یہ (قرآن ) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا ایک ہی ہے اور دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ( ابراھیم ؑ : 52)
دنیا آٹومیشن پر نہیں، سنتِ الٰہیہ پر چلتی ہے
قرآن مجید اور کائنات: جدید سائنس کی روشنی میں
قرآن مجید نہ صرف روحانی ہدایت کا سرچشمہ ہے، بلکہ اس میں کائنات، فطرت، اور تخلیق کے بارے میں گہرے اشارات بھی موجود ہیں۔ یہ اشارات جدید سائنس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار انسانوں کو کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن مجید کی چند آیات کو پیش کریں گے، جن میں کائنات کے بارے میں اشارات موجود ہیں، اور جدید دور کے مفسرین نے ان کی جو تفسیر کی ہے، اس کا مختصر ذکر کریں گے۔
۱۔ کائنات کی ابتدا: بگ بینگ تھیوری
قرآن مجید میں کائنات کی ابتدا کے بارے میں واضح اشارہ سورہ الانبیاء کی آیت 30 میں ملتا ہے:
"کیا وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا، نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا؟ کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟" (الانبیاء: 30)
اس آیت میں "آسمان اور زمین کا باہم ملے ہوئے ہونا" اور پھر ان کا جدا ہونا، جدید سائنس کی بگ بینگ تھیوری سے مماثلت رکھتا ہے۔ جدید مفسرین، جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر موريس بوکائے، نے اس آیت کو بگ بینگ تھیوری کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کائنات ایک ابتدائی نقطے (singularity) سے پھیلی ہے، جو جدید سائنس کے مطابق بگ بینگ کا نظریہ ہے۔
۲۔ کائنات کی وسعت اور پھیلاؤ
سورہ الذاریات کی آیت 47 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔" (الذاریات: 47)
اس آیت میں "وسعت دینے والے ہیں" کا ذکر جدید سائنس کے "کائنات کے پھیلاؤ" (Expansion of the Universe) کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔ 1920 کی دہائی میں ایڈون ہبل نے دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ جدید مفسرین، جیسے ڈاکٹر نعیم احمد، نے اس آیت کو جدید فلکیات کے تناظر میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت کائنات کے پھیلاؤ کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔
دین فطرت ۔ مفتی ابو صالح محمد قاسم قادری عطاری
قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار
![]() |
| قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار |
جو فلسفی جبر کے قائل ہیں ، ان کے دلائل یہ ہیں کہ انسان اس کائنات میں ایک میشن کے پرزہ کی مانند ہے ، اس لیے کسی پرزے کی آزادی کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ان کی طرف سے دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس طرح دنیا کی ہرچیز طبیعات کے بے لچک قوانین کے تحت چل رہی ہے انسان بھی انہی بے لچک قوانین کے تابع ہے اس وجہ سے آزادی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ البتہ کچھ متعدل فلسفیوں کا کہنا ہے کہ ازل سے ابدتک تمام واقعات علت و معلول کی ایک طویل زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ انسان بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے اس وجہ سے اس کے اعمال ایسے عوامل کا نتیجہ ہیں جن پر انسان کو کوئی اختیار نہیں ، اس گروہ کا نمائندہ فلسفی ، زینو (zeno) ہے، مشہور فلسفی والٹئیر نے یہ کہ کر بات ختم کردی " میں جو چاہوں اگر کرسکوں تو آزاد ہوں لیکن کیا میں یہ چاہنے میں بھی آزاد ہوں ؟ " یونان کے ابتدائی عہد کے فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ دنیا پر چند جابر قوتوں کی حکمرانی ہے جن کے سامنے انسان بے بس ہے، یہی قوتیں انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ یونان اور ہندوستان کی ساری دیومالائی کہانی اسی تصور پر گھڑی گئی تھی ۔ فلسفیوں کا ایک بڑا گروہ جس میں قدیم یونانی رواقی فلسفی، وحدۃ الوجود کے قائل فلسفی سپنوزا اور پندرھویں صدی اور سولہویں صدی کے سائنسدان اور فرانس کا مشہور فلسفی والٹیئر اس عقیدہ جبر کے قائل ہیں۔
قرآن حکیم : فلسفۂ خیر و شر پر ایک نظر
![]() |
| قرآن حکیم : خیر اور شر کے فلسفہ پر ایک نظر |
کائنات میں انسان کا مقام - ابوالبشر احمد طیب
![]() |
| کائنات میں انسان کا مقام |
خدا کی ذات و صفات کی معرفت - ابوالبشر احمد طیب
![]() |
| خدا کی ذات و صفات کی معرفت |



