‏مکہ کے آخری دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مکہ کے آخری دور کی سورتوں کا پس منظر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

سورة الْقَمَر : زمانہ نزول، موضوع و مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : پہلی ہی آیت کے فقرہ وانْشَقَّ الْقَمَر سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورۃ جس میں لفظ القمر آیا ہے۔ 

زمانۂ نزول :


اس میں شقّ القمر کے واقعہ کا ذکر آیا ہے جس سے اس کا زمانہ نزول متعین ہوجاتا ہے۔ محدثین و مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ معظمہ میں منیٰ کے مقام پر پیش آیا تھا۔ 


موضوع اور مضمون :


اس میں کفار مکہ کو اس ہٹ دھرمی پر متنبہ کیا گیا ہے جو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے مقابلہ میں اختیار کر رکھی تھی۔ شق القمر کا حیرت انگیز واقعہ اس بات کا صریح نشان تھا کہ وہ قیامت جس کے آنے کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے تھے، فی الواقع برپا ہو سکتی ہے، اور اس کی آمد کا وقت قریب آ لگا ہے۔ چاند جیسا عظیم الشان کرہ ان کی آنکھوں کے سامنے پھٹا تھا۔ اس کے دونوں ٹکڑے الگ ہو کر ایک دوسرے سے اتنی دور چلے گئے تھے کہ دیکھنے والوں کو ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا تھا۔ پھر آن کی آن میں وہ دونوں پھر مل گئے تھے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ نظام عالم ازلی و ابدی اور غیر فانی نہیں ہے۔ وہ درہم برہم ہوسکتا ہے۔ بڑے بڑے ستارے اور سیارے پھٹ سکتے ہیں۔ بکھر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اور وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جس کا نقشہ قیامت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے قرآن میں کھینچا گیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ یہ اس امر کا پتا بھی دے رہا تھا کہ نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہوگیا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب قیامت برپا ہوگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی حیثیت سے لوگوں کو اس وقعہ کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا، دیکھو اور گواہ رہو۔ مگر کفار نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دیا اور اپنے انکار پر جمے رہے۔ اسی ہٹ دھرمی پر اس سورۃ میں انہیں ملامت کی گئی ہے۔ 


کلام کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا گیا کی یہ لوگ نہ سمجھانے سے مانتے ہیں، نہ تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، نہ آنکھوں سے صریح نشانیاں دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔ اب یہ اسی وقت مانیں گے جب قیامت فی الواقع برپا ہوجائے گی اور قبروں سے نکل کر یہ داور محشر کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے۔ 


اس کے بعد ان کے سامنے قوم نوح، عاد، قوم لوط اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ میں بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دو چار ہوئیں، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ راست پر آ جائے تو ان عذابوں کی نوبت نہیں آسکتی جو ان قوموں پر نازل ہوئے۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اس آسان ذریعہ سے نصیحت قبول کرنے کے بجائے کوئی اسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا۔ 


اس طرح پچھلی قوموں کی تاریخ سے عبرتناک مثالیں دینے کے بعد کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جس طرز عمل پر دوسری قومیں سزا پا چکی ہیں وہی طرز عمل اگر تم اختیار کرو تو آخر تم کیوں نہ سزا پاؤ گے ؟ کیا تمہارے کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ تمہارے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ کیا جائے ؟ یا کوئی خاص معافی نامہ تمہارے پاس لکھا ہوا آگیا ہے کہ جس جرم پر دوسرے پکڑے گئے ہیں وہی تم کرو گے تو تمہیں نہ پکڑا جائے گا ؟ اور اگر تم اپنی جمیعت پر پھولے ہوئے ہو تو عنقریب تمہاری یہ جمیعت شکست کھا کر بھاگتی نظر آئے گی، اور اس سے زیادہ سخت معاملہ تمہارے ساتھ قیامت کے روز ہوگا۔



آخر میں کفار کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت لانے کے لیے کسی بڑی تیاری کی حاجت نہیں ہے۔ اس کا بس ایک حکم ہوتے ہی پلک جھپکاتے وہ برپا ہوجائے گی۔ مگر ہر چیز کی طرح نظام عالم اور نوع انسانی کی بھی ایک تقدیر ہے۔ اس تقدیر کے لحاظ سے جو وقت اس کام کے لیے مقرر ہے اسی وقت پر وہ ہوگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ جب کوئی چیلنج کرے اس کو قائل کرنے کے لیے قیامت لا کھڑی کی جائے۔ اس کو آتے نہ دیکھ کر تم سرکشی اختیار کرو گے تو اپنی شامت اعمال کا نتیجہ بھگتو گے۔ تمہارا کچّا چٹھا خدا کے ہاں تیار ہو رہا ہے جس میں تمہاری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ثبت ہونے سے رہ نہیں گئی ہے ۔

(تفہیم القرآن جلد پنجم ص 226، سید ابوالاعلی مودودی ؒ ) 

سورة الْاَحْقَاف : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت نمبر 21 کے فقرے اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَہ بالْاَحْقَافِ سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :


ایک تاریخی واقعہ سے متعین ہوجاتا ہے جس کا ذکر آیت 29۔32 میں آ یا ہے۔ ان آیات میں جنوں کے آنے اور قرآن سن کر واپس جانے کا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ حدیث وسیرت کی متفق علیہ روایت کی رو سے اس وقت پیش آیا تھا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے مکہ معظمہ کی طرف پلٹتے ہوئے نَخْلہ کے مقام پر ٹھہرے تھے، اور تمام معتبر تاریخی روایت کے مطابق آپ کے طائف تشریف لے جانے کا واقعہ ہجرت سے تین سال پہلے کا ہے، لہٰذا یہ متعین ہوجاتا ہے کہ یہ سورۃ 10 نبوی کے آخر، یا 11 نبوی میں نازل ہوئی۔

تاریخی منظر :


