قرآنِ حکیم کائنات کی واحد ایسی کتاب ہے جو بائیس سال سے زائد عرصے میں تھوڑی تھوڑی نازل ہوئی، مگر جب اسے کتابی شکل دی گئی تو اس کا ہر لفظ، ہر آیت اور ہر سورت ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ گئی جیسے موتی ایک لڑی میں پروئے ہوتے ہیں۔ نظمِ قرآن سے مراد قرآن مجید کا یہی باہمی ربط اور حیرت انگیز تنظیمی حسن ہے۔ بظاہر اس میں احکامات، عقائد، قصص، اور انذار کے مختلف مضامین بکھرے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں قرآن مجید ایک ایسا عظیم الشان ہیرا ہے جس کو آپ جس زاویے سے بھی دیکھیں، اس کی چمک، آب و تاب اور جوہر برابر قائم رہتا ہے۔ اس کا کوئی بھی حصہ اپنے ماقبل یا مابعد سے الگ یا اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔
- عقائد کا محور: "الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین" میں توحیدِ ربوبیت، صفاتِ باری تعالیٰ اور عقیدہ آخرت و جزا کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔
- شریعت اور بندگی: "ایاک نعبد وایاک نستعین" کے ذریعے بندے اور رب کا تعلق واضح کر کے پوری شریعت کی اساس قائم کر دی گئی ہے۔
- صراطِ مستقیم کا خاکہ: "اہدنا الصراط المستقیم" انسان کی سب سے بڑی ضرورت یعنی ہدایت کی دعا ہے۔
- تاریخ کے گمراہ فرقے: "صراط الذین انعمت علیہم" کے ذریعے سچے پیروکاروں کا مژدہ سنایا گیا، جبکہ "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" کہہ کر ان گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا جو حق کو جاننے کے باوجود بھٹک گئے (جیسے یہود و نصاریٰ)۔
- سورہ البقرہ (صراطِ مستقیم کی تشریح اور یہود کا فتنہ): یہ سورت "ذلک الکتاب لا ریب فیہ ہدی للمتقین" سے شروع ہو کر بتاتی ہے کہ جس صراطِ مستقیم کی دعا تم نے مانگی تھی، وہ یہ کتاب ہے۔ اس سورت کا بڑا حصہ سورہ فاتحہ کے لفظ "المغضوب علیہم" (یہود) کا احاطہ کرتا ہے۔ ان کی تاریخ بیان کر کے بتایا گیا کہ کیوں انہوں نے صراطِ مستقیم کو چھوڑا اور کیوں امامت کا منصب ان سے چھین کر امتِ مسلمہ کو دیا گیا۔ اسی سورت میں عبادات (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور خاندانی و سماجی قوانین کے ذریعے شریعت کی عمارت کھڑی کی گئی۔
- سورہ آلِ عمران (نصاریٰ کا فتنہ اور داخلی استحکام): یہ سورت سورہ فاتحہ کے لفظ "الضالین" (بھٹکے ہوئے لوگ یعنی نصاریٰ) پر تفصیلی بحث کرتی ہے۔ عقیدہ عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت واضح کر کے توحید کو مبرہن کرتی ہے اور امت کو بیرونی فتنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا درس دیتی ہے۔
- سورہ النساء اور سورہ المائدہ (تمدن اور قانون کی تکمیل): ان سورتوں میں معاشرتی عدل، یتیموں، عورتوں کے حقوق، وراثت کے قوانین، اور حلال و حرام کی تفاصیل دی گئی ہیں۔ یہ گویا اس نئی امتِ مسلمہ کے لیے صراطِ مستقیم کے وہ سنگِ میل ہیں جن پر چل کر ایک عادلانہ نظام قائم ہوتا ہے۔
- سورہ الانعام اور سورہ الاعراف (عقیدہ اور تاریخی گواہی): یہ دونوں سورتیں جڑواں ہیں اور ان کا مرکزی موضوع "توحید" اور شرک کا رد ہے۔ سورہ الاعراف میں تاریخ کے آئینے میں نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب اور موسیٰ علیہم السلام کے قصص کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا کہ صراطِ مستقیم پر چلنے والی قومیں ہمیشہ بچائی گئیں اور متبادل راستے اختیار کرنے والے عبرت کا نشان بنے۔
- سورہ الانفال اور سورہ التوبہ (کفر و ایمان کا اتمامِ حجت): یہ سورتیں مدنی دور کے اس مرحلے کو ظاہر کرتی ہیں جہاں حق اور باطل کا معرکہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ صراطِ مستقیم کے دشمنوں سے حتمی براءت کا اعلان کیا جاتا ہے اور ابراہیمی مرکز (کعبہ) کو ہمیشہ کے لیے شرک کے میل سے پاک کر دیا جاتا ہے۔
- سورہ یونس، ہود، اور یوسف (صبر اور حسنِ تدبیر): یہ سورتیں ایک تسلسل کے ساتھ بتاتی ہیں کہ اللہ کی تدبیر کس طرح خاموشی سے کام کرتی ہے۔ خاص طور پر سورہ یوسف میں ایک فرد (یوسف علیہ السلام) کے کنویں سے نکل کر مصر کے تختِ اقتدار تک پہنچنے کے واقعے سے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ صراطِ مستقیم کے مسافر مکہ کی تنگی سے نکل کر بالآخر سرخرو ہوں گے۔
- سورہ الاسراء (بنی اسرائیل) سے الحج تک: ان سورتوں میں ہجرت کے اشارے، کائنات میں اللہ کی نشانیاں، اور آزمائشوں کے وقت روح کو مضبوط رکھنے کے لیے نماز اور حج جیسے احکامات کا باہمی تانا بانا بنا گیا ہے۔
- سورہ النور اور سورہ الفرقان: یہ سورتیں معاشرے کو پاکیزہ اور عفیف رکھنے کے اخلاقی قوانین فراہم کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ حق اور باطل کے درمیان فرق (الفرقان) کرنے والے اعلیٰ اوصاف کیا ہیں۔
- سورہ شعراء، النمل، اور القصص: یہ سورتیں دوبارہ وحی اور رسالت کی سچائی پر تاریخی اور کائناتی گواہیاں پیش کرتی ہیں۔
- سورہ یٰسین (قلبِ قرآن): یہ سورت اپنے اندر رسالت، آخرت اور کائناتی نظام کے وہ تمام دلائل سمیٹے ہوئے ہے جو سورہ فاتحہ کے "رب العلمین" اور "ملک یوم الدین" کی تفصیلی اور دل نشین شرح ہیں۔
- حوامیم اور مسبحات (ص، زمر، مومن، حم السجدہ وغیرہ): ان سورتوں کا آغاز اللہ کی حمد و ثناء، تسبیح اور وحی کی عظمت سے ہوتا ہے۔ یہ دلوں کو پگھلانے اور آخرت کے دن ("یوم الدین") کی ہولناکیوں کو سامنے لا کر انسان کو صراطِ مستقیم کی طرف موڑتی ہیں۔
- سورہ الفتح اور سورہ الحجرات: یہاں تک پہنچتے پہنچتے حق کی حتمی فتح (فتحِ مبین) کا اعلان ہوتا ہے، اور فوراً بعد سورہ الحجرات میں اس فتح کے نتیجے میں بننے والی عالمی اسلامی برادری کو اٹھنے بیٹھنے، بات کرنے اور باہمی معاملات کے اعلیٰ ترین آداب سکھائے جاتے ہیں۔
- سورہ الرحمن، الواقعہ، اور الملک: ان میں کائنات کی تخلیق، اللہ کی بے شمار نعمتوں کا اعتراف اور قیامت کا ہولناک نقشہ کھینچ کر انسان کو آخری بار بیدار کیا گیا ہے۔
- آخری قصار السور (چھوٹی سورتیں): ان میں توحید کا خالص ترین خلاصہ (سورہ اخلاص) بیان کیا گیا، اور صراطِ مستقیم کے راستے میں رکاوٹ بننے والے ابدی دشمنوں (جیسے ابولہب اور قریش کے سرکش سرداروں) کے برے انجام کی مہر لگا دی گئی۔
- سورہ فاتحہ (آغاز): بندے نے اپنے سفر کا آغاز ایک التجا سے کیا تھا کہ: "اے اللہ! مجھے صراطِ مستقیم پر چلا، اور مجھے ان لوگوں کے شر سے بچا جو مغضوب اور ضالین ہیں (یعنی جو مجھے اس سیدھے راستے سے بھٹکانا چاہتے ہیں)"۔
- سورہ الناس (اختتام): جب بندہ پورا قرآن پڑھ کر آخری سورت پر پہنچتا ہے، تو وہ اسی صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کے لیے عملی پناہ مانگتا ہے: "میں انسانوں اور جنوں کے وسوسے ڈالنے والے (خناس) کے شر سے، جو مجھے صراطِ مستقیم سے دور کرنا چاہتا ہے، رب الناس، ملک الناس اور الٰہ الناس کی پناہ میں آتا ہوں"۔