ترجمہ:
اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔تو کیا بستیوں والے نچنت ( بے خوف) رہ سکے اس بات سے کہ آ دھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔ اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ ان پر آ دھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں۔ تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں۔کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں۔ یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔ ( سورۃ الاعراف : 94-102)
---------


