آسمانی کتب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آسمانی کتب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآن میں بنی اسرائیل کا تذکرہ: ایک تجزیاتی مطالعہ

قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کا ذکر تقریباً 40 سے زائد مقامات پر آیا ہے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام تمام انبیاء میں سب سے زیادہ (136 بار) لیا گیا ہے۔ 

بنی اسرائیل کا ذکر قرآن میں محض ایک قوم کی تاریخ نہیں بلکہ "بنیادی دعوتی ضرورت" تھی۔ مدینہ کے یہودی قبائل کا نبی ﷺ کے زمانے سے متصل ہونا اور بڑی مدنی سورتوں کا ان کے تذکرے سے بھرا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ان کے بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح کرنا چاہتا تھا اور مسلمانوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے سے خبردار کرنا چاہتا تھا۔

1. مدنی زندگی اور براہِ راست مخاطبین

ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا واسطہ ایک ایسی قوم سے پڑا جو "اہلِ کتاب" تھی۔ جس طرح مکہ میں مشرکینِ مکہ اولین مخاطب تھے، مدینہ میں یہودی قبائل (بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ) اسلام کے بڑے مخاطب بن کر ابھرے۔ سورۃ البقرہ، آلِ عمران، اور المائدہ جیسی بڑی مدنی سورتوں میں بنی اسرائیل کا تفصیلی ذکر اسی لیے ہے کہ وہ اس وقت کی ایک اہم سماجی اور سیاسی قوت تھے۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیشين گوئی اور انجیل برنا باس - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

انجیل برناباس
" حقیقت یہ ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشن گوئیوں کو نہیں ، خود حضرت عیسیٰ کے اپنے صحیح حالات اور آپ کی اصل تعلیمات کا جاننے کا بھی معتبر ذریعہ وہ چار انجیلیں نہیں ہیں جن کو مسیحی کلیسا نے معتبر و مسلم انا جیل(Canonical Gospels) قرار دے رکھا ہے ، بلکہ اس کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ وہ انجیل برنا باس ہے جسے کلیسا غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) کہتا ہے ۔ عیسائیوں نے اسے چھپانے کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ صدیوں تک یہ دنیا سے ناپید رہی ہے ۔ سولہویں صدی میں اس کے اطالوی ترجمے کا صرف ایک نسخہ پوپ سکسٹس (Sixtus) کے کتب خانے میں پایا جاتا تھا اور کسی کو اس کے پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں وہ ایک شخص جان ٹولینڈ کے ہاتھ لگا۔ پھر مختلف ہاتھوں میں گشت کرتا ہوا 1738ء میں ویانا کی امپریل لائبریری میں پہنچ گیا۔ 1907ء میں اسی نسخے کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس سے شائع ہو گیا تھا مگر غالباً اس کی اشاعت کے بعد فوراً ہی عیسائی دنیا میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ یہ کتاب تو اس مذہب کی جڑ ہی کاٹے دے رہی ہے جسے حضرت عیسیٰ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس لیے اس کے مطبوعہ نسخے کسی خاص تدبیر سے غائب کر دیے گۓ اور پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آ سکی۔ دوسرا ایک نسخہ اسی اطالوی ترجمہ سے اسپینی زبان میں منتقل کیا ہو اٹھارویں صدی میں پایا جاتا تھا، جس کا ذکر جارج سیل نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں کیا ہے ۔ مگر وہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا اور آج اس کا بھی کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ انگریزی ترجمے کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بہ لفظ ہے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشين گوئی کا تفصیلی جائزہ

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسی ؑ کی بشارت کا تفصیلی جائزہ 
ارشاد باری تعالی : 

وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ " ﴿سورہ الصف: ۶﴾

اور یاد کرو عیسی ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہو ا رسول ہوں تصدیق کر نے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ،  اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آۓ گا جس کا نام احمد  ہو گا۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ  اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

 " یہ قرآن مجید کی ایک بڑی اہم آیت ہے ، جس پر مخالفین اسلام کی طرف سے بڑی لے دے بھی کی گۓ ہے اور بدترین خیانت مجرمانہ سے بھی کام لیا ہے ، کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صاف صاف نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی تھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کی جاۓ۔

اصحاب کھف، بائیبل اور مستشرقین

حضرت موسیٰ کو یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا ؟ اس کی کوئی تصریح قرآن نے نہیں کی ہے۔ حدیث میں عوفی کی ایک روایت ہمیں ضرور ملتی ہے جس میں وہ ابن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ نے مصر میں اپنی قوم کو آباد کیا تھا۔ لیکن ابن عباس سے جو قوی تر روایات بخاری اور دوسری کتب حدیث میں منقول ہیں وہ اس بیان کی تائید نہیں کرتیں، اور نہ کسی دوسرے ذریعے سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ کبھی مصر میں رہے تھے۔ بلکہ قرآن اس کی تصریح کرتا ہے کہ مصر سے خروج کے بعد ان کا سارا زمانہ سینا اور تیہ میں گزرا۔ اس لیے یہ روایت تو قابل قبول نہیں ہے۔

بائبل کے ترجمے کی کہانی


ڈاکٹر کوثرمحمود

ہمارے اُردو دان طبقے کو لفظ بائبل ذرا نامانوس لگے گا ۔ ہم نے قرآن سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں تورات، زبور اور انجیل کا نام سُن رکھا ہے لیکن ان پر فرداً فرداً بات کرنے سے پہلے یہ سُن لیجئے کہ حدیث میں وارد ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے جن میں 315صاحبِ کتاب تھے۔ آدم ؑ کے دس صحیفوں کا ذکر ملتا ہے لیکن اب وہ ناپید ہیں ۔ قدیم ترین صحائف میں حضرت ادریس ؑ (ا خنوخ یا انوخ) کا صحیفہ بحرِ مردار کے پاس دریافت ہوا ہے جس کا حال ہی میں انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔

علاوہ ازیں آتش پرستوں کے ہاں قدیم مذہبی کتاب؛ زردشت کی ’’اوستا‘‘ پائی جاتی ہے جو ژند زبان میں لکھی گئی پھر جب ژند زبان متروک ہو گئی تو اس کا خلاصہ اور شرح ’’ پاژند‘‘ نامی زبان میں لکھا گیا اور اب اس کا بھی صرف دسواں حصہ محفوظ ہے۔

ہندوستان میں بھی کچھ مذہبی کتابیں مثلاً وید ، پران ، اپنثد اور دوسری کتابیں پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ہندو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاکھوں سال پرانی ہیں لیکن علمائے مستشرقین نے ان کی قدامت کو 1500سے1200 قبل مسیح کے لگ بھگ مانا ہے۔ ’سر ایڈورڈ کا لبروک ‘نے اسے1400قبل مسیح کی تصنیف مانا ہے۔ *۱

عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تورات ،زبور اورانجیل مستقل اور علیحدہ علیحدہ کتابیں ہیں لیکن ہمارے ہاں جو بائبل ملتی ہے یہ ایک کتاب نہیں بلکہ تین زبانوں عبرانی، آرامی اور یونانی کی بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ آج تک دُنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے اور اب تک اس کے531 زبانوں میں مکمل تراجم ہو چکے ہیں تین ہزار کے لگ بھگ اِس کے جزوی تراجم موجود ہیں۔ بائبل کے دو حصے ہیں ،

1۔۔۔عہد نامۂ عتیق ( یا عہدنامۂ قدیم)
2۔۔۔ عہد نامہ جدید

عہد نامۂ عتیق میں حضرت موسی ؑ سے منسوب پانچ کتابیں ہیں جن میں ایک نام تورہ (Torah) بمعنی قانون ہے جسے ہم تورات کے نام سے جانتے ہیں یہ اُن احکامات کا مجموعہ ہے جو موسیٰ ؑ پر الواح کی شکل میں نازل ہوئے تھے۔
اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق داؤد ؑ پر اُترنے والی کتاب کا نام زبور تھا۔ یہ زبور بھی عہدنامۂ عتیق میں ’سام‘ (Psalm) نامی کتاب میں ’’ خدا کی حمد و ثنا کی نظمیں‘‘ کے نام سے موجود ہے۔

قدیم آسمانی صحیفے اور قرآن مجید

قرآن مجید میں جگہ جگہ قدیم آسمانی صحیفوں ، تورات ، زبور ، انجیل کے حوالے ہیں ۔ بہت سے مقامات پر انبیائے بنی اسرائیل کی سر گزشتیں ہیں ۔ 

بعض جگہ یہود اور نصاری کی تحریفات کی تردید اور ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید ہے ۔ اس طرح کے مواقع میں میں نے ان روایات پر اعتماد نہیں کیا ہے جو ہماری تفسیر کی کتابوں میں منقول ہیں ۔ یہ روایات زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہیں۔ اس وجہ سے نہ تو یہ اہل کتاب پر حجت ہو سکتی ہیں اور نہ ان سے خود اپنے ہی دل کے اندر اطمینان پیدا ہو تا ہے ۔

ایسے مواقع پر میں نے بحث و تنقید کی بنیاد اصل ماخذوں یعنی تورات و انجیل پر رکھی ہے۔ جس حد تک قرآن اور قدیم صحیفوں میں موافقت ہے وہ موافقت میں نے دکھادی ہے اور جہاں فرق ہے وہاں قرآن کے بیان کی حجت و قوت واضح کردی ہے ۔ 

تفسیر کی پہلی جلد میں ، بقرۃ اور آل عمران دونوں کی تفسیر میں ایسے بہت سے معرکے ملیں گے جن کر پڑھ کر قارئین یہ اندازہ کرسکیں گے کہ فی الواقع قرآن کا اصل زور اسی وقت واضح ہوتا ہے جب کسی معاملے میں اس کے بیان کو تورات و انجیل کے مقابل رکھ کے جانچاجائے ۔ 

ان مقابل بحثوں کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے اسی طرح تورات زبور و انجیل بھی اللہ ہی کے اتارے ہوئے صحیفے ہیں ۔ اگر ان کے بد قسمت حاملوں نے ان صحیفوں میں تحریفیں نہ کردی ہو تیں تو یہ بھی اسی طرح ہمارے لے رحمت و برکت تھے جس طرح قرآن ہے ۔ لیکن ان تحریفات کے باوجود آج بھی ان کے اندر حکمت کے خزانے ہیں ۔ اگر آدمی ان کو پڑھے تو یہ حقیقت آفتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ ان صحیفوں کا سر چشمہ بھی بلاشبہ وہی ہے جو قرآن کا ہے ۔ میں ان کو بار بار پڑھنے کے بعد اس رائے کا اظہار کر تاہوں کہ قرآن مجید کی حکمت کے سمجھنے میں جو مدد ان صحیفوں سے ملتی ہے وہ مدد مشکل ہی سے کسی دوسری چیز سے ملتی ہے ۔ خاص طور پر زبور، امثال اور انجیلوں کو پڑھئے تو ان کے اندر ایمان کو وہ غذاملتی ہے جو قرآن و حدیث کے سوا اور کہیں بھی نہیں ملتی ۔ حیرت ہوتی ہے کہ جن قوموں کے پاس یہ صحیفے موجود تھے وہ قرآن اور پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی تعلیمات سے کیوں محروم رہیں ۔ 


(مقدمہ ، تدبر قرآن،  جلد اول  ، مولانا امین احسن اصلاحی ؒ )

اصل تورات اور انجیل کا تعارف

سید ابوالاعلی مودودیؒ 


عام طور پر لوگ تورات سے مراد بائیبل کے پرانے عہد نامے کی ابتدائی پانچ کتابیں اور انجیل سے مراد نئے عہد نامے کی چار مشہور انجیلیں لے لیتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ الجھن پیش آتی ہے کہ کیا فی الواقع یہ کتابیں کلام الٰہی ہیں؟ اور کیا واقعی قرآن ان سب باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان میں درج ہیں؟ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ تورات بائیبل کی پہلی پانچ کتابوں کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اندر مندرج ہے، اور انجیل نئے عہد نامہ کی اناجیل اربعہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ان کے اندر پائی جاتی ہے۔



دراصل تورات سے مراد وہ احکام ہیں، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے لے کر ان کی وفات تک تقریباً چالیس سال کے دوران میں ان پر نازل ہوئے۔ ان میں سے دس احکام تو وہ تھے، جو اللہ تعالیٰ نے پتھر کی لوحوں پر کندہ کر کے انہیں دیے تھے۔ باقی ماندہ احکام کو حضرت موسیٰ نے لکھوا کر اس کی ١٢ نقلیں بنی اسرائیل کے ١٢ قبیلوں کو دے دی تھیں اور ایک نقل بنی لاوِی کے حوالے کی تھی تاکہ وہ اس کی حفاظت کریں۔ اسی کتاب کا نام ” تورات“ تھا۔ یہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے بیت المقدس کی پہلی تباہی کے وقت تک محفوظ تھی۔ اس کی ایک کا پی جو بنی لاوی کے حوالے کی گئی تھی، پتھروں کی لوحوں سمیت، عہد کے صندوق میں رکھ دی گئی تھی اور بنی اسرائیل اس کو ”توریت“ ہی کے نام سے جانتے تھے۔ لیکن اس سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچ چکی تھی کہ یہودیہ کے بادشاہ یوسیاہ کے عہد میں جب ہیکل سلیمانی کی مرمت ہوئی تو اتفاق سے سردار کاہن (یعنی ہیکل کے سجادہ نشین اور قوم کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا) خلقیاہ کو ایک جگہ توریت رکھی ہوئی مل گئی اور اس نے ایک عجوبے کی طرح اسے شاہی منشی کو دیا اور شاہی منشی نے اسے لے جا کر بادشاہ کے سامنے اس طرح پیش کیا، جیسے ایک عجیب انکشاف ہوا ہے (ملاحظہ ہو ٢- سلاطین، باب ٢٢- آیت ٨ تا ١٣)۔ 

یہی وجہ ہے کہ جب بخت نَصَّر نے یروشلم فتح کیا اور ہیکل سمیت شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، تو بنی اسرائیل نے تورات کے وہ اصل نسخے، جو ان کے ہاں طاق نسیاں پر رکھے ہوئے تھے اور بہت تھوڑی تعداد میں تھے، ہمیشہ کے لیے گم کر دیے۔ پھر جب عزر اکاہن (عزیر ) کے زمانے میں بنی اسرائیل کے بچے کھچے لوگ بابل کی اسیری سے واپس یروشلم آئے اور دوبارہ بیت المقدس تعمیر ہوا، تو عزرا نے اپنی قوم کے چند دوسرے بزرگوں کی مدد سے بنی اسرائیل کی پوری تاریخ مرتب کی، جو اب بائیبل کی پہلی ١٧ کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس تاریخ کے چار باب، یعنی خروج، احبار، گنتی اور استثنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت پر مشتمل ہیں اور اس سیرت ہی میں تاریخ نزول کی ترتیب کے مطابق تورات کی وہ آیات بھی حسب موقع درج کر دی گئی ہیں، جو عزرا اور ان کے مددگار بزرگوں کو دستیاب ہو سکیں۔ پس دراصل اب تورات ان منتشر اجزا کا نام ہے، جو سیرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم انہیں صرف اس علامت سے پہچان سکتے ہیں کہ اس تاریخی بیان کے دوران میں جہاں کہیں سیرت موسوی کا مصنف کہتا ہے کہ خدا نے موسیٰ سے یہ فرمایا، یا موسیٰ نے کہا کہ خداوند تمہارا خدا یہ کہتا ہے، وہاں سے تورات کا ایک جز شروع ہوتا ہے اور جہاں پھر سیرت کی تقریر شروع ہوجاتی ہے، وہاں وہ جز ختم ہوجاتا ہے۔ بیچ میں جہاں کہیں کوئی چیز بائیبل کے مصنف نے تفسیر و تشریح کے طور پر بڑھا دی ہے، وہاں ایک عام آدمی کے لیے یہ تمیز کرنا مشکل ہے کہ آیا یہ اصل تورات کا حصہ ہے، یا شرح و تفسیر۔ تاہم جو لوگ کتب آسمانی میں بصیرت رکھتے ہیں، وہ ایک حد تک صحت کے ساتھ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ ان اجزا میں کہاں کہاں تفسیری و تشریحی اضافے ملحق کر دیے گئے ہیں ۔


قرآن انہیں منتشر اجزا کو ”تورات“ کہتا ہے، اور انہیں کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کر کے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے، تو بجز اس کے کہ بعض بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے، اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان یک سرمو فرق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسوس کرسکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی منبع سے نکلے ہوئے ہیں ۔


اسی طرح انجیل دراصل نام ہے ان الہامی خطبات اور اقوال کا، جو مسیح (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے۔ وہ کلمات طیبات آپ کی زندگی میں لکھے اور مرتب کیے گئے تھے یا نہیں، اس کے متعلق اب ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے۔ ممکن ہے بعض لوگوں نے انہیں نوٹ کرلیا ہو، اور ممکن ہے کہ سننے والے معتقدین نے ان کو زبانی یاد رکھا ہو۔ بہرحال ایک مدت کے بعد جب آنجناب کی سیرت پاک پر مختلف رسالے لکھے گئے، تو ان میں تاریخی بیان کے ساتھ ساتھ وہ خطبات اور ارشادات بھی جگہ جگہ حسب موقع درج کر دیے گئے، جو ان رسالوں کے مصنفین تک زبانی روایات اور تحریری یادداشتوں کے ذریعے سے پہنچے تھے۔ آج متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی جن کتابوں کو اناجیل کہا جاتا ہے، دراصل انجیل وہ نہیں ہیں، بلکہ انجیل حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں، جو ان کے اندر درج ہیں۔ ہمارے پاس ان کو پہچاننے اور مصنفین سیرت کے اپنے کلام سے ان کو ممیز کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ جہاں سیرت کا مصنف کہتا ہے کہ مسیح نے یہ فرمایا یا لوگوں کو یہ تعلیم دی، صرف وہی مقامات اصل انجیل کے اجزا ہیں۔ قرآن انہیں اجزا کے مجموعے کو ”انجیل“ کہتا ہے اور انہیں کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کر کے قرآن سے ان کا مقابلہ کر کے دیکھے، تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسوس ہوگا، وہ بھی غیر معتصبانہ غور و تامل کے بعد بآسانی حل کی جا سکے گا۔(1)


