‏علوم قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏علوم قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن کے سائنسی و عددی پہلوؤں پر تحقیق

عبد الدائم الکحیل عرب دنیا (شام) کے معروف مصنف اور قرآن کے سائنسی و عددی پہلوؤں پر تحقیق اور تحریر کے حوالے سے معروف ہیں۔ ان کی تحریروں کا بنیادی موضوع قرآن مجید میں عددی نظم، حرفی ترتیب، لسانی ساخت اور کائناتی اشارات کا مطالعہ ہے۔ وہ قرآن کے مختلف الفاظ، حروف اور آیات میں پائی جانے والی عددی و ساختی مناسبتوں کو جدید اسلوب میں پیش کرتے ہیں اور ان کے ذریعے قرآن کے اعجاز پر غور کی دعوت دیتے ہیں۔

ان کی متعدد تحریریں اور تحقیقی مطالعات عربی میں شائع ہوئے ہیں اور ان کا کام عرب دنیا سے باہر بھی توجہ حاصل کرتا ہے۔ ان کی تحقیقات کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ قرآن کے متن میں موجود حرفی و عددی نظم کو اعداد و شمار، جدولوں اور بصری ترتیب کے ذریعے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ان کے بعض استدلالات کو قرآن کے اعجاز پر تدبری مطالعات کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ نہ کہ سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں۔

ان مطالعات میں سے ایک درج ذیل تحقیق بھی ہے

اعجازِ نظمِ قرآن: سورتوں کا باہمی ربط اور ہم آہنگی

قرآنِ حکیم کائنات کی واحد ایسی کتاب ہے جو بائیس سال سے زائد عرصے میں تھوڑی تھوڑی نازل ہوئی، مگر جب اسے کتابی شکل دی گئی تو اس کا ہر لفظ، ہر آیت اور ہر سورت ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ گئی جیسے موتی ایک لڑی میں پروئے ہوتے ہیں۔ نظمِ قرآن سے مراد قرآن مجید کا یہی باہمی ربط اور حیرت انگیز تنظیمی حسن ہے۔ بظاہر اس میں احکامات، عقائد، قصص، اور انذار کے مختلف مضامین بکھرے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں قرآن مجید ایک ایسا عظیم الشان ہیرا ہے جس کو آپ جس زاویے سے بھی دیکھیں، اس کی چمک، آب و تاب اور جوہر برابر قائم رہتا ہے۔ اس کا کوئی بھی حصہ اپنے ماقبل یا مابعد سے الگ یا اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔
۱۔ سورہ فاتحہ: پورے قرآن کا اجمالی نقشہ اور دیباچہ
نظمِ قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے کلیدی نقطہ سورہ فاتحہ ہے۔ یہ محض ایک سورت نہیں بلکہ پورے قرآن کا خلاصہ اور اس کا علمی و عملی خاکہ ہے۔ قرآن مجید کے تمام بنیادی مضامین اس ایک چھوٹی سی سورت میں اشارۃً سمو دیے گئے ہیں:
  • عقائد کا محور: "الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین" میں توحیدِ ربوبیت، صفاتِ باری تعالیٰ اور عقیدہ آخرت و جزا کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔
  • شریعت اور بندگی: "ایاک نعبد وایاک نستعین" کے ذریعے بندے اور رب کا تعلق واضح کر کے پوری شریعت کی اساس قائم کر دی گئی ہے۔
  • صراطِ مستقیم کا خاکہ: "اہدنا الصراط المستقیم" انسان کی سب سے بڑی ضرورت یعنی ہدایت کی دعا ہے۔
  • تاریخ کے گمراہ فرقے: "صراط الذین انعمت علیہم" کے ذریعے سچے پیروکاروں کا مژدہ سنایا گیا، جبکہ "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" کہہ کر ان گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا جو حق کو جاننے کے باوجود بھٹک گئے (جیسے یہود و نصاریٰ)۔
نوٹ: آگے کا پورا قرآن (سورہ بقرہ سے سورہ الناس تک) دراصل سورہ فاتحہ کی اسی ایک دعا (اہدنا الصراط المستقیم) کا مفصل اور جامع جواب ہے۔

جاوید احمد غامدی صاحب تقسیم وراثت کے قانون میں روایتی فقہاء سے کیوں اختلاف کرتے ہیں ؟

سورہ نساء کی وراثت سے متعلق آیات (آیت 11، 12، اور 176) کو اسلامی قانونِ وراثت کا ستون مانا جاتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے ان آیات کے لفظی ڈھانچے، عربی زبان کے اسلوب (Linguistic Nuances) اور جملوں کے باہمی نظم کا ایک گہرا اصولی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے، جس کی بنیاد پر انہوں نے روایتی تفہیم سے ہٹ کر اپنے نتائج اخذ کیے ہیں۔

ذیل میں ان آیات کی روشنی میں جاوید احمد غامدی صاحب کے نتائج فکر کو پیش کیا گیا  ہے:

1. آیت 11 کا تجزیہ: اولاد اور والدین کے حصص

یہ آیت وراثت کے بنیادی اور سب سے اہم دائرے یعنی اولاد اور والدین سے بحث کرتی ہے۔


"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ..."
"اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے: ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے..."

