‏اردو تراجم وتفاسیر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اردو تراجم وتفاسیر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

شیعہ مکتبہ فکر کے ہاں اردو زبان میں سب سے معروف اور مستند تفاسیر

شیعہ مکتبہ فکر کے ہاں اردو زبان میں سب سے معروف اور مستند تفاسیر درج ذیل ہیں:

تفسیر نمونہ: یہ عصر حاضر کی مقبول ترین تفسیر ہے جو آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور ان کے رفقاء کی تالیف ہے۔ یہ اصل میں فارسی میں ہے لیکن اس کا اردو ترجمہ بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت اس کی سادہ زبان اور موجودہ دور کے مسائل سے مطابقت ہے۔

المیزان فی تفسیر القرآن: علامہ سید محمد حسین طباطبائی کی یہ شہرہ آفاق تفسیر "قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر" کے اصول پر مبنی ہے۔ اگرچہ یہ عربی میں ہے، لیکن اس کا اردو ترجمہ علمی حلقوں میں نہایت معتبر مانا جاتا ہے۔

تفسیر مقبول: مولانا مقبول احمد دہلوی کی یہ تفسیر برصغیر کے عام طبقے میں بہت معروف ہے اور عام طور پر شیعہ گھرانوں میں تلاوت کے لیے استعمال ہونے والے قرآن پاک کے ساتھ یہی ترجمہ و تفسیر موجود ہوتی ہے۔

تفسیر کوثر: یہ علامہ شیخ محسن علی نجفی کی ایک جامع اور عصری اسلوب کی حامل اردو تفسیر ہے جو کہ برصغیر کے ماحول کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی ہے۔

انوار النجف: آیت اللہ علامہ سید حسین بخش نجفی (جاروی) کی یہ کثیر الجلدی اردو تفسیر روایاتِ اہل بیتؑ پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

تفسیرِ البرہان: سید ہاشم بحرانی کی اس معروف روائی تفسیر کا بھی مکمل اردو ترجمہ دستیاب ہے جو محققین اور علمی ذوق رکھنے والوں میں مقبول ہے۔

مولانا سعید احمد اسعد کی مکمل آڈیو تفسیر سماعت و ڈائونلوڈ کے لیے

 1. “Clip 01 surah e Fateha.lite”




























عربی زبان و ادب پر قرآن مجید کے اثرات ، پروفیسر غلام احمد حریری

ظہورِ اسلام سے پہلے زندگی کا تصّور محدود تھا۔اسلام کی آمد سے ایک نئے دَور کا آغاز ہوا۔ خیالات و افکار میں انقلاب آیا۔قرآن کے آفاقی تصّور نے زندگی کے افق کووسیع کردیا۔ اس انقلاب سے ہر شعبہ حیات متاثر ہوا۔ قرآن کے زیر اثر علم و فن کے بہت سےنئے زاویے بنے۔شعر و ادب اور زبان پر بھی قرآن کے خوشگوار اثرات پڑے۔ قرآن مجید نے ادب میں حریت فکر، وسعت نظر، پاکیزگی تخیل او ر بلندئ معنی کے اوصاف پید کیے۔ ادب عربی قرآن مجید سے قبل لفظی حسن و شوکت کا مرقع تھا اور اس کا مقصد محض جذبات سافلہ کی ترجمانی تھی۔ قرآن مجید نے آکر ادب عربی کو صوری و معنوی حسن کے ساتھ جذبات عالیہ کی ترجمانی کے آداب سکھائے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم ہی کا فیضان ہے کہ آج عربی زبان تمام دنیا کے علوم و افکار سے معمور ہے۔ عربی زبان و ادب کا محور قرآن مجید ہے۔