10 نبوی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات طیبہ میں انتہائی سختی کا سال تھا۔ تین برس سے قریش کے تمام قبیلوں نے مل کر بنی ہاشم اور مسلمانوں کا مکمل مقاطعہ کر رکھا تھا اور حضور اپنے خاندان اور اپنے اصحاب کے ساتھ شعب ابی طالب (شعب ابی طالب مکہ معظمہ کے ایک محلے کا نام تھا جس میں بنی ہاشم رہا کرتے تھے۔ شعب عربی زبان میں گھاٹی کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ محلہ کوہ ابو قبیس کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں واقع تھا، اور ابو طالب بنی ہاشم کے سردار تھے، اس لیے اسے شعب ابی طالب کہا جاتا تھا۔ مکہ معظمہ میں جو مکان آج مقامی روایات کے مطابق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام پیدائش کی حیثیت سے معروف ہے، اسی کے قریب یہ گھاٹی واقع تھی۔ اب اسے شعب علی یا شعب بنی ہاشم کہتے ہیں ۔) میں محصور تھے۔ قریش کے لوگوں نے ہر طرف سے اس محلے کی ناکہ بندی کر رکھی تھی جس سے گزر کر کسی قسم کی رسد اندر نہ پہنچ سکتی تھی۔ صرف حج کے زمانے میں یہ محصورین نکل کر کچھ خریداری کرسکتے تھے۔ مگر ابو لہب جب بھی ان میں سے کسی کو بازار کی طرف، یا کسی تجارتی قافلے کی طرف جاتے دیکھتا، پکار کر تاجروں سے کہہ دیتا کہ جو چیز یہ خریدنا چاہیں اس کی قیمت اتنی زیادہ بتاؤ کہ یہ نہ خرید سکیں، پھر وہ چیز میں تم سے خرید لوں گا اور تمہارا نقصان نہ ہونے دوں گا، متواتر تین سال کے اس مقاطعہ نے مسلمانوں اور بنی ہاشم کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی اور ان پر ایسے ایسے سخت وقت گزر گئے تھے جن میں بسا اوقات گھاس اور پتے کھانے کی نوبت آجاتی تھی۔


خدا خدا کر کے یہ محاصرہ اس سال ٹوٹا ہی تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب، جو دس سال سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ڈھال بنے ہوئے تھے، وفات پا گئے، اور اس سانحے پر بمشکل ایک مہینہ گزرا تھا کہ آپ کی رفیقہ حیات حضرت خدیجہ بھی انتقال فرما گئیں جن کی ذات آغاز نبوت سے لے کر اس وقت تک آپ کے لیے وجہ سکون و تسلی بنی رہی تھی۔ ان پے درپے صدموں اور تکلیفوں کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سال کو عام الحزن (رنج و غم کا سال ) فرمایا کرتے تھے۔ 


حضرت خدیجہ(رض) اور ابوطالب کی وفات کے بعد کفار مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں اور زیادہ دلیر ہوگئے۔ پہلے سے زیادہ آپ کو تنگ کرنے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہوگیا۔ اسی زمانہ کا یہ واقعہ ابن ہشام نے بیان کیا ہے کہ ایک روز قریش کے اوباشوں میں سے ایک شخص نے سر بازار آپ کے سر پر مٹی پھینک دی۔ 


آخر کار آپ اس ارادے سے طائف تشریف لے گئے کہ بنی ثقیف کو اسلام کی طرف دعوت دیں اور اگر وہ اسلام نہ قبول کریں تو انہیں کم از کم اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ آپ کو اپنے ہاں چین سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع دے دیں۔ آپ کو اس وقت کوئی سواری تک میسر نہ تھی۔ مکہ سے طائف تک کا سارا سفر آپ نے پیدل طے کیا۔ بعض روایات کی رو سے آپ تنہا تشریف لے گئے تھے، اور بعض روایات کے مطابق آپ کے ساتھ صرف حضرت زید بن حارثہ تھے۔ وہاں پہنچ کر چند روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیام کیا اور ثقیف کے سرداروں اور معززین میں سے ایک ایک کے پاس جا کر بات کی۔ مگر انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی کوئی بات نہ مانی، بلکہ آپ کو صاف صاف نوٹس دے دیا کہ ان کے شہر سے نکل جائیں، کیونکہ ان کو اندیشہ ہوگیا تھا کہ کہیں آپ کی تبلیغ ان کے نوجوانوں کو " بگاڑ " نہ دے۔ مجبوراً آپ کو طائف چھوڑ دینا پڑا۔ جب آپ وہاں سے نکلنے لگے تو ثقیف کے سرداروں نے اپنے ہاں کے لفنگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ راستے کے دونوں طرف دور تک آپ پر آوازے کستے، گالیاں دیتے اور پتھر مارتے چلے گئے، یہاں تک کہ آپ زخموں سے چور ہوگئے اور آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔ اس حالت میں آپ طائف کے باہر ایک باغ کی دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے اور اپنے رب سے عرض کیا : 


" خداوندا، میں تیرے ہی حضور اپنی بےبسی و بےچارگی اور لوگوں کی نگاہ میں اپنی بےقدری کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین، تو سارے ہی کمزوروں کا رب ہے اور میرا رب بھی تو ہی ہے۔ مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کیا کسی بیگانے کے حوالے جو مجھ سے درشتی کے ساتھ پیش آئے؟ یا کسی دشمن کے حوالے جو مجھ پر قابو پالے؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی مصیبت کی پروا نہیں، مگر تیری طرف سے عافیت مجھے نصیب ہوجائے تو اس میں میرے لیے زیادہ کشادگی ہے۔ میں پناہ مانگتا ہوں تیری ذات کے اس نور کی جو اندھیرے میں اجالا اور دنیا اور آخرت کے معاملات کو درست کرتا ہے، مجھے اس سے بچا لے کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو یا میں تیرے عتاب کا مستحق ہوجاؤں۔ تیری مرضی پر راضی ہوں یہاں تک کہ تو مجھ سے راضی ہوجائے۔ کوئی زور اور طاقت تیرے بغیر نہیں " (ابن ہشام، ج 2، ص 62)


دل شکستہ و غمگین پلٹ کر جب آپ قرن المنازل کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ آسمان پر ایک بادل سا چھایا ہوا ہے۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل (علیہ السلام) سامنے تھے۔ انہوں نے پکار کر کہا " آپ کی قوم نے جو کچھ آپ کو جواب دیا ہے اللہ نے اسے سن لیا۔ اب یہ پہاڑوں کا منتظم فرشتہ اللہ نے بھیجا ہے، آپ جو حکم دینا چاہیں اسے دے سکتے ہیں "۔ پھر پہاڑوں کے فرشتے نے آپ کو سلام کر کے عرض کیا " آپ فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑ ان لوگوں پر الٹ دوں؟ " آپ نے جواب دیا، " نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے وہ لوگ پیدا کرے گا جو اللہ وحدہ لاشریک کی بندگی کریں گے "۔ (بخاری، بدء الخلق، ذکر الملائکہ۔۔ مسلم، کتاب المغازی۔ نسائی، البعوث)


اس کے بعد آپ چند روز نخلہ کے مقام پر جا کر ٹھہر گئے۔ پریشان تھے کہ اب کیسے مکہ واپس جاؤں۔ طائف میں جو کچھ گزری ہے اس کی خبریں وہاں پہنچ چکی ہوں گی۔ اس کے بعد تو کفار پہلے سے بھی زیادہ دلیر ہوجائیں گے۔ ان ہی ایام میں ایک روز رات کو آپ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا، انہوں نے قرآن سنا، ایمان لائے، واپس جا کر اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خوشخبری سنائی انسان چاہے آپ کی دعوت سے بھاگ رہے ہوں، مگر بہت سے جن اس کے گرویدہ ہوگئے ہیں اور وہ اسے اپنی جنس میں پھیلا رہے ہیں ۔


