قصص القرآن اور ہماری زندگی

قرآنِ کریم محض ایک ضابطہ حیات ہی نہیں، بلکہ یہ انسانی نفسیات، تاریخ اور کائناتی حقائق کا وہ آئینہ ہے جس میں جھانک کر ہر دور کا انسان اپنی حقیقت اور اپنے رب کی قدرت کو پہچان سکتا ہے۔ جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو جابجا ایسے واقعات ملتے ہیں جو بظاہر انسانی عقل کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں، لیکن اگر بصیرت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ واقعات انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کے روشن مینار ہیں۔

آغازِ انسانیت ہی کو دیکھ لیجیے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے تخلیق اور پھر ان کے وجود سے ان کی شریکِ حیات حضرت حوا کی پیدائش، مادہ پرستی کے اس دور میں ایک بڑا سوالیہ نشان معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ واقعہ دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی اور روح کا مالک صرف اللہ ہے، وہ اسباب کا محتاج نہیں۔ اسی طرح آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کا قصہ انسانی تاریخ کے پہلے قتل کی داستان ہی نہیں، بلکہ حسد کے عبرتناک انجام کی تصویر ہے۔ ایک کوّے کے ذریعے قاتل بھائی کو تدفین کا طریقہ سکھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان سرکشی پر اتر آئے تو ایک چھوٹا سا پرندہ بھی اس کا استاد بن جاتا ہے تاکہ اسے اس کی بے بسی کا احساس دلایا جا سکے۔

قرآنی واقعات کا تسلسل ہمیں معجزات کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں عقل حیران رہ جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ پیدائش مادی قوانین کو توڑنے کا نام ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو خدا مٹی سے انسان بنا سکتا ہے، وہ بغیر باپ کے بھی زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ، جنہیں ایک بے بس بچے کی صورت میں دریا کی لہروں کے سپرد کر دیا گیا اور پھر اسی فرعون کے محل میں ان کی پرورش ہوئی جو ان کا دشمن تھا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب اللہ کسی کی حفاظت کا ذمہ لے لے، تو موت کے سائے بھی زندگی کی ضمانت بن جاتے ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھائیوں کا حسد، کنویں کی تنہائی اور قید خانے کی مشقتیں دراصل مصر کے تخت تک پہنچنے کے زینے تھے۔ یہ واقعات ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ بظاہر نظر آنے والی ناکامیاں اور مصائب، اللہ کی مصلحت کے تحت ایک بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔

ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ "عبرت" ہے۔ قرآن خود کہتا ہے: "بے شک ان کے قصوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے"۔ (سورہ یوسف: 111) یہ واقعات ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ حالات خواہ کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، اگر انسان کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط ہے تو آگ گلزار بن سکتی ہے (جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کے لیے بنی) اور سمندر راستہ دے سکتا ہے۔

آج کے اضطراب زدہ دور میں، جہاں انسان مادی سہاروں پر بھروسہ کر کے مایوسی کا شکار ہو رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قصص القرآن کا ازسرِ نو مطالعہ کریں۔ یہ واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے حکم کا پابند ہے اور وہ ذات آج بھی ناممکن کو ممکن بنانے پر قادر ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم ان واقعات سے سبق حاصل کریں اور اپنے ایمان کو اس نہج پر لے آئیں جہاں معجزات کا ظہور ہوتا ہے۔