‏قرآن کی روشنی میں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏قرآن کی روشنی میں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

انسانی خواہشات: قرآن کا نفسیاتی تجزیہ

سورۂ آلِ عمران ( آیت :14)

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
ترجمہ :
لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے، جیسے عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں۔ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے۔

اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ قرآن انسان کے لے خواہشات کی محبت یعنی عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی اور دیگر دنیاوی سازوسامان کیوں خوشنما بنادی گئی ہے؟ یا قرآن میں کیوں عورت، مال اور سونا چاندی جیسی چیزوں کا ذکر بار بار آتا ہے؟ اس کا جواب ہمیں سورۂ آلِ عمران کی  مذکورہ آیت میں ملتا ہے، جہاں قرآن انسانی نفسیات کا نہایت حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔

اللہ فرماتا ہے کہ لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے—عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر، طاقت کی علامت گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں۔ غور کیجیے، قرآن یہاں کسی اخلاقی وعظ سے بات شروع نہیں کرتا بلکہ انسان کی فطرت کو تسلیم کرتا ہے۔ لفظ “زُيِّنَ” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ میلان انسان کے اندر ودیعت ہے، یہ مصنوعی نہیں بلکہ فطری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خواہشات کی فہرست میں سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسانی جذبات، محبت، کشش اور خاندان کا پورا نظام اسی جبلت کے گرد گھومتا ہے۔ قرآن یہاں نہ تو جنس کو گناہ کہتا ہے اور نہ ہی انسان کو فرشتہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ انسان کو انسان ہی رہنے دیتا ہے—باشعور اور ذمہ دار انسان۔

اس کے بعد سونا اور چاندی کا ذکر آتا ہے، جو محض دولت نہیں بلکہ طاقت، تحفظ اور سماجی برتری کی علامت ہیں۔ قرآن سرمایہ کو برا نہیں کہتا، مگر یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ اصل سوال دولت کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی حاکمیت ہے۔ کیا انسان مال کا مالک ہے یا مال انسان کا؟

یہاں قرآن ایک نہایت اہم فکری نکتہ بیان کرتا ہے: مسئلہ خواہشات کا ہونا نہیں، مسئلہ انہیں زندگی کا مرکز بنا لینا ہے۔ اسی لیے فوراً فرمایا جاتا ہے کہ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے—عارضی، محدود اور فانی۔

آیت کا اختتام ایک غیر معمولی نفسیاتی توازن کے ساتھ ہوتا ہے: “اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے”۔ گویا انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ خواہشات سے لڑنے کے بجائے انہیں ایک بڑے مقصد کے تابع کر دو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انسان کو حیوانیت سے نکال کر اخلاقی بلندی تک لے جاتا ہے۔

قرآن کی نظر میں فرعونی ذہن خواہش کو اقتدار بنا لیتا ہے، قارونی ذہن دولت کو مقصد سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ مومن خواہشات کو امتحان اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہی فرق انسانی تاریخ کے عروج و زوال کی اصل بنیاد ہے۔

آخرکار قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسانی خواہشات کو نہ مارا جائے، نہ آزاد چھوڑا جائے، بلکہ ان کی قیادت اللہ کے سپرد کر دی جائے۔ یہی توازن انسان کو سکون بھی دیتا ہے اور مقصد بھی۔

دین و ایمان کا معیار ۔ مولانا وحید الدین خاں

تذکیر القرآن  : سورۃ البقرۃ ، تفسیرآیات 135 تا 141

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس دین کی طرف بلاتے تھے وہ وہی ابراہیمی دین تھا جس سے یہود و نصاری اپنے کو منسوب کیے ہوئے تھے۔ پھر وہ آپ کے مخالف کیوں ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی کی دعوت کے مطابق دین یہ تھا کہ آدمی اپنی زندگی کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے، وہ ہر طرف سے یکسو ہوکر اللہ والا بن جائے۔ اس کے برعکس یہود کے یہاں دین بس ایک قومی فخر کے نشان کے طور پر باقی رہ گیا تھا۔ پیغمبر عربی کی دعوت سے ان کی ہر فخر نفسیات پر زد پڑتی تھی، اس لیے وہ آپ کے دشمن بن گئے ۔

جو لوگ گروہی فضیلت کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ اپنے سے باہر کسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے گروہ کے پیغمبرانِ خدا کو تو مانیں گے مگر اسی خدا کا ایک پیغمبر ان کے گروہ سے باہر آئے تو وہ اس کا انکار کردیں گے۔ دین کے نام پر وہ جس چیز سے واقف ہیں وہ صرف گروہ پرستی ہے۔ اس لیے وہی شخصیتیں ان کو شخصیتیں نظر آتی ہیں جو ان کے اپنے گروہ سے تعلق رکھتی ہوں۔ مگر جس شخص کے لیے دین خدا پرستی کا نام ہو وہ خد اکی طرف سے آنے والی ہر آواز کو پہچان لے گا اور اس پر لبیک کہے گا۔ یہود کے علماء کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ پیغمبر عربی اللہ کے آخری رسول ہیں اور ان کی دعوت سچی خدا پرستی کی دعوت ہے۔ مگر اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر انہوں نے لوگوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اعلان نہیں کیا جس کا اعلان کرنا ان کے اوپر خدا کی طرف سے فرض کیا گیا تھا۔ 

قبلہ اول کی تبدیلی ۔ مولانا وحید الدین خاں

تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ : تفسیر آیات 142 تا 143

سَيَقُوْلُ السُّفَهَاۗءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا ۭ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ  وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ۭ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ۭ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَةً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللّٰهُ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ   

اب بےوقوف لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ سے پھیر دیا۔ کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔  اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ اور جس قبلہ پر تم تھے، ہم نے اس کو صرف اس لئے ٹھہرایا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اس سے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بات بھاری ہے، مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ بےشک اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔

------------------------------------

 قبلہ کا تعلق مظاہر عبادت سے ہے نہ کہ حقیقت عبات سے۔ قبلہ کا اصل مقصد عبادت کی تنظیم کے لیے ایک عمومی رخ کا تعین کرنا ہے۔ ہر سمت اللہ کی سمت ہے۔ وہ اپنے بندوں کے لیے جو سمت بھی مقرر کردے وہی اس کی پسندیدہ عبادتی سمت ہوگی، خواہ وہ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف۔ مگر لمبی مدت تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عبادت کرنے کی وجہ سے قبلہ اول کو تقدس حاصل ہوگیا تھا۔ چنانچہ 2 ھ میں جب قبلہ کی تبدیلی کا اعلان ہوا تو بہت سے لوگوں کے لیے اپنے ذہن کو اس کے مطابق بنانا مشکل ہوگیا۔

حضرت ابراھیم ؑ کا وصیت نامہ - مولانا وحید الدین خاں

سورۃ البقرۃ : تفسیر آیات 130 تا 134:

