سورۂ آلِ عمران ( آیت :14)
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
ترجمہ :
لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے، جیسے عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں۔ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے۔
اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ قرآن انسان کے لے خواہشات کی محبت یعنی عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی اور دیگر دنیاوی سازوسامان کیوں خوشنما بنادی گئی ہے؟ یا قرآن میں کیوں عورت، مال اور سونا چاندی جیسی چیزوں کا ذکر بار بار آتا ہے؟ اس کا جواب ہمیں سورۂ آلِ عمران کی مذکورہ آیت میں ملتا ہے، جہاں قرآن انسانی نفسیات کا نہایت حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔
اللہ فرماتا ہے کہ لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے—عورتیں، اولاد، سونے اور چاندی کے ڈھیر، طاقت کی علامت گھوڑے، مویشی اور کھیتیاں۔ غور کیجیے، قرآن یہاں کسی اخلاقی وعظ سے بات شروع نہیں کرتا بلکہ انسان کی فطرت کو تسلیم کرتا ہے۔ لفظ “زُيِّنَ” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ میلان انسان کے اندر ودیعت ہے، یہ مصنوعی نہیں بلکہ فطری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خواہشات کی فہرست میں سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسانی جذبات، محبت، کشش اور خاندان کا پورا نظام اسی جبلت کے گرد گھومتا ہے۔ قرآن یہاں نہ تو جنس کو گناہ کہتا ہے اور نہ ہی انسان کو فرشتہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ انسان کو انسان ہی رہنے دیتا ہے—باشعور اور ذمہ دار انسان۔
اس کے بعد سونا اور چاندی کا ذکر آتا ہے، جو محض دولت نہیں بلکہ طاقت، تحفظ اور سماجی برتری کی علامت ہیں۔ قرآن سرمایہ کو برا نہیں کہتا، مگر یہ ضرور واضح کرتا ہے کہ اصل سوال دولت کی موجودگی نہیں بلکہ اس کی حاکمیت ہے۔ کیا انسان مال کا مالک ہے یا مال انسان کا؟
یہاں قرآن ایک نہایت اہم فکری نکتہ بیان کرتا ہے: مسئلہ خواہشات کا ہونا نہیں، مسئلہ انہیں زندگی کا مرکز بنا لینا ہے۔ اسی لیے فوراً فرمایا جاتا ہے کہ یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے—عارضی، محدود اور فانی۔
آیت کا اختتام ایک غیر معمولی نفسیاتی توازن کے ساتھ ہوتا ہے: “اور اللہ ہی کے پاس بہترین ٹھکانا ہے”۔ گویا انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ خواہشات سے لڑنے کے بجائے انہیں ایک بڑے مقصد کے تابع کر دو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انسان کو حیوانیت سے نکال کر اخلاقی بلندی تک لے جاتا ہے۔
قرآن کی نظر میں فرعونی ذہن خواہش کو اقتدار بنا لیتا ہے، قارونی ذہن دولت کو مقصد سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ مومن خواہشات کو امتحان اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہی فرق انسانی تاریخ کے عروج و زوال کی اصل بنیاد ہے۔
آخرکار قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسانی خواہشات کو نہ مارا جائے، نہ آزاد چھوڑا جائے، بلکہ ان کی قیادت اللہ کے سپرد کر دی جائے۔ یہی توازن انسان کو سکون بھی دیتا ہے اور مقصد بھی۔