‏ارض قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ارض قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن مجید کا نام "القرآن" کی لسانی تحقیق



قرآن کے معنی


قرآن مجید میں دونام سب سے زیادہ عام فہم اور مشہور ہیں: الکتاب اورالقرآن۔ پہلا نام " الکتاب" سے مراد اس کی تحریر ، اس کے الفاظ اور سطروں کا مجموعہ ہے، کیونکہ قرآن مجید ایک تحریری مواد کا مجموعہ ہے ، جو حروف اور الفاظ پر مشتمل ہے ۔ اور دوسرا نام القرآن کے معنی پڑھی جانے والی چیز ہے۔ ان دونوں ناموں کی معنوی مطابقت یہ ہے کہ یہ قرآن نہ صرف تحریری طور پر محفوظ ہے بلکہ زبانی تواتر سے لوگوں کے سینوں میں بھی محفوظ ہے ۔ البتہ کچھ جدید علمائے لغت کا کہنا ہے کہ یہ دونوں نام آرامی زبان سے ماخوذ ہیں اس میں الکتاب کے معنی ہیں حروف (یا الفاظ) جبکہ القرآن کے معنی تلاوت کرنا ہے ، اس لے اس آخری وحی کو کتاب اور قرآن کہنا ایک فطری بات ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ کو اس آخری وحی کو دونوں طریقے سے محفوظ بنانے کا حکم ہوا۔ سب سے پہلی وحی میں اس طرف اشارہ ہے ، فرمایا:

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (العلق: ۱۔۵) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا

لغوی تحقیق


ہمارے قدیم علماء لغت کے ہاں لفظ" قرآن" کی تحقیق وتحلیل میں شدید اختلاف ہے ۔ ان میں سے ایک ایک گروہ نے کہا کہ قرآن کا لفظ اسم جامد ہے یعنی یہ قواعد کی روسے مشتق نہیں ہے ۔ اس رائی کی تائید کرنے والوں میں ابوعبیدہؒ ، ابنِ اوسؒ اور امام شافعی ؒ بھی ہیں ۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ قرآن مجید بھی تورات اور انجیل کی طرح ایک الہامی کتاب ہے، اس لئے یہ لفظ اسی طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ ( تاريخ بغداد للخطيب 2/ 62 )۔ علما، کے دوسرے گروہ نے کہا ہے کہ لفظ قرآن مشتق ہے ۔ پھر ا س گروہ میں اس بات پر اختلاف ہے کہ یہ لفظ مشتق کی کون سی قسم ہے یعنی مادے کے اعتبار سے اس کے اصلی حروف کیا ہیں ؟ ایک گروہ کا کہنا کہ اس کے حروف (ق رن) ہیں ۔ اس میں معروف امام اشعری اور ان کےکے ماننے والے شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ لفظ قرآن : قَرَنَ یَقرُنُ مصدر قَرۡن سے ماخوز ہے (یعنی کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ ملانا)، کیونکہ اس میں سورتیں اور آیات ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ (کتاب البرهان للزرکشی 1 / 278) جبکہ امام فراء کہتے ہیں: یہ لفظ قرائن سے ماخوذ ہے، جو قرينة کی جمع ہے، اس کے معنی ہیں مشابہ ہونا ۔ کیونکہ اس کی آیات ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں گویا ہر آیت اور سورت دوسری آیت اور سورت کے لیے قرینہ ہے ۔ ( الإتقان للسیوطی 1 / 87)۔

قدیم عرب کا جغرافیہ

 عرب کو "عرب" کیوں کہتے ہیں ؟ اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں ، "عرب" اعراب سے مشتق ہے جس کے معنی زبان آوری اور اظہار مافی الضمیر کے ہیں ، چونکہ عرب کی قوم نہایت زباں آور اور فصیح اللسان تھی اس لئے اس نے اپنا نام عرب رکھا ، اور اپنے سوا تمام دنیا کو اس نے عجم یعنی " بے زبان " کے نام سے پکارا، لیکن حقیقت میں یہ صرف نکتہ آفرینی اور دقّت رسی ہے ، دنیا میں ہر قوم اپنی زبان کی اسی طرح جوہری ہے جس طرح عرب ۔

علمائے انساب کہتے ہیں کہ اس ملک کا پہلا باشندہ یعرب بن قحطان ، جو یمنی عربوں کا پدر اعلی ہے ، اس لئے اس ملک کے باشندوں کو اور نیز اس ملک کو عرب کہنے لگے ، لیکن یہ بالکل خلاف قیاس اور معلومات تاریخی کے مخالف ہے ، نہ یعرب اس ملک کا پہلا باشندہ تھا اور نہ لفظ عرب کسی قاعدہ لسانی یمن تھا۔اس لئے سب سے پہلے خود یمن یعنی  جنوبی عرب کو عرب کہنا چاہیئے ، لیکن اس کے برخلاف "عرب " کا لفظ پہلے شمالی عرب کے لئے مستعمل ہوا ۔۔۔۔ ۔

اہل جغرافیہ کہتے ہیں اور بالکل صحیح کہتے ہیں کہ "عرب " کا پہلا نام " عربۃ " تھا جو ۔۔ بعد کو عموما " عرب " بولا جانے لگا ، اور اس کے بعد ملک کے نام سے خود قوم کا نام بھی قرار پاگیا چنانچہ شعرائے عرب کے اشعار سے بھی جو عرب کی تنہائی ڈکشنری ہے ، اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔

اسد بن جاحل کہتا ہے۔
وعربۃ ارض جدّ فی الشر اھلھا     کما جدّ فی شرب النقاخ ظماء
ابن منقذ ثوری کا شعر ہے ۔
لنا ابل  لم  یطمث  الذُّل  بینھا        بعربۃ ماواھا بقرن فابطھا
ولوا ن قومی طاوعتنی سراتۃ       امرتھم الامر الذی  کان اریحا
اسلام کے بعد بھی یہ نام باقی رہا ، ابو سفیان کلبی رسول اللہ ﷺ کی مدح میں کہتے ہیں۔
ابونا رسول اللہ و ابن  خلیلہ          بعربۃ بوَّانا فنعم المرکب
ابوطالب بن عبد المطلب کی طرف جو قصیدہ منسوب ہے ، (گو صحیح نہیں ) اس کا ایک شعر ہے ۔
وعربۃ دار لا یحل  حرامھا          من الناس الا اللوذعی الحلاحل
(ان مذکورہ اشعار کی تفصیل لے لئے دیکھئے معجم البلدان ، یاقوت لفظ" عربۃ ")

اب دوسرا سوال یہ ہے کہ اس ملک کا نام " عربۃ " کیوں قرار پا یا ؟ اصل یہ ہے کہ تمام سامی زبانوں میں " عربۃ " صحرا اور بادیہ کا مفہوم رکھتا ہے ۔ عبرانی میں  "عربا" عرابۃ کے معنی بدویت کے ہیں اور اعراب اہل بادیہ اور صحرا نشینوں کے لئے اب تک مستعمل ہے ۔
چونکہ عرب کا ملک زیادہ تر ایک بیابان بے آب گیاہ ہے اور خصوصا وہ حصہ جو حجاز سے بادیۂ عرب و شام اور سینا تک پھیلا ہواہے ، اس لئے اس کا نام "عربا" قرار پایا ، اور پھر رفتہ رفتہ وہاں کے باشندوں کو " عرب " کہنے لگے ۔

قرآن مجید میں لفظ" عرب " ملک عرب کے لئے کہیں نہیں بولا گیا ہے ، حضرت اسمعیل ؑ کی سکونت کے ذکر میں "واد غیر ذی زرع" یعنی " وادی ناقابل کاشت " اس کو کہا گیا ہے اکثر لوگ اس نام  کو عرب کی حالت طبعی کا بیان سمجھتے ہیں ، لیکن اوپر جو حقیقی بیان ہے اس سے واضح ہے کہ یہ لفظ عرب کا بعینہ لفظی ترجمہ ہے ، چونکہ اس عہد میں اس غیر آباد ملک کا کوئی نام نہ تھا اس لئے خود لفظ " غیر آباد ملک " اس کانام پڑگیا ، توراۃ میں بھی اسمعیل ؑ  کا مسکن  " مدبار " بتایاگیا ہے ، جس کے معنی بیابان اور غیر آباد قطعہ کے ہیں اور جو بالکل عرب کا ترجمہ اور"واد غیر ذی زرع " کے مرادف ہے ۔

تورات میں لفظ " عربا" کے ایک خاص قطع زمین کے معنی میں متعدد بار آیا ہے ، لیکن یقینا اس وسعت کے ساتھ اطلاق نہیں ہواہے جس وسعت کے ساتھ اب یہ کیا جاتاہے ، لفظ " عربا" سے صرف و ہ قطعہ زمین مراد لیا گیا ہے جو حجاز سے شام و سینا تک وسیع ہے ۔ (استثنا ) عام ملک عرب کے لئے زیادہ تر مشرق اور مشرق کی زمین کا استعمال ہوا ہے ، اور کبھی جنوب کا ، کیونکہ عرب فلسطین کے مشرق و جنوب دونوں گوشوں میں ہے ۔

لفظ " عرب " سب سے پہلے 1000ق ،م میں حضرت سلیمان ؑ کے عہد میں سننے میں آتاہے اور پھر اس کے بعد عام طور سے اس کا استعمال عبرانی ، یونانی اور رومانی تاریخوں میں نظر آتاہے اسیریا کے کتبات  میں  800ق ،م  میں عرب کانام " عریبی " لیا گیا ہے ۔ اسلام سے پہلے ہی یہ لفظ پورے ملک کو جو یمن سے شام تک وسیع ہے محیط تھا ۔

عبارت بالا سے ظاہر ہوگا کہ عرب قدیم کے جغرافیہ کے تین ماخذ ہیں ، تورات ، یونان ، و رومان ، اور خود عرب ، اور ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ یہ تین مختلف ماخذتین مختلف زمانوں سے متعلق ہیں ، تورات کا بیان 2500 ق ، م  سے تقریبا 800ء یونان و رومان بیان 500م ، ق (ہیروڈوٹس ) اسے 200ء (بطلیموس ) تک ہے ۔

خود عربوں کے بیانات عرب کے مقامات کے متعلق جو بعہد اسلام مدون ہوئے چند مشہور قبائل کے مقامات سکونت کے سوا (مثلا احقاف  مسکن عاد ،  مدین ،مسکن ثمود ، یمامہ، مسکن طسم و جدیس حجاز مسکن جریم ، یمن مسکن قحطان )عہد مسیح ؑ سے بعد کے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ عرب تصنیف و تالیف آشنا نہ تھے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ "صاحب البیت ادری بمافیہ"۔ عرب کے شعراء کا عام مذاق یہ ہے کہ وہ قصائد میں محبوب کے دیار و مسکن او راپنے سفر کے مقامات و منازل کا تذکرہ  کیا کرتے ہیں ، علمائے اسلام نے ان ہی سے عرب کا جغرافیہ وصفی ترتیب  دیا ہے ۔
( تاریخ  ارض قرآن ، جلد اول ص 66-69،  علامہ سید سلیمان ندویؒ )