور موسموں کے تغیرات وغیرہ کے لیے تو کوئی ایک پورا فن بھی کافی نہ ہوا بلکہ جغرافیہ، جغرافیہ طبعی، جیالوجی، فزالوجی، میٹیر ولوجی، آرکیالوجی خدا جانے کتنے فنون پر فنون نکلتے چلے آرہے ہیں اور حکمت باری اور صنعت باری کے انداز اور تخمینے ختم ہونے کے قریب بھی نہیں آرہے ہیں ! آیت میں ضمنا ان مشرک قوموں کا بھی رد آگیا جنہوں نے آسمان یا زمین یا رات دن کو دیوی دیوتا سمجھا ہے، معبودیت کی صلاحیت ان میں سے کسی میں بھی نہیں، یہ سب کے سب مملوک ومسخر ہیں ایک صانع اعظم کے ۔"  (مولانا عبد الماجد دریاآبادی ) 

 قرآن کی رو سے   ایک مسلم فلسفی کے  کائنات اور حیات کے بارے میں بنیادی تصور ات یہ ہیں : 
1۔ اللہ تعالی "رب العالمین  " ہے ۔ 
2۔  محمد رسول اللہ ﷺ " رحمۃ للعالمین " ہے ۔ 
3۔ القرآن " ھدی للعالمین " ہے۔ 

اسلام تمام کائنات کا دین ہے

اسلام تمام کائنات کا دین ہے 

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ وَلَهٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ  سورہ آل عمران83؀
اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چاروناچار اللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم ) ہیں اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے؟

اہل کتاب کے اس تمام گریز و فرار پر اب یہ بانداز استعجاب سوال کیا ہے کہ آخر اسلام اور پیغمبر اسلام سے اس سعی فرار کا مقصد کیا ہے ؟ کیا اللہ کے دین کے سوا یہ اہل کتاب کسی اور دین کے طلبگار ہیں۔ اللہ کا دین ازل سے اسلام ہے۔ یہی دین اس نے تمام نبیوں اور رسولوں کو دیا اور یہی دین اس پوری کائنات کا دین ہے۔ سورج، چاند، ابر، ہوا اور آسمانِ و زمین سب اسی دین کے پیرو ہیں۔ اسلام کی حقیقت اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینا ہے۔ کسی کی مجال ہے جو خدا کے حکم اور اس کے قانون سے سرتابی کرسکے۔ جو اپنے محدود دائرہ اختیار میں (اور یہ دائرہ اختیار بھی خدا ہی کا قائم کردہ اور اسی کی مشیت کے تحت ہے)۔ کوئی سرتابی کرتے بھی ہیں تو وہ بھی دائرہ تکوینی کے اندر خدا کے قوانین کے تحت عاجز و سرفگندہ ہیں۔ کس کی تاب ہے کہ وہ زندگی اور موت کے طبعی قوانین سے بھاگ سکے۔ پس فطرت اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے محدود دائرہ اختیار میں بھی اسی خالق و مالک کے قوانین کی طوعاً تابعداری کرے جس کے قوانین کی تابعداری اپنے د ائرہ تکوینی میں کرہاً کر رہا ہے۔ اس طرح اس کی زندگی اس پوری کائنات کے ذرہ ذرہ سے ہم آہنگ و ہم رنگ ہوجائے گی۔ اس کے دائرہ اختیار اور دائرہ تکوینی دونوں میں کامل موافقت پیدا ہوجائے گی اور انسان خدا کی بخشی ہوئی آزادی کو خدا ہی کی شریعت کے حوالہ کر کے اپنے آپ کو فرشتوں اور نبیوں کی طرح خدا کے رنگ میں رنگ لے گا۔ یہی اسلام ہے۔ یہی صبغۃ اللہ ہے۔ یہی خدا کا دین ہے۔ یہی مذہب آدم، یہی دعوت نوح اور یہی ملت ابراہیم ہے اور اسی کی دعوت لے کر یہ آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ہیں۔ پھر اس دینِ فطرت اور اس دین کائنات کو چھوڑ کر یہ اہل کتاب۔ اہل کتاب ہو کر۔ کس دین کے طلبگار ہیں ۔
وَّاِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح اس زندگی میں خدا کے قانون سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہے اسی طرح آگے بھی راہ رندھی ہوئی ہے۔ جو مر کے اس سے چھوٹتا ہے وہ بھی چھوٹتا نہیں بلکہ وہ بھی خدا ہی کے پاس جاتا ہے اور اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کرتا ہے ۔

(حوالہ : تدبر القرآن ، سورہ آل عمران  :83 از مولانا امین احسن اصلاحی )


کائنات کی تخلیق اور قرآن مجید!