· "اولاد" کا لفظی دائرہ: غامدی صاحب کے نزدیک لفظ "اولاد" (Children) اپنے اندر حقیقت اور مجاز دونوں اعتبار سے نیچے تک کی نسل (پوتے، پوتیوں) کو شامل رکھتا ہے۔ اسی اصول کے تحت وہ یتیم پوتے کو چچا کی موجودگی میں محروم کرنے کے بجائے دادا کا براہِ راست وارث مانتے ہیں۔

 تناسب کا اصول (Principle of Proportion): قرآن نے یہاں لڑکے اور لڑکی کے حصے کی مستقل مقدار (مثلاً نصف یا تہائی) مقرر کرنے کے بجائے ان کے درمیان 2:1 کا تناسب بیان کیا ہے۔ یعنی حصہ جتنا بھی بنے گا، مرد کا عورت سے دوگنا ہوگا۔

"فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ..."
"پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں، دو سے زیادہ، تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے، اور اگر ایک ہی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے۔"

قرآن سے حقیقی استفادہ کا راستہ — چار بنیادی ستون

قرآنِ کریم محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ہدایت، تربیت اور انقلابِ انسانیت کا وہ جامع منشور ہے جس نے ایک بے سمت قوم کو دنیا کی رہنما قوم بنا دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آج ہم قرآن رکھتے ہوئے بھی اس کے حقیقی ثمرات سے کیوں محروم ہیں؟ اس کا جواب اسی سنتِ نبوی ﷺ میں پوشیدہ ہے جس کے ذریعے قرآن صحابہ کرامؓ تک منتقل ہوا۔ قرآن سے مکمل استفادہ کے لیے چار بنیادی کام ایسے ہیں جن کے بغیر یہ تعلق ادھورا بلکہ بے روح رہ جاتا ہے۔

پہلا ستون: کثرتِ تلاوت — قرآن سے دائمی ربط

قرآن کے ساتھ پہلا اور بنیادی تعلق تلاوت ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جس سے قرآن دل میں داخل ہوتا ہے۔ سورۃ المزمل میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا:

"وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا"
(قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو)

یہ حکم محض نبی ﷺ کے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے ایک اصول ہے۔ کثرتِ تلاوت انسان کے دل کو نرم کرتی ہے، اس کے شعور کو بیدار کرتی ہے اور اسے قرآن کے نور سے منور کرتی ہے۔ جس دل میں قرآن کی تلاوت جاری رہتی ہے، وہ دل مردہ نہیں ہوتا۔

قرآن کے موضوعاتی مطالعہ کی اہمیت

قرآنِ مجید محض متفرق احکام اور واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط، ہمہ جہت اور گہرے فکری نظام کا حامل کلامِ الٰہی ہے۔ اس کے مضامین مختلف مقامات پر مختلف سیاق و سباق میں بیان ہوئے ہیں، جنہیں یکجا کر کے سمجھنا “موضوعاتی قرآنی مطالعہ” کہلاتا ہے۔ یہ اندازِ مطالعہ قاری کو قرآن کے کسی ایک مرکزی تصور—جیسے “تزکیۂ نفس”—کو اس کی مکمل گہرائی اور وسعت کے ساتھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

تزکیہ کے موضوع کو اگر ہم قرآن کے مختلف مقامات سے جمع کریں تو ایک نہایت جامع اور مربوط تصویر سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر، بعثتِ نبویؐ کے مقصد میں بار بار یہ بات آئی کہ رسولؐ کا کام تلاوتِ آیات کے ساتھ ساتھ “تزکیہ” بھی ہے:
يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ
یہ بتاتا ہے کہ تزکیہ محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ نبوت کا بنیادی ہدف ہے۔

اسی طرح حضرت ابراہیمؑ کی دعا میں بھی یہی ترتیب ملتی ہے:
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ
گویا تعلیم اور تزکیہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں—علم بغیر تزکیہ کے ادھورا ہے۔

کیا مصنوعی ذہانت(AI) ) دین کی تعبیر کر سکتی ہے؟

ڈاکٹر ابوالبشر احمد طیب

دنیا ایک نئی فکری کروٹ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے علم، تحقیق، تدریس اور ابلاغ کے میدان میں حیرت انگیز سہولتیں پیدا کر دی ہیں۔ اب چند لمحوں میں وہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جن کے لیے پہلے گھنٹوں بلکہ دنوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔ لیکن جہاں یہ سہولت ایک نعمت ہے، وہیں دینِ اسلام—خصوصاً قرآنِ مجید—کے فہم و تعبیر کے میدان میں اس کا استعمال ایک نہایت حساس اور سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔

قرآن محض ایک کتاب نہیں، بلکہ وحیِ الٰہی ہے—اللہ کا کلام، جو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اس کی تعبیر و تشریح کوئی سادہ علمی عمل نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ فکری و روحانی کاوش ہے، جس کے لیے صدیوں سے مفسرین نے اصول وضع کیے، علومِ قرآن کی بنیاد رکھی، اور اپنی زندگیاں صرف کیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایک مشینی نظام، جسے انسانوں نے معلومات فراہم کی ہیں، اس مقدس متن کی صحیح تعبیر کر سکتا ہے؟

یہاں اصل نکتہ سمجھنے کا ہے: مصنوعی ذہانت خود کوئی “عالم” نہیں، بلکہ ایک “آلہ” ہے۔ یہ وہی کچھ بیان کرتی ہے جو اسے سکھایا گیا ہو۔ اس کے پاس نہ شعور ہے، نہ فہمِ وحی، نہ تقویٰ، اور نہ وہ ذمہ داری کا وہ احساس جو ایک عالمِ دین کے دل میں ہوتا ہے۔ وہ صرف الفاظ کو جوڑتی ہے، مفاہیم کو ترتیب دیتی ہے، اور دستیاب مواد کی بنیاد پر جواب دیتی ہے۔ مگر دین کا فہم صرف الفاظ کا کھیل نہیں؛ یہ سیاق و سباق، شانِ نزول، لغوی باریکیوں، اور پورے دینی نظام کے تناظر سے جڑا ہوا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

اگر مصنوعی ذہانت کسی آیت کی تعبیر میں معمولی سی لغزش کر جائے، یا مختلف آراء کو خلط ملط کر دے، یا کسی حساس مسئلے میں غیر محتاط زبان اختیار کرے—تو یہ محض ایک علمی غلطی نہیں ہوگی، بلکہ دین کی غلط نمائندگی کا سبب بن سکتی ہے۔ اور اگر نادانستہ طور پر اس سے کوئی غلط مفہوم عام ہو جائے، تو اس کے اثرات فکری و اعتقادی سطح پر نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔

قرآن کا معروضی اور موضوعاتی مطالعہ : اہمیت و ضرورت

یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے پاس قرآنِ مجید کی تفاسیر کا ایک بے پناہ ذخیرہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود قرآن کا براہِ راست پیغام ہم سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے اتنے وسیلے کھڑے کر دیے ہیں کہ اصل متن ان کے پیچھے کہیں دب سا گیا ہے۔ تفاسیر یقیناً ایک عظیم علمی سرمایہ ہیں، ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے ذریعے قرآن تک پہنچ رہے ہیں یا انہی میں الجھ کر رہ گئے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ آج کے قاری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ اس کے پاس معلومات کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کی کثرت نے اس کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے۔ جب وہ تفاسیر کے طویل مباحث، فقہی اختلافات، اور تاریخی جزئیات میں داخل ہوتا ہے تو اکثر اصل سوال—“قرآن مجھ سے کیا کہہ رہا ہے؟”—پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے معروضی اور موضوعاتی مطالعہ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

معروضی مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم قرآن کو اپنے پہلے سے قائم تصورات کے تابع نہ کریں، بلکہ خود کو قرآن کے سامنے پیش کریں۔ ہم اپنی رائے کو اس پر مسلط نہ کریں بلکہ اس کے پیغام کو اس کے اپنے سیاق و سباق میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور موضوعاتی مطالعہ ہمیں یہ راستہ دیتا ہے کہ ہم قرآن کے بکھرے ہوئے اشارات کو یکجا کر کے ایک مربوط تصور حاصل کریں—چاہے وہ انسانی نفسیات ہو، معاشرتی اصول ہوں یا سننِ الٰہی۔

قرآن کا اسلوب اشاراتی ہے۔ وہ ایک ہی واقعہ کو مختلف مقامات پر مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے۔ اگر ہم اسے روایتی خطی (linear) انداز میں پڑھنے کی کوشش کریں گے تو یا تو ہمیں تشنگی محسوس ہوگی یا ہم تفصیلات کے لیے دوسری کتابوں پر انحصار بڑھاتے جائیں گے۔ لیکن اگر ہم موضوعاتی انداز اختیار کریں—یعنی ایک موضوع سے متعلق تمام آیات کو جمع کریں—تو اچانک قرآن ہمارے سامنے ایک نئے انداز میں کھلنے لگتا ہے۔