موضوع اور مباحث :



یہ حالات تھے جن میں یہ سورت نازل ہوئی۔ جو شخص بھی ایک طرف ان حالات نزول کو دیکھے گا اور دوسری طرف اس سورۃ کو بغور پڑھے گا اسے اس امر میں کوئی شبہ نہ رہے گا کہ فی الواقع یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام نہیں ہے بلکہ " اس کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔ " اس لیے کہ اول سے آخر تک پوری سورۃ میں کہیں ان انسانی جذبات و تأثرات کا ایک ادنیٰ شائبہ تک نہیں پایا جاتا جو ان حالات سے گزرنے والے انسان کے اندر فطری طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ اگر یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام ہوتا، جنہیں پے در پے صدمات اور مصائب کے بےپناہ ہجوم اور طائف کے تازہ ترین چرکے نے خستہ حالی کی انتہا کو پہنچا دیا تھا، تو اس سورے میں کہیں تو ان کیفیات کا عکس نظر آتا جو اس وقت آپ کے دل پر گزر رہی تھیں۔ اوپر ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا نقل کی ہے، اسے دیکھیے۔ وہ آپ کا اپنا کلام ہے۔ اس کا لفظ لفظ ان کیفیات سے لبریز ہے۔ مگر یہ سورۃ جو اسی زمانے اور ان ہی حالات میں آپ ہی کی زبان مبارک سے ادا ہوئی ہے ان کے ہر اثر سے قطعی خالی ہے۔ 


سورۃ کا موضوع کفار کو ان گمراہیوں کے نتائج سے خبردار کرنا ہے جن میں وہ نہ صرف مبتلا تھے، بلکہ بڑے اصرار اور غرور و استکبار کے ساتھ ان پر جمے ہوئے تھے اور الٹا اس شخص کو ہدف ملامت بنا رہے تھے جو انہیں ان گمراہیوں سے نکالنے کے لیے کوشاں تھا۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت محض ایک بےمقصد کھلونے کی تھی اور اس کے اندر اپنے آپ کو وہ غیر جواب دہ مخلوق سمجھ رہے تھے۔ توحید کی دعوت ان کے خیال میں باطل تھی اور انہیں اصرار تھا کہ ان کے معبود واقعی خدا کے شریک ہیں۔ وہ قرآن کے متعلق یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ یہ خداوند عالم کا کلام ہے۔ رسالت کا ایک عجیب جاہلانہ تصور ان کے ذہن میں تھا اور اس کی بنا پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوائے رسالت کو جانچنے کے لیے وہ طرح طرح کے نرالے معیار تجویز کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام کے بر حق نہ ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ تھا کہ ان کے شیوخ اور بڑے بڑے قبائلی سردار اور ان کی قوم کے بوجھ بجھکڑا سے نہیں مان رہے ہیں، اور صرف چند نوجوان، چند غریب لوگ اور چند غلام ہی اس پر ایمان لائے ہیں۔ وہ قیامت، اور زندگی بعد موت، اور جزا و سزا کی باتوں کو ایک من گھڑت افسانہ سمجھتے تھے، اور ان کا خیال یہ تھا کہ ان چیزوں کا وقوع خارج از امکان ہے۔ 


اس سورۃ میں بالاختصار ان ہی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی مدلل تردید کی گئی ہے اور کفار کو خبردار کیا گیا ہے کہ تم اگر عقل و دلیل سے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر قرآن کی دعوت اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو رد کر دو گے تو آپ اپنا ہی انجام خراب کرو گے۔

--------------------------------------------------------------
(تفہیم القرآن جلد چہارم ص 596، سید ابوالاعلی مودودیؒ ) 

سورة صٓ : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : آغاز ہی کے حرف ص ٓ سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 

زمانہ نزول :


جیسا کہ آگے چل کر بتایا جائے گا، بعض روایات کی رو سے یہ سورۃ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ معظمہ میں علانیہ دعوت کا آغاز کیا تھا اور قریش کے سرداروں میں اس پر کھلبلی مچ گئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کا زمانہ نزول تقریباً نبوت کا چوتھا سال قرار پاتا ہے۔ بعض دوسری روایات اسے حضرت عمر (رض) کے ایمان لانے کے بعد کا واقعہ بتاتی ہیں، اور معلوم ہے کہ وہ ہجرت حبشہ کے بعد ایمان لائے تھے۔ ایک اور سلسلہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوطالب کے آخری مرض کے زمانہ میں وہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔ اسے اگر صحیح مانا جائے تو اس کا زمانہ نزول نبوت کا دسواں یا گیا رہواں سال ہے ۔

تاریخی پس منظر :


امام احمد، نسائی، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے جو روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے اور قریش کے سرداروں نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کا آخری وقت ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ چل کر شیخ سے بات کرنی چاہیے۔ وہ ہمارا اور اپنے بھتیجے کا جھگڑا چکا جائیں تو اچھا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا انتقال ہوجائے اور ان کے بعد ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی سخت معاملہ کریں اور عرب کے لوگ ہمیں طعنہ دیں کہ جب تک شیخ زندہ تھا، یہ لوگ اس کا لحاظ کرتے رہے، اب اس کے مرنے کے بعد ان لوگوں نے اس کے بھتیجے پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اس رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا اور تقریباً 25 سرداران قریش، جن میں ابو جہل، ابو سفیان، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، اسود بن المطلب، عقبہ بن ابی معیط، عتبہ اور شیبہ شامل تھے، ابو طالب کے پاس پہنچے۔ ان لوگوں نے پہلے تو حسب معمول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اپنی شکایات بیان کیں، پھر کہا ہم آپ کے سامنے ایک انصاف کی بات پیش کرنے آئے ہیں۔ آپ کا بھتیجا ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے اور ہم اسے اس کے دین پر چھوڑے دیتے ہیں۔ وہ جس معبود کی عبادت کرنا چاہے کرے، ہمیں اس سے کوئی تعرض نہیں، مگر وہ ہمارے معبودوں کی مذمت نہ کرے اور یہ کوشش نہ کرتا پھرے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ اس شرط پر آپ ہم سے اس کی صلح کرا دیں۔ ابو طالب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا اور آپ سے کہا کہ بھتیجے، یہ تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ تم ایک منصفانہ بات پر ان سے اتفاق کرلو تاکہ تمہارا اور ان کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ پھر انہوں نے وہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی جو سرداران قریش نے ان سے کہی تھی۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا، چچا جان، میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان اور عجم ان کا باج گزار ہوجائے ( حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کو مختلف راویوں نے مختلف الفاظ میں نقل کیا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اریدھم علیٰ کلمۃ واحدۃ یقولونھا تدین لھم بھا العرب و تؤدّی الیھم بھا العجم الجزیرۃ۔ دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں : ادعوھم الیٰ ان یتکلموا بکلمۃ تدین لھم بھا العرب ویملکون بھا العجم۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طالب کے بجائے قریش کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا : کلمۃ واحدۃ تعطونیھا تملکون بھا العرب و تدین لکم بھا العجم اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ارأیتم ان اعطیتکم کلمۃ تکلمتم بھا ملکتم بھا العرب و دانت لکم بھا العجم۔ ان لفظی اختلافات کے باوجود مدعا سب کا یکساں ہے، یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا کہ اگر میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کروں جسے قبول کر کے تم عرب و عجم کے مالک ہوجاؤ گے تو بتاؤ کہ یہ زیادہ بہتر بات ہے یا وہ جسے تم انصار کی بات کہہ کر میرے سامنے پیش کر رہے ہو؟ تمہاری بھلائی اس کلمے کو مان لینے میں ہے یا اس میں کہ جس حالت میں تم پڑے ہو اس میں تم کو پڑا رہنے دوں اور بس اپنی جگہ آپ ہی اپنے خدا کی عبادت کرتا رہوں؟)۔ یہ سن کر پہلے تو وہ لوگ سٹ پٹا گئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر کیا کہہ کر ایسے ایک مفید کلمے کو رد کر دیں۔ پھر کچھ سنبھل کر بولے، تم ایک کلمہ کہتے ہو، ہم ایسے دس کلمے کہنے کو تیار ہیں، مگر یہ تو بتاؤ کہ وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔ اس پر وہ سب یک بارگی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ باتیں کہتے ہوئے نکل گئے جو اس سورۃ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے نقل کی ہیں۔ 