ادب ِ جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ شکل میں مل رہا ہے وہ سب قرآن مجید کی زبان کو محفوظ کرنے او راسے سمجھنے کے لیے جمع کیا گیا تھا۔ مثلاً لسانی خامیوں کے سدِ باب کے لیے علم صرف و نحو و اشتقاق ، قرآن اعجاز کو ثابت کرنے کے لیے معانی او ربیان و بدیع۔ غریب الفاظ کی شرح و توضیح کے لیے لغت و ادب، احکام شرعیہ کے استنباط کے لیے حدیث ۔ تفسیر، اصول اور فقہ وغیرہ علوم معرض وجود میں آئے۔ پھر قرآن مجید نے ان تمام علوم کو باقی رکھا او راکناف عالم تک پہنچایا۔
تاریخ ادب عربی کا مطالعہ کرنے والا دیکھے گا کہ یہ زبان جن نازک مرحلوں سے معجزانہ طور پر جان بچا کرنکل آئی یہ محض قرآن مجید کی قوت کانتیجہ تھا۔ ورنہ دنیا کی بے شمار زبانیں اس سے بھی کمتر صدمات کی تاب نہ لاکر زندگی کھو بیٹھیں اور صفحہ کائنات سے مٹ گئیں۔

قرآن مجید نے الفاظ و معانی کے ضمن میں عربی زبان کی امکانی وسعتوں کو آشکارا کیا۔ اثر آفرینی کے سلسلہ میں حقائق سندی، نفع بخشی اور افادی ہمہ گیری کو ملحوظ رکھنے کا درس دیا۔ حقیقت پسند ادب کا عقلی نمونہ پیش کرتے ہوئے اس قدیم مقولہ کی تردید کردی کہ ”إن أعذب شعرا کذبه” (شعر جس قدر کذب پر مبنی ہو اتنا ہی شیریں ہوتا ہے) قرآن مجید نے ادب کا رُخ عدل و انصاف ، خدمت انسان، تائید حق و صداقت ، نفاست پسندی، عفت و حیا اور خدا پرستی کی طرف پھیر دیا۔ اس نےہر موضوع کو بیان کرنے کے لیے مناسب و پروقار اسالیب بخشے، غوروفکر اوردلائل و براہین سے کام لینے کی دعوت دی۔
قرآن مجید نے بتایا کہ ادب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ طیبات کو معاشرہ میں مقبول بنادے اور خبائث کےلیے معاشرہ کی فضا ناسازگار بنا دے۔ قرآن مجید نے ادب کو یاس و قنوط کے مہلک جراثیم سے نجات دلا کر اسے جہاد مسلسل اور حیات آفرین رجائیت کا داعی بنایا۔ تنقید کے لیے بلند اصول دیئے اور ”احسن” کواختیار کرنے میں کسی قسم کا تعصب نہ کرنے کی تلقین کی۔ اس نے مدح و ہجو کےلیے نئے پیمانے مقرر کیے۔ اور ”ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم” کا بلند ترین معیار عطا فرمایا۔

قرآن مجید نے عربی ادب میں حقائق کا اس طرح خمیراٹھایا کہ اس کے بعد جس زبان میں بھی کسی شکل سے عربی ادب پہنچا۔ اس خمیر کی تائید نے اس زبان کو بھی فکری و معنوی بلندیوں سے ہمکنار کردیا۔ آج دنیا کے ادب میں وحدت عالم، وحدت انسانیت، حریت فکر او ر اخلاق کی جو حوصلہ افزائی ہورہی ہے وہ اسی قرآنی ادب کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔ اگر آج انسانیت اپنی آنکھوں سے تعصبات کی عینک اتارنے کی کوشش کررہی ہے تو یہ قرآنی ادب کے فیض کا ثمرہ ہے۔ عربی زبان پر قرآن کریم کا اثریہ ہوا کہ اس نے عربوں کے سخت او ربے رحم دلوں میں جاگزیں ہو کر انہیں نرم کردیا او ران کی سطحی عقلوں میں داخل ہوکر انہیں وزنی اور ٹھوس بنا دیا۔ چنانچہ قرآن مجید کے اس اصول نے ان کی زبان میں حسین الفاظ، خوبی تراکیب، نزاکت اسلوب، قوت گویائی،زور بیان، نیرنگی معانی، کثرت مضامین و مطالب کی صفات کو جنم دیا۔ زبان کے دائرہ کو نئے دینی الفاظ تک وسعت دی۔