ایمانیات و عقائد: قرآنی نقطہ نظر سے ایک جائزہ

قرآن کریم کی دعوت کا نقطہ آغاز اور تمام انسانی اعمال کی قبولیت کی بنیاد "ایمان" ہے۔ قرآن مجید محض نظریاتی عقائد پیش نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کے قلب، عقل اور مشاہدے کو اپیل کرتا ہے تاکہ ایک مستحکم نظامِ فکر استوار ہو سکے۔ قرآنی ایمانیات کا مقصد صرف ذہنی تسکین نہیں بلکہ ایک ایسی "شخصیت سازی" ہے جو اللہ سے جڑی ہو، انسانیت کے لیے خیر خواہ ہو اور اپنی ہر حرکت پر اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس رکھتی ہو۔ ایمان وہ بیج ہے جس سے عملِ صالح کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔

۱۔ توحید: کائنات کا مرکزی سچ


قرآن کریم کا سب سے بنیادی پیغام "توحید" ہے۔ یہ صرف ایک خدا کو ماننے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور حقوقِ بندگی میں وحدہٗ لا شریک تسلیم کرنے کا نام ہے۔ قرآن کائنات کے ذرے ذرے، نظامِ شمسی کی ترتیب اور انسانی تخلیق کے عجائبات کو اللہ کی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ توحید کا مقصد انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر صرف ایک خالق کے سامنے سرنگوں کرنا ہے، جو اسے حقیقی آزادی اور وقار عطا کرتا ہے۔

۲۔ رسالت: ہدایت کا ذریعہ


انسانی عقل محدود ہے، اسے خالق کی مرضی جاننے کے لیے وحی اور پیغمبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن رسالت کو اللہ کا عظیم احسان قرار دیتا ہے۔ یہ عقیدہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان زمین پر بے یار و مددگار نہیں چھوڑا گیا، بلکہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ایک ہی زنجیر کے ذریعے ہدایت پہنچائی گئی۔ رسالت پر ایمان لانے کا مطلب اس نمونہ عمل (اسوہ حسنہ) کی پیروی ہے جو انبیاء نے اپنی زندگیوں سے پیش کیا۔

۳۔ آخرت: مسئولیت اور عدل کا تصور


قرآن میں عقیدہ آخرت محض ایک ڈراوا نہیں، بلکہ کائنات کے نظامِ عدل کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر موت کے بعد کوئی حساب کتاب نہ ہو تو ظالم اور مظلوم، نیک اور بد برابر ہو جائیں گے، جو اللہ کی صفتِ عدل کے خلاف ہے۔ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اصل زندگی (الحیوان) آخرت کی ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر جوابدہی کا احساس پیدا کر کے اسے ایک ذمہ دار شہری اور باکردار انسان بناتا ہے۔

۴۔ ملائکہ اور کتب: غیبی حقائق سے جڑنا


فرشتوں پر ایمان لانا اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات میں مادی قوتوں کے علاوہ کچھ نورانی قوتیں بھی ہیں جو اللہ کے حکم سے کائناتی امور انجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح سابقہ کتب پر ایمان لانا ادیانِ عالم کی اصل کے ایک ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے اور قرآن کو ان تمام کتب کے تسلسل اور محافظ (مہیّمن) کے طور پر پیش کرتا ہے۔

۵۔ قدر (تقدیر): اللہ کے علمِ محیط پر یقین


تقدیر پر ایمان لانا انسان کو مایوسی اور تکبر سے بچاتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ کوشش کرنا اس کا کام ہے، مگر نتیجہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ عقیدہ انسان کے اندر صبرو رضا اور توکل کی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔

علمِ قراءات کی تدریجی تاریخ — سبعہ، عشرہ اور اَربعَ عشر

قرآنِ کریم کی حفاظت کا ایک عظیم مظہر علمِ قراءات ہے۔ بظاہر جب ہم “قراءتِ سبعہ”، “قراءتِ عشرہ” یا “قراءتِ اَربعَ عشر” کی اصطلاحات سنتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تین مختلف ادوار یا تین الگ الگ قرآن ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ سب دراصل ایک ہی متنِ وحی کے مختلف مستند اسالیبِ تلاوت کی تدوینی تاریخ ہے۔

ابتدائی دور میں قرآن مختلف قبائل کے لہجوں کے مطابق پڑھا جاتا تھا۔ “سبعہ احرف” کی حدیث، جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں منقول ہے، اسی سہولت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے یہ مختلف اسالیب براہِ راست نبی کریم ﷺ سے سیکھے اور آگے منتقل کیے۔ اس مرحلے پر قراءتیں باقاعدہ “اعداد” (7، 10 وغیرہ) میں محدود نہیں تھیں، بلکہ عملی طور پر جاری تھیں۔

