‏البیان ، جاوید احمد غامدی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏البیان ، جاوید احمد غامدی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جاوید احمد غامدی صاحب تقسیم وراثت کے قانون میں روایتی فقہاء سے کیوں اختلاف کرتے ہیں ؟

سورہ نساء کی وراثت سے متعلق آیات (آیت 11، 12، اور 176) کو اسلامی قانونِ وراثت کا ستون مانا جاتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے ان آیات کے لفظی ڈھانچے، عربی زبان کے اسلوب (Linguistic Nuances) اور جملوں کے باہمی نظم کا ایک گہرا اصولی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے، جس کی بنیاد پر انہوں نے روایتی تفہیم سے ہٹ کر اپنے نتائج اخذ کیے ہیں۔

ذیل میں ان آیات کی روشنی میں جاوید احمد غامدی صاحب کے نتائج فکر کو پیش کیا گیا  ہے:

1. آیت 11 کا تجزیہ: اولاد اور والدین کے حصص

یہ آیت وراثت کے بنیادی اور سب سے اہم دائرے یعنی اولاد اور والدین سے بحث کرتی ہے۔


"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ..."
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے: ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے..."

· "اولاد" کا لفظی دائرہ: غامدی صاحب کے نزدیک لفظ "اولاد" (Children) اپنے اندر حقیقت اور مجاز دونوں اعتبار سے نیچے تک کی نسل (پوتے، پوتیوں) کو شامل رکھتا ہے۔ اسی اصول کے تحت وہ یتیم پوتے کو چچا کی موجودگی میں محروم کرنے کے بجائے دادا کا براہِ راست وارث مانتے ہیں۔

 تناسب کا اصول (Principle of Proportion): قرآن نے یہاں لڑکے اور لڑکی کے حصے کی مستقل مقدار (مثلاً نصف یا تہائی) مقرر کرنے کے بجائے ان کے درمیان 2:1 کا تناسب بیان کیا ہے۔ یعنی حصہ جتنا بھی بنے گا، مرد کا عورت سے دوگنا ہوگا۔

"فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ..."
"پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں، دو سے زیادہ، تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے، اور اگر ایک ہی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔"

قرآن کا تعارف (حصہ 8) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف حصہ 7) جاوىد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 6) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 5)جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 3) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 2) جاويد احمد غامدى


 

قرآن کا تعارف (حصہ 1) جاويد احمد غامدى


 

قرآن كا تعارف | ڈاکٹر شہزاد سلیم

(ماہنامہ اشراق،  شمارہ اپریل 2019 ء )

پس منظر


قرآن ایک منفردكتاب ہے۔ یہ خداے رب العزت كا انسانیت كے لیے آخری صحیفۂ ہدایت ہے۔ اس  سے پہلے وقتًا فوقتًا اس نےبہت سے پیغمبروں كو ہدایت سے سرفراز كیا۔ عہد نامۂ قدیم اور عہد نامۂ جدید كے بعد یہ خدا كا آخری عہد نامہ ہے جو اسنے لوگوں كی ہدایت كے لیے نازل فرمایا۔ یہ اُسی دین كو پیش كرتا ہے جو اِس سے پہلےسابقہ انبیا اور رسولوں نے پیش كیا۔ تا ہم پچهلے آسمانی صحیفوں كے برخلاف یہ اپنی اصل زبان اور صورت میں ہمارے پاس  محفوظ  ہے۔

قرآن کا تعارف
اس كی صنف ان كتابوں سے یكسر مختلف ہے جن سے ہم واقف اور مانوس ہیں۔ چنانچہ اس كے پڑھنے والے ہرسنجیدہ طالب علم كے لیے یہ  نہایت ضروری ہےكہ وہ اس كی صنف كا فہم ركهتا ہو۔ نیز اگر اس فہم كے ساتھ اس كتاب كے موضوع اور اسكی ترتیب سے بهی واقفیت پیدا كر لی جائے  توقاری اس كتاب كے فہم سے كما حقہٗ بہرہ یاب ہو سكتا ہے۔ وہ اس كتاب كو پڑھ كر حظ محسوس كرے گا اور اس كے ذہن كے دریچے وا ہوں گے۔ وہ خدا كی سنن اور افعال كا شاہد بن جائے گا اور رب كائنات سے اپنے آپ كو ہم كلام محسوس كرے گا۔  وہ خدا كو اگرچہ دیكھ نہیں سكتا، مگر اس كو محسوس كر پائے گا، كیونکہ وہ الہٰی اسالیب كلام اور آداب گفتگو سے اپنے آپ كو قریب محسوس كرے گا۔  اس كے بحر وجود كی موجیں متلاطم ہوں گی اور اس كے دل و دماغ پكار اٹهیں گے:

؎ ایں كتاب از آسمانے دیگر است۔

قرآن كی صنف


قرآن  ایک بے مثل ادبی شہ پارہ ہے جس كی نظیر انسانی كلام میں كہیں نہیں پائی جاتی۔ بلاشبہ، اس كتاب كی صنف كو  اسالیب اور تحریر كےموجودہ پیمانوں پر قیاس كرنا ایک مشكل امر ہے۔ تاہم اس كی سب سے قریبی مشابہت خطبا كے كلام سے قرار دی جا سكتی ہے۔ یہ كتاب مكالمات پر مشتمل ہے جو زندہ كرداروں كے ما بین ہوا  جو ساتویں صدی میں عرب كے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ یہ كردار ایک مخصوص پس منظر میں آپس میں ہم كلام ہوتے نظر آتے ہیں۔ جیسے كسی تمثیلیا ڈرامے  میں احوال اور پیش منظر تبدیل ہوتے رہتے ہیں، بالكل ویسے ہی اس كتاب میں یہ پہلو ہمیں جابجا نظر آئے گا۔ الله تعالیٰ كی ذات والا صفات خود ان مكالمات كی مصنف ہے۔

نماز کائنات کی فطرت ہے۔ جاوید احمد غامدی

نماز کائنات کی فطرت ہے ۔ جاوید احمد غامدی 
نماز کائنات کی فطرت ہے ۔ انسان کی آنکھیں ہوں اور وہ اُن سے دیکھتا بھی ہو تو اِس حقیقت کو سمجھنے میں اُسے کوئی تردد نہیں ہوتا کہ اِس عالم کا ذرہ ذرہ فی الواقع اپنے پروردگار کی تسبیح و تحمیدکرتا اور اُس کے سامنے سجدہ ریز رہتا ہے ۔ وہ اگرچہ اِس تسبیح و تحمید کو نہیں سمجھتا ، مگر دیکھ تو سکتا ہے کہ دنیا کی سب چیزوں کا ظاہر جس طرح ہر لحظہ خدا کے سامنے سرافگندہ اور اُس کے حکم کی تعمیل میں سرگرم ہے ، اُن کا باطن بھی اِس سے مختلف نہیں ہو سکتا ۔ زمین پر چلتے ہوئے جانور، باغوں میں لہلہاتے ہوئے درخت، فضاؤں میں چہکتے ہوئے پرندے ، سمندروں میں تیرتی ہوئی مچھلیاں اور آسمان پر چمکتے ہوئے تارے اور سورج اور چاند، سب اپنے وجود سے اِس بات کی گواہی دیتے ہیں:

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ، وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٰ وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ .﴿بنی اسرائیل ۷۱: ۴۴﴾

’’ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سب چیزیں جو آسمان و زمین میں ہیں ، اُس کی تسبیح کرتی ہیں۔ اور کوئی چیز بھی نہیں ہے جو حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح نہ کر رہی ہو ، لیکن تم اُن کی تسبیح نہیں سمجھتے ۔ ‘‘

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " البیان" : خصائص و امتیازات (۱)

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018
​

قرآن مجید کو اس وضاحت کے ساتھ اتاراگیاہے کہ یہ سراسرہدایت اورحق کے معاملے میں پیداہوجانے والے اختلافات میں خداکی آخری حجت ہے۔اس کی دین میں یہی حیثیت ہے کہ اسے سیکھنے اوردوسروں کوسکھانے کاکام ہر زمانے میں حقیقی مسلمانوں کاہدف رہا ہے۔یہ کام شروع دورمیں بہت سادہ اورکسی حدتک آسان بھی تھاکہ لوگ اس کی زبان سے مکمل طورپرآشنا،اس کی آیات کے پس منظر اور جس ماحول میں یہ اُتریں،اُن سے اچھی طرح سے واقف تھے۔لیکن یہ قدرے مشکل اور پیچیدہ ہوتا چلا گیاجب اس کتاب کے براہ راست مخاطبین اس دنیامیں نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کی زبان میں کچھ ناگزیرتبدیلیاں رونماہونے لگیں۔ الفاظ میں متولد مفاہیم پیدا ہوئے تو بعض اسالیب متروک ہوکرنئی نئی صورتوں میں ظاہرہونے لگے۔اس سلسلے کی ایک مشکل اُن نومسلموں کے ہاں بھی پیدا ہوئی جو عربی زبان سے قطعی نابلدہونے کی بناپر اپنے اورقرآن کے درمیان میں ایک قدرتی حجاب دیکھتے تھے۔ 

یہ حالات تھے جن میں صاحبان علم کواس بات کا شدت سے احساس ہواکہ فہم قرآن کے کام کوباقاعدہ علمی طریقے سے انجام دیاجائے ۔سواُنھوں نے اسے متعددزبانوں میں بیان کرنا شروع کیاجوترجمہ کی ایک مستقل اورشان دار روایت کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔اس سے پہلے کتاب کا اصل مدعا جاننے کے لیے انھوں نے بہت سی تفسیری کاوشوں کابھی اہتمام کیااوراس کے لیے عام طورپردوطریقوں کواختیارکیا:ایک یہ کہ اپنی طرف سے کوئی بات کہنے کے بجاے صرف اگلے لوگوں کی آراکونقل کردیااوردوسرے یہ کہ اصل زبان سے استشہادکرتے ہوئے اورتاریخ کی حتمی شہادت اور آیات کے بین السطورسے مددلیتے ہوئے خوداس کے مطالب کوبیان کیا۔یہ کوششیں بہت سالوں تک اسی طرح ہوتی رہیں اور مسلمانوں کے تفسیری علم میں گراں قدراضافے کاباعث بنیں۔

