رسالت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
رسالت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

"لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ قرآن مجید کے مختلف سیاق وسباق میں

 "لا إله إلا الله محمد رسول الله" دینِ اسلام کا بنیادی کلمہ ہے، جو توحید (اللہ کی وحدانیت) اور رسالت (محمد ﷺ کی رسالت) پر ایمان کا اعلان ہے۔ اس کلمہ کے دو بڑے اجزاء ہیں:

  1. لا إله إلا الله – اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

  2. محمد رسول الله – محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

قرآن مجید میں یہ دونوں اجزاء مختلف سیاق و سباق میں بہت مرتبہ آئے ہیں۔ ذیل میں ان سے متعلقہ آیات کی ایک اشاریہ (index) یا فہرست پیش کی جا رہی ہے، تاکہ ان دونوں حصوں کی تفہیم قرآن کی روشنی میں کی جا سکے:

حصہ اول: لا إله إلا الله (توحید - اللہ کی وحدانیت)

1. سورہ البقرہ (2:255) – آیت الکرسی

اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ...
اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، قائم رکھنے والا ہے۔

2. سورہ آل عمران (3:18)

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ...
اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔

3. سورہ طہ (20:14)

إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي...
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔

4. سورہ الانبیاء (21:25)

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
ہر رسول کو یہی وحی کی گئی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔

5. سورہ الصافات (37:35)

إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں" تو وہ تکبر کرتے۔

حصہ دوم: محمد رسول الله (رسالتِ محمد ﷺ)

1. سورہ الفتح (48:29)

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ...
محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو ان کے ساتھ ہیں...

2. سورہ محمد (47:2)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ...
اور جنہوں نے ایمان لایا اور نیک عمل کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کیا گیا...

3. سورہ آل عمران (3:144)

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ...
محمد تو ایک رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں۔

4. سورہ احزاب (33:40)

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ...
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

احسن القصص

سورہ یوسف کا نام قرآن میں احسن القصص (سب سےبہترین قصہ ) آیا ہے اس سورہ کے نزول کے بارے میں روایت ہے کہ یہودیوں کے اشارے پر کفار مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلّم کا امتحان لینے کے لیے، آپ کے سامنے  یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اس سوال کےجواب میں اللہ تعالی نے سورہ یوسف نازل فرمایا ۔

اس سورہ کو احسن القصص اس لحاظ سے کہاگیا کہ انسانی زندگی کے تمام بنیادی کردارں کو اس سورت میں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے ، اس قصہ میں زندگی کے ان تمام مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسان اور انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی بپچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر ، غرضکہ تمام وہ امور جو دین ، اخلاق اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں بڑی عمدگی اور تسلسل کے ساتھ ایک ہی سورت میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ قصہ کا آغازیوسف ؑ کے ایک خواب کے ذکر سے ہوتا ہے پھر اختتام بھی اسی خواب کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ گویا پورا قصہ حضرت یوسف ؑ کے خواب کی عملی تعبیر پر مشتمل ہے ۔ 

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ابراہیم ؑ کی نسل بنی اسحاق ؑ، جس کی اہم شاخ بنی یعقوب ( اسرائیل) ہے،اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پید اکیں ۔ انہیں سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ۔ ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاءاور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ بنی یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے اس سلسلہ نبوت کا سب سے پہلے نبی حضرت یوسف ؑ ہیں ۔ 

بائیبل کے مطابق یعقوب ؑ کی چار بیویاں تھیں ،جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے ۔ ان چارمیں سے ایک سے یوسف ؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین پیدا ہوئے ۔ علمائے بائیبل کی تحقیق کے مطابق یوسف ؑ کی پیدائش تقریبا 1906 قبل مسیح میں ہوئی ۔ یوسف ؑ جب سترہ سال کے تھے۔ تو ان کے بھائیوں نے ان سے حسد کرتے ہوئے ان کو کنویں میں بھینکا ، ایک قافلے نے ان کو کنویں سے نکال کر مصر لے جاکر عزیز مصر کو فروخت کردیا ۔ 

مصر پر اس زمانہ میں عربی النسل قوم کے پندرھویں خاندان کی حکومت تھی ۔ جو چرواہے بادشاہوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ لوگ ابراہیم ؑ کے زمانہ سے سلطنت مصر پر قابض تھے ۔ علماء بائیبل کے مطابق یوسف ؑ کے ہم عصر فرمانروا کا نام اپوفیس ( Apophis) تھا ۔ 

انبياء کی بعثت میں اللہ تعالی کی سنت - امین احسن اصلاحی

ارشاد باری تعالی ہے :  وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ (94)  ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (95) وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (96) أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ (97)  أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (98) أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّـهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّـهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (99)  أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ (100)   تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ (101)  وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ۖ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ (102)
( سورۃ الاعراف : 94-102

ترجمہ:  

اور ہم نے جس بستی میں بھی کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔تو کیا بستیوں والے نچنت ( بے خوف) رہ سکے اس بات سے کہ آ دھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔ اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ ان پر آ دھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں۔ تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں۔کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں۔ یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے۔ ( سورۃ الاعراف : 94-102) 

---------

خدا کی ذات و صفات کی معرفت - ابوالبشر احمد طیب

خدا کی ذات و صفات کی معرفت 
مذہب اور فلسفہ دونوں اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے زندگی کی رہنمائی کے لیے وجود میں آئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفہ عقل پر اعتماد کرتا ہے جبکہ مذہب وحی الہی سے رہنمائی لیتا ہے ۔ بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ مذہب کا عقل سے کوئی تعلق نہیں اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور کائنات کے متعلق قرآن مجید اور فلسفہ کے بنیادی مسائل کا تقابلی مطالعہ کیا جائے درج ذیل مضمون اسی مقصد لیے لیے ترتیب دیا گیا اس کے لیے ہم نے مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب " فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن حکیم کی روشنی میں " سے استفادہ کیا ۔ 

ابتدائی دور کے یونانی فلسفیوں نے زندگی اور کائنات کی مختلف طریقوں سے توجیہ کی ہے بعض یونانی فلسفیوں جیسے تھیلیز(624 ق م - 554ق م ) انیکسی مانڈر (610 ق م - 546ق م) کا کہنا ہے کہ کائنات کو کسی دیوی یا دیوتا نے پیدا نہیں کیا ، چھٹی صدی قبل مسیح کے فلسفی شاعر زینو فینسز(Zenophanes) نے دیوتاؤں پر سخت تنقید کی اس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی شکلوں پر دیوتاؤں کو بنایا ہے جبکہ خدا ہر لحاظ سے انسان سے مختلف ہے خدا ایک وحدت ہے جس کی ابتدا ہے نہ انتہا ۔۔اس کے نزدیک خدا ہی کائنات ہے ۔ عظیم فلسفی سقراط (470 ق م - 399 ق م) نے خدا کی وحدانیت کا تصور دیا اس جرم میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا ۔ افلاطون (428 ق م -347 ق م) کا کہنا ہے کہ خدانے تمام کائنات کو پید ا کیا اور انسان میں اپنی روح پھونکی ۔ البتہ ان تمام فلسفیوں میں ارسطو (384 ق م – 322 ق م ) خد ا کی وحدانیت پر پختہ یقین رکھتاتھا ، اس کے نزدیک خدا کائنات کا خالق ہے، وہی محرک اول ہے ، کائنات کو چلانے والا بھی وہی ہے ۔ اسی طرح رواقی فلسفی خدا کی وحدانیت کے شدت سے قائل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خدا نے ہر چیز پیدا کی ہے ، برائی پر سزا اور نیکی پر جزا دیتا ہے ، رواقیوں کا فلسفہ وحدت الوجود کے تصور پر مبنی ہے۔ 

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیشين گوئی اور انجیل برنا باس - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

انجیل برناباس
" حقیقت یہ ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشن گوئیوں کو نہیں ، خود حضرت عیسیٰ کے اپنے صحیح حالات اور آپ کی اصل تعلیمات کا جاننے کا بھی معتبر ذریعہ وہ چار انجیلیں نہیں ہیں جن کو مسیحی کلیسا نے معتبر و مسلم انا جیل(Canonical Gospels) قرار دے رکھا ہے ، بلکہ اس کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ وہ انجیل برنا باس ہے جسے کلیسا غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) کہتا ہے ۔ عیسائیوں نے اسے چھپانے کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ صدیوں تک یہ دنیا سے ناپید رہی ہے ۔ سولہویں صدی میں اس کے اطالوی ترجمے کا صرف ایک نسخہ پوپ سکسٹس (Sixtus) کے کتب خانے میں پایا جاتا تھا اور کسی کو اس کے پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں وہ ایک شخص جان ٹولینڈ کے ہاتھ لگا۔ پھر مختلف ہاتھوں میں گشت کرتا ہوا 1738ء میں ویانا کی امپریل لائبریری میں پہنچ گیا۔ 1907ء میں اسی نسخے کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس سے شائع ہو گیا تھا مگر غالباً اس کی اشاعت کے بعد فوراً ہی عیسائی دنیا میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ یہ کتاب تو اس مذہب کی جڑ ہی کاٹے دے رہی ہے جسے حضرت عیسیٰ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس لیے اس کے مطبوعہ نسخے کسی خاص تدبیر سے غائب کر دیے گۓ اور پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آ سکی۔ دوسرا ایک نسخہ اسی اطالوی ترجمہ سے اسپینی زبان میں منتقل کیا ہو اٹھارویں صدی میں پایا جاتا تھا، جس کا ذکر جارج سیل نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں کیا ہے ۔ مگر وہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا اور آج اس کا بھی کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ انگریزی ترجمے کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بہ لفظ ہے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشين گوئی کا تفصیلی جائزہ

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسی ؑ کی بشارت کا تفصیلی جائزہ 
ارشاد باری تعالی : 

وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ " ﴿سورہ الصف: ۶﴾

اور یاد کرو عیسی ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہو ا رسول ہوں تصدیق کر نے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ،  اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آۓ گا جس کا نام احمد  ہو گا۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ  اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

