![]() |
| قرآنی سورتوں کی ترتیب نزولی کیا ہے ؟ |
قرآن کی سورتوں کی ترتیبِ نزولی میں اگرچہ بعض اختلافات ہیں لیکن مفسرین کے نزدیک اس ترتیب کی اہمیت ہے ، اس کے بغیر بعض آیات کی درست تفسیر کا تعین نہیں ہوسکتا ،ہم یہاں بحوالہ "تنزیل القرآن" از علامہ ابن شہاب الزہری (رحمہ اللہ، المتوفی 124 ہجری) کی کتاب سے نقل کررہے ہیں ۔
مکی اور مدنی سورتوں سے
متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ مفسرین کی اصطلاح میں "مکی
آیات" وہ ہیں جو ہجرت سے پہلے پہلے
نازل ہوئیں، اور "مدنی آیات" وہ ہیں جو ہجرت مدینہ کے
بعد نازل ہوئیں ۔ بعض لوگ "مکی" کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شہر مکہ میں
نازل ہوئی اور "مدنی" کا یہ کہ وہ شہرِ مدینہ میں اُتری، لیکن یہ مطلب
درست نہیں، اس لیے کہ کئی آیتیں ایسی ہیں جو شہرِ مکہ میں نازل نہیں ہوئیں لیکن
چونکہ ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھیں اس لیے انہیں "مکی" کہا جاتا ہے۔
چنانچہ جو آیات منیٰ، عرفات یا سفرِ معراج کے دوران نازل ہوئیں وہ بھی
"مکی" کہلاتی ہیں، یہاں تک کہ جو آیتیں سفرِ ہجرت کے دوران مدینہ کے
راستے میں نازل ہوئیں، ان کو بھی "مکی" کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض سورتیں ایسی
ہیں کہ وہ پوری کی پوری مکی یا پوری کی پوری مدنی ہیں، مثلاً سورۃ المدثر پوری مکی
ہے، اور سورۃ آل عمران پوری مدنی، لیکن بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ پوری سورت
مکی ہے، لیکن اس میں ایک یا چند آیات مدنی بھی ہیں۔ اور بعض مرتبہ اس کے
برعکس بھی ہوا ہے۔
تین سورتیں ایسی ھیں جو جس ترتیب سے نازل ھوئی اُسی ترتیب سے موجودہ مصحف میں ھیں ، وہ یہ ہیں : سورۃ ص – 38، سورہ نوح 71،، اور سورہ الانفطار- 82