چوتھی صدی ہجری میں جب فتنوں کا زمانہ آیا اور علمی تدوین کی ضرورت محسوس ہوئی تو عظیم عالم امام ابن مجاہد (م 332ھ) نے مختلف شہروں کے مستند قراء میں سے سات کو منتخب کر کے “القراءات السبع” کو منظم صورت دی۔ یاد رہے کہ ابن مجاہد نے سات ہی کو “واجب الاتباع” قرار نہیں دیا تھا، بلکہ انہوں نے اُس وقت کے معروف اور مضبوط طرق کو جمع کیا۔ ان کے اس انتخاب نے “قراءتِ سبعہ” کو علمی شہرت عطا کی۔

بعد میں تحقیق کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ دیگر ائمہ کی قراءتیں بھی مضبوط اسناد کے ساتھ ثابت ہوئیں، چنانچہ تین مزید قراءتیں شامل کی گئیں اور یوں “قراءتِ عشرہ” مکمل ہوئی۔ آٹھویں صدی ہجری میں امامِ قراء  ابن جزری (م 833ھ) نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ دس قراءتیں متواتر اور قطعی الثبوت ہیں۔ یوں علمی اتفاق عشرہ پر مستحکم ہو گیا۔

کیا فہم، ترجمہ اور تفسیر قرآن میں مداخلت ہے؟ ایک فتنہ انگیز مغالطے کا علمی رد

قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، جس میں کسی تحریف یا تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ اس بات پر ایمان ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ تاہم بعض افراد یہ فتنہ انگیز دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کی تفسیر، ترجمہ یا فہم پیش کرنا "قرآن میں مداخلت" ہے، اور اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔ اس دعوے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ خود قرآن کو "مہجور" کرنے کے مترادف ہے، نہ کہ اس کا دفاع۔

فہمِ قرآن کا انکار، قرآن کے مقصد کا انکار ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ذکر، ہدایت، نور، فرقان اور "بیان للناس" کے طور پر نازل فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ" (ص: 29)

اگر قرآن صرف تلاوت کے لیے ہوتا، اور اس کا مفہوم سمجھنا "مداخلت" ہوتا، تو یہ آیت تدبر کی دعوت کیوں دیتی؟ کیا اللہ نے اپنی کتاب کو فقط غیرسمجھ دار مخلوق کے لیے نازل فرمایا؟ ہرگز نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فریضہ صرف تلاوت نہ تھا، بلکہ "تبیین" بھی تھا

قرآن فرماتا ہے:

"وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ" (النحل: 44)

یہ آیت واضح طور پر رسول ﷺ کے فہم، بیان، اور تفسیر کو اللہ کا مأمور عمل قرار دیتی ہے۔ اور یہ عمل رسول کے بعد صحابہ، تابعین اور امت کے علماء کے ذریعے جاری رہا، جنہوں نے اصولوں کے ساتھ تفسیر کا علم مدون کیا۔

قرآن کی تفسیر کے جامع اصول

قرآنِ مجید، ہدایت، نور، فرقان اور شفا کی کتاب ہے۔ اس کا ہر لفظ حکمت سے لبریز اور ہر آیت روشنی کا منبع ہے۔ مگر اس نورانی کلام کو سمجھنے اور اس کی تفسیر کرنے کے لیے نہایت ذمہ داری، دیانت، علم، اور روحانی شعور کی ضرورت ہے۔ چودہ صدیوں سے مفسرینِ کرام نے قرآن کی تفہیم کے لیے اصول و ضوابط مقرر کیے ہیں تاکہ کوئی شخص ذاتی خواہشات، باطل نظریات، یا بے بنیاد تاویلات کے ساتھ قرآن کی تفسیر نہ کرے۔

اس مضمون میں ہم ان اصولوں کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کرتے ہیں جو قرآن کی تفسیر کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں:

1. تفسیر القرآن بالقرآن

قرآن خود اپنی بہترین تفسیر کرتا ہے۔ بعض آیات کا مفہوم دیگر آیات سے واضح ہوتا ہے۔ قرآن ایک مربوط اور مکمل کتاب ہے، جس کی کئی آیات ایک دوسرے کی وضاحت کرتی ہیں۔

مثال:
"صراطَ الّذین أنعمتَ علیہم" (الفاتحہ:7)
کی تفسیر خود قرآن میں موجود ہے:
"من یطع اللّٰہ والرّسول فاولٰئک مع الّذین أنعم اللّٰہ علیہم من النّبیین…" (النساء:69)

2. تفسیر القرآن بالسنۃ النبویہ

رسول اللہ ﷺ قرآن کے پہلے معلم، مبین اور عملی نمونہ تھے۔ آپ کی احادیث، اقوال، اعمال، اور تقریری سنت قرآن کی تشریح میں رہنما حیثیت رکھتی ہے۔ اگر قرآن کا کوئی مفہوم سنت سے واضح ہو جائے تو کسی اور تاویل کی گنجائش نہیں رہتی۔