 " یہ قرآن مجید کی ایک بڑی اہم آیت ہے ، جس پر مخالفین اسلام کی طرف سے بڑی لے دے بھی کی گۓ ہے اور بدترین خیانت مجرمانہ سے بھی کام لیا ہے ، کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صاف صاف نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی تھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کی جاۓ۔

سورہ النجم کی آیات : " وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی " کی تفسیر

ارشاد باری تعالی : 

" وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿۳﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾ سورہ النجم 

ترجمہ ُ: " وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے" 


مولانا سید ابوالاعلی مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن جلد پنجم (سُوْرَةُ النَّجْم حاشیہ نمبر :4 ) میں لکھتے ہیں :  

" مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گیا ہے ، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے ، بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی کے ذریعہ سے نازل کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ اس کا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے دعواۓ نبوت کر دیا ہو، بلکہ خدا نے جب وحی کے ذریعہ سے اس کو اس منصب پر مامور کیا تب وہ تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کے لیے اٹھا اور اس نے تم سے کہا کہ میں تمہارے لیے خدا کا نبی ہوں۔ اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزاۓ اعمال کی یہ خبریں، کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق، اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے یہ اصول، جو وہ پیش کر رہا ہے ، یہ سب کچھ بھی اس کا اپنا بنایا ہوا کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ خدا نے وحی کے ذریعہ سے اس کو ان باتوں کا علم عطا کیا ہے ۔ اسی طرح یہ قرآن جو وہ تمہیں سناتا ہے ، یہ بھی اس کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے ، بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ’’ آپؐ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ آپؐ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپؐ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘، آپؐ کی زبان مبارک سے نکلے والی کن کن باتوں سے متعلق ہے ؟ آیا اس کا اطلاق ان سارے باتوں پر ہوتا ہے جو آپ بولتے تھے ، یا بعض باتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض باتوں پر نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے اس پر تو اس ارشاد کا اطلاق بدرجہ اَولیٰ ہوتا ہے ۔ رہیں وہ دوسری باتیں جو قرآن کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے ادا ہوتی تھیں تو وہ لا محالہ تین ہی قسموں کی ہو سکتی تھیں۔

قرآن میں وہ کون سی امانت کا ذکر ہے جو آسمان اور زمین اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے مگر انسان نے اسے اٹھالیا ؟

ارشاد باری تعالی ہے : 

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا

(  سورۃ الاحزاب:  72 )

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بےشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے  ۔ 

 اس آیت کی تفسیر میں سید ابوالاعلی مودودی ؒ لکھتے ہیں : 

" کلام کو ختم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے اور اس حیثیت میں ہوتے ہوئے اگر وہ دنیا کی زندگی کو محض ایک کھیل سمجھ کر بےفکری کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرتا ہے تو کس طرح اپنے ہاتھوں خود اپنا مستقبل خراب کرتا ہے۔

اس جگہ " امانت " سے مر اد وہی " خلافت " ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاقت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لیے اسے اپنی بےشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کیے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا اور غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنے۔ یہ اختیارات چونکہ انسان نے خود حاصل نہیں کیے ہیں بلکہ اللہ نے اسے دیے ہیں، اور ان کے صحیح و غلط استعمال پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے، اس لیے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کو " خلافت " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہاں انہی کے لیے " امانت " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

رسالت اور دعوت محمدی ﷺ کی حقیقت سورہ براءۃ کی روشنی میں از مولانا وحید الدین خان

قسط (ا)

آیت : 1۔ تا ۔4:۔ موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے اور جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت وارد کرکے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے ۔

یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتا ہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتا ہے ان پر وہ آخری حد تک کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کردی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس لیے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کردیا جاتا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں آئی۔ ان کے اوپر خد اکی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیا گیا۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہل توحید کو مکہ کے اہل شرک پر غالب کرکے ان کے اوپر اتمام حجت کردیا گیا۔ جب یہ سب کچھ ہوچکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کرلو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمہاری خاتمہ کردیا جائے گا۔

پھر یہ سارا معاملہ تقوی کے اصول پر کیا گیا نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر۔ مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کردیا گیا۔ ان کو پیشگی انتباہ کے ذریعہ کئی مہینے تک سوچنے کا موقع دیا گیا۔ آخرت وقت تک ان کے لیے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جو لوگ توبہ کرلیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہوجائیں۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملہ کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھا گیا، وغیرہ ۔

آنحضور ﷺ کی شرح صدرسے کیا مراد ہے ؟

شرح صدر کے بارے میں  مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ  نے سورۃ الانشراح کی تفسیر میں  بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے ۔

"سینہ کھولنے کا لفظ قرآن مجید میں جن مواقع پر آیا ہے ان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو معنی ہیں:

(1) سورۃ انعام آیت 125 میں فرمایا ’’فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ‘‘’’پس جس شخص کو ا للہ تعالی ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے کھول دیتا ہے‘‘۔ اور سورہ زمر آیت 22 میں فرمایا ’’أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ‘‘’’تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو پھر وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘۔ ان دونوں مقامات پر شرح صدر سے مراد ہر قسم کے ذہنی خلجان اور تردد سے پاک ہو کر اس بات پر پوری طرح مطمئن ہو جانا ہے کہ ا سلام کا راستہ ہی برحق ہے اور وہی عقائد ، وہی اصول اخلاق و تہذیب و تمدن، اور وہی ا حکام و ہدایات بالکل صحیح ہیں جو اسلام نے انسان کو دیے ہیں۔

سُوْرَةُ الْقَصَص کا تعارف

سُوْرَةُ الْقَصَص کا تعارف

اس سورت میں موسی علیہ السلام کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا


نام :
آیت نمبر ۲۵ کے اس فقرے سے ماخوذ ہے وَ قَصَّ عَلیہ القَصَصَ، یعنی وہ سورة جس میں القصص کا لفظ آیا ہے ۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورة کا عنوان ہو سکتاہے ، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔

زمانہٴ نزول :
سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس اور جابر بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہ قول ہم نقل کر چکے ہیں کہ سورة شعراء ، سورة النمل اور سورة القصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں ہیں ۔ زبان، اندازبیان اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانہٴنزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اوراس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں ۔ سورة شعراءمیں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ عرض کرتےہیں کہ ” قوم فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاوٴں گا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے “پھر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے ” کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا ، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا وہ کچھ جو کچھ کہ کرگیا۔ “ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی ۔ اس سورة میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سورة نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہوگیا کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کولے کر جارہے تھے، اور اچانک انھوں نے ایک آگ دیکھی ، وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا ، کہاں سے وہ آرہے تھے اور کدھر جارہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورة میں بیان ہوئی ہے ۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصہ موسیٰ علیہ السلام کی تکمیل کر دیتی ہیں۔ 

موضوع اور مباحث :
اس کا موضوع ان شبہات اور اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے، اور ان عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کیے جاتے تھے۔
اس غرض کے لئے سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانہٴنزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کردیتاہے۔
اول یہ کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اس کے لئے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب وذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے اپنے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہاہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کو کسی بڑے جشن اور زمین اور آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کیسے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ ﴿علیہ السلام ﴾ کا تم خود حوالہ دیتے ہو لَو لَا اُوتِیَ مِثلَ ماَ اُو تِیَ مُو سیٰ، ﴿آیت ۴۸﴾،انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آگیا۔ موسیٰ علیہ السلام خود ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انھیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔
تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاوٴ لشکر اور سرو سامان کے اٹھتا ہے ۔کوئی اس کا مدد گار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی، مگر بڑے بڑے لاوٴلشکر اور سروسامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کون جیتا اور کون ہارا۔
چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہو کہ ”محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کی دیا گیا تھا “ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے ۔ گو یا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو ، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دکھائے تھے۔مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انھوں نے کیا کیا تھا؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے ۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو ۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کر ایمان لے آوٴ گے؟ پھر تمہیں کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق کا انکار کیاتھا ان کا انجام کیا ہوا؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کرکے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزے مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟
یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اس شخص کے ذہن میں اتر جاتی ہیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا، کیونکہ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان برپا ہوچکی تھی، اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے کس معاملے پر چسپاں ہورہا ہے۔
اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔
پہلے اس بات کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتاہے کہ آپ امی ہونے کے باوجود دوہزار برس پہلے گزرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کے برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشاندہی کر سکیں۔
پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کے لئے ہدایت کا انتظام کیا۔
پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے تھے کہ ” یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام لائے تھے۔ “ ان سے کہاجاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ، جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشات نفس کی بندگی نہ کروتو حق اب بھی تمہیں نظر آسکتا ہے۔ لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آجائے، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں۔
پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بے عزتی کی۔
آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کی لیا جاتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ ماننے کے لئے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہل عرب دین شرک کو چھوڑ کر اس نئے دین توحید کو قبول کرلیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سر زمین میں ہمارے لئے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لئے تراشتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر آخری سورة تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطہٴ نظر سے کرتے تھے۔

(تفہیم القرآن جلد سوم ، سورۃ القصص ، سید ابوالاعلی مودودیؒ )

نزول قرآن کے وقت غیر ضروری سوالات کی ممانعت


نزول قرآن کے وقت غیر ضروری سوالات  میں پڑنے کی ممانعت


ارشاد باری تعالی ہے :   يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ  وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔   (سورۃ المائدۃ :101، 102)

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،  لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ "

  غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو نزول قرآن کے وقت تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی (دینی مسائل جاننے کا)صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیا جائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کرکے اس کی حدود و قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جو حکم مجمل صورت میں ہے اس کو مفصل بنانا، جو مطلق ہے اس کو مقید کرنا اور جو چیز غیر معین ہے اس کو معین کرنے کے درپے ہونا دین میں ایسا اضافہ ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے ۔(1)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ بیٹھے کہ”میرا اصلی باپ کون ہے؟“ اسی طرح بعض لوگ احکام شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے، اور خواہ مخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعین کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معین رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا” کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے؟“ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر خاموش ہوگئے۔ تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ”تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ہاں نکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کرسکو گے اور نافرمانی کرنے لگو گے“۔۔۔۔۔۔۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی لوگوں کو کثرت سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہے تھے۔ چنانچہ حدیث میں ہے۔ " ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیٔ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ۔ ”  مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھیرائی گئی“۔
 ایک دوسری حدیث میں ہے۔ "  ان اللہ فرض فرائض فلا تضیعوھا و حرم حرمات فلا تنتھکو ھا وحَدّ حُدُوْداً فلا تعتدُوْھَا وسَکتَ عَنْ اشیَا من غیر نسیان فلا تبحثو ا عنھا۔”
"اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو، لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ “۔

 ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت پر متنبہ کیا گیا ہے۔ جن امور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی، یا جو احکام برسبیل اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دوسرے تعینات کا ذکر نہیں کیا ہے، ان میں اجمال اور عدم تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھول ہوگئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے، استنباط سے کسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصل، مطلق کو مقَیَّد، غیر معین کو معین بنا کر ہی چھوڑتا ہے، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لیے کہ ما بعد الطبیعی امور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ الجھن کے مواقع بڑھیں گے، اور احکام میں جتنی قیود زیادہ ہوں گی پیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزی حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے ۔(2)

اب قرآن کی آیات تلاوت کریں  ، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

  يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ  وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ۔ قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِيْنَ۔   (سورۃ المائدۃ :101، 102)
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،  لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ "

مولانا امین احسن  اصلاحی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں " یہ بھی برسر موقع ایک تنبیہ ہے۔ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اوپر ان سوالوں کے جواب دیے گئے ہیں جو ابتدائے سورۃ میں بیان کردہ احکام سے متعلق پیدا ہوئے یا پیدا ہوسکتے تھے۔ اب یہ تنبیہ فرمائی کہ جو  مفید سوال تھے ان کے جواب دے دیے گئے لیکن ایسے سوال نہ کرو جن کے جواب اگر دے دیے جائیں تو تہارے مزاج اور تمہاری خواہش کے خلاف پڑنے کے سبب سے وہ تمہیں برے لگیں گے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح فرمادی کہ یہ زمانہ نزول قرآن کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ بارش کے ایام سے مشابہ ہے۔ بارش کے زمانہ میں جس طرح ہر بیج اگ پڑتا ہے اسی طرح اس زمانے میں جو سوال بھی کروگے اس کا جواب نازل ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے سوچ سمجھ کر وہی سوالات کرو جو دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے نافع اور علمِ شریعت میں اضافہ کے موجب ہوں۔ غیر ضروری سوالات اٹھا کر اپنی پابندیوں میں اضافہ کی راہ نہ کھولو، خدا بخشنے والا اور بردبار ہے۔ اس وجہ سے اس نے تمہارے لیے ضرورت سوالات نظر انداز کردیے ہیں۔ اگر انکے بھی جواب دے دیے جاتے تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کو نباہ نہ پاتے اور اس طرح  اپنے ہی ہاتھوں اپنی راہ میں کانٹے بونے والے اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والے بنتے۔
اس کے بعد بطور مثال ایک قوم کا حوالہ دیا ہے۔ مراد تو اس سے بالبداہت یہود ہیں لیکن ان کا نام نہیں لیا ہے بلکہ ان کا ذکر نکرہ کے ساتھ کیا ہے جس سے فی الجملہ اعراض اور نفرت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ انہوں نے بھی اپنے نبی سے اسی طرح کے سوالات و مطالبات کیے لیکن جب ان کو جواب دے دیے گئے تو وہ ان کے منکر بن بیٹھے۔ ان کے سوالوں کی نوعیت سورۃ بقرہ میں گائے کے قصہ سے واضح ہوچکی ہے اور پچھلی سورتوں میں یہ بات بھی ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ درحقیقت ان کے اسی طرح کے سوالات تھے جن سے انہوں نے اپنی ان قیدوں اور پابندیوں میں اضافہ کرایا جن کو قرآن نے اصر و اغلال سے تعبیر فرمایا ہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے غیر ضروری سوالوں کو نظر انداز فرما کر ہمیں اصر و اغلال سے بچایا ہے اور ان معاملات کو ہمارے عقل و اجتہاد پر چھوڑ دیا جن میں ہماری عقل و فطرت میں ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ یہ شریعت آخری اور کامل شریعت ہے، اس میں کوئی بات بھی معیار، سے مختلف نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں تھا جو اس کو معیار پر لاتا۔ اس کے برخلاف یہود کی شریعت میں، یہ ایک وقتی شریعت تھی، اس میں اگر اصر و اغلال تھے تو وہ جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، آخری پیغمبر کے زریعہ سے دور ہوگئے۔ 'قد سالہا' میں ضمیر کا مرجع مذکورہ سوال ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے بعینہ وہی سوالات کیے جن کی طرف اوپر اشارہ ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اس نوعیت کے سوالات کیے۔ عربی میں ضمیروں کا استعمال اس طرح بھی ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔۔۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)     (تذکیر القرآن ، سورۃ المائدۃ : 101 ، 102 مولانا وحید الدین خان )
(2)     (تفہیم القرآن ،جلد 1 سورۃ المائدۃ : 101 ، 102 سید ابوالاعلی مودودی ؒ )
(3)     (تدبر قرآن ، جلد 2 سورۃ المائدۃ : 101، 102 ، مولانا امین احسن اصلاحی ؒ )

محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت


محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت  اور سورۃُ المُزَّمِّل  کے مضامین 

نام :

پہلی ہی آیت کے لفظ المزمل کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف نام ہے، اس کے مضامین کا عنوان نہیں ہے۔

زمانۂ نزول :
اس سورت کے دو رکوع الگ زمانوں میں نازل ہوئے ہیں۔
پہلا رکوع بالاتفاق مکی ہے۔اس کے مضامین اور احادیث کی روایات دونوں سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ یہ مکی زندگی کے کس دور میں نازل ہوا ہے، اس کا جواب روایات سے تو نہیں ملتا، لیکن اس رکوع کے مضامین کی داخلی شہادت اس کا زمانہ متعین کرنے میں بڑی مدد دیتی ہے:
اولاً، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ راتوں کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کیا کریں تاکہ آپ کے اندر نبوت کے بارِ عظیم کواٹھانے اور اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی قوت پیدا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کے ابتدائی دور ہی میں نازل ہوا ہوگا جبکہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس منصب کے لیے آپ کی تربیت کی جا رہی تھی۔
ثانیاً، اس میں حکم دیا گیا ہے کہ نمازِ تہجد میں آدھی آدھی رات یا اس سے کچھ کم و بیش قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ یہ ارشاد خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُس وقت قرآن مجید کا کم از کم اتناحصہ نازل ہو چکا تھا کہ اس کی طویل قرات کی جا سکے۔
ثالثاً، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخالفین کی زیادتیوں پر صبر کی تلقین کی گئی ہے اور کفار مکہ کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رکوع اس زمانے میں نازل ہوا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع کر چکے تھے اور مکہ میں آپ کی مخالفت زور پکڑ چکی تھی۔
دوسرے رکوع کے متعلق اگرچہ بہت سے مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ بھی مکہ ہی میں نازل ہوا ہے، لیکن بعض دوسرے مفسرین نے اسے مدنی قرار دیاہے، اور اس رکوع کے مضامین سے اسی خیال کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ اس میں قتال فی سبیل اللہ کا ذکر ہے، اورظاہر ہے کہ مکہ میں اس کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا تھا، اور اس میں فرض زکٰوۃ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، اور یہ بات ثابت ہے کہ زکٰوۃ یک مخصوص شرح اور نصاب کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔
موضوع اور مضامین :

پہلی سات آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا گیا ہے کہ جس کارِ عظیم کا بار آپ پر ڈالا گیا ہے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے آپ اپنے آپ کو تیار کریں، اور اس کی عملی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ راتوں کو اٹھ کر آپ آدھی آدھی رات، یا اس سے کچھ کم و بیش نماز پڑھا کریں۔
آیت 8 سے 14 تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تلقین کی گئی ہے کہ سب سے کٹ کر اس خدا کے ہو رہیں جو ساری کائنات کا مالک ہے۔ اپنے سارے معاملات اسی کے سپرد کر کے مطمئن ہو جائیں۔ مخالفین جو باتیں آپ کے خلاف بنا رہے ہیں ان پر صبر کریں، ان کے منہ نہ لگیں اور ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں کہ وہی ان سے نمٹ لے گا۔ اس کے بعد آیات 15 سے 19 تک مکہ کے ان لوگوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کر رہے تھے، متنبہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اسی طرح تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف بھیجا تھا، پھر دیکھ لو کہ جب فرعون نے اللہ کے رسول کی بات نہ مانی تو وہ کس انجام سے دوچار ہوا۔ اگر فرض کر لو کہ دنیا میں تم پر کوئی عذاب نہ آیا تو قیامت کے روز تم کفر کی سزا سے کیسے بچ نکلو گے؟
یہ پہلے رکوع کے مضامین ہیں۔ دوسرا رکوع حضرت سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق اس کے دس سال بعد نازل ہوا اور اس میں نماز تہجد کے متعلق اس ابتدائی حکم کے اندر تخفیف کر دی گئی جو پہلے رکوع کے آغاز میں دیا گیا تھا۔ اب یہ حکم دیا گیا کہ جہاں تک تہجد کی نماز کا تعلق ہے وہ تو جتنی باآسانی پھی جا سکے پڑھ لیا کرو لیکن مسلمانوں کو اصل اہتمام جس چیز کا کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ پنج وقتہ فرض نماز پوری پابندی کے ساتھ قائم رکھیں، فریضہ زکٰوۃ ٹھیک ٹھیک ادا کرتے رہیں اور اللہ کی راہ میں اپنا مال خلوصِ نیت کے ساتھ صرف کریں۔ آخر میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ جو بھلائی کے کام تم انجام دو گے وہ ضائع نہیں جائیں گے بلکہ ان کی حیثیت اس سامان کی سی ہے جو ایک مسافر اپنی مستقل قیام گاہ پر پہلے سے بھیج دیتا ہے۔ اللہ کے ہاں پہنچ کر تم وہ سب کچھ موجود پاؤ گے جو دنیا میں تم نے آگے روانہ کیا ہے، اور یہ پیشگی سامان نہ صرف یہ کہ اس سامان سے بہت بہتر ہے جو تمہیں دنیا ہی میں چھوڑ جانا ہے، بلکہ اللہ کے ہاں تمہیں اپنے بھیجے ہوئے اصل مال سے بڑھ کر بہت بڑا اجر بھی ملے گا۔

(مزید حاشیہ کے لیے ترجمہ میں درج نمبر پر کلک کریں )



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یٰۤاَیُّہَا الۡمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾ قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا ۙ﴿۲﴾ نِّصۡفَہٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡہُ قَلِیۡلًا ۙ﴿۳﴾ اَوۡ زِدۡ عَلَیۡہِ وَ رَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۴﴾ اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۵﴾ اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا ؕ﴿۶﴾ اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبۡحًا طَوِیۡلًا ؕ﴿۷﴾ وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا ؕ﴿۸﴾ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذۡہُ وَکِیۡلًا ﴿۹﴾ وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا ﴿۱۰﴾ وَ ذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا ﴿۱۱﴾ اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ۱۲﴾ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٭۱۳﴾ یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا ﴿۱۴﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ رَسُوۡلًا ۬ۙ شَاہِدًا عَلَیۡکُمۡ کَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ﴿ؕ۱۵﴾ فَعَصٰی فِرۡعَوۡنُ الرَّسُوۡلَ فَاَخَذۡنٰہُ اَخۡذًا وَّبِیۡلًا ﴿۱۶﴾ فَکَیۡفَ تَتَّقُوۡنَ اِنۡ کَفَرۡتُمۡ یَوۡمًا یَّجۡعَلُ الۡوِلۡدَانَ شِیۡبَۨا ﴿٭ۖ۱۷﴾ السَّمَآءُ مُنۡفَطِرٌۢ بِہٖ ؕ کَانَ وَعۡدُہٗ مَفۡعُوۡلًا ﴿۱۸﴾ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذۡکِرَۃٌ ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیۡلًا ﴿٪۱۹﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے1، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم2، آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو3، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو4۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں5۔ در حقیقت رات کا اُٹھنا6 نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر 7 اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے8۔ دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں۔ اپنے ربّ کے نام کا ذکر کیا کرو9 اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو10۔ اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاوٴ11۔اِن جُھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو12 اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت میں رہنے دو۔ ہمارے پاس ﴿اِن کے لیے﴾ بھاری بیڑیاں ہیں13 اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب۔ یہ اُس دن ہو گا جب زمین اور پہاڑ لرز اُٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر جو بکھرے جا رہے ہیں14۔
تم15 لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے16 جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسُول بھیجا تھا۔ ﴿پھر دیکھ لو کہ جب ﴾ فرعون نے اُس رسُول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جاوٴ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے17 گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہو گا؟ اللہ کا وعدہ تو پُور ا ہو کر ہی رہنا ہے۔ یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ ؏١

(ماخوز از تفہیم القرآن ، جلد 6، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودوی ؒ )

محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی کون سی خصوصی مہربانیاں تھیں ؟

محمد رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی  کون سی خصوصی مہربانیا ں تھیں؟  

سورۃُ الضُّحی   کی روشنی میں 
نام :

پہلے ہی لفظ والضحٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔
زمانۂ نزول :

اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضور سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ کو اطمینان دلایا گیا کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کارفرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات کا سکون طاری کرنے میں کارفرما ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپ پر برابر پڑتی رہتی تو آپ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے۔ اس لیے بیچ میں وقفہ دیا گیا تاکہ آپ کو سکون مل جائے۔ یہ کیفیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپ کو وحی کے نزول کی شدت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ (نزول وحی کا کس قدر شدید بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعصاب پر پڑتا تھا اس کے لیے دیکھیے مضمون سورۂ مدثر اور مطالعہ کیجیے سورۂ مزمل) بعد میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

موضوع اور مضمون :
اس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تسلی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ کو لاحق ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ آپ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالٰی آپ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا جس سے آپ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی ان صریح پیشینگوئیوں میں سے ایک ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں، حالانکہ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت کہیں دور دور بھی اس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اسے اتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔
اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روز پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے، ہم نے تمہاری پرورش اور خبر گیری کا بہترین انتظام کر دیا۔ تم ناواقفِ راہ تھے، ہم نے تمہیں راستہ بتایا۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتدا سے ہمارے منظور نظر ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شامل حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ آیات 37 تا 42 کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے جبار کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالٰی نے ان کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں، اس لیے تم اطمینان رکھو کہ اس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل تمہارے ساتھ ہوگا۔
آخر میں اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا برتاؤ کیا ہونا چاہیے، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔




بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾ فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾ وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے روزِ روشن کی1 اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے2﴿ اے نبی ؐ ﴾ تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا3۔ اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے4، اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوٴ گے5۔ کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھِکانا فراہم کیا6؟ اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی7۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا8۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو9، اور سائل کو نہ جھِڑکو10، اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو11۔ ؏١

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

محمد رسول اللہ ﷺکی شخصیت سورۃ الانشراح کی روشنی میں


                                                                    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ   


اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾ وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾ فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ﴿۷﴾ وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ﴿۸﴾

﴿اے نبی ؐ ﴾ کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا1؟ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اُتار دیا جو تمہاری کمر توڑ ڈال رہا تھا اور تمہاری خاطر تمہارے ذِکر کا آواز  بلند کر دیا پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے ۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاوٴ اور اپنے ربّ ہی کی طرف راغب ہو 

----------------
حواشی :

1 -  اس سوال سے کلام کا آغاز ، اور پھر بعد کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس زمانے میں ان شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں آپ کو پیش آ رہی تھیں۔ ان حالات میں اللہ تعالی نے آپ کو مخاطب کر کے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں کی ہیں؟ پھر ان ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟


اللہ تعالی کا ایک نبی کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتاہے؟

اللہ  کاایک نبی کےساتھ اور ایک نبی  کاخلق خدا کےساتھ کیا برتاؤ ہوتاہے؟  

 سُورَۃ ُالضُّحیٰ کی روشنی میں 

نام :
پہلے ہی لفظ والضحٰی کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 
زمانۂ نزول :
اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضور سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا رب مجھ سے ناراض ہوگیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ کو اطمینان دلایا گیا کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کارفرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات کا سکون طاری کرنے میں کارفرما ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپ پر برابر پڑتی رہتی تو آپ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے۔ اس لیے بیچ میں وقفہ دیا گیا تاکہ آپ کو سکون مل جائے۔ یہ کیفیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپ کو وحی کے نزول کی شدت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ (نزول وحی کا کس قدر شدید بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعصاب پر پڑتا تھا اس کے لیے دیکھیے مضمون سورۂ مدثر اور مطالعہ کیجیے سورۂ مزمل) بعد میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

موضوع اور مضمون :
اس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تسلی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ کو لاحق ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ کو سابقہ پیش آ رہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے۔ آپ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالٰی آپ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا جس سے آپ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی ان صریح پیشینگوئیوں میں سے ایک ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں، حالانکہ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اس وقت کہیں دور دور بھی اس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اسے اتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔
اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روز پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے، ہم نے تمہاری پرورش اور خبر گیری کا بہترین انتظام کر دیا۔ تم ناواقفِ راہ تھے، ہم نے تمہیں راستہ بتایا۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتدا سے ہمارے منظور نظر ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شامل حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ آیات 37 تا 42 کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون جیسے جبار کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالٰی نے ان کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں، اس لیے تم اطمینان رکھو کہ اس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل تمہارے ساتھ ہوگا۔
آخر میں اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا برتاؤ کیا ہونا چاہیے، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔






بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾ فَاَمَّا الۡیَتِیۡمَ فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾ وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾

اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
قسم ہے روزِ روشن کی1 اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے2﴿ اے نبی ؐ ﴾ تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا3۔ اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے4، اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاوٴ گے5۔ کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھِکانا فراہم کیا6؟ اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی7۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا8۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو9، اور سائل کو نہ جھِڑکو10، اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو11۔ ؏١

(ماخوز از تفہیم القرآن جلد 6 ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )

کیا انسان اللہ کا خلیفہ ہے: ایک قرآنی مطالعہ

کیا انسان اللہ کا خلیفہ ہے: ایک قرآنی مطالعہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہبازندوی 
یہ بات کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے، متعدد مفسرین نے کہی ہے۔ اور یہ انھوں نے آیت کریمہ 'اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' (البقرہ ۲: ۳۰) کی تفسیرکرتے ہوئے کہی ہے۔ آیت کاترجمہ ہے کہ ''میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں''۔ اگرچہ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ کس کا خلیفہ، لیکن اردوکے متعددمترجم اس کواللہ کا خلیفہ گردانتے ہیں اور بعض مترجم توآگے بڑھ کرصاف صاف یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ ''میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں''۔ مولانا احمد رضا خاں نے یہی ترجمہ آیت مذکورہ کا کیاہے۔تاہم ان حضرات کے ہاںیہ ایک سادہ ساخیال ہے،وہ اس سے کوئی فکری فلسفہ برآمدنہیں کرتے۔ ہاں اہل تشیع اس خیال سے اپنے مزعومہ ائمہ معصومین کی معصومیت اورعظمت پر استدلال کرتے ہیں۔ موجوددور میں مولانا مودودی اوران کی متابعت میں سید قطب نے دین کی نئی تفہیم وتشریح کی جس کو بہت سے اہل علم نے بجاطورپر دین کی سیاسی تعبیر کہا ہے۔ ۱؂ اس سلسلہ میں مولانامرحوم نے قرآن کی چاربنیادی اصطلاحوں میں الٰہ، دین ،رب اورعبادت کی لغوی تحقیقات کے ذریعہ ان الفاظ کی نئی تشریح کی ہے اوران کواپنے فہم دین کہ ''حکومت الٰہیہ (اقامت دین) ہی انبیا کی بعثت کا بنیادی مقصد ہے''، کا مبنی بنایا ہے۔ اسی سلسلہ میں انھوں نے سورۃ البقرہ کی مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیربھی کی ، جس کے مطابق ہر انسان بالفعل اللہ کا خلیفہ ہے اورجن افراداورقوموں کے پاس اقتدارآجاتاہے وہ اس کے بالقوۃ خلیفہ ہوتے ہیں۔تاہم یہ منصب اہل ایمان کا ہے کہ وہ اس کے خلیفہ بنیں اور استخلاف فی الارض کی ضروری شرائط پوری کریں تبھی ان کوامامت کبریٰ یادنیاکا اقتدارملے گاوغیرہ ۔اس منطق سے فرعون ونمروداورابوجہل اورابولہب بھی خداکے خلیفہ ٹھیرتے ہیں اوران جیسے اورسرکش شیاطین بھی!
مولانا مودودی اور سید قطب کی تبعیت میں جماعت اسلامی اوراخوان المسلمون نے جولٹریچرپیداکیاہے، اس میں بڑی کثرت سے اس بات کودہرایاگیاہے کہ ''انسان اللہ کا خلیفہ ہے ،اس کے سرپر خلافت الٰہیہ کا تاج رکھا گیا ہے'' وغیرہ وغیرہ۔ ان حضرات نے اس کوایک دینی مسلمہ اوراجماعی مسئلہ مان لیاہے ۔اس سلسلہ میں مفسرین کی جو دوسری آرا موجود ہیں، ان کا یہ حضرات بہت سرسری ساذکرکرکے گزرجاتے ہیں۔ مزید برآں ان کے علاوہ اورعلما و مصنفین کی اکثریت بھی شعوری وغیرشعوری طورپراب اس مفروضہ کومانتی ہے ۔اسی پس منظرمیں آیتِ خلافت کے سلسلہ میں چندسطورپیش کی جارہی ہیں۔ ۲؂
مسئلہ اسماء وصفات الٰہیہ کا ہے جوتوقیفی ہیں، ان کے بارے میں اپنے اجتہادسے کوئی دعویٰ کردیناصحیح رویہ نہ ہو گا۔ جتنا بڑا دعویٰ ہوتا ہے، اس کی اتنی ہی بڑی دلیل بھی ہونی چاہیے ۔اس لحاظ سے جب ہم غورکرتے ہیں کہ کیاانسان کے خلیفۃ اللہ فی الارض ہونے کی کوئی مضبوط دلیل قرآن یاسنت میں پائی جاتی ہے یانہیں؟ توبڑی حیرت ہوتی ہے کہ نہ قرآن میں ا س دعویٰ کی کوئی دلیل ہے (نص صریح توبالکل نہیں البتہ مذکورہ آیت کا بہت سے مفسرین کا فہم ہے، جو اجتہادی ہوتاہے منصوص نہیں اوراس سے دلائل کی روشنی میں اختلاف کیاجاسکتاہے)اورنہ حدیث میں اس کی کوئی دلیل ہے۔ صحیح حدیث میں تویہ دعابھی آئی ہے: 'اللّٰہم اخلفني في أہلي' ۳؂ (اے اللہ، میرے غائبانہ میں میرے گھر والوں کی نگہبانی فرمانا)۔ اس حدیث سے تومذکورہ تصورخلافت کی جڑہی کٹ جاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ توکسی انسان کا خلیفہ ہونے سے رہا۔اس کے علاوہ ''مسنداحمد'' اوردوسری کتابوں میں یہ حدیث بھی آئی ہے کہ کسی نے حضرت ابوبکر کو 'یا خلیفۃ اللّٰہ' کہہ کرپکاراتوآپ نے اس کوناپسندکیااوراس کی تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ: 'لست بخلیفۃ اللّٰہ ولکني خلیفۃ رسول اللّٰہ' ۔ ۴؂
درست ہے کہ اکثرمفسرین اور علما یہ کہتے ہیں کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے ۔تاہم یہ ان حضرات کی اپنی راے ہے۔ اس کے بالمقابل دوسری راے بھی سلف سے منقول ہے اوروہ یہ ہے کہ انسان اللہ کا خلیفہ نہیں ہے، بلکہ یاتوجنوں کا خلیفہ ہے جوانسان سے پہلے دنیامیں آبادکیے گئے تھے یاایک انسان دوسرے انسان کا اورایک قوم دوسری قوم کی خلیفہ ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اپنے ''الفتاویٰ'' میں اس بارے میں بڑاسخت موقف اختیارکیاہے ،وہ کہتے ہیں: 'من جعل لہ خلیفۃ فہومشرک بہ' ۵؂ (مجموعہ الفتاویٰ ۲/ ۵۵۲) ''جو شخص انسان کو اللہ کا خلیفہ مانتا ہے، وہ اس کے ساتھ شرک کرتاہے ۔''
پہلی تنقیح:عربی زبان کے تما م لغات ومعاجم اس پر متفق ہیں کہ خلیفہ وہ ہے جو 'من یخلف غیرہ': کسی دوسرے کے بعدآئے ،اس کی جگہ لے۔(مادہ خ ل ف مادہ سلف کا مقابل ہے)۔ 'خلف ضد القدام مثلًا یعلم ما بین أیدیکم وما خلفکم وخلف ضد تقدم وسلف' ۶؂ یہ بھی واضح رہے کہ عربی زبان کی مخصوص نزاکت اور انفرادیت یہ ہے کہ مادہ (root)کے تمام مشتقات میں اس کی اصل حقیقت کا پایاجاناضروری ہے۔ لہٰذاخلف سے جتنے مشتقات بنیں گے، ان میں اس کا بنیادی مفہوم کسی نہ کسی شکل میں موجود ہونا چاہیے۔ رات ودن ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں:اسی لیے قرآن ان کو کہتا ہے: 'خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا' ۷؂ 'خَلَف' (لام کے فتحہ کے ساتھ ) عموماً اچھے اور 'خَلْف' (بسکون لام) برے جانشین کے لیے آتے ہیں۔ برے جانشین کے لیے 'خَلْف' کا استعمال قرآن نے کیا ہے۔ 'فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا'۸؂ ۔
دوسری تنقیح: نائب اورجانشین، دونوں اپنے متبادرمعنوں میں ایک نہیں ہیں، بلکہ الگ الگ معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ جانشینی میں کسی کے بعدکا یاعدم موجودگی کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اور بَعدیت اورعدم موجودگی کا مفہوم جانشینی سے اس طرح لپٹاہواہے کہ اس سے اس کوالگ نہیں کیاجاسکتاہے،کہ اس کے بغیرجانشینی کا تصورہی بے معنی ہے۔اپنی زندگی میں کوئی صاحب امرکسی کواپناجانشین نامزدکرتایامقررکردیتاہے تواس کوولی العہدکہتے ہیں۔اردوکے بعض مفسرین نے بھی اسی معنی میں آدم علیہ السلام کواللہ کا خلیفہ یاولی العہد بتایا ہے۔ ۹؂ جہاں تک نیابت کی بات ہے تواس میں عدم موجودگی یا بَعدیت کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ کسی کی زندگی میں بھی ا س کا نائب ہوسکتاہے اورہوتاہے ،نائب السلطنت،نائب صدر، نائب مدیر وغیرہ اسی لحاظ سے بولے اوراستعمال کیے جاتے ہیں ۔یعنی نیابت جانشینی سے کم درجہ کی چیز ہے ،نیابت میں آدمی اپنے بعض اختیارات نائب کودے دیتاہے، جب کہ جانشینی میں منوب عنہ کے اصل اختیارات جانشین کو مل جاتے ہیں۔ ان دونوں ہی معنوں میں اللہ تعالیٰ پر اس کا اطلاق درست نہ ہو گا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا مودودی، سید قطب اور مولانا امین اصلاحی وغیرہ نے انسان کواللہ کا خلیفہ قراردینے کی توجیہ یہی بیان کی ہے کہ اللہ نے انسان کو آزمانے کے لیے اس کوکچھ اختیارات دیے ہیں۔لیکن یہ حضرات یہ بتانے سے قاصرہیں کہ کون سے خدائی اختیارات انسان کو دیے گئے ہیں۔ظاہرہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپناکوئی اختیارکسی انسان کونہیں دیا،بلکہ شارع تک بھی کسی نبی کو نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے تنہا زمین وآسمان اورپوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ ان کے پورے نظام کووہ تنہا چلا رہا ہے۔ وہی ہوائیں چلاتا ہے ، بارشیں برساتا ہے، روزی دیتاہے، وہی مارتا ہے، جِلاتا ہے، وہی بیماری و شفا دیتا ہے وغیرہ۔ کیا کوئی انسان ان چیزوں میں اللہ کا شریک ہو سکتا ہے! یقیناًاللہ نے کائنات کوانسان کے لیے مسخرکیاہے اور کائنات کی بہت ساری اشیا انسان کی خدمت کرتی ہیں۔اورانسان اپنی قوت عقلی سے کام لے کر ان کو مسخر کرتا چلا جا رہا ہے۔ دراصل ان حضرات کواسی تسخیرکائنات اورانسان کی متمدن زندگی اورانسان کی زندگی کے امورکی تنظیم سے اشتباہ لگا ہے، حالاں کہ امورزندگی کی تنظیم کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی کو اپنا خلیفہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس کے لیے صرف عقل سے کام لینااورتمدن کا شعورہوناکافی ہے جوانسان کے اندربدرجۂ اتم پایاجاتاہے ۔
تیسری تنقیح: اب لفظ 'خلیفہ' پر غور کیجیے ۔اس کے اصل اورمتبادر معنی جانشین کے ہیں، نائب کے معنوں میں اس کا استعمال کم ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضرورہے کہ مجازاًخلیفہ کونائب کے معنی میں بھی استعمال کرلیاجاتاہے۔امام ابوجعفرطبری اور راغب اصفہانی اوران کی متابعت میں بہت سارے مفسرین نے نائب کے معنی لیے ضرورہیں،مگرامام ابو جعفر طبری یا راغب اصفہانی لغت، قرآن وحدیث سے اس کی کوئی دلیل نہیں دیتے، بلکہ اپنے قیاس سے یہ کہتے ہیں کہ انسان کو خلیفۃ اللہ اس کی تشریف واعزازکے لیے کہاگیاہے۔راغب اصفہانی کہتے ہیں: ۱۰؂ 'والخلافۃ النیابۃ عن الغیر إما لغیبۃ المنوب عنہ وإما لموتہ وإما لعجزہ وإما لتشریف المستخلف وعلی ہذا الوجہ الأخیر استخلف اللّٰہ أولیاء ہ في الأرض، قال تعالٰی: ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلَائِفَ فِی الْاَرْضِ'۔ خلافت غیرکی نیابت کو کہتے ہیں، یا تو اس وجہ سے کہ منوب عنہ غائب ہے یامرگیاہے یاوہ عاجز ہوگیاہے اوریاجس کو خلیفہ بنایا جا رہا ہے، اس کوعزت دینا مقصود ہے، اور اسی آخری معنی میں اللہ نے زمین میں اپنے اولیا کوخلیفہ بنایاہے جیساکہ فرمایا: اسی نے تم کوزمین میں جانشین بنایا۔
عام معنوں میں نیابت یہ ہے کہ بادشاہ ،صاحب امر یا ذمہ داریاعام آدمی بھی اپنے کام میں کسی دوسرے کو اپنا نائب، وکیل یامختاربنادے اپنے اختیارات اورمناصب میں سے کچھ اسے تفویض کردے ۔اورجانشینی یہ ہے کہ جانشین کواپنے منوب عنہ کے اختیارات مل جائیں۔ ظاہر ہے کہ یہ چیزیں مخلوق کے مابین تومتصوراورمعمول بہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں توان کا تصوربھی نہیں کیاجاسکتا۔سوال یہ ہے کہ کیاآدم یابنی آدم کوولی عہدمقررکرنے کے بعد اللہ تعالیٰ (نعوذباللہ )کہیں چلاگیاکہ آدم یابنی آدم اب اس کے جانشین ہوگئے؟ یااللہ نے انسان کو''اپناکوئی عہدہ یااختیار'' دے دیاہے کہ انسان کواس کا نائب کہاجاسکے؟اس لحاظ سے یہاں خلیفہ کے معنی جانشین یانائب، دونوں ہی لینا عقلاً محال اور غلط ہے۔کسی منطق کے زورپر اسے ثابت نہیں کیاجاسکتا۔کوئی کہہ سکتاہے کہ انسان کواللہ کا خلیفہ بتانے والے یہ معنی مرادنہیں لیتے جوآپ بتارہے ہیں،میں کہوں گاکہ ممکن ہے کہ واقعی میں ایساہی ہو،تاہم جب کسی کو کسی کاجانشین یانائب قراردیں گے تواس کا متبادرمفہوم یہی نکلے گاجس سے ہم نے اوپربحث کی ہے۔ انسانی ذہن سب سے پہلے متبادرمعنی ومفہوم ہی کی طرف دوڑتا ہے۔ توپھراللہ تعالیٰ کے لیے ایسے الفاظ و اصطلاحات بولے ہی کیوں جائیں جن سے اشتباہ پیداہوتاہو؟
انسانوں کواللہ کا خلیفہ ماننے کی بات اتنی سادہ ہے بھی نہیں،بلکہ اس کی فلسفیانہ اساس اگرڈھونڈی جائے تواس کے ڈانڈے تصوف کی اس روایت میں مل جاتے ہیں جس کے مطابق انسان اپنی صورت وحقیقت میں خداکی ذا ت کا پرتو ہے، بلکہ بعض توصاف صاف کہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے وجودکا ہی ایک ٹکڑاہے (معاذ اللہ) اور بالآخر اسی میں مل جائے گا۔مختلف فلسفوں میں اس فکرکوحلول اوراتحادسے تعبیرکیاجاتاہے ۔وجودی فلسفۂ تصوف جس کو بہت سے صوفیا تصوف کے مغزاورروح سے تعبیرکرتے ہیں،اس کے سِوا اور کیا ہے؟ ۱۱؂
انسان اللہ کاخلیفہ ہے، اس تصورکوپھیلانے میں بھی سب سے زیادہ ہاتھ متصوفین ہی کارہاہے۔
کوئی کہہ سکتاہے کہ اکثرمفسرین مذکورہ آیت کریمہ کا یہی معنی لیتے آرہے ہیں۔میں عرض کروں گاکہ یقیناًایسا ہی ہے، لیکن ضروری تونہیں جوچیز مشہورہوجائے، وہ صحیح ہواورواقع کے مطابق بھی ۔کتنے ہی مشہورواقعات اسرائیلی روایات یاضعیف حدیثوں کی وجہ سے مشہورہوگئے ہیں اورآج تحقیق سے ان کا غلط ہوناثابت ہوچکاہے۔سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھرانسان کی حیثیت دنیامیں کیاہے۔ خاک سارعرض کرے گاکہ قرآن وسنت سے یہی معلوم ہوتاہے کہ انسان اللہ کی مخلوق ہے، اس کا عبدہے اوراس کا عبدہوناہی معراج انسانیت ہے ۔اللہ نے اُسے بہت اہتما م سے پیدا فرمایا جس کو: 'خَلَقْتُ بِیَدَیَّ'۱۲؂ سے تعبیر فرمایا، اسے عقل وشعوردیا،علم الاسماء سے نوازا اور فرشتوں کا مسجود بنایا۔ اسے نیکی و بدی کے راستے دکھائے: 'وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ' (البلد ۹۰: ۱۰)، اللہ نے اپنی بہت سی مخلوقات پر اُسے شرف و عظمت دی ہے۔ فرمایا: 'وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ ... وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً' ۱۳؂ لیکن انسان کو عقل و شعور اور آزادی عمل جودی گئی ہے یاکائنات کی بہت سی اشیا اس کے لیے مسخرکی گئی ہیںیااورنعمتیں انسان کو دی گئی ہیں، وہ بربناے نیابت الٰہیہ نہیں، بربناے امتحان دی گئی ہیں: 'لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً'۔ ۱۴؂ اس لحاظ سے انسان کی حیثیت خلیفۃ اللہ کی نہیں محکوم ومامورکی ہے ۔اللہ کے احکام کے مطابق ہی اس کواپنے معاملات دنیاکی تنظیم کرنی چاہیے ۔تاہم یہ تنظیمِ امریاحکومت خلافت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے، کیونکہ تنظیم امر اور انسان کی انسان پرحکومت کو بربناے خلافت مان لیاجائے توایسی حکومت و تنظیم امور تو دوسری مخلوقات میں بھی پائی جاتی ہے۔ مثلاًچیونٹیوں میں دقیق تنظیمِ امرپائی جاتی ہے توکیاان کوبھی اللہ کا خلیفہ ماناجائے گا؟
اب ہمیں دیکھناہے کہ یہ نظریہ جوبہت سارے مفسرین کرام اورعلما نے اختیارکیاہے کہ انسان اللہ کا خلیفہ ہے، کیا خود قرآن و حدیث سے بھی یہ ثابت ہوتاہے یانہیں ۔صحیح یاغلط اس نظریہ کا ماخذبالعموم آیت کریمہ: 'اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' (البقرہ ۲: ۳۰) کو بنایا جاتا ہے۔ سورۂ بقرہ مدنی ہے، اس سے قبل بھی مکی آیتوں میں اس لفظ کا یااس کے مشتقات کا تذکرہ آ چکا ہے۔ چونکہ تفسیرکا مسلمہ اصول ہے کہ 'القرآن یفسر بعضہ بعضًا' (قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیرکرتاہے) تمام مفسرین مانتے ہیں کہ قرآن کا مفہوم متعین کرنے کا سب سے اشرف ترین ذریعہ قرآن ہے۔ ابن کثیرلکھتے ہیں: 'فإن قال قائل: فما أحسن طرق التفسیر؟ فالجواب: إن أصح الطریق في ذلک أن یفسر القرآن بالقرآن فما أجمل في مکان فإنہ بسطہ في موضوع آخر'۔ ۱۵؂
لہٰذا مذکورہ ارشاد الٰہی کے صحیح مفہوم تک پہنچنے کے لیے ان مکی سورتوں کوسامنے رکھناضروری ہے جن میں خلافت یا استخلاف کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔اوران کا سیاق وسباق خودبتادے رہاہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس کس کوخلیفہ بنایااورکس کس کابنایا۔ یہ آیات کل ۱۲ ہیں اور سورۂ نورکی آیت استخلاف کوچھوڑکرباقی سب مکی سورتوں میں آئی ہیں۔ واضح رہے کہ خلف اوراس کے مشتقات کا استعمال درج ذیل آیتوں کے علاوہ بھی متعددمقامات پر ہواہے۔ان آیات کے ترجمے ہم نے قصداً انھی مترجمین ومفسرین کے لیے ہیں جوانسان کواللہ کا خلیفہ مانتے ہیں،تاہم ذیل کی آیات میں کوئی بھی خلیفہ،خلافت اوراستخلاف کا ترجمہ اس نظریہ کے تحت نہیں کرتا، بلکہ سب یہی بات کہتے ہیں کہ ایک قوم کی جگہ دوسری قوم کواس کی جانشین بنادیا۔ملاحظہ ہو:
۱۔ حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں: 'وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ' (الاعراف مکیہ ۷:۷۴) ''اوروہ وقت یادکروکہ خدانے تمھیں قوم عادکے بعداُس کا جانشین بنایا'' (ترجمہ ابوالکلام آزاد)۔ 'خلفاء' 'خلیفہ' کی جمع ہے۔
۲۔ حضرت ہودعلیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں: 'وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ' (الاعراف مکیہ ۷: ۶۹) ''خداکا یہ احسان یادکروکہ اپنی قوم نوح کے بعدتمھیں اس کا جانشین بنایا''(ترجمہ ابوالکلام آزاد)۔
۳۔ایک اورجگہ ہودعلیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں: 'وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ' (ہودمکیہ۱۱: ۵۷) ''مجھے تویہ نظرآرہاہے کہ میراپروردگارکسی دوسرے گروہ کوتمھاری جگہ دے دے گا''(ترجمۂ مذکور)۔
۴۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ان کی تکذیب کی ،اس پر عذاب آیا،اس بارے میں فرمایا: 'فَنَجَّیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْفُلْکِ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰٓئِفَ' (یونس مکیہ۱۰: ۷۳) ''پس ہم نے اُسے (نوح کو) اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں سوارتھے (طوفان) سے بچایااورغرق شدہ قوم کا جانشین بنایا'' (ترجمۂ مذکور)۔
۵۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کوآگاہ کرتے ہوئے کہاکہ 'عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ' (الاعراف مکیہ۷: ۱۲۹) ''قریب ہے کہ تمھارا پروردگار تمھارے دشمن کوہلاک کردے اورتمھیں ملک میں اس کا جانشین بنائے پھردیکھے (اس جانشینی کے بعد)تمھارے کا م کیسے ہوتے ہیں'' (ترجمۂ مذکور)۔
۶۔ عہدنبوی کے لوگوں سے خطاب ہوا: 'ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ فِی الْاَرْضِ' (فاطر مکیہ ۳۵: ۳۹) ''وہی ہے جس نے تم کوزمین میںآباد کیا'' (ترجمۂ مولانامحمدجوناگڑھی)۔ ''وہی ہے جس نے تم کوزمین میں قائم مقام کیا'' (ترجمہ شیخ الہند)۔ حاشیہ میں مولاناشبیراحمدعثمانی نے وضاحت کی ہے: یعنی اگلی امتوں کی جگہ تم کوزمین میں آباد کیا اور ان کے بعدریاست دی ۔
۷۔ 'وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ' (النمل مکیہ ۲۷: ۶۲) ''اور کرتا ہے تم کونائب اگلوں کا زمین پر'' (ترجمہ شیخ الہند)۔
۸۔ 'وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ' (الانعام مکیہ۶: ۱۶۵) ''اور وہی ہے جس نے تمھیں (ایک دوسرے کا) زمین میں جانشین بنایا''(ترجمۂ آزاد )۔
۹۔ 'ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَآٰئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ م بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ' (یونس مکیہ۱۰: ۱۴) ''پھر ان امتوں کے بعدہم نے تمھیں ان کا جانشین بنایاتاکہ دیکھیں کہ تمھارے کام کیسے ہوتے ہیں'' (ترجمۂ مذکور)۔
۱۰۔ 'اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْ م بَعْدِکُمْ مَّا یَشَآءُ کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ' (الانعام مکیہ ۶: ۱۳۳) ''اگر وہ چاہے توتمھیں ہٹا دے اورتمھارے بعدجس گروہ کوچاہے تمھاراجانشین بنادے جس طرح ایک دوسرے گروہ کی نسل سے تمھیں اٹھاکھڑاکیاہے''۔
۱۱۔ 'وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ' (النور مدنی ۲۴: ۵۵)۔ مولاناآزادنے اس آیت کا ترجمہ کیا ہے: ''جولوگ تم میں ایمان لائے ہیں اور ان کے عمل بھی اچھے ہیں ان سے اللہ کا وعدہ پوراہواکہ زمین کی خلافت (یعنی اقتدار)انھیں عطافرمائے گا اُسی طرح جس طرح ان لوگوں کودے چکاہے جوان سے پہلے گزرچکے ہیں''۔ مولاناصلاح الدین یوسف نے اس آیت کی تفسیرمیں استخلاف سے مرادوہ غلبہ واقتدارلیاہے جوخلافت راشدہ کے زمانہ اورمابعدمیں مسلمانوں کودوسری قوموں پر ملاہے (ملاحظہ ہو:ترجمہ مولانامحمدجوناگڑھی وتفسیرصلاح الدین یوسف شائع کردہ سعودی عرب ) ۔
۱۲۔ یہ توقوموں کی بات ہوئی کہ ایک قوم یاگروہ کے بعدکسی دوسری قوم یاگروہ نے اُس کی جگہ لی ۔اس کے علاوہ مخصوص اشخاص وافرادکا جہاں تک تعلق ہے توغالباًقرآن میں صرف حضرت داؤدعلیہ السلام کے بارے میں واضح طورپر آیاہے کہ ان کو''زمین میں خلافت دی گئی'' فرمایا: 'یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ' (ص مکیہ ۳۸: ۲۶)۔
واضح رہے کہ لفظ 'خلیفہ' بعینہٖ قرآن میں انھی دو جگہوں میں آیاہے، ایک سورۂ بقرہ میں اورایک یہاں، یعنی سورۂ ص میں۔ یہاں سوال یہ ہوگاکہ حضرت داؤدکوکس کا خلیفہ بنایاگیاتوعلامہ شوکانی نے اس کا جواب یہ دیا ہے: أي وقلنا لہ (یاداؤد إنا) استخلفناک علی الأرض أوجعلناک خلیفۃ لمن بعدک من الأنبیاء لتأمر بالمعروف وتنہی عن المنکر ۱۶؂ ۔ یعنی ہم نے ان سے کہاکہ اے داؤد، ہم نے تم کوزمین پرخلافت دی یایہ مطلب ہے کہ ہم نے تم کوتم سے پہلے کے انبیا کا خلیفہ بنایاامربالمعروف ونہی عن المنکرکے لیے۔
یہ بارہ آیتیں ہیں جوخلیفہ ،خلافت واستخلاف کے قرآنی استعمالات کی نظیرہیں۔ان کے علاوہ بھی قرآن وحدیث میں بعض اور جگہوں پر بھی اس لفظ کااستعمال ہواہے، تاہم کہیں بھی مروجہ مفہوم مرادنہیں لیاگیا،اسی طرح ان میں سے کسی بھی آیت میں یہ نہیں کہاگیاہے کہ فلاں قوم یافلاں گروہ یافلاں فردکواللہ تعالیٰ نے ''اپناجانشین یاخلیفہ مقرر کیا ہے''۔ ان آیتوں سے بالکل واضح ہے کہ زمین میں جانشین کردینے کا مطلب ہے: ''کسی قوم یافردکوکسی پہلی اورسابق قوم کی جگہ آبادکردینایاکسی پہلی قوم یاسابق گروہ سے اقتدار لے کردوسری قوم کودے دینا''۔ لہٰذا آیت: 'اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' میں بھی زمین کی خلافت سے مرادیہی جانشینی ہونی چاہیے اورزمین کے حوالہ سے خلافت یا جانشینی کا یہی مفہوم قرین قیاس لگتاہے، کیونکہ قرآن میں زمین کی خلافت کا ہی ذکرہے عرش کی خلافت کا نہیں، اگرعرش کی خلافت کا ذکرہوتاتورائج ''خلافت الٰہیہ ''کے مفہوم کی گنجایش نکل سکتی تھی ۔
مذکورہ بارہ آیات کریمہ کی روشنی میں ہی سورۂ بقرہ (مدنیہ )کی آیت خلافت 'وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَآٰءِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' کا مفہوم سمجھاجاسکتاہے، چنانچہ کئی مفسرین کرام نے بھی یہی معنی لیاہے ،امام ابن کثیر کہتے ہیں:
اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً أي قومًا یخلف بعضہم بعضًا قرنًا بعد قرن وجیلًا بعد جیل کما قال تعالٰی (ھو الذی جعلکم خلائف الارض) وقال (ویجعلکم خلفاء (الارض)) وقال (ویجعلکم خلفاء الارض وقال ولو نشاء لجعلنا منکم ملائکۃ فی الارض یخلفون) وقال (فخلف من بعدھم خلف). ۱۷؂
''میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والاہوں، یعنی ایسے لوگوں کوآبادکرنے والاہوں جوایک کے بعدایک اورنسل در نسل ایک دوسرے کی جگہ لیں گے ۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''وہی ہے جس نے تم کوزمین پر اگلوں کا خلیفہ بنایا'' اور فرمایا: ''اور وہ تم کوزمین پر اگلوں کا نائب بناتاہے'' اور فرمایا: ''اور اگرہم چاہتے توتم میں فرشتے بنادیتے جو پہلوں کی جگہ لیتے'' اور فرمایا: ''ان کے بعدوہ لوگ آئے جوناخلف ثابت ہوئے''۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ابن کثیرکی اپنی راے تویہی ہے۔اس کی تفصیلات بیان کرنے کے بعدانھوں نے اس مسئلہ میں دوسرے مفسرین کی آرا اس سرخی کے ساتھ بیان کی ہیں: 'ذکر أقوال المفسرین ببسط ما ذکرناہ'۔ اس میں ابن جریرطبری کا وہ قول بھی ہے جس میں انھوں نے انسان کواللہ کا خلیفہ قراردینے والی راے کا ذکر کیا ہے۔ متاخرین میں علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھی نے بھی اپنی گراں قدر تفسیر ''مفتاح القرآن'' میں اس آیت کریمہ کی یہی توضیح فرمائی ہے۔واضح رہے کہ علامہ کی تفسیرکی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے تفسیری روایات کی روایتاً و درایتاً تحقیق و تنقیدکی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
'وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَآٰءِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' : ''اور اے نبی یہ واقعہ سن کہ تیرے رب نے جب فرشتوں سے فرمایاکہ میں زمین میں خلیفہ، یعنی جانشینی کے ساتھ آبادرہنے والی مخلوق کی حیثیت سے رکھنے والا ہوں''۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے طے کرلیاہے کہ نوع انسانی نسل درنسل زمین میں آبادرہے گی۔ یہاں 'جَاعِلٌ' کے معنی ہیں: رکھنے والا، 'جعل' کا رکھنے کے معنی میں استعمال معروف ہے ۔چنانچہ سورۂ یوسف میں ہے 'جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ' (یوسف نے اپنے بھائی کے اسباب میں جام شاہی رکھ دیا) اور بقرینۂ سیاق یہاں 'جَاعِلٌ' کا مفعول اول، یعنی الانسان مقدرہے۔۔۔۔ نفیس لغوی بحث اورقرآنی شواہدکے ذکرکرنے کے بعدآگے فرماتے ہیں: ''انسان، بشر، آدمی کی طرح خلیفہ بھی نوع بنی آدم کا لقب ہے ۔یہ لفظ اس نوع کی ایک خاص اورامتیازی صفت کو ظاہر کرتا ہے، وہ یہ کہ روئے زمین پر جتنی بھی مخلوقات محسوسہ پائی جاتی ہیں، ان میں صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جو جانشینی کے تسلسل کے ساتھ یہاں آباد ہے اور قیامت تک رہے گی۔ یہ جانشینی، یعنی پچھلوں کا اگلوں کی جگہ آباد اور متاخرین کا متقدمین کے مقام کولیتے رہناافرادکے لحاظ سے بھی ہے، دین ومذہب میں بھی ہے اورعلم وہنرمیں بھی، رنگ ڈھنگ میں بھی ہے اوراخلاق وعادات میں بھی'' وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مزیدفرماتے ہیں: ''صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جونسل ونسب کے بعیدترین رشتوں کوبھی ملحوظ رکھتی ہے ۔اخلاف اپنے اسلاف کی مادی املاک کے بھی وارث ہوتے ہیں اوراکثران کے معنوی اوصاف کے بھی حامل بنتے ہیں پس انسان ہی وہ مخلوق ہے جس میں خلافت و توارث اورجانشینی کا طریقہ فطری طورپر پایاجاتاہے ۔قرآن کریم میں اسی معنی کے لحاظ سے انسان کو 'خلیفہ' اور انسانوں کو 'خلائف' اور 'خلفاء' کہاگیاہے ۔لیکن شروع سے آخرتک قرآن کریم میں انسان کوخلیفۃاللہ نہیں کہاگیاحتیٰ کہ کسی نبی کے لیے بھی یہ لفظ نہیں آیا۔ داؤد علیہ السلام کے متعلق یہ ارشاد ہوا ہے: 'یا داؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض' (اے داؤد علیہ السلام ہم نے تجھے اس سرزمین میں خلیفہ بنایا ہے)، یعنی سلطنت میں طالوت کا اورنبوت میں حضرت شمویل علیہ السلام کا جانشین ۔اس کا ترجمہ یہ نہیں ہے کہ ''اے داؤدہم نے تجھے اپناخلیفہ بنایاہے۔''جن مترجمین نے یہ ترجمہ کیاہے غلط کیاہے۔ اس میں 'اپنا'کا لفظ بالکل غلط اضافہ ہے۔ اسی طرح یہاں 'اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' کا یہ ترجمہ بالکل غلط ہے کہ میں زمین میں اپنانائب بنانے والا ہوں۔ ہاں اگر 'خلیفتي'یا 'خلیفۃ لي' ہوتا تو یہ ترجمہ صحیح قرار دیا جاتا'' (تفسیرمفتاح القرآن ،جلداول صفحہ ۱۱۰، علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی طبع مکتبہ ازہریہ میرٹھ)۔ ابن کثیرنے بھی اپنی تفسیرمیں خلیفہ کا یہی مفہوم صحیح قراردیاہے ۔حضرت حسن بصری سے بھی امام طبری نے یہی قول نقل کیاہے ۔وہ فرماتے ہیں: 'خلیفۃ: الذین یخلف بعضہم بعضًا'۔ ۱۸؂
مولانا محمد جوناگڑھی نے اس آیت: 'اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً' کا ترجمہ یوں کیا ہے: ''اورجب تیرے رب نے فرشتوں سے کہاکہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں'' ۔۔۔ اس کی تفسیرمیں مولاناصلاح الدین یوسف یوں فرماتے ہیں: ۱۹؂ ''خلیفہ سے مرادایسی قوم ہے جوایک دوسرے کے بعدآئے گی اوریہ کہناکہ انسان اس دنیامیں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اورنائب ہے غلط ہے''۔ تقریباً اسی سے ملتا جلتا مفہوم مفسر موصوف نے سورۂ یونس میں آئے فقرہ 'خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ' (۱۴) کا بیان کیا ہے۔ ''خلائف، خلیفہ کی جمع ہے، اس کے معنی ہیں گذشتہ امتوں کا جانشین یا ایک دوسرے کا جانشین'' ص ۶۴۔ راقم سطوراپنے محدودمطالعہ اوراپنی علمی بے بضاعتی کے اعتراف کے باوجودیہ کہنے میں کوئی حر ج نہیں سمجھتا کہ خلیفہ اورخلافت کے سلسلہ میں مذکورہ بالاتین مفسرین کرام کا مفہوم ہی بے غبار اور قرآن و سنت سے زیادہ ہم آہنگ معلوم ہوتاہے۔ خلیفہ وخلافت کے سلسلہ میں مروجہ مفہوم روح شریعت سے بعیدمعلوم ہوتا ہے، کیونکہ کتاب وسنت میں اس کی کوئی منصوص دلیل نہیں،جوکچھ بھی ہے، وہ مفسرین کا اپنااستدلال اور استنباط ہے۔ اوراس کی حیثیت بس ایک اجتہادی راے کی ہوگی ۔اس کوامت کی اجماعی راے بتانادرست نہ ہو گا۔
_____
۱؂ مولاناعلی میاں ندوی، ''عصر حاضر میں دین کی نئی تشریح پر ایک نظر'' (عربی ترجمہ التفسیرالسیاسی للاسلام)؛ مولانا محمد منظور نعمانی، ''مولانامودوی کے ساتھ میری رفاقت اوراب میرا موقف''؛ مولانا وحید الدین خاں، ''تعبیر کی غلطی''؛ شیخ محمدسلیمان القائد، ''الخطأ فی التفسیر'' اور مولانا سلطان احمداصلاحی، ''مسئلہ حاکمیت الٰہ کا تنقیدی جائزہ''۔ نیز جناب جاویداحمدغامدی صاحب نے بھی اپنی کئی نگارشات میں اس پر روشنی ڈالی ہے، مثلاً ملاحظہ ہو ''مقامات'': شائع کردہ الموردلاہورپاکستان۔
۲؂ پروفیسر صبیح الدین انصاری نے اپنی دوکتابوں: ۱۔ ''کیاانسان اللہ کا خلیفہ ہے'' ۲۔ ''مولانامودودی کا تصورخلافت، تفہیم القرآن اور تفہیمات'' کے خصوصی حوالہ سے(مکتبہ الفوزان بٹلاہاؤس جامعہ نگر نئی دہلی ) میں تفصیل سے مولانامودودی کے تصورخلافت کا ناقدانہ جائزہ لیاہے)۔ نیزپروفیسرالطاف احمداعظمی نے اپنی ناقدانہ کتاب: ''احیاء دین اورتین دینی جماعتیں'' میں تفصیل سے اس تصورپرنقدکیاہے۔
۳؂ یہ ٹکڑااس لمبی دعاکا حصہ ہے جوطائف کے دعوتی سفرسے واپسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔(تہذیب سیرۃ ابن ہشام ۹۷) اس کے علاوہ ایک نبوی دعا ان الفاظ میں آئی ہے: 'اللّٰہم أنت الصاحب في السفر والخلیفۃ في الأہل'، (صحیح مسلم) 'اللّٰہم أنت الصاحب في السفر والخلیفۃ في الأہل اللّٰہم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أہلنا' (الفتاویٰ الکبریٰ، ابن تیمیہ ۲/ ۵۵۲)۔
۴؂ 'عن أبي ملیکہ أن رجلًا قال لأبي بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ: یا خلیفۃ اللّٰہ، فقال: أناخلیفۃ محمد ﷺ وأناراض بذالک'۔ اس کے علاوہ حضرت عمربن عبدالعزیز کا اسی طرح کا ایک واقعہ پروفیسرمحمدصبیح الدین انصاری نے اپنی کتاب میں نقل کیاہے،ملاحظہ ہو: کیاانسان اللہ کا خلیفہ ہے ص۸۷۔
۵؂ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،الفتاویٰ الکبریٰ، ۲/ ۵۵۳۔
۶؂ ص ۱۵۵ ،المفردات فی غریب القرآن للراغب الاصفہانی دارالمعرفہ بیروت۔
۷؂ الفرقان ۲۵: ۶۲۔
۸؂ مریم ۱۹: ۵۹۔
۹؂ ملاحظہ ہوتفسیرعثمانی برترجمہ شیخ الہندحاشیہ نمبر۵شائع کردہ سعودی عرب، البقرہ ۲: ۲۰۔
۱۰؂ المفردات فی غریب القرآن للراغب الاصفہانی دارالمعرفہ ص ۱۵۶۔
۱۱؂ دیکھیے: ''وحدت الوجودایک غیراسلامی نظریہ'' ،پروفیسر الطاف احمد اعظمی۔
۱۲؂ ملاحظہ ہو سورۂ ص ۳۸: ۷۵۔اس کے علاوہ تکریم بنی آدم کا ذکربنی اسرائیل (۱۷: ۷۰) میں بھی کیا گیا ہے: 'وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ ... وَفَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً'۔
۱۳؂ بنی اسرائیل ۱۷: ۷۰۔
۱۴؂ الملک ۶۷: ۲۔
۱۵؂ تفسیرالقرآن العظیم لابن کثیر،الجزء الاول، مکتبہ التجاریۃ مصر، ص۳۔
۱۶؂ فتح القدیرفی تفسیرالقرآن العزیز، المجلدالرابع، مکتبہ المعارف، الریاض، ص ۴۲۹۔
۱۷؂ تفسیرالقرآن العظیم ابن کثیرصفحہ ۶۹طبع المکتبۃ التجاریہ الکبریٰ مصر۔
۱۸؂ طبری بحوالہ تفسیرمفتاح القرآن جلداول صفحہ ۱۱۰۔
۱۹؂ ملاحظہ ہو:صفحہ ۱۷ ترجمہ وتفسیرمولاناجوناگڑھی شائع کردہ شاہ فہدقرآن کریم کمپلیکس۔
____________