مولانا عبد الماجد دریابادی موجودہ تورات و انجیل پر تبصرہ کرتے ہوئیے لکھتے ہیں : "توریت اور انجیل قرآن مجید کی اصطلاح میں دو مستقل آسمانی کتابوں کے نام ہیں۔ اور قرآن تصدیق انہی کی کرتا ہے۔ موجودہ بول چال میں توریت نام ہے متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا۔ جن میں سے ہر صحیفہ کسی نہ کسی نبی کی جانب منسوب ہے لیکن ان میں سے کسی ایک صحیفہ کی بھی تنزیل لفظی کا دعوی کسی یہودی کو نہیں۔ اسی طرح انجیل نام ہے متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا جن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق مختلف گمنام اور بےنشان لوگوں کی جمع کی ہوئی حکایتیں، روایتیں اور ملفوظات ہیں، لیکن ان میں سے کوئی صحیفہ بھی مسیحیوں کے عقیدہ میں آسمانی نہیں۔ بلکہ مسیحی صاف صاف کہتے ہیں کہ یہ مجموعہ ’’ حواریوں کے دور میں بلاارادہ اور بلاتوقع تیار ہوگیا ‘‘۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 3 صفحہ 5 13) طبع چہاردہم) خوب سمجھ لیا جائے کہ ایسے بےسند ’’ مقدس نوشتوں‘‘ کی تصدیق وتوثیق کی ذمہ داری قرآن ہرگز نہیں لیتا اور موجودہ بائبل، یعنی عہد عتیق وعہد جدید کا کوئی جزو بھی قرآن مجید کے ماننے والوں پر حجت نہیں۔ "(2) 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) تفہہیم القرآن ، جلد اول سورۃ آعمران حاشیہ نمبر : 2 ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ 


(2) تفسیر ماجدی سورہ آل عمران، فائدہ 7 ، عبدالماجد دریابادی





انجیل کی زبان یونانی یا سریانی ؟ (حصہ دوم)

عبد الستار غور 

دی لائن ہینڈ بک ٹو دی بائبل نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ( حضرت عیسیٰ نے) ابتداءً انجیلی مواد کی تعلیم آرامی زبان میں دی تھی:
انجیل کی زبان یونانی یا سریانی ؟ 

''The Gospel material was originally taught in Aramic, the language spoken by Jesus, and in a poetic form which was easy to memorize.'' (The Lion Hand Book to the Bible, Special Edition, Ed. David and Pat Alexander Herts, England, Lion Publishing, 1973, p. 469)


''ابتدائی طور پر انجیلی مواد کی تعلیم حضرت عیسیٰ کی طرف سے بولی جانے والی زبان آرامی میں دی گئی تھی اور یہ نظم کی صورت میں تھی جس کا یاد رکھنا آسان تھا۔''


اس طرح متعدد حوالوں سے یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ(۱) حضرت عیسیٰ اگرچہ یونانی زبان سے بھی واقفیت رکھتے تھے، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا پیغام آرامی زبان ہی میں پیش کیا تھااور (۲) اناجیل شروع ہی سے یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ مندرجہ بالا حوالوں کے مطالعے کے بعد ''محدث'' کے محترم مضمون نگار کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ ''اگر وہ اس سلسلہ میں کوئی ایک مستند حوالہ یا کوئی ٹھوس تاریخی ثبوت پیش کر دیتے تو قارئین کے لیے تحقیق کی راہ آسان ہو جاتی۔'' امید ہے ان اقتباسات کے مطالعے سے ان ' کے لیے تحقیق کی راہ آسان ہو' جائے گی۔جناب محمد اسلم صدیق لکھتے ہیں:


''اس کے لیے غوری صاحب کا مولانا مدنی کو علامہ قسطلانی ؒ پر اندھا اعتماد کرنے کا طعنہ دینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ مولانا سے جو سوال کیا گیا تھا، وہ محض اسی قدر تھا کہ 'کیا سریانی نام کی کسی زبان کا وجود ہے؟' اور اس سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے علامہ قسطلانی کی عبارت سے استدلال کر کے بتایا کہ ہاں سریانی زبان کا وجود ہے۔ اس حد تک آپ کو بھی اختلاف نہیں۔ مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیا تھی؟ [اگر 'مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیا تھی؟'تو پھر انھوں نے علامہ قسطلانی کا حوالہ دینے کی زحمت گوارا ہی کیوں کی تھی؟] پھر انھیں متعلقہ کتب یا اہل علم سے رجوع کا مشورہ چہ معنی دارد۔ اس نوعیت کے سوال جواب سے ایک بحث کا آغاز کر لینا جو سائل کا مطلوب ومقصود بھی نہیں، اشراق کے تحقیق کار کا عجب طرز عمل ہے! ''


جہاں تک اس اقتباس کے پہلے جملے کے حصہ اول کا تعلق ہے تو گزارش یہ ہے کہ اگر میری تحریر سے طعنے کا مفہوم نکلتا ہے، تو میں صمیم قلب سے حضرت مولانا ثنا ء اللہ مدنی سے معافی کا طالب ہوں۔ مولانا مدنی کا میں ذاتی طور پر بہت احترام کرتا ہوں۔ پچھلے دو عشروں سے ان کے فتاویٰ ''الاعتصام'' اور ''محدث'' میں بڑے شوق سے دیکھتا رہا ہوں، بلکہ ان موقر جریدوں میں سب سے پہلے مولانا مدنی کے فتاویٰ ہی کا مطالعہ کیا کرتا ہوں۔یہ میری نالائقی ہے کہ ایسے بزرگ جید عالم دین کے متعلق مجھ سے ایسا جملہ لکھا گیاجس سے ان کی شان میں گستاخی کا شائبہ نکلتا ہو۔


جہاں تک جملے کے بقیہ حصے (کیونکہ مولانا سے جو سوال کیا گیا تھا، وہ محض اسی قدر تھا کہ 'کیا سریانی نام کی کسی زبان کا وجود ہے؟' اور اس سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے علامہ قسطلانی کی عبارت سے استدلال کر کے بتایا کہ ہاں سریانی زبان کا وجود ہے۔) کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ سائل کے سوال کا مکمل جواب مولانا کے پہلے فقرے میں موجود ہے کہ' سریانی مستقل زبان کا نام ہے۔' آپ نے یہ جو لکھا ہے کہ ' اس سوال کے جواب میں مولانا مدنی نے علامہ قسطلانی کی عبارت سے استدلال کر کے بتایا کہ ہاں سریانی زبان کا وجود ہے۔' تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ علامہ قسطلانی کی عبارت سے سریانی زبان کے مستقل وجود کا استدلال کیسے بنتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا مدنی نے جواب میں ایک زائد بات بیان کی ہے کہ انجیل بھی سریانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ یہ انداز تحریر اپنی جگہ بالکل قابل اعتراض نہیں، بلکہ بعض اوقات ایسی زائد معلومات کے ذریعے سے بات کی وضاحت زیادہ بہتر طور سے ہو جاتی ہے۔ وجہ اعتراض تو دراصل یہ بات بنی ہے کہ 'انجیل اصلاً سریانی زبان میں لکھی گئی تھی۔' یہ جو کہا گیا ہے کہ' مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیاتھی؟ پھر انھیں متعلقہ کتب یا اہل علم سے رجوع کا مشورہ چہ معنی دارد۔' تو اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ اگر ' مولانا کے پیش نظر یہ تحقیق ذکر کرنا تھا ہی نہیں کہ انجیل کی زبان کیاتھی؟' توانھوں نے بلا وجہ ایک بے تحقیق بات لکھنے کی زحمت کیوں فرمائی۔


پیرے کے آخری فقرے میں مضمون نگار رقم طراز ہیں' اس نوعیت کے سوال جواب سے ایک بحث کا آغاز کر لینا جو سائل کا مطلوب ومقصود بھی نہیں، ''اشراق'' کے تحقیق کار کا عجب طرز عمل ہے!' اس فقرے کے سلسلے میں غالباً ہر قاری یہ محسوس کرے گاکہ اس کا انداز بیان طنز سے خالی نہیں۔ مولانا مدنی سے ایک جملے میں سوال کیا گیا تھا۔ انھوں نے اس کا ایک ہی جملے میں بالکل صحیح جواب دے دیا۔ لیکن اپنی دانست میں انھوں نے اس جواب کی مزید وضاحت کی ضرورت محسوس کی۔ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی، یہ الگ بات ہے کہ وہ وضاحت صحیح معلومات پر مبنی نہ تھی۔ اور ایسا بڑے بڑے صاحب علم بزرگوں کی تحریروں میں ہو جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ ''اشراق'' میں شائع شدہ مضمون میں بھی کسی بات کی وضاحت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے جو کچھ لکھا گیاوہ ایک ضروری اور متعلقہ بحث تھی، تا کہ قارئین کو موضوع سے متعلق تفصیلی معلومات سے متعارف کرایا جا سکے۔ اس پر '''اشراق'' کے تحقیق کار کا عجب طرز عمل ہے!' کی پھبتی سے اگر مضمون نگار کی تسکین ہوتی ہے ، تو میں بھی اس سے محظوظ ہونے سے گریز نہیں کرتا۔ البتہ قارئین دسمبر ۲۰۰۵ کے اشراق والے میرے مضمون کو دیکھ کر جناب مضمون نگار کے طنز کا خود جائزہ لے سکتے ہیں۔ محترم مضمون نگار لکھتے ہیں :


''اس سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ غوری صاحب نے اس مسئلہ پر دلائل دینے کی بجائے بات کومزید آگے پھیلاتے ہوئے سا را زور تحقیق اس بات پر صرف کر دیا کہ] حضرت[ عیسیٰ کے جو ارشادات بائبل کے عہدنامۂ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے... ان کی ابتدا ہی یونانی ترجمہ سے ہوئی... وغیرہ وغیرہ حالانکہ نہ علامہ قسطلانی ؒ نے اس بحث کو چھیڑا ہے اور نہ مولانا مدنی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور پھر یہاں بھی وہی بے لچک اور غیر معروضی انداز تحقیق جیسے یہ ایک 'مسلمہ حقیقت' ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجائش نہیں ہے۔''


جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں نے اس مقام پر اپنا 'سارا زور تحقیق صرف کر دیا ہے'، تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ میرا مضمون ایک عام سے شذرے یا تبصرے کی نوعیت کا تھا۔ اسی وجہ سے اسے حوالوں سے گراں بار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔ اگر چہ جو کچھ لکھا گیا تھا وہ صرف سنی سنائی باتوں یا ناقص معلومات پر مبنی نہیں تھا۔ میں اب بھی زور دے کر اپنی بات دہراتا ہوں کہ' ] حضرت[ عیسیٰ کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامۂ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے ... ان کی ابتدا ہی یونانی ترجمہ سے ہوئی...'۔ البتہ اپنے گزشتہ مضمون میں اس پر کوئی 'زور تحقیق ' صرف نہیں کیا تھا۔موجودہ مضمون میں کسی حد تک اس کی تلافی کر دی گئی ہے اور اوپر پچیس کے قریب مستند اقتباسات پیش کر دیے گئے ہیں۔ یہ بات چار پانچ اقتباسات کے ذریعے سے بھی بیان کی جا سکتی تھی، لیکن شاید اس طرح فاضل مضمون نگارمطمئن نہ ہو پاتے۔ ان اقتباسات میں جہاں بالجزم یہ بات متفقہ طور پر دہرائی گئی ہے کہ' حضرت عیسیٰ کی بول چال کی زبان آرامی تھی، لیکن عہد نامہ جدید ابتدا ہی سے یونانی زبان میں ضبط تحریر میں لایا گیا تھا'، وہیں ان اقتباسات سے کچھ دوسری ضروری معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔کہا گیا ہے کہ 'حالانکہ نہ علامہ قسطلانی نے اس بحث کو چھیڑا ہے اور نہ مولانا مدنی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے'۔ ''محدث'' کے محترم مضمون نگار کایہ دعویٰ حقائق اور ریکارڈ کے خلاف ہے۔مولانا مدنی نے انجیل کی زبان سریانی ثابت کرنے ہی کے لیے علامہ قسطلانی کی ''ارشاد الساری'' سے یہ حوالہ نقل کیا ہے کہ 'وقیل أن التورۃ عبرانیۃ والانجیل سریانی'۔ '' کہا جاتا ہے کہ تورات عبرانی اور انجیل سریانی زبان میں تھی۔'' اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محترم مضمون نگار نے ''الاعتصام''(۲تا۸ ستمبر ۲۰۰۵) میں مولانا مدنی کا' جواب' ملاحظہ ہی نہیں فرمایا۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ مولانا مدنی کے جواب اور اس میں دیے گئے ''ارشادالساری'' کے اقتباس ہی کے حوالے سے لکھا ہے۔ باقی رہا مضمون نگار کا یہ ارشاد ' اور پھر یہاں بھی وہی بے لچک اور غیر معروضی انداز تحقیق جیسے یہ ایک 'مسلمہ حقیقت' ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجایش نہیں ہے۔' تو میں نے اپنے علم کی حد تک درست معلومات پیش خدمت کرنے کی کوشش کی تھی اور اس میں جہاں لچک ہونی چاہیے تھی وہاں اس کا اظہار کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی، لیکن جہاں کوئی چیز میرے خیال میں یقینی تھی، وہاں اسے خواہ مخواہ مشکوک یا کمزور بنانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس سلسلے میں ''محدث'' کے فاضل مضمون نگار کی نیت پر کوئی حرف زنی کیے بغیر گزارش ہے کہ بعض جگہ میں نے کوئی بات امکانی انداز میں لکھی تھی، جس کے متعلق کسی ایک پہلو پر میں یقینی بات نہیں کہہ سکتا تھا، وہاں میں نے اپنا فقرہ ''لیکن غالباً'' جیسے احتمالی الفاظ سے شروع کیا۔ فاضل مضمون نگار نے اسے بالکل حذف کر کے نقل کر دیاجس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آگے بیان کی جانے والی بات میں ایک یقینی مسلمے کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔ مثلاً میں نے دسمبر ۲۰۰۵ کے ''اشراق'' والے مضمون میں صفحہ ۳۴ کی سطر ۱۸ تا۲۰ پر لکھا تھا 'لیکن غالباً یہ اس علاقے میں حضرت عیسیٰ کی آمد سے پہلے بھی رائج تھی۔...کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کو بازنطینی اثرات سے بچا سکیں'۔ فاضل مضمون نگار نے مارچ ۲۰۰۶ کے محدث میں صفحہ ۱۲۶، سطر ۱۸ تا ۲۱ پر میری یہی عبارت بطور اقتباس نقل کی ہے، لیکن اس میں سے ''لیکن غالباً'' کے میرے الفاظ حذف کر کے اقتباس کی یہ شکل بنا دی ہے : ' یہ (سریانی) اس علاقے میں حضرت عیسیٰ کی آمد سے پہلے بھی رائج تھی۔ ...کہ وہ اپنے مذہب اور ثقافت کو بازنطینی اثرات سے بچا سکیں'۔اس کے علاوہ بھی بعض مقامات پر احتمالی جملے درج کیے گئے ہیں مثلاًمذکورہ ''اشراق'' صفحہ ۳۶پر سطر ۵ میں لکھا گیا ہے 'اگر چہ اسے بھی مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل نہیں۔ ' اس کے باوجودبھی '' وہی بے لچک اور غیر معروضی انداز تحقیق جیسے یہ ایک 'مسلمہ حقیقت' ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجایش نہیں ہے۔'' کا الزام یک طرفہ کارروائی ہی قرار دی جا سکتی ہے۔


میں نے اپنے مضمون کے آخری سے پہلے پیرا گراف میں گزارش کی تھی :


''مولانا مدنی کے اس جواب کے آخری پیراگراف کا پہلا جملہ ہے 'عربانی زبان کی اصل سریانی ہے'۔ یہاں کمپوزنگ کی غلطی ہو گئی ہے ، کیونکہ 'عربانی' نام کی کوئی زبان کبھی سنی نہیں گئی۔ اصل لفظ غالباً 'عربی' ہو گا یا پھر 'عبرانی'۔ اگر کہا جائے 'عبرانی زبان کی اصل سریانی ہے' تو یہ بات محل نظر ہے۔ البتہ یہ بات بالعموم درست مانی جاتی ہے کہ عربی زبان سریانی سے کافی متاثر ہوئی ہے یایہ کہ اس کی اصل سریانی ہے۔ اگرچہ اسے بھی مسلمہ حقیقت کی حیثیت حاصل نہیں۔ مولانا مدنی نے یہ بات 'فاکہی' کی ''اخبار مکہ'' کے حوالے سے لکھی ہے۔ بہتر ہو گا کہ جریدے کی قریبی اشاعت میں اصل ماخذ سے رجوع کرکے اس کی وضاحت کر دی جائے۔''


لیکن فاضل مضمون نگار نے اس سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔


آرامی زبان کے متعلق انسائیکلو پیڈیا آف جوداازم کے مقالہ نگارپال فلیشر(Paul Flesher) نے بڑی عالمانہ تحقیق کی ہے۔ اس کے چند اقتباسات ذیل میں دیے جاتے ہیں:


''The language of Aramaic first became important to Jews during the Assyrian period. From the eighth ecntury B.C.E., to the fall of the Persian Empire, in the fourth century, Aramaic was the language of three empires that dominated the greater Mesopotamian world, namely, Assyria, Babylonia, and Persia. For those four-hundred years, the fortunes of Israel and Judah/Judea were firmly under the control of those empires. Aramaic became so influential within Judaism during this time that even after Greek became the language of Govenment, Aramaic continued to be used among Jews for more than a thousand years. Indeed the most important Jewish writtings in Aramaic the Aramaic Dead Sea Scrolls, parts of the Palestinian and Babylonians Talmuds and other Rabbinic literature, the translations of Scripture called the Targums, and even the Zohar come from the centuries after Aramaic lost its imperial support.


Languages are used by people. They do not exist in a vacuum but in connection with human lives. As such, they are subject to the same historical and cultural forces as other human creations. This article studies the growth of Aramaic and the development of its dialects in the context of the history of the Jews and their geographical locations and migrations. ...


After the destruction of the Jerusalem Temple in 70 C.E., Aramaic-speaking jewry splits into two groups, one remaining in Palestine and the other moving to Babylonia. ...


Aramaic was first spoken by the Aramean tribes who came to historical prominence during the eleventh century B.C.E. in Syria and Upper Mesopotamia several Ararmean tribes established small, independent kingdoms in this region, where they bore the brunt of the later Assyrian expansion to the west. The longest-surviving Aramean state, Aram, had its capital in Damascus, and remained independent until 732 B.C.E., falling to the Assyrians at the same time as the northern kingdom of Israel.


The period of Old Aramaic extends slightly beyond the time of the independent Aramean states, from eleventh century B.C.E. down to the start of the seventh. A few inscriptions and other written texts are known from the tenth century onwards, scattered across this region.


Although there is no evidence Israelites used Aramaic in this period, Northern Palestine, which was frequently under the control of Aram during the 9th and 8th centuries, has produced some Aramaic material. Two recent finds are particularly intriguing. The first is the Tel Dan stele, which tells of the victory of a king of Aram, perhaps Hazael, over Israel and the "king of the house of David" in the 9th century. This is the only known, contemporary reference to the Davidic dynasty outside the Hebrew Bible. The second find is the Deir Alla text from northern Jordan. ...


During the Assyrian Empire (more properly called the Neo-Assyrian Empire), Aramaic replaced Akkadian as the language of the imperial administration. An Eastern dialect of Aramaic was chosen for this role and its spread throughout the Empire brought previously unknown linguistic forms to the Empire's western reaches, particularly areas on the Mediterranean Sea such as Syria, Palestine and Egypt. This dialect, known to scholars as Imperial Aramaic (also called official Aramaic and Reichsarmaisch), became a standard for both spoken and written communication.


Scholars generally date this period from the start of the 7th century B.C.E. down to about 200 B.C.E. The general process by which Imperial Aramaic became dominant is clear, if not fully known in detail. The Assyrian King Tiglath-Pileser III, who ruled from 744 to 727, first made Aramaic into the language of governance. He brought Aramean scribes into his administration to be in charge of the correspondence across the empire. The spread of Aramaic was assisted by the deportation of conquered Aramean populations throughtout the empire and through its use by imperial administrators and military garrisons.


The first evidence for knowledge of Aramaic among the Israelites comes from the siege of Jerusalem ordered by King Sennacherib in 701 B.C.E. This took place when King Hezekiah ruled Judah (to 2 Kgs. 18:13-27). During the siege, the Assyrian ambassadors stood outside the city and negotiated with Hezekiah's representatives standing on the city wall by shouting in Hebrew. When Israelite officials asked them to speak in Aramaic because although they knew it, the average citizen did not, the Assyrians refused. They preferred to use their fluency in the local language to enable their threats to be understood by everyone, rather than to negotiate in the language of the empire.'' (The Encyclopedia Of Judaism, Second Edition, Ed. Jacob Neusner etc., Brill, 2005, Vol. I, pp. 85,86)


''آرامی زبان نے یہودیوں کے لیے سب سے پہلے اشوریوں کے دور میں اہمیت حاصل کی ۔ آٹھویں صدی قبل مسیح سے چوتھی صدی ق م میں فارسی سلطنت کے زوال تک آرامی زبان ان تین سلطنتوں کی زبان تھی، جن کا عظیم تر میسو پوٹیمیا پر تسلط تھا یعنی اشوری، بابلی، اور فارسی۔ ان چار سو سالوں کے دوران میں اسرائیل اور یہودیہ کی قسمت انھی سلطنتوں کے مکمل کنٹرول میں تھی۔اس عرصے کے دوران میں آرامی زبان کا یہودیت پر اتنا گہرا اثر تھا کہ یونانی کے سرکاری زبان بن جانے کے بعد بھی آرامی زبان یہودیوں میں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے تک رائج رہی۔حقیقت یہ ہے کہ یہودیت کی انتہائی اہم آرامی تحریریں مثلاً بحیرۂ مردار کے آرامی زبان میں لکھے گئے طومار، فلسطینی اور بابلی تالمودوں کے بعض اجزا، ربیوں کی دیگر تحریریں، اور صحائف کے] آرامی زبان میں[ تراجم، جنھیں 'ترجوم' کہا جاتا ہے وغیرہ اگرچہ آرامی زبان میں لکھے گئے ہیں، تا ہم یہ اس دور میں لکھے گئے ہیں جب آرامی زبان کو شاہی سرپرستی بالکل حاصل نہیں رہی تھی۔


زبانیں انسان استعمال کرتے ہیں۔ وہ خلا میں نہیں، بلکہ انسانی زندگیوں کے تناظرمیں وجود پذیر ہوتی ہیں۔اس طرح ان پر بھی وہی تاریخی اور ثقافتی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں، جو دوسری انسانی تخلیقات پر۔ اس آرٹیکل میں یہودیوں کی تاریخ اور ان کے جغرافیائی محل وقوع اور نقل مکانی کے سیاق وسباق میں آرامی زبان کے ارتقا اور اس کی ذیلی بولیوں کے نشو ونما کا مطالعہ کیا گیا ہے۔


۷۰ عیسوی میں یروشلم کے ہیکل کی تباہی وبربادی کے بعد آرامی بولنے والے یہودی دو گروہوں میں منقسم ہو گئے: ایک تو فلسطین ہی میں رہ گیا اور دوسرا بابل کی طرف نقل مکانی کر گیا۔


آرامی زبان سب سے پہلے ان آرامی قبائل نے بولنی شروع کی تھی، جو تاریخی طور پر گیارھویں صدی قبل از مسیح کے دوران میں شام اور بالائی میسوپوٹیمیا میں ابھر کر سامنے آئے ۔ اس خطے میں متعدد آرامی قبائل نے چھوٹی چھوٹی آزاد بادشاہتیں قائم کر لی تھیں،جہاں وہ متاخرین اشوریوں کے مغرب کی طرف توسیع پسندانہ حملوں کی سختیاں اور مصیبتیں جھیلتے تھے۔ آرامیوں کی سب سے زیادہ مدت تک باقی رہنے والی ریاست، آرام کا دارالحکومت دمشق میں تھا اور یہ ۷۳۲ قبل مسیح تک آزاد رہی۔اسی عرصے کے دوران میں اسرائیل کی شمالی سلطنت کی طرح یہ بھی اشوریوں کے ہاتھوں شکست پذیر ہوئی۔


قدیم آرامی کا دور آزاد آرامی ریاستوں سے کچھ بعد تک پھیلا ہوا ہے: یعنی گیارھویں صدی قبل مسیح سے لے کر ساتویں صدی ق م کے آغاز تک۔دسویں صدی سے لے کر آگے تک چند ایک کتبے اور دوسرے تحریری متن معروف و معلوم ہیں اور یہ سارے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں۔


اگر چہ اس بات کی کوئی شہادت موجود نہیں کہ اس دور میں اسرائیلی لوگ آرامی زبان استعمال کرتے ہوں، تاہم شمالی فلسطین نے جو آٹھویں او رنویں صدی ق م کے دوران میں زیادہ تر آرامی سلطنت کے کنٹرول میں رہا ، کچھ آرامی مواد کی تخلیق کی ہے ۔ دو جدید ترین دریافتیں خاص طور پر قابل دلچسپی ہیں:پہلی تو ہے تل دان کی پتھر کی تختی، جونویں صدی ق م میں آرام کے بادشاہ، جس کا نام شاید 'حزائیل' تھا ، کی اسرائیل اور ''داؤد کے گھرانے کے بادشاہ'' پر فتح کے ذکر پر مشتمل ہے۔ عبرانی بائبل سے باہر داؤد کے خاندان کے سلسلے میں یہ واحد معروف معاصرانہ حوالہ ہے ۔اور دوسری دریافت ہے شمالی اردن سے ملنے والا 'دیر الّا'کا متن۔


اشوری سلطنت (جسے جدید اشوری سلطنت کہنا زیادہ مناسب ہے) کے دوران میں سلطنت کی انتظامیہ کی زبان کے طور پر آرامی زبان نے عکادی زبان کی جگہ لے لی۔اس سلسلے میں آرامی زبان کی ایک مشرقی بولی کا انتخاب کیا گیا تھااور پوری سلطنت میں ہر جگہ اس کے پھیل جانے کی وجہ سے ان لسانی ہیئتوں کو جو پہلے غیرمعلوم تھیں، سلطنت کی مغربی حدود، خصوصاً بحیرۂ روم پر واقع علاقوں مثلاً شام، فلسطین اور مصر تک رسائی حاصل ہو گئی۔ یہ بولی جو اہل علم کے درمیان استعماری آرامی زبان (جسے سرکاری آرامی وغیرہ بھی کہا جاتا ہے) کی حیثیت سے معروف ہے، بول چال اور تحریر، دونوں کے ذریعۂ اظہار کے لیے معیار قرار پائی۔


اہل علم اس دور کو بالعموم ساتویں صدی قبل مسیح کے آغاز سے لے کر قریباً ۲۰۰ ق م تک شمار کرتے ہیں۔ وہ عمومی طریق کار جس کے ذریعے سے استعماری آرامی زبان نے غلبہ وتسلط حاصل کیا، اگر اپنی پوری تفصیل کے ساتھ معلوم نہ بھی ہو، تاہم ایک حد تک واضح ضرور ہے۔ آرامی زبان کو سب سے پہلے حکمرانی کی زبان اشوری بادشاہ تغلث پائلسر سوم(Tiglath Pileser III)نے قرار دیا تھا، جو ۷۴۴ سے ۷۲۷ ق م تک اسیریا (Assyria) پر حکمرانی کرتا رہا۔ اس نے آرامی کاتبوں کو اپنی انتظامیہ میں شامل کیا، تاکہ انھیں پوری سلطنت میں خط کتابت کا نگران بنا دیا جائے۔ آرامی زبان کے پھیلاؤ میں مفتوحہ آرامی آبادی کو اپنے شہروں سے نکال کر پوری سلطنت میں بکھیر دینے اور سامراجی انتظامیہ اور فوجی چھاؤنیوں میں اس کے استعمال سے بڑی مدد ملی۔


اسرائیلیوں کی ارامی زبان سے آشنائی کی اولین شہادت ۷۰۱ ق م میں شاہ سینا کرب (Sennacherib) کے یروشلم کے محاصرے کے فرمان سے ملتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب یہودیہ پر شاہ حزقیاہ کی حکومت تھی (۲۔ سلاطین، ۱۸:۱۳ تا۲۷)۔ اس محاصرے کے دوران میں اشوری ایلچی شہر سے باہر کھڑے تھے اور فصیل شہر پر کھڑے ہوئے حزقیاہ کے نمائندوں کے ساتھ عبرانی زبان میں چیخ چیخ کر گفت وشنید کر رہے تھے، جب اسرائیلی اہل کاروں نے انھیں اس بنا پر آرامی زبان میں گفتگو کرنے کے لیے کہا کہ اگرچہ و ہ اسے سمجھتے تھے، مگر متوسط درجے کا شہری اسے نہیں سمجھتا تھا تو اشوریوں نے نہ مانا۔ انھوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ مقامی زبان میں اپنی روانی اور قادر الکلامی کو اس مقصد کے لیے استعمال کریں کہ ہر آدمی ان کی دھمکیاں بآسانی سمجھ جائے، بجائے اس کے کہ سلطنت کی زبان میں گفتگو کریں۔''


انسائیکلو پیڈیا آف جوداازم کے مقالہ نگار نے اس موضوع کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ یوں تو یہ سارا مقالہ ہی قابل مطالعہ ہے، لیکن جتنا کچھ اب تک لکھا گیا ہے بقیہ مقالہ اس سے قریباً دس گنا زیاد ہ ہے۔ یہاں اصل انگریزی عبارت چھوڑتے ہوئے اس کے صرف اہم نکات ہی بیان کیے جاتے ہیں:


''بابلی سلطنت اسرائیلوں کی آرامی زبان سے واقفیت کے سلسلے میں بہت بڑی حد تک اثر انداز ہوئی ۔۵۸۶ ق م میں اہل بابل نے یروشلم پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے طبقۂ اشرافیہ کو اسیر بنا کر اپنے ساتھ بابل میں لے گئے۔ وہاں اسرائیلی ایک ایسی سوسائٹی میں گھر کر رہ گئے تھے جو اپنی روز مرہ کی زندگی میں آرامی زبان کا وسیع استعمال کرتی تھی۔ جب اہل فارس نے بابلی سلطنت ختم کی اور جلا وطن یہودیوں کو یروشلم جانے کی اجازت دی تو وہ بظاہر عبرانی کے مقابلے میں آرامی زبان زیادہ روانی سے بولتے تھے۔ بلکہ وہ عبرانی زبان بھی آرامی رسم الخط میں لکھتے تھے۔موجودہ عبرانی حروف ابجد اسی آرامی رسم الخط سے ماخوذ ہیں ۔


آرامی زبان کا درمیانی دور بالعموم دوسری صدی قبل مسیح سے تیسری صدی عیسوی کے آغاز تک پھیلا ہوا ہے۔ کتبوں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہوتاہے کہ اس دور میں اسرائیل کے قرب وجوار کے ممالک میں تین بولیاں روا ج پا رہی تھیں: (۱) شمال مغربی عرب، صحراے نجف، جنوبی اور جنوب مشرقی فلسطین میں نبطی بولی رائج تھی۔( ۲) شام کے تجارتی شہر پلمائرا (Palmyra) کے زیر اثر علاقوں میں پالمائرین (Palmyrene) بولی کا دور دورہ تھا اور یہ علاقہ بحیرۂ روم کے ساحل اور دریاے فرات دونوں سے نصف فاصلے پر واقع تھا۔ (۳)سریانی زبان کے ظہور کی ابتدائی شہادت شمالی شام میں ایڈیسہ(Edessa) کے اردگرد ملتی ہے۔ یہ تمام بولیاں شاہی آرامی زبان اور علاقے کی مقامی بولیوں کے اختلاط سے وجود میں آئی تھیں اور غالباً مقامی بولیوں کا اثر زیادہ تھا۔''(انسائیکلو پیڈیا آف جوداازم، ایڈیشن دوم، ایڈیٹرجیکب نیوسنروغیرہ، برلّ، ۲۰۰۵ء، جلد اول، صفحہ ۸۶۔۹۴)


اوپر متعدد مستند حوالوں سے یہ واضح کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی عام بول چال کی زبان آرامی تھی، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ یونانی زبان بھی بخوبی جانتے ہوں۔ انھی حوالوں سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ انجیل ابتدائی طور پر یونانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعدانسائیکلو پیڈیا آف جودا ازم کے آرامی زبان پر ایک مبسوط مقالے سے آرامی زبان کی تاریخ کے متعلق اقتباسات نقل کیے گئے۔ ذیل میں یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ مسلم علما اور شارحین بخاری نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ انجیل سریانی میں لکھی گئی تھی۔


یونانی انجیل ابتدا میں سریانی زبان میں نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ سریانی زبان میں اس کا ترجمہ کیا گیا تھا۔ یہ ترجمہ دوسری اور چوتھی صدی عیسوی میں ہوا تھا اور بعد کی دو تین صدیوں میں بھی یہ عمل جاری رہا۔میک گریگر لکھتاہے:


''The New Testament books, widely circulated in Greek, were translated at a very early date into other languages. ... As early as about A.D. 150 the NT was translated into Syriac and into Latin, ... Syriac is a dialect of Aramaic, Christ's native tongue, and was the language of Mesopotamia and Syria. It is known that in Edessa, in the valley of Euphrates, between about A.D. 150 and 175, a work was circulating known as the Diatessaron. ... it was the work of a scholar called Tatian who was a native of Euphrates Valley where he was born about A.D. 110. ... His work was probably written in Rome and taken to Syria, where it was translated into Syriac, and it is known that this translation was chief form in which the Gospel story was circulated in Syria till the fourth century.'' (Geddes MacGregor, The Bible in the Making, London, John Murray, 1961, pp.57f.)


''عہد نامۂ جدید کی کتابوں کا،جن کی یونانی زبان میں وسیع پیمانے پر اشاعت ہو رہی تھی، بہت ابتدائی دور میں دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو گیا تھا۔ ... ۱۵۰ عیسوی ہی تک عہد نامہ جدید کا سریانی اور لاطینی میں ترجمہ ہو چکا ہوا تھا۔... سریانی ارامی زبان کی ایک بولی ہے۔ ارامی زبان حضرت عیسیٰ کی مقامی زبان بھی تھی اور میسوپوٹیمیا اور شام کی بھی۔ یہ بات معروف ہے کہ ۱۵۰ اور ۱۷۵ء کے درمیان وادئ فرات میں واقع عدیسہ شہر میں ایک کتاب مروج تھی، جو ڈایاٹسرون (Diatessaron) کے نام سے مشہور تھی۔... یہ ایک صاحب علم شخص طاشیئن نے لکھی تھی، جو واوئ فرات کا باشندہ تھا جہاں وہ قریباً ۱۱۰ء میں پیدا ہوا تھا۔ ... اس کی یہ کتاب غالباً روم میں لکھی گئی تھی اور پھر اسے شام میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کا سریانی میں ترجمہ کیا گیا۔ مشہور یہ ہے کہ یہی ترجمہ وہ بڑی صورت تھی جس میں چوتھی صدی تک انجیل کی کہانی ملک شام میں رائج تھی۔''


بروس ایم میٹزجر نے سریانی تراجم پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتا ہے:


''Scholars have distinguished five different Syriac versions of all or part of the NT. They are the Old Syriac, The Peshitta (or common version), the Philoxenian, the Harclean, and the Palestinian Syriac version.


(a) The Old Syriac version of the four Gospels is preserved today in two manuscripts, both of which have large gaps. ...


(b) The Peshitta version, or Syriac Vulagate, of the NT was prepared toward the end of the fourth century, probably in order to supplant the divergent, competing Old Syriac translations. ... More than 350 manuscripts of the Peshitta NT are known today, several of which date from the fifth and sixth centuries. ...


(c) The Philoxenian and/or Harclean version(s). ...


(d) The Palestinian Syriac version. The translation into Christian Palestinian Syriac (i.e. Aramaic) is known chiefly from a lectionary of the Gospels, preserved in three manuscripts dating from the eleventh and twelfth centuries.'' (Bruce M. Metzger, The Text of the New Testament, Oxford at the Clarendon Press, 1964, pp. 68-71)


''علما نے پورے یا جزوی عہد نامۂ جدیدکے پانچ مختلف سریانی تراجم کو ممتاز قرار دیا ہے۔ وہ ہیں قدیم سریانی، پشیتا یا عوامی ترجمہ، فلوکسینین، ہرقلین اور فلسطینی سریانی ترجمہ۔


ا۔چار انجیلوں کا قدیم سریانی ترجمہ آج دو مسودات کی شکل میں محفوظ ہے، جن دونوں میں بڑے بڑے خلا موجود ہیں۔


ب۔عہد نامۂ جدید کا پشیتا ترجمہ یا سریانی زبان کا ولگیٹ۔ یہ چوتھی صدی کے اختتام کے قریب تیار ہوا تھا۔ اس کا مقصد غالباًیہ تھا کہ یہ اختلافات اورتضادات سے معمور سریانی تراجم کی جگہ لے سکے۔ ... آج پشیتا کے عہد نامۂ جدید کے ۳۵۰ سے زائد مسودات معلوم ہیں، جن میں سے اکثرکی تاریخ پانچویں اور چھٹی صدیوں کی ہے۔


ج۔ فلوکسینین اور /یا ہرقلین ترجمے ۔ ...


د۔اناجیل کا فلسطین والا سریانی ترجمہ مسیحی فلسطینی سریانی(یعنی آرامی) زبان میں بڑی حد تک انجیلوں کے دعاو عبادت کے اسباق کے ان مجموعوں کے ذریعے سے معلوم ہوا، جو ان تین مسودات کی صور ت میں محفوظ ہیں جن کا تعلق گیارھویں اور بارھویں صدیوں سے ہے۔ ''


دی جرنی فرام ٹیکسٹس ٹو ٹرانسلیشنز کا مصنف پال ڈی ویگنر لکھتا ہے :


''... Jesus probably spoke in Aramaic whereas the Evangelists recorded his sayings in Greek.'' (Paul D. Wegner, The Journey from Texts to Translations, Grand Papids, Michigan, Baker Books, 1999, p.61)


''... حضر ت عیسیٰ غالباً آرامی زبان میں کلام فرماتے تھے، جب کہ انجیل نگاروں نے ان کے ارشادات یونانی زبان میں ریکارڈ کیے ۔''


''... Christianity spread very early into Syria, and from there the Syriac church took the Gospel as far as China. ... Syriac, generally the name given to Christian Aramaic, is written in distinctive variation of the Aramaic alphabet.


Tatian Diatessaron


Tatian came from Mesopotamia to Rome in about 150; he was converted to Christianity and taught by Justin Martyr. ... His major work was the earliest known harmony of the four Gospels, called the Diatessaron, written in Syriac. The word diatessaron literally means "through four". That is to say, the work weaves all four Gospel into one continuous narrative. ... It is unknown whether the work was originally written in Greek (the name diatessaron is Greek) or Syriac, but it gained popularity due in large part to Ephraem, a Syrian church father from Edessa (306-373), who wrote a commentary on it. Later the Diatessaron was translated into Persian, Arabic, Latin, Old Dutch, Medieval German, Old Italian, and Middle English.


Syriac Peshitta


For centuries several Syriac translations, as they circulated throughout this Area, competed for superiority. Most were in Old Syriac, but around the fifth century the Syriac Peshitta emerged, perhaps prepared by Rabbula, who was bishop of Edessa from 411 to 435. By about 400 Theodore of Mopsuestia, an early church father, wrote concering the Syriac Peshitta: "it has been translated into the tongue of the Syrians by someone or other, for it has not been learned up to the present day who this was." In the fifth century the Syriac church split into two groups the Nestorians (East Syriac) and the Jacobites (West Syriac) resulting in two proper recensions [revised editions, compilations] of the Syriac Peshitta.'' (Paul D. Wegner, The Journey from Texts to Translations, op.cit., pp.242-43)


''مسیحیت بہت جلدملک شام میں پھیل گئی اور وہاں سے سریانی کلیسیا انجیل کو چین جیسے دور دراز علاقے میں لے گیا۔... سریانی، جو نام بالعموم مسیحیوں کی ارامی زبان کو دیا جاتا تھا، ارامی زبان کے حروف تہجی سے مختلف اور امتیازی انداز میں لکھی جاتی ہے] سریانی ر سم الخط عربی زبان کے رسم الخط سے کافی ملتا جلتا ہے۔ علما کا غالب خیال یہ ہے کہ عربی رسم الخط کی تشکیل پر سریانی رسم الخط کا کافی اثر ہے[


طاشیئن کا ڈایا ٹسران


طاشیئن قریباً ۱۵۰ء میں میسو پٹیمیا(عراق) سے روم میں پہنچا ۔اسے شہید جسٹن نے مسیحی بنایا تھا اور اسی نے اسے مسیحیت کی تعلیم دی تھی۔ ... سب سے پہلے اس نے '' چاروں انجیلوں کی یکسانیت اور ہم آہنگی'' نامی کتاب لکھی تھی جو ا س کی سب سے پہلی اور بڑی اہم کتاب ہے اور جو ڈایا ٹسران کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سریانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ لفظ ڈایا ٹسران کے لغوی معنی ہیں 'چار کے اندرسے'۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اس کتاب میں چاروں کی چاروں انجیلیں ایک مسلسل حکایت کے طورپر بن دی گئی ہیں۔ ...اس بات کا علم نہیں کہ کیا یہ کتاب ابتداءً یونانی زبان میں لکھی گئی تھی (ڈایاٹسران یونانی زبان ہی کا لفظ ہے)، یا سریانی میں۔ لیکن اس نے بڑی حد تک عدیسہ سے تعلق رکھنے والے سریانی کلیسیا کے ایک بزرگ افرائیم (۳۰۶۔۳۷۳)، کی وجہ سے قبولیت عامہ حاصل کی جس نے اس کی ایک تفسیر لکھی تھی۔ بعد میں ڈایاٹسران کا فارسی، عربی، لاطینی، قدیم ڈچ زبان، درمیانے دور کی جرمن زبان، قدیم اطالوی اور درمیانے دور کی انگریزی میں ترجمہ کیا گیاتھا۔


سریانی پشیتا


''اس پورے خطے میں جو متعدد سریانی تراجم زیر گردش تھے، وہ صدیوں تک برتری کے حصول کے لیے برسر پیکار رہے۔ ان میں سے زیادہ تر سریانی زبان میں تھے۔ لیکن پانچویں صدی کے قریب سریانی زبان کی پشیتا بائبل کو فروغ حاصل ہوا، جو شاید ربولا نے تیار کی تھی۔ ربولا ۴۱۱ء سے ۴۳۵ء تک عدیسہ کا بشپ رہا تھا۔ ۴۰۰ء کے قریب ایک ابتدائی کلیسیائی فادر، تھیوڈور آف موپسو استیا(Theodore of Mopsuestia) نے سریانی زبان کی پشیتا بائبل کے متعلق لکھا: 'کسی نہ کسی شخص نے اس کا شامی لوگوں کی زبانوں میں ترجمہ کر دیا، لیکن اس بات کا پتا نہیں چل سکا کہ یہ (مترجم) کون تھا۔' پانچویں صدی میں سریانی کلیسیا دو گروہوں میں بٹ گیا: (۱) نسطوری (مشرقی سریانی) اور (۲) یعقوبی (مغربی سریانی)۔ جس کے نتیجے میں سریانی پشیتا کے دو موزوں نظر ثانی شدہ ایڈیشن معرض وجود میں آگئے ۔''


یہی مصنف عربی تراجم کے سلسلے میں لکھتا ہے:


''In antiquity Arabia covered the area west of Mesopotamia, south of Syria, and east of Palestine; ... Very little is known about early Christian contacts with this era, ... Little is known about the first translation of the Bible into Arabic, ... The spread of Islam in the seventh century forced Jews and Christians who remained in the conquered lands to adopt Arabic. ... The Scriptures do not seem to have been extant in an Arabic version before the time of Muhammad (570-632), who knew the gospel story only in oral form, and mainly from Syriac sources. ... Evidence suggests that translations into Arabic were made from Greek, Old Syriac, the Syriac Peshitta, Coptic, and Latin versions.'' (Paul D. Wegner, The Journey from Texts to Translations, op. cit., p.249-50)


''قدیم ملک عرب میسو پٹیمیا (عراق) کے مغرب، شام کے جنوب اور فلسطین کے مشرق کے علاقوں پر محیط تھا۔ ... اس علاقے کے ساتھ ابتدائی مسیحیوں کے روابط کے متعلق بہت کم باتیں معلوم ہیں۔ ... بائبل کے عربی زبان میں اولین ترجمے کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ ... ساتویں صدی میں اسلام کی اشاعت نے ان یہود ونصاریٰ کو، جو مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں ہی میں رہایش پذیر ہوگئے، اس بات پر مجبور کیا کہ وہ عربی زبان اختیار کریں۔... معلوم یہ ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۵۷۰ء تا۶۳۲ء) سے پہلے کے دور میں صحف بائبل کسی عربی ترجمے کی صورت میں موجود نہ تھے۔ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انجیلوں کی کہانی صرف زبانی صورت میں جانتے تھے اور وہ بھی زیادہ تر سریانی ماخذ سے۔ ... شہادت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انجیل کے عربی زبان میں تراجم یونانی، قدیم سریانی، سریانی پشیتا، قبطی اور لاطینی تراجم سے کیے گئے تھے۔ ''


جان ایل میکنزی اپنی لغت بائبل میں سریانی تراجم کے ذیل میں لکھتا ہے:


''Syriac designates several dialects of Aramaic which arose in the early centuries of the Christian era in Old Aramaic speaking regions, which roughly include the modern Israel and Jordan, Syria, Lebanon, the portion of Turkey adjacent to Syria, and Iraq. The dialects of Syriac fall into two principal groups, eastern and western. As a living language Syriac fell into disuse with the Mohammedan conquests and yielded to Arabic; it now survives as a liturgical language in some dissident eastern churches and in a few isolated pockets. ... The Old Syriac versions are the versions older than the Peshitto NT. These were replaced in common use by the Peshitto and have survived only in fragments.'' (John L. McKenzie, S.J., Dictonary of The Bible, London, Geoffrey Chapman, 1984, p.860)


''سریانی حقیقت میں آرامی زبان کی متعدد بولیوں کو ظاہر کرتی ہے، جس نے قدیم ارامی بولنے والے علاقوں میں سن عیسوی کی ابتدائی صدیوں میں فروغ پایا۔ یہ علاقے جدید اسرائیل اور اردن، شام، لبنان، ترکی کے شام سے ملحقہ حصے اور عراق پر مشتمل ہیں۔ سریانی زبان کی بولیوں کے دو بڑے گروپ ہیں: مشرقی اور مغربی۔ اسلامی فتوحات کے نتیجے میں سریانی زندہ زبان کی حیثیت سے استعمال میں نہیں رہی اور عربی نے اس کی جگہ لے لی۔ اب یہ الگ تھلگ ٹکڑوں میں اکثریت سے اختلاف رائے رکھنے والے چند ایک کلیسیاؤں میں مذہبی عبادت کی زبان کے طور پر باقی ہے۔ ... قدیم سریانی تراجم پشیتا سے پہلے کے تراجم ہیں۔ عام استعمال میں پشیتا نے ان کی جگہ لے لی ہے اور اب ان کے کچھ اجزا ہی باقی رہ گئے ہیں۔''


ہارپرز بائبل ڈکشنری میں فلپ ایل شولر نے بھی اس موضوع پریہی نقطۂ نظر پیش کیا ہے کہ عہد نامۂ جدید کی کتابیں رائج الوقت عوامی یونانی زبان میں لکھی گئیں:


''The NT books were written in Koine Greek, the language of that day.'' (Harper's B. D., Gen. Ed. Paul J. Achtemeier, Bangalore, Theological Publications in India, 1994, p. 1042)


''عہد نامۂ جدید کی کتابیں اس دور کی مروجہ زبان یونانی کوائنی میں لکھی گئی تھیں۔ ''


یہی مصنف مزید لکھتا ہے:


''One of the first efforts to render the Greek Gospel into Syriac was that of Tatian, who produced what has come to be called the Diatessaron . ... He wove the four Gospels together into one continuous account. It came to be known in the East as the "mixed" Gospel. The whole work had some fifty-five chapters, and that suggests that the Diatessaron was designed to be read in the churches. The Diatessaron became very popular and was translated into a number of other languages (Persian, Arabic, ... In 1933, a fragment of the Diatessaron in Greek was discovered and so there has been some debate on whether the "harmony" was made first in Greek and then translated into Syriac or whether it was made in Syriac to begin with.


For some time, the Diatessaron circulated side by side with other Syriac translations of the Gospels, known as the Old Syriac vss. ... As time went on, the Old Syriac vs was superseded by the Peshitta.


The Peshitta (Syriac, "simple") was prepared in the early part of the fifth century and became the standard version of the Syriac church. ...


In A.D. 509, Philoxenus, bishop in eastern Syria, asked a certain Polycarp to revise the Peshitta. His effort was in turn revised again in 616 by Thomas Harkel. ... There is also the Palestinian Syriac vs in the Aramaic dialect of Christians in Palestine.'' (Harper's B. D., Gen. Ed. Paul J. Achtemeier, op.cit., pp. 1047, 48)


''یونانی انجیلوں کا سریانی میں ترجمہ کرنے کی اولین کوششوں میں سے ایک کوشش طاشیئن کی تھی، جس نے ڈایاٹسران نامی کتاب تخلیق کی۔... اس نے چار انجیلوں کو یکجا مربوط کرکے ایک مسلسل بیان کی شکل دے دی۔ مشرق میں اسے 'مخلوط' انجیل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ ساری کتاب کے کوئی پچپن ابواب تھے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ڈایا ٹسران کلیسیاؤں میں تلاوت کے لیے مرتب کی گئی تھی۔ ڈایا ٹسران نے بہت قبولیت عامہ حاصل کی اور اس کا متعدد دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا (فارسی، عربی، لاطینی، ولندیزی،عہد وسطی کی جرمن، قدیم اطالوی، اور درمیانے دورکی انگریزی)۔ ۱۹۳۳ء میں ڈایاٹسران کا یونانی زبان میں ایک ٹکڑا دریافت ہوا جس کے نتیجے میں یہ بحث چل نکلی کہ کیا یہ ' انجیلوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے والی کتاب' کا پہلے یونانی میں لکھ کر پھر سریانی میں ترجمہ کیا گیا تھا یا یہ شروع ہی سے سریانی میں لکھی گئی تھی ]واضح رہے کہ ڈایا ٹسٹران بذات خود کوئی ایسی انجیل نہیں جو مسیحیوں کی مسلمہ بائبل (عہد نامۂ جدید) میں باقاعدہ شامل ہو۔ یہ تو چاروں انجیلوں کے بعض اجزا کاایک تقابلی مطالعہ ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ شروع میں یونانی میں لکھا گیا اور بعد میں اس کا سریانی میں ترجمہ کیا گیا، یا یہ شروع ہی سے سریانی میں لکھا گیا۔ اتنی بات صاف واضح ہے کہ اصلاً یہ یونانی زبان میں لکھی گئی اناجیل سے مرتب کیاگیاہے بہرحال یہ یونانی سے ترجمہ ہے اس کی اصل سریانی ہرگز نہیں[۔


کچھ وقت تک تو ڈایاٹسران انجیلوں کے ان دوسرے سریانی تراجم کے پہلو بہ پہلو زیر استعمال رہی جنھیں قدیم سریانی تراجم کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔... جوں جوں وقت گزرتا گیا، پشیتا قدیم سریانی تراجم کو ختم کرکے ان کی جگہ لیتی رہی۔


پشیتا پانچویں صدی عیسوی کے ابتدائی حصے میں تیار کی گئی تھی اور یہ سریانی کلیسیا کا اسٹینڈرڈ ورژن (معیاری و مستند ترجمہ) بن گئی۔...


۵۰۹ عیسوی میں مشرقی شام کے بشپ فلوکسینس نے پولی کارپ نامی ایک شخص کو پشیتا کی نظر ثانی کے لیے کہا۔ آگے چل کر اس کی اس کاوش پر ۶۱۶ ء میں تھامس آف ہرقل نے دوبارہ نظر ثانی کی ۔...فلسطینی مسیحیوں کی آرامی بولی میں بھی فلسطینی سریانی کا ایک ترجمہ موجود ہے۔''


سر فریڈرک کینین اپنی کتاب 'ہماری بائبل اور قدیم مسودات' میں لکھتے ہیں:


''Several Arabic versions are known to exist, some being translations from the Greek, some from Syriac, and some from Coptic, while others are revisions based upon some or all of these. None is earlier than the seventh century, perhaps none so early; and for crirtical purposes none is of any value.'' (Sir Frederic Kenyon, Our Bible and the Ancient Manuscripts, NY, Harper and Brothers: Publishers, 1951, p.170)


''یہ بات معروف ہے کہ متعدد عربی تراجم بھی موجود تھے۔ ان میں سے بعض کا یونانی زبان سے ترجمہ کیا گیا تھا، بعض کا سریانی سے اور بعض کا قبطی سے، جبکہ دوسرے تراجم ان میں سے بعض یا تمام کی نظر ثانی پر مبنی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ساتویں صدی سے پہلے کا نہیں،بلکہ شاید کوئی بھی زیادہ قدیم نہیں اور ان میں سے کسی کی بھی تنقیدی مقاصد کے سلسلے میں کوئی قدروقیمت نہیں۔''


ایف ایف بروس اپنی کتاب 'دی بکس اینڈ دی پارچمنٹس' میں ر قم طراز ہیں:


''Aramaic remained the vernacular tongue of Palestine, as well as Syria and other adjoining territories, until the Arab conquest of these lands in the seventh century A.D. It was thus the language commonly spoken in Palestine in NT times, the customary language of our Lord and His apostles and the early Palestine church.'' (F. F. Bruce, The Books and the Parchment, London, Pickering & Inglis Ltd., 1963, p. 56)


''آرامی زبان فلسطین ، شام اور اس سے ملحق دوسرے علاقوں کی ساتویں صدی عیسوی میں عربوں کے ہاتھوں فتوحات تک ان علاقوں کی روزمرہ کی مقامی زبان کی حیثیت سے موجود رہی ۔ اس طرح یہ ایک ایسی زبان تھی جو عہد نامۂ جدید کے دور میں فلسطین میں عام طور پر بولی جاتی تھی اور ہمارے خداوند (حضرت عیسیٰ )، ان کے حواریوں اور ابتدائی فلسطینی کلیسیا کی روزمرہ کی زبان تھی۔ ''


اوپر جو کچھ پیش کیا گیا ہے،اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ابتداءً کوئی بھی انجیل سریانی زبان میں نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ ضرورت کے تحت اولاً دوسری صدی عیسوی میں اس کا سریانی میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ بعد میں پانچویں، چھٹی، ساتویں صدی عیسوی میں بھی انجیل /عہد نامۂ جدید کے سریانی زبان میں مختلف تراجم وجود میں آئے۔ ظاہر ہے کہ اگر بائبل کا عہد نامۂ جدید (انجیل وغیرہ) سریانی زبان میں لکھا گیا تھا تو پھر اس کا سریانی میں 'ترجمہ'کرنے کی کیا ضرورت تھی۔


جناب محمد اسلم صدیق صاحب نے یہ جو لکھا ہے:'حقیقت یہ ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ یا ان کے حواری اور ابتدائی متبعین یونانی زبان جانتے تھے۔ ' تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اوپر کوئی تیس چالیس حوالوں سے یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ 'حضرت عیسیٰ، ان کے حواری اور ابتدائی متبعین یونانی زبان جانتے تھے۔' اب بھی کوئی شخص یہ کہتا رہے کہ ''اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ یا ان کے حواری اور ابتدائی متبعین یونانی زبان جانتے تھے '' تو :


کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!


اور یہ جو فرمایا گیا ہے :


''اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار نے Jewish Ency ۹/۲۴۷ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ Papias جو دوسری صدی میلادی کے اوائل کا ماخذ ہے، بتاتا ہے کہ متی نے مسیح کے ملفوظات کا مجموعہ کسی تاریخی ترتیب کے بغیر عبرانی (یا آرامی) زبان میں تیار کیا تھا اور مرقس نے متفرق طور پر پطرس حواری سے جو کچھ سنا تھا، اسے مرتب کیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ پطرس کی زبان بھی یونانی نہیں تھی، بلکہ عبرانی اور آرامی آمیز سریانی ہی تھی تو واضح ہوا کہ متی اور مرقس کے صحیفے یونانی زبان میں نہیں لکھے گئے تھے۔ ''


تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ شوشہ صرف پاپیاس نے چھوڑا تھا کہ متی نے اپنی انجیل آرامی زبان میں لکھی تھی۔ آگے چل کر جس نے بھی یہ بات کہی ہے ، اس نے یا تو پاپیاس کے حوالے سے کہی ہے یا اس کا ماخذ پاپیاس ہے۔ لیکن کسی بھی صاحب تحقیق عالم نے پاپیاس کی یہ بات قبول نہیں کی۔ اگر کسی نے پاپیاس کے ساتھ رعایت کا سلوک کیا ہے، تو اس نے بھی بس یہی بات کہی ہے کہ غالباً پاپیاس کی مراد یہ تھی کہ ابتدا میں متی نے حضرت عیسیٰ کے حوالے سے کچھ یادداشتیں مختصر طور پر آرامی زبان میں لکھ لی تھیں ، لیکن بعد میں جب اس نے موجودہ انجیل لکھی ،تو وہ یونانی ہی میں تھی۔ہم اس کی وضاحت اوپر تفصیل سے بیان کر چکے ہیں،اس لیے یہاں اس کے متعلق مزید کچھ لکھنا تحصیل حاصل ہے۔ باقی رہا معاملہ انجیل مرقس کا تو جو کچھ اس سلسلے میں لکھا گیا ہے،وہ محض مغالطہ آرائی ہے۔ یہ بات تو کسی حد تک درست ہے کہ انجیل مرقس کا ماخذ پطرس حواری ہے اور یہ بھی درست ہے کہ پطرس آرامی زبان جانتا تھا ، لیکن یہ بات درست نہیں کہ مرقس نے اپنی انجیل یونانی میں نہیں، بلکہ آرامی میں لکھی تھی۔اس سلسلے میں بھی اوپر حوالہ گزر چکا ہے۔ باقی رہا جناب مضمون نگار کا یہ ارشاد : 'نیز اردو دائرۂ معارف اسلامی کے مقالہ نگار نے The Birth of Christ, Alfred Loisey Religion صفحہ ۳۶۶ تعلیقہ ۶۰ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یوحنا کی انجیل آرامی میں تحریر تھی۔ ' تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ یہ صرف چند لوگوں کی بے بنیاد اور بے دلیل رائے ہے۔ اس انجیل کی اندرونی اور لسانی شہادت اور معتبر صاحب تحقیق نقادان فن کی دو ٹوک رائے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ یونانی زبان میں لکھی گئی تھی۔اس سلسلے میں صرف ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے (اگرچہ اوپر سارے عہد نامۂ جدید کے یونانی میں لکھے جانے کے سلسلے میں متعدد اقتباس دیے جا چکے ہیں اور انجیل یوحنا عہد نامۂ جدید کا ایک حصہ ہے، لہٰذا ظاہر ہے کہ وہ بھی یونانی ہی میں لکھی گئی تھی):


''Some (Wellhausen, Burney, Torrey) have suggested that John is a translation of an Aramaic original; the majority of scholars have not accepted this proposal, since the Greek is not evidently a translation. There are some Hebrew and Aramaic words which are interpreted (1:38, 41f; 4:25; 5:2; 9:7; 19:17; 20:16, 24). Boismard cautiously concludes that while it is too much to say that the entire Gospel had an Aramaic orignal, it is possible that parts of it may have been composed in Aramaic.'' (John L. McKenzie, D.B. op. cit., p. 447).


''بعض (ویلہاسن، برنی، ٹوری) نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ انجیل یوحنا کسی آرامی الاصل کتاب کا ترجمہ ہے۔ علما کی اکثریت نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا، کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس انجیل کی یونانی زبان کسی طرح بھی ترجمہ نظر نہیں آتی۔البتہ اس میں کچھ عبرانی اور آرامی الفاظ ضرور موجود ہیں جن کا ترجمہ کر دیا گیا ہے (1:38, 41f; 4:25; 5:2; 9:7; 19:17; 20:16, 24). [اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔علمی دنیا میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک زبان کی کتاب میں کسی دوسری زبان کے الفاظ نقل کر دیے جاتے ہیں]۔ بوائسمرڈ نے بڑے احتیاط سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اگرچہ یہ کہنا بہت زیادہ [مشکل] ہے کہ پوری انجیل یوحنا اصلاً آرامی زبان میں لکھی گئی تھی، تاہم اس بات کا امکان ہے کہ اس کے کچھ اجزا آرامی زبان میں ترتیب پائے ہوں۔''


جہاں تک Q کا تعلق ہے اس سلسلے میں بھی اوپر وضاحت موجود ہے، تاہم اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ Qکا واقعی کوئی وجود تھا اورکسی صاحب 'نے بڑی دانش مندی سے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ Q کا اصل نسخہ آرامی زبان میں تھا۔' (محدث صفحہ ۱۲۹ سطر ۶۔۷)، تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ اصل انجیلیں بھی آرامی زبان میں لکھی گئی تھیں، جبکہ اوپر بیسیوں حوالوں سے یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ انجیلیں ابتداءً یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں۔


جناب محمد اسلم صدیق صاحب نے ایک غیر متعلق اور عجیب سا اعتراض بھی کیا ہے۔ اگرچہ اس کا جواب دینے کی ضرورت تو نہیں، تاہم اسے درج کر کے اس پر مختصر تبصرہ بھی کیا جا رہا ہے:


''نیز اس نے لکھا ہے کہ 'محرف مسیحی ادب' میں ایک انجیل یہودیہ ہے، یہ مغربی آرامی زبان میں تھی اور یہ انجیل مسیحیوں کے ابتدائی فرقوں میں سے ناصریوں اور ابیاتیوں میں دوسری صدی کے نصف ۱۵۰ء تک رائج رہی، بعد میں ان فرقوں کی تباہی کے ساتھ یہ انجیل بھی گم ہو گئی۔ اور یونانی تراجم کی ابتدا یقیناًاس کے بعد ہوئی۔''


بات یہاں کسی خارج از عہد نامۂ جدید' محرف مسیحی ادب' کی نہیں ہو رہی،بلکہ یہاں تو زیر بحث صرف وہ انجیلیں ہیں جو عہد نامۂ جدید میں موجود ہیں اور جنھیں مسیحی حضرات قانونی اور مستند کتابیں مانتے ہیں۔ محترم مضمون نگار نے بات کو پھیلا کر اس سے جو یقینی نتیجہ نکالا ہے اس کے متعلق بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ 'ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ'! آخری دو پیروں میں محترم مضمون نگار نے انجیل برناباس کے حوالے سے بات کی ہے۔اس سلسلے میں گزارش ہے کہ ہمارے یہاں سے شائع ہونے والے انگریزی ماہنامے رینی ساں (Reanaissance)میں اس موضوع پر میرے ایک مضمون کی تین اقساط شائع ہو چکی ہیں۔ اگر محترم مضمون نگار ان پر نظر ڈال کر کچھ فرمانا چاہیں تو بات زیادہ مناسب ہوگی۔


جہاں تک امام قسطلانی اور علامہ عینی کی تشریحات کا تعلق ہے تو اس پر ایک مستقل مضمون میں گفتگو کی جا سکتی ہے، جس کی فی الحال ضرورت محسوس نہیں ہوتی، تا ہم چند جملوں میں بات سمیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ کے زمانے میں فلسطین میں آرامی زبان بھی بولی جاتی تھی اور یونانی بھی۔ یونانی زبان کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی ،اس لیے دفاتر، چھاؤنیوں، تجارتی مراکز اور عدالتوں میں اس کا چلن زیادہ تھا۔ حضرت عیسیٰ کی اپنی زبان آرامی تھی اور سریانی بھی اسی کی ایک ذیلی بولی تھی۔ اس دور میں سریانی آہستہ آہستہ آرامی زبان کی جگہ لینے لگی تھی۔ لیکن چونکہ سریانی اور آرامی میں کوئی جوہری فرق نہ تھا، اس لیے آرامی اور سریانی کے الفاظ ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر بھی استعمال ہوتے تھے۔ انجیل ابتداءً تو یونانی زبان ہی میں لکھی گئی تھی، لیکن ضرورت کے تحت بعد میں اس کا سریانی زبان میں بھی ترجمہ کر دیا گیاتھا۔ سریانی ترجمہ انجیل کے بالکل ابتدائی تراجم میں شامل ہے۔ سریانی زبان عربی زبان سے بہت قریب ہے اور عربوں کے لیے اسے سمجھنا کوئی بہت زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ تھوڑی سی محنت کے ذریعے سے اس کی واقفیت حاصل کرلینا ممکن تھا ۔ اس لیے سرزمین عرب کے اہل علم کی رسائی سریانی انجیل تک زیادہ مشکل نہ تھی۔ اوپر یہ بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ ابتداءً انجیل کا عربی ترجمہ سریانی ہی سے کیا گیا تھا، اگرچہ بعد میں بعض دوسری زبانوں سے بھی انجیل کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ اس طرح یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ ان بزرگوں نے سریانی ہی کو انجیل کی اصل زبان سمجھ لیا ہو۔ یہ اس لیے بھی ممکن ہے کہ ان بزرگوں کا مرکز تحقیق یہ علوم نہ تھے۔ کبھی ضرورت محسوس ہوئی تو اس موضوع پر بھی تفصیل سے لکھ دیا جائے گا۔' ان شاء اللّٰہ وبتوفیقہٖ ذالک ما عندی والعلم عنداللّٰہ اللہم ارنا حقائق الاشیاء کما ھی۔


(حوالہ:http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/injil-ki-zuban-yonani-ya-suryani-2)

انجیل کی زبان؛ یونانی یا سریانی (حصہ اول)


عبد الستار غوری 

موقر جریدے ''الاعتصام'' کی اشاعت ۳۴/۵۷ (برائے ۲ تا۸ ستمبر ۲۰۰۵) میں کسی صاحب نے سوال کیا تھا کہ 'کیا ''سریانی'' نام کی کوئی زبان ہے؟' اس کا جواب قابل احترام بزرگ عالم دین مولانا ثناء اللہ خان مدنی نے دیا تھا۔ جواب کا پہلا فقرہ تھا: 'سریانی' مستقل زبان کا نام ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے، یہ جواب بالکل درست بھی ہے اور کافی بھی، لیکن مولانا نے اتنی بات پر اکتفا نہیں کیا۔ مولانا مدنی لکھتے ہیں:


' 'ارشاد الساری شرح بخاری(۱/۶۵) میں ہے: 'وقیل أن التورٰۃ عبرانیۃ والانجیل سریانی'۔ '' کہا جاتا ہے کہ تورات عبرانی اور انجیل سریانی زبان میں تھی۔''


مولانا مزید لکھتے ہیں:


''حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے:(أن النبیﷺأمرہ أن یتعلم السریانیۃ) کہ 'نبی ﷺ نے ان کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم فرمایا تھا۔'(فتح الباری ۱۳/۱۸۶) امام ترمذی نے اس حدیث پر یوں باب قائم کیا ہے: باب ما جاء فی تعلیم السریانیۃ۔


عربانی [غالباً یہاں 'عربی' ہونا چاہیے تھا] زبان کی اصل سریانی ہے، جس طرح کہ فاکہی نے اخبار مکہ میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے اس امر کی تصریح کی ہے۔''


مولانا نے ارشاد الساری شرح بخاری کے حوالے سے جو بات کہی تھی وہ حوالے کی حد تک تو صحیح تھی، لیکن واقعہ کے اعتبار سے صحیح نہیں تھی۔ مولانا سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیاتو انھوں نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ لکھ دیجیے۔ اس کے جواب میں ایک مختصر سا مضمون 'سریانی اور ارامی زبان کے بارے میں وضاحت' قلم برداشتہ لکھ دیا گیا۔ یہ مضمون ''الاعتصام'' کو بھی بھجوایا گیا اور ''محدث'' کو بھی۔ لیکن کسی نے بھی اس کی اشاعت مناسب نہ سمجھی۔ چنانچہ اسے ماہنامہ ''اشراق''میں اشاعت کے لیے دے دیا گیا۔ جہاں یہ دسمبر ۲۰۰۵ کی اشاعت میں صفحہ ۳۳ تا۳۶ پر شائع ہوا۔ اس کے جواب میں ماہنامہ ''محدث'' کی اشاعت مارچ ۲۰۰۶ میں صفحہ ۱۲۳ تا ۱۲۹ پر جناب محمد اسلم صدیق صاحب کا ایک مضمون 'انجیل کی زبان؛ ایک ناقدانہ جائزہ' شائع ہوا۔ زیر نظر مضمون اسی کے جواب پر مشتمل ہے۔


جناب محمد اسلم صدیق لکھتے ہیں:


'' انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۵۰ء، ۳/۵۲۲) میں ہے کہ: ''مسیح اور آپ کے حواری نسلاً اور مذہباً اسرائیلی تھے اور ان کی مادری اور مذہبی زبان عبرانی تھی یا مغربی آرامی۔''[یہ بات ایک حد تک درست ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور آپ کے حواریوں کی مذہبی زبان عبرانی اور مادری زبان ارامی تھی۔ لیکن آگے جا کر جناب اسلم صدیق صاحب نے جو نتیجہ نکالا ہے کہ انجیل کی ممکنہ اصل پانچ زبانوں میں سے ایک عبرانی تھی، اس کی کیا بنیاد ہے۔ یہاں کہا یہ گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور آپ کے حواریوں کی مادری زبان ارامی تھی اور مذہبی زبان عبرانی۔ اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ انجیل کی زبان عبرانی تھی۔] ( Jesusصفحہ ۴۸) امریکہ کے یونین کالج میں عبرانی کے پروفیسرMoss Buttenwieser کے بقول حضرت عیسیٰ کے دور میں آرامی زبان بولی جاتی تھی [یہاں بھی وہی بات کہی گئی ہے جو میں نے کہی ہے۔ اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ انجیل ارامی زبان میں لکھی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں ارامی زبان بولی جانا اور بات ہے اور انجیل کا اس زبان میں لکھا جانا ایک دوسری بات ہے۔] مغربی مفکر Renen کے نزدیک حضرت عیسیٰ کی مادری، مذہبی اور وطنی زبان عبرانی آمیز سریانی تھی۔


نیز اردو دائرۂ معارف اسلامیہ (پنجاب یونیورسٹی) کے مقالہ نگار نے مادّہ انجیل کے تحت لکھا ہے ]زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے[ کہ انجیل کی زبان آرامی یا ارامی کی کوئی شاخ تھی۔ علامہ بدر الدین عینی نے صحیح بخاری کی حدیث کے الفاظ( کان ورقۃ بن نوفل یکتب الکتاب فیکتب من الانجیل بالعبرانیۃ)کے تحت لکھا ہے کہ: قال التیمی: الکلام العبرانی ہو الذی انزل بہ جمیع الکتب کالتوراۃ والانجیل ونحو ھما وقال الکرمانی: فہم منہ أنّ الانجیل عبرانی، قلت لیس کذلک، بل التوراۃ عبرانیۃ والانجیل سریانی (عمدۃ القاری ۱/۵۲)۔ ''امام تیمیؒ کہتے ہیں کہ عبرانی وہ کلام (زبان) ہے جس میں تورات انجیل وغیرہ کتب کو نازل کیا گیا تھا۔ امام کرمانی کہتے ہیں کہ اس سے سمجھ آتا ہے کہ انجیل عبرانی زبان میں تھی۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ تورات عبرانی میں تھی اورانجیل سریانی زبان میں تھی۔''[امام کرمانی نے یہ تو ٹھیک کیاکہ امام تیمی کی اس غلطی کی نشان دہی کر دی کہ انجیل عبرانی زبان میں تھی، لیکن اس کی اصلاح کے طور پر جو یہ لکھا کہ 'یہ بات درست نہیں ،بلکہ تورات عبرانی میں تھی اور انجیل سریانی زبان میں تھی۔' تو یہ بات خلاف واقعہ ہے کیونکہ انجیل سریانی زبان میں نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ سریانی میں تو اس کا یونانی زبان سے ترجمہ کیا گیا تھا۔] اور مولانا مودودی ؒ نے اپنی کتاب 'نصرانیت قرآن کی روشنی میں' ص ۹۲ پر صاف لکھا ہے کہ ''حضرت عیسیٰ اور ان کے تمام حواریوں کی زبان سریانی تھی۔''[اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ انجیل سریانی میں لکھی گئی تھی؟]


مذکورہ وضاحت کی روشنی میں انجیل کی اصل زبان کے متعلق پانچ آراء ہمارے سامنے آتی ہیں: عبرانی، سریانی، عبرانی آمیز سریانی، آرامی یا آرامی کی کوئی شاخ۔ ان مختلف آرا سے کم از کم یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ انجیل کی زبان کو آرامی قرار دینے کا جو بلند وبانگ ] بلند بانگ[ دعویٰ کیا گیا ہے، وہ کوئی مسلمہ حقیقت نہیں رکھتا۔[میں نے اپنی تحریر میں کسی جگہ یہ ''بلندو بانگ دعویٰ '' نہیں کیا ،بلکہ اس کے برعکس میں نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ انجیل کی زبان یونانی تھی، جبکہ حضرت عیسیٰ کی زبان ارامی تھی اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ پر کلام الہٰی ان کی اپنی زبان ہی میں نازل ہوا ہوگا، جیسا کہ آپ نے خود فرمان الہٰی نقل کیا ہے : ''وما ارسلنا من رسولٍ الا بلسان قومہٖ]''


جناب محمد اسلم صدیق صاحب نے اس عبارت میں بڑی حد تک اپنا استدلال پیش کر دیا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے حوالے سے جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں کافی اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن اس پر کلام اس وجہ سے مناسب نہیں لگتا کہ یہ طوالت کا موجب ہو گا۔ اس لیے اس سے صرف نظر ہی بہتر ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار نے یہ سب کچھ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ہی کے اعتماد پر قلم بند کیا ہے اور اصل انگریزی ماخذ خود دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی۔ انگریزی الفاظ کے ہجے نقل کرنے میں کافی بے احتیاطی برتی گئی ہے۔ مثلاً Mosesکو Mossلکھا گیا ہے۔ اس طرح کی اغلاط مضمون میں آگے بھی موجود ہیں مثلاً Semiticکو Semticلکھا گیا ہے، ایرانی شہنشاہ Cyrus کو ہر جگہ Cyprusلکھا گیا ہے اورAprocryphalکو Procryphal لکھا گیا ہے۔

جناب اسلم صدیق صاحب نے اپنے مضمون میں میری تحریر سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ ایک غیر متعلق بات معلوم ہوتی ہے۔ میں نے اپنی تحریر میں کہیں یہ ''بلند وبانگ'' دعویٰ نہیں کیاکہ انجیل کی زبان آرامی تھی بلکہ میں نے تو لکھا تھا ''انجیل ابتدا ہی سے یونانی (Greek) زبان میں لکھی گئی تھی، جب کہ حضرت مسیح کی زبان آرامی (Aramaic) تھی اور انھوں نے اپنے مواعظ وبشارات اسی آرامی زبان میں ارشاد فرمائے تھے۔'' (اشراق ۳۳)۔ عجیب بات ہے کہ فاضل تنقید نگاراتنی سادہ سی بات کیوں نہ سمجھ سکے۔ میں نے تو انجیل کی زبان کوکہیں بھی ارامی قرار نہیں دیا، بلکہ یہ کہاہے کہ انجیل کی زبان یونانی تھی۔ البتہ میں نے اس بات کی تردید کی تھی کہ انجیل کی اصل زبان سریانی تھی۔ میں نے تو یہ بھی لکھا تھا کہ'' لیکن ان (حضرت مسیح) کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامۂ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں، وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں (یعنی ارامی زبان میں) نہیں لکھے گئے تھے۔ ... اور وہ شروع ہی سے یونانی زبان میں لکھے گئے تھے۔''(اشراق ۳۳۔۳۴)۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جناب اسلم صدیق صاحب نے یہ دعویٰ کیوں اور کیسے کیا کہ ''انجیل کی زبان کو ارامی قرار دینے کا جو' 'بلند وبانگ''دعویٰ کیا گیا ہے وہ کوئی مسلمہ حقیقت نہیں رکھتا۔'' میں نے تو مضمون میں کہیں بھی 'انجیل کی زبان کو آرامی' قرار نہیں دیا۔ ہاں، میں نے حضرت عیسیٰ کی زبان ضرور آرامی بتائی ہے۔ مضمون کے آخر میں ایک نوٹ لکھاگیا ہے: ''اس تحریر کو جان بوجھ کر حوالوں سے گراں بار نہیں کیا گیا۔'' لیکن جناب اسلم صدیق صاحب کے 'ایک ناقدانہ جائزے' کو دیکھ کر اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ اصل حقیقت ظاہر کرنے کے لیے کچھ مستند حوالہ جات پیش کر ہی دیے جائیں۔ چنانچہ ذیل میں پہلے کچھ حوالے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انجیل ابتدا ہی سے یونانی (Greek) زبان میں لکھی گئی تھی، جبکہ حضرت مسیح کی] اپنی بول چال کی [زبان آرامی (Aramaic) تھی۔ یہ حوالے بائبل کی مختلف نقطۂ نظر پر مشتمل اور مختلف ادوار میں لکھی گئی تفسیروں، بائبل کے تعارف وتواریخ پر مبنی کتب اور عالمی سطح پر مسلمہ انسائیکلو پیڈیاز سے ماخوذ ہیں:


دی لرننگ بائبل میں تحریر ہے:


''The New Testament books were written in Greek, an International language during this period of the Roman Empire. ''(The Learning Bible, Ed. Howard Clerk Kee, etc., CEV, NY., American Bible Society, 2000, p.13).


''عہد نامۂ جدید کی کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں، جواس دور کے رومن امپائر میں ایک بین الاقوامی زبان تھی۔''


اسی کتاب میں مزید بیان کیا گیا ہے:


''Though Jesus and his disciples spoke Aramaic, the books of the New Testament were first written in the "everyday" Greek of that time. The New Testament writers also were familiar with the Greek translation of the Jewish scriptures (called the Septuagint). A number of quotations found in the New Testament come directly from the Greek translation, while others were translated into Greek from the Hebrew of the Jewish Scriptures. ... The earliest copy of the entire Greek New Testament dates from the fourth century, and the earliest fragment of a New Testament book dates from around A. D. 125. Also of value to Biblical scholars are early translations of New Testament writings into Coptic, Syriac, and Latin.'' (The Learning Bible, op.cit., p. 1732)


''اگرچہ حضرت عیسیٰ اور ان کے حواری ارامی زبان بولتے تھے، لیکن عہد نامۂ جدید کی کتابیں شروع ہی سے اس دور کی روز مرہ کی یونانی میں لکھی گئی تھیں۔ عہد نامۂ جدید کے مصنفین یہودی صحیفوں کے یونانی ترجمے (جسے ہفتادی ترجمہ کہا جاتا تھا) سے بھی آشنا تھے۔ عہد نامۂ جدید میں پائے جانے والے متعدد اقتباسات اس یونانی ترجمے سے براہ راست نقل کیے گئے ہیں جبکہ بعض دوسرے اقتباسات یہودی صحیفوں کو عبرانی سے یونانی میں ترجمہ کر کے درج کیے گئے تھے۔ ...مکمل یونانی عہد نامہ جدید کی قدیم ترین کاپی چوتھی صدی سے تعلق رکھتی ہے اور عہد نامۂ جدید کی ایک کتاب کا قدیم ترین ٹکڑا ۱۲۵ عیسوی کے لگ بھگ کا ہے۔ عہد نامۂ جدید کی تحریروں کے قبطی، سریانی اور لاطینی میں ابتدائی تراجم بھی بائبل کے علما کے لیے بڑی قدرو قیمت رکھتے ہیں۔''


ریڈرز بائبل میں بیان کیا گیا ہے کہ عہد نامۂ جدیدابتدا ہی سے عام روز مرہ کی یونانی زبان کوائنی میں لکھا گیا تھا:


''All the books of the New Testament were originally written in koine, the everyday Greek of the time, which was spoken by most peoples of the Roman Empire. The various books show different levels of competence in koine, the most highly literary being the Letter to the Hebrews and I Peter. Least polished are the Gospel of Mark and Revelation. As scholars have shown, certain turns of expression in the Greek of the Gospels reflect traces of an underlying Aramaic idiom, which was the mother tongue of Jesus and his disciples.'' (The Reader's Bible, Ed. Bruce M. Metzger, London, The Reader's Digest Association, 1995, p.17)

''عہد نامۂ جدید کی تمام کتابیں اصلاًکوائنی میں لکھی گئی تھیں جو اس زمانے کی روز مرہ محاورے کی یونانی زبان تھی اورجسے رومن امپائر کے اکثر لوگ بولتے تھے۔ مختلف کتابوں سے کوائنی کی مہارت کی مختلف سطحیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں ادبی لحاظ سے سب سے زیادہ بلند مقام ''عبرانیون'' اور ''۱۔پطرس'' کو حاصل ہے۔سب سے کم تر درجہ انجیل مرقس اور مکاشفے کا ہے۔ جیسا کہ علما نے واضح کیا ہے انجیلوں کی یونانی زبان میں اظہار کی بعض صورتوں سے ان کی بنیاد میں جاری وساری آرامی محاورے کے نشانات کی عکاسی ہوتی ہے، جو حضرت عیسیٰ اور ان کے حواریوں کی مادری زبان تھی۔''


نیو آکسفرڈ اینوٹیٹڈ بائبل میں لکھا گیا ہے کہ انجیلیں حضرت عیسیٰ کی وفات کے چالیس سے ساٹھ سال بعد لکھی گئی تھیں۔اور اگرچہ حضرت عیسیٰ اور ان کے حواری آرامی زبان بولتے تھے، لیکن انجیلیں روز مرہ کی یونانی زبان کوائنی میں لکھی گئی تھیں:


''Scholars generally agree t hat the Gospels were written forty to sixty years after the death of Jesus. They thus do not present an eyewitness or contemporary account of Jesus' life and teaching. Even the language has changed. Though Greek had become the common language used between groups whose primary languages were different in the eastern Roman Empire and inscriptions and fragments of Greek translations of the Hebrew Bible show that Greek was used even among Jews within Judea, Jesus, his disciples, and crowds would have spoken Aramaic. Despite scholarly efforts to detect an underlying Aramaic original for Mark or Matthew, it is probable that all the evangelists wrote in the common ("koine") Greek of their day.'' (The New Oxford Annotated Bible III Edition, Ed. Michael D. Coogan, Oxford University Press, 2001, p. 4 [NT])


''علما بالعموم اس بات پر متفق ہیں کہ انجیلیں حضرت عیسیٰ کی وفات کے چالیس سے ساٹھ سال بعد کے دوران میں لکھی گئی تھیں۔ اس طرح وہ حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیم کی کوئی معاصرانہ تفصیل یا عینی شہادت پیش نہیں کرتیں۔ حتیٰ کہ زبان بھی بدلی ہوئی ہے۔ مشرقی رومن امپائر میں یونانی ایک عمومی زبان بن چکی تھی اور اسے وہ لوگ آپس میں استعمال کرتے تھے، جن کی ابتدائی زبانیں مختلف تھیں۔ کتبوں اورعبرانی بائبل کے یونانی تراجم کے ٹکڑوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونانی زبان یہودیہ کے اندر یہودیوں میں بھی مستعمل تھی اور حضرت عیسیٰ، ان کے حواری اور عوام الناس ارامی زبان بولتے ہوں گے۔ مرقس اور متی کی انجیلوں کی بنیاد میں موجوداصل ارامی زبان دریافت کرنے کی عالمانہ کوششوں کے باوجود امکان یہ ہے کہ تمام انجیل نگار اپنے دور کی عام بول چال کی یونانی زبان (کوائنی) میں لکھا کرتے تھے۔''


دی وکلف بائبل کمنٹری نے لکھا ہے کہ اگر چہ پاپیاس متی کی انجیل کے متعلق یہ کہتا ہے کہ اس کی یادداشتیں ابتداءً آرامی زبان میں لکھی گئی تھیں،(اور جب اسے صحیح شکل میں مدون کیا گیا، اس وقت اسے یونانی میں منتقل کر دیا گیا)، لیکن موجودہ انجیل کے یونانی متن میں اس طرح کے کسی ترجمے کے کوئی نشانات موجود نہیں ہیں:


''..., and also to the statement of Papias that "Matthew wrote the words in the Hebrew dialect, and each one interpreted as he could" (Eusebius Ecclesiastical History 3.39). Many have explained Papias' statement as referring to an Aramaic original from which our Greek Gospel is a translation. Yet our Greek text does not bear the marks of a translation, and the absence of any trace of an Aramaic original casts grave doubts upon this hypothesis. Goodspeed argues at lengeth that it would be contrary to Greek practice to name a Greek translation after the author of an Aramaic original, for Greeks were concerned only with the one who put a work into Greek. As examples he cites the Gospel of Mark (It was not called the Gospel of Peter) and the Greek Old Testament which was called the Septuagint (Seventy) after its translators, not after its Hebrew authors (E. J. Goodspeed, Matthew, Apostle and Evangelist, pp. 105, 106). Thus Papias is understood to mean that Matthew recorded (by shorthand?) the discourses of Jesus in Aramaic, and later drew upon these when he composed his Greek Gospel.'' (The Wycliffe Bible Commentary, Ed. Everett F. Harrison, Chicago, Moody Press, 1983, p. 929)


''...، پاپیاس کے اس بیان کے متعلق بھی کہ '' متی نے الفاظ عبرانی بولی میں لکھے تھے اور ہر ایک نے ان کا ایسا ترجمہ کیا، جیسا وہ کر سکتا تھا۔'' اکثر لوگوں نے پاپیاس کے بیان کی تشریح اس طرح کی ہے کہ اس میں ایک ایسی ارامی اصل کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے ہماری یونانی انجیل ترجمہ کی گئی ہے۔ لیکن ہمارے یونانی متن پر کسی ترجمے کے کوئی نشانات موجود نہیں۔ اور کسی ارامی اصل کے نشانات کی عدم موجودگی سے یہ مفروضہ سخت مشکوک بن جاتا ہے۔ گڈ سپیڈ نے اس بات کے تفصیلی دلائل دیے ہیں کہ یہ بات یونانی روایت کے سرا سر خلاف ہے کہ کسی یونانی ترجمے کا نام کسی ارامی اصل کے مصنف کے نام پر رکھا جائے، کیونکہ اہل یونان صرف اس سے غرض رکھتے تھے جس نے کسی کتاب کو یونانی زبان میں پیش کیا ہو۔ اس کے لیے وہ مرقس کی انجیل کی مثال پیش کرتا ہے (اسے پطرس کی انجیل نہیں کہا جاتا تھا) اور یونانی عہد نامہ قدیم کی مثال بھی پیش کرتا ہے، جسے اس کے مترجمین (کی تعداد) کی مناسبت سے 'ہفتادی' کہا جاتا تھا، نہ کہ اس کے عبرانی مصنفین کے نام پر۔ اس طرح سمجھ میں یہ آتا ہے کہ پاپیاس کا مطلب یہ تھا کہ متی نے (مختصر نویسی کے طریق پر) حضرت عیسیٰ کی باتیں ارامی زبان میں جمع کی تھیں اور بعد میں جب اس نے اپنی یونانی انجیل مدون کی، تو اس نے اپنی ان یاد داشتوں سے استفادہ کیا۔''


پیکس کی تفسیربائبل میں اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ کتابیں غالباً یقینی طور پر یونانی میں لکھی گئی تھیں، اگر چہ ان کے تمام مصنفین ارامی زبان بھی بولتے ہوں گے:


''The Language in which these records were originaly written is almost certainly Greek, though quite definitely their authors would almost all have spoken in Aramaic as well. In some cases it is possible that first drafts of their work were in Aramaic. .... After that, though the Romans conquered Greece, the Greek language conquered the Romans and followed them westwards. In the process, quite naturally, the old Attic was modified by the nations through which it spread, until it became a great universal language to which we have given the name of Koine, the cosmopolitan dialect in which many Greek dialects had some share but wherein Attic was the foundation of them all. Now scholars are in the main agreed that this language, especially in its more colloquial form, is that of the NT authors. ... New papyrus discoveries in Egypt seemed to reveal a type of Greek which was almost exactly that of the NT. .... In the Egyptian city during these centuries lived thousands of Jews who had left their own land and settled here, as well as in many other centres, for various reasons. Gradually they lost all knowledge of their Aramaic mother- tongue and could understand only Greek. For this reason, it seems that in middle of the third century B.C. the OT scriputres had to be translated from Hebrew into Greek. ... Granted that the Greek of the NT was the living language of the day, as it was both written and spoken, it should also be insisted that it was a language impregnated by the Bible, its Semitic idioms and thought-forms.'' (Peake's Commentary on the Bible, Ed. Matthew Black, London, Thomas Nelson and Sons Ltd., 1962, p. 659f)

''وہ زبان جس میں ابتدائی طور پر عام ریکارڈ لکھا گیا تھا غالباً یقینی طور پر یونانی ہے، تاہم یہ بات بھی بالکل یقینی ہے کہ اس ریکارڈ کے قریباً تمام مصنفین ارامی زبان میں بھی بات چیت کرتے تھے۔ ] اس کی مثال ہمارے ہاں پشاور میں دیکھی جاسکتی ہے: وہاں کے قریباً تمام شہری صدیوں سے دو مختلف زبانیں ہندکو اور پشتو روانی سے بولتے چلے آئے ہیں۔ بلکہ اکثر تو اس پر مستزاد اردو اور پنجابی بھی بڑی آسانی سے بول لیتے ہیں اور انگریزی وفارسی بھی۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بچہ ابتدائی چھ سالوں میں یکساں روانی اور مہارت کے ساتھ چھ زبانیں سیکھنے اور ادا کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے[۔ بعض صورتوں میں اس بات کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی تحریروں کا ابتدائی مسودہ ارامی زبان میں ہو۔... اس کے بعد اگرچہ رومیوں نے یونان کو فتح کر لیا، لیکن یونانی زبان نے رومیوں کو فتح کر لیا اور مغرب کی جانب ان کے تعاقب (اور ہمراہی) میں آگے بڑھتی رہی۔ بالکل فطری طور پر اس عمل کے دوران میں ایتھنز کی قدیم زبان کی ہیئت ان قوموں کے زیر اثر تبدیل ہوتی گئی جن میںیہ پھیلتی جا رہی تھی، یہاں تک کہ یہ عظیم عالمی زبان کی حیثیت اختیار کر گئی، جس کو ہم کوائنی کا نام دیتے ہیں ۔ یہ ایک عالمی بولی تھی جس میں یونانی زبان کی بہت سی بولیوں کا کچھ نہ کچھ حصہ تھا، لیکن ایتھنز کی بولی ان سب کی بنیاد میں شامل تھی۔ علما اس بات پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ یہ زبان، بالخصوص اپنی روز مرہ شکل میں، عہد نامۂ جدید کے مصنفین کی زبان تھی۔... ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں کاغذ (Papyrus)کی نئی دریافتیں یونانی زبان کی ایک ایسی صنف کی نشان دہی کر رہی ہیں جو تقریباً بعینہٖ عہد نامہ جدید کی زبان تھی ۔

ان صدیوں کے دوران میں اس مصری شہر میں ہزاروں یہودی رہایش پذیر تھے، جومتعدد اسباب کی بنا پر اپنی اصل سرزمین (فلسطین) چھوڑ کریہاں اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے مراکز میں آباد ہو گئے تھے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اپنی مادری زبان ارامی کا تمام علم فراموش کر دیا اور اب وہ صرف یونانی زبان ہی سمجھ سکتے تھے۔اس وجہ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط میں عہد نامۂ قدیم کے صحیفوں کا عبرانی سے یونانی زبان میں ترجمہ کرنا پڑا۔ ... مانا کہ عہد نامۂ جدید کی یونانی زبان اس دور کی زندہ زبان تھی، کیونکہ یہ لکھی بھی جاتی تھی اور بولی بھی،لیکن اس بات پر بھی زور دینا ضروری ہے کہ یہ ایک ایسی زبان تھی جس میں بائبل، اس کے سامی زبانوں کے محاورے اور فکری ہیئتیں رچی بسی ہوئی تھیں۔''


ڈملو کی تفسیر بائبل میں ہے:

''The New Testament was written in Greek.'' (A Commentary on the Holy Bible, Ed. The Rev. J. R. Dummelow, London, MacMillan and Co. Ltd., St. Martin's Street, 1956, p.xv)

''عہد نامہ جدید یونانی زبان میں لکھا گیاتھا۔''


فنک اینڈ ویگنلس انسائیکلو پیڈیا میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے کچھ دستاویزات کی پشت پر آرامی تحریریں تھیں، لیکن یہ تمام دستاویزات یونانی زبان ہی میں اشاعت پذیر ہوئی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ لکھی بھی یونانی ہی میں گئی تھیں:


''Although some have argued that Aramaic originals lie behind some of these documents (especially the Gospel of Matthew and the Epistle of the Hebrews), all have been handed down in Greek, very likely the language in which they were composed.


For a time, some Christian scholars treated the Greek of the New Testament as a special kind of religious language, providentially given as a proper vehicle for the Christian faith. It is now clear from extrabiblical writings of the period that the language of the New Testament is Koine, or common Greek, that which was used in homes and marketsplaces.'' (Funk & Wagnalls New Encyclopedia, Ed. Norma H. Dickey, USA, Funk & Wagnalls Inc., 1986, Vol. 3, p.47)


''اگر چہ بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ ا ن میں سے کچھ دستاویزات (بالخصوص متی کی انجیل اور عبرانیوں کے نام خط) کے پیچھے اصل ارامی تحریریں کارفرما تھیں، تاہم (یہ بات بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ) سب کچھ یونانی زبان ہی میں آگے منتقل کیا گیا ہے۔ اور اس بات کا بڑا امکان ہے کہ یہ اسی زبان (یونانی) میں مدون ہوئی تھیں۔


کچھ عرصے تک بعض مسیحی علما عہدنامۂ جدیدکی یونانی زبان کو ایک خاص قسم کی مذہبی زبان سمجھتے تھے۔ جو مسیحی دین کی خوش قسمتی کے طور پر ایک موزوں وسیلۂ اظہار کی صورت میں مہیا کی گئی تھی۔ اب اس دور کی بائبل کے علاوہ دیگر تحریروں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ عہد نامہ جدید کی زبان کوائنی یاعوامی یونانی زبان تھی جو گھروں اور کاروباری مراکز میں استعمال ہوتی تھی۔''



انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے مقالہ نگار نے اس موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کیا ہے ۔وہ لکھتا ہے کہ اگرچہ حضرت عیسیٰ کے افعال واقوال کے متعلق زبانی روایات بلاشبہ ارامی زبان ہی میں رائج تھیں، تا ہم عہد نامۂ جدید شروع سے آخر تک یونانی زبان میں لکھی جانے والی کتاب ہے:


''The New Testament is, from beginning to end, a Greek book. Although the earliest oral tradition of Jesus' deeds and sayings undoubtedly circulated in Aramaic, which was still the spoken language of Palestine and of some other parts of the Near East (certainly among Jews), it was not long bofore, this oral tradition was translated into ordinary, everyday Greek which was spoken everywhere else in the civilized Mediterranean world. (Traces of the original Aramaic tradition survive here and there: for expample, in Mark 5:41, 15:34).

This ordinary or "common" (Koine) Greek was spoken and written by people everywhere, from the borders of Nubia to the market towns in Gaul and the army camps beyond the Danyube, from the strait of Gibraltar to the borders of India. It was basically the Attic dialect of classical and 4th century Greek, ... for it was this language which had been carried across the Middle East by Alexander the Great (r. 336-323) and soon became the lingua franca of the whole Eastern Mediterranean and Near Eastern world ruled by his successors, chiefly the Ptolemies in Egypt and the Seleucids in Syria, Asia Minor, and the Whole vast territory eastward to the Indus. In the West, Greek long ago had been introduced by colonists in Lower Italy, Sicily, Gaul, and Spain, and by traders here and there as far as the Atlantic Ocean.'' (The Encyclopedia Americana, Ed. Lavinia P. Dudley etc., NY, Americana Corporation, 1954, Vol. 3, p.654)


''عہد نامۂ جدید شروع سے اخیر تک ایک یونانی کتاب ہے۔ اگرچہ حضرت عیسیٰ کے اعمال واقوال کی اولین زبانی روایت بلاشبہ ارامی زبان میں رائج رہی، جو اس وقت تک فلسطین اور مشرق قریب کے بعض دوسرے حصوں میں بولی جانے والی زبان تھی(یہودیوں میں یقینی طور پر) تاہم زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ اس زبانی روایت کا عام روزمرہ کی یونانی زبان میں جو مہذب بحیرۂ روم کے ممالک میں ہر جگہ بولی جاتی تھی، ترجمہ ہو گیا۔ (اصل ارامی روایت کے نشانات کہیں کہیں اب بھی باقی ہیں مثلاً مرقس ۵:۴۱، ۱۵:۳۴)۔


یہ سادہ اور عوامی (کوائنی) یونانی زبان ہر جگہ لوگوں میں بولی اور لکھی جاتی تھی: نوبیا کی سرحدوں سے گال(مغربی یورپ مشتمل برشمالی اٹلی،فرانس، بیلجئم، ہالینڈ، جرمنی، سوئٹزر لینڈ) کے کاروباری شہروں اور ڈینیوب کے پار فوجی کیمپوں تک، آبناے جبرالٹر سے ہندوستان کی سرحدوں تک۔ بنیادی طور پر یہ چوتھی صدی کی کلاسیکی یونانی زبان کی ایتھنز کی بولی (Attic) تھی۔ ... کیونکہ یہی زبان تھی جو سکندر اعظم (دور حکمرانی ۳۳۶ تا۳۲۳ ق م) مشرق وسطیٰ کے پار لے گیا تھا اور جو جلد ہی پورے مشرقی بحیرۂ روم اور مشرق قریب کی دنیا کی گھریلو اور تجارتی زبان بن گئی، جہاں اس کے جانشینوں کی حکومت تھی:خاص طور پرمصر میں پٹولمیوں کی اور شام، ایشاے کوچک، اور مشرق میں دریاے سندھ تک پھیلے ہوئے وسیع خطے پر سلوسیوں (Seleucids) کی۔مغرب میں بہت پہلے یونانی زبان استعماری آباد کاروں نے زیریں اٹلی، سسلی، گال، اور سپین میں متعارف کرا دی تھی اور تاجروں نے اسے بحر اوقیانوس جیسے دور دراز مقام تک جگہ جگہ پہنچا دیا تھا۔ ''


کولیئرز انسائیکلو پیڈیالکھتا ہے کہ عہد نامہ جدید کی کتابوں کی زبان روز مرہ بول چال کی سادہ اور عوامی زبان تھی، نہ کہ مسجع ومقفی صاف اور شستہ یونانی زبان:


''Often a reading in clear or polished Greek is discarded, for the authors of the New Testament Books wrote in the Popular, everyday language that had little of the elegance of the classic, literary Greek.'' (Collier's Encylopedia, Ed. William D. Halsey, NY, MacMillan Educational Corporation, 1976, Vol. 4, p. 134)


''اکثر اوقات ایسی قراء ت جو واضح، صاف ستھری،شستہ اور آراستہ وپیراستہ ہو، رد کر دی جاتی ہے، کیونکہ عہدنامۂ جدید کی کتابوں کے مصنفین نے مقبول عام روز مرہ کی زبان میں لکھا تھا جس میں کلاسیکی، ادبی یونانی زبان کی شان وشوکت اورحسن و آرایش کا بہت کم شائبہ تھا ۔''


دی ورلڈ بک انسائیکلو پیڈیا لکھتا ہے کہ عہد نامہ جدید یونانی زبان میں لکھاگیا تھا، تاہم حضرت عیسیٰ اور ان کے حواری آرامی زبان بولتے تھے:


''The New Testament was written in Greek, which was widely spoken during the time of Jesus. However, Jesus and his disciples spoke Aramaic.'' (The World Book Encylopedia, Chicago, Field Enterprises Educational Corporation, 1977, Vol. 2, p.222)


''عہد نامہ جدید اس یونانی زبان میں لکھا گیا تھا جو حضرت عیسیٰ کے زمانے میں وسیع علاقے میں بولی جاتی تھی، تاہم حضرت عیسیٰ اور ان کے حواری ارامی زبان بولتے تھے۔''


دی نیو انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (میکروپیڈیا) میں بیان ہے کہ مرقس کی انجیل ابتدا ہی سے یونانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ یہ آرامی سے یونانی میں ترجمہ کی گئی ہو، کیونکہ الفاظ کا درو بست اس کی تائید نہیں کرتا:


''`Q' was a source written in Greek as was Mark, which can be demonstrated by word agreement (not possible, for example, with a translation from Aramaic, although perhaps the Greek has vestiges of Semitic structure form). .... Mark is written in rather crude and plain Greek, with great realism. ... In Mark, some Aramaic is retained, transliterated into Greek, and then translated. ... In the two miracle stories, the Aramaic may have been retained to enhance the miracle by the technique of preserving Jesus' actual words. And a cry of Jesus on the Cross is given in Aramaized Hebrew.'' (The New Enc. Britannica, Macropaedia, Chicago, Enc. Britannia, Inc., 1989, Vol. 14, p. 824,25)


'''کیو' (Q) ایک ماخذ تھاجو مرقس کی انجیل کی طرح یونانی زبان میں لکھا گیا تھا، جس کی توضیح لفظی مناسبتوں کے ذریعے سے کی جا سکتی ہے(ارامی سے ترجمے میں یہ ممکن نہیں اگرچہ شاید اس یونانی زبان میں سامی زبانوں کی ساخت اور ہیئت کے اثرات وباقیات دیکھے جا سکتے ہیں)۔ ... مرقس کی انجیل زیادہ خام اور سپاٹ یونانی زبان میں لکھی گئی ہے جس میں حقیقت نگاری زیادہ نمایاں ہے۔ ... مرقس کی انجیل میں بعض ارامی الفاظ باقی رکھے گئے ہیں اور ان کا یونانی زبان میں تلفظ دے دیا گیا ہے اورپھر ان کا ترجمہ بھی کر دیا گیا ہے۔ ... دو معجزاتی کہانیوں میں ارامی اس غرض سے باقی رکھی گئی ہو گی تاکہ حضرت عیسیٰ کے اصل الفاظ محفوظ کرنے کے ذریعے سے معجزے کے اثرات میں اضافہ کیا جا سکے۔ اور (اسی طرح) صلیب پر حضرت عیسیٰ کی چیخ وپکار ارامی آمیز عبرانی میں درج کی گئی ہے۔''


دی یونیورسل ورلڈ ریفرنس انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ قبل از انجیل کے ماخذ کی زبان آرامی تھی جو حضرت عیسیٰ بولا کرتے تھے، لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ ماخذ تحریری شکل میں موجود تھے یا صرف زبانی روایت تک محدود تھے :


''Among the earliest books of the New Testament were the Gospels. Even earlier, however, were their sources the written and oral traditions that lay behind them. The striking similarities that exist between the discourse sections of Matthew, Mark, and Luke indicate that these Evangelists probably used a common source, which has since disappeared. Some have speculated that the language of this pre-Gospel source was Aramaic, the language of Christ, but there is disagreement as to whether the source was extant in writing or in oral tradition.'' (The Universal World Reference Encylopedia, Ed. V. S. Thatcher, Chicago, Consolidated Book Publishers, 1970, Vol.2, p.676)


''انجیلیں عہد نامۂ جدید کی اولین کتابوں میں شامل تھیں۔ تاہم ان سے بھی قدیم ان کے ماخذ تھے، یعنی ایسی تحریری اور زبانی روایات جو ان کی پشت پر موجود تھیں۔ نمایاں یکسانیتوں سے جو متی، مرقس اور لوقا کی گفتگو والی فصلوں میں موجود ہیں، یہ ظاہر ہوتاہے کہ ان انجیل نگاروں نے غالباً کوئی مشترک ماخذ استعمال کیا ہے، جو اب غائب ہو چکا ہے۔ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ اس قبل از انجیل ماخذ کی زبان ارامی تھی جو حضرت عیسیٰ کی زبان تھی، لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ آیایہ ماخذ تحریری شکل میں موجود تھا یا زبانی روایت کی صورت میں۔

دی بائبل ان دی میکنگ میں بھی اس موضوع پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس کے خیال میں عہد نامہ جدید کی کتابوں کوعملی ضرورت کے تحت یونانی ہی میں ترتیب دیا جانا مناسب تھا:


''Paul and the other early Chirstian letter-writers wrote in Greek. The reason was a practical one. Greek was in their day an international langugae, used by traders and others as a common means of communication. As English is widely used throughout the world today, and as French was used in diplomatic and other circles in Europe last century, so Greek was used internationally in Paul's day. It was the language of the Great cities of the world, the language of the people whom Paul and his associates specially wanted to reach. It had even penetrated Syria and Palestine. The language of the latter country was Aramaic, which Jesus spoke: ... Paul also spoke Aramaic. Nevertheless, Even at Jerusalem Greek had come to be used to a considerable extent, and Paul had no difficulty in writing or speaking it. ... Paul and many others like him, though they cherished their own language and culture, communicated with ease in Greek and Probably thought in it too. So it was as natural that all the literature of the early Christians should have been written in this language, for there would have been no reason for them to write in any other [language] unless they had wished to restrict the audience to a limited group, which they certainly did not.'' (Geddes MacGregor, The Bible in the Making, London, John Murray, 1961, pp.36f)