ابن سعد نے طبقات میں یہ سارا قصہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح اوپر مذکور ہوا، مگر ان کی روایت کے مطابق یہ ابو طالب کی مرض وفات کا نہیں بلکہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت عام کی ابتدا کی تھی اور مکہ میں پے در پے یہ خبریں پھیلنی شروع ہوگئی تھیں کہ آج فلاں آدمی مسلمان ہوا اور کل فلاں۔ اس وقت سرداران قریش یکے بعد دیگرے کئی وفد ابو طالب کے پاس لے کر پہنچے تھے تاکہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس تبلیغ سے روک دیں اور انہی وفود میں سے ایک وفد کے ساتھ یہ گفتگو ہوئی تھی۔


زَمخشری، رازی نیسا بوری اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ وفد ابو طالب کے پاس اس وقت گیا تھا جب حضرت عمر (رض) کے ایمان لانے پر سرداران قریش بوکھلا گئے تھے، لیکن کتب روایت میں سے کسی میں اس کا حوالہ ہمیں نہیں مل سکا ہے اور نہ ان مفسرین نے اپنے ماخذ کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم اگر یہ صحیح ہو تو یہ ہے سمجھ میں آنے والی بات۔ اس لیے کہ کفار قریش پہلے ہی یہ دیکھ کر گھبرائے ہوئے تھے کہ اسلام کی دعوت لے کر ان کے درمیان سے ایک ایسا شخص اٹھا ہے جو اپنی شرافت، بےداغ سیرت اور دانائی و سنجیدگی کے اعتبار سے ساری قوم میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ اور پھر اس کا دست راست ابوبکر جیسا آدمی ہے جسے مکے اور اس کے اطراف کا بچہ بچہ ایک نہایت شریف، راستباز اور ذکی انسان کی حیثیت سے جانتا ہے۔ اب جو انہوں نے دیکھا ہوگا کہ عمر بن خطاب جیسا جری اور صاحب عزم آدمی بھی ان دونوں سے جا ملا ہے تو یقیناً انہیں محسوس ہوا ہوگا کہ خطرہ حد برداشت سے گزرتا جا رہا ہے۔ 

موضوع اور مباحث :


اوپر جس مجلس کا ذکر کیا گیا ہے اسی پر تبصرے سے اس سورۃ کا آغاز ہوا ہے۔ کفار اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گفتگو کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کے انکار کی اصل وجہ دعوت اسلامی کا کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ان کا اپنا تکبر اور حسد اور تقلید اعمیٰ پر اصرار ہے۔ یہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اپنی ہی برادری کے ایک آدمی کو خدا کا نبی مان کر اس کی پیروی قبول کرلیں۔ یہ انہی جاہلانہ تخیلات پر جمے رہنا چاہتے ہیں جن پر انہوں نے اپنے قریب کے زمانے کے لوگوں کو پایا ہے، اور جب اس جہالت کے پردے کو چاک کر کے ایک شخص ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کرتا ہے تو یہ اس پر کان کھڑے کرتے ہیں اور اسے عجیب بات بلکہ نرالی اور انہونی بات قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک توحید اور آخرت کا تخیل محض ناقابل قبول ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تخیل ہے جس کا بس مذاق ہی اڑایا جا سکتا ہے۔ 


اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ کے ابتدائی حصے میں بھی اور آخری فقروں میں بھی کفار کو صاف صاف متنبہ کیا ہے کہ جس شخص کا تم آج مذاق اڑا رہے ہو اور جس کی رہنمائی قبول کرنے سے تم کو آج سخت انکار ہے، عنقریب وہی غالب آ کر رہے گا اور وہ وقت دور نہیں ہے جب اسی شہر مکہ میں، جہاں تم اس کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو، اس کے آگے تم سب سرنگوں نظر آؤ گے۔ 


پھر پے در پے 9 پیغمبروں کا ذکر کر کے، جن میں حضرت داؤد  و سلیمان علیہما السلام کا قصہ زیادہ مفصل ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ بات سامعین کے ذہن نشین کرائی ہے کہ اس کا قانون عدل بالکل بےلاگ ہے، اس کے ہاں انسان کا صحیح رویہ ہی مقبول ہے، بےجا بات خواہ کوئی بھی کرے وہ اس پر گرفت کرتا ہے، اور اس کے ہاں وہی لوگ پسند کیے جاتے ہیں جو لغزش پر اصرار نہ کریں بلکہ اس پر متنبہ ہوتے ہی تائب ہوجائیں اور دنیا میں آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔ 


اس کے بعد فرماں بردار بندوں اور سرکش بندوں کے اس انجام کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو وہ عالم آخرت میں دیکھنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کفار کو دو باتیں خاص طور پر بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ آج جن سرداروں اور پیشواؤں کے پیچھے جاہل لوگ اندھے بن کر ضلالت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں، کل وہی جہنم میں اپنے پیروؤں سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو کوس رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آج جن اہل ایمان کو یہ لوگ ذلیل و خوار سمجھ رہے ہیں، کل یہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ ان کا جہنم میں کہیں نام و نشان تک نہیں ہے اور یہ خود اس کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ 


