مکہ کے متوسط دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مکہ کے متوسط دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سورة الْوَاقِعَة : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت کے لفظ اَلْواقِعَہ کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 

زمانہ نزول :


حضرت عبداللہ بن عباس نے سورتوں کی جو ترتیب نزول بیان کی ہے اس میں وہ فرما رہے ہیں کہ پہلے سورۃ طٰہٰ نازل ہوئی، پھر الواقعہ اور اس کے بعد الشعراء (الاتْقان للسُّیوطی)۔ یہی ترتیب عکرمہ نے بھی بیان کی ہے (بیہقی، دلائل النبوۃ)۔ 


اس کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عمر (رض) کے ایمان لانے کے بارے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت عمر اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو سورۃ طٰہٰ پڑھی جا رہی تھی۔ ان کی آہٹ سن کر ان لوگوں نے قرآن کے اوراق چھپا دیے۔ حضرت عمر پہلے تو بہنوئی پر پل پڑے اور جب بہن ان کو بچانے آئیں تو ان کو بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ بہن کا خون بہتے دیکھ کر حضرت عمر کو سخت ندامت ہوئی، اور انہوں نے کہا، اچھا مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جسے تم نے چھپا لیا ہے۔ دیکھوں تو سہی اس میں کیا لکھا ہے۔ بہن نے کہا " آپ اپنے شرک کی وجہ سے نجس ہیں، وانہ لا یمسھا الا الطاھر، " اس صحیفے کو صرف طاہر آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے "۔ چنانچہ حضرت عمر نے اٹھ کر غسل کیا اور پھر اس صحیفے کو لے کر پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت سورۃ واقعہ نازل ہوچکی تھی، کیونکہ اسی میں آیت لا یمسہ الا المطھرون وارد ہوئی ہے۔ اور یہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمر ہجرت حبشہ کے بعد 5 نبوی میں ایمان لائے ہیں ۔

موضوع اور مضمون :


اس کا موضوع آخرت، توحید اور قرآن کے متعلق کفار مکہ کے شبہات کی تردید ہے۔ وہ سب سے زیادہ جس چیز کو ناقابل یقین قرار دیتے تھے وہ یہ تھی کہ کبھی قیامت برپا ہوگی جو میں زمین و آسمان کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور پھر تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ جلا اٹھائے جائیں گے اور ان کا محاسبہ ہوگا اور نیک انسان جنت کے باغوں میں رکھے جائیں گے اور گناہ گار انسان دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کا عالم واقعہ میں پیش آنا غیر ممکن ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ جب وہ واقعہ پیش آ جائے گا اس وقت کوئی یہ جھوٹ بولنے والا نہ ہوگا کہ وہ پیش نہیں آیا ہے، نہ کسی کی یہ طاقت ہوگی کہ اسے آتے آتے روک دے، یا واقعہ سے غیر واقعہ بنا دے۔ اس وقت لازماً تمام انسان تین طبقات میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک، سابقین۔ دوسرے، عام صالحین، تیسرے وہ لوگ جو آخرت کے منکر رہے اور مرتے دم تک کفر و شرک اور گناہ کبیرہ پر جمے رہے۔ ان تینوں طبقات کے ساتھ جو معاملہ ہوگا اسے تفصیل کے ساتھ آیت 7 سے 56 تک بیان کیا گیا ہے۔ 


اس کے بعد آیت 57 سے آیت 74 تک اسلام کے ان دونوں بنیادی عقائد کی صداقت پر پے درپے دلائل دیے گئے ہیں جن کو ماننے سے کفار انکار کر رہے تھے، یعنی توحید اور آخرت۔ ان دلائل میں زمین و آسمان کی دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی طرف اور اس غذا کی طرف جسے وہ کھاتا ہے اور اس پانی کی طرف جسے وہ پیتا ہے اور اس آگ کی طرف جس سے وہ اپنا کھانا پکاتا ہے، توجہ دلائی گئی ہے۔ اور اسے اس سوال پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ تو جس خدا کے بنانے سے بنا ہے اور جس کے دیے ہوئے سامان زیست پر پل رہا ہے اس کے مقابلے میں خود مختار ہونے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی بجا لانے کا آخر تجھے حق کیا ہے؟ اور اس کے متعلق تو نے یہ کیسے گمان کرلیا کہ وہ ایک دفعہ تجھے وجود میں لے آنے کے بعد ایسا عاجز و درماندہ ہوجاتا ہے کہ دوبارہ تجھ کو وجود میں لانا چاہے بھی تو نہیں لا سکتا ؟ 


پھر آیت 75 سے 82 تک قرآن کے بارے میں ان کے شکوک کی تردید کی گئی ہے اور ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ بد نصیبو، یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آئی ہے اور تم نے اپنا حصہ اس نعمت میں یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹی بےاعتنائی برتتے ہو۔ قرآن کی صداقت پر دو مختصر سے فقروں میں یہ بےنظیر دلیل پیش کی گئی ہے کہ اس پر کوئی غور کرے تو اس کے اندر ویسا ہی محکم نظام پائے گا جیسا کائنات کے تاروں اور سیاروں کا نظام محکم ہے، اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مصنف وہی ہے جس نے کائنات کا یہ نظام بنایا ہے۔ پھر کفار سے کہا گیا ہے کہ یہ کتاب اس نوشتہ تقدیر میں ثبت ہے جو مخلوقات کی دسترس سے باہر ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شیاطین لاتے ہیں، حالانکہ لوح محفوظ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک جس ذریعہ سے یہ پہنچتی ہے اس میں پاک نفس فرشتوں کے سوا کسی کا ذرہ برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے۔ 


آخر میں انسان کو بتایا گیا ہے کہ تو کتنی ہی لن ترانیاں ہانکے اور اپنی خود مختاری کے گھمنڈ میں کتنا ہی حقائق کی طرف سے اندھا ہوجائے، مگر موت کا وقت تیری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اس وقت تو بالکل بےبس ہوتا ہے۔ اپنے ماں باپ کو نہیں بچا سکتا۔ اپنی اولاد کو نہیں بچا سکتا۔ اپنے پیروں اور پیشواؤں اور محبوب ترین لیڈروں کو نہیں بچا سکتا۔ سب تیری آنکھوں کے سامنے مرتے ہیں اور تو دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی بالا تر طاقت تیرے اوپر فرمانروا نہیں ہے اور تیرا یہ زعم درست ہے کہ دنیا میں بس تو ہی تو ہے، کوئی خدا نہیں ہے، تو کسی مرنے والے کی نکلتی ہوئی جان کو پلٹا کیوں نہیں لاتا ؟ جس طرح تو اس معاملہ میں بےبس ہے اسی طرح خدا کے محاسبے اور اس کی جزا و سزا کو بھی روک دینا تیرے اختیار میں نہیں ہے۔ تو خواہ مانے یا نہ مانے، موت کے بعد ہر مرنے والا اپنا انجام دیکھ کر رہے گا۔ مقربین میں سے ہو تو مقربین کا انجام دیکھے گا۔ صالحین میں سے ہو تو صالحین کا انجام دیکھے گا۔ اور جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو تو وہ انجام دیکھے گا جو ایسے مجرموں کے لیے مقدر ہے۔
-------------------------------

( تفہیم القرآن ، مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودیؒ )


سورة النَّجْم : زمانہ نزول،تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلے ہی لفظ ہی والنجم سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی مضمون کے لحاظ سے سورۃ کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ اَوَّلُ سَوْرَۃٍ اُنْزِلَتْ فیھا سجدۃٌ النجم (پہلی سورۃ جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی النجم ہے )۔ اس حدیث کے جو اجزاء اسود بن یزید، ابواسحاق، اور زُہَیر بن معاویہ کی روایات میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سورۃ ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ایک مجمع عام میں ( اور ابن مردویہ کی روایت کے مطابق حَرَم میں) سنایا تھا۔ مجمع میں کافر اور مومن سب موجود تھے۔ آخر میں جب آپ نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ فرمایا تو تمام حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے اور مشرکین کے وہ بڑے بڑے سردار تک، جو مخالفت میں پیش پیش تھے سجدہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔ ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے کفار میں سے صرف ایک شخص امیہ بن خَلَف کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرنے کے بجائے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا کہ میرے لیے بس یہی کافی ہے۔ بعد میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔ 


اس واقعہ کے دوسرے عینی شاہد حضرت مطلب بن ابی وداعَہ ہیں جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔ نسائی اور مسند احمد میں ان کا اپنا بیان یہ نقل ہوا ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورۃ نجم پڑھ کر سجدہ فرمایا اور سب حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے تو میں نے سجدہ نہ کیا، اور اسی کی تلافی اب میں اس طرح کرتا ہوں کہ اس سورے کی تلاوت کے وقت سجدہ کبھی نہیں چھوڑتا۔ 


ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے رجب 5 نبوی میں صحابہ کرام کی ایک مختصر سی جماعت حبش کی طرف ہجرت کرچکی تھی۔ پھر جب اسی سال رمضان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے مجمع عام میں سورۃ نجم کی تلاوت فرمائی اور کافر و مومن سب آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے، تو حبش کے مہاجرین تک یہ قصہ اس شکل میں پہنچا کہ کفار مکہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس خبر کو سن کر ان میں سے کچھ لوگ شوال 5 نبوی میں مکہ واپس آ گئے۔ مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ظلم کی چکی اسی طرح چل رہی ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی، آخر کار دوسری ہجرت حبشہ واقع ہوئی جس میں پہلی ہجرت سے بھی زیادہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔ 


اس طرح یہ بات قریب قریب یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ سورۃ رمضان 5 نبوی میں نازل ہوئی ہے۔ 

تاریخی پس منظر :


زمانہ نزول کی اس تفصیل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سورۃ نازل ہوئی۔ ابتدائے بعثت کے بعد سے پانچ سال تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں ہی میں اللہ کا کلام سنا سنا کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے تھے۔ اس پوری مدت میں آپ کو کبھی کسی مجمع عام میں قرآن سنانے کا موقع نہ مل سکا تھا، کیونکہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی۔ ان کو اس امر کا خوب اندازہ تھا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تبلیغ میں کس بلا کی کشش، اور قرآن مجید کی آیات میں کس غضب کی تاثیر ہے۔ اس لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ خود سنیں نہ کسی کو سننے دیں، اور آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلا کر محض اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے آپ کی دعوت کو دبا دیں۔ اس غرض کے لیے ایک طرف تو وہ جگہ جگہ یہ مشہور کرتے پھر رہے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہک گئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف ان کا یہ مستقل طریق کار تھا کہ جہاں بھی آپ قرآن سنانے کی کوشش کریں وہاں شور مچا دیا جائے تاکہ لوگ یہ جان ہی نہ سکیں کہ وہ بات کیا ہے جس کی بنا پر آپ کو گمراہ اور بہکا ہوا آدمی قرار دیا جا رہا ہے۔ 


ان حالات میں ایک روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم پاک میں جہاں قریش کے لوگوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا، یکایک تقریر کرنے کھڑے ہوگئے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان مبارک پر یہ خطبہ جاری ہوا جو سورۃ نجم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کلام کی شدت تاثیر کا حال یہ تھا کہ جب آپ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور مچانے کا ہوش ہی نہ رہا، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ فرمایا تو وہ بھی سجدے میں گر گئے۔ بعد میں انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم سے کیا کمزوری سرزد ہوگئی، اور لوگوں نے بھی انہیں اس پر مطعون کرنا شروع کیا کہ دوسروں کو تو یہ کلام سننے سے منع کرتے تھے، آج خود اسے نہ صرف کان لگا کر سنا بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سجدہ بھی کر گزرے۔ آخر کار انہوں نے یہ بات بنا کر اپنا پیچھا چھڑایا کہ صاحب ہمارے کانوں نے تو : اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَا لْعُزّٰی۔ وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی کے بعد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے تلک الغرانقۃ العُلیٰ، وان شفاعتھن لترجیٰ (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے )، اس لیے ہم نے سمجھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے طریقے پر واپس آ گئے ہیں۔ حالانکہ کوئی پاگل آدمی ہی یہ سوچ سکتا تھا کہ اس پوری سورۃ کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے جو ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج، حواشی 96 تا 101 )۔ 


موضوع اور مضمون :



تقریر کا موضوع کفار مکہ کو اس رویے کی غلطی پر متنبہ کرنا ہے جو وہ قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ 


کلام کا آغاز اس طرح فرمایا گیا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہکے اور بھٹکے ہوئے آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم ان کے متعلق مشہور کرتے پھر رہے ہو، اور نہ اسلام کی یہ تعلیم اور دعوت انہوں نے خود اپنے دل سے گھڑ لی ہے، جیسا کہ تم اپنے نزدیک سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں وہ خالص وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔ جن حقیقتوں کو وہ تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ان کے اپنے قیاس و گمان کی آفریدہ نہیں ہیں بلکہ ان کی آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔ انہوں نے اس فرشتے کو خود دیکھا ہے جس کے ذریعہ سے ان کو یہ علم دیا جاتا ہے۔ انہیں اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا ہے۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سوچ کر نہیں دیکھ کر کہہ رہے ہیں۔ ان سے تمہارا جھگڑنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا آنکھوں والے سے اس چیز پر جھگڑے جو اسے نظر نہیں آتی اور آنکھوں والے کو نظر آتی ہے۔ 


اس کے بعد علی الترتیب تین مضامین ارشاد ہوئے ہیں : 


اوّلاً سامعین کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی تم پیروی کر رہے ہو اس کی بنیاد محض گمان اور من مانے مفروضات پر قائم ہے۔ تم نے لات اور منات اور عزّیٰ جیسی چند دیویوں کے معبود بنا رکھا ہے، حالانکہ الوہیت میں برائے نام بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے، حالانکہ خود اپنے لیے تم بیٹی کو عار سمجھتے ہو۔ تم نے اپنے نزدیک یہ فرض کرلیا ہے کہ تمہارے یہ معبود اللہ تعالیٰ سے تمہارے کام بنوا سکتے ہیں، حالانکہ تمام ملائکہ، مقربین مل کر بھی اللہ سے اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے۔ اس طرح کے عقائد جو تم نے اختیار کر رکھے ہیں، ان میں سے کوئی عقیدہ بھی کسی علم اور دلیل پر مبنی نہیں ہے، بلکہ کچھ خواہشات ہیں جن کی خاطر تم بعض اوہام کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی غلطی ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ دین وہی صحیح ہے جو حقیقت کے مطابق ہو۔ اور حقیقت لوگوں کی خواہشات کی تابع نہیں ہوا کرتی کہ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھیں وہی حقیقت ہوجائے۔ اس سے مطابقت کے لیے قیاس و گمان کام نہیں دیتا، بلکہ اس کے لیے علم درکار ہے۔ وہ علم تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو اور الٹا اس شخص کو گمراہ ٹھہراتے ہو جو تمہیں صحیح بات بتا رہا ہے۔ اس غلطی میں تمہارے مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے، بس دنیا ہی تمہاری مطلوب بنی ہوئی ہے۔ اس لیے نہ تمہیں علم حقیقت کی کوئی طلب ہے، نہ اس بات کی کوئی پروا کہ جن عقائد کی تم پیروی کر رہے ہو وہ حق کے مطابق ہیں یا نہیں ۔


ثانیاً لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے۔ راست رو وہ ہے جو اس کے راستے پر ہو، اور گمراہ وہ جو اس کی راہ سے ہٹا ہوا ہو۔ گمراہ کی گمراہی اور راست رو کی راست روی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک کے عمل کو وہ جانتا ہے اور اس کے ہاں لازماً برائی کا بدلہ برا اور بھلائی کا بدلہ بھلا مل کر رہنا ہے۔ اصل فیصلہ اس پر نہیں ہوتا کہ تم اپنے زعم میں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو اور اپنی زبان سے اپنی پاکیزگی کے کتنے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہو، بلکہ فیصلہ اس پر ہونا ہے کہ خدا کے علم میں تم متقی ہو یا نہیں۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں سے وہ در گزر فرمائے گا۔ 


ثالثاً، دین حق کے وہ چند بنیادی امور لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جو قرآن مجید کے نزول سے صدہا برس پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں بیان ہوچکے تھے، تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی نیا اور نرالا دین لے آئے ہیں، بلکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ وہ اصلی حقائق ہیں جو ہمیشہ سے خدا کے نبی بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ان ہی صحیفوں سے یہ بات بھی نقل کر دی گئی ہے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح اور قوم لوط کی تباہی اتفاقی حوادث کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسی ظلم و طغیان کی پاداش میں ان کو ہلاک کیا تھا جس سے باز آنے پر کفار مکہ کسی طرح آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔ 


یہ مضامین ارشاد فرمانے کے بعد تقریر کا خاتمہ اس بات پر کیا گیا ہے کہ فیصلے کی گھڑی قریب آ لگی ہے جسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے۔ اس گھڑی کے آنے سے پہلے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کے ذریعہ سے تم لوگوں کو اسی طرح خبردار کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا۔ اب کیا یہی وہ بات ہے جو تمہیں انوکھی لگتی ہے ؟ جس کی تم ہنسی اڑاتے ہو؟ باز آ جاؤ اپنی اس روش سے جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اسی کی بندگی کرو۔ 


یہی وہ مؤثر خاتمہ کلام تھا جسے سن کر کٹے سے کٹے منکرین بھی ضبط نہ کرسکے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب کلام الٰہی کے یہ فقرے ادا کر کے سجدہ کیا تو وہ بھی بےاختیار سجدے میں گر گئے۔

----------------------------------------------------------
( تفہیم القرآن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 



سورة الطُّوْر : زمانہ نزول، موضوع اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلے ہی لفظ " وَالطُّوْرِ " سے ماخوذ ہے۔ 

زمانۂ نزول :


مضامین کی اندرونی شہادت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھی مکہ معظمہ کے اسی دور میں نازل ہوئی ہے جس میں سورۃ ذاریات نازل ہوئی تھی۔ اس کو پڑھتے ہوئے یہ تو ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے زمانے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اعتراضات اور الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی، مگر یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ظلم و ستم کی چکی زور شور سے چلنی شروع ہوگئی تھی۔ 

موضوع اور مباحث :


اس کے پہلے رکوع کا موضوع آخرت ہے۔ سورۃ ذاریات میں اس کے امکان اور وجوب اور وقوع کے دلائل دیے جا چکے تھے، اس لیے یہاں ان کا اعادہ نہیں کیا گیا ہے، البتہ آخرت کی شہادت دینے والے چند حقائق و آثار کی قسم کھا کر پورے زور کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ یقیناً واقع ہو کر رہے گی اور کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اسے برپا ہونے سے روک دے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آئے گی تو اس کے جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوگا، اور اسے مان کر تقویٰ کی روش اختیار کرلینے والے کس طرح اللہ کے انعامات سے سرفراز ہوں گے۔ 


اس کے بعد دوسرے رکوع میں سرداران قریش کے اس رویے پر تنقید کی گئی ہے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ وہ آپ کو کبھی کاہن، کبھی مجنون اور کبھی شاعر قرار دے کر عوام الناس کو آپ کے خلاف بہکاتے تھے تاکہ لوگ آپ کے لائے ہوئے پیغام کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہ کریں۔ وہ آپ کی ذات کو اپنے حق میں ایک بلائے ناگہانی سمجھتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ کوئی آفت ان پر نازل ہوجائے تو ہمارا ان سے پیچھا چھوٹے۔ وہ آپ پر الزام لگاتے تھے کہ یہ قرآن آپ خود گھڑ گھڑ کر خدا کے نام سے پیش کر رہے ہیں اور یہ معاذاللہ ایک فریب ہے جو آپ نے بنا رکھا ہے۔ وہ بار بار طنز کرتے تھے کہ خدا کو نبوت کے لیے ملے بھی تو بس یہ صاحب ملے۔ وہ آپ کی دعوت و تبلیغ سے ایسی بیزاری کا اظہار کرتے تھے جیسے آپ کچھ مانگنے کے لیے ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے آپ سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ وہ آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچتے تھے کہ آپ کے خلاف کیا چال ایسی چلی جائے جس سے آپ کی اس دعوت کا خاتمہ ہوجائے۔ اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے انہیں اس امر کا کوئی احساس نہ تھا کہ وہ کیسے جاہلانہ عقائد میں مبتلا ہیں جن کی تاریکی سے لوگوں کو نکالنے کے لیے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بالکل بےغرضانہ اپنی جان کھپا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی رویے پر تنقید کرتے ہوئے پے در پے کچھ سوالات کیے ہیں جن میں سے ہر سوال یا تو ان کے کسی اعتراض کا جواب ہے یا ان کی کسی جہالت پر تبصرہ۔ پھر فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی نبوت کا قائل کرنے کے لیے کوئی معجزہ دکھانا قطعی لا حاصل ہے، کیونکہ یہ ایسے ہٹ دھرم لوگ ہیں انہیں خواہ کچھ بھی دکھا دیا جائے، یہ اس کی کوئی تاویل کر کے ایمان لانے سے گریز کر جائیں گے۔ 


اس رکوع کے آغاز میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان مخالفین و معاندین کے الزامات و اعتراضات کی پروا کیے بغیر اپنی دعوت و تذکیر کا کام مسلسل جاری رکھیں، اور آخر میں بھی آپ کو تاکید فرمائی گئی ہے کہ صبر کے ساتھ ان مزاحمتوں کا مقابلہ کیے چلے جائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آ جائے۔ اس کے ساتھ آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو دشمنان حق کے مقابلے میں اٹھا کر اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ وہ برابر آپ کی نگہبانی کر رہا ہے۔ جب تک اس کے فیصلے کی گھڑی آئے، آپ سب کچھ برداشت کرتے رہیں اور اپنے رب کی حمد و تسبیح سے وہ قوت حاصل کرتے رہیں جو ایسے حالات میں اللہ کا کام کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے ۔

---------------------------------------
(تفہیم القرآن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 


سورة الذّٰرِیٰت : زمانہ نزول، موضوع اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلے ہی لفظ والذّٰرِیَات سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ جس کی ابتدا لفظ الذاریات سے ہوتی ہے۔ 

زمانۂ نزول :


مضامین اور انداز بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورۃ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا مقابلہ تکذیب و استہزاء اور جھوٹے الزامات تو بڑے زور شور کے ساتھ ہو رہا تھا، مگر ابھی ظلم و تشدد کی چکی چلنی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے یہ بھی اسی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے جس میں سورۃ " ق " نازل ہوئی ہے۔ 

موضوع اور مباحث :


اس کا بڑا حصہ آخرت کے موضوع پر ہے، اور آخر میں توحید کی دعوت پیش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کو اس بات پر بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بات نہ ماننا اور اپنے جاہلانہ تصورات پر اصرار کرنا خود انہی قوموں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے جنہوں نے یہ روش اختیار کی ہے۔ 


آخرت کے متعلق جو بات اس سورۃ کے چھوٹے چھوٹے مگر نہایت پر معنی فقروں میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کے مآل و انجام کے بارے میں لوگوں کے مختلف اور متضاد عقیدے خود اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ ان میں سے کوئی عقیدہ بھی علم پر مبنی نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے قیاسات دوڑا کر اپنی جگہ جو نظریہ قائم کرلیا اسی کو وہ اپنا عقیدہ بنا کر بیٹھ گیا۔ کسی نے سمجھا کہ زندگی بعد موت نہیں ہوگی۔ کسی نے اس کو مانا تو تناسخ کی شکل میں مانا۔ کسی نے حیات اخروی اور جزا و سزا کو تسلیم کیا تو جزائے اعمال سے بچنے کے لءے طرح طرح کے ساہرے تجوزی کرلیے۔ اتنے بڑے اور اہم ترین بنیادی مسئلے پر، جس کے بارے میں آدمی کی رائے کا غلط ہوجانا اس کی پوری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے مستقبل کو برباد کر ڈالتا ہے، علم کے بغیر محض قیاسات کی بنا پر کوئی عقیدہ بنا لینا ایک تباہ کن حماقت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا رہ کر ساری عمر جاہلانہ غفلت میں گزار دے اور مرنے کے بعد اچانک ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہو جس کے لیے اس نے قطعاً کوئی تیاری نہ کی تھی۔ ایسے مسئلے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کا بس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان کا آخرت کے متعلق جو علم خدا کی طرف سے اس کا نبی دے رہا ہے اس پر وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرے اور زمین و آسمان کے نظام اور خود اپنے وجود پر نگاہ ڈال کر کھلی آنکھوں سے دیکھے کہ کیا اس علم کے صحیح ہونے کی شہادت ہر طرف موجود نہیں ہے؟ اس سلسلے میں ہوا اور بارش کے انتظام کو، زمین کی ساخت اور اس کی مخلوقات کو، انسان کے اپنے نفس کو، آسمان کی تخلیق کو، اور دنیا کی تمام اشیاء کے جوڑوں کی شکل میں بنائے جانے کو آخرت کی شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور انسانی تاریخ سے مثالیں دے کر بتایا گیا ہے کہ سلطنت کائنات کا مزاج کس طرح ایک قانون مکافات کا مقتضی نظر آ رہا ہے۔ 


اس کے بعد بڑے مختصر انداز میں توحید کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تمہارے خالق نے تم کو دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ وہ تمہارے بناوٹی معبودوں کی طرح نہیں ہے جو تم سے رزق لیتے ہیں اور تمہاری مدد کے بغیر جن کی خدائی نہیں چل سکتی۔ وہ ایسا معبود ہے جو سب کا رزاق ہے، کسی سے رزق لینے کا محتاج نہیں، اور جس کی خدائی خود اس کے اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے۔ اسی سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا مقابلہ جب بھی کیا گیا ہے کسی معقول بنیاد پر نہیں بلکہ اسی ضد اور ہٹ دھرمی اور جاہلانہ غرور کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ برتی جا رہی ہے۔ اور اس کی محرک بجز سرکشی کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ان سرکشوں کی طرف التفات نہ کریں اور اپنی دعوت و تذکیر کا کام کیے جائیں، کیونکہ وہ ان لوگوں کے لیے چاہے نافع نہ ہو، مگر ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے۔ رہے وہ ظالم جو اپنی سرکشی پر مصر رہیں، تو ان سے پہلے اسی روش پر چلنے والے اپنے حصے کا عذاب پا چکے ہیں اور ان کے حصے کا عذاب تیار ہے۔

-----------------------
(تفہیم القرآن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 



سورة قٓ : زمانہ نزول، موضوع اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آغاز ہی کے حرف " ق " سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورۃ جس کا افتتاح حرف ق سے ہوتا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


کسی معتبر روایت سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ ٹھیک کس زمانہ میں نازل ہوئی ہے، مگر مضامین پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول مکہ معظمہ کا دوسرا دور ہے جو نبوت کے تیسرے سال سے شروع ہو کر پانچویں سال تک رہا۔ اس سورۃ کی خصوصیات ہم سورۃ انعام کے دیباچہ میں بیان کرچکے ہیں۔ ان خصوصیات کے لحاظ سے اندازاً یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ سورۃ پانچویں سال میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ کفار کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی، مگر ابھی ظلم و ستم کا آغاز نہیں ہوا تھا۔

موضوع اور مباحث :


معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر عیدین کی نمازوں میں اس سورۃ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک خاتون ام ہشام بن حارثہ، جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پڑوسن تھیں، بیان کرتی ہیں کہ مجھے سورۃ ق یاد ہی اسطرح ہوئی کہ میں جمعہ کے خطبوں میں اکثر آپ کی زبان مبارک سے اس کو سنتی تھی۔ بعض اور روایت میں آیا ہے کہ فجر کی نماز میں بھی آپ بکثرت اس کو پڑھا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نگاہ میں یہ ایک بڑی اہم سورۃ تھی۔ اس لیے آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بار بار اس کے مضامین پہنچانے کا اہتمام فرماتے تھے۔ 


اس اہمیت کی وجہ سورۃ کو بغور پڑھنے سے بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے۔ پوری سورۃ کا موضوع آخرت ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب مکہ معظمہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا تو لوگوں کو سب سے زیادہ اچنبھا آپ کی جس بات پر ہوا وہ یہ تھی کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ لوگ کہتے تھے یہ تو بالکل انہونی بات ہے۔ عقل باور نہیں کرتی کہ ایسا ہوسکتا ہے، آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہمارا ذرہ ذرہ زمین میں منتشر ہوچکا ہو تو ان پراگندہ اجزاء کو ہزارہا برس گزرنے کے بعد پھر اکٹھا کر کے ہمارا یہی جسم از سر نو بنا دیا جائے اور ہم زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تقریر نازل ہوئی۔ اس میں بڑے مختصر طریقے سے چھوٹے چھوٹے فقروں میں ایک طرف آخرت کے امکان اور اس کے وقوع پر دلائل دیے گئے ہیں، اور دوسری طرف لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ تم خواہ تعجب کرو، یا بعید از عقل سمجھو، یا جھٹلاؤ، بہرحال اس سے حقیقت نہیں بدل سکتی حقیقت اور قطعی اٹل حقیقت یہ ہے کہ تمہارے جسم کا ایک ایک ذرہ جو زمین میں منتشر ہوتا ہے، اس کے متعلق اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں گیا ہے اور کس حال میں کس جگہ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ اس کے لیے کافی ہے کہ یہ تمام منتشر ذرات پھر جمع ہوجائیں اور تم کو اسی طرح دوبارہ بنا کھڑا کیا جائے جیسے پہلے بنایا گیا تھا۔ اسی طرح تمہارا یہ خیال کہ تم یہاں شتر بےمہار بنا کر چھوڑ دیے گئے ہو اور کسی کے سامنے تمہیں جواب دہی نہیں کرنی ہے، ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست خود بھی تمہارے ہر قول و فعل سے، بلکہ تمہارے دل میں گزرنے والے خیالات تک سے واقف ہے، اور اس کے فرشتے بھی تم میں سے ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے تمام حرکات و سکنات کا ریکارڈ محفوظ کر رہے ہیں۔ جب وقت آئے گا تو ایک پکار پر تم بالکل اسی طرح نکل کھڑے ہو گے جس طرح بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی زمین سے نباتات کی کونپلیں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اس وقت یہ غفلت کا پردہ جو آج تمہاری عقل پر پڑا ہوا ہے، تمہارے سامنے سے ہٹ جائے گا اور تم اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لو گے جس کا آج انکار کر رہے ہو۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تم دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں تھے بلکہ ذمہ دار اور جواب دہ تھے۔ جزا و سزا، عذاب و ثواب اور جنت و دوزخ جنہیں آج فسانہ عجائب سمجھ رہے ہو، اس وقت یہ ساری چیزیں تمہاری مشہود حقیقتیں ہونگی۔ حق سے عناد کی پاداش میں اسی جہنم کے اندر پھینکے جاؤ گے جسے آج عقل سے بعید سمجھتے ہو، اور خدائے رحمان سے ڈر کر راہ راست کی طرف پلٹنے والے تمہاری آنکھوں کے سامنے اسی جنت میں جائیں گے جس کا ذکر سن کر آج تمہیں تعجب ہو رہا ہے۔

------------------------------

(تفہیم القرآن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 


سورة الزُّمَر : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : اس سورۃ کا نام آیات نمبر 71 و 73 (وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلیٰ جَھَنَّمَ زُمَراً اور وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَراً ) سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورۃ جس میں لفظ زمر آیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


آیت نمبر 10 (وَاَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃٌ ) سے اس امر کی طرف صاف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ بعض روایات میں یہ تصریح آئی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے حق میں ہوا تھا جبکہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کا عزم کیا (روح المعانی، جلد 23، صفحہ 226)

موضوع اور مضمون :


یہ پوری سورت ایک بہترین اور انتہائی مؤثر خطبہ ہے جو ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے مکہ معظمہ کی ظلم و تشدد سے بھری ہوئی اور عناد و مخالفت سے لبریز فضا میں دیا گیا تھا۔ یہ ایک وعظ ہے جس کے مخاطب زیادہ تر کفار قریش ہیں، اگرچہ کہیں کہیں اہل ایمان سے بھی خطاب کیا گیا ہے۔ اس میں دعوت محمدی کا اصل مقصود بتایا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسان خالص اللہ کی بندگی اختیار کرے اور کسی دوسرے کی طاعت و عبادت سے اپنی خدا پرستی کو آلودہ نہ کرے۔ اس اصل الاصول کو بار بار مختلف انداز سے پیش کرتے ہوئے نہایت زور دار طریقے پر توحید کی حقانیت اور اسے ماننے کے عمدہ نتائج، اور شرک کی غلطی اور اس پر جمے رہنے کے برے نتائج کو واضح کیا گیا ہے، اور لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی غلط روش سے باز آ کر اپنے رب کی رحمت کی طرف پلٹ آئیں۔ اسی سلسلے میں اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ کی بندگی کے لیے ایک جگہ تنگ ہوگئی ہے تو اس کی زمین وسیع ہے، اپنا دین بچانے کے لیے کسی اور طرف نکل کھڑے ہو، اللہ تمہارے صبر کا اجر دے گا۔ دوسری طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا ہے کہ ان کفار کو اس طرف سے بالکل مایوس کر دو کہ ان کا ظلم و ستم کبھی تم کو اس راہ سے پھیر سکے گا اور ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم میرا راستہ روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہو کر ڈالو، میں اپنا یہ کام جاری رکھوں گا۔

----------------------------------
(تفہیم القرآن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ )

سورة الصّٰٓفّٰت : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت کے لفظ والصافات سے ماخوذ ہے۔ 

زمانۂ نزول :


مضامین اور طرز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت غالباً مکی دور کے وسط میں، بلکہ شاید اس دور متوسط کے بھی آخری زمانہ میں نازل ہوئی ہے۔ انداز بیان صاف بتا رہا ہے کہ پس منظر میں مخالفت پوری شدت کے ساتھ برپا ہے اور نبی و اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہایت دل شکن حالات سے سابقہ در پیش ہے۔ 

موضوع و مضمون :


اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید و آخرت کا جواب جس تمسخر اور استہزاء کے ساتھ دیا جا رہا تھا، اور آپ کے دعوائے رسالت کو تسلیم کرنے سے جس شدت کے ساتھ انکار کیا جا رہا تھا، اس پر کفار مکہ کو نہایت پر زور طریقہ سے تنبیہ کی گئی ہے اور آخر میں انہیں صاف صاف خبردار کردیا گیا ہے کہ عنقریب یہی پیغمبر، جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو، تمہارے دیکھتے دیکھتے تم پر غالب آ جائے گا اور تم اللہ کے لشکر کو خود اپنے گھر کے صحن میں اترا ہوا پاؤ گے (آیت نمبر 171 تا 179)۔ یہ نوٹس اس زمانے میں دیا گیا تھا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ مسلمان (جن کو ان آیات میں اللہ کا لشکر کہا گیا ہے ) بری طرح ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان کی تین چوتھائی تعداد ملک چھوڑ کر نکل گئی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بمشکل 40۔ 50 صحابہ مکہ میں رہ گئے تھا اور انتہائی بےبسی کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں برداشت کر رہے تھے۔ ان حالات میں ظاہر اسباب کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ باور نہ کرسکتا تھا کہ غلبہ آخر کار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی مٹھی بھر بےسر و سامان جماعت کو نصیب ہوگا۔ بلکہ دیکھنے والے تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ تحریک مکے کی گھاٹیوں ہی میں دفن ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن 15۔ 16 سال سے زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک وہی کچھ پیش آگیا جس سے کفار کو خبردار کیا گیا تھا۔ 


تنبیہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں تفہیم اور ترغیب کا حق بھی پورے توازن کے ساتھ ادا فرمایا ہے۔ توحید اور آخرت کے عقیدے کی صحت پر منحصر دل نشین دلائل دیے ہیں، مشرکین کے عقائد پر تنقید کر کے بتایا ہے کہ وہ کیسی لغو باتوں پر ایمان لائے بیٹھے ہیں، ان گمراہیوں کے برے نتائج سے آگاہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ایمان و عمل صالح کے نتائج کس قدر شاندار ہیں۔ پھر اسی سلسلے میں پچھلی تاریخ کی مثالیں دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء کے ساتھ اور ان کی قوموں کے ساتھ کیا معاملہ رہا ہے، کس کس طرح اس نے اپنے وفادار بندوں کو نوازا ہے اور کس طرح ان کے جھٹلانے والوں کو سزا دی ہے۔ 


جو تاریخی قصے اس سورۃ میں بیان کیے گئے ہیں ان میں سب سے زیادہ سبق آموز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کا یہ اہم واقعہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اس میں صرف ان کفار قریش ہی کے لیے سبق نہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنے نسبی تعلق پر فخر کرتے پھرتے تھے، بلکہ ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق تھا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے۔ یہ واقعہ سنا کر انہیں بتا دیا گیا کہ اسلام کی حقیقت اور اس کی اصلی روح کیا ہے، اور اسے اپنا دین بنا لینے کے بعد ایک مومن صادق کو کس طرح اللہ کی رضا پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے ۔


سورہ کی آخری آیات محض کفار کے لیے تنبیہ ہی نہ تھیں بلکہ ان اہل ایمان کے لیے بشارت بھی تھیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائید و حمایت میں انتہائی حوصلہ شکن حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ انہیں یہ آیات سنا کر خوشخبری دے دی گئی کہ آغاز کار میں جن مصائب سے انہیں سابقہ پیش آ رہا ہے ان پر گھبرائیں نہیں، آخر کار غلبہ ان ہی کو نصیب ہوگا، اور باطل کے وہ علمبردار جو اس وقت غالب نظر آ رہے ہیں، انہی کے ہاتھوں مغلوب و مفتوح ہو کر رہیں گے۔ چند ہی سال بعد واقعات نے بتا دیا کہ یہ محض خالی تسلی نہ تھی بلکہ ایک ہونے والا واقعہ تھا جس کی پیشگی خبر دے کر ان کے دل مضبوط کیے گئے تھے ۔

-----------------------------------------------------
(تفہیم القرآن ، مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ )


سورة یٰسٓ : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آغاز ہی کے دو حرفوں کو اس سورے کا نام قرار دیا گیا ہے ۔

زمانۂ نزول :


انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس سورۃ کا نزول یا تو مکہ کے دور متوسط کا آخری زمانہ ہے، یا پھر یہ زمانہ قیام مکہ کے آخری دور کی سورتوں میں سے ہے ۔

موضوع و مضمون :


کلام کا مدعا کفار قریش کو نبوت محمدی پر ایمان نہ لانے اور ظلم و استہزاء سے اس کا مقابلہ کرنے کے انجام سے ڈرانا ہے۔ اس میں انذار کا پہلو غالب اور نمایاں ہے مگر بار بار انذار کے ساتھ استدلال سے تفہیم بھی کی گئی ہے ۔


استدلال تین امور پر کیا گیا ہے :


توحید پر آثار کائنات اور عقل عام سے، 


آخرت پر آثار کائنات، عقل عام اور خود انسان کے اپنے وجود سے، 


اور رسالت محمدی کی صداقت پر اس بات سے کہ آپ تبلیغ رسالت میں یہ ساری مشقت محض بےغرضانہ برداشت کر رہے تھے، اور اس امر سے کہ جن باتوں کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے وہ سراسر معقول تھیں اور انہیں قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا بھلا تھا۔ 


اس استدلال کی قوت پر زجر و توبیخ اور ملامت و تنبیہ کے مضامین نہایت زور دار طریقہ سے بار بار ارشاد ہوئے ہیں تاکہ دلوں کے قفل ٹوٹیں اور جن کے اندر قبول حق کی تھوڑی سی صلاحیت بھی ہو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ 


امام احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ نے معقل بن یسار سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یٰس قلب القرآن، یعنی یہ سورۃ قرآن کا دل ہے۔ یہ اسی طرح کی تشبیہ ہے جس طرح سورۃ فاتحہ کو ام القرآن فرمایا گیا ہے۔ فاتحہ کو ام القرآن قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کی پوری تعلیم کا خلاصہ آگیا ہے۔ اور یٰس کو قرآن کا دھڑکتا ہوا دل اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ قرآن کی دعوت کو نہایت پر زور طریقے سے پیش کرتی ہے جس سے جمود ٹوٹتا اور روح میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ 


انہی حضرت معقل بن یسار سے امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اقرءوا سورۃ یٰس علیٰ موتاکم۔ " اپنے مرنے والوں پر سورۃ یٰس پڑھا کرو۔ " اس کی مصلحت یہ ہے کہ مرتے وقت مسلمان کے ذہن میں نہ صرف یہ کہ تمام اسلامی عقائد تازہ ہوجائیں، بلکہ خصوصیت کے ساتھ اس کے سامنے عالم آخرت کا پورا نقشہ بھی آجائے اور وہ جان لے کہ حیات دنیا کی منزل سے گزر کر اب آگے کن منزلوں سے اس کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اس مصلحت کی تکمیل کے لیے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر عربی داں آدمی کو سورۃ یٰس سنانے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی سنا دیا جائے تاکہ تذکیر کا حق پوری طرح ادا ہوجائے ۔
-------------------------------------------------------

(تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )



سورة فَاطِر : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت کا لفظ " فاطر " اس سورۃ کا عنوان قرار دیا گیا ہے جس کے معنی صرف یہ ہیں کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں فاطر کا لفظ آیا ہے۔ دوسرا نام " المَلَا ئکہ " بھی ہے اور یہ لفظ بھی پہلی آیت میں وارد ہوا ہے۔

زمانۂ نزول :


انداز کلام کی اندرونی شہادت سے مترشح ہوتا ہے کہ اس سورت کے نزول کا زمانہ غالباً مکہ معظمہ کا دور متوسط ہے، اور اس کا بھی وہ حصہ جس میں مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کی بری سے بری چالیں چلی جا رہی تھیں۔ 

موضوع و مضمون :


کلام کا مدعا یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید کے مقابلہ میں جو رویہ اس وقت اہل مکہ اور ان کے سرداروں نے اختیار کر رکھا تھا اس پر ناصحانہ انداز میں ان کو تنبیہ و ملامت بھی کی جائے اور معلمانہ انداز میں فہمائش بھی۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ نادانو، یہ نبی جس راہ کی طرف تم کو بلا رہا ہے اس میں تمہارا اپنا بھلا ہے۔ اس پر تمہارا غصہ، اور تمہاری مکاریاں اور چال بازیاں، اور اس کو ناکام کرنے کے لیے تمہاری تدبیریں دراصل اس کے خلاف نہیں بلکہ تمہارے اپنے خلاف پڑ رہی ہیں۔ اس کی بات نہ مانو گے تو اپنا ہی کچھ بگاڑو گے، اس کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ جو کچھ تم سے کہہ رہا ہے اس پر غور تو کرو، آخر اس میں غلط کیا بات ہے۔ وہ شرک کی تردید کرتا ہے۔ 

تم خود آنکھیں کھول کر دیکھو، کیا شرک کے لیے دنیا میں کوئی معقول بنیاد موجود ہے؟ وہ توحید کی دعوت دیتا ہے۔ تم خود عقل سے کام لے کر غور کرو، کیا للہ فاطر السمٰوات و الارض کے سوا کہیں کوئی ایسی ہستی پائی جاتی ہے جو خدائی صفات اور اختیارات رکھتی ہو؟ وہ تم سے کہتا ہے کہ تم اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہو بلکہ تمہیں اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر ایک کو اپنے کیے کا نتیجہ دیکھنا ہوگا۔ تم خود سوچو کہ اس پر تمہارے شبہات اور اچنبھے کس قدر بےاصل ہیں۔ کیا تمہاری آنکھیں رات دن اعادہ خلق کا مشاہدہ نہیں کر رہی ہیں؟ پھر تمہارا ہی اعادہ اس خدا کے لیے کیوں ناممکن ہو جس نے تم کو ایک ذرا سے نطفے سے پیدا کردیا۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی نہیں دیتی کہ بھلے اور برے کو یکساں نہ ہونا چاہیے؟ پھر تم ہی بتاؤ کہ معقول بات کیا ہے؟ یہ کہ بھلے اور برے کا انجام یکساں ہو، یعنی مٹی میں ملنا اور فنا ہوجانا ؟ یا یہ کہ بھلے کو بھلا اور برے کو برا بدلہ ملے؟ اب اگر ان سراسر معقول اور مبنی بر حقیقت باتوں کو تم نہیں مانتے اور جھوٹے خداؤں کی بندگی نہیں چھوڑتے اور اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھتے ہوئے شتر بےمہار ہی کی طرح دنیا میں جینا چاہتے ہو تو اس میں نبی کا کیا نقصان ہے۔ شامت تو تمہاری اپنی ہی آئے گی۔ نبی پر صرف سمجھانے کی ذمہ داری تھی، اور وہ اس نے ادا کر دی۔


سلسلہ کلام میں بار بار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ جب نصیحت کا حق پوری طرح ادا کر رہے ہیں تو گمراہی پر اصرار کرنے والوں کے راہ راست قبول نہ کرنے کی کوئی ذمہ داری آپ کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ آپ کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کے رویے پر نہ آپ غمگین ہوں اور نہ انہیں راہ راست پر لانے کی فکر میں اپنی جان گھلائیں۔ اس کے بجائے آپ اپنی توجہات ان لوگوں پر صرف کریں جو بات سننے کے لیے تیار ہیں۔ 


ایمان قبول کرنے والوں کو بھی اسی سلسلے میں بڑی بشارتیں دی گئی ہیں تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ اللہ کے وعدوں پر اعتماد کر کے راہ حق میں ثابت قدم رہیں ۔

-------------------------------------------------

(تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 

سورہ سَبا : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت 15 کے فقرے لقد کان لسبا فی مسکنھم آیۃ سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ جس میں سبا کا ذکر آیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


اس کے نزول کا ٹھیک زمانہ کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوتا۔ البتہ انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یا تو مکہ کا دور متوسط ہے یا دور اول۔ اور اگر دور متوسط ہے تو غالباً اس کا ابتدائی زمانہ ہے جبکہ ظلم و ستم کی شدت شروع نہ ہوئی تھی اور ابھی صرف تضحیک استہزاء، افواہی جنگ، جھوٹے الزامات اور وسوسہ اندازیوں سے اسلام کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

موضوع اور مضمون :


اس سورۃ میں کفار کے ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید و آخرت پر اور خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر زیادہ تر طنز و تمسخر اور بیہودہ الزامات کی شکل میں پیش کرتے تھے۔ ان اعتراضات کا جواب کہیں تو ان کو نقل کر کے دیا گیا ہے، اور کہیں تقریر سے خود یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ کس اعتراض کا جواب ہے۔ جوابات اکثر و بیشتر تفہیم و تذکیر اور استدلال کے انداز میں ہیں، لیکن کہیں کفار کو ان کی ہٹ دھرمی کے برے انجام سے ڈرایا بھی گیا ہے۔ 

اسی سلسلہ میں حضرت داؤد (علیہ السلام) و سلیمان علی السلام اور قوم سبا کے قصے اس غرض کے لیے بیان کیے گئے ہیں کہ تمہارے سامنے تاریخ کی یہ دونوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑی طاقتیں بخشیں اور وہ شوکت و حشمت عطا کی جو پہلے کم ہی کسی کو ملی ہے، مگر یہ سب کچھ پا کر وہ کبر و غرور میں مبتلا نہ ہوئے بلکہ اپنے رب کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے اس کے شکر گذار بندے ہی بنے رہے۔

 اور دوسری طرف سبا کی قوم ہے جسے اللہ نے جب اپنی نعمتوں سے نوازا تو وہ پھول گئی اور آخر کار اس طرح پارہ پارہ ہوئی کہ اس کے بس افسانے ہی اب دنیا میں باقی رہ گئے ہیں۔ ان دونوں مثالوں کو سامنے رکھ کر خود رائے قائم کرلو کہ توحید و آخرت کے یقین اور شکر نعمت کے جذبے سے جو زندگی بنتی ہے وہ زیادہ بہتر یا وہ زندگی جو کفر و شرک اور انکار آخرت اور دنیا پرستی کی بنیاد پر بنتی ہے۔

-------------------------------------------

(تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ ) 


سورة السَّجْدَة : زمانہ نزول، موضوع اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت ١٥ میں سجدہ کا جو مضمون آیا ہے اسی کو سورۃ کا عنوان قرار دیا گیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


انداز بیاں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانۂ نزول مکہ کا دور متوسط ہے، اور اس کا بھی ابتدائی زمانہ، کیونکہ اس کلام کے پس منظر میں ظلم و ستم کی وہ شدت نظر نہیں آتی جو بعد کے ادوار کی سورتوں کے پیچھے نظر آتی ہے۔ 

موضوع اور مباحث :


سورہ کا موضوع توحید آخرت اور رسالت کے متعلق لوگوں کے شبہات کو رفع کرنا اور ان تینوں حقیقتوں پر ایمان کی دعوت دینا ہے۔ کفار مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق آپس میں چرچے کر رہے تھے کہ یہ شخص عجیب عجیب باتیں گھڑ گھڑ کر سنا رہا ہے۔ کبھی مرنے کے بعد کی خبریں دیتا ہے اور کہتا ہے مٹی میں رل مل جانے کے بعد تم پھر اٹھائے جاؤ گے اور حساب کتاب ہوگا اور دوزخ ہوگی اور جنت ہوگی کبھی کہتا ہے کہ یہ دیوی دیوتا اور بزرگ کوئی چیز نہیں ہیں، بس اکیلا ایک خدا ہی معبود ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں، آسمان سے مجھ پر وحی آتی ہے اور یہ کلام جو میں تم کو سنا رہا ہوں، میرا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے۔ یہ عجیب افسانے ہیں جو یہ شخص ہمیں سنا رہا ہے ۔۔ انہی باتوں کا جواب اس سورۃ کا موضوع بحث ہے۔ 


اس جواب میں کفار سے کہا گیا ہے کہ بلا شک و ریب یہ خدا ہی کا کلام ہے اور اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ نبوت کے فیض سے محروم، غفلت میں پڑی ہوئی ایک قوم کو چونکایا جائے۔ اسے تم افتراء کیسے کہہ سکتے ہو جبکہ اس کا منزَّل من اللہ ہونا ظاہر و باہر ہے۔ 


پھر ان سے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن جن حقیقتوں کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہے، عقل سے کام لے کر خود سوچو کہ ان میں کیا چیز اچنبھے کی ہے۔ آسمان و زمین کے انتظام کو دیکھو، خود اپنی پیدائش اور بناوٹ پر غور کرو، کیا یہ سب کچھ اس تعلیم کی صداقت پر شاہد نہیں ہے اور اس نبی کی زبان سے اس قرآن میں تم کو دی جا رہی ہے ؟ یہ نظام کائنات توحید پر دلالت کر رہا ہے یا شرک پر؟ اور اس سارے نظام کو دیکھ کر اور خود اپنی پیدائش پر نگاہ ڈال کر کیا تمہاری عقل یہی گواہی دیتی ہے کہ جس نے اب تمہیں پیدا کر رکھا ہے وہ پھر تمہیں پیدا نہ کرسکے گا ؟


پھر عالم آخرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور ایمان کے ثمرات اور کفر کے نتائج و عواقب بیان کر کے یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ لوگ برا انجام سامنے آنے سے پہلے کفر چھوڑ دیں اور قرآن کی اس تعلیم کو قبول کرلیں جسے مان کر خود ان کی اپنی ہی عاقبت درست ہوگی ۔


پھر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ وہ انسان کے قصوروں پر یکایک آخری اور فیصلہ کن عذاب میں اسے نہیں پکڑ لیتا بلکہ اس سے پہلے چھوٹی چھوٹی تکلیفیں مصیبتیں، آفات اور نقصانات بھیجتا رہتا ہے۔ ہلکی ہلکی چوٹیں لگاتا رہتا ہے، تاکہ اسے تنبیہ ہو اور اس کی آنکھیں کھل جائیں۔ آدمی اگر ان ابتدائی چوٹوں ہی سے ہوش میں آ جائے تو اس کے حق میں بہتر ہے۔ 


پھر فرمایا کہ دنیا میں یہ کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ تو نہیں ہے کہ ایک شخص پر خدا کی طرف سے کتاب آئی ہو۔ اس سے پہلے آخر موسیٰ (علیہ السلام ) پر بھی کتاب آئی تھی جسے تم سب لوگ جانتے ہو۔ یہ آخر کونسی ایسی بات ہے کہ اس پر تم لوگ یوں کان کھڑے کر رہے ہو یقین مانو کہ یہ کتاب خدا ہی کی طرف سے آئی ہے اور خوب سمجھ لو کہ اب پھر وہی کچھ ہوگا جو موسیٰ کے عہد میں ہوچکا ہے۔ امامت و پیشوائی اب انہی کو نصیب ہوگی جو اس کتاب الہٰی کو مان لیں گے۔ اسے رد کر دینے والوں کے لیے ناکامی مقدر ہوچکی ہے۔ 


پھر کفار مکہ سے کہا گیا ہے کہ اپنے تجارتی سفروں کے دوران میں تم جن پچھلی تباہ شدہ قوموں کی بستیوں پر سے گزرتے ہو ان کا انجام دیکھ لو، کیا یہی انجام تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ ظاہر سے دھوکہ نہ کھاؤ۔ آج تم دیکھ رہے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات چند لڑکوں اور چند غلاموں اور غریب لوگوں کے سوا کوئی نہیں سن رہا ہے اور ہر طرف سے ان پر طعن اور ملامت اور پھبتیوں کی بارش ہو رہی ہے۔ اس سے تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہ چلنے والی بات نہیں ہے، چار دن چلے گی اور پھر ختم ہوجائے گی۔ لیکن یہ تمہاری نظر کا دھوکا ہے، کیا یہ تمہارا رات دن کا مشاہدہ نہیں ہے کہ آج ایک زمین بالکل بےآب و گیا ہ پڑی ہے جسے دیکھ کر گمان تک نہیں ہو تاکہ اس کے پیٹ میں روئیدگی کے خزانے چھپے ہوئے ہیں، مگر کل ایک ہی بارش میں وہ اس طرح بھبک اٹھتی ہے کہ اس کے چپے چپے سے جو کی طاقتیں پھوٹنی شروع ہوجاتی ہیں ۔


خاتمۂ کلام پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ تمہاری باتیں سن کر مذاق اڑاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ حضرت، یہ فیصلہ کن فتح آپ کو کب نصیب ہونے والی ہے، ذرا تاریخ تو ارشاد ہو۔ ان سے کہو کہ جب ہمارے اور تمہارے فیصلے کا وقت آ جائے گا اس وقت ماننا تمہارے لیے کچھ بھی مفید نہ ہوگا۔ ماننا ہے تو اب مان لو، اور آخری فیصلے ہی کا انتظار کرنا ہے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو ۔

--------------------------------

(تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ ) 


سورة لُقْمٰن : زمانہ نزول، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : اس سورۃ کے دوسرے رکوع میں وہ نصیحتیں نقل کی گئی ہیں جو لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ اسی مناسبت سے اس کا نام لقمان رکھا گیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


اس کے مضامین پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب اسلامی دعوت کو دبانے اور روکنے کے لئے جبر و ظلم کا آغاز ہوچکا تھا اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جانے لگے تھے لیکن ابھی طوفان مخالفت نے پوری شدت اختیار نہ کی تھی۔ اس کی نشان دہی آیت ١٤۔ ١٥ سے ہوتی ہے جس میں نئے نئے مسلمان ہونے والے نوجوانوں کو بتایا گیا ہے کہ والدین کے حقوق تو بےشک خدا کے بعد سب سے بڑھ کر ہیں، لیکن اگر وہ تمہیں اسلام قبول کرنے سے توکیں اور دین شرک کی طرف پلٹنے پر مجبور کریں تو ان کی یہ بات ہرگز نہ مانو۔ یہی بات سورۃ عنکبوت میں بھی ارشاد ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سورتیں ایک ہی دور میں نازل ہوئی ہیں۔ لیکن دونوں کے مجموعی انداز بیان اور مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورۃ لقمان پہلے نازل ہوئی ہے، اس لیے کہ اس کے پس منظر میں کسی شدید مخالفت کا نشان نہیں ملتا، اور اس کے برعکس سورۃ عنکبوت کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کے زمانہ میں مسلمانوں پر سخت ظلم و ستم ہو رہا تھا۔ 

موضوع و مضمون :


اس سورۃ میں لوگوں کو شرک کی لغویت و نامعقولیت اور توحید کی صداقت و معقولیت سمجھائی گئی ہے، اور انہیں دعوت دی گئی ہے کہ باپ دادا کی اندھی تقلید چھوڑ دیں، کھلے دل سے اس تعلیم پر غور کریں جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خداوند عالم کی طرف سے پیش کر رہے ہیں، اور کھلی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہر طرف کائنات میں اور خود ان کے اپنے نفس میں کیسے کیسے صریح آثار اس کی سچائی پر شہادت دے رہے ہیں۔ 


اس سلسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی نئی آواز نہیں ہے جو دنیا میں یا خود دیار عرب میں پہلی مرتبہ ہی اٹھی ہو اور لوگوں کے لیے بالکل نامانوس ہو۔ پہلے بھی جو لوگ علم و عقل اور حکمت و دانائی رکھتے تھے وہ یہی باتیں کہتے تھے جو آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے ہیں۔ تمہارے اپنے ہی ملک میں لقمان نامی حکیم گزر چکا ہے جس کی حکمت و دانش کے افسانے تمہارے ہاں مشہور ہیں، جس کی ضرب الامثال اور جس کے حکیمانہ مقولوں کو تم اپنی گفتگوؤں میں نقل کرتے ہو، جس کا ذکر تمہارے شاعر اور خطیب اکثر کیا کرتے ہیں۔ اب خود دیکھ لو کہ وہ کس عقیدے اور کن اخلاقیات کی تعلیم دیتا تھا۔

----------------------------------------
(تفہیم القرآن، سید ابوالاعلی مودودیؒ ) 


سورة الرُّوْم : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوم سے ماخوذ ہے۔

زمانہ نزول :


آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ ” قریب کی سر زمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں۔ “ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ ٦١٥ ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس لئے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سورة اسی سال نازل ہوئی تھی، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔

تاریخی پس منظر :


جو پیش گوئی اس سورة کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں ۔


نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت سے ٨ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس (Maurice) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوکاس (Phocas) تخت سلطنت پر قابض ہوگیا۔ اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا، پھر خود قیصر کو قتل کرا کے باپ بیٹوں کے سر قسطنطنیہ میں بر سر عام لٹکوا دیے، اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو روم پر حملہ آور ہونے کے لئے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوکاس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے۔ ٦٠٣ ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے در پے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا ﴿موجودہ اورفا﴾ تک اور دوسری طرف شام میں حَلَب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے بیٹے ہرقل (Heracllus) کو ایک طاقتور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوکاس معزول کردیا گیا، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوکاس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ٦١٠ ء کا واقعہ ہے، اور وہی سال ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔


خسرو پرویز نے جس اخلاقی بہانے کو بنیاد بنا کر جنگ چھیڑی تھی، فوکاس کا عزل اور قتل کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا۔ اگر واقعی اس کی جنگ کا مقصد غاصب فوکاس سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہوتا تو اس کے مارے جانے پر اسے نئے قیصر سے صلح کر لینی چاہیے تھی۔ مگر اس نے پھر بھی جنگ جاری رکھی، اور اب اس جنگ کو اس نے مجوسیت اور مسیحیت کی مذہبی جنگ کا رنگ دے دیا۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو رومی سلطنت کے سرکاری کلیسا نے ملحد قرار دے کر سالہا سال سے تختہ مشق ستم بنا رکھا تھا ﴿یعنی نسطوری اور یعقوبی وغیرہ ان کی ساری ہمدردیاں بھی مجوسی حملہ آوروں کے ساتھ ہوگئیں۔ اور یہودیوں نے بھی مجوسیوں کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ خسرو پرویز کی فوج میں بھرتی ہونے والے یہوویوں کی تعداد ٢٦ ہزار تک پہنچ گئی۔


ہرقل آکر اس سیلاب کو نہ روک سکا۔ تخت نشین ہوتے ہی پہلی اطلاع جو اسے مشرق سے ملی وہ انطاکیہ پر ایرانی قبضے کی تھی۔ اس کے بعد ٢١٣ ء میں دمشق فتح ہوا۔ پھر ٦١٤ ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایرانیوں نے مسیحی دنیا پر قیامت ڈھادی۔ ٩٠ ہزار عیسائی اس شہر میں قتل کیے گئے۔ ان کا سب سے زیادہ مقدس کلیسا، کینستہ القیامہ (Holy Sepulchre) برباد کردیا گیا۔ اصلی صلیب، جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اسی پر مسیح نے جان دی تھی، مجوسیوں نے چھین کر مدائن پہنچا دی۔ لاٹ پادری زکریاہ کو بھی پکڑ لے گئے اور شہر کے تمام بڑے بڑے گرجوں کو انہوں نے مسمار کردیا۔ اس فتح کا نشہ جس بری طرح خسرو پرویز پر چڑھا تھا اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہرقل کو لکھا تھا۔ اس میں وہ کہتا ہے :


” سب خداؤں سے بڑے خدا، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کی طرف سے اس کے کمینہ اور بےشعور بندے ہرقل کے نام،


تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا ؟ “ 


اس فتح کے بعد ایک سال کے اندر اندر ایرانی فوجیں اردن، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا کے پورے علاقے پر قابض ہوکر حدود مصر تک پہنچ گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ معظمہ میں ایک اور اس سے بدرجہا زیادہ تاریخی اہمیت رکھنے والی جنگ برپا تھی۔ یہاں توحید کے علم بردار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت میں، اور شرک کے پیرو کار سرداران قریش کی رہنمائی میں ایک دوسرے سے برسر جنگ تھے، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ٦١٥ ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر حبش کی عیسائی سلطنت میں ﴿جو روم کی حلیف تھی﴾ پناہ لینی پڑی۔ اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا۔ مکے کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پا رہے ہیں اور وحی اور رسالت کو ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے۔


ان حالات میں قرآن مجید کی یہ سورة نازل ہوئی اور اس میں یہ پیشین گوئی کی گئی کہ ” قریب کی سر زمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں، مگر اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر اندر ہی وہ غالب آجائیں گے، اور وہ دن وہ ہوگا جبکہ اللہ کی دی ہوئی فتح سے اہل ایمان خوش ہو رہے ہونگے۔ “ اس میں ایک کے بجائے دو پیشین گوئیاں تھیں۔ ایک یہ کہ رومیوں کو غلبہ نصیب ہوگا۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح حاصل ہوگی۔ بظاہر دور دور تک کہیں اس کے آثار موجود نہ تھے کہ ان میں سے کوئی ایک پیشین گوئی بھی چند سال کے اندر پوری ہوجائے گی۔ ایک طرف مٹھی بھر مسلمان تھے جو مکے میں مارے اور کھدیڑے جارہے تھے۔ اور اس پیشین گوئی کے بعد بھی آٹھ سال تک ان کے لئے غلبہ و فتح کا کوئی امکان کسی کو نظر نہ آتا تھا۔ دوسری طرف روم کی مغلوبیت روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ سن ٦١٩ ء تک پورا مصر ایران کے قبضہ میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ایشیائے کوچک میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئیں اور سن ٦١٧ ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ کے سامنے خلقدون ﴿Chalcedon، موجودہ قاضی کوئی ﴾ پر قبضہ کرلیا۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مگر اس نے جواب دیا کہ ” اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دونگا جب تک وہ پابز بخیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی نہ اختیار کرلے۔ “ آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہوگیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ ﴿Carthage, موجودہ ٹیونس﴾ منتقل ہوجانے کا ارادہ کرلیا۔ غرض انگریز مؤرخ گبن کے بقول، قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخص یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر غالب آجائے گی، بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی۔﴿Gibboon, Declineand fall of theRomanempire, Vol. II, p, 788. Modern Library, New York.﴾


قرآن کی یہ آیات جب نازل ہوئیں تو کفار مکہ نے ان کا خوب مذاق اڑایا اور ابی بن خلف نے حضرت ابو بکر سے شرط بدی کہ اگر تین سال کے اندر رومی غالب آگئے تو دس اونٹ میں دوں گا ورنہ دس اونٹ تم کو دینے ہوں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس شرط کا علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قرآن میں فِی بضعِ سِنِین کے الفاظ آئے ہیں، اور عربی زبان میں بضع کا اطلاق دس سال سے کم پر ہوتا ہے، اس لئے دس سال کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر سو ﴿١٠٠﴾کردو۔ چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ نے اُبَیّ سے پھر بات کی اور نئے سرے سے یہ شرط طے ہوئی کہ دس سال کے اندر فریقین میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ سو﴿١٠٠﴾ اونٹ دے گا۔


سن ٦٢٤ ء میں ادھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے، اور ادھر قیصر ہرقل خاموشی کے ساتھ قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے طرابزون کی طرف روانہ ہوا جہاں اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لئے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقُف اعظم سر جیس (Sergius) نے مسیحیت کی مجو سیت سے بچانے کے لئے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی۔ ہرقل نے اپنا حملہ سن ٦٢٣ ء میں ارمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال سن ٦٢٤ ء میں اس نے آذربیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ (Clorumia) کو تباہ کردیا اور ایرانیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورة روم میں کی گئی تھیں، دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہوگئیں ۔


پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں۔ نینویٰ کی فیصلہ کن لڑائی ﴿سن ٦٢٧ ء﴾ میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑدی۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دستگرد ﴿دَسکرة الملک﴾ کو تباہ کردیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر طیسفون (Ctesiphon) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا۔ سن ٦٢٨ ء میں خسرو پرویز کے خلاف گھر میں بغاوت رونما ہوئی، وہ قید کرلیا گیا، اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ١٨ بیٹے قتل کردیے گئے، اور چند روز بعد وہ خود قید کی سختیوں سے ہلاک ہوگیا۔ یہی سال تھا جس میں صلح حدیبیہ واقع ہوئی جسے قرآن ” فتح عظیم “ کے نام سے تعبیر کرتا ہے، اور یہی سال تھا جس میں خسرو کے بیٹے قباد ثانی نے تمام رومی مقبوضات سے دست بردار ہو کر اور اصلی صلیب واپس کر کے روم سے صلح کرلی۔ سن ٦٢٩ ء میں قیصر ”مقدس صلیب “ کو اس کی جگہ رکھنے کے لئے خود بیت المقدس گیا، اور اسی سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عُمرة القضا ادا کرنے کے لئے ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔


اس کے بعد کسی کے لئے بھی اس امر میں شبہہ کی گنجائش باقی نہ رہی کہ قرآن کی پیشین گوئی بالکل سچی تھی۔ عرب کے بکثرت مشرکین اس پر ایمان لے آئے۔ اُبَیّ بن خلف کے وارثوں کو ہار مان کر شرط کے اونٹ ابو بکر صدیق (رض) کے حوالے کرنے پڑے۔ وہ انہیں لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں صدقہ کردیا جائے۔ کیونکہ شرط اس وقت ہوئی تھی جب شریعت میں جوئے کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا، مگر اب حرمت کا حکم آچکا تھا، اس لئے حربی کافروں سے شرط کا مال لے لینے کی اجازت تو دے دی گئی مگر ہدایت کی گئی کہ اسے خود استعمال کرنے کے بجائے صدقہ کردیا جائے۔


موضوع اور مضمون :



اس سورة میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہوگئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس سلطنت کا خاتمہ قریب ہے، مگر چند سال نہ گزرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہوجائے گا۔


اس تمہید سے یہ مضمون نکل آیا کہ انسان اپنی سطح بینی کی وجہ سے وہی کچھ دیکھتا ہے، جو بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، مگر اس ظاہر کے پردے کے پیچھے جو کچھ ہے اس کی اسے خبر نہیں ہوتی۔ یہ ظاہر بینی جب دنیا کے ذرا ذرا سے معاملات میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کی موجب ہوتی ہے، اور جبکہ محض اتنی سی بات نہ جاننے کی وجہ سے کہ ” کل کیا ہونے والا ہے “ آدمی غلط تخمینے لگا بیٹھتا ہے، تو پھر بحیثیت مجموعی پوری زندگی کے معاملے میں ظاہر حیات دنیا پر اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کی بنیاد پر اپنے پورے سرمایہ حیات کو داؤ پر لگا دینا کتنی بڑی غلطی ہے۔


اس طرح روم اور ایران کے معاملے سے تقریر کا رخ آخرت کے مضمون کی طرف پھر جاتا ہے۔ اور مسلسل تین رکوعوں تک طریقے طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخرت ممکن بھی ہے، معقول بھی ہے، اس کی ضرورت بھی ہے، اور انسانی زندگی کے نظام کو درست رکھنے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آدمی آخرت کا یقین رکھ کر اپنی موجودہ زندگی کا پروگرام اختیار کرے، ورنہ وہی غلط ہوگی جو ظاہر پر اعتماد کرلینے سے واقع ہوا کرتی ہے۔


اس سلسلے میں آخرت پر استدلال کرتے ہوئے کائنات کے جن آثار کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے وہ بعینہ وہی آثار ہیں جو توحید پر بھی دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے چوتھے رکوع کے آغاز سے تقریر کا رخ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی طرف پھر جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے فطری دین اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ بالکل یکسو ہو کر خدائے واحد کی بندگی کرے۔ شرک فطرت کائنات اور فطرت انسان کے خلاف ہے، اسی لئے جہاں بھی انسان نے اس گمراہی کو اختیار کیا ہے وہاں فساد رونما ہوا ہے۔ اس موقع پر پھر اس فساد عظیم کی طرف، جو اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتوں کے درمیان جنگ کی بدولت برپا تھا، اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ فساد شرک کے نتائج میں سے ہے اور پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں مبتلائے فساد ہوئی ہیں وہ سب بھی مشرک ہی تھیں ۔


خاتمہ کلام پر تمثیل کے پیرایہ میں لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین خدا کی بھیجی ہوئی بارش سے یکایک جی اٹھتی ہے اور زندگی و بہار کے خزانے اگلنے شروع کردیتی ہے، اسی طرح خدا کی بھیجی ہوئی وحی اور نبوت بھی مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے حق میں ایک باران رحمت ہے جس کا نزول اس کے لئے زندگی اور نشو ونما اور خیر و فلاح کا موجب ہوتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے تو یہی عرب کی سونی زمین رحمت الہٰی سے لہلہا اٹھے گی اور ساری بھلائی تمہارے اپنے لئے ہی ہوگی۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے، پھر پچھتانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا اور تلافی کا کوئی موقع تمہیں میسر نہ آئے گا۔


---------------------------------------------------------------------
(تفہیم القرآن جلد سوم ص 723، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )


سورة الْعَنْکَبُوْت : زمانہ نزول، موضوع و مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : آیت کے فقرے مَثَلُ الَّذِیْنَ التَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْ لِیَاءَ کَمَثَلِ العَنْکَبُوْتِ سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ ” عنکبوت “ آیا ہے۔

زمانہ نزول :


آیات ٥٦ تا ٦٠ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانے کے حالات جھلکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا ظہور مدینہ میں ہوا ہے، یہ قیاس قائم کرلیا کہ اس سورة کی ابتدائی دس آیات مدنی ہیں اور باقی سورة مکی ہے۔ حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش اختیار کررہے تھے، اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدنیہ میں۔ اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر کہ اس سورة میں مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اسے مکہ کی آخری نازل شدہ سورت قرار دیا ہے۔ حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے۔ یہ تمام قیاسات دراصل کسی روات پر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادت پر ان کی بنا رکھی گئی ہے۔ اور یہ اندرونی شہادت، اگر پوری سورت کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔

موضوع ومضمون :


سورة کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر بڑے مصائب و شدائد کا زمانہ تھا۔ کفار کی طرف سے اسلام کی مخالفت پورے زور و شور سے ہو رہی تھی اور ایمان لانے والوں پر سخت ظلم و ستم توڑے جارہے تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورة ایک طرف صادق الایمان لوگوں میں عزم و ہمت اور استقامت پیدا کرنے کے لئے، اور دوسری طرف ضعیف الایمان لوگوں کو شرم دلانے کے لئے نازل فرمائی۔ اس کے ساتھ کفار مکہ کو بھی اس میں سخت تہدید کی گئی کہ اپنے حق میں اس انجام کو دعوت نہ دیں جو عداوت حق کا طریقہ اختیار کرنے والے ہر زمانے میں دیکھتے رہے ہیں ۔


اس سلسلے میں ان سوالات کا جواب بھی دیا گیا ہے جو بعض نوجوانوں کو اس وقت پیش آرہے تھے۔ مثلا ان کے والدین ان پر زور ڈالتے تھے کہ تم محمد ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ کا ساتھ چھوڑ دو اور ہمارے دین پر قائم رہو۔ جس قرآن پر تم ایمان لائے ہو اس میں بھی تو یہی لکھا ہے کہ ماں باپ کا حق سب سے زیادہ ہے۔ تو ہم جو کچھ کہتے ہیں اسے مانو ورنہ تم خود اپنے ہی ایمان کے خلاف کام کرو گے۔ اس کا جواب آیت ٨ میں دیا گیا ہے۔


اسی طرح بعض نو مسلموں سے ان کے قبیلے کے لوگ کہتے تھے کہ عذاب ثواب ہماری گردن پر، تم ہمارا کہنا مانو اور اس شخص سے الگ ہوجاؤ۔ اگر خدا تمہیں پکڑے گا تو ہم خود آگے بڑھ کر کہہ دیں گے کہ صاحب، ان بےچاروں کا کچھ قصور نہیں، ان کو ہم نے ایمان چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، اس لئے آپ ہمیں پکڑلیں۔ اس کا جواب آیات ١٢۔ ١٣ میں دیا گیا ہے۔


جو قصے اس سورة میں بیان کئے گئے ہیں ان میں بھی زیادہ تر یہی پہلو نمایاں ہے کہ پچھلے انبیاء کو دیکھو، کیسی کیسی سختیاں ان پر گزریں اور کتنی کتنی مدت وہ ستائے گئے۔ پھر آخر کار اللہ کی طرف سے اس کی مدد ہوئی۔ اس لئے گھبراؤ نہیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، مگر آزمائش کا ایک دور گزرنا ضروری ہے۔ مسلمانوں کو یہ سبق دینے کے ساتھ کفار مکہ کو بھی ان قصوں میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے پکڑ ہونے میں دیر لگ رہی ہے تو یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ کبھی پکڑ ہوگی ہی نہیں۔ پچھلی تباہ شدہ قوموں کے نشانات تمہارے سامنے ہیں۔ دیکھ لو آخر کار ان کی شامت آکر رہی اور خدا نے اپنے نبیوں کی مدد کی ۔


پھر مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر ظلم و ستم تمہارے لئے ناقابل برداشت ہوجائے تو ایمان چھوڑنے کے بجائے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ۔ خدا کی زمین وسیع ہے۔ جہاں خدا کی بندگی کرسکو وہاں چلے جاؤ۔


ان سب باتوں کے ساتھ کفار کی تفہیم کا پہلو بھی چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ توحید اور معاد، دونوں حقیقتوں کو دلائل کے ساتھ ان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے، شرک کا ابطال کیا گیا ہے، اور آثار کائنات کی طرف توجہ دلا کر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ سب نشانات اس تعلیم کی تصدیق کر رہے ہیں جو ہمارا نبی ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ تمہارے سامنے پیش کررہا ہے۔

------------------------------------------------------------
(تفہیم القرآن جلد سوم ص 671، سید ابوالاعلی موودی ؒ )


سورة الْقَصَص : زمانہ نزول، موضوع و مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت نمبر ٢٥ کے اس فقرے سے ماخوذ ہے وَ قَصَّ عَلیہ القَصَصَ، یعنی وہ سورة جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورة کا عنوان ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔

زمانہ نزول :


سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس اور جابر بن زید (رض) کا یہ قول ہم نقل کرچکے ہیں کہ سورة شعراء، سورة النمل اور سورة القصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں۔ زبان، اندازبیان اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانہ نزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کیے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں۔ سورة شعراء میں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ عرض کرتے ہیں کہ ” قوم فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاؤں گا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے “ پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے ” کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا جو کچھ کہ کر گیا۔ “ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی۔ اس سورة میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورة نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہوگیا کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کو لے کر جارہے تھے، اور اچانک انھوں نے ایک آگ دیکھی، وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا، کہاں سے وہ آرہے تھے اور کدھر جارہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورة میں بیان ہوئی ہے۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تکمیل کر دیتی ہیں۔ 

موضوع اور مباحث :


اس کا موضوع ان شبہات اور اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے، اور ان عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کیے جاتے تھے۔


اس غرض کے لئے سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانہ نزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کردیتا ہے۔


اول یہ کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب وذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے اپنے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہا ہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔


دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کو کسی بڑے جشن اور زمین اور آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کیسے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ ﴿علیہ السلام ﴾ کا تم خود حوالہ دیتے ہو لَو لَا اُوتِیَ مثلَ ماَ اُوتِیَ مُوسیٰ، ﴿آیت ٤٨﴾، انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) خود ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔


تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاؤ لشکر اور سرو سامان کے اٹھتا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی، مگر بڑے بڑے لاؤ لشکر اور سروسامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کون جیتا اور کون ہارا۔


چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دیتے ہو کہ ”محمد ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا “ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے۔ گو یا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دکھائے تھے۔ مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انھوں نے کیا کیا تھا ؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔ کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کر ایمان لے آؤ گے؟ پھر تمہیں کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق کا انکار کیا تھا ان کا انجام کیا ہوا ؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کر کے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزے مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟


یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اس شخص کے ذہن میں اتر جاتی ہیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا، کیونکہ اس وقت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان برپا ہوچکی تھی، اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے کس معاملے پر چسپاں ہورہا ہے۔


اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔


پہلے اس بات کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ آپ امی ہونے کے باوجود دو ہزار برس پہلے گزرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں۔ حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کے برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشاندہی کر سکیں ۔


پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کے لئے ہدایت کا انتظام کیا۔


پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے تھے کہ ” یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے۔ “ ان سے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام)، جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی ﴿ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ﴾ سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشات نفس کی بندگی نہ کرو تو حق اب بھی تمہیں نظر آسکتا ہے۔ لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آجائے، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں ۔


پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکہ آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بےعزتی کی۔


آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کو لیا جاتا ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہ ماننے کے لئے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہل عرب دین شرک کو چھوڑ کر اس نئے دین توحید کو قبول کرلیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سر زمین میں ہمارے لئے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لئے تراشتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر آخری سورة تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطہ نظر سے کرتے تھے۔
------------------------------------

(تفہیم القرآن ، جلد سوم ص 609، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )