قرآن کے سائنسی و عددی پہلوؤں پر تحقیق

عبد الدائم الکحیل عرب دنیا (شام) کے معروف مصنف اور قرآن کے سائنسی و عددی پہلوؤں پر تحقیق اور تحریر کے حوالے سے معروف ہیں۔ ان کی تحریروں کا بنیادی موضوع قرآن مجید میں عددی نظم، حرفی ترتیب، لسانی ساخت اور کائناتی اشارات کا مطالعہ ہے۔ وہ قرآن کے مختلف الفاظ، حروف اور آیات میں پائی جانے والی عددی و ساختی مناسبتوں کو جدید اسلوب میں پیش کرتے ہیں اور ان کے ذریعے قرآن کے اعجاز پر غور کی دعوت دیتے ہیں۔

ان کی متعدد تحریریں اور تحقیقی مطالعات عربی میں شائع ہوئے ہیں اور ان کا کام عرب دنیا سے باہر بھی توجہ حاصل کرتا ہے۔ ان کی تحقیقات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ قرآن کے متن میں موجود حرفی و عددی نظم کو اعداد و شمار، جدولوں اور بصری ترتیب کے ذریعے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ان کے بعض استدلالات کو قرآن کے اعجاز پر تدبری مطالعات کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ نہ کہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں۔

ان مطالعات میں سے ایک درج ذیل تحقیق بھی ہے

انہوں نے قرآن کے حرفی نظم کی بعض مثالوں کی طرف توجہ دلائی ہے، جن میں دو مختصر قرآنی فقروں کا ذکر خاص طور پر دلچسپ ہے: ﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ﴾ اور ﴿كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾۔

پہلے فقرے «رَبَّكَ فَكَبِّرْ» کے حروف کو سامنے رکھیں تو ترتیب بنتی ہے: ر ـ ب ـ ك ـ ف ـ ك ـ ب ـ ر۔ اب اسے الٹی سمت سے پڑھیں تو حیرت انگیز طور پر ترتیب پھر وہی رہتی ہے: ر ـ ب ـ ك ـ ف ـ ك ـ ب ـ ر۔ درمیان میں ف مرکزی حرف ہے اور اس کے دونوں طرف تین تین حروف ایک دوسرے کا عکس معلوم ہوتے ہیں: ر، ب، ك | ف | ك، ب، ر۔

دوسری مثال «كُلٌّ فِي فَلَكٍ» ہے۔ اس کے حروف کو ترتیب سے لکھیں تو صورت بنتی ہے: ك ـ ل ـ ف ـ ي ـ ف ـ ل ـ ك۔ یہاں بھی درمیان میں ي ہے اور دونوں جانب کے حروف باہم عکس کی صورت رکھتے ہیں: ك، ل، ف | ي | ف، ل، ك۔ یعنی عبارت کو ابتدا سے آخر تک پڑھیں یا آخر سے ابتدا کی طرف، حروف کی یہ بنیادی ترتیب تبدیل نہیں ہوتی۔

عربی بلاغت میں اس قسم کی ساخت کو قلبِ مستوی یا انعکاسی ترتیب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی ایسا انکشاف نہیں جو صرف جدید دور میں سامنے آیا ہو۔ عربی بلاغت کے علماء نے بھی «كُلٌّ فِي فَلَكٍ» اور «وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ» کو حروف کی اسی خاص ترتیب کی مثالوں کے طور پر ذکر کیا ہے۔ جدید دور میں عبد الدائم الکحیل نے اس پہلو کو عام فہم انداز میں نمایاں کرکے قرآن کے لفظی نظم کی طرف دوبارہ توجہ مبذول کرائی ہے۔

اب ذرا ان دونوں فقروں کے معنی پر غور کیجیے۔ «وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ» میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو اپنے رب کی بڑائی بیان کرنے کا حکم دیتے ہیں، جبکہ «كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» میں اجرامِ سماوی کے اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے کا ذکر ہے۔ ایک مقام پر زبان اللہ کی کبریائی کے اعلان کے لیے متحرک ہے اور دوسرے مقام پر کائنات اپنے مقررہ نظام میں گردش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ حروف کی سطح پر دونوں فقروں میں جو انعکاسی ترتیب نظر آتی ہے، وہ ان کے قرآنی نظم و ترتیب کے حسن کا ایک لطیف نمونہ ہے۔

رَبَّكَ فَكَبِّرْ اور كُلٌّ فِي فَلَكٍ کے یہ سات سات حروف نظم قرآن کا ایک معجزہ ہے۔ جب ایک ہی فقرہ میں معنی کی گہرائی، صوت کی مناسبت، حروف کی ترتیب اور عبارت کا حسن جمع ہوجائے تو قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ اور فقرے محض معنی پہنچانے والے نہیں، بلکہ اپنے اندر ایک منظم ساخت بھی رکھتے ہیں۔

اس بارے میں  ویڈیو میں دیکھیں !