3. اقوالِ صحابہؓ کی روشنی میں تفسیر

صحابہ کرامؓ نے براہِ راست قرآن نبی ﷺ سے سیکھا، وہ نزولِ قرآن کے وقت کے حالات و سیاق کو جانتے تھے، اور ان کی فہم و تفسیر حجت کی حیثیت رکھتی ہے، خصوصاً ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ، علیؓ، اور زیدؓ بن ثابت جیسے اکابر صحابہؓ۔

قرآن کے اسلوب کا ادبی تجزیہ

تمہید: قرآن مجید، صرف ایک مذہبی صحیفہ نہیں بلکہ ایک عظیم ادبی شہ پارہ بھی ہے۔ یہ کلامِ الٰہی، انسانی فکر، جذبات، اور شعور پر اس درجہ اثر انداز ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی اور کلام اس کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ اس کے الفاظ میں ایسی فصاحت، ایسی بلاغت، اور ایسا روحانی اثر ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے، عقل کو بیدار کرتا ہے اور روح کو سرشار کرتا ہے۔ 

قرآن کا اسلوب اس قدر منفرد اور دلنشین ہے کہ عرب کے بڑے بڑے فصحاء اور بلغاء بھی اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہے۔ یہ وہ کلام ہے جس کے متعلق اللہ نے خود فرمایا:  "لَّوْ أَنزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ" (الحشر: 21) یعنی اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ کیا انسانی کلام کبھی ایسا اثر پیدا کر سکتا ہے؟ 

قرآن کا اسلوب وہ آسمانی رنگ ہے جو انسانی زبان کے دامن میں سما نہیں سکتا۔ اس کے الفاظ گویا نور کے قطرے ہیں، جو دل کی زمین پر اترتے ہیں اور ایمان کی کونپلیں اگاتے ہیں۔  جو صرف وحی کے دامن میں جلوہ گر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ" (الزمر: 23) یہی وہ کلام ہے جو قاری کے وجود پر لرزہ طاری کر دیتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل جھک جاتے ہیں، اور روح ایک نورانی دنیا میں داخل ہو جاتی ہے۔

سورۃ الرحمٰن کا ادبی تجزیہ

تمہید: قرآن مجید کی ہر سورۃ اپنے اندر ایک الگ ادبی، روحانی اور فکری کائنات سموئے ہوئے ہے، مگر سورۃ الرحمٰن ان میں ایک نمایاں ادبی مقام رکھتی ہے۔ اس سورۃ کا اسلوب ایسا دلنشین اور پر اثر ہے کہ دلوں میں لرزہ طاری کر دیتا ہے اور روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ سورۃ جہاں رحمتِ الٰہی کا اعلان ہے، وہیں انسان و جنّ کے لیے ایک وجدانی دعوت بھی ہے کہ وہ اپنے خالق کے احسانات کا شعور حاصل کریں۔

1۔ صوتی آہنگ اور تکرار کا جمال: سورۃ الرحمٰن کی سب سے نمایاں ادبی خصوصیت "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" کی تکرار ہے، جو 31 بار آتی ہے۔ یہ تکرار صرف اعادہ نہیں بلکہ ہر نعمت کے بعد ایک فکری، جذباتی اور روحانی جھٹکا دیتی ہے: "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" ہر بار قاری کو احساس دلاتی ہے کہ نعمت کا انکار ممکن ہی نہیں۔ یہ سوالیہ اسلوب درحقیقت اثبات کی شدت ہے۔

2۔ تقابل کا اسلوب: سورۃ الرحمٰن میں بار بار جنّ و انس دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ اسلوب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کلامِ الٰہی کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ جنّات بھی اس کے مخاطب ہیں: "سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ" یہاں تقابل اور دوہرا خطاب قاری کے ذہن پر ایک بوجھ اور عظمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول (قاعدہ ۔ ۱۲ )

قاعدہ ۱۲: وہ قرآنی آیات جنہیں کم فہم لوگ متضاد سمجھتے ہیں

ہر قسم کی ایسی آیات کو سیاق و سباق کے مطابق اس کے مناسب معنی میں لیا جانا چاہیے۔

یہ اصول قرآن میں کئی مقامات پر لاگو ہوتا ہے، مثلاً:

  1. کفار کا قیامت کے دن بولنا یا خاموش رہنا:
    بعض آیات میں ذکر ہے کہ کفار قیامت کے دن کچھ نہیں بولیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    📖 "هَٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ * وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ"
    (یہ وہ دن ہوگا جس میں وہ نہ بول سکیں گے، اور نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر پیش کریں)۔ (المرسلات: 35-36)    جبکہ بعض دیگر آیات میں آیا ہے کہ وہ بحث کریں گے، عذر پیش کریں گے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے پہل گفتگو کریں گے، اپنی براءت پیش کریں گے اور شاید جھوٹ بول کر قسمیں بھی کھائیں گے، لیکن جب ان کے منہ بند کر دیے جائیں گے اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، تب وہ خاموش ہو جائیں گے، کیونکہ انہیں سمجھ آ جائے گا کہ جھوٹ کا اب کوئی فائدہ نہیں۔
  2. اللہ تعالیٰ کا کفار سے کلام کرنا یا نہ کرنا:
    بعض آیات میں آیا ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا اور ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں، "إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَشْتَرُونَ بِهِۦ ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا أُو۟لَٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِى بُطُونِهِمْ إِلَّا ٱلنَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ"
    (جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے)۔ (البقرہ: 174)   جبکہ دیگر آیات میں ذکر ہے کہ اللہ ان سے کلام کرے گا۔ "قَالَ ٱخْسَـُٔوا۟ فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ" (اللہ کہے گا: دفع ہو جاؤ اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو!)۔ (المؤمنون: 108)  درحقیقت، جہاں کلام کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد وہ کلام ہے جو رحمت اور عزت پر مبنی ہو، جبکہ جہاں اللہ کا کلام ثابت کیا گیا ہے، وہ تذلیل، عتاب اور سرزنش کے طور پر ہوگا۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول (قاعدہ ۔ ۱۱ )

 قاعدہ ۱۱: دلالتِ تضمن، مطابقت اور التزام کا خیال رکھنا

جیسے مفسر قرآن کو قرآن کے الفاظ کی دلالت کا خیال رکھنا چاہیے، جو ان کے مطابق ہوں، اسی طرح اس پر لازم ہے کہ وہ ان معنوں کے لوازم کا بھی خیال رکھے، جو ان الفاظ کے ضمن میں آتے ہیں، اور وہ معانی جو لفظ میں ذکر نہیں کیے گئے، لیکن ان سے لازم آتے ہیں۔

یہ قاعدہ تفسیر کے اصولوں میں سب سے اہم اور مفید ہے، اور اس کے لیے گہری سوچ، صحیح تدبر، اور نیک نیتی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ جو ہدایت اور رحمت دینے والا ہے وہ سب کچھ جاننے والا ہے، جس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، جو دلوں میں چھپتا ہے اور قرآن میں جو معانی ہیں اور ان کے متعلقات ہیں۔

اسی لیے تمام علماء نے اللہ کے کلام میں لوازم سے استدلال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس اہم اصول کو اپنانے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس لفظ سے جو معانی اخذ کر سکتے ہیں انہیں اچھی طرح سمجھیں، پھر ان چیزوں پر غور کریں جو ان معانی پر منحصر ہیں اور ان کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں، اور جو ان پر موقوف ہیں۔ اس کے بعد آپ ان معانی سے جو نتائج نکلتے ہیں ان پر بھی غور کریں، اور اس سوچ کو بار بار دہرائیں، یہاں تک کہ آپ میں ان گہرے معانی کو سمجھنے کی مہارت پیدا ہو جائے۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول (قاعدہ ۔ ۱۰ )

 قاعدہ ۱۰: قرآن کا کافروں کو مختلف مذاہب کے مطابق دعوت دینے کے طریقے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں کافروں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں، ان کے دین و شریعت کی خوبیوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل کا ذکر کرتے ہیں، تاکہ جو شخص حق و انصاف کی جستجو میں ہو، وہ ہدایت پائے اور مخالفین پر حجت قائم ہو۔

یہی سب سے عظیم طریقہ ہے جس سے تمام مخالفین کو اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔

کیونکہ دین اسلام کی خوبیاں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آیات و دلائل میں اتنی مکمل دعوت ہے کہ ان کا ذکر کرنے سے مخالفین کے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور جب حق واضح ہو جائے تو ہر وہ چیز جو اس سے متصادم ہو، وہ باطل اور گمراہی ثابت ہو جاتی ہے۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول (قاعدہ ۔ ۹ )

 قاعدہ ۹ : قرآن مجید میں مؤمنین کو احکامِ شرعیہ کا حکم دینے اور ان سے خطاب کرنے کا طریقہ

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے راستے کی طرف بہترین طریقے سے دعوت دینے کا حکم دیا ہے، یعنی ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو مقصد تک پہنچنے کا سب سے قریب ترین اور مطلوبہ طریقہ ہو۔ اور کوئی شک نہیں کہ وہ طریقے جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کو شرعی احکام کے بارے میں خطاب کرنے میں اختیار کیے، وہ سب سے بہتر اور سب سے قریب ہیں۔

اللہ تعالیٰ زیادہ تر مومنوں کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں، اس وصف کے ذریعے جس کا اللہ نے ان پر احسان کیا ہے، یعنی ایمان۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا} "اے ایمان والو! تم ایسا کرو، ایسا چھوڑ دو"۔ اس میں دو پہلو ہیں:

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول (قاعدہ ۔ ۸ )

 قاعدہ ۸ : قرآن کی معاد کے بارے میں تعلیمات

یہ تیسرا اصول ہے جس پر تمام پیغمبروں اور شریعتوں کا اتفاق ہے، اور وہ ہے: توحید، رسالت، اور معاد کا حکم اور بندوں کا حشر۔

اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر اپنے قرآن کریم میں بار بار کیا ہے، اور اس کو مختلف طریقوں سے ثابت کیا ہے:

ان میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معاد اور جزا کے بارے میں سچائی بیان کی ہے، جو سب سے سچّا بیان کرنے والا ہے۔ اللہ نے اس کا کثرت سے ذکر کیا اور اس پر قسم کھائی ہے، جیسے کہ اس نے تین مقامات پر اپنی قسم ذکر کی ہے، جیسے کہ فرمایا:
{لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} [القیامة: ١]۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کامل قدرت اور مشیت کی نفوذ کا ذکر کیا، اور بتایا کہ اس کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے، اور بندوں کا موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا اس کی قدرت کی ایک علامت ہے۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول (قاعدہ ۔ ۷ )

قاعدہ ۷۔ : قرآن مجید میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی توثیق کا طریقہ"۔

 یہ اہم اصول اللہ تعالیٰ نے اپنے کتاب میں مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے، جن کے ذریعے اللہ نے محمد ﷺ کی صداقت کو ثابت کیا۔ اللہ نے بتایا کہ وہ تمام پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں اور جس دعوت کی طرف وہ لوگوں کو بلاتے ہیں، وہی دعوت محمد ﷺ نے دی۔ وہ تمام اچھائیاں جو پیغمبروں میں تھیں، وہ محمد ﷺ میں بھی ہیں اور جو خامیاں اور عیوب ان سے دور کیے گئے، وہ سب سے زیادہ محمد ﷺ پر لاگو ہوتے ہیں۔ محمد ﷺ کو تمام پیغمبروں سے بڑھ کر اس تنزیہ کا حق ہے، اور ان کی شریعت تمام شریعتوں پر حاکم ہے، اور ان کا کتاب تمام کتابوں پر حاکم ہے۔

تمام دینوں اور کتابوں کی تمام خوبیاں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب اور دین میں جمع کر دی ہیں، اور اس سے بڑھ کر ایسی خوبیاں اور خصوصیات بھی دی ہیں جو کسی اور دین یا کتاب میں نہیں ہیں۔ اللہ نے محمد ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا کہ وہ امی ہیں، نہ لکھنا جانتے ہیں نہ پڑھنا، اور نہ ہی انہوں نے کسی عالم سے پہلے کتابوں کا علم حاصل کیا تھا، بلکہ جب وہ لوگوں کے پاس آئے تو ساتھ لائے ایک ایسا کتاب جس کا مثل نہ جنوں اور نہ انسانوں میں سے کوئی بھی لا سکتا تھا، اور یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا، اور اس کا تصور بھی کرنا ناممکن تھا کہ یہ کتاب ان کے اپنے تخیل سے ہو۔

قرآن کی تفسیر کے لیے عمدہ اصول ( قاعدہ ۔۶)

 قاعدہ ۶: قرآن مجید میں توحید کے بیان اور اس کے مخالف کو رد کرنے کا طریقہ

پورا قرآن توحید کو ثابت کرنے اور اس کے مخالف کو رد کرنے کے لیے ہے۔ زیادہ تر آیات میں اللہ تعالیٰ توحیدِ الٰہیہ کو ثابت کرتا ہے، یعنی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خالص کرنا، اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام رسولوں کو بھیجنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ اپنی قوموں کو اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ تمام کتابیں، تمام رسول اور حتیٰ کہ فطرت اور درست عقلیں بھی اس اصل پر متفق ہیں، جو کہ تمام اصولوں کا اصل ہے۔ اور جو شخص اس دین کو نہیں اپناتا، یعنی عبادت اور عمل کو صرف اللہ کے لیے خالص نہیں کرتا، اس کا عمل باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ} [الزمر: ٦٥] اور {وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [الأنعام: ٨٨]۔

اللہ تعالیٰ بندوں کو اس بات کی طرف بھی دعوت دیتا ہے جو ان کی فطرت اور عقلوں میں موجود ہے، یعنی اللہ ہی ہے جو تخلیق اور تدبیر میں یکتا ہے، اور وہی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا مالک ہے، اور اسی کی عبادت کا حق ہے۔ کسی دوسری ہستی کو عبادت میں شریک کرنا جائز نہیں، اور باقی مخلوق کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں کہ وہ خود کو پیدا کر سکے یا اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کو دور کر سکے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کر سکیں۔