قرآن مجید کا نام "القرآن" کی لسانی تحقیق



قرآن کے معنی


قرآن مجید میں دونام سب سے زیادہ عام فہم اور مشہور ہیں: الکتاب اورالقرآن۔ پہلا نام " الکتاب" سے مراد اس کی تحریر ، اس کے الفاظ اور سطروں کا مجموعہ ہے، کیونکہ قرآن مجید ایک تحریری مواد کا مجموعہ ہے ، جو حروف اور الفاظ پر مشتمل ہے ۔ اور دوسرا نام القرآن کے معنی پڑھی جانے والی چیز ہے۔ ان دونوں ناموں کی معنوی مطابقت یہ ہے کہ یہ قرآن نہ صرف تحریری طور پر محفوظ ہے بلکہ زبانی تواتر سے لوگوں کے سینوں میں بھی محفوظ ہے ۔ البتہ کچھ جدید علمائے لغت کا کہنا ہے کہ یہ دونوں نام آرامی زبان سے ماخوذ ہیں اس میں الکتاب کے معنی ہیں حروف (یا الفاظ) جبکہ القرآن کے معنی تلاوت کرنا ہے ، اس لے اس آخری وحی کو کتاب اور قرآن کہنا ایک فطری بات ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ کو اس آخری وحی کو دونوں طریقے سے محفوظ بنانے کا حکم ہوا۔ سب سے پہلی وحی میں اس طرف اشارہ ہے ، فرمایا:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (العلق: ۱۔۵) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا

لغوی تحقیق


ہمارے قدیم علماء لغت کے ہاں لفظ" قرآن" کی تحقیق وتحلیل میں شدید اختلاف ہے ۔ ان میں سے ایک ایک گروہ نے کہا کہ قرآن کا لفظ اسم جامد ہے یعنی یہ قواعد کی روسے مشتق نہیں ہے ۔ اس رائی کی تائید کرنے والوں میں ابوعبیدہؒ ، ابنِ اوسؒ اور امام شافعی ؒ بھی ہیں ۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ قرآن مجید بھی تورات اور انجیل کی طرح ایک الہامی کتاب ہے، اس لئے یہ لفظ اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ ( تاريخ بغداد للخطيب 2/ 62 )۔ علما، کے دوسرے گروہ نے کہا ہے کہ لفظ قرآن مشتق ہے ۔ پھر ا س گروہ میں اس بات پر اختلاف ہے کہ یہ لفظ مشتق کی کون سی قسم ہے یعنی مادے کے اعتبار سے اس کے اصلی حروف کیا ہیں ؟ ایک گروہ کا کہنا کہ اس کے حروف (ق رن) ہیں ۔ اس میں معروف امام اشعری اور ان کےکے ماننے والے شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ لفظ قرآن : قَرَنَ یَقرُنُ مصدر قَرۡن سے ماخوز ہے (یعنی کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ ملانا)، کیونکہ اس میں سورتیں اور آیات ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ (کتاب البرهان للزرکشی 1 / 278) جبکہ امام فراء کہتے ہیں: یہ لفظ قرائن سے ماخوذ ہے، جو قرينة کی جمع ہے، اس کے معنی ہیں مشابہ ہونا ۔ کیونکہ اس کی آیات ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں گویا ہر آیت اور سورت دوسری آیت اور سورت کے لیے قرینہ ہے ۔ ( الإتقان للسیوطی 1 / 87)۔