ارشاد باری تعالی ہے :

"اور کون ہے جو ابراہیم کے دین کو پسند نہ کرے، مگر وہ جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو۔ حالاں کہ ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا تھا اور آخرت میں وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ جب اس کے رب نے کہا کہ اپنے آپ کو حوالے کردو تو اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کیا۔ اور اسی کی نصیحت کی ابراہیم نے اپنی اولاد کو اور اسی کی نصیحت کی یعقوب نے اپنی اولاد کو۔ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمھارے لئے اسی دین کو چن لیا ہے۔ پس ایمان کے سوا کسی اور حالت پر تم کو موت نہ آئے۔ کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے۔ انھوں نے کہا ہم اسی خدا کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے آباء- ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کرتے آئے ہیں، وہی ایک معبود ہے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں ۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کو ملے گا جو اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو تم نے کمایا۔ اور تم سے ان کے اعمال کی پوچھ نہ ہوگی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت عین وہی تھی جو حضرت ابراہیم کی دعوت تھی۔ مگر یہود ، جو حضرت ابراہیم کا پیرو ہونے پر فخر کرتے تھے، آپ کی دعوت کے سب سے بڑے مخالف بن گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر عربی  جس دین ابراہیمی کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے وہ "اسلام" تھا۔ یعنی اللہ کے لیے کامل حوالگی و سپردگی۔ قرآن کے مطابق یہی حضرت ابراہیم کا دین تھا اور اپنی اولاد کو انہوں نے اسی کی وصیت کی۔ اس کے برعکس یہود نے حضرت ابراہیم کی طرف جو دین منسوب کر رکھا تھا اس میں حوالگی و سپردگی کا کوئی سوال نہ تھا۔ اس میں آزادانہ زندگی گزارتے ہوئے محض سستے تخیلات کے تحت جنت کی ضمانت حاصل ہوجاتی تھی۔ پیغمبر عربی کے لائے ہوئے دین میں نجات کا دارومدار تمام تر عمل پر تھا، جب کہ یہود نے اللہ کے مقبول بندوں کی جماعت سے وابستگی اور عقیدت کو نجات کے لیے کافی سمجھ لیا تھا۔ اول الذکر کے نزدیک دین آسمانی ہدایات کا نام تھا اور ثانی الذکر کے نزدیک محض ایک گروہی مجموعہ کا جو نسلی روایات اور قومی تخیلات کے تحت ایک خاص صورت میں بن گیا تھا۔ 

ماضی یا حال کے بزرگوں سے اپنے کو منسوب کرکے یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ ہمارا انجام بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ ہمارے عمل کیکمی ان کے عمل کی زیادتی سے پوری ہوجائے گی۔ یہود اس خوش فہمی کو یہاں تک لے گئے کہ انہوں نے نجات متوارث کا عقیدہ وضع کرلیا۔ انہوں نے اپنی تمام امیدیں اپنے بزرگوں کے تقدس پر قائم کرلیں۔ مگر یہ نفسیاتی فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہر ایک کے آگے وہی آئے گا جو اس نے کیا۔ ایک سے نہ دوسرے کے جرائم کی پوچھ ہوگی اور نہ ایک کو دوسرے کی نیکیوں میں سے حصہ ملے گا۔ ہر ایک اپنے کیے کے مطابق اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ "تم نہ مرنا مگر اسلام پر" یعنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے میں رکاوٹیں آئیں گی، تمہاری تمناؤں کی عمارت گرے گی۔ پھر بھی تم آخر وقت تک اس پر قائم رہنا ۔ (1) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1-  تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں 

حضرت ابراھیم ؑ اور بعثت محمد ﷺ- مولانا وحید الدین خاں

خانہ کعبہ 

ارشاد باری تعالی ہے : 

" اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے اکھٹا ہونے کی جگہ اور امن کا مقام ٹھیرایا۔ اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو، جو ان میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھیں، پھلوں کی روزی عطا فرما۔ اللہ نے کہا جو انکار کرے گا، میں اس کو بھی تھوڑے دنوں فائدہ دوں گا۔ پھر اس کو آگ کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔" سورۃ البقرۃ ؛ تفسیر آیات 125 تا 126:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ساری دنیا کے اہل ایمان ہر سال اپنے وطن کو چھوڑ کر بیت اللہ آتے ہیں۔ یہاں کسی کے لیے کسی ذی حیات پر زیادتی کرنا جائز نہیں۔ حرم کعبہ کو دائمی طور پر عبادت کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ دنیا سے الگ ہو کر اللہ کی یاد کی جاتی ہے۔ اور اللہ کے لیے رکوع و سجود کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ دنیا کا سب سے زیادہ خشک علاقہ تھا جہاں ریتلی زمینوں اور پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتاہائی طور پر غیر محفوظ تھا۔ چار ہزار برس پہلے حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ اپنے خاندان کو اس علاقہ میں لے جاؤ اور اس کو وہاں بسا دو۔ حضرت ابراہیم نے ادنی تامل کے بغیر اس کی تعمیل کی۔ اور جب خاندان کو اس بے آب و گیاہ مقام پر پہنچا چکے تو دعا کی کہ خدا یا میں نے تیرے حکم کی تعمیل کردی۔ اب تو اپنے بندے کی پکار کو سن لے اور اس بستی کو امن و امان کی بستی بنا دے۔ اور اس خشک زمین پر ان کے لیے خصوصی رزق کا انتظام فرما۔ دعا قبول ہوئی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ آج تک امن اور رزق کی کثرت کا نمونہ بنا ہوا ہے ۔

ھجرت سے قبل مدینہ کے یھودی قبائل کی ظالمانہ سیاست - مولانا وحید الدین خاں

قدیم مدینہ کے اطراف میں یہود کے تین قبیلے آباد تھے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع۔ یہ سب موسوی شریعت کو مانتے تھے۔ مگر ان کے جاہل تعصبات نے ان کو الگ الگ گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اپنی دنیوی سیاست کے تحت وہ مدینہ کے مشرک قبائل۔ اوس اور خزرج کے ساتھ مل گئے تھے۔ بنونضیر اور بنوقریظہ نے قبیلہ اوس کا ساتھ پکڑ لیا تھا۔ بنوقینقاع قبیلہ خزرج کے حلیف بنے ہوئے تھے۔

