عقائد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
عقائد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

انبياء کی بعثت میں اللہ تعالی کی سنت - امین احسن اصلاحی

ارشاد باری تعالی ہے :  وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ (94)  ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (95) وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (96) أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97)  أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّـهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (99)  أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (100)   تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ (101)  وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ۖ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ (102)
( سورۃ الاعراف : 94-102

ترجمہ:  

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔تو کیا بستیوں والے نچنت ( بے خوف) رہ سکے اس بات سے کہ آ دھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔ اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ ان پر آ دھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں۔ تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں۔کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں۔ یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔ ( سورۃ الاعراف : 94-102) 

---------

کائنات میں انسان کا مقام - ابوالبشر احمد طیب

کائنات میں انسان کا مقام 
انسان کے لیے یہ سوالات ہمیشہ انتہائی اہم رہے ہیں کہ اس وسیع کائنات میں اس کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اور اس کے لیے دنیا میں زندگی گزار نے کا صحیح رویہ کیا ہے ۔ اس پر ہر زمانہ میں دانشوروں اور فلسفیوں نے مختلف جوابات دیے ہیں ۔ اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے بھی رہنمائی ملتی ہے ۔ 

جہاں تک فلسفیوں کا تعلق ہے تو سقراط سے پہلے دو مکتب فکر نمایا ں ہیں ۔ ان میں ایک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کائنات میں انسان دیگر حیوانات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ، جو انجام ان حیوانات کا ہے وہی انجام اس کا بھی ہے ۔ 

دوسرا مکتبہ فکر سو فسطائیوں کا ہے جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کائنات کا محور اور مرکز ہے یہی اس کائنات میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے اندر جو صلاحیتیں اور قوتیں پوشیدہ ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے اس کوبڑا مقام اور مرتبہ دیا ہے ۔ وہ انسان میں ایک عقل یزدانی (Divine Reason) کے وجود کے قائل ہیں ۔ جہاں تک سقراط کا تعلق ہے تو تمام فلسفیوں میں اس کا مقام اونچا ہے اس کا مشہور کلمہ کہ " اے انسان تو اپنے آپ کو پہنچان " ایتھنز کے معبد ڈلفی پر منقش ہے ۔ سقراط نے سب سے پہلے توجہ دلائی کہ دیگر مخلوقات سے اہم خود انسان ہے وہ خود اپنے کو پہنچانے کہ وہ کیا ہے اور قدرت نے اس کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ سقراط کے ہاں انسان کو ہی اصل اہمیت حاصل ہے ، دوسری چیزوں کی حیثیت اس کے ہاں ثانوی تھی ۔ اس کے شاگر افلاطوں نے اسی فکر کو آگے بڑھایا ۔ اس کو زندگی کے مختلف شعبوں : اخلاقیات ، سیاسیات ، نفسیات اور اجتماعیات وغیرہ میں اطلاق کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے نزدیک انسان حیوان نہیں اگرچہ اس کی پیدائش حیوان کے طریقہ پر ہوئی ہے ۔ انسان کے اندر ایک روح بھی ہے جو ملکوتی عقل کا حصہ ہے ۔ جس کے ذریعے انسان اس کائنات کے ابدی کلیات کو معلوم کر سکتا ہے ۔ انسان کا ایک جسم بھی ہے وہ اس ملکوتی عقل پر کمنڈ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس پر قابو پائے اور اس کمنڈ کو توڑ کر مادی جسم سے بلند ہوکر غور و فکر کرے ۔ 

خدا کی ذات و صفات کی معرفت - ابوالبشر احمد طیب

خدا کی ذات و صفات کی معرفت 
مذہب اور فلسفہ دونوں اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے زندگی کی رہنمائی کے لیے وجود میں آئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفہ عقل پر اعتماد کرتا ہے جبکہ مذہب وحی الہی سے رہنمائی لیتا ہے ۔ بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ مذہب کا عقل سے کوئی تعلق نہیں اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور کائنات کے متعلق قرآن مجید اور فلسفہ کے بنیادی مسائل کا تقابلی مطالعہ کیا جائے درج ذیل مضمون اسی مقصد لیے لیے ترتیب دیا گیا اس کے لیے ہم نے مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب " فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن حکیم کی روشنی میں " سے استفادہ کیا ۔ 