تفسیر سفیان ثوری کی تحقیق و تدوین - ابوالبشر احمد طیب

تفسیر سفیان ثوری کی تحقیق و تدوین
امام سفیان ثوری ہماری علمی تاریخ میں امیر المومین فی الحدیث کے لقب سے مشہور ہیں ۔  آپ تبع تابعین میں سے تھے آپ کا شمار آئمہ مجتہدین اور ایک الگ فقہی مسلک کے بانی میں کیا جاتا ہے اگرچہ مورخین نے ان کو  مفسرین کے طبقات میں شمار نہیں کیا لیکن اپنے دور میں تفسیر و تاویل کے میدان میں دوسرں سے  کم نہ تھے جیسے سفیان بن عیینہ،  وکیع بن جراح، اسحاق بن راہویہ ہیں۔


 باختلاف روایت سفیان ثوری  کی ولادت سلیمان ابن عبد الملک کے زمانۂ خلافت میں سنہ 96،97ھ بمطابق 715ء میں ہوئی (بعض لوگوں نے ان کا سنہ ولادت سنہ95ھ لکھا ہے؛ مگریہ اس لیے غلط ہے کہ اس بات پرسب کا اتفاق ہے کہ وہ سلیمان کی خلافت میں پیدا ہوئے تھے اور سلیمان سنہ96ھ میں تخت خلافت پربیٹھا تھا)۔ سفیان ثوری  کی وفات۔ 161ھ /۔ 778ء میں ہوئی. 

برصغیر کے مشہور عالم دین، عربی دان، محقق و ادیب و نقاد مولانا امتیاز علی عرشی صاحب نے پہلی مرتبہ  تفسیر سفیان ثوری کو  عربی زبان میں مرتب کیا، آپ نے اس پر حواشی اور تعلیقات بھی لکھی، حکومت ہند کی طرف سے اس کی طباعت کا اہتمام کیا گیا۔

مولاناعرشی صاحب نے ان کی دیگر تصنیفات کی جوتفصیل اپنے مضمون مطبوعہ معارف سنہ۱۹۳۵ء میں دی ہے اس کے مطابق سفیان ثوری  کی تصانیف درج ذیل ہیں۔ 

(۱)الجامع الکبیر فی الفقہ، یہ کتاب ابوبکر محمد بن ابی الخیر الاموی نے چوتھی صدی ہجری میں اور علامہ محمد عابد بن احمد لعی سندی نے تیرھویں صدی ہجری کے نصف اوّل میں پڑھی تھی۔ 

(۲)الجامع الصغیر، جو الجامع کے نام سے مشہور ہے ۔  یہ ایک زمانہ میں محدثین میں بڑی مقبول و متداول رہی ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے علمِ حدیث کی جب تحصیل شروع کی تو سب سے پہلے جن کتابوں کی طرف توجہ کی وہ سفیان ثوری کی ’’جامع‘‘ اور عبد اللہ بن مبارک اور وکیع کی تصنیفات تھیں۔ امام بخاری نے ’’جامعِ سفیان‘‘ کا سماع اپنے وطن ہی میں امام ابوحفص کبیر سے کیا تھا۔

 (۳)اکتاب الفرائض یہ کتاب بھی محمد بن عابد سندی نے پڑھی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ یہ کتاب بھی تیرھویں صدی تک موجود تھی۔ 

قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا ایک تجربہ اور مخلصانہ مشورہ - مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

قرآن مجید سے ذاتی اور قوی تعلق، ربط و مناسبت اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ اور اس کے ذریعہ سے ترقی اور قرب الٰہی حاصل کرنے کے سلسلہ میں ایک تجربہ اور مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ : 



قرآن مجید سے زیادہ سے زیادہ  فائدہ حاصل کرنے
 کا ایک تجربہ اورمخلصانہ مشورہ ۔
مولانا  سید ابوالحسن علی ندوی ؒ 
جہاں تک ہو سکے کلام اللہ سے براہ راست اشتغال اور متن قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جائے، اس سے لذت و ذوق حاصل کیا جائے اور اس کے معانی و مضامین میں تدبر سے کام لیا جائے۔

