قرآنِ کریم کی حفاظت کا ایک عظیم مظہر علمِ قراءات ہے۔ بظاہر جب ہم “قراءتِ سبعہ”، “قراءتِ عشرہ” یا “قراءتِ اَربعَ عشر” کی اصطلاحات سنتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ تین مختلف ادوار یا تین الگ الگ قرآن ہوں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ سب دراصل ایک ہی متنِ وحی کے مختلف مستند اسالیبِ تلاوت کی تدوینی تاریخ ہے۔
ابتدائی دور میں قرآن مختلف قبائل کے لہجوں کے مطابق پڑھا جاتا تھا۔ “سبعہ احرف” کی حدیث، جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں منقول ہے، اسی سہولت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ صحابہ کرامؓ نے یہ مختلف اسالیب براہِ راست نبی کریم ﷺ سے سیکھے اور آگے منتقل کیے۔ اس مرحلے پر قراءتیں باقاعدہ “اعداد” (7، 10 وغیرہ) میں محدود نہیں تھیں، بلکہ عملی طور پر جاری تھیں۔
چوتھی صدی ہجری میں جب فتنوں کا زمانہ آیا اور علمی تدوین کی ضرورت محسوس ہوئی تو عظیم عالم امام ابن مجاہد (م 332ھ) نے مختلف شہروں کے مستند قراء میں سے سات کو منتخب کر کے “القراءات السبع” کو منظم صورت دی۔ یاد رہے کہ ابن مجاہد نے سات ہی کو “واجب الاتباع” قرار نہیں دیا تھا، بلکہ انہوں نے اُس وقت کے معروف اور مضبوط طرق کو جمع کیا۔ ان کے اس انتخاب نے “قراءتِ سبعہ” کو علمی شہرت عطا کی۔
بعد میں تحقیق کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ دیگر ائمہ کی قراءتیں بھی مضبوط اسناد کے ساتھ ثابت ہوئیں، چنانچہ تین مزید قراءتیں شامل کی گئیں اور یوں “قراءتِ عشرہ” مکمل ہوئی۔ آٹھویں صدی ہجری میں امامِ قراء ابن جزری (م 833ھ) نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ دس قراءتیں متواتر اور قطعی الثبوت ہیں۔ یوں علمی اتفاق عشرہ پر مستحکم ہو گیا۔