''پال اور دوسرے ابتدائی مسیحی مکتوب نگاروں نے یونانی زبان کو اپناذریعۂ اظہاربنایا تھا۔ اس کی ایک عملی وجہ تھی۔ ان کے زمانے میں یونانی ایک بین الاقوامی زبان تھی، جسے تاجر اور دوسرے لوگ ایک عمومی ذریعۂ اظہار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ جس طرح آج انگریزی زبان پوری دنیا میں وسیع طور پر استعمال ہوتی ہے، اور جس طرح پچھلی صدی میں فرانسیسی زبان یورپ میں ڈپلومیٹک اور دوسرے حلقوں میں استعمال ہوتی تھی، اسی طرح یونانی زبان پال کے زمانے میں بین الاقوامی طور پر مستعمل تھی۔ یہ دنیاکے بڑے بڑے شہروں کی زبان تھی اور ان لوگوں کی زبان تھی جن تک پال اور اس کے ساتھی خاص طور پررسائی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ زبان شام اور فلسطین میں بھی نفوذ کر چکی تھی۔ موخر الذکر ملک کی زبان تو تھی ہی ارامی اور حضرت عیسیٰ بھی یہی زبان بولتے تھے۔ ... پال بھی ارامی زبان بولتا تھا، تاہم یروشلم تک میں بھی یونانی قابل لحاظ حد تک استعمال کی جانی شروع ہو گئی تھی اور پال کے لیے اس میں لکھنے یا گفتگو کرنے میں کوئی دشواری نہ تھی۔ ... پال اور اس کی طرح دوسرے بہت سے لوگ بھی اگر چہ اپنی ذاتی زبان اور کلچر سے بڑی محبت کرتے تھے، لیکن یونانی زبان میں بڑی آسانی سے اظہار خیال کرتے تھے اور غالباً اسی میں سوچتے بھی تھے۔اس طرح یہ بالکل فطری بات ہے کہ ابتدائی مسیحیوں کا تمام ادب اسی زبان میں لکھا گیا ہو گا، کیونکہ انھیں اس بات کی کوئی وجہ نظر نہ آتی ہو گی کہ وہ کسی اورزبان میں لکھیں جب تک کہ ان کی یہ خواہش نہ ہو کہ اپنے سامعین کو ایک مختصر سے گروپ تک محدود کر لیں جو یقیناًوہ نہیں چاہتے ہوں گے۔''


ریمنڈ ای براؤن عہد نامہ جدید کے تعارف میں لکھتا ہے کہ عہد نامۂ جدید یونانی زبان میں لکھا گیا تھا:


''Readers of the NT who know Greek, the language in which it was written, can make their own informed efforts to grasp what the authors were trying to communicate. Without a knowledge of Greek, plays on words are often lost.'' (Raymond E. Brown, An Introduction of NT, Bangalore, TPI, 1997, p.vii)


''عہد نامۂ جدید کے ایسے قارئین جو یونانی زبان جانتے ہیں ، جس زبان میں یہ لکھا گیا تھا، خود اپنے طور پر یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ اس کا وہ مطلب اخذ کر سکیں جو اس کے مصنفین پہنچانا چاہتے تھے۔ یونانی زبان کے علم کے بغیر اکثر اوقات رعایت لفظی کا حسن ضائع ہو جاتا ہے۔''

وہ مزید لکھتاہے:


''The NT books were written some 1,900 years ago in Greek. .... There is evidence that Matt, John, and Paul may have known Aramaic and /or Hebrew, while Mark and Luke may have known only Greek but we are far from certain.'' (Raymond E. Brown, An Introduction of NT, op.cit., p.36)

''عہد نامۂ جدید کی کتابیں قریباً ۱۹۰۰ سال پہلے یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ ... اس بات کی شہادت موجود ہے کہ متی، یوحنا اور پال ارامی اور/یا عبرانی جانتے ہوں گے، جب کہ مرقس اور لوقا صرف یونانی زبان سے واقف ہوں گے، لیکن ہم یقین سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔''

تعارف عہد نامۂ جدید میں فیمی پرکنز کا بیان ہے کہ متی کی انجیل یونانی زبان میں لکھی گئی تھی:


''It (Matthew) was composed in Greek.'' (Pheme Perkins, NT Introduction, Bombay, St. Paul Publications 1992, p.15)


''یہ (متی کی انجیل) یونانی زبان میں مدون ہوئی تھی۔''


یہی مصنف لکھتاہے کہ مرقس کی انجیل یونانی زبان میں لکھی گئی تھی:

''As far as we know, Mark was the first person to bring the diverse stories about Jesus together in a single narrative. Mark writes in Greek for an audience that does not understand the Aramaic words which occur in some of the stories.'' (Pheme Perkins, NT Introduction, op.cit., p.260)


''جہاں تک ہم جانتے ہیں مرقس وہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت عیسیٰ کے متعلق متنوع کہانیوں کو مربوط اور واحد بیان کی شکل میں یکجا کیا۔ مرقس ایسے سامعین کے لیے جو بعض کہانیوں میں پائے جانے والے ان ارامی الفاظ کا مطلب نہیں سمجھتے تھے، یونانی زبان میں لکھتا تھا۔''


انسائیکلو پیڈیا آف ریلجن (دوسرا ایڈیشن) میں بتا یا گیا ہے:


''Papias and others after him consistently associated Matthew's authorship with Semitic text, but Matthew is in Greek and seems unlikely to be a translation from Hebrew or Aramaic. ''(Encyclopedia of Religion, Second Edition, Ed. Lindsay Jones, Farmington Hills, USA, Macmillan, Thomsom Gale, 2005, Vol. 2, p.907)


''پاپیاس اور اس کی تقلید میں دوسرے لوگ بھی انجیل متی کی تصنیف کو ایک سامی متن سے منسلک کرتے ہیں، لیکن انجیل متی یونانی زبان میں ہے اورایسا نظر نہیں آتا کہ یہ عبرانی یا ارامی سے ترجمہ کی گئی ہو۔ ''


انسائیکلو پیڈیا آف ریلجن (دوسرا ایڈیشن) مزید لکھتا ہے:


''None of the original Greek New Testament survives. The documents presumably wore out.'' (Encyclopedia of Religion, Second Edition, op.cit., Vol.2, p.921)


''اصلی یونانی عہد نامۂ جدید میں سے کوئی بھی نہیں بچارہ سکا۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ یہ تمام دستاویزات بوسیدہ اور ناکارہ ہو گئیں۔ ''


اسی انسائیکلو پیڈیا آف ریلجن (دوسرا ایڈیشن) میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ حضرت عیسیٰ آرامی زبان بولتے تھے ، تاہم عہد نامہ جدید کی تمام کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں:


''Although Jesus spoke Aramaic, all of the NT documents were composed in Greek. Begnning in second century, the spread of Christianity required translating the Greek into other languages. ... In the fifth century a Syriac Version of the NT, lacking only 2 Peter, 2 and 3 John, Jude, and Revelation, was published. This, known as the Peshitta, was revised in the VI and VII century, when the missing five books were added.'' (Encyclopedia of Religion, Second Edition, op.cit., Vol. 2, p.922)

''اگر چہ حضرت عیسیٰ ارامی زبان بولتے تھے، مگر عہد نامہ جدید کی تمام دستاویزات یونانی زبان میں مدون ہوئی تھیں۔ دوسری صدی میں شروع ہو نے والی مسیحیت کی اشاعت کا تقاضا تھا کہ یونانی زبان کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا جائے ۔ ... پانچویں صدی میں عہد نامۂ جدید کا ایک سریانی ترجمہ شائع ہوا تھا، جس میں سے صرف ''۲ پطرس''، ''۳ یوحنا''، یہوداہ اور مکاشفہ غائب تھے۔اس [سریانی ترجمے] پر جو پشیتا کے نام سے مشہور ہے، چھٹی اور ساتویں صدیوں میں نظر ثانی کی گئی تھی اور اسی دوران میں ان پانچ کتابوں کا اضافہ بھی کر دیا گیا تھا۔''


دی سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ بائبل کمنٹری نے بھی یہی بات کہی ہے کہ عہد نامہ جدید کی تمام کتابوں کے متعلق یہی یقین کیا جاتا ہے کہ وہ یونانی میں لکھی گئی تھیں:

''The 27 books of the New Testament are generally believed to have been composed in Greek. In the time of Christ and the apostles Greek was the universal language of the Roman Empire. It had spread throughout the World toward the end of the 4th century B.C. with the expansion of Alexander's empire. His successors were all Greek rulers, who supported the spread of Greek speech and culture. Thus Greek became so widely known and deeply rooted that the Romans, who built an empire in the 1st century B.C. from the Atlantic to Persia, could not suppress it. Latin gained predominance in North Africa, Spain and Italy, but played no role in the Eastern world. Even in Italy, where Latin was the mother tongue, educated people, especially, used Greek as a second language. For example, the Epistle of Clement, the earliest Christian document outside of the New Testament, though written in Rome, was composed in Greek. ... However, other languages besides Greek were used in different parts of the empire. Thus, for exapmle, the Jews of Palestine spoke Aramaic, the People of Lystra, Lycaonian (Acts 14:11), and the population of the city of the Rome, Latin. This multilingual situation is reflected in the trilingual inscription above the cross on Calvary, composed in (1) Aramaic (called Hebrew in the New Testament), the language of the country, (2) Greek, the universally understood language of the empire, and (3) Latin, the offical language of the Roman administratin (John 19:20). Similar conditions existed in modern Palestine during the period of British mandate before the emergence of Israel as a state, when, for example, postage stamps contained imprints in three languages and scripts: Hebrew, Arabic, and English. This practice has been continued on postage stamps of the state of Israel.'' (The Seventh-day Aventist Bible Commentary, Ed. Francis D. Nichol, Hagerstown, Review and Herald Publishing Association, 1980, Vol. 5 pp.103f)


''عہد نامۂ جدید کی ۲۷ کتابوں کے متعلق عام طور پر اس یقین کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ یونانی زبان میں مدون ہوئی تھیں ۔ حضرت مسیح اور حواریوں کے زمانے میںیونانی رومن امپائر کی بین الاقوامی زبان تھی۔ چوتھی صدی ق م کے اختتام تک سکندر اعظم کی سلطنت کی توسیع کے ساتھ یہ پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔ سکندر کے سارے جانشین یونانی حکمران تھے، جو یونانی زبان اور کلچر کی اشاعت میں تعاون کرتے تھے۔ اس طرح یونانی زبان اتنے وسیع حلقے میں سمجھی جانے لگی اور اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوگئیں کہ رومی جنھوں نے پہلی صدی ق م میں بحر اوقیانوس سے ایران تک ایک سلطنت قائم کر لی تھی، اسے دبا نہ سکے ۔لاطینی زبان نے شمالی افریقہ، سپین اور اٹلی میں غلبہ حاصل کر لیا، لیکن مشرقی دنیا میں اس کا کوئی کردار نہ تھا۔ اٹلی تک میں، جہاں لاطینی مادری زبان تھی،بالخصوص تعلیم یافتہ لوگ ثانوی زبان کے طور پر یونانی استعمال کرتے تھے۔ مثال کے طور پر کلیمنٹ کا خط جو عہد نامۂ جدید سے باہر اولین مسیحی دستاویز تھی، وہ اگرچہ روم میں لکھا گیا تھا، لیکن مدون یونانی زبان میں ہوا تھا۔...تاہم رومی سلطنت کے مختلف حصوں میں یونانی زبان کے ساتھ ساتھ دوسری زبانیں بھی مستعمل تھیں۔ مثال کے طور پر فلسطین کے یہودی آرامی زبان بولتے تھے، لسٹرا کے لوگ لائیکونین اور روم کے شہر کی آبادی لاطینی زبان بولتی تھی۔ کالوری میں صلیب پر کندہ سہ لسانی کتبے سے اس کثیر اللسان صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ کتبہ (۱)ملک کی زبان ''آرامی' '(۲) سلطنت روما کے اندر بین الاقوامی طور پر سمجھی جانے والی زبان ''یونانی'' اور (۳) رومن انتظامیہ کی دفتری زبان ''لاطینی'' میں ترتیب دیا گیا تھا۔ اس طرح کے حالات اسرائیلی ریاست کے قیام سے پہلے برطانوی انتداب کے دور میں جدید فلسطین میں پائے جاتے تھے، جب، مثال کے طورپر، ڈاک کے ٹکٹوں پر تین زبانوں اور رسوم الخط کی چھاپ ہوتی تھی: عبرانی، عربی اور انگریزی۔ ریاست اسرائیل کے ڈاک کے ٹکٹوں میں بھی یہی مشق جاری رہی۔''


بلیورز بائبل کمنٹری دی نیو ٹسٹامنٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ عہد نامہ جدید روز مرہ کی عام یونانی زبان (کوائنی) میں لکھا گیا تھا:


''The New Testament was written in everyday language (called koine, or "common Greek"). This was a nearly universal second language in the first century of Faith, as well-known and as widely used as English is today.'' (Willian Macdonald, Believers Bible Commentary New Testament, Kansas, A & O Press, P. O. Box 8550, 1989, p.11)


''عہد نامۂ جدید روزمرہ کی زبان میں (جسے کوائنی یا عوامی یونانی زبان کہاجاتا تھا)لکھا گیا تھا۔یہ عہدایمان کی پہلی صدی میں قریباً بین الاقوامی ثانوی زبان تھی۔یہ اتنی مشہور عام اور وسیع حلقے میں استعمال کی جاتی تھی، جتنی آج کے دور میں انگریزی ہے۔''


میرٹ سٹوڈنٹس انسائیکلو پیڈیامیں بھی یہی بات کہی گئی ہے:


''The books of the New Testament, which were written in the 1st century A.D., describe early Christianity. All the books, with perhaps one or two exceptions, were written in Greek, the most widely spoken language in Middle East at the time.'' (Merit Students Encylopedia, Ed. Bernard S. Cayne, USA, Crowell-Collier Educational Corporation, 1967, Vol. 3, p.135)



''عہد نامۂ جدید کی کتابیں جو پہلی صدی عیسوی میں لکھی گئی تھیں، ابتدائی دور کی مسیحیت کو بیان کرتی ہیں۔شاید ایک یا دو کے استثنا کے ساتھ تمام کتابیں یونانی زبان میں لکھی گئی تھیں، جو اس دورکی مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ وسیع علاقے میں بولی جانے والی زبان تھی۔ ''


انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی یہ بات تفصیل سے بیان کی گئی ہے:


''On the whole it appears to be the more probable view that the literary stage in the transmission of the Gospel materials belongs, in the main, to Greek-speaking Christianity, the evidences of "translation Greek" being due not to actual translation from documents, but to the originally Semitic character of the tradition, and to the fact that it was in the first instance "done into Greek" by interpreters whose native speech was Semitic. The Aramaic-speaking Church of Jerusalem, the original fountain-head of the tradition, was in all probability for a considerable period of the same mind as the early second century writer Papias ....



On the other hand, it is probable that in Greek-speaking circles the work of Christian teachers and catechists was at a very early stage helped by the use of written materials as an aid to the memory. Collections of the sayings and parables of Jesus were probably made, and perhaps collections of short narratives also. There were therefore written materials available when the Gospels came to be compiled, for the most part probably in the form rather of catechists' notes than of "books" in any literary sense.'' (Encyclopaedia Britannica, Chicago, Encyclopaedia Britannica, Inc., 1953, Vol. 10, p.537)


''مجموعی طور پر اس نظریے کا امکان غالب دکھائی دیتا ہے کہ انجیلی مواد کی منتقلی کا ادبی مرحلہ بڑی حد تک یونانی بولنے والی مسیحیت سے تعلق رکھتا ہے۔ '' ترجمے والی یونانی'' کی جھلک کی وجہ یہ نہیں کہ یہ فی الواقع کچھ دستاویزات سے ترجمہ کیا گیا ہے، نہیں ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت ابتداءً سامی مزاج کی ہے اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایسے تاویل نگاروں کی طرف سے یونانی میں پایۂ تکمیل تک پہنچائی جانے والی کاوش ہے، جن کی مقامی بولی سامی تھی۔ اس روایت کا اصلی سر چشمہ یعنی ارامی بولنے والا یروشلم کا چرچ، قابل لحاظ وقت تک غالباً اسی ذہنیت پر کاربند تھا، جیسی دوسری صدی کے مصنف پاپیاس کی تھی ...۔


دوسری طرف غالب امکان یہ ہے کہ یونانی بولنے والے حلقوں میں مسیحی مربیوں اور مکالماتی معلموں کے کام میں بہت ابتدائی دور میں حافظے کی مدد کے طور پر تحریری مواد کو استعمال میں لایا گیا ہوگا۔ غالباً حضرت عیسیٰ کے ملفوظات اور تمثیلات کے مجموعے ترتیب دیے گئے تھے اور شاید مختصر واقعاتی بیانات کے مجموعے بھی مرتب کر دیے گئے تھے۔ اس طرح جب انجیلیں ترتیب دی جانے لگیں تو تحریری مواد دستیاب تھا، لیکن ان کا بڑا حصہ غالباً مکالماتی معلموں کے ''نوٹس'' کی شکل میں تھا، نہ کہ کسی ادبی اعتبار سے ''کتابوں'' کی صورت میں۔''


دی اینوٹیٹڈ پیرا گراف بائبل کے عہد نامۂ جدید کا تعارف


(حوالہ: http://www.al-mawrid.org/index.php/articles_urdu/view/injil-ki-zuban-yonani-ya-suryani-1)