اگر بقدر ضرورت عربی زبان کی استعداد اور اس کے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے تو براہ راست ۔

 ورنہ کسی معتبر ترجمہ اور مختصر حاشیہ کے ذریعہ حتی الامکان انسانی تفہیم و تشریح کی مدد پر انحصار اور تفسیروں کی بار بار مراجعت کے بغیر قرآن مجید کی تلاوت ،اس کے سمجھنے اور اس کا لطف لینے کی کوشش کی جائے ۔ 

اور ایک عرصہ تک اسی پر اکتفا کیا جائے، اور توفیق خداوندی اور اعانت الٰہی سے جو کچھ میسر آئے اس پر ہزار زبان سے شکر کیا جائے۔۔ 

 اس میں سوائے اضطراری موقعوں کے کہ کسی لفظ کی تحقیق، کسی شبہ کے ازالہ اور کسی سبب نزول کی واقفیت کے بغیر کام نہ چلتا ہو، کتب تفسیر ( عربی و اردو) کی تفصیلی بحثوں، مفسرین و مصنفین کی دقیقہ سنجیوں اور نکتہ آفرینیوں سے پرہیز کیا جائے۔ 

 کہ بعض اوقات قرآن مجید کے چشمہ صافی پر انسانی عقول و علوم کا ایسا ہی سایہ پڑ جاتا ہے جیسا کہ کسی صاف شفاف چشمہ پر کنارے کے درختوں کے گھنے سایہ کا، اور پھر اس میں وہ لطافت و اصلیت اور کلام الٰہی کی حلاوت و لذت باقی نہیں رہتی جو اس کی اصل جان ہے۔

 بلکہ بعض اوقات یہ تجربہ ہوا ہے کہ پڑھنے والا کسی لائق و ذہین انسان کی تفہیم سے (جس سے وہ پہلے سے متاثر تھا) اس سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو جاتا ہے جتنا کہ اصل کلام سے اس کو متاثر ہونا چاہیے۔ 

اور اس کے ذہن کے روزن سے یہ بات اس کے شعور میں داخل ہو جاتی ہے کہ اس کلام کی عظمت و جلال اور اس کا حسن و جمال شاید اس تفہیم کے بغیر سامنے نہ آتا اور کم سے کم یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ انسان کلام الٰہی کو اس کے کسی خاص مفسر یا شارح یا ترجمان کی عینک ہی سے دیکھنے کا عادی بن جاتا ہے۔


-----------
مولانا ابوالحسن علی ندوی، مطالعہ قرآن کے اصول و مبادی ص 192، 193

درس قرآن اور ترجمہ قرآن کے سلسلہ میں مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کا تجربہ

اپنے خط بنام علامہ سید سلیمان ندوی ؒ میں لکھتے ہیں :

" قرآن حکیم پر تفسیر بالرائے و عقلیت سے الگ رہ کر احادیث ناقابل انکار کے ساتھ دے کر لغت و ادب کی باکل نئی تحقیقات و کاوش سے مدد لے کر ( جس سے نصف مشکلات حل ہوجاتی ہیں ) قرآن کے حقائق اجتماعی کے انکشاف پر زور دے کر اور اس کے درس کو تمام مسائل و عقائد و اعمال مہمہ اقوام و امم و مہمات مسئلہ اصلاح و تبلیغ اہل اسلام پر محیط کر کے درس قرآن کا سلسلہ جاری رکھا جا تا ہے نیز تمام علوم اسلامیہ پر مجتہدانہ لکچر دیے جائیں ۔ ---------------------
حالات وقت نزول و طرق تمثیل و بیان عرب جاہلیت ، یہ دو چیزیں نہ صرف امثال القرآن بلکہ تمام کے فہم ودروس کے لئے بمنزلہ اساس و اصل کے ہیں ، اور امثال و اقسام و انواع بیان و تخاطب و تذکیر کے لئے تو اولین نظر ان ہی پر ہونی چاہیے " (1)

