فلسفہ کائنات اور قرآن حکیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فلسفہ کائنات اور قرآن حکیم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

دنیا آٹومیشن پر نہیں، سنتِ الٰہیہ پر چلتی ہے

قرآنِ مجید جب جنت کی زندگی کا ذکر کرتا ہے تو ایک ایسی دنیا کا تصور سامنے آتا ہے جہاں انسان کی خواہش ہی اس کی تکمیل کا سبب بن جاتی ہے۔ وہاں نہ محنت کی مشقت ہے، نہ اسباب کی دوڑ، نہ ناکامی کا خوف۔ انسان جو چاہے گا، وہی اس کے سامنے حاضر ہوگا۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جو گویا مکمل آٹومیشن پر قائم ہے؛ ارادہ، اور فوراً اس کی تکمیل۔

لیکن قرآن یہی اسلوب دنیا کے لیے اختیار نہیں کرتا۔ دنیا کے باب میں قرآن کی زبان بدل جاتی ہے، لہجہ سنجیدہ ہو جاتا ہے، اور قانون بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں خواہش نہیں، سعی فیصلہ کن ہے۔ یہاں دعویٰ نہیں، عمل معیار ہے۔ یہاں نسبت نہیں، نظام غالب ہے۔ قرآن واضح اعلان کرتا ہے کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو جنت اور دنیا کو الگ کرتا ہے، اور یہی فرق آج ہماری اجتماعی غلط فہمی کی جڑ بن چکا ہے۔

یہ کائنات کسی جذباتی کیفیت پر نہیں چل رہی، بلکہ ایک ہمہ گیر نظم کے تحت سرگرم ہے۔ قرآن اس نظم کو کبھی “تسبیح” کہتا ہے اور کبھی “تسخیر”۔ آسمان و زمین کی ہر شے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے، مگر یہ تسبیح الفاظ کی نہیں بلکہ فرمانبردارانہ حرکت کی ہے۔ سورج کا طلوع و غروب، زمین کی زرخیزی، موسموں کی گردش، وقت کا بہاؤ—سب ایک مقررہ قانون کے تحت رواں ہیں۔ یہاں کسی شے کو رعایت نہیں دی گئی کہ وہ محض نیت یا نسبت کے سہارے اپنا کام چھوڑ دے۔

دنیا کی کامیابی کا یہی اصول انسان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن دنیا میں کامیابی کو کسی خاص مذہبی شناخت کے ساتھ مشروط نہیں کرتا، بلکہ ایک درست نظریۂ حیات اور اس کے مطابق جدوجہد سے جوڑتا ہے۔ جو قومیں علم، نظم، منصوبہ بندی اور عمل کو اختیار کرتی ہیں، وہ دنیا میں آگے بڑھتی ہیں، چاہے ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔ اور جو قومیں محض دعووں، تمناؤں اور جذباتی نعروں پر اکتفا کرتی ہیں، وہ پیچھے رہ جاتی ہیں، چاہے ان کے پاس آسمانی کتاب ہی کیوں نہ ہو۔

قرآن مجید اور کائنات: جدید سائنس کی روشنی میں

 قرآن مجید نہ صرف روحانی ہدایت کا سرچشمہ ہے، بلکہ اس میں کائنات، فطرت، اور تخلیق کے بارے میں گہرے اشارات بھی موجود ہیں۔ یہ اشارات جدید سائنس کے ساتھ حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار انسانوں کو کائنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن مجید کی چند آیات کو پیش کریں گے، جن میں کائنات کے بارے میں اشارات موجود ہیں، اور جدید دور کے مفسرین نے ان کی جو تفسیر کی ہے، اس کا مختصر ذکر کریں گے۔

۱۔ کائنات کی ابتدا: بگ بینگ تھیوری

قرآن مجید میں کائنات کی ابتدا کے بارے میں واضح اشارہ سورہ الانبیاء کی آیت 30 میں ملتا ہے:

"کیا وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا، نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا؟  کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟"  (الانبیاء: 30)

اس آیت میں "آسمان اور زمین کا باہم ملے ہوئے ہونا" اور پھر ان کا جدا ہونا، جدید سائنس کی بگ بینگ تھیوری سے مماثلت رکھتا ہے۔ جدید مفسرین، جیسے ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر موريس بوکائے، نے اس آیت کو بگ بینگ تھیوری کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کائنات ایک ابتدائی نقطے (singularity) سے پھیلی ہے، جو جدید سائنس کے مطابق بگ بینگ کا نظریہ ہے۔

۲۔ کائنات کی وسعت اور پھیلاؤ

سورہ الذاریات کی آیت 47 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔"  (الذاریات: 47)

اس آیت میں "وسعت دینے والے ہیں" کا ذکر جدید سائنس کے "کائنات کے پھیلاؤ" (Expansion of the Universe) کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔ 1920 کی دہائی میں ایڈون ہبل نے دریافت کیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ جدید مفسرین، جیسے ڈاکٹر نعیم احمد، نے اس آیت کو جدید فلکیات کے تناظر میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت کائنات کے پھیلاؤ کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔

دین فطرت ۔ مفتی ابو صالح محمد قاسم قادری عطاری

ارشاد باری تعالی ہے : 

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًاؕ-فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُۗۙ-وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سورہ روم 30)

تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔ (یہ) الله کی پیدا کی ہوئی فطرت (ہے) جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا ۔ الله کے بنائے ہوئے میں تبدیلی نہ کرنا۔ یہی سیدھا دین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر: ‎صراط الجنان مفتی ابو صالح محمد قاسم قادری عطاری

[ فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا: تو ہرباطل سے الگ ہو کر اپنا چہرہ اللہ کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ جب معاملہ واضح ہو گیا، اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت (روزِ روشن کی طرح) عیاں ہو چکی اور بہت سے مشرک اپنے ضدوعداوت کی وجہ سے ہدایت حاصل نہ کریں گے تو آپ ان مشرکوں کی طرف کوئی اِلتفات نہ فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کے دین پر خلوص،اِستقامت اور اِستقلال کے ساتھ قائم رہیں۔( تفسیرکبیر، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۹ / ۹۸، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳ / ۴۶۳، ملتقطاً)

[فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا: اللہ کی پیدا کی ہوئی فطرت جس پر اس نے لوگوں کوپیدا کیا۔]

اس آیت میں فطرت سے مراد دین ِاسلام ہے اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ایمان پر پیدا کیا،جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔( بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات ہل یصلی علیہ۔۔۔ الخ، ۱ / ۴۵۷، الحدیث: ۱۳۵۸، مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۲۸، الحدیث: ۲۲(۲۶۵۸)

یعنی اسی عہد پر پیدا کیا جاتاہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے ’’اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ‘‘ فرما کر لیا ہے،تو دنیامیں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اسی اقرار پر پیدا ہوتا ہے اگرچہ بعد میں وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے لگ جائے ۔

قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار

قرآن حکیم : فلسفہ جبر و اختیار 
انسان نے جب سے زندگی کے مسائل پر غور کرنا شروع کیا اسی وقت سے  اس کے سامنے یہ  سوال بھی رہا ہے کہ کیا انسان غیب کی طرف سے  ایک مقررہ ڈگر پر ہانک دیا گیا ہے کہ اب وہ بالکل بے اختیار ہے، یا وہ اپنے لیے خود راہ عمل اختیار کرتا ہے، اس کے ارادے اور عمل میں  کسی کا کوئی دخل نہیں ، وہ اپنے  فیصلے اور کام خود کرتا ہے۔؟  اس مسئلہ میں اہل دانش کے دو گروہ ہیں : ایک جبر کے قائل ہے کہ غیب کی طرف سے انسان کے لیے ایک راہ مقرر کردی گئی وہ اس پر چلنے پر مجبور ہے  اور دوسرا گروہ  انسان کی آزادی اور اختیار کا قائل ہے ۔

اگر پہلی صورت ہے یعنی جبر تو انسان کے اعمال کے نیک اور بد ہونے کا  سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور انسان کو اس کے اعمال پر  جزا و سزا ملنے کا تصور بے معنی ہوجاتا ہے ۔  اور اگر دوسری صورت ہے یعنی آزادی اور اختیار تو انسان کی آزادی کی نوعیت کیا ہے اور وہ کس حد تک اپنے فیصلے اور عمل میں آزاد ہے؟ ابارے میں فلسفیوں نے مختف رائی ظاہر کی ہے ،  ذیل میں اس فلسفہ جبر اور اختیار کے بارے میں  فلسفیوں کے مختلف دلائل کا تنقیدی جائزہ لیں گے پھر قرآن حکیم کا نقطہ نظر پیش کیا جائے گا ۔

  جو فلسفی جبر کے قائل ہیں ، ان کے دلائل یہ ہیں کہ انسان اس کائنات میں ایک میشن کے پرزہ کی مانند  ہے ، اس لیے کسی پرزے کی آزادی کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ ان کی طرف سے دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس طرح دنیا کی ہرچیز طبیعات کے بے لچک قوانین کے تحت چل رہی ہے انسان بھی انہی بے لچک قوانین کے تابع ہے اس وجہ سے آزادی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ البتہ کچھ متعدل فلسفیوں کا کہنا ہے کہ ازل سے ابدتک تمام واقعات علت و معلول کی ایک طویل زنجیر کی کڑیاں ہیں ۔ انسان بھی اس زنجیر کی ایک کڑی ہے  اس وجہ سے اس کے اعمال ایسے عوامل کا نتیجہ ہیں جن پر انسان کو کوئی اختیار نہیں ، اس گروہ کا نمائندہ فلسفی ، زینو (zeno) ہے،  مشہور فلسفی والٹئیر نے یہ کہ کر بات ختم کردی " میں جو چاہوں اگر کرسکوں تو آزاد ہوں لیکن کیا میں یہ چاہنے  میں بھی آزاد ہوں ؟ "  یونان کے ابتدائی عہد کے فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ دنیا پر چند جابر قوتوں کی حکمرانی ہے جن کے سامنے انسان بے بس ہے،  یہی قوتیں انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ یونان اور ہندوستان  کی ساری دیومالائی کہانی اسی تصور پر گھڑی گئی تھی ۔  فلسفیوں کا ایک بڑا گروہ جس میں قدیم یونانی رواقی فلسفی، وحدۃ الوجود کے قائل فلسفی سپنوزا اور پندرھویں صدی اور سولہویں صدی کے سائنسدان اور فرانس کا مشہور فلسفی  والٹیئر اس عقیدہ جبر کے قائل ہیں۔ 

قرآن حکیم : فلسفۂ خیر و شر پر ایک نظر

قرآن حکیم : خیر اور شر کے فلسفہ پر ایک نظر 
انسان نے جب سے زندگی کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش شروع کی ہے اس وقت سے خیر اور شر کا موضوع اس کے غور و فکر کا بنیادی مسئلہ رہا ہے ، ہر زمانے کے فلسفیوں نے اس موضوع پر رائی زنی کی ہے ، اہل مذہب نے بھی اس عقدہ کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس موضوع کو چند سوالات نے مزید الجھا دیا وہ یہ ہیں : 

1- کیا خیر اور شر دو الگ الگ چیزیں ہیں یا دونوں کا وجود محض اضافی اور نسبتی  ہے یعنی کیا زمانہ اور حالات کے لحاظ سے خیر اور شر کا معیار بدل جا تا ہے ؟

2- کیا خیر اور شر کا تصور انسان کی فطرت میں لکھا ہوا ہے اگر ایسا ہے تو وہ کون سا معیار اور کسوٹی ہے جن پر پرکھ کر معلوم کیا جاسکے کہ یہ خیر ہے اور یہ شر ہے ؟

3- اگر خیر اور شر کا معیار فطری ہے تو قوموں ، ملتوں اور گروہوں اور افراد کے درمیاں اختلافات کیوں ہیں ؟ 

ان سوالات پر ہرزمانہ کے دانشوروں ، حکیموں اور فلسفیوں نے غور و فکر کے بعد اپنی اپنی رائے ظاہر کی  ہے۔ لیکن قرآن حکیم اس بارے میں  ایک خاص نقطہ نظر پیش کرتا ہے ، یہاں قرآن مجید کا نقطہ نظر اور چند مشہور فلسفیوں کی آراء کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جاتاہے ۔

کچھ فلسفیوں کا خیال ہے کہ خیر اور شر نغمہ کے زیر و بم اور تصویر کے سرخ اور سیاہ دھبوں کی طرح ہے ۔ ان فلسفیوں کے نمائدے ہیرا قلیطس اور سینٹ آگسٹائن وغیرہ ہیں ، ان کے نزدیک نغمہ کے زیر و بم کی طرح خیر اور شر، نیکی اور بدی دونوں دنیا کے لیے ضروری ہیں ۔ ان سے دنیا کی رنگینی میں اضافہ ہو تا ہے ۔ مادی اشیاء کے متعلق تو یہ کہنا درست ہے کہ کہ گندی سے گندی چیز بھی کام آجا تی ہے گندگی سے بنی کھاد بھی اپنی جگہ بڑی قیمت رکھتی ہے لیکن اخلاقیات کے متعلق یہ معیار درست نہیں ۔ سچ اور جھوٹ ، ایمانداری اور بے ایمانی برابر نہیں ہوسکتی ۔ ارشاد باری تعالی ہے : 

" قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ " (المائدہ : 100)

"اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ بری چیز اور عمدہ چیز بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ بری چیز کی کثرت تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو۔ "

کائنات میں انسان کا مقام - ابوالبشر احمد طیب

کائنات میں انسان کا مقام 
انسان کے لیے یہ سوالات ہمیشہ انتہائی اہم رہے ہیں کہ اس وسیع کائنات میں اس کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اور اس کے لیے دنیا میں زندگی گزار نے کا صحیح رویہ کیا ہے ۔ اس پر ہر زمانہ میں دانشوروں اور فلسفیوں نے مختلف جوابات دیے ہیں ۔ اس بارے میں ہمیں قرآن مجید سے بھی رہنمائی ملتی ہے ۔ 

جہاں تک فلسفیوں کا تعلق ہے تو سقراط سے پہلے دو مکتب فکر نمایا ں ہیں ۔ ان میں ایک کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کائنات میں انسان دیگر حیوانات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ، جو انجام ان حیوانات کا ہے وہی انجام اس کا بھی ہے ۔ 

دوسرا مکتبہ فکر سو فسطائیوں کا ہے جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کائنات کا محور اور مرکز ہے یہی اس کائنات میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کے اندر جو صلاحیتیں اور قوتیں پوشیدہ ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے اس کوبڑا مقام اور مرتبہ دیا ہے ۔ وہ انسان میں ایک عقل یزدانی (Divine Reason) کے وجود کے قائل ہیں ۔ جہاں تک سقراط کا تعلق ہے تو تمام فلسفیوں میں اس کا مقام اونچا ہے اس کا مشہور کلمہ کہ " اے انسان تو اپنے آپ کو پہنچان " ایتھنز کے معبد ڈلفی پر منقش ہے ۔ سقراط نے سب سے پہلے توجہ دلائی کہ دیگر مخلوقات سے اہم خود انسان ہے وہ خود اپنے کو پہنچانے کہ وہ کیا ہے اور قدرت نے اس کو کس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ سقراط کے ہاں انسان کو ہی اصل اہمیت حاصل ہے ، دوسری چیزوں کی حیثیت اس کے ہاں ثانوی تھی ۔ اس کے شاگر افلاطوں نے اسی فکر کو آگے بڑھایا ۔ اس کو زندگی کے مختلف شعبوں : اخلاقیات ، سیاسیات ، نفسیات اور اجتماعیات وغیرہ میں اطلاق کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے نزدیک انسان حیوان نہیں اگرچہ اس کی پیدائش حیوان کے طریقہ پر ہوئی ہے ۔ انسان کے اندر ایک روح بھی ہے جو ملکوتی عقل کا حصہ ہے ۔ جس کے ذریعے انسان اس کائنات کے ابدی کلیات کو معلوم کر سکتا ہے ۔ انسان کا ایک جسم بھی ہے وہ اس ملکوتی عقل پر کمنڈ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس پر قابو پائے اور اس کمنڈ کو توڑ کر مادی جسم سے بلند ہوکر غور و فکر کرے ۔ 

خدا کی ذات و صفات کی معرفت - ابوالبشر احمد طیب

خدا کی ذات و صفات کی معرفت 
مذہب اور فلسفہ دونوں اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے زندگی کی رہنمائی کے لیے وجود میں آئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسفہ عقل پر اعتماد کرتا ہے جبکہ مذہب وحی الہی سے رہنمائی لیتا ہے ۔ بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ مذہب کا عقل سے کوئی تعلق نہیں اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور کائنات کے متعلق قرآن مجید اور فلسفہ کے بنیادی مسائل کا تقابلی مطالعہ کیا جائے درج ذیل مضمون اسی مقصد لیے لیے ترتیب دیا گیا اس کے لیے ہم نے مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب " فلسفے کے بنیادی مسائل قرآن حکیم کی روشنی میں " سے استفادہ کیا ۔ 

ابتدائی دور کے یونانی فلسفیوں نے زندگی اور کائنات کی مختلف طریقوں سے توجیہ کی ہے بعض یونانی فلسفیوں جیسے تھیلیز(624 ق م - 554ق م ) انیکسی مانڈر (610 ق م - 546ق م) کا کہنا ہے کہ کائنات کو کسی دیوی یا دیوتا نے پیدا نہیں کیا ، چھٹی صدی قبل مسیح کے فلسفی شاعر زینو فینسز(Zenophanes) نے دیوتاؤں پر سخت تنقید کی اس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی شکلوں پر دیوتاؤں کو بنایا ہے جبکہ خدا ہر لحاظ سے انسان سے مختلف ہے خدا ایک وحدت ہے جس کی ابتدا ہے نہ انتہا ۔۔اس کے نزدیک خدا ہی کائنات ہے ۔ عظیم فلسفی سقراط (470 ق م - 399 ق م) نے خدا کی وحدانیت کا تصور دیا اس جرم میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا ۔ افلاطون (428 ق م -347 ق م) کا کہنا ہے کہ خدانے تمام کائنات کو پید ا کیا اور انسان میں اپنی روح پھونکی ۔ البتہ ان تمام فلسفیوں میں ارسطو (384 ق م – 322 ق م ) خد ا کی وحدانیت پر پختہ یقین رکھتاتھا ، اس کے نزدیک خدا کائنات کا خالق ہے، وہی محرک اول ہے ، کائنات کو چلانے والا بھی وہی ہے ۔ اسی طرح رواقی فلسفی خدا کی وحدانیت کے شدت سے قائل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ خدا نے ہر چیز پیدا کی ہے ، برائی پر سزا اور نیکی پر جزا دیتا ہے ، رواقیوں کا فلسفہ وحدت الوجود کے تصور پر مبنی ہے۔