آخر میں قصہ آدم و ابلیس کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سے مقصود کفار قریش کو یہ بتانا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے جھکنے سے جو تکبر تمہیں مانع ہو رہا ہے وہی تکبر آدم کے آگے جھکنے سے ابلیس کو بھی مانع ہوا تھا۔ خدا نے جو مرتبہ آدم کو دیا تھا اس پر ابلیس نے حسد کیا اور حکم خدا کے مقابلے میں سرکشی اختیار کر کے لعنت کا مستحق ہوا۔ اسی طرح جو مرتبہ خدا نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا ہے اس پر تم حسد کر رہے ہو اور اس بات کے لیے تیار نہیں ہو کہ جسے خدا نے رسول مقرر کیا ہے اس کی اطاعت کرو، اس لیے جو انجام ابلیس کا ہونا ہے وہی آخر کار تمہارا بھی ہونا ہے ۔

-------------------------------------------

(تفہیم القرآن جلد چہارم ص 316، سید ابوالاعلی مودودی ؒ )



سورة طٰهٰ : زمانہ نزول، موضوع و مبحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

زمانۂ نزول : 

اس سورۃ کا زمانہ نزول سورۃ مریم کے زمانے قریب ہی کا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ہجرت حبشہ کے زمانے میں یا اس کے بعد نازل ہوئی ہو۔ بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے قبول اسلام سے پہلے یہ نازل ہوچکی تھی۔ 


ان کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید بیٹھے ہوئے حضرت خباب (رض) بن ارت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حضرت عمر کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمر اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انہیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں، ہم مسلمان ہوچکے ہیں، تم سے جو کچھ ہو سکے کرلو۔ حضرت عمر اپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔ بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑ نہ دیں گے۔ پھر کہا کہ تم جب تک غسل نہ کرلو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عمر (رض) نے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں یہی سورۃ طٰہ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا " کیا خوب کلام ہے "۔ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارت، جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے، باہر آ گئے اور کہا کہ " بخدا، مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا، ابوالحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنا دے۔ پس اے عمر، اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو "۔ اس فقرے نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جا کر حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔

موضوع و مبحث :



سورہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ قرآن تم پر کچھ اس لیے نازل نہیں کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے تم کو ایک مصیبت میں ڈال دیا جائے۔ تم سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ پتھر کی چٹانوں سے دودھ کی نہر نکالو، نہ ماننے والوں کو منوا کر چھوڑو، اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کر کے دکھاؤ۔ یہ تو بس ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے تاکہ جس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جو اس کی پکڑ سے بچنا چاہے وہ سن کر سیدھا ہوجائے۔ یہ مالک زمین و آسمان کا کلام ہے۔ اور خدائی اس کے سوا کسی کی نہیں، یہ دونوں حقیقتیں اپنی جگہ اٹل ہیں، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ 


اس تمہید کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ چھیڑ دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک قصے کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ وقت کے حالات کی طرف اس میں کوئی اشارہ تک نہیں ہے۔ مگر جس ماحول میں یہ قصہ سنایا گیا ہے، اس کے حالات سے مل جل کر یہ اہل مکہ سے کچھ اور باتیں کرتا نظر آتا ہے جو اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے بین السطور سے ادا ہو رہی ہیں۔ ان باتوں کی تشریح سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ عرب میں کثیر التعداد یہودیوں کی موجودگی اور اہل عرب پر یہودیوں کے علمی و ذہنی تفوق کی وجہ سے، نیز روم اور حبش کی عیسائی سلطنتوں کے اثر سے بھی، عربوں میں بالعموم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا نبی تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس حقیقت کو نظر میں رکھنے کے بعد اب دیکھیے کہ وہ باتیں کیا ہیں جو اس قصے کے بین السطور سے اہل مکہ کو جتائی گئی ہیں :۔ 


1)۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت اس طرح عطا نہیں کیا کرتا کہ ڈھول تاشے اور نفیریاں بجا کر ایک خلق اکٹھی کرلی جائے اور پھر باقاعدہ ایک تقریب کی صورت میں یہ اعلان کیا جائے کہ آج سے فلاں شخص کو ہم نے نبی مقرر کیا ہے۔ نبوت تو جس کو بھی دی گئی ہے، کچھ اسی طرح بصیغۂ راز دی گئی ہے جیسے حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ اب تمہیں کیوں اس بات پر اچنبھا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یکایک نبی بن کر تمہارے سامنے آگئے اور اس کا اعلان نہ آسمان سے ہوا نہ زمین پر فرشتوں نے چل پھر کر اس کا ڈھول پیٹا۔ ایسے اعلانات پہلے نبیوں کے تقرر پر کب ہوئے تھے کہ آج ہوتے ؟


2 )۔ جو بات آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) ٹھیک وہی بات منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائی تھی۔ 


3)۔ پھر جس طرح آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بغیر کسی سر و سامان اور لاؤ لشکر کے تن تنہا قریش کے مقابلے میں دعوت حق کا علم بردار بنا کر کھڑا کردیا گیا ہے، ٹھیک اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی یکایک اتنے بڑے کام پر مامور کر دیے گئے تھے کہ جا کر فرعون جیسے جبار بادشاہ کو سرکشی سے باز آنے کی تلقین کریں۔ کوئی لشکر ان کے ساتھ بھی نہیں بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے ایسے ہی عجیب ہیں۔ وہ مدین سے مصر جانے والے ایک مسافر کو راہ چلتے پکڑ کر بلا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ جا اور وقت کے سب سے بڑے جابر حکمراں سے ٹکرا جا۔ بہت کیا تو اس کی درخواست پر اس کے بھائی کو مددگار کے طور پر دے دیا۔ کوئی فوج فرّا اور ہاتھی گھوڑے اس کار عظیم کے لیے اس کو نہیں دیئے گئے۔ 


4)۔ جو اعتراضات اور شبہات اور الزامات اور مکر و ظلم کے ہتھکنڈے اہل مکہ آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں استعمال کر رہے ہیں ان سے بڑھ چڑھ کر وہی سب ہتھیار فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں استعمال کیے تھے۔ پھر دیکھ لو کہ کس طرح وہ اپنی ساری تدبیروں میں ناکام ہوا اور آخرکار کا کون غالب آ کر رہا ؟ خدا کا بےسرو سامان نبی ؟ یا لاؤ لشکر والا فرعون ؟ اس سلسلہ میں خود مسلمانوں کو بھی ایک غیر ملفوظ تسلی دی گئی ہے کہ اپنی بےسر و سامانی اور کفار قریش کے سرو سامان پر نہ جائیں، جس کام کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہوتا ہے وہ آخر کار غالب ہی ہو کر رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے ساحران مصر کا نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب حق ان پر منکشف ہوگیا تو وہ بےدھڑک اس پر ایمان لے آئے اور پھر فرعون کے انتقام کا خوف انہیں بال برابر بھی ایمان کی راہ سے نہ ہٹا سکا۔ 


5 )۔ آخر میں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک شہادت پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ دیوتاؤں اور معبودوں کے گھڑے جانے کی ابتدا کس مضحکہ انگیز طریقے سے ہوا کرتی ہے اور یہ کہ خدا کے نبی اس گھناؤنی چیز کا نام و نشان تک باقی رہنے کے کبھی روادار نہیں ہوئے ہیں۔ پس آج اس شرک اور بت پرستی کی جو مخالفت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کر رہے ہیں وہ نبوت کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 


اس طرح قصۂ موسیٰ کے پیرائے میں ان تمام معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس وقت ان کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باہمی کشمکش سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد ایک مختصر وعظ کیا گیا ہے کہ بہرحال یہ قرآن ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے جو تمہاری اپنی زبان میں تم کو سمجھانے کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس پر کان دھرو گے اور اس سے سبق لو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے۔ نہ مانو گے تو خود برا انجام دیکھو گے۔ 


پھر آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس روش پر تم لوگ جا رہے ہو یہ دراصل شیطان کی پیروی ہے۔ اَحیاناً شیطان کے بہکائے میں آجاتا تو خیر ایک وقتی کمزوری ہے جس سے انسان بمشکل ہی بچ سکتا ہے۔ مگر آدمی کے لیے صحیح طریق کار یہ ہے کہ جب اس پر اس کی غلطی واضح کر دی جائے تو وہ اپنے باپ آدم کی طرح صاف صاف اس کا اعتراف کرلے، توبہ کرے، اور پھر خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے۔ غلطی اور اس پر ہٹ اور نصیحت پر نصیحت کیے جانے پر بھی اس سے باز نہ آنا، اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے جس کا نقصان آدمی کو خود ہی بھگتنا پڑے گا، کسی دوسرے کا کچھ نہ بگڑے گا۔ 


آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ان منکرین حق کے معاملے میں جلدی اور بےصبری نہ کرو۔ خدا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر انکار پر فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے۔ 


لہٰذا گھبراؤ نہیں۔ صبر کے ساتھ ان لوگوں کی زیادتیاں برداشت کرتے چلے جاؤ۔ اور نصیحت کا حق ادا کرتے رہو۔ 


اسی سلسلے میں نماز کی تاکید کی گئی ہے تاکہ اہل ایمان میں صبر، تحمل، قناعت، رضا بقضا اور احتساب کی وہ صفات پیدا ہوں جو دعوت حق کی خدمت کے لیے مطلوب ہیں ۔

(تفہیم القرآن جلد سوم ص 83، سید ابوالاعلی مودودیؒ ) 


سورة مَرْیَم : زمانہ نزول، تاریخی پس منظر، موضوع اور مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام :اس سورت کا نام آیت واذکر فی الکتب مریم سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ سورۃ جس میں حضرت مریم کا ذکر آیا ہے۔ 

زمانہ نزول :


اس کا زمانہ نزول ہجرت حبشہ سے پہلے کا ہے۔ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجرین اسلام جب نجاشی کے دربار میں بلائے گئے تھے اس وقت حضرت جعفر نے یہی سورۃ بھرے دربار میں تلاوت کی تھی۔ 

تاریخی پس منظر :


جس دور میں یہ سورۃ نازل ہوئی اس کے حالات کی طرف ہم کسی حد تک سورۃ کہف کے دیباچے میں اشارہ کرچکے ہیں لیکن وہ مختصر اشارہ اس سورے کو اور اس دور کی دوسری سورتوں کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس لئے ہم ذرا اس وقت کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ 


قریش کے سردار جب تضحیک، استہزاء اطماع تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر سے تحریک اسلامی کو دبانے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے شروع کیے۔ ہر قبیلے کے لوگوں نے اپنے اپنے قبیلے کے نو مسلموں کو تنگ پکڑا اور طرح طرح سے ستا کر، قید کر کے بھوک پیاس کی تکلیفیں دے کر، حتی کہ سخت جسمانی اذیتیں دے دے کر انہیں اسلام چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ غریب لوگ اور وہ غلام اور سوالی جو قریش والوں کے تحت زیر دست کی حیثیت سے رہتے تھے، بری طرح پیسے گئے۔ مثلاً بلال، عامر بن مہر، ام عبیس، زبیرہ، عمار بن یاسر اور ان کے والدین وغیرہم، ان لوگوں کو مار مار کر ادھ موا کردیا جاتا، بھوکا پیاسا بند رکھا جاتا، مکے کی تپتی ہوئی ریت چلچلاتی دھوپ میں لٹا دیا جاتا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ کر گھنٹوں تڑپایا جاتا۔ جو لوگ پیشہ ور تھے ان سے کام لے لیا جاتا اور اجرت ادا کرنے میں پریشان کیا جاتا۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت خباب بن ارت کی یہ روایت موجود ہے کہ : 


'' میں مکے میں لوہار کا کام کرتا تھا، مجھ سے عاص بن وائل نے کام لیا، پھر جب میں اس سے اجرت لینے گیا تو اس نے کہا کہ تیری اجرت نہ دونگا جب تک تو محمد کا انکار نہ کرے"


اسی طرح جو لوگ تجارت کرتے تھے ان کے کاروبار کو برباد کرنے کی کوششیں کی جاتیں اور جو معاشرے میں کچھ عزت کا مقام رکھتے ان کو ہر طریقے سے ذلیل و رسوا کیا جاتا۔ اسی زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت خباب کہتے ہیں کہ ایک روز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا " یا رسول اللہ۔ اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے۔ آپ خدا سے دعا نہیں فرماتے ؟ " یہ سن کر آپ کا چہرہ مبارک تمتما اٹھا اور آپ نے فرمایا " تم سے پہلے جو اہل ایمان تھے ان پر اس سے زیادہ مظالم ہوچکے ہیں۔ ان کی ہڈیوں پر لوہے کی کنگھیاں گھسی جاتی تھیں، ان کے سروں پر رکھ کر آرے چلائے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھر تے تھے۔ یقین جانو کہ اللہ اس کام کو پورا کر کے رہے گا یہاں تک کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ ایک آدمی صنعاء سے حضر موت تک بےکھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا، مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو" (بخاری)۔

یہ حالات جب ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئے تو رجب 45 ہجری عام الفیل (شہ نبوی ) میں حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ لوخرجتم الی ارض الحبشتہ فان بھا ملکا لایطیلم عندہ احد وھی ارض صد حتی یجعل اللہ لکم فرجا مما انتم فیہ ۔


'' اچھا ہو کہ تم لوگ نکل کر حبش چلے جاؤ۔ وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ بھلائی کی سر زمین ہے۔ جب تک اللہ تمہاری اس مصیبت کو رفع کرنے کی کوئی صورت پیدا کرے، تم لوگ وہاں ٹھیرے رہو۔ ''


اس ارشاد کی بنا پر پہلے گیارہ مردوں اور چار خواتین نے حبش کی راہ لی۔ قریش کے لوگوں نے ساحل تک ان کا پیچھا کیا، مگر خوش قسمتی سے شعیبہ کے بندرگاہ پر ان کو بر وقت حبش کے لئے کشتی مل گئی اور وہ گرفتار ہونے سے بچ گئے۔ پھر چند مہینوں کے اندر مزید لوگوں نے ہجرت کی یہاں تک کہ 83 مرد گیارہ عورتیں اور 7 غیر قریشی مسلمان حبش میں جمع ہوگئے اور مکے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صرف 40 آدمی رہ گئے۔ 


اس ہجرت سے مکے کے گھر گھر میں کہرام مچ گیا، کیونکہ قریش کے بڑے اور چھوٹے خاندانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چشم و چراغ ان مہاجرین میں شامل نہ ہوں۔ کسی کا بیٹا گیا تو کسی کا داماد، کسی کی بیٹی گئی تو کسی کا بھائی اور کسی کی بہن۔ ابو جہل کے بھائی اور کسی کی بہن۔ ابو جہل کے بھائی سلمہ بن ہشام، اس کے چچا زاد بھائی ہشام بن ابی حذیفہ اور عیاش بن ابی ربیعہ اور اس کی چچا زاد بہن حضرت ام سلمہ، ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبیہ۔ عتبہ کے بیٹے اور ہند جگر خوار کے سگے بھائی ابو حذیفہ۔ سہل بن عمرد کی بیٹی سلہلہ۔ اور اسی طرح دوسرے سردار قریش اور مشہور دشمنان اسلام کے اپنے جگر گوشے دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اسی لئے کوئی گھر نہ تھا جو اس واقعہ سے متاثر نہ ہوا ہو۔ بعض لوگ اس کی وجہ سے اسلام دشمنی میں پہلے سے زیادہ سخت ہوگئے۔ اور بعض کے دلوں پر اس کا اثر ایسا ہوا کہ آخر کار وہ مسلمان ہو کر رہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) کی اسلام دشمنی پر پہلی چوٹ اسی واقعہ سے لگی۔ ان کی ایک قریبی رشتہ دار لیلی بنت حشمہ بیان کرتی ہیں کہ میں ہجرت کے لئے اپنا سامان باندھ رہی تھی، اور میرے شوہر عامر بن ربیعہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اتنے میں عمر (رض) آئے اور کھڑے ہو کر میری مشغولیت کو دیکھتے رہے کچھ دیر کے بعد کہنے لگے ''عبداللہ کی ماں، جارہی ہو'' ؟ میں نے کہا '' ہاں خدا کی قسم تم لوگوں نے ہمیں ستایا۔ خدا کی زمین کھلی پڑی ہے، اب ہم کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں خدا ہمیں چین دے " یہ سن کر عمر کے چہرے پر رقت کے ایسے آثار طاری ہوئے جو میں نے کبھی ان پر نہ دیکھے تھے اور وہ بس یہ کہہ کر نکل گئے کہ " خدا تمہارے ساتھ ہو" ۔


ہجرت کے بعد قریش کے سردار سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے طے کیا کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابو جہل کے ماں جائے بھائی ) اور عمر و بن عاص کو بہت سے قیمتی تحائف کے ساتھ حبش بھیجا جائے اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح نجاشی کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ ان مہاجرین کو مکہ واپس بھیج دے۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ نے (جو خود مہاجرین حبشہ میں شامل تھیں ) یہ واقعہ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ قریش کے یہ دونوں ماہر سیاست سفیر ہمارے تعاقب میں حبش پہنچے۔ پہلے انہوں نے نجاشی کے اعیان سلطنت میں خو ہدیہ تقسیم کر کے سب کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ مہاجرین کو واپس کرنے کے لئے نجاشی پر بالاتفاق زور دیں گے۔ پھر نجاشی سے ملے اور اس کو بیش قیمت نذرانہ دینے کے بعد کہا کہ '' ہمارے شہر کے چند نادان لونڈے بھاگ کر آپ کے ہاں آ گئے ہیں قوم کے اشرف نے ہمیں آپ کے پاس ان کی واپسی کو درخواست کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ یہ لڑ کے ہمارے دین سے نکل گئے ہیں اور آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے ایک نرالا دین نکال لیا ہے'' ان کا کلام ختم ہوتے ہی اہل دربار ہر طرف سے بولنے لگے کہ " ایسے لوگوں کو ضرور واپس کر دینا چاہیے، ان کی قوم کے لوگ زیادہ جانتے ہیں کہ ان میں کیا عیب ہے۔ انہیں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ مگر نجاشی نے بگڑ کر کہا کہ " اس طرح تو میں انہیں حوالے نہیں کروں گا۔ جن لوگوں نے دوسرے ملک کو چھوڑ کر میرے ملک پر اعتماد کیا اور یہاں پناہ لینے کے لئے آئے ان سے میں بےوفائی نہیں کرسکتا پہلے میں انہیں بلا کر تحقیق کروں گا کہ یہ لوگ ان کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے " چنانچہ نجاشی نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے دربار میں بلا بھیجا۔ 


نجاشی کا پیغام پا کر سب مہاجرین جمع ہوئے اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بادشاہ کے سامنے کیا کہنا ہے۔ آخر سب نے بالاتفاق یہ فیصلہ کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تعلیم ہمیں دی ہے ہم تو وہی بےکم و کاست پیش کریں گے خواہ نجاشی ہمیں رکھے یا نکال دے۔ دربار میں پہنچے تو چھوٹتے ہی نجاشی نے سوال کیا کہ " یہ تم لوگوں نے کیا کیا کہ اپنی قوم کا دین بھی چھوڑا اور میرے دین میں بھی داخل نہ ہوئے، نہ دنیا کے دوسرے ادیان ہی میں سے کسی کو اختیار کیا ؟ آخر یہ تمہارا نیا دین ہے کیا ''؟ اس پر مہاجرین کی طرف سے جعفر بن ابی طالب نے ایک برجستہ تقریر کی جس میں پہلے عرب جاہلیت کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کو بیان کیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا ذکر کر کے بتایا کہ آپ کیا تعلیمات پیش فرماتے ہیں، پھر ان مظالم کا ذکر کیا جو آنحضور کی پیروی اختیار کرنے والوں پر قریش کے لوگ ڈھا رہے تھے، اور اپنا کلام اس بات پر ختم کیا کہ دوسرے ملکوں کے بجائے ہم نے آپ کے ملک کا رخ اس امید پر کیا ہے کہ یہاں ہم پر ظلم نہ ہوگا۔ نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا کہ ذرا مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تم کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے تمہارے نبی پر اترا ہے۔ حضرت جعفر نے جواب میں سورۃ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنایا جو حضرت یحیی اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے متعلق ہے۔ نجاشی اس کو سنتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ اس کی ڈاڑھی تر ہوگئی جب حضرت جعفر نے تلاوت ختم کی تو اس نے کہا کہ '' یقیناً یہ کلام اور جو کچھ عیسیٰ لائے تھے دونوں ایک ہی سر چشمے سے نکلے ہیں۔ خدا کی قسم میں تمھیں ان لوگوں کے حوالے نہ کروں گا "۔ 