 اس طرح دو گروہ بن کر وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جنگ بعاث اسی قسم کی ایک جنگ تھی جو ہجرت نبوی سے پانچ سال پہلے واقع ہوئی۔ ان لڑائیوں میں یہود مشرک قبائل کے ساتھ مل کر دو محاذ بنا لیتے۔ ایک محاذ میں شامل ہونے والے یہودی دوسرے محاذ میں شامل ہونے والے یہودیوں کو قتل کرتے اور ان کو ان کے گھروں سے بے گھر کرتے۔ پھر جب جنگ ختم ہوجاتی تو وہ تورات کا حوالہ دے کر اپنے ہم مذہبوں سے چندہ کی اپیلیں کرتے تاکہ اپنے گرفتار بھائیوں کو فدیہ دے کر مشرک قبائل کے ہاتھ سے چھڑایا جا سکے۔ انسان کے جان و مال کے احترام کے بارے میں وہ خدا کے حکم کو توڑتے اور پھر اپنی ظالمانہ سیاست کا شکار ہونے والوں کے ساتھ نمائشی ہمدردی کرکے ظاہر کرتے کہ وہ بہت دیندار ہیں۔ 

عرب کے یہود نے رسول اللہ ﷺ کا انکارکیوں کیا ؟ - مولانا وحید الدین خاں

تورات اللہ کی کتاب تھی جو یہود پر اتری۔ مگر دھیرے دھیرے تورات کی حیثیت ان کے یہاں قومی تبرک کی ہوگئی۔ قومی عظمت اور نجات کی علامت کے طور پر یہود اب بھی اس کو سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ مگر رہنما کتاب کے مقام سے اس کو انہوں نے ہٹا دیا تھا۔ حضرت موسی ؑ کے بعد بار بار ان کے درمیان انبیاء اٹھے، مثلاً یوشع نبی، داود نبی، زکریا نبی، یحیی نبی، وغیرہ۔ ان کے آخری نبی حضرت عیسیٰ تھے۔ یہ تمام انبیاء یہود کو یہ نصیحت دینے کے لیے آئے کہ تورات کو اپنی عملی زندگیوں میں شامل کرو۔ مگر تورات کے تقدس پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ آواز ان کے لیے تمام آوازوں سے زیادہ ناقابل برداشت ثابت ہوئی۔ وہ خدا کے نبیوں کو نبی ماننے سے انکار کرتے، حتی کہ ان کو قتل کرڈالتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات کے نام پر وہ جس زندگی کو اختیار کیے ہوئے تھے وہ حقیقۃً نفسانیت اور دنیا پرستی کی ایک زندگی تھی۔ جس کے اوپر انہوں نے خدا کی کتاب کا لیبل لگا لیا تھا۔ خدا کے نبی جب بے آمیز حق کی دعوت پیش کرتے تو ان کو نظر آتا کہ یہ دعوت ان کی مذہبی حیثیت کی نفی کر رہی ہے۔ اب ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھتیں۔ وہ نبیوں کے اعتراف کے بجائے ان کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتے ۔

عرب کے بنی اسرائیل اور قرآن

(قرآن میں دیگر اقوام کے مقابلے میں  سب سے زیادہ  بنی اسرائیل کو مخاطب کیا گیا اس دوران ان کی اچھی صفات کی تعریف کی گئی اور ان کی بے دینی کی مذمت  ، خاص کر سورۃ البقرۃ ، آل عمران  میں ان کا ذکر آیا ہے ،یہاں ہم نے بنی اسرائیل کے متعلق  سورۃ البقرہ کی چند آیات کی تفسیر  مولانا وحید الدین خاں کی تفسیر" تذکیر القرآن"  سے انتخاب کیا ہے ۔ 

 مولانا وحید الدین خاں نے اپنی تفسیر میں تفسیر کا  ایک خاص اسلوب اختیار کیا ہے اس میں قرآنی معانی اور مطالب کو سامنے رکھ کر خیالات کا رواں اظہار کیا ہے اس میں قرآن کے مطالب کی وضاحت کے ساتھ قاری کو اصلاحی نصیحت بھی ملتی ہے ۔ اس کے لیے  وہ چند آیات کا نتخاب کرتے ہیں پھر ان کی روشنی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اس کو تو تفسیر کہنا مشکل ہے بلکہ جیسے انہوں نے اس کا نام رکھا ہے " تذکیر القرآن " قرآن کی نصیحت کہنا زیادہ درست ہے ۔ اس میں قاری دیکھ سکتا ہے  کہ مولانا جن آیات کی وضاحت کرتے ہیں اس میں نصیحت کا پہلو زیادہ نمایا نظر آتا ہے ۔ آئیے مولانا کی تذکیر  کی روشنی بنی اسرائیل کی سرگزشت کا مطالعہ کریں ۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورۃ البقرۃ ، تفسیر آیت 91 تا 96:
 یہود جو قرآن کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، اس کی وجہ ان کا یہ احساس تھا کہ وہ پہلے سے حق پر ہیں اور حق پرستوں کی سب سے بڑی جماعت (اسرائیل) سے وابستگی رکھتے ہیں۔ مگر یہ در اصل گروہ پرستی تھی جس کو انہوں نے حق پرستی کے ہم معنی سمجھ رکھا تھا۔ وہ گروہی حق کو خالص حق کا مقام دیے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں ظاہر ہوا تو وہ اس کو لینے کے لیے آگے نہ بڑھ سکے۔ اگر خالص حق ان کا مقصود ہوتا تو ان کے لیے یہ جاننا مشکل نہ ہوتا کہ قران کا آنا خود ان کی مقدس کتاب تورات کی پیشین گوئیوں کے مطابق ہے اور یہ کہ قرآن کے نزول کے بعد اب قرآن ہی کتابِ حق ہے نہ کہ ان کا اپنا گروہی مذہب ۔

حسن سلوک

انسان کے اوپر اللہ کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبادت گزار بنے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ دوسرا حق بندوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ اس حسن سلوک کا آغاز اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور پھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے سے گزر کر ان تمام انسانوں تک پہنچ جاتا ہے جن سے عملی زندگی میں سابقہ بھائی کے ساتھ درست ہے۔ اور وہ وہی ہے جو انصاف اور خیر خواہی کے مطابق ہو۔ 

سستی نجات کے مقدس نسخے

آرزوؤں (امانی) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جو یہود نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں اور جو اپنی ظاہری فریبی کی وجہ سے عوام میں خوب پھیل گئی تھیں۔ 

 (اکاذیب مختلقۃ سمعوھا من علمائہم فنقلوھا علی القلید، البحر المحیط عن ابن عباس ومجاھد والفراء) 

ان قصے کہانیوں کا خلاصہ یہ تھا کہ جہنم کی آگ یہود کے لیے نہیں ہے۔ ان میں اپنے بزرگوں سے منسوب کرکے ایسی باتیں ملائی گئی تھیں جن سے یہ ثابت ہو کہ بنی اسرائیل اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ جس دین کو مانتے ہیں اس میں ایسے طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں کہ اس کی معمولی معمولی چیزیں بھی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے ور جنت کے باغوں میں پہنچا دینے کے لیے کافی ہیں ۔

سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت کشش رکھتے تھے کیونکہ اس میں ان کو اپنی اس خوش خیالی کی تصدیق مل رہی تھی کہ ان کو اپنی غیر ذمہ دارانہ زندگی پر روک لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی جدوجہد کے بغیر محض ٹونے ٹوٹکے کی برکت سے جنت میں پہنچ جائیں گے۔

 چنانچہ جو یہودی علماء بزرگوں کے حوالے سے یہ خوش کن کہانیاں سناتے تھے ان کو لوگوں کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ آخرت کے معاملہ کو آسان بنانا ان کے لیے شان دار دنیوی تجارت کا ذریعہ بن گیا۔ ان کے گرد عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ان کے اوپر نذرانوں کی بارش ہونے لگی۔ وہ لوگوں کو مفت جنت حاصل کرنے کا راستہ بتاتے تھے، لوگوں نے اس کے بدلے ان کے لیے اپنی طرف سے مفت دنیا فراہم کردی۔ 

یہی ہر دور میں حامل کتاب قوموں کا مرض رہا ہے۔ جو لوگ اس قسم کے لذیذ خوابوں میں جی رہے ہوں، جو یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ چند رسمی اعمال کے سوا ان پرکسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ہے۔ جو اس خوش گمانی میں مبتلا ہوں کہ ان کے سارے حقوق خدا کے یہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوچکے ہیں، ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گورا نہیں کرتے۔ کیونکہ ایسی باتیں ان کو اپنی میٹھی نیند کو خراب کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، وہ ان کو زندگی کی برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کردیتی ہیں ۔



تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ تفسیر آیات 78 تا 82، مولانا وحید الدین خاں ) 

رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے میں مدینہ کے لوگوں کی سبقت

مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ اپنے یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی آمد کی خبر ان کے لیے ایک مانوس خبر تھی۔ یہ مسلمان طبعی طور پر اس امید میں تھے کہ جن یہودیوں کی باتیں سن کر ان کے دل کے اندر قبول اسلام کا ابتدائی جذبہ ابھرا تھا وہ یقیناً خود بھی آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ وہ پرجوش طور پر ان یہودیوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر جاتے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دینے والے بنیں ۔

مگر مسلمانوں کو اس وقت سخت دھچکا لگتا جب وہ دیکھتے کہ ان کی امیدوں کے برعکس یہود ان کی دعوت پر لبیک کہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسکے نتیجہ میں ایک اور نزاکت پیدا ہو رہی تھی۔ جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رقابت اور عناد رکھتے تھے وہ مسلمانوں سے کہتے کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ اتنا یقینی نہیں جتنا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ اتنا یقینی ہوتا تو یہ یہودی علماء ضرور ان کی طرف دوڑ پڑتے۔ کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔

مگر کسی بات کو قبول کرنے کے لیے اس بات کا جانناکافی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ یہود کا حال یہ تھا کہ انہوں نے خود اپنے پاس کی ان کتابوں میں تبدیلیاں کر ڈالیں جن کو وہ آسمانی کتابیں مانتے تھے۔ اپنی مقدس کتابوں میں وہ جس بات کو اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے اس میں تاویل یا تحریف کرکے اس کو اپنی خواہش کے مطابق بنا لیتے۔ وہ اپنے دین کو اپنے دنیوی مفادات کے تابع بنائے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس قسم کی غیر سنجیدگی کا ثبوت دے رہے ہوں وہ اپنے سے باہر کسی حق کو ماننے پر کیسے راضی ہوجائیں گے ۔

کوئی بات خواہ کتنی ہی برحق ہو، اگر آدمی اس کا انکار کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل ڈھونڈھ لے گا۔ اس تاویل کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے معاملہ کی سنگینی آدمی کے دل سے نکل جاتی ہے۔ وہ خدا کے حکم کو سنتا ہے مگر لفظی تاویل کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس حکم کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنا دیتی ہے جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے ۔


(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ تفسیر آیات : 75 تا 77، مولانا وحید الدین خاں ) 

بے حسّی کا مرض

 خدا کے حکم کے بارے میں جو لوگ بحثیں اور تاویلیں کریں ان کے اندر دھیرے دھیرے بے حسی کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے دل سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خدا کا نام سب سے بڑی ہستی کا نام ہے۔ آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو خدا کا نام اس کو ہلا دیتا ہے۔ بولنے سے زیادہ اسے چپ لگ جاتی ہے۔ مگر جب دلوں میں جمود اور بے حسی آتی ہے تو خدا کی باتوں میں بھی اسی قسم کی بحثیں اور تاویلیں شروع کردی جاتی ہیں جو عام انسانی کلام میں کی جاتی ہیں۔ اس قسم کا عمل ان کی بے حسی میں اور اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوجاتے ہیں۔ اب خدا کا تصور ان کے دلوں کو نہیں پگھلاتا، وہ ان کے اندر تڑپ پیدا نہیں کرتا۔ وہ ان کی روح کے اندر ارتعاش پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا ۔

پتھروں کا ذکر یہاں تمثیل کے طور پر کیا گیا ہے۔ خدا نے اپنی کائنات کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ آدمی کے لیے عبرت و نصیحت کا سامان بن گئی ہے۔ یہاں کی ہر چیز خاموش مثال کی زبان میں اسی مرضی رب کا عملی نشان ہے۔ جو مرضی رب قرآن میں الفاظ کے ذریعہ بیان کی گئی۔ 

پتھروں کے ذریعہ خدا نے اپنی دنیا میں جو تمثیلات قائم کی ہیں ان میں سے تین چیزوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ 

پہاڑوں پر ایک مشاہدہ یہ سامنے آتا ہے کہ پتھروں کے اندر سے پانی کے سوتے بہتے رہتے ہیں جو بالآخرمل کردریا کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہو اور وہ آنسوؤں کی صورت میں اس کی آنکھ سے بہہ پڑتا ہو۔ 

دوسری مثال اس پتھر کی ہے جو بظاہر خشک چٹان معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب توڑنے والے اس کو توڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نیچے پانی کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ اسکے بعد اس پر ایک حادثہ گزرا۔ اس حادثہ نے اس کی روح کو ہلا دیا۔ وہ آنسوؤں کے سیلاب کے ساتھ خدا کی طرف دوڑ پڑا ۔

پتھروں کی دنیا میں تیسری مثال ہبوط (لینڈ سلائڈ) کی ہے۔ یعنی پہاڑوں کے اوپر سے پتھر کے ٹکڑوں کا لڑھک کر نیچے آجانا۔ یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس نے کسی انسان کے مقابلہ میں غلط رویہ اختیار کیا۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا حکم پیش کیا گیا۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ ڈھے پڑا۔ انسان کے سامنے وہ جھکنے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر جب انسان کا معاملہ خدا کا معاملہ بن گیا تو وہ عاجزانہ طور پر اس کے آگے گر پڑا ۔

( تذکیر القرآن ، تفسیر سورۃ البقرہ آیت : 74، مولانا وحید الدین خاں )

اللہ کے سادہ دین میں کھود کرید کا نتیجہ

 حضرت موسیٰ ؑ  کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتا دے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لیے اختیار کی گئی : 

1۔ مصر میں لمبی مدت تک قیام کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل مصری تہذیب اور رسوم سے متاثر ہوگئے۔ مصری قوم گائے کو پوجتی تھی۔ چنانچہ مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا۔ جب مذکورہ واقعہ ہوا تو اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ذہن سے گائے کے تقدس کو توڑا جائے۔ چنانچہ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے گائے کے ک ذبح کی تدبیر اختیار کی گئی۔ 

2۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے یہ غلطی کی تھی کہ فقہی خوض اور بحث کے نتیجہ میں خدا کے سادہ دین کو ایک بوجھل دین بنا ڈالا تھا۔ چنانچہ مذکورہ واقعہ کے ذیل میں ان کو یہ سبق دیا گیا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم آئے اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل میں لگ جاؤ۔ کھود کرید کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا کہ حکم کی تفصیلات جاننے اور اس کے حدود کو متعین کرنے کے لیے موشگافیاں کرنے لگے تو تم سخت آزمائش میں پڑجاؤگے۔ اس طرح ایک سادہ حکم شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا جس کی تعمیل تمہارے لیے بے حد مشکل ہو۔ 

3۔ اس واقعہ کے ذریعہ بنی اسرائیل کو بتایا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا ۔


تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ،  تفسیر آیات 67 تا 73، مولانا وحید الدین خاں ) 

تحویل قبلہ کا حکم

"یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔ " 

(سورۃ البقرۃ آیت : 143)

یہ ہے وہ اصل حکم ، جو تحویلِ قبلہ کے بارے میں دیا گیا تھا۔ یہ حکم رجب یا شعبان ۲ ہجری میں نازل ہوا۔

 ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بِشْر بن بَراء بن مَعْرُور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا اور آپ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے سے یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رُخ پھر گئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ بَراء بن عازِب کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع میں تھے۔ حکم سنتے ہی سب کے سب اسی حالت میں کعبے کی طرف مُڑ گئے۔

 اَنس بن مالک کہتے ہیں کہ بنی سَلمَہ میں یہ اطلاع دُوسرے روز صبح کی نماز کے وقت پہنچی۔ لوگ ایک رکعت پڑھ چکے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز پڑی: ”خبردار رہو، قبلہ بدل کی کعبے کی طرف کر دیا گیا ہے“۔ سنتے ہی پوری جماعت نے اپنا رُخ بدل دیا۔ 


خیال رہے کہ بیت المقدس مدینے سے عین شمال میں ہے اور کعبہ بالکل جنوب میں ۔ نماز باجماعت پڑھتے ہوئے قبلہ تبدیل کرنے میں لامحالہ امام کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہو گا اور مقتدیوں کو صرف رُخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا ، بلکہ کچھ نہ کچھ انہیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنی پڑی ہوں گی۔ چنانچہ بعض روایات میں یہی تفصیل مذکور بھی ہے۔ 

اور یہ جو فرمایا کہ” ہم تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے ہیں “ اور یہ کہ” ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو“، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحویلِ قبلہ کا حکم آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِس کے منتظر تھے۔ آپ خود یہ محسوس فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دَور ختم ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیّت بھی رخصت ہوئی۔ اب اصل مرکزِ ابراہیمی کی طرف رُخ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 


مسجدِ حرام کے معنی ہیں حُرمت اور عزّت والی مسجد۔ اس سے مُراد وہ عبادت گاہ ہے، جس کے وسط میں خانہء کعبہ واقع ہے۔  کعبے کی طرف رُخ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی خواہ دُنیا کے کسی کونے میں ہو، اُسے بالکل ناک کی سیدھ میں کعبے کی طرف رُخ کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا ہر وقت ہر شخص کے لیے ہر جگہ مشکِل ہے۔ اسی لیے کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، نہ کہ کعبے کی سیدھ میں۔ قرآن کی رُو سے ہم اس بات کے لیے ضرور مُکَلف ہیں کہ حتّی الامکان صحیح سَمْتِ کعبہ کی تحقیق کریں، مگر اس بات پر مُکَلف نہیں ہیں کہ ضرور بالکل ہی صحیح سَمْت معلوم کر لیں۔ جس سمت کے متعلق ہمیں امکانی تحقیق سے ظنِ غالب حاصل ہو جائے کہ یہ سَمْتِ کعبہ ہے، اُدھر نماز پڑھنا یقیناً صحیح ہے۔ اور اگر کہیں آدمی کے لیے سَمْتِ قبلہ کی تحقیق مشکل ہو ، یا وہ کسی ایسی حالت میں ہو کہ قبلے کی طرف اپنی سَمْت قائم نہ رکھ سکتا ہو (مثلاً ریل یا کشتی میں ) تو جس طرف اسے قبلے کا گمان ہو، یا جس طرف رُخ کرنا اس کے لیے ممکن ہو، اسی طرف وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ البتہ اگر دورانِ نماز میں صحیح سمت ِ قبلہ معلوم ہو جائے یا صحیح سَمْت کی طرف نماز پڑھنا ممکن ہو جائے ، تو نماز کی حالت ہی میں اس طرف پھر جانا چاہیے۔


(تفہیم القرآن جلد اول ،  سُوْرَةُ الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :146، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

مجلس نبوی ﷺ کے آداب ۔

یہُودی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے، تو اپنے سلام اور کلام میں ہر ممکن طریقے سے اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ذُو معنی الفاظ بولتے، زور سے کچھ کہتے اور زیرِ لب کچھ اور کہہ دیتے، اور ظاہری ادب آداب برقرار رکھتے ہوئے درپردہ آپ کی توہین کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھتے تھے۔ قرآن میں آگے چل کر اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں جس خاص لفظ کے استعمال سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے، یہ ایک ذُومعنی لفظ تھا۔

 جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے دَوران میں یہُودیوں کو کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ٹھیریے، ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجیے، تو وہ رَاعِنَا کہتے تھے۔اس لفظ کا ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ذرا ہماری رعایت یہ کیجیے یا ہماری بات سُن لیجیے۔ مگر اس میں کئی احتمالات اور بھی تھے۔ مثلاً عبرانی میں اس سے مِلتا جُلتا ایک لفظ تھا، جس کے معنی تھے”سُن، تُو بہرا ہو جائے “۔ اور خُود عربی میں اس کے ایک معنی صاحبِ رعونت اور جاہل و احمق کے بھی تھے۔ اور گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بھی بولا جاتا تھا جب یہ کہنا ہو کہ تم ہماری سُنو، تو ہم تمہاری سُنیں۔ اور ذرا زبان کو لچکا دے کر رَاعِیْنَا بھی بنا لیا جاتا تھا، جس کے معنی ”اے ہمارے چرواہے“ کے تھے۔ 

اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے اُ نْظُرْ نَا کہا کرو۔ یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے یا ذرا ہمیں سمجھ لینے دیجیے۔ پھر فرمایا کہ ”توجّہ سے بات کو سُنو“، یعنی یہُودیوں کو تو بار بار یہ کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر توجّہ نہیں کرتے اور ان کی تقریر کے دَوران میں وہ اپنے ہی خیالات میں اُلجھے رہتے ہیں ، مگر تمہیں غور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننی چاہییں تاکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔



(تفہیم القرآن ، سُوْرَةُ الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :108، سید ابوالاعلی مودودیؒ )

ایمان لانا گویا اللہ سے عہد کرنا ہے ۔

بائبل کی روایات بتاتی ہیں کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جب یہود سے عہد لیا گیا کہ وہ خدائی تعلیمات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے تو "خدا نے پہاڑ کو ان کے اوپر الٹ کر اوندھا کردیا اور ان سے کہا کہ توریت کو یا تو قبول کرو ورنہ یہیں تم سب کو ہلاک کردیاجائے گا" (تالمود) یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ ایمان لانا گویا اللہ سے یہ عہد کرنا ہے کہ آدمی کا جینا اور مرنا خدا کی مرضی کے مطابق ہو گا۔ 

یہ ایک بے حد سنگین اقرار ہے۔ اس میں ایک طرف عاجز بندہ ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ خدا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں آسمان و زمین کی طاقتیں ہیں۔ اگر بندہ اپنے عہد پر پورا اترے تو اس کے لے  خدا کی لازوال نعمتیں ہیں۔ اور اگر وہ عہد کرکے اس سے پھر جائے تو اس کے لیے یہ شدید خطرہ ہے کہ اس کا خدا اس کو جہنم میں ڈال دے جہاں وہ اس طرح جلتا رہے کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کے لیے باقی  نہ ہو ۔

ایمانی عہد کے وقت حضرت موسیٰ ؑ کی قوم پر جو کیفیت گزری تھی وہی ہر بندہ مومن سے مطلوب ہے۔ ہر شخص جو اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ ایمان کی رسی میں باندھتا ہے، اس کو اس کی سنگینی سے اس طرح کا نپنا چاہیے گویا کہ اس نے اگر اس عہد کے خلاف کیا تو "زمین و آسمان اس کے اوپر گر پڑیں گے"۔

ایک گروہ جس کو اللہ کی طرف سے شریعت دی جائے، اس کی گمراہی کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ عملاً اسکے خلاف چلے اور تاویلوں کے ذریعہ یہ ظاہرکرے کہ وہ عین خدا کے حکم پر قائم ہے۔

 یہود کو یہ حکم تھا کہ وہ سنیچر کے دن کو روزہ اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس دن کسی قسم کا کوئی دنیوی کام نہ کریں۔ مگر انہوں نے اس طرح کی لفظی تاویلوں سے ظاہر کرتے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ عین خدا کے حکم کے مطابق ہے۔ ان کی یہ ڈھٹائی اللہ کو اتنی ناپسند ہوئی کہ وہ بندر بنا دیے گئے۔ 

جب بھی آدمی شریعت سے انحراف کرتا ہے تو وہاں اپنے آپ کو جانوروں کی سطح پر لے جاتا ہے جو کسی اخلاقی ضابطہ کے پابند نہیں ہیں۔ اس لیے جولوگ شریعت کے ساتھ اس قسم کا کھیل کریں ان کو ڈرنا چاہیے کہ خدا کا قانون ان کو اسی حیوانی ذلت میں نہ مبتلا کردے جس میں یہود اپنے اسی قسم کے فعل کی وجہ سے مبتلا ہوئے ۔



(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ : آیات 63 تا 66، مولانا وحید الدین خاں ) 

آخرت میں نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے

آیت (سورۃ البقرۃ :62) میں چار گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک، مسلمان جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہیں۔ دوسرے، یہود جو اپنے کو حضرت موسیٰ ؑ کی امت کہتے ہیں۔ تیسرے، نصاری جو حضرت مسیح ؑ کی امت ہونے کے دعویدار ہیں۔ چوتھے، صابی جو اپنے کو حضرت یحیی ؑ کی امت بتاتے تھے اور قدیم زمانہ میں عراق کے علاقہ میں آباد تھے۔ وہ اہل کتاب تھے اور کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ مگر اب صابی فرقہ ختم ہوچکا ہے۔ دنیا میں اب اس کا کہیں وجود نہیں ۔

یہاں مسلمانوں کو الگ نہیں کیا ہے۔ بلکہ ان کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی فرق نہیں۔ سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے، اور وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ کوئی گروہ اپنے کو خواہ مسلمان کہتا ہو یا وہ اپنے کو یہودی یا مسیحی یا صابی کہے، ان میں سے کوئی بھی محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خدا کے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجہ کا اعتبار اس پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔ 

نبی کے زمانہ میں جب اسکے ماننے والوں کا گروہ بنتا ہے تو اس کی بنیاد ہمیشہ ایمان اور عمل صالح پر ہوتی ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ نبی کی پکار کو سن کر کچھ لوگوں کے اندر ذہنی اور فکری انقلاب آتا ہے ان کے اندر ایک نیا عزم جاگتا ہے۔ انکی زندگی کا نقشہ جو اب تک ذاتی خواہشوں کی بنیاد پر چل رہا تھا وہ خدائی تعلیمات کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں نبی کی امت ہوتے ہیں۔ انکے لیے نبی کی زبان سے آخرت کی نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے ۔

مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب خدا کا دین ان کے لیے ایک قسم کی قومی روایت بن جاتا ہے۔ جو بشارتیں ایمان و عمل کی بنیاد پر دی گئی تھیں انکو محض گروہی تعلق کا نتیجہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ وہ گمان کرلیتے ہیں کہ ان کے گروہ کا اللہ سے کوئی خاص رشتہ ہے جو دوسرے لوگوں سے نہیں ہے۔ جو شخص اس مخصوص گروہ سے تعلق رکھے، خواہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے وہ کیسا ہی ہو، بہرحال اس کی نجات ہوکر رہے گی۔ جنت اس کے اپنے گروہ کے لیے ہے اور جہنم صرف دوسرے گروہوں کے لیے ۔

مگر اللہ کا کسی گروہ سے خصوصی رشتہ نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ اعتبار ہے وہ صرف اس بات کا ہے کہ آدمی اپنے فکر اور عمل میں کیسا ہے۔ آخرت میں آدمی کے انجام کا فیصلہ اس کے حقیقی کردار کی بنیاد پر ہوگا نہ کہ گروہی نسبتوں کی بنیاد پر ۔


(تذکیر القرآن ، تفسیر سورۃ البقرۃ : آیت 62، مولانا وحید الدین خاں ) 

سچی دین داری اور یہود کی بے دینی

 کسی گروہ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ وہ اس کے پاس اپنا پیغمبر بھیجے اور اس کے ذریعے اس گروہ کے اوپر ابدی فلاح کا راستہ کھولے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت سے پہلے یہ نعمت بنی اسرائیل (یہود) کو دی گئی تھی مگر مدت گزرنے کے بعد ان کا دین ان کے لیے ایک قسم کی تقلیدی رسم بن گیا تھا نہ کہ شعوری فیصلہ کے تحت اختیار کی ہوئی ایک چیز۔

 نبی عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت نے حقیقت کھول دی۔ ان میں سے جن افراد کا شعور زندہ تھا وہ فوراً آپ کی صداقت کو پہچان گئے اور آپ کے ساتھ بن گئے۔ اور جن لوگوں کے لیے ان کا دین آبائی رواج بن چکا تھا ان کو آپ کی آواز نامانوس آواز لگی۔ وہ بدک گئے اور آپ کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ اگرچہ آپ کی نبوت کے بارے میں تورات میں اتنی واضح علامتیں تھیں کہ یہود کے لیے آپ کی صداقت کو سمجھنا مشکل نہ تھا، مگر دنیوی مفاد اور مصلحتوں کی خاطر انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔

 صدیوں کے عمل سے ان کے یہاں جو مذہبی ڈھانچہ بن گیا تھا اس میں ان کو سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ مذہب کے نام پر طرح طرح کے نذرانے سال بھر ان کو ملتے رہتے تھے۔ ان کو نظر آیا کہ اگر انہوں نے نبی عربی کو سچا مان لیا تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ مفادات کا سارا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا۔ 

یہود کو چوں کہ اس وقت عرب میں مذہب کی نمائندگی کا مقام حاصل تھا، لوگ ان سے نبی عربی کی بابت پوچھتے۔ وہ معصومانہ انداز میں کوئی ایسی شوشہ کی بات کہہ دیتے جس سے پیغمبر کی ذات اور آپ کا مشن لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہوجائے۔ اپنے وعظوں میں وہ لوگوں سے کہتے کہ حق پرست بنو اور حق کا ساتھ دو۔ مگر عملاً جب خود ان کے لیے حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو وہ حق کا ساتھ نہ دے سکے ۔

خدا کی پکار پر لبیک کہنا جب اس قیمت پر ہو کہ آدمی کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑے، عزت و شرف کی گدیوں سے اپنے کو اتارنا ہو تو یہ وقت ان لوگوں کے لیے بڑا سخت ہوتا ہے جو انہیں دنیوی جلووں میں اپنا مذہبی مقام بنائے ہوئے ہوں، مگر وہ لوگ جو خشوع کی سطح پر جی رہے ہوں ان کے لیے یہ چیزیں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ وہ اللہ کی یاد میں، اللہ کے لیے خرچ کرنے میں، اللہ کے حکم کے آگے جھک جانے میں اور اللہ کے لیے صبر کرنے میں وہ چیز پا لیتے ہیں جو دوسرے لوگ دنیا کے تماشوں میں پاتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ڈرنے کی چیز اللہ کا غضب ہے نہ کہ دنیوی اندیشے ۔ (تفسیر سورۃ البقرۃ  آیات 40 تا 46) 

یہود کو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا پر فضیلت دی تھی۔ یعنی ان کو اپنے اس خاص کام کے لیے چنا تھا کہ ان کے پاس اپنی وحی بھیجے اور ان کے ذریعہ دوسری قوموں کو اپنی مرضی سے باخبر کرے۔ پھر اس منصب کی نسبت سے ان کو اور بہت سی نعمتیں اور سہولتیں دی گئیں۔ اپنے دشمنوں پر غلبہ، وقتی لغزشوں سے درگزر، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی نصرت اور "خداوند کی طرف سے ان کے لیے روٹی کا انتظام" وغیرہ۔ اس سے یہود کی اگلی نسلیں اس غلط فہمی پڑگئیں کہ ہم اللہ کی خاص امت ہیں۔ ہم ہر حال میں آخرت کی کامیابی حاصل کریں گے۔ مگر خدا کے اس قسم کے معاملات کسی کے لیے پشتینی نہیں ہوتے۔

 کسی گروہ کے اگلے لوگوں کا فیصلہ ان کے پچھلے لوگوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر فرد کا الگ الگ ہوتا ہے۔ خدا کے انصاف کا دن اتنا سخت ہوگا کہ وہاں اپنے عمل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز کسی کے کام آنے والی نہیں ۔

سچی دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائے۔ اللہ کو دیکھے بغیر اللہ پر یقین کرے۔ آخرت کے حساب سے ڈر کر زندگی گزارے۔ پاک روزی سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ جن لوگوں پر اس کو اختیار حاصل ہے ان کو جرم کرنے سے روک دے۔ (تفسیر آیات 47۔۔ ۔57)


یہود پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعامات کیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ خدا کے شکر گزار بندے بنتے مگر انہوں نے بالکل برعکس ثبوت دیا۔ ایک بڑا شہر ان کے قبضہ میں دے دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں داخل ہو تو فاتحانہ تمکنت سے نہیں بلکہ عجز کے ساتھ اور اللہ سے معافی مانگتے ہوئے۔ مگر وہ اس کے بجائے تفریحی کلمات بولنے لگے۔ ان کو من و سلوی کی قدرتی غذائیں دی گئیں تاکہ وہ معاشی جدوجہد سے فارغ رہ کر احکام الٰہی کی بجا آوری میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہوں مگر انہوں نے چٹ پٹے اور مسالہ دار کھانوں کا مطالبہ شروع کردیا۔ انہوں نے دنیا میں ضرورت پر قناعت نہ کرکے لذت کی تلاش کی۔ ان کی بے حسی اتنی بڑھی کہ اللہ کی کھلی کھلی نشانیاں بھی ان کے دلوں کو پگھلانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوئیں۔ ان کی تنبیہہ کے لیے جو اللہ کے بندے اٹھے ان کو انہوں نے ٹھکرایا حتی کہ قتل کرڈالا۔ یہود میں یہ ڈھٹائی اس لیے پید اہوئی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نجات یافتہ گروہ ہیں۔ مگر خدا کے یہاں نسلی اور گروہی بنیاد پر کوئی فیصلہ ہونے والا نہیں۔ ایک یہودی کو بھی اسی خدائی قانون سے جانچا جائے گا جس سے ایک غیر یہودی کو جانچا جائے گا۔ جنت اسی کے لیے ہے جو جنت والے عمل کرے نہ کہ کسی نسل یا گروہ کے لیے ۔

زمین کے اوپر شکر، صبر، تواضع اور قناعت کے ساتھ رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے، کیونکہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ یہ حد سے نکل جانا ہے جب کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک اپنی حد کے اندر عمل کرے ۔ (تفسیر آیات 58 تا 61)

 
(تذکیر القرآن ، تفسیر سورۃ البقرۃ آیت : 40 تا 61 ، مولانا وحید الدین خاں) 



اللہ تعالی اپنی نشانیوں سے انسانوں کو جانچتا ہے ۔

آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس کے درمیان کھڑا کیا اور سجدہ کے امتحان کے ذریعہ آدم کو عملی طور پر بتایا کہ ان کے لیے زمین پر دو ممکن راہیں ہوں گی۔ ایک فرشتوں کی طرح حکم الٰہی کے سامنے جھک جانا، خواہ اس کا مطلب اپنے سے کمتر ایک بندے کے آگے جھکنا کیوں نہ ہو۔ دوسرا ابلیس کی طرح اپنے کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کے آگے جھکنے سے انکار کردینا۔ انسان کی پوری زندگی اسی امتحان کی رزم گا ہہے۔ 

یہاں ہر وقت آدمی کو دو رویوں میں سے کسی ایک رویہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ایک ملکوتی رویہ، یعنی دنیا کی زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے، اللہ کے حکم کی تعمیل میں آدمی حق و انصاف کے آگے جھک جائے۔ دوسری شیطانی رویہ، یعنی جب کوئی معاملہ پیش آئے تو آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ انکے زیر اثر آ کر صاحب معاملہ کے آگے جھکنے سے انکار کردے ۔

ممنوعہ درخت کا معاملہ بھی اسی ذیل کا ایک عملی سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے بھٹکنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے ورغلانے میں آجائے اور اس حد میں قدم رکھ دے جس میں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ "منع کیے ہوئے پھل" کو کھاتے ہی آدمی اللہ کی نصرت، بالفاظ دیگر جنت کے استحقاق سے محروم ہوجاتا ہے۔

 تاہم یہ محرومی ایسی نہیں ہے جس کی تلافی نہ ہوسکتی ہو۔ یہ امکان آدمی کے لیے پھر بھی کھلا رہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے رب کی طرف لوٹے اور اپنے رویہ کو درست کرتے ہوئے اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔ جب بندہ اس طرح پلٹتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف پلٹ آتا ہے اور اس کو اس طرح پاک کردیتا ہے گویا اس نے گناہ ہی نہٰیں کیا تھا۔ 

کسی انسانی آبادی میں اللہ کی دعوت کا اٹھنا بھی اسی قسم کا ایک سخت امتحان ہے۔ داعی حق بھی گویا ایک "آدم" ہوتا ہے جس کے سامنے لوگوں کو جھک جانا ہے۔ اگر وہ اپنے کبر اور اپنے تعصب کی وجہ سے اس کا اعتراف نہ کریں تو گویا کہ انہوں نے ابلیس کی پیروی کی۔ خدا اس دنیا میں عیاناً سامنے نہیں آتا، وہ اپنی نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو جانچتا ہے۔ جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو پایا اسی نے خدا پایا اور جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو نہیں پایا وہ خدا سے محروم رہا ۔

(تذکیر القرآن ، مولانا وحید الدین خاں ، تفسیر سورۃ البقرۃ آیت : 34 تا 39) 

انسان کا سب سے بڑا جرم

خلیفہ کے لفظی معنی ہیں کسی کے بعد اس کی جگہ لینے والا، جانشین، وراثتی اقتدار کے زمانہ میں یہ لفظ کثرت سے حکمرانوں کے لیے استعمال ہوا جو ایک کے بعد دوسرے کی جگہ تخت پر بیٹھتے تھے۔ اس طرح استعمالی مفہوم کے لحاظ سے خلیفہ کا لفظ صاحب اقتدار کے ہم معنی ہوگیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے زمین پر آباد ہوگا۔ فرشتوں کو اندیشہ ہوا کہ اختیار و اقتدار پا کر انسان بگڑ نہ جائے اور زمین میں خوں ریزی کرنے لگے۔ فرشتوں کا یہ اندیشہ غلط نہ تھا۔ اللہ کو بھی اس امکان کا پورا علم تھا۔ مگر اللہ کی نظر اس بات پر تھی کہ انسانوں میں اگر بہت سے لوگ آزادی پا کر بگڑیں گے تو ایک قابل لحاظ تعداد ان لوگوں کی بھی ہوگی جو آزادی اور اختیار کے باوجود اپنی حیثیت کو اور اپنے رب کے مقام کو پہچانیں گے اور کسی دباؤ کے بغیر خود اپنے ارادہ سے تسلیم و اطاعت کا طریقہ اختیار کریں گے۔ یہ دوسری قسم کے لوگ اگرچہ نسبتاً کم تعداد میں ہوں گے مگر وہ فصل کے دانوں کی طرح قیمتی ہوں گے۔ فصل میں لکڑی اور بھس کی مقدار ہمیشہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مگر دانے، کم ہونے کے باوجود، اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کی خاطر لکڑی اور بھس کے ڈھیر کو بھی اگنے اور پھیلنے کا موقع دے دیا جاتا ہے ۔

اللہ نے اپنی قدرت سے آدم کی تمام ذریت کو بیک وقت ان کے سامنے کردیا۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ دیکھو یہ ہے اولاد آدم۔ اب بتاؤ کہ ان میں کون کون اور کیسے کیسے لوگ ہیں۔ فرشتے عدم واقفیت کی وجہ سے بتا نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو ان کے ناموں، بالفاظ دیگر شخصیتوں سے آگاہ کیا اور پھر کہا کہ فرشتوں کے سامنے ان کا تعارف کراؤ۔ جب آدم نے تعارف کرایا تو فرشتوں کو معلوم ہوا کہ آدم کی اولاد میں، فسادیوں اور برے لوگوں کے علاوہ کیسے کیسے صلحاء و متقین ہوں گے۔ انسان کا سب سے بڑا جرم، انکار رب کے بعد، زمین میں فساد کرنا اور خون بہانا ہے۔ کسی فرد یا گروہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایسی کارروائیاں کرے جس کے نتیجہ میں زمین پر خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام بگڑ جائے، انسان انسان کی جان مارنے لگے۔ ایسا ہر فعل آدمی کو خدا کی رحمتوں سے محروم کردیتا ہے۔ زمین میں خد اکے بنائے ہوئے فطری نظام کا قائم رہنا اس کی اصلاح ہے اور زمین میں  فطری نظام کو بگاڑنا اس کا فساد ۔


(تذکیر القرآن ، سورۃ البقرۃ  تفسیر آیات 30۔۔ ۔33۔ مولانا وحید الدین خاں )