ابتدائی دور کے یونانی فلسفیوں نے زندگی اور کائنات کی مختلف طریقوں سے توجیہ کی ہے بعض یونانی فلسفیوں جیسے تھیلیز(624 ق م - 554ق م ) انیکسی مانڈر (610 ق م - 546ق م) کا کہنا ہے کہ کائنات کو کسی دیوی یا دیوتا نے پیدا نہیں کیا ، چھٹی صدی قبل مسیح کے فلسفی شاعر زینو فینسز(Zenophanes) نے دیوتاؤں پر سخت تنقید کی اس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی شکلوں پر دیوتاؤں کو بنایا ہے جبکہ خدا ہر لحاظ سے انسان سے مختلف ہے خدا ایک وحدت ہے جس کی ابتدا ہے نہ انتہا ۔۔اس کے نزدیک خدا ہی کائنات ہے ۔ عظیم فلسفی سقراط (470 ق م - 399 ق م) نے خدا کی وحدانیت کا تصور دیا اس جرم میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا ۔ افلاطون (428 ق م -347 ق م) کا کہنا ہے کہ خدانے تمام کائنات کو پید ا کیا اور انسان میں اپنی روح پھونکی ۔ البتہ ان تمام فلسفیوں میں ارسطو (384 ق م – 322 ق م ) خد ا کی وحدانیت پر پختہ یقین رکھتاتھا ، اس کے نزدیک خدا کائنات کا خالق ہے، وہی محرک اول ہے ، کائنات کو چلانے والا بھی وہی ہے ۔ اسی طرح رواقی فلسفی خدا کی وحدانیت کے شدت سے قائل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خدا نے ہر چیز پیدا کی ہے ، برائی پر سزا اور نیکی پر جزا دیتا ہے ، رواقیوں کا فلسفہ وحدت الوجود کے تصور پر مبنی ہے۔ 

رب العالمین ، موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ

موسی ؑ اور فرعون کا مکالمہ 

اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ  ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا :

 ظالم قوم کے پاس جا ۔۔۔۔ فرعون کی قوم کے پاس ۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“

  موسی نے عرض کیا :

” اے میرے ربّ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھُٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔  اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 
اللہ تعالی نے  فرمایا :

” ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر  ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جاوٴ اور اس سے کہو، ہم 
  کو ربّ العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“

فرعون نے کہا :

” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟  تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے، اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا  ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔

موسیٰؑ نے جواب دیا:

” اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔  پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا  اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“

واقعہ معراج - سید ابوالاعلی مودودیؒ

سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا  ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ  (الاسراء : 1)
پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ حقیقت  میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ۔

-------------
یہ وہی واقعہ ہے جو اصطلا حا ”معراج“ اور ”اسراء“ کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر اور معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بکثرت صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں جن کی تعداد ٢٥ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایت حضرت انس بن مالک، حضرت مالک بن صعصَعہ، حضرت ابوذر غفاری اور حضرت ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو سعید خدری، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عائشہ اور متعدد دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بھی اس کے بعض اجزاء بیان کیے ہیں ۔

قرآن مجید یہاں صرف مسجد حرام (یعنی بیت اللہ ) سے مسجد اقصٰی (یعنی بیت المقدس) تک حضور کے جانے کی تصریح کرتا ہے اور اس سفر کا مقصد یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنی کچھ نشانیاں دکھانا چاہتا تھا۔ اس سے زیادہ کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی ہے۔ حدیث میں جو تفصیلات آئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ رات کے وقت جبریل (علیہ السلام) آپ کو اٹھا کر مسجد حرام سے مسجد اقصی تک براق پر لے گئے۔ وہاں آپ نے انبیاء علہیم السلام کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر وہ آپ کو عالم بالا کی طرف لے چلے اور وہاں مختلف طبقات سماوی میں مختلف جلیل القدر انبیاء سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ آخر کار آپ انتہائی بلندیوں پر پہنچ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے اور اس حضوری کے موقع پر دوسری اہم ہدایات کے علاوہ آپ کو پنج وقتہ نماز کی فرضیت کا حکم ہوا۔ اس کے بعد آپ بیت المقدس کی طرف پلٹے اور وہاں سے مسجد حرام واپس تشریف لائے۔ اس سلسلے میں بکثرت روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جنت اور دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔ نیز معتبر روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ دوسرے روز جب آپ نے اس واقعہ کا لوگوں سے ذکر کیا تو کفار مکہ نے اس کا بہت مذاق اڑایا اور مسلمانوں میں سے بھی بعض کے ایمان متزلزل ہوگئے۔