دوسرے روز عمر و بن العاص نے نجاشی سے کہا کہ '' ذرا ان لوگوں سے بلا کر یہ تو پوچھیے کہ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا ہے۔ یہ لوگ ان کے متعلق ایک بڑی بات کہتے ہیں '' نجاشی نے پھر مہاجرین کو بلا بھیجا۔ مہاجرین کو پہلے سے عمرو ذکی کی چال کا علم ہوچکا تھا۔ انہوں نے جمع ہو کر پھر مشورہ کیا کہ اگر نجاشی نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تو کیا جواب دو گے ؟ موقع بڑا نازک تھا اور سب اس سے پریشان تھے۔ مگر پھر بھی اصحاب رسول اللہ نے یہی فیصلہ کیا کہ جو کچھ ہوتا ہے ہوجائے ہم تو وہی بات کہیں گے جو اللہ نے فرمائی اور اللہ کے رسول نے سکھائی۔ چنانچہ جب یہ لوگ دربار میں گئے اور نجاشی نے عمرو بن العاص کا پیش کردہ سوال ان کے سامنے دہرایا تو جعفر بن ابی طالب نے اٹھ کر بلا تامل کہا کہ " ھو عبداللہ و رسولہ و روحہ وکلمتہ القاھا الی مریم العذراء البتول۔ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا کیا '' نجاشی نے سن کر ایک تنکا زمین سے اٹھایا اور کہا '' خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا ہے عیسیٰ اس سے تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں تھے ۔'' اس کے بعد نجاشی نے قریش کے بھیجے ہوئے تمام ہدیے یہ کہہ کر واپس کر دیے کہ میں رشوت نہیں لیتا اور مہاجرین سے کہا کہ تم بالکل اطمینان کے ساتھ رہو۔ 


موضوع اور مضمون :



اس تاریخی پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر جب ہم اس سورے کو دیکھتے ہیں تو اس میں اولیں بات نمایاں ہو کر ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ اگرچہ مسلمان ایک مظلوم پناہ گزیں گروہ کی حیثیت سے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملک میں جا رہے تھے، مگر اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو دین کے معاملے میں ذرہ برابر مداہنت کرنے کی تعلیم نہ دی، بلکہ چلتے وقت زاد راہ کے طور پر یہ سورۃ ان کے ساتھ کی تاکہ عیسائیوں کے ملک میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی بالکل صحیح حیثیت پیش کریں اور انکے ابن اللہ ہونے کا صاف صاف انکار کر دیں۔ 


پہلے دو رکوعوں میں یحیی اور عیسیٰ کا قصہ سنا نے کے بعد پھر تیسرے رکوع میں حالات زمانہ کی مناسبت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنایا گیا ہے کیونکہ ایسے ہی حالات میں وہ بھی اپنے باپ اور خاندان اور اہل ملک کے ظلم سے تنگ آ کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اس سے ایک طرف کفار مکہ کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ آج ہجرت کرنے والے مسلمان ابراہیم (علیہ السلام) کی پوزیشن میں ہیں اور تم لوگ ان ظالموں کی پوزیشن میں ہو جنہوں نے تمہارے باپ اور پیشواؤ ابراہیم (علیہ السلام) کو گھر سے نکالا تھا۔ دوسری طرف مہاجرین کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) وطن سے نکل کر تباہ نہ ہوئے بلکہ اور زیادہ سر بلند ہوگئے ایسا ہی انجام نیک تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ 


اس کے بعد چوتھے رکوع میں دوسرے انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام وہی دین لے کر آئے تھے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لائے ہیں، مگر انبیاء کے گزر جانے کے بعد ان کی امتیں بگڑتی رہی ہیں اور آج مختلف امتوں میں جو گمراہیاں پائی جا رہی ہیں یہ اسی بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔ 


آخری دو رکوعوں میں کفار مکہ کی گمراہیوں پر سخت تنقید کی گئی ہے اور کلام ختم کرتے ہوئے اہل ایمان کو مژدہ سنایا گیا ہے کہ دشمنان حق کی ساری کوششوں کے باوجود بالآخر تم محبوب خلائق ہو کر رہو گے۔

-----------------------------

(تفہیم القرآن جلد سوم ص 51،  سید ابوالاعلی مودودیؒ )

مکہ کے آخری دور کی سورتوں کا پس منظر ( سورة الْكَهْف)


نام : اس سورۃ کا نام پہلے رکوع کی نویں آیت" اِذْ اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْکَھْفِ " سے ماخوذ ہے۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت جس میں کہف کا لفظ آیا ہے۔ 


زمانۂ نزول :



یہاں سے ان سورتوں کا آغاز ہوتا ہے جو مکی زندگی کے تیسرے دور میں نازل ہوئی ہیں۔ مکی زندگی کو ہم نے چار بڑے بڑے دوروں میں تقسیم کیا ہے جن کی تفصیل سورۃ الانعام کے دیباچے میں گزر چکی ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے تیسرا دور تقریبا ٥ نبوی کے آغاز سے شروع ہو کر قریب قریب ١٠ نبوی تک چلتا ہے۔ اس دور کو جو چیز دوسرے دور سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے دور میں تو قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی تحریک اور جماعت کو دبانے کے لیے زیادہ تر تضحیک، استہزاء، اعتراضات، الزامات، تخویف، اطماع اور مخالفانہ پروپیگنڈے پر اعتماد کر رکھا تھا، مگر اس تیسرے دور میں انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار پوری سختی کے ساتھ استعمال کیے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک چھوڑ کر حبش کی طرف نکل جانا پڑا اور باقی ماندہ مسلمانوں کو اور ان کے ساتھ خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے خاندان کو شعب ابی طالب میں محصور کر کے ان کا مکمل معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کردیا گیا۔ تاہم اس دور میں دو شخصیتیں ابو طالب اور ام طالب اور ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) ایسی تھیں جن کے ذاتی اثر کی وجہ سے قریش کے دو بڑے