کائنات کی تخلیق اور قرآن مجید!


ڈاکٹر عطا الرحمان
وقت رواں کے ساتھ جیسے سائنسی علوم میں وسعت ہورہی ہے ویسے کائنات کی تخلیق میں ان اہم عناصر کا کردار عیاں ہوتا جارہا ہے جن کے بغیرکائنات کا وجودممکن نہیں ہو تا۔ مثال کے طور پر ایک جاندار خلیے کا پیچیدہ نظام انسانی عقل ودانش کو دنگ کرنے کیلئے کافی ہے۔ بلا شبہ انسانی دماغ ازخود کائنات کا پیچیدہ ترین جز ہے ۔ ہمارے دماغ میںتقریباً سو ارب ایسے خلیے ہیں جو عصبونات (neurons) کہلاتے ہیں اور ہر عصبون (neuron) دس ہزاردوسرے عصبونات سے منسلک ہوتاہے۔ یعنی سو ارب ضرب دس ہزار ایسے راستے ہیں جن پر عصبون میں ربط کے ذریعے خیالات سفر کرتے ہیں۔یہ نہایت پیچیدہ نظام معلومات کو پہنچانے اور آپس میں رابطے کا سبب بنتاہے ۔لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ خیالات کی سالمیاتی بنیادکیا ہے؟ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ خیالات کی دراصل ایک مادی حیثیت ہوتی ہے اور یہ بھی جوہروں اور سالموں سے وجود میں آتے ہیں۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ خیالات اور فکر کے پیچھے کونسے کیمیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ انہیں عوامل کے بارے میں ابھی حال ہی میں، ا مریکی جریدے نیورو سائنس(Neuro Science) میں میرے دو مقالے شائع ہوئے ہیں۔
جدید سائنس کے مطابق کائنات کی تخلیق کی ابتداء حالت اکایت (state of singularity) سے آج سے 13.8 ارب سال پہلے ایک انفجار عظیم (big bang) کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ انٰفجار عظیم کا تصور بیلجیم (Belgium) کے ایک سائنسدانGeorges Lemaitre نے تقریباً سو سال پہلے پیش کیا تھا جو کہ کیتھولک جامعہ (Catholic University) کے ایک پادری تھے۔ اور وہ ماہرین فلکیات اور طبعیات کے پروفیسر بھی تھے۔ ان کے مطابق پوری کائنات ایک اکائی کی شکل میں ایک نقطے پر مرکوز تھی اور پھر ایک بہت عظیم دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ در حقیقت اس نظرئیے کا ذکر قرآن مجید میں پہلے ہی سے مو جود ہے کہ ایک اکائی سے کائنات بہت بڑے دھماکے کے ذریعے وجود میں آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’ ’ کیا وہ کفار نہیں جانتے کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا‘‘ (سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 30)۔کیاGeorges Lemaitre نے یہ اندازہ قرآن کی اس آیت سے لگایا جو کہ آج سے37 14 سال پہلے نازل ہوئی ؟
(University Johannes utenberg) جو کہ شہرمینز (Mainz) جرمنی میں واقع ہے وہاںکے ڈاکٹر الفریڈکارنر جو کہ ایک معروف ماہر ارضیات تھے وہ اس حقیقت پر مندرجہ ذیل الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں ’’ذرا سوچئے محمدﷺکو اس زمانے میں یہ علم کیسے ہوا ،یہ ناقابل یقین ہے کیونکہ سائنسدانوں نے تو یہ معلوما ت ابھی چند سال پہلے ہی حاصل کی ہیں وہ بھی نہایت پیچیدہ اور جدید تکنیکی طریقوں کے ذریعےـ‘‘۔ ان الفاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور قرآن مجید کی حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔
ابتدائی دھماکے کے نتیجے میں توسیع کے بعد کائنات آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی اور نیم جوہری ذرات پر مشتمل ایک دھوئیں دار مواد کو جنم دیا جو بالآخر سادے جوہروں (atoms) میں تبدیل ہوئے۔یہ دھوئیں کے دیوقامت بادل کشش ثقل کی وجہ سے آخر کارستاروں اور کہکشاؤں میں تبدیل ہو گئے۔کہکشاؤں کے ’’ دھوئیں ‘‘ جیسے مادے سے تشکیل کا ذکر بھی قرآن پا ک کی سورہٗ دخان میں ہے’’ پھر اس نے کائنات میں تبدیل کردیا جب وہ دھواں تھا‘‘ (القر آن 41:11 )
رابن کولنز کائنات کی تخلیق کے سلسلے میں اپنے ایک مقالے بعنوان ’’The Fine Tuning Design Argument‘‘ میں بیان کرتے ہیں ’’فرض کریں کہ ہم مریخ پر کسی خلائی مہم پر جاتے ہیں جہاں ہمیں ایک گنبد نما کو ئی جگہ ملتی ہے جس کے اندر ہر چیز بالکل صحیح ترتیب میں موجودہو جو کہ زندگی کیلئے بالکل مناسب ہو یعنی حرارت 70درجہ فارن ہائٹ ہو، نمی 50% ہو ، اسکے علاوہ آکسیجن کا گردشی نظام ہو، توانائی کا اجتماع نظام ہو ، اور مکمل خوراک کا پیداواری نظام ہو، بلکہ اسے اور سادہ لفظوں میں لے لیں کہ یہ گنبد نما جگہ ایک جیتا جاگتا مکمل کام کرتا ہو ا حیاتیاتی نظام ہو ۔ آپ کے خیال میں اس سیارے پر اس قسم کی جگہ کو دیکھ کر کوئی کیا نتیجہ اخذ کرے گا؟ کیا ہم یہ سمجھیں گے کہ یہ سب محض اتفاقیہ وجود میں آگیا ہوگا؟ یقینانہیں، بلکہ ہم بلامبالغہ یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ یہ ضرور کسی ذہین عقل کا کارنامہ ہے۔ ہم ایسا کیوں سوچیں گے؟ کیونکہ ایک ذہین تخلیق کار ہی اس قسم کے وجود کی مو جودگی کی وجہ ہو سکتا ہے ـ‘‘ ۔وہ مزید بیان کرتے ہیں ’’ طبعیات میں حالیہ دریافتوں کے مطابق یہ بات طے ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق محض کوئی حادثہ نہیں ہو سکتی بلکہ ایک نہایت سمجھدار’’حیاتیاتی نظامـ‘‘ کے مطابق وجود میںآئی ہے ‘‘۔ اور یہ سب محض اتفاق نہیں ہوسکتا کیونکہ کائنات کے تقریباً تمام بنیادی اصول و قوانین نہایت باریک بینی سے بنائے گئے ہیں تاکہ زندگی وجود میں آسکے۔
کائنات کی موجودہ صورت میں تشکیل کیلئے بہت سے عالمگیر طبعیاتی دائم کا خاص مقدار میں ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ کہکشاؤں کی تشکیل، سیاروں کے ابھرنے اور کائنات میں حیات کا وجود ان کے بغیر ناممکن تھا۔ کائنات پر زندگی صرف اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب کچھ مخصوص بنیادی عالمگیر طبعیاتی دائم صرف ایک خاص رقم و میزان میںواقع ہوں ۔ اگر ان میں ذرہ برابر بھی فرق ہوتا تویہ توازن نہیں قائم ہوتااورکائنات کا وجود اور پھر اس میںزندگی کا وجود ممکن نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر اگر انفجار عظیم (big bang) کے دھماکے کی قوت میں نہایت ہی کم فرق ہوتا یعنی ایک بٹا ارب ، ارب ، ارب، ارب، ارب، ارب کروڑ حصّہ کمی آتی تو کائنات کی تخلیق ہی نہ ہو پاتی یا تو یہ خود اپنے آپ میں ہی سمٹ جاتی ، یا اس قدر تیزی سے وجود میں آتی کہ ستارے تخلیق ہی نہ ہو پاتے ، اس کے وجود کیلئے ایک خاص اور بالکل درست توانائی کی مقدار کی ضرورت تھی۔اس کا موازنہ پستول سے نکلی ایسی گولی سے بھی کیا جاسکتا ہے جسکاآپ ایسا صحیح نشانہ لگائیں کہ جس شے پر آپ نشانہ لگا رہے ہیںوہ صرف ایک انچ کے برابر ہو اور وہ ہماری کائنا ت کے دوسرے سرے پر ہویعنی فاصلہ ہدف پچاس ارب نوری سال کے برا بر ہو۔ یہ تقریباً ناممکن ہے بالکل اسی طرح اگر کشش ثقل کی قوت مطلوبہ توازن سے ذرا سی بھی کم یا زیادہ ہو جاتی تو زندگی کو برقرار رکھنے کے ستارے مثلاًسورج کا وجود ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اور جس زندگی کو ہم جانتے ہیں اس کا وجود ناممکن ہو جا تا ۔ اسی طرح وہ قوت جو کہ پروٹون اور نیوٹرون مضبوط جوہری قوت جوہرمیں یکجا رکھتی ہے ۔اپنی موجودہ مقدار سے ذرہ برابر بھی مختلف ہوتی تو زندگی ناممکن ہو جاتی۔ یہی دلائل دیگر طبعیاتی توازن کیلئے ہیں (جیسا کہ برقی و مقناطیسی قوت، پروٹون کے مقابلے میں نیوٹرون کا وزن وغیرہ)۔ ان سب کو نہا یت باریکی اور تفصیل کے ساتھ تخلیق دیا گیا ہے تاکہ کہکشائیں وجود میں آسکیں اورپھرکرہ ارض پر زندگی نمودار ہو سکے ۔
ان تمام عوامل کا انتہائی باریکی کے ساتھ جو توازن موجود ہے وہ محض اتفاق نہیں ہو سکتاجیسا کہ کشش ثقل کی بدولت ستاروں اور سیارو ں کا آپس میں قریب آنا اور سیاہ توانائی کا اسکے برعکس انہیں پرے کرنا، ان کے بارے میں سورۃٗ رحمان میں ذکر ہے ’’ میزان (توازن) تمام زمین اور آسمانوں میں رکھاگیا ہے‘‘
لامذہب لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہماری کائنات صرف اربوں کھربوں حادثات کے تسلسل کے نتیجے میں وجود میںآ ّئی ہے۔ حتیٰ کہ اس بنیا دی عالمگیر طبعیاتی دائم کو جھٹلانے کیلئے وہ اس حد تک بھی چلے جاتے ہیں کہ ان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ ایسی ان گنت کائناتیں ہونگی اور ایسے بنیا دی عالمگیر طبعیاتی دائم صرف ہماری کائنات میں اتفاقیہ طور پر موجود ہیں اور دیگر کائناتوں میں ان کا ہونا ضروری نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ہم محض درست کائنات میں ہیں جہاںپرتمام عوامل اور اصول نہایت درستگی کے ساتھ اتفاقیہ طورپر موجو ہیں۔ اسی طرح اتفاقیہ طور پر ہم درست سیاّرے پر موجود ہیں جہاں پانی اور دیگر عناصر موجود ہیں۔یہ جواہر صرف حادثاتی طور پرآپس میںجڑ ے گئے اورحیات کے سالمے (امینو ایسڈ اور نیوکلک ایسڈ وغیرہ) اتفاقیہ طور پر تخلیق ہوئے۔یہ مردہ سالمے اپنی مماثلت کے سالموں کو پہچان کر پھر حادثاتی تسلسل سے جڑتے گئے اور بالآخر ہم انسان وجود میں آئے۔ ایسے مسلسل اتفاقات کو کوئی عقل مندشخص قبول نہیں کرسکتا۔

(آن لائن حوالہ : http://www.dunyapakistan.com/103132/#.WmG5HryWbZ6)

وحدت کائنا ت ، ڈاکٹر محمد رفیع الدین


حکما اور فلاسفہ ہر دور میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے جو بعد میں آتے ہیں اپنے متقدمین کے فکرکی غلطیاں نکالنے اور درست کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح ان کے اختلافات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اگرچہ فلسفیوں اور حکیموںکا پورا گروہ ابھی تک حقیقت کائنات کا صحیح تصور پیش کرنے سے قاصر رہا ہے تاہم جب سے اس گروہ نے حقیقت کائنات پر غور و خوض کرنا شروع کیا ہے اس وقت سے لے کر آج تک یہ ایک پراسرار وجدانی شہادت کی بنا پر اس بات کا پختہ یقین ان پر غالب رہا ہے کہ کائنات ایک یکساں کل یا وحدت ہے یعنی وہ فاصلہ اور وقت دونوں کے اعتبار سے ایسے منطقوں یا حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ جن میں متضاد قسم کے قوانین قدرت جاری ہوںَ کائنات کے قوانین مسلسل اور مستقل ہیں۔ وہ نہ صرف ہر جگہ پر ایک ہی رہتے ہیں بلکہ ہر زمانہ میں بھی ایک ہی رہتے ہیں۔ وحدت کا عالم یہ وجدانی اعتقاد تمام بڑے بڑے حکیموں‘ فلسفیوں اور سائنس دانوں کے فکر میں خواہ وہ تصوریت پرست ہوں یا مادیت پرست‘ ایک قدر مشترک کا حکم رکھتا ہے۔ اگرچہ کوئی بڑا فلسفی یا سائنس دان اس کی صحت کی دلیل طلب نہیں کرتا بلکہ آغاز ہی سے اسے اپنے مسلمات میں شمار کرتا ہے تاہم اس کی صحت کی دلیل اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ وہ آج تک غلط ثابت نہیں ہو سکا۔ سائنس اور فلسفہ کی تمام ترقیات جو اب تک وجودم میں آئی ہیں ان کی بنیاد یہی حقیقت ہے کہ اور وہ سب مل کر اس کی صحت کی شہادت دیتی ہیں اور سچ بات تو یہ ہے کہ اگر جویان حق و صداقت اور طالبان علم و حقیقت اس عقیدہ سے آغاز نہ کرتے اور یہ عقیدہ صحیح نہ ہوتا تو کائنات ایک وحدت ہے اور اس کی تعمیر کے اندر ایک تسلسل موجود ہے جو کہیں نہیں ٹوٹتا تو سائنس اور فلسفہ دونوں ممکن نہ ہوتے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو سائنس دان اور فلسفی دونوں کو اپنے اپنے دائر ہ میں علمی تحقیق کے لیے اکساتا ہے اور اسی کی تصدیق سے وہ اپنی علمی تحقیق کے نتائج پر مطمئن ہوتے اور اس کی ر اہ پر قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر فلسفی یا سائنس دان کو معلو م ہو جائے کہ جو علمی حقیقت اس نے دریافت کی ہے وہ محض وقتی اورمقامی ہے اور اس کی متبادل یا متوازی علمی حقیقتیں اس کائنات میں اور بہت سی ہیں یا آئندہ ہو سکتی ہیں(مثلاً یہ کہ پانی ایک ہی مقام پر کبھی ایک درجہ حرارت پر ابلتاہے اور کبھی دوسرے پر یا سطح سمندر سے ایک ہی بلندی پر کہیں ایک درجہ حرارت پر ابلتا ہے کہیں دوسرے پر) تو وہ اپنی تحقیق کے اس نتیجہ کو بیکار سمجھ کر چھوڑ دے گا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے ایک انسان کے لیے تو وحدت عالم کا نتیجہ ناگزیر ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ کائنات کا خالق ایک ہی ہے اور اس کا مقصد پوری کائنات میں کارفرما ہے۔ اسی طرح سے ایک تصوریت پرست فلسفی کا حکیمانہ زاویہ نگاہ بھی ا س عقیدہ کا تقاضا کرتا ہے لیکن یہ بات فطرت انسانی کے نہایت ہی اہم سربستہ رموز کو منکشف کرنے والی ہے جو کارل مارکس اور اس جیسے دوسرے حکمائے یورپین بھی اس عقیدہ سے پہلوتہی نہیں کر سکے۔


وحدت کائنات کے مضمرات


وحدت کائنات کا مسلمہ ہمیں کئی نتائج کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ 


اول: کسی کثرت کے اندر وحدت کا ہونا نظم کے بغیر ممکن نہیں اور نظم ایک مرکزی اصول کے بغیر محال ہے۔ لہٰذا کوئی تصور ایسا ہونا چاہیے کہ جو کائنات کی وحدت کا اصول ہو جو ایک ایسے رشتہ کی طرح ہو جو کائنات کی کثرت کو پرو کر ایک وحدت بناتا ہو۔


دوم: کائنات کی وحدت کے اصول کو کائنات کی آخری اور بنیادی حقیقت ہوناچاہیے اور باقی تمام حقائق عالم کو اس کے مظاہر۔ کیونکہ اگر وہ اس حقیقت کے مظاہر نہ ہوں تو وہ ان میں اتحاد اور نظم پیدا نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہ حقائق اپنی فطرت کے اختلافات کی وجہ سے اس قابل رہتے ہیں کہ ان میں اتحاد اورنظم پیدا کیا جا سکے۔


سوم: کائنات کی وحدت بطور وحدت کے عقلی طور پر سمجھ میں آنی چاہیے لہٰذا ضروری ہے کہ تمام حقائق عالم کائنات کی بنیادی حقیقت کے ساتھ اور ایک دوسرے کے ساتھ عقلی طور پر وابستہ ہوں اور اس باہمی وابستگی کے سبب سے ایک ایسی زنجیر کی صورت اختیار کریں جس کا پہلا اور آخری حلقہ کائنات کی وہی بنیادی حقیقت ہو اور جس کے تمام حلقے ایسے ہوں کہ ہر حلقہ اگلے حلقے کی طرف راہ نمائی کر رہا ہو۔ حکما حقائق عالم کی ایسی ہی رنجیر کو نظام حکمت (Philosophical System)کا نام دیتے ہیں۔


چہارم: اگر ہم حقائق عالم میں سے کسی حقیقت کی علت بیان کیں تو وہ علت اس حقیقت کی تشریح تو کر دیتی ہے لیکن خود کئی سوالات پیدا کر دیتی ہے اور پھر ان سوالات کا جواب اور سوالات پیدا کرتا ہے اور علی ہذا القیاس یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اگر کائنات کو ایک وحدت مانا جائے تو ضروری ہو گا کہ ان پے در پے پیدا ہونے والے سوالات کا آخری جواب اور ہر حقیقت کی آخری تشریح کائنات کی وہی حقیقت ہو جو حقیقت الحقائق ہے۔


پنجم: اصول وحدت کائنات یا حقیقت کائنات کے ہزاروں تصورات ممکن ہیں لیکن ان میں صحیح تصور صرف ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اگر ایسا ہو تو کائنات کی وحدت ختم ہو جاتی ہے۔ اور ضروری ہے کہ کائنات کے تمام صحیح اور سچے حقائق صرف اسی ایک تصور کے ساتھ علمی اور عقلی مطابقت رکھتے ہوں اور کسی دوسرے غلط تصور کے ساتھ مطابقت نہ رکھتے ہوں اور جب کائنات کا صحیح نظام حکمت وجود میں آئے تو اس کا مرکزی اور بنیادی نقطہ یہی تصور حقیقت ہو۔ اگر کوئی ایک سچی حقیقت بھی ایسی ہو جو کسی نظام حکمت کے ساتھ مطابقت نہ رکھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ نظام حکمت کسی غلط حقیقت پر مبنی ہے اور اگر کوئی علمی حقیقت جسے علمی حقیقت سمجھا جا رہا ہے کسی صحیح نظام حکمت کے ساتھ جو صحیح تصور حقیقت پر مبنی نہ ہو مطابقت نہ رکھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ علمی حقیقت علم کے معروف اور مسلم معیاروں پر پوری نہ اتر سکے گی۔ غلط تصورات صحیح نظام حکمت کے اندر نہیں سما سکتے اور صحیح تصورات غلط نظام حکمت کے اندر داخل ہو کر اپنی اصلی حالت پر نہیں رہتے۔ لیکن صحیح نظام حکمت ہر دور میں تمام صحیح تصورات کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اوریہی اس کی صحت کا قابل اعتماد معیار ہوتا ہے۔ 


ششم: وحدت کائنات کا مطلب یہ ہے کہ حقائق عالم ایک عقلی ترتیب اور تنظیم اختیار کر سکتے ہیں حقائق عالم کی عقلی ترتیب اورتنظیم ہمارے معلوم اور نامعلوم حقائق کے درمیان ایک رابطہ یا کوشش پید اکرتی ہے۔ اور ہمیں ا س قابل بناتی ہے کہ ہم معلوم حقائق کی مدد سے نامعلوم حقائق کو پیہم دریافت کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ عالم کے سلسلہ کی ساری کڑیاں اپنی اصلی عقلی ترتیب کے ساتھ ہمارے احاطہ علم میں آ جائیں۔ سائنس دان اور فلسفی دونوں اس کام کو انجام دینے میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی کوششوں سے معلوم حقائق کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جوں جوں ان کی تعداد زیادہ ہوتی چلی جائے گی صحیح اور سچے تصور حقیقت کے ساتھ ان کے مجموعے کی علمی اور عقلی مناسبت بڑھتی چلی جائے گی اورہر غلط تصور حقیقت کے ساتھ کم ہوتی جائے گی اور ہم اپنے وجدان کی شہادت کی بنا پر آسانی کے ساتھ بتا سکیں گے کہ حقیقت کائنات کا کون سا تصور ایسا ہے جو ان حقائق کے ساتھ مناسبت رکھتاہے اور کون سا ایسا ہے جو مناسبت نہیں رکھتا اور اس طرح سے ہم تصور حقیقت اور اس پر قائم ہونے والے صحیح نظام حکمت کے قریب آتے جائیں گے۔


ہفتم: صحیح نظام حکمت جب وجودمیں آئے گا تو ابتدا میں لازماً مختصر ہو گا اور پھر جوں جوں معلوم حقائق کی تعدادبڑھتی جائے گی اور وہ اس کے اندر سماتے جائیں گے تو وہ کامل سے کامل تر ہوتا جائے گا اوریہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا کیونکہ حقائق علمی کی کوئی حد نہیں نئے دریافت ہونے والے علمی حقائق کی تائید اور توثیق کی وجہ سے یہ نظام حکمت روز بروز مفصل اور منظم اور معقول ہوتا جائے گا اور اسی نسبت سے غلط نظام ہائے حکمت دن بدن اپنی معقولیت کھوتے جائیں گے حتیٰ کہ دنیا بھر میں یہ تسلیم کر لیا جائے گا کہ یہی نظام حکمت ہے جو ہر لحاظ سے درست اور تسلی بخش ہے اس نظام حکمت کے وجود میں آنے کے بعد ہر علمی ترقی خواہ وہ کسی شعبہ تعلیم سے تعلق رکھتی ہو یا تو اس کی تائید کرے گی یا پھر وہ کوئی علمی ترقی ثابت نہ ہو گی۔


وحدت کائنات کے اعتقاد کا سرچشمہ


وحدت کائنات پر انسان کے غیر شعوری وجدانی اعتقاد کا سرچشمہ دراصل اس کی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ کائنات کا کوئی ایسا خالق مانے جو ایک ہی ہو اور انسان کی فطرت کا یہ تقاضا بے معنی نہیں۔ فطرتی تقاضوں کو پور ی طرح سے مطمئن کرنے کا سامان قدرت کے اندر پہلے ہی موجود ہوتا ہے چونکہ کائنات سائنس دانوں اور فلسفیوں کی آج تک کی تحقیق سے ایک وحدت ثابت ہوئی ہے لہٰذا اس کے اندر کوئی اصول کارفرما ہے جو اس کو ایک وحدت بناتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اصول خدا یہ کہ جو کائنات کا خالق ہے اور جو ایک ہی ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں۔ قرآن حکیم نے کائنات کی وحدت کی طرف پرزور الفاظ میں توجہ دلائی ہے اور اس کو اس بات کے ثبوت کے طورپر پیش کیا ہے کہ کائنات کا خالق ایک ہی ہے۔


"ما تری فی خلق الرحمن من تفوت، فارجع البصر ھل تری من فطور ثم ارجع البصر کرتین ینقلب الیک البصر خا ساً وھو حسیر"


آ پ خدا کی تخلیق میں کہیں کوئی ناہمواری نہ دیکھیں گے۔ ذرا نظر دوڑائیے(اور کائنات کا مشاہدہ کیجیے) کیا آ پ کو خدا کی اس تخلیق میں کوئی بے ربطی نظر آتی ہے۔ پھر دوبارہ نظر دوڑائیے اور دیکھیے، نگاہیں اس بات سے ناکام ہو کر آپ کی طرف لوٹیں گی کہ خدا کی تخلیق میں کہیں کوئی ناہمواری پا سکیں۔


"قل ارایتم ماتدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت"


اے پیغمبر (ان لوگوں سے کہیے ) کہ کیاتمہیں معلوم ہے کہ تم خدا کو چھوڑ کر کس سے حاجتیں طلب کرتے ہو مجھے بتائو تو سہی انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ہی کوئی ان کا حصہ ہے؟


یعنی اگر کائنات کی تخلیق میں خدا کے ساتھ کوئی شریک ہوتا تو زمین و آسمان میں کہیں تو اس کی اپنی تخلیق کا نشان ملتا جہاں جدا قسم کے قوانین قدرت نافذ ہوتے۔ ظاہر ہے کہ منکرین قرآن حکیم کے اس سوال کے جواب میں اسی کائنات کا ایک حصہ پیش کر کے معقولیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ صاحب یہ ہے کائنات کا وہ حصہ جو خدا کے اس شریک نے پیدا کیا ہے جسے ہم مانتے ہیں کیونکہ جب کائنات کے اس حصہ میں بھی قوانین قدرت وہی ہوں جو باقی کائنات میں ہیں تو کس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا خالق وہی نہیں جو باقی کائنات کا ہے۔


قرآن حکیم میں ایک اور مقام پر اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ وحدت کائنات کی حقیقت کو وحدت خالق کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے: "قل لو کان فیھما الہۃ الا اللہ لفسدنا"


اے پیغمبر (ان لوگوں سے) کہیے کہ اگر زمین میں خدا کے سوائے اور بھی خدا ہوتے تو دونوں (یعنی زمین و آسمان) میں بدنظمی رونما ہوتی۔


یعنی چونکہ زمین او ر آسما ن میں کہیں بھی دو عملی یا بدنظمی یاتضاد موجود نہیں اور تم اس بدنظمی کا تصور بھی نہیں کر سکتے بلکہ وحدت کائنات اور تسلسل قوانین کے تحت خو خود بخود اپنے مسلمات میں شمار کرتے ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے اور وحدت کائنات خالق کی دلیل ہے اور چونکہ قرآن حکیم چاہتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو قوانین قدرت کے مطابق بنائے لہٰذا نسان کو یقین دلانے کے لیے کہ یہ قوانین قابل اعتماد ہیںَ قرآن حکیم بار بار ان کے تسلسل اور استقلال کی طرف توجہ دلاتاہے۔


"لن تجد لسنتہ اللہ تبدیلا"


(اے پیغمبر) آپ خدا کے قوانین میں کہیں اور کبھی کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔


"لن تجف لسنتہ اللہ تحویلا"


آپ خدا کے قوانین میں کہیں اور کبھی کوئی تغیرنہ پائیں گے۔


دوسرے فلسفیوں کی طرح اقبال بھی کائنات کو اس کی رنگار رنگی اور بوقلمونی کے باوجود ایک وحدت قرار دیتا ہے۔


زمانہ ایک حیات کائنات بھی ایک


کمال بے بصری قصہ قدیم و جدید


یہی وجہ ہے کہ اقبال کا فلسفہ دوسرے فلسفیوں کی طرح ایک نظام حکمت ہے لیکن اقبال میں اور دوسرے فلسفیوں میں یہ فرق ہے کہ اقبال کے نزدیک جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ کائنات کی وحدت کا اصول یا حقیقت کائنات جو کائنات کی کثرت کو وحدت میں تبدیل کرتی ہے حق تعالیٰ کا وجود ہے۔ ان صفا ت کے ساتھ جو خاتم الانبیاؐ کی تعلیم میں اس کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور دوسرے فلسفیوں میں سے ہر ایک حقیقت کائنات کا جو تصور قائم کیے ہوئے ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ خدا کی فطرت وہ اصول ہے جو پوری کائنات کو متحد کرتاہے۔ لہٰذا خدا کے عاشق کے دل میں پوری کائنات سما جاتی ہے۔ انسانی انا ایک ہے لیکن اس کے خارجی اثرات بہت سے ہوتے ہیں وہ مخفی ہے لیکن اس کے افعال آشکار ہوتے ہیں بالکل اسی طرح سے ذات حق ایک ہے لیکن کائنات کی کثرت میں اس کا ظہور ہوا ہے پھر وہ مخفی ہے لیکن کائنات کی تخلیق نے اسے آشکار بنا دیا ہے گویا انسانی انا کی فطرت خدا کی فطرت کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہے۔


ایں پستی و بالائی ایں گنبد مینائی


گنجد بدل عاشق با ایں ہمہ پنہائی


اسرار ازل جوئی بر خود نظرے وا کن


یکتائی و بسیاری پنہانی و پیدائی





(اقبال)


(حوالہ : حکمت اقبال ، ڈاکٹر محمد رفیع الدین  ، اقبال اکادمی ، پا کستان )