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (2)


 جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن
" ​البیان" : خصائص و امتیازات (2) 

’’واو‘‘

’’واو‘‘ کا حرف بھی قرآن میں کثرت سے استعمال ہواہے ۔اسے مترجمین بالعموم’’اور‘‘کے لفظ سے اداکرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے درست ہے کہ عربی کے ’’واو‘‘ کی طرح یہ بھی اپنے اندرمعنی و مفہوم کی بہت سی وسعتیں رکھتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کواپنی گرفت میں لے لینا، ایک عام قاری کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ قرآن کے اصل فہم کوترجمے میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ’’ واو‘‘جس مقام پرجس معنی میں استعمال ہوا ہو، وہاں اُسی معنی کواداکرنے والے اردوکے الفاظ لائے جائیں۔ ’’البیان‘‘ میں یہ اہتمام کس قدر کیا گیا ہے، ذیل کی چندمثالیں بڑی حدتک اسے بیان کردیتی ہیں:

۱۔ ہاں

وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا.(النساء ۴: ۵)
’’ہاں،اِس سے فراغت کے ساتھ اُن کوکھلاؤ،پہناؤاوراُن سے بھلائی کی بات کرو۔‘‘


یتیموں کے بارے میں فرمایاہے کہ اگروہ نادان اوربے سمجھ ہوں تواُن کامال اُن کے حوالے نہ کرو۔اس ہدایت کا منشا یہ بالکل نہیں تھا کہ اُن کی واجبی ضروریات کوبھی پورانہ کیاجائے،چنانچہ اصل حکم پراستدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوھُمْ‘۔ یعنی، جہاں تک اُن کی ضروریات کاتعلق ہے توانھیں فراغت کے ساتھ پورا کرو۔ یہاں ’’واو‘‘کاترجمہ’’ اور‘‘کے لفظ سے کریں تویہ مدعاکسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں ’’ہاں‘‘ کا لفظ آسانی سے اس مشکل کوحل کردیتاہے۔
’’البیان‘‘ میں بعض مقامات پرکلام کی مناسبت سے اس’’ہاں‘‘میں مزیدلفظوں کا اضافہ بھی کیاگیاہے،جیساکہ ’’ہاں،البتہ‘‘ یا ’’اورہاں‘‘وغیرہ:

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (3)

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018 


’’تنوین‘‘

تنوین بھی ایک حرف ہے کہ اسے نحوی حضرات ’’ن‘‘ کاقائم مقام قراردیتے ہیں۔یہ اصل میں تنکیرکے لیے آتی ہے،مگرکلام عرب میں اس سے بعض دوسرے معانی کوبھی اداکیاجاتاہے۔ان میں سے ایک معنی تفخیم شان کابھی ہے اوراس کاترجمہ عام طورپراس کے صرف ایک پہلو کے لحاظ سے کیاجاتاہے،مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’’البیان‘‘ میں تفخیم کی اس تنوین کاترجمہ ہرجگہ ایک سانہیں کیاگیاکہ مختلف مقامات پراس کے مختلف پہلومرادہواکرتے ہیں،مثلاً:

۱۔ عظمت

سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(النور ۲۴: ۱)
’’یہ ایک عظیم سورہ ہے جس کوہم نے اتاراہے اوراس کے احکام (تم پر)فرض ٹھیرائے ہیں اوراس میں نہایت واضح تنبیہات بھی اتاری ہیں تاکہ تم یادرکھو۔‘‘


یہاں ’سُوْرَۃٌ‘ کی تنوین اصل میں اس کی عظمت اوراہمیت کے اظہارکے لیے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبرہے اوراس حذف سے مقصودیہ ہے کہ ساری توجہ خبرپرمرکوزہوکررہ جائے۔مزیدیہ کہ اگلے جملے، جیساکہ اسے ہم نے اتاراہے،اس کے احکام فرض ٹھیرادیے ہیں ،اس میں نہایت واضح تنبیہات اتاردی ہیں؛ان سب سے بھی ’سُوْرَۃٌ‘ کے اس لفظ میں عظمت واہمیت کاپہلوپیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ ’’ایک عظیم سورہ‘‘ کے الفاظ میں کیاگیاہے۔

۲۔ برتری

بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلآی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۲)
’’ہرگزنہیں،بلکہ یہ توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداکوایک برترطریقے پرپایاہے اورہم اُنھی کے قدم بہ قدم ٹھیک راستے پرچل رہے ہیں۔‘‘