ترجمۂ قرآن کی مشکلات پر اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " البیان" : خصائص و امتیازات (۱)

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018
​

قرآن مجید کو اس وضاحت کے ساتھ اتاراگیاہے کہ یہ سراسرہدایت اورحق کے معاملے میں پیداہوجانے والے اختلافات میں خداکی آخری حجت ہے۔اس کی دین میں یہی حیثیت ہے کہ اسے سیکھنے اوردوسروں کوسکھانے کاکام ہر زمانے میں حقیقی مسلمانوں کاہدف رہا ہے۔یہ کام شروع دورمیں بہت سادہ اورکسی حدتک آسان بھی تھاکہ لوگ اس کی زبان سے مکمل طورپرآشنا،اس کی آیات کے پس منظر اور جس ماحول میں یہ اُتریں،اُن سے اچھی طرح سے واقف تھے۔لیکن یہ قدرے مشکل اور پیچیدہ ہوتا چلا گیاجب اس کتاب کے براہ راست مخاطبین اس دنیامیں نہ رہے اور بعد میں آنے والوں کی زبان میں کچھ ناگزیرتبدیلیاں رونماہونے لگیں۔ الفاظ میں متولد مفاہیم پیدا ہوئے تو بعض اسالیب متروک ہوکرنئی نئی صورتوں میں ظاہرہونے لگے۔اس سلسلے کی ایک مشکل اُن نومسلموں کے ہاں بھی پیدا ہوئی جو عربی زبان سے قطعی نابلدہونے کی بناپر اپنے اورقرآن کے درمیان میں ایک قدرتی حجاب دیکھتے تھے۔ 

یہ حالات تھے جن میں صاحبان علم کواس بات کا شدت سے احساس ہواکہ فہم قرآن کے کام کوباقاعدہ علمی طریقے سے انجام دیاجائے ۔سواُنھوں نے اسے متعددزبانوں میں بیان کرنا شروع کیاجوترجمہ کی ایک مستقل اورشان دار روایت کی صورت میں ہمارے سامنے آیا۔اس سے پہلے کتاب کا اصل مدعا جاننے کے لیے انھوں نے بہت سی تفسیری کاوشوں کابھی اہتمام کیااوراس کے لیے عام طورپردوطریقوں کواختیارکیا:ایک یہ کہ اپنی طرف سے کوئی بات کہنے کے بجاے صرف اگلے لوگوں کی آراکونقل کردیااوردوسرے یہ کہ اصل زبان سے استشہادکرتے ہوئے اورتاریخ کی حتمی شہادت اور آیات کے بین السطورسے مددلیتے ہوئے خوداس کے مطالب کوبیان کیا۔یہ کوششیں بہت سالوں تک اسی طرح ہوتی رہیں اور مسلمانوں کے تفسیری علم میں گراں قدراضافے کاباعث بنیں۔

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (2)


 جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن
" ​البیان" : خصائص و امتیازات (2) 

’’واو‘‘

’’واو‘‘ کا حرف بھی قرآن میں کثرت سے استعمال ہواہے ۔اسے مترجمین بالعموم’’اور‘‘کے لفظ سے اداکرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے درست ہے کہ عربی کے ’’واو‘‘ کی طرح یہ بھی اپنے اندرمعنی و مفہوم کی بہت سی وسعتیں رکھتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کواپنی گرفت میں لے لینا، ایک عام قاری کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ قرآن کے اصل فہم کوترجمے میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ’’ واو‘‘جس مقام پرجس معنی میں استعمال ہوا ہو، وہاں اُسی معنی کواداکرنے والے اردوکے الفاظ لائے جائیں۔ ’’البیان‘‘ میں یہ اہتمام کس قدر کیا گیا ہے، ذیل کی چندمثالیں بڑی حدتک اسے بیان کردیتی ہیں:

۱۔ ہاں

وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا.(النساء ۴: ۵)
’’ہاں،اِس سے فراغت کے ساتھ اُن کوکھلاؤ،پہناؤاوراُن سے بھلائی کی بات کرو۔‘‘


یتیموں کے بارے میں فرمایاہے کہ اگروہ نادان اوربے سمجھ ہوں تواُن کامال اُن کے حوالے نہ کرو۔اس ہدایت کا منشا یہ بالکل نہیں تھا کہ اُن کی واجبی ضروریات کوبھی پورانہ کیاجائے،چنانچہ اصل حکم پراستدراک کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوھُمْ‘۔ یعنی، جہاں تک اُن کی ضروریات کاتعلق ہے توانھیں فراغت کے ساتھ پورا کرو۔ یہاں ’’واو‘‘کاترجمہ’’ اور‘‘کے لفظ سے کریں تویہ مدعاکسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کے مقابلے میں ’’ہاں‘‘ کا لفظ آسانی سے اس مشکل کوحل کردیتاہے۔
’’البیان‘‘ میں بعض مقامات پرکلام کی مناسبت سے اس’’ہاں‘‘میں مزیدلفظوں کا اضافہ بھی کیاگیاہے،جیساکہ ’’ہاں،البتہ‘‘ یا ’’اورہاں‘‘وغیرہ:

جاوید احمد غامدی کا ترجمۂ قرآن " ​البیان" : خصائص و امتیازات (3)

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق ، اکتوبر 2018 


’’تنوین‘‘

تنوین بھی ایک حرف ہے کہ اسے نحوی حضرات ’’ن‘‘ کاقائم مقام قراردیتے ہیں۔یہ اصل میں تنکیرکے لیے آتی ہے،مگرکلام عرب میں اس سے بعض دوسرے معانی کوبھی اداکیاجاتاہے۔ان میں سے ایک معنی تفخیم شان کابھی ہے اوراس کاترجمہ عام طورپراس کے صرف ایک پہلو کے لحاظ سے کیاجاتاہے،مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’’البیان‘‘ میں تفخیم کی اس تنوین کاترجمہ ہرجگہ ایک سانہیں کیاگیاکہ مختلف مقامات پراس کے مختلف پہلومرادہواکرتے ہیں،مثلاً:

۱۔ عظمت

سُوْرَۃٌ اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا وَاَنْزَلْنَا فِیْھَآ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(النور ۲۴: ۱)
’’یہ ایک عظیم سورہ ہے جس کوہم نے اتاراہے اوراس کے احکام (تم پر)فرض ٹھیرائے ہیں اوراس میں نہایت واضح تنبیہات بھی اتاری ہیں تاکہ تم یادرکھو۔‘‘


یہاں ’سُوْرَۃٌ‘ کی تنوین اصل میں اس کی عظمت اوراہمیت کے اظہارکے لیے ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مبتدا محذوف کی خبرہے اوراس حذف سے مقصودیہ ہے کہ ساری توجہ خبرپرمرکوزہوکررہ جائے۔مزیدیہ کہ اگلے جملے، جیساکہ اسے ہم نے اتاراہے،اس کے احکام فرض ٹھیرادیے ہیں ،اس میں نہایت واضح تنبیہات اتاردی ہیں؛ان سب سے بھی ’سُوْرَۃٌ‘ کے اس لفظ میں عظمت واہمیت کاپہلوپیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ ’’البیان‘‘ میں اس کا ترجمہ ’’ایک عظیم سورہ‘‘ کے الفاظ میں کیاگیاہے۔

۲۔ برتری

بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلآی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ.(الزخرف ۴۳: ۲۲)
’’ہرگزنہیں،بلکہ یہ توکہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداکوایک برترطریقے پرپایاہے اورہم اُنھی کے قدم بہ قدم ٹھیک راستے پرچل رہے ہیں۔‘‘