‏قصص قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏قصص قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر اور اسلوبِ بیاں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کے قصص بیان فرمائے ہیں۔ ان جلیل القدر ہستیوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کا تذکرہ قرآنِ کریم میں سب سے زیادہ کثرت اور تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ آپ کا نام مبارک قرآن کی 34 سورتوں میں مجموعی طور پر 136 مرتبہ ذکر کیا گیا ہے، جو کسی بھی دوسرے نبی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

کثرتِ ذکر کی حکمت اور اہمیت
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کو بار بار دہرانے کی ایک بڑی وجہ دعوتِ دین کے اسلوب اور حق و باطل کے معرکے کی وضاحت ہے۔ آپ کی زندگی کے حالات نبی کریم ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی سے گہری مماثلت رکھتے تھے۔ مکہ میں جب مسلمانوں پر ظلم ہو رہا تھا تو فرعون کے جبر کے قصے سنا کر صحابہ کو حوصلہ دیا گیا، اور مدینہ میں جب اہل کتاب (یہود) سے واسطہ پڑا تو ان کی تاریخ اور نافرمانیوں کو یاد دلا کر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: مادہ پرستی کے دور میں روحانیت کا انقلاب

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ تاریخِ انسانی کا وہ روشن باب ہے جو مادہ پرستی کے اندھیروں میں روحانیت کی قندیل بن کر ابھرا۔ آپؑ کی ولادت، دعوت اور مشن کو سمجھنے کے لیے اس دور کے سیاسی اور مذہبی پس منظر کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ آپؑ کی پوری زندگی ان حالات کے خلاف ایک الٰہی احتجاج اور اصلاح کی جدوجہد تھی۔

سیاسی و مذہبی پس منظر

حضرت عیسیٰؑ کی بعثت کے وقت فلسطین رومی سلطنت کا ایک صوبہ تھا، جو قیصرِ روم کے مقرر کردہ گورنروں کے زیرِ اثر تھا۔ سیاسی طور پر بنی اسرائیل اپنی آزادی کھو چکے تھے اور رومیوں کے جبر و استبداد کا شکار تھے۔ دوسری جانب، مذہبی صورتحال اس سے بھی ابتر تھی۔ بنی اسرائیل کے مذہبی پیشوا دین کی روح کو بھلا کر محض ظاہری رسومات اور بال کی کھال اتارنے والی بحثوں میں مشغول تھے۔ لوگ ایک ایسے مسیحا کے منتظر تھے جو انہیں رومیوں کی غلامی سے نجات دلائے، مگر اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کو ان کی اخلاقی اور روحانی غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھیجا۔

ذاتی زندگی اور مقام

حضرت عیسیٰؑ کی زندگی سادگی، زہد اور تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ قرآنِ کریم آپؑ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"وہ دنیا اور آخرت میں بڑی عزت والا اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔" (سورہ آلِ عمران: 45)
آپؑ کی شخصیت میں حلم، بردباری اور ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ آپؑ نے اپنی زندگی اللہ کی بندگی کے لیے وقف کر رکھی تھی، جیسا کہ آپؑ نے گہوارے میں خود اعلان فرمایا:
"میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔" (سورہ مریم: 30)

قصص القرآن اور ہماری زندگی

قرآنِ کریم محض ایک ضابطہ حیات ہی نہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات، تاریخ اور کائناتی حقائق کا وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر ہر دور کا انسان اپنی حقیقت اور اپنے رب کی قدرت کو پہچان سکتا ہے۔ جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو جابجا ایسے واقعات ملتے ہیں جو بظاہر انسانی عقل کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں، لیکن اگر بصیرت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ واقعات انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کے روشن مینار ہیں۔

آغازِ انسانیت ہی کو دیکھ لیجیے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق اور پھر ان کے وجود سے ان کی شریکِ حیات حضرت حوا کی پیدائش، مادہ پرستی کے اس دور میں ایک بڑا سوالیہ نشان معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ واقعہ دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی اور روح کا مالک صرف اللہ ہے، وہ اسباب کا محتاج نہیں۔ اسی طرح آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کا قصہ انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی داستان ہی نہیں، بلکہ حسد کے عبرتناک انجام کی تصویر ہے۔ ایک کوّے کے ذریعے قاتل بھائی کو تدفین کا طریقہ سکھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان سرکشی پر اتر آئے تو ایک چھوٹا سا پرندہ بھی اس کا استاد بن جاتا ہے تاکہ اسے اس کی بے بسی کا احساس دلایا جا سکے۔

حضرت داؤدؑ کے نغمے: قرآن اور زبور کا ایک تقابلی مطالعہ


اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو ایسی روحانی خصوصیات عطا فرمائیں جو محض ان کی ذات تک محدود نہ رہیں بلکہ پوری کائنات کو اپنے دائرے میں لے لیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام ان ہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ہیں۔ قرآنِ کریم ان کی ایک غیر معمولی صفت کو نمایاں کرتا ہے: نغمہ سنج ذکرِ الٰہی—ایسا ذکر کہ پہاڑ اور پرندے بھی اس میں شریک ہو جاتے تھے۔ یہی حقیقت ہمیں زبور (Psalms) میں بھی مختلف اسالیب اور شعری پیکروں میں ملتی ہے۔ 

قرآنِ کریم حضرت داؤدؑ کو ایک ایسے نبی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہیں اللہ نے حسنِ صوت اور روحانی تاثیر عطا فرمائی۔ جب وہ اللہ کی تسبیح کرتے تو ان کا ذکر محض الفاظ نہ ہوتا بلکہ ایک زندہ نغمہ بن جاتا تھا:

“اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا کہ وہ تسبیح کرتے تھے، اور پرندوں کو بھی۔” (الانبیاء: 79)

ایک اور مقام پر فرمایا:

“اے پہاڑو! اس کے ساتھ رجوع کرو، اور اے پرندو!” (سبأ: 10)

اور سورۃ ص میں اس منظر کو وقت کے تعین کے ساتھ بیان کیا گیا:

“ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر دیا، وہ شام اور صبح تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی جمع ہو جاتے تھے۔”
(ص: 18–19)

قرآن کے مطابق  کائنات اللہ کی حمد میں مصروف ہے، تو گویا حضرت داؤدؑ کا ذکر اس کائناتی تسبیح کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا تھا۔

زبور، جو حضرت داؤدؑ کی روحانی کیفیت کو شاعرانہ اور تمثیلی زبان میں بیان کرتی ہے۔ یہاں کائنات کو بولتے، گاتے اور خوشی مناتے دکھایا گیا ہے۔

مثلاً زبور میں ایک جگہ  ہے:

“آسمان خدا کے جلال کا اعلان کرتے ہیں،
اور فلک اس کے ہاتھوں کے کام کو ظاہر کرتا ہے۔”
(Psalm 19)

ایک اور مقام پر:

“دریا تالیاں بجائیں،
اور پہاڑ مل کر خوشی کے نغمے گائیں۔”
(Psalm 98:7–8)

اور سب سے جامع انداز ہمیں Psalm 148 میں ملتا ہے جہاں آسمان، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور پرندے—سب کو خدا کی حمد میں شامل دکھایا گیا ہے۔

زبور کا انداز تصویری، جذباتی اور نغماتی ہے۔ یہاں حضرت داؤدؑ کی آواز پس منظر میں ہے، مگر پوری کائنات ایک عظیم حمدیہ نغمہ بن جاتی ہے۔
تقابلی جائزہ: اسلوب مختلف، حقیقت ایک

اگر قرآن اور زبور کے بیانات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو چند اہم نکات نمایاں ہوتے ہیں:

اوّل: قرآن واقعے کو براہِ راست اور قطعی انداز میں بیان کرتا ہے: پہاڑ اور پرندے واقعی حضرت داؤدؑ کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔

دوم: زبور اسی حقیقت کو استعارہ، شاعری اور نغمے کی زبان میں پیش کرتی ہے: پہاڑ گاتے ہیں، دریا تالیاں بجاتے ہیں، پرندے نغمے چھیڑتے ہیں۔

سوم: دونوں کتابوں میں مشترک تصور یہ ہے کہ کائنات جامد نہیں بلکہ ذاکر ہے، اور حضرت داؤدؑ اس کائناتی ذکر کے مرکزی نغمہ گر ہیں۔

چہارم: قرآن ہدایت اور عقیدے کو مرکز بناتا ہے، جبکہ زبور دل، احساس اور جمالیاتی شعور کو بیدار کرتی ہے—لیکن منزل دونوں کی ایک ہے: حمدِ الٰہی۔

حضرت داؤدؑ کی تسبیحات  اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ وحیِ الٰہی مختلف ادوار اور اسالیب میں نازل ہوئی، مگر اس کا پیغام ایک ہی رہا۔ قرآن جس حقیقت کو عقیدے اور ہدایت کی زبان میں بیان کرتا ہے، زبور اسی کو نغمہ، دعا اور شاعری میں ڈھال دیتی ہے۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ذکرِ الٰہی محض زبان کا عمل نہیں بلکہ کائنات کی فطرت ہے—اور حضرت داؤدؑ اس فطری اور کائناتی ذکر کی سب سے خوبصورت انسانی آواز تھے۔

پانچ مشہور بت جن کا تذکرہ قرآن مجید میں آیا ہے


حضرت نوح علیہ السلام جو بت پرستی کے خلاف وعظ فرمایا کرتے تھے تو ان کی قوم ان کے خلاف ہر کوچہ و بازار میں چرچا کرتی پھرتی تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کو طرح طرح کی ایذائیں دیا کرتی تھی۔ چنانچہ قرآن مجید کا بیان ہے کہ:

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسْرًا ﴿ۚ23﴾وَ قَدْ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ۚ


ترجمہ :۔اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا وَدّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو اور بے شک انہوں نے بہتوں کو بہکایا۔ (پ29،نوح:23،24)

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرست ہو گئی تھی۔ اور ان لوگوں کے پانچ بت بہت مشہور تھے جن کی پوجا کرنے پر پوری قوم نہایت ہی اصرار کے ساتھ کمربستہ تھی اور ان پانچوں بتوں کے نام یہ تھے۔

(۱) ودّ (۲) سُواع (۳) یغُوث (۴) یَعُوق (۵) نسر

 جن کا تذکرہ اوپر آیت میں بھی موجود ہے۔

حضرت شعيب عليہ السلام اور ان کى قوم

ابراہیم ؑ کی نسل :  بنی اسماعیل ، بنی اسرائیل اور بنی مدین تین مشہور شاخیں ہیں، اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پیدا کیں ۔ جن سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ، آپ کے فرزند اسحاق ؑکے بیٹے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاء اور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ ابراہیم ؑ کا بیٹا مدین سے بنی مدین وجود میں آئے ، انہیں میں حضرت شعیب ؑ نبی بنے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند اسماعیل ؑکو وادی غیر ذی زرع بکہ ( مکہ ) میں آباد کیا تھا ، جن سےبنی اسماعیل کی نسل چلی ، اسماعیلؑ کے بعد بنی اسماعیل میں کوئی نبی نہیں آیا، اس دوران نبوت کا سلسلہ بنی مدین اور بنی اسرائیل میں جاری رہا ۔ اسماعیل ؑ کے بعد اس سلسلہ نبوت کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اللہ نے جن کی رسالت کوتمام جہاں کے لیے تاقیامت رحمۃ للعالمین اور کافۃ للناس بنادیا ۔ 
آثار مدین 

بنو مدین کا تعلق حضرت ابراہیم ؑ کی ایک تیسری بیوی قطورا سے تھا ، ان کے بطن سے ایک بیٹا مدین پیدا ہوا ، جو سب سے زیادہ مشہور ہو ا ، مدین کے کئی اور بھی بھائی تھے ، ان کی اولادیں بھی تھیں ، تورات میں صرف دو کی اولاد کا ذکر ہے ، بنی دوان اور بنی مدین ، اور شعیب ؑ کا تعلق بنی مدین سے تھا ، دوان کا ذکر قرآن مجید میں اصحاب الایکہ (جنگل والے ) کے نام سے آیا ہے ، جبکہ بنی مدین کو قوم شعیب کہاگیا ۔ یہ دونوں تاجر قوم تھیں ، ان دونوں قوموں اور علاقوں کے بیک وقت شعیب ؑ نبی تھے ۔ حضرت شعیب ؑ کا نام تورات میں جوباب یا ثیرومذکور ہے ، عربی میں بدل کرشعیب مشہور ہوا ۔ مدین اور ایکہ ان دونوں علاقوں کا آپس میں گہرا تعلق تھا ، ان کا زمانہ بھی باہم ایک تھا ، جس کی بنا پر دونوں آبادیوں کے لیے ایک ہی نبی کی بعثت ہوئی ، نیز قرآن مجیدنے دونوں کے اخلاق اور کردار کا نقشہ بھی ایک ہی پیش کیا ۔ 

نِعمَ العَبدُ! حضرت ایوب علیہ السلام - ابوالبشر احمد طیب

اسلامی اور اسرائیلی روایات میں حضرت ایوب ؑ کا قصہ ، بہت معروف و مشہور ہے یہاں تک کہ "صبر ایوب" ایک محاورہ بن گیا ہے ، لیکن اس قصہ پر اسرائیلی روایات کی کچھ ایسی تہہ جم گئی ہے کہ اصل حقیقت خرافات کے پردہ میں چھپ گئی ہے ۔ بائیبل میں ایک صحیفہ، سفر ایّوب ؑ کے نام سے شامل ہے ، محققین کا خیال ہے کہ یہ اصلا قدیم عربی میں لکھی گئی تھی ، حضرت موسی ؑ نے اس کو عربی سے عبرانی میں منتقل کیا ہے ۔ تورات میں سب سے قدیم صحیفہ ،سفر ایوب ہے ، اس اعتبار سے حضرت ایوب ؑ کا زمانہ موسی ؑ سے بہت پہلے تھا ۔ یہ صحیفہ حکمت کے بہت سے جواہر اپنے اندر رکھنے کے باوجود یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس صحیفہ کا تعلق براہ راست حضرت ایوب ؑ سے ہے یا نہیں ۔ اور اس لیے بھی کہ قرآن میں اور خود اس صحیفہ کی ابتدا میں حضرت ایّوب ؑ کے جس صبرِ عظیم کی تعریف کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس ساری کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت ایّوب ؑ اپنی مصیبت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے خلاف سراپا شکایت بنے ہوئے تھے، حتٰی کہ ان کے ہمنشین انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے رہےکہ خدا ظالم نہیں ہے، مگر وہ کسی طرح ان کی باتوں سے مطمئن نہیں ہوئے ۔

حضرت ایوب ؑ کی نسب ، قوم ، زمانہ کے متعلق بہت شدید اختلافات ہیں، بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے آپ فرزندان یعقوب ؑ کے ہمعصر ہیں، جدید تحقیق میں بعض ان کو مصری اور بعض عرب اور بعض اسرائیلی قرار دیتے ہیں، کوئی ان کو موسی ؑ سے پہلے اور کوئی داؤد ؑاور سلیمانؑ کے زمانہ کا قرار دیتا ہے ۔ اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زوجہ، حضرت یوسف ؑ کےفرزند ابفرائین کی لخت جگر تھی جو بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں ، یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے دوران ، ان کی باوفا بیوی کے سوا گھر کے بیشتر افراد ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ کچھ روایات میں ذکر ہے کہ آپ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے بھائی عیسو کی اولاد میں سے تھے ، عیسو فلسطین سے حضرت اسماعیل ؑ کے پاس آگئےتھے ، وہاں پر اسماعیل ؑ کی صاحبزادی سے شادی کی ہے ، عیسوکا نام عرف عام میں ادوم تھا، اس لیے ان کے خاندان اور علاقہ کا نام ادوم پڑگیا ، چند صدیوں کے بعد یہ ایک عظیم قوم بن گئی ، ادوم کی ایک نسل کانام عوض تھا ، حضرت ایوب ؑ کا تعلق اسی نسل سے تھا ، جدید تحقیق کے مطابق آپ کا علاقہ عرب کے شمال و مغرب میں فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب تھا ۔ اس لیے بعض علماء نے ان کو عرب قرار دیا ، آپ کا زمانہ معین نہ ہوسکا ، بعض کا خیال ہے کہ آپ کا ز مانہ ایک ہزار قبل مسیح اور سات سو قبل مسیح کے درمیان ہے ۔

مستشرقین کی قرآن مجید کے قصوں کے مآخذ کا کھوج لگانے کی ناکام کوشش ۔

قرآن اور مستشرقین
مستشرقین کی قرآن مجید کے قصوں کے
۔ مآخذ کا کھوج لگانے کی ناکام کوشش
مستشرقین مغرب نے  قرآن مجید کے قصوں کے مآخذ کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے ، اوردعوی کیا ہے کہ  محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) نے وحی کے بجائے دوسرے ذرائع سے نقل کر کے یہ قصہ بنا لیا اور پھر دعویٰ کر دیا کہ یہ تو میرے اوپر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے۔  وہ  تین قصے تاریخ سے پیش کرتے ہیں : ایک داستان گلگامیش ، دوسرے سکندر نامۂ سرُیانی ، اور تیسرے وہ یہودی روایت جس کا تَلْمُود میں ذکر ہے ، مگر اس میں حضرت موسیٰؑ کے بجاۓ ربی یہوحانان بن لادی کی طرف منسوب ہے اور تلمود کا بیان یہ ہے کہ ربی مذکور کو یہ واقعہ حضرت الیاس کے ساتھ پیش آیا تھا جو دنیا سے زندہ اٹھاۓ جانے کے بعد فرشتوں میں شامل کر لیے گۓ ہیں اور دنیا کے انتظام پر مامور ہیں۔ (The Talmud Selections By H Polano, pp. 313 .16 )

مستشرقین کی غلطی یہ ہے کہ  جو تحقیقات  وہ قرآن کے بارے میں  کرتے ہیں اس میں پہلے  یہ طے کر لیتے ہیں کہ قرآن ایک انسانی کلام  ہے یہ منزل من اللہ نہیں ہے  ،اس غلط مقدمہ کی بنیاد پر  وہ کوشش کرتے ہیں  کہ جو کچھ محمدﷺ  نے  پیش کیا ہے یہ فلاں فلاں کتاب اور فلاں فلاں مقامات سے چراۓ ہوۓ مضامین اور معلومات ہیں۔ اس طرز تحقیق میں یہ لوگ اس قدر بے شرمی کے ساتھ کھینچ تان کر زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں ، ایک معقول انسان کو گھن آنی لگتی ہے،   اگر کوئی  ان سے صرف چار سوالوں  کا جواب طلب کرے تو ان کی اس متعصبانہ افترا پردازی کا پردہ بالکل چاک ہو جاۓ : 

قوم لوط پر عذاب کی تفصیل بائیبل ، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں کی روشنی میں ۔

ارشاد باری تعالی ہے : 

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ لُوۡطٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۚ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۶۲﴾ۙ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۶۳﴾ۚ وَ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۴﴾ؕ اَتَاۡتُوۡنَ الذُّکۡرَانَ مِنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۵﴾ۙ وَ تَذَرُوۡنَ مَا خَلَقَ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ عٰدُوۡنَ ﴿۱۶۶﴾ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰلُوۡطُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِیۡنَ ﴿۱۶۷﴾ قَالَ اِنِّیۡ لِعَمَلِکُمۡ مِّنَ الۡقَالِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾ؕ رَبِّ نَجِّنِیۡ وَ اَہۡلِیۡ مِمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ فَنَجَّیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗۤ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۙ اِلَّا عَجُوۡزًا فِی الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۚ وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۱۷۳﴾ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۴﴾ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۷۵) (سورۃ الشعراء : 140 تا 1759 )

ترجمہ :

"لُوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔  یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لُوط ؑ نے ان سے کہا تھا”کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔

کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو اور تمہاری بیویوں میں تمہارے ربّ نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟  بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔“ انہوں نے کہا”اے لُوطؑ ، اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔“  اس نے کہا”تمہارے کرتُوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں۔

اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے۔“  آخر کار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا، بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔  پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ "



 اس بارے میں  یہاں سید ابوالاعلی مودودی ؒ کی تفہیم القرآن سے  سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :114 ملاحظہ کریں،  وہ لکھتے ہیں :

" قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت لوط جب رات کے پچھلے پہر اپنے بال بچوں کو لے کر نکل گۓ تو صبح پو پھٹتے ہی یکایک ایک زور کا دھماکا ہوا (فَاَ خَذَ تْھُمُ الصَّیْحَۃُمُشْرِقِیْنَ O )، ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کر کے رکھ دیا (جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا )، ایک زبردست آتش فشانی اِنفجار سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر بر ساۓ گۓ (وَاَمْطَرْ نَا عَلَیْھَا حِجَا رَ ۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ O) اور ایک طوفانی ہو سے بھی ان پر پتھراؤ کیا گیا (اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ حَاصِباً)۔ 

بائیبل کے بیانات، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں ، جدید زمانے کی طبقات الارضی تحقیقات اور آثار قدیمہ کے مشاہدات سے اس عذاب کی تفصیلات پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں : 

واقعۂ نوح

رضوان اللہ 

ماہنامہ اشراق 2018 


یہ انسانی تاریخ کاایک اہم واقعہ ہے جس کابیان ہمیں کئی مذہبی روایات میں ملتاہے۔بائیبل میں تاریخی ترتیب کے ساتھ اس کی تفصیل آئی ہے تو قرآن میں تذکیری اندازکے مطابق جستہ جستہ اس کے متعلق بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں الہامی ہونے کے لحاظ سے چونکہ ایک ہی روایت کی امین ہیں اور ان میں اکثر و بیش تر واقعات باہم موافق پائے جاتے ہیں،اس لیے ان میں یہ واقعہ بھی اپنی اصل کے لحاظ سے ایک ساآیاہے۔ تاہم،کئی مقامات پریہ اپنے بیان میں مختلف بھی ہوگیاہے اور تورات کی نقل میں غلطی، اِلحاق اور تحریف جیسے امکانات کے ہوتے ہوئے ایساہوجاناناممکن نہیں ہے۔ اس واقعہ کی تفصیلات کیاہیں؟ان سے توہم سب لوگ واقف ہیں اور اُنھیں یہاں بیان کرنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں،مگراس کے بارے میں چندسوالات ایسے پیداہوتے ہیں جو شدت سے اس بات کا تقاضاکرتے ہیں کہ اُن کے تشفی بخش جواب ضروردیے جائیں، مثال کے طورپر:
۱۔ حضرت نوح علیہ السلام کیا سب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے؟
۲۔ طوفان نوح کیاپوری زمین پرآیا؟
۳۔ اُن کی کشتی میں کون سوارہوئے؟
۴۔ کیانوح کے اہل محض اہل ہونے کی بناپرسوارہوئے؟
۵۔ آج کے سب انسان کس کی اولادہیں؟
۶۔ سیدنا ابراہیم کیاواقعی حضرت نوح کی نسل سے ہیں؟
ہم ذیل میں ان سوالات کے جواب میں اپنی معروضات پیش کرتے ہیں:

۱۔ حضرت نوح علیہ السلام کیاسب انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے؟

کیا حضرت خضرؑ انسان تھے؟

اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔

حضرت داؤد ؑ کی زندگی کا ایک حیرت انگیز واقعہ

ارشاد باری تعالی ہے : 
" اے نبی (ﷺ ) ! صبر کرو ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں ، اور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا۔ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے ۔ پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اسکی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے ، اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔

 پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے ان مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے؟۔ جب وہ داؤد کے پاس پہنچا تو وہ ا نہیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ انہوں نے کہا : 

’’ڈریے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے ۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے ، بے انصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہ راست بتایئے ۔ یہ میرا بھائی ہے ، اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا‘‘ ۔ 

داؤد نے جواب دیا :

 ’’ اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا ، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں ، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں ، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں ‘‘

(یہ بات کہتے کہتے ) داؤد سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا ۔ تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے  ۔ (ہم نے اس سے کہا)

’’ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے ‘‘ 


( سورہ ص آیات 18 تا 26 )


مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ نے اس واقعہ پر  بائیبل کے حوالے سے  اپنا تبصرہ لکھا ، وہ لکھتے ہیں ۔


" جن لوگوں نے بائیبل (عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب مقدس )کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس میں حضرت داؤد پر اُوریاہ حِتّی (Orian the Hittite)کی بیوی سے زنا کرنے ، اور پھر اوریاہ کو ایک جنگ میں قصداً ہلاک کروا کر اس کی بیوی سے نکاح کر لینے کا صاف صاف الزام لگایا گیا ہے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی عورت، جس نے ایک شخص کی بیوی ہوتے ہوئے اپنے آپ کو داؤد کے حوالے کیا تھا، حضرت سلیمان علیہ السلام کی ماں تھی۔ یہ پورا قصہ بائیبل کی کتاب سموئیل دوم ، باب 11۔12 میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہے ۔ نزول قرآن سے صدیوں پہلے یہ بائیبل میں درج ہو چکا تھا۔ دنیا بھر کے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو بھی اپنی کتاب مقدس کی تلاوت کرتا، یا اسے سنتا تھا، وہ اس قصے سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اس پر ایمان بھی لاتا تھا۔ انہی لوگو ں کے ذریعہ سے یہ دنیا میں مشہور ہوا اور آج تک حال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں بنی اسرائیل اور عبرانی مذہب کی تاریخ پر کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جاتی جس میں حضرت داؤد کے خلاف اس الزام کو دہرایا نہ جاتا ہو۔ اس مشہور قصے میں یہ بات بھی ہے کہ:

’’خداوند نے نَاتَن کو داؤد کے پاس بھیجا۔ اس نے اس کے پاس آ کر اس سے کہا کسی شہر میں دو شخص تھے ۔ ایک امیر، دوسرے غریب۔ اس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلّے تھے ۔ پر اس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا تھا۔ اور وہ اس کے اور اس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اسی نوالے میں کھاتی اور اسکے پیالہ سے پیتی اور اس کی گود میں سوتی تھی اور اس کے لیے بطور بیٹی کے تھی۔ اور اس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اس نے مسافر کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلّے میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اس غریب کی بھیڑ لے لی اور اس شخص کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکائی۔تب داؤد کا غضب اس شخص پر بشدت بھڑکا اور اس نے ناتن سے کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم، وہ شخص جس نے یہ کام کیا واجب القتل ہے ۔ اس شخص کو اس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ایسا کام کیا اور اسے ترس نہ آیا۔ تب ناتن نے داؤد سے کہا کہ وہ شخص تو ہی ہے ـــــــ تو نے حتّی اوریاہ کو تلوار سے مارا اور اس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اس کو بنی غمّون کی تلوار سے قتل کروایا۔‘‘ (2۔سموئیل،باب 12۔ فقرات 1 تا 11)

اس قصے اور اس کی اس شہرت کی موجودگی میں یہ ضرورت باقی نہ تھی کہ قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی تفصیلی بیان دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے بھی نہیں کہ وہ اپنی کتاب پاک میں ایسی باتوں کو کھول کر بیان کرے ۔اس لیے یہاں پردے پردے ہی میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا اور اہل کتاب نے اسے بنا کیا دیا ہے ۔ اصل واقعہ جو قرآن مجید کے مذکورہ بالا بیان سے صاف سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اوریاہ (یا جو کچھ بھی اس شخص کا نام رہا ہو) سے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے ۔ اور چونکہ یہ خواہش ایک عام آدمی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک جلیل القدر فرمانروا اور ایک زبردست دینی عظمت رکھنے والی شخصیت کی طرف سے رعایا کے ایک فرد کے سامنے ظاہر کی گئی تھی، اس لیے وہ شخص کسی ظاہری جبر کے بغیر بھی اپنے آپ کو اسے قبول کرنے پر مجبور پا رہا تھا۔ اس موقع پر، قبل اس کے کہ وہ حضرت داؤد کی فرمائش کی تعمیل کرتا، قوم کے دو نیک آدمی اچانک حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ایک فرضی مقدمے کی صورت میں یہ معاملہ ان کے سامنے پیش کر دیا۔ حضرت داؤد ابتداء میں تو یہ سمجھے کہ یہ واقعی کوئی مقدمہ ہے ۔ چنانچہ انہوں نے اسے سن کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن زبان سے فیصلہ کے الفاظ نکلتے ہی ان کے ضمیر نے تنبیہ کی کہ یہ تمثیل پوری طرح ان کے اور اس شخص کے معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے ، اور جس فعل کو وہ ظلم قرار دے رہے ہیں اُس کا صدور خود اُن سے اُس شخص کے معاملہ میں ہو رہا ہے ۔ یہ احساس دل میں پیدا ہوتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور توبہ کی اور اپنے اس فعل سے رجوع فرما لیا۔

بائیبل میں اس واقعہ کی وہ گھناؤنی شکل کیسے بنی؟ یہ بات بھی تھوڑے سے غور کے بعد سمجھ میں آجاتی ہے ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت داؤد کو اُس خاتون کی خوبیوں کا کسی ذریعہ سے علم ہو گیا تھا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ایسی لائق عورت ایک معمولی افسر کی بیوی ہونے کے بجائے ملک کی ملکہ ہونی چاہیے ۔ اس خیال سے مغلوب ہو کر انہوں نے اس کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے طلاق دے دے ۔ اس میں کوئی قباحت انہوں نے اس لیے محسوس نہ کی کہ بنی اسرائیل کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کے ہاں یہ ایک معمولی بات تھی کہ ایک شخص اگر کسی کی بیوی کو پسند کرتا تو بی تکلف اس سے درخواست کر دیتا تھا کہ اسے میرے لیے چھوڑ دے ۔ ایسی درخواست پر کوئی برا نہ مانتا تھا۔ بلکہ بسا اوقات دوست ایک دوسرے کے پاس خاطر سے بیوی کو خود طلاق دے دیتے تھے تاکہ دوسرا اس سے شادی کر لے ۔ لیکن یہ بات کرتے وقت حضرت داؤد کو اس امر کا احساس نہ ہوا کہ ایک عام آدمی کی طرف سے اس طرح کی خواہش کا اظہار تو جبر و ظلم کے عنصر سے خالی ہو سکتا ہے ، مگر ایک فرمانروا کی طرف سے جب ایسی خواہش ظاہر کی جائے تو وہ جبر سے کسی طرح بھی خالی نہیں ہو سکتی۔ اس پہلو کی طرف جب اس تمثیلی مقدمہ کے ذریعہ سے ان کو توجہ دلائی گئی تو وہ بلا تامّل اپنی اس خواہش سے دست بردار ہو گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ مگر بعد میں کسی وقت جب ان کی کسی خواہش اور کوشش کے بغیر اس خاتون کا شوہر ایک جنگ میں شہید ہو گیا، اور انہوں نے اس سے نکاح کر لیا، تو یہودیوں کے خبیث ذہن نے افسانہ تراشی شروع کر دی، اور یہ خبیث نفس اس وقت اور زیادہ تیزی سے کام کرنے لگا جب بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت سلیمانؑ کا دشمن ہو گیا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ 582)۔ ان محرکات کے زیر اثر یہ قصہ تصنیف کر ڈالا گیا کہ حضرت داؤد نے معاذاللہ اوریاہ کی بیوی کو اپنے محل کی چھت پر سے اس حالت میں دیکھ لیا تھا کہ وہ برہنہ نہا رہی تھی۔ انہوں نے اس کو اپنے ہاں بلوایا اور اس سے زنا کا ارتکاب کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ پھر انہوں نے اوریاہ کو بنی عمّون کے مقابلہ پر جنگ میں بھیج دیا اور فوج کے کمانڈر ہوآب کو حکم دیا کہ اسے لڑائی میں ایسی جگہ مقرر کر دے جہاں وہ لازماً مارا جائے ۔ اور جب وہ مارا گیا تو انہوں نے اس کی بیوی سے شادی کر لی، اور اسی عورت کے پیٹ سے سلیمان (علیہ السلام ) پیدا ہوئے ۔ یہ تمام جھوٹے الزامات ظالموں نے اپنی ’’ کتاب مقدس‘‘ میں ثبت کر دیے ہیں تاکہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے رہیں اور اپنی قوم کے ان دو بزرگ ترین انسانوں کی تذلیل کرتے رہیں جو حضرت موسیٰ کے بعد ان کے سب سے بڑے محسن تھے ۔

قرآن مجید کے مفسرین میں سے ایک گروہ نے تو ان افسانوں کو قریب قریب جوں کا توں قبول کر لیا ہے جو بنی اسرائیل کے ذریعہ سے ان تک پہنچے ہیں ۔ اسرائیلی روایات کا صرف اتنا حصہ انہوں نے ساقط کیا ہے جس میں حضرت داؤد پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور عورت کے حاملہ ہو جانے کا ذکر تھا۔ باقی سارا قصہ ان کی نقل کردہ روایات میں اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح وہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا۔ دوسرے گروہ نے سرے سے اس واقعہ ہی کا انکار کر دیا ہے کہ حضرت داؤد سے کوئی ایسا فعل صادر ہوا تھا جو دنبیوں والے مقدمہ سے کوئی مماثلت رکھتا ہو۔ اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے اس قصے کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہیں ، جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور خود قرآن کے سیاق و سباق سے بھی وہ کوئی مناسبت نہیں رکھتیں ۔ لیکن مفسرین ہی میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک بات تک پہنچا ہے اور قرآن کے واضح اشارات سے قصے کی اصل حقیقت پا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں :

مسروق اور سعید بن جبیر، دونوں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ’’حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس عورت کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اپنی بیوی کو میرے لیے چھوڑ دے ‘‘۔(ابن جریر)
علامہ زَمَخشری اپنی کشّا ف میں لکھتے ہیں کہ ’’ جس شکل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس شخص سے صرف یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اُن کے لیے پنی بیوی کو چھوڑ دے ۔‘‘

علامہ ابوبکر جصّاص اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ عورت اس شخص کی منکوحہ نہیں بلکہ صرف مخطوبہ یا منسوبہ تھی، حضرت داؤد نے اسی عورت سے نکاح کا پیغام دے دیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہو ا کیونکہ انہوں نے اپنے مومن بھائی کے پیغام پر پیغام دیا تھا حالانکہ ان کے گھر میں پہلے سے کئی بیویاں موجود تھیں (احکام القرآن )۔ بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے ۔ لیکن یہ بات قرآن کے بیان سے پوری مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن مجید میں مقدمہ پیش کرنے والے کے جو الفاظ نقل ہوئے ہیں ہو ہ یہ ہیں کہ لِیْ نَعْجَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا۔ ’’میرے پاس بس ایک ہی دُنبی ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسے میرے حوالہ کر دے ‘‘۔ یہی بات حضرت داؤد نے بھی اپنے فیصلہ کیں ارشاد فرمائی کہ فَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ۔’’ اس بت تیری دنبی مانگنے میں تجھ پر ظلم کیا۔‘‘ یہ تمثیل حضرت داؤد اور اوریاہ کے معاملہ پر اسی صورت میں چسپاں ہو سکتی ہے جبکہ وہ عورت اس شخص کی بیوی ہو۔ پیغام پر پیغام دینے کا معاملہ ہوتا تو پھر تمثیل یوں ہوتی کہ ’’ ایک دنبی لینا چاہتا تھا اور اس نے کہا کہ یہ بھی میرے لیے چھوڑ دے ۔‘‘

قاضی ابوبکر ابن العربی احکام القرآن میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ اصل واقعہ بس یہی ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص سے کہا کہ میرے لیے اپنی بیوی چھوڑ دے ، اور سنجیدگی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا ــــــ قرآن میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ شخص ان کے اس مطالبہ پر اپنی بیوی سے دست پردار ہو گیا اور حضرت داؤد نے اس عورت سے اس کے بعد شادی بھی کر لی اور حضرت سلیمانؑ اسی بطن سے پیدا ہوئے ــــــ جس بات پر عتاب ہوا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انہوں نے ایک عورت کے شوہر سے یہ چاہا کہ وہ ان کی خاطر اسے چھوڑ دے ــــــــ یہ فعل خواہ فی الجملہ جائز ہی ہو مگر منصب نبوت سے بعید تھا، اسی لیے ان پر عتاب بھی ہوا اور ان کو نصیحت بھی کی گئی۔‘‘

یہی تفسیر اس سیاق و سباق سے بھی مناسبت رکھتی ہے جس میں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے ۔ سلسلہ کلام پر غور کرنے سے یہ با ت صاف معلوم ہوتے ہے کہ قرآن مجید میں اس مقام پر یہ قصہ دو اغراض کے لیے بیان کیا گیا ہے ۔ پہلی غرض نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر کی تلقین کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ ’’ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو‘‘۔ یعنی تمہیں تو ساحر اور کذاب ہی کہا جا رہا ہے ، لیکن ہمارے بندے داؤد پر تو ظالموں نے زنا اور سازشی قتل تک کے الزامات لگا دیے ، لہٰذا ان لوگوں سے جو کچھ بھی تم کو سننا پڑے اسے برداشت کرتے رہو۔ دوسری غرض کفار کو یہ بتانا ہے کہ تم لوگ ہر محاسبے سے بے خوف ہو کر دنیا میں طرح طرح کی زیادتیاں کرتے چلے جاتے ہو، لیکن جس خدا کی خدائی میں تم یہ حرکتیں کر رہے ہو وہ کسی کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا، حتیٰ کہ بو بندے اس کے نہایت محبوب و مقرب ہوتے ہیں ، وہ بھی اگر ایک ذرا سی لغزش کے مرتکب ہو جائیں تو خداوند عالم ان سے سخت مواخذہ کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا گیا کہ ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو ایسی اور ایسی خوبیوں کا مالک تھا، مگر جب اس سے ایک بے جا بات سرزد ہو گئی تو دیکھو کہ ہم نے اسے کس طرح سرزنش کی۔

اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی اور باقی رہ جاتی ہے جسے رفع کر دینا ضروری ہے ۔تمثیل میں مقدمہ پیش کرنے والے نے یہ جو کہا ہے کہ اس شخص کے پاس 99 دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے جسے یہ مانگ رہا ہے ، اس سے بظاہر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید حضرت داؤد پاس 99 بیویاں تھیں اور وہ ایک عورت حاصل کر کے 100 کا عدد پورا کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن دراصل تمثیل کے ہر ہر جُّز ء کا حضرت داؤد اور اوریاہ حتّی کے معاملے لفظ بہ لفظ چسپاں ہونا ضروری نہیں ہے ۔ عام محاورے میں دس، بیس، پچاس وغیرہ اعداد کا ذکر صرف کثرت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے نہ کہ ٹھیک تعداد بیان کرنے لے لیے ۔ ہم جب کسی سے کہتے ہیں کہ دس مرتبہ تم سے فلاں بات کہہ دی تو اس کا مطلب یہ نہی ہوتا کہ دس بار گِن کر وہ بات کہی گئی ہے ، مطلب یہ ہوتا ہے بارہا وہ بات کہی جاچکی ہے ۔ ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے ۔ تمثیلی مقدمہ میں وہ شخص حضرت داؤد کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ آپ کے پاس متعدد بیویاں ہیں ، اور پھر بھی آپ دوسرے شخص کی بیوی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہی بات مفسر نیسابوری نے حضرت حسنؓ بصری سے نقل کی ہے کہ لم یکن لداؤد تسع وتسعون امرأۃ وانما ھٰذا مثل، ’’ حضرت داؤد کی 99 بیویاں نہ تھیں بلکہ یہ صرف ایک تمثیل ہے ۔‘‘

(اس قصے پر تفصیلی بحث مولانا مودودیؒ  نے اپنی کتاب تفہیمات حصہ دوم میں کی ہے ۔ جو اصحاب اس  بیان کردہ تاویل کی ترجیح کے مفصل دلائل معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کتاب کے صفحات 29 تا 44 ملاحظہ فرمائیں ۔)



( تفہیم القرآن جلد چہارم ص 323- 327 ، سُوْرَةُ صٓ حاشیہ نمبر :28 ،  سید ابوالاعلی مودودی ؒ  )

قرآنی قصص کا اسلوب

قرآن میں کئی تاریخی واقعات اور معجزات کا تذکرہ ہے جن کو علماء نے علمِ تذکیر بایّام اللہ کا نا م دیا ہے، دراصل یہ علمِ تاریخ ہے۔ اس کو اصطلاح میں علمِ قصص بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مذہبی تاریخ ہے جس کو مختصرا قرآن بیان کرتا ہے۔ اس میں حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آخری نبیؐ تک کی اہم قوموں اور پیغمبروں کے احوال و واقعات بیان کیے گئے ہیں۔


ان واقعات کے بیان کرنے کی ایک بڑی غرض انذار اور عبرت آموزی ہے۔ چنانچہ ایک طرف آخری نبی کے مخاطبین کو بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے، بلکہ پچھلی دعوتوں ہی کی تجدید اور ان کی تکمیل ہے، تو دوسری طرف منکرین کو خبر دار کیا گیا ہے کہ سنت اللہ کے مطابق ایک دن ان کو بھی اسی انجامِ بد سے دوچار ہونا ہے جس سے ان سے پہلے کی سرکش قومیں دوچار ہو چکی ہیں۔ 

اسی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین و تشفی دی گئی ہے کہ حق و باطل کی اس لڑائی میں حق کو فتح حاصل ہو گی اور باطل سرنگوں ہو گا۔ اس باب میں اللہ کی سنت ناقابلِ تغیر ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا گیا ہے:


وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ. (سورۂ ہود۱۱: ۲۰)


’’اور رسولوں کے احوال میں سے یہ سارے قصے ہم تم سے بیان کرتے ہیں (اور غرض یہ ہے) کہ ان کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو تقویت دیں، (اس کو جمائے رکھیں) اور جو حق بات ان قصّوں میں ہے وہ تم تک پہنچ چکی ہے اور (اس میں) مومنوں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔‘‘


قرآنی قصص کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت اجمال کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، یہاں تک کہ بعض قصّوں میں صرف اشارے پر اکتفا کیا گیا ہے۔ صرف تین سورتوں، یوسف، کہف، مریم، میں واقعات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اجمال ہو یا تفصیل، دونوں با مقصد ہیں۔ جہاں اجمال ہے وہاں ہدایت کے نقطۂ نظر سے اجمال ہی مطلوب ہے اور جہاں تفصیل ہے وہاں تذکیر کا پہلو متقاضی تھا کہ اس کو کھول کر بیان کیا جائے۔


تاریخی واقعات کے بیان سے قرآن کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ اہلِ ایمان اس سے یاد دہانی حاصل کریں، جیسا کہ سورۂ ہود کی مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے ’’و ذکریٰ للمومنین‘‘۔ اس سلسلے میں قرآن میں خاص طور اہلِ کتاب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کے واقعات مکرّر بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان دیکھ لیں کہ ان کی دینی اور دنیوی بربادی کے اسباب کیا تھے۔ مثلاً یہودیوں کے مذہبی افتراق اور فرقہ بندی کے حوالے سے فرمایا گیا ہے:

قرآنی قصص کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں اختلافی امور کو نظر انداز کر کے قصّے کے مرکزی خیال کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ کہف میں اصحابِ کہف اور ان کے کتوں کی تعداد اور غار میں ان کی مدتِ قیام کے بارے میں پہلے سے مختلف رائیں تھیں (آیات ۲۲ تا ۲۵)، اس لیے قرآن نے ان کو مبہم ہی رہنے دیا اور ان غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کر کے قصہ کی اصل روح کو نمایاں کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ نیکو کار بندوں کی مدد کے سلسلے میں خدا کا وعدہ سچا ہے (سورۂ کہف۔ ۲۱)۔ لیکن مفسرین نے حسب عادت اس اختلافی مسئلے میں قیاس آرائی سے گریز نہیں کیا ہے۔

( علوم قرآن ، جاوید احمد غامدی ) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمونہ کے طور پر ہم  یہاں اصحاب کھف کا قصہ  جس طرح قرآن نے بیان کیا نقل کرتے ہیں، اس سے اندازہ ہوگا کہ قرآنی قصص کا انداز اسلوب کیا ہے ۔ آسانی کے لیے عربی متن کے بغیر  صرف اردو ترجمہ پیش نظر ہے، ترجمہ تفہیم القرآن ، سید ابوالاعلی مودودیؒ سے ماخوذ ہے ۔  واقعہ ایک تمہید  سے شروع ہو تا ہے، اس میں  نزول قرآن کا مقصد نمایا کیا ،  اس  کے بعد  اہل کتاب پر سخت تنقید کی گئی اور آخر میں  نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے )

 ارشاد باری تعالی ہے :

" تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اِس بات کا نہ اُنھیں کوئی علم ہے اورنہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑی بات ہے جو ان کےمُنہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔" 

"اچھا، تو اے محمدؐ ،شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سرو سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخرِ کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔"

                                                  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 تمہید کے بعد اصل واقعہ کا آغاز ان الفاظ میں  ہے ۔

" کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے(اصحاب کھف )  ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا:

” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“ 

تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ، پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔ 

ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اورہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔  ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا :



” ہمارا ربّ تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ۔


 ہم اُسے چھوڑ کر کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکاریں گے۔

 اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے۔"



” یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دُوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ 


 یہ لوگ ان کے معبُود، ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ 

آخراُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھُوٹ باندھے؟ "



"اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبُودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔


  تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کےلیے سروسامان مہیّا کر دے گا۔“


تم انہیں غار میں دیکھتے  تو تمہیں یُوں نظر آتا کہ سُورج جب نِکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔  یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولیِّ مُرشد نہیں پاسکتے۔ 

تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔اور ان کا کُتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو اُلٹے پاوٴں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔

اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا:

”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟ “

 دُوسروں نے کہا:



” شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔“


پھروہ بولے:



”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا۔


 چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کےلیے لائے۔

 اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ 

اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبر دستی ہمیں اپنی مِلّت میں واپس لے جائیں گے، 

اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے“۔



                                                          

                                              ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں اس رد عمل کا ذکر ہے جو  اصحاب کھف کے زندہ ہونے کے بعد  لوگوں  نےکیا ۔ 

ارشاد باری تعالی ہے : 

" اِس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی۔ ﴿مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی﴾ اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ ا کرہے تھے کہ اِن ﴿اصحابِ کھف﴾کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا:

”اِن پر ایک دیوار چُن دو، اِن کا ربّ ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے۔“

مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے (حکمران )  اُنہوں نے کہا:



”ہم تو اِن پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔“



                                           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




(یہاں سے  اس واقعہ کا اختتام ہے  واقعہ کا اصل مخاطب یعنی محمد ﷺ کو اس کی روشنی میں آخری پیغام دیا ارشاد باری تعالی ہے : )

" کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔ کہو:



" میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے" ۔


 کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو۔

اور دیکھو،کسی چیز کے بارےمیں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا۔ ﴿تم کچھ نہیں کر سکتے﴾ اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو: 



” اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملےمیں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔“


۔۔۔۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور ﴿کچھ لوگ مدّت کے شمار میں﴾  سال اور بڑھ گئے ہیں۔ تم کہو، 



"اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے ،


 آسمانوں اور ز مین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا!

 زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبر گیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔"

اے نبیؐ ، تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے ﴿جُوں کا تُوں﴾ سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، ﴿اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو﴾ اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔

اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟

کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ صاف کہہ دو کہ 

" یہ حق ہے"  تمہارے ربّ کی طرف سے ، 

اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ ہم نے ﴿انکار کرنے والے﴾ ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔

  وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھُون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ!

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں  پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام! 



احسن القصص سب سے بہترین قصہ

سورہ یوسف کا نام قرآن میں احسن القصص (سب سےبہترین قصہ ) آیا ہے اس سورہ کے نزول کے بارے میں روایت ہے کہ یہودیوں کے اشارے پر کفار مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلّم کا امتحان لینے کے لیے، آپ کے سامنے  یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اس سوال کےجواب میں اللہ تعالی نے سورہ یوسف نازل فرمایا ۔
احسن القصص

اس سورہ کو احسن القصص اس لحاظ سے کہاگیا کہ انسانی زندگی کے تمام بنیادی کردارں کو اس سورت میں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے ، اس قصہ میں زندگی کے ان تمام مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسان اور انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی بپچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر ، غرضکہ تمام وہ امور جو دین ، اخلاق اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں بڑی عمدگی اور تسلسل کے ساتھ ایک ہی سورت میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ قصہ کا آغازیوسف ؑ کے ایک خواب کے ذکر سے ہوتا ہے پھر اختتام بھی اسی خواب کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ گویا پورا قصہ حضرت یوسف ؑ کے خواب کی عملی تعبیر پر مشتمل ہے ۔ 

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ابراہیم ؑ کی نسل بنی اسحاق ؑ، جس کی اہم شاخ بنی یعقوب ( اسرائیل) ہے،اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پید اکیں ۔ انہیں سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ۔ ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاءاور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ بنی یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے اس سلسلہ نبوت کا سب سے پہلے نبی حضرت یوسف ؑ ہیں ۔ 

بائیبل کے مطابق یعقوب ؑ کی چار بیویاں تھیں ،جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے ۔ ان چارمیں سے ایک سے یوسف ؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین پیدا ہوئے ۔ علمائے بائیبل کی تحقیق کے مطابق یوسف ؑ کی پیدائش تقریبا 1906 قبل مسیح میں ہوئی ۔ یوسف ؑ جب سترہ سال کے تھے۔ تو ان کے بھائیوں نے ان سے حسد کرتے ہوئے ان کو کنویں میں بھینکا ، ایک قافلے نے ان کو کنویں سے نکال کر مصر لے جاکر عزیز مصر کو فروخت کردیا ۔ 

مصر پر اس زمانہ میں عربی النسل قوم کے پندرھویں خاندان کی حکومت تھی ۔ جو چرواہے بادشاہوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ لوگ ابراہیم ؑ کے زمانہ سے سلطنت مصر پر قابض تھے ۔ علماء بائیبل کے مطابق یوسف ؑ کے ہم عصر فرمانروا کا نام اپوفیس ( Apophis) تھا ۔ 

بنی اسرائیل اور دعوت قرآن - ابوالبشر احمد طیب

بنی اسرائیل اور دعوت قرآن
بنی اسرائیل ایک قومی و نسلی اصطلاح ہے ۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب ہے ، جو اسحاق ؑ کے بیٹے اور ابراہیم ؑ کے پوتے تھے ۔ اسرائیل کے معنی ہیں بندۂ خدا ۔ بنی کے معنی اولاد ، نسل ہیں ۔ حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹے تھے، انہی کی اولاد اور نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ قرآن میں اسی نام سے اس قوم کا تذکرہ ملتا ہے ۔ البتہ یہ لوگ مذہبی حیثیت سے یہودی یا اہل کتاب تھے ۔ قرآن میں ان کا ذکر دیگر اقوام کے مقابلےمیں سب سے زیادہ تکرار و تفصیل سے آیا ہے ۔ تقریبا حضرت یوسفؑ کے دور سے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی بعثت تک سلسلہ نبوت ان میں جاری رہا ۔ اس سلسلہ میں کوئی قوم ان کی برابری کا دعوی نہیں کرسکتی ۔ لیکن جو کوئی بنی اسرائیل کا تذکرہ قرآن مجیدمیں پڑھتا ہے وہ حیران رہ جاتاہےکہ باری تعالی نے اس قوم کو کن کن نعمتوں اور فضیلتوں سے نواز، مثلا کئی جگہ ارشاد ہوا کہ " میں نے تمہیں دنیا جہاں والوں پر فضیلت دی ہے ۔ " (بقرہ : 47) لیکن اس کے باجود وہ کس مکارانہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتی رہے ۔ 


بنی اسرائیل کے تاریخی واقعات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر ایک عجیب طرح کا تلون پایاجاتا ہے۔ سرکشی ، احسان فراموشی ، فساد انگیزی ، اور بغض و حسد ان کا قومی مزاج تھا ۔ غالبا یہ مزاج مصر میں صدیوں غلامانہ زندگی بسر کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہوگا ۔ اللہ تعالی نے ان کی اصلاح کے لیے مختلف انبیاء ، رسولوں اور بادشاہوں کا انتخاب فرمایا ۔ انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کے لیے سخت سے سخت مصائب کو برداشت کیا ۔ خاص کر ان کے جلیل القدر، اولوالعزم رسول حضرت موسیؑ کلیم اللہ و اور ان کے آخری نبی حضرت عیسی ؑ روح اللہ نے تورات وانجیل کے علاوہ بڑی کثرت سے آیات اللہ (معجزات ) کا مظاہرہ کیا ۔ تاکہ ان کے تلون مزاجی میں اعتدال پیدا ہو ۔ قبول حق اور استقامت کی استعداد و صلاحیت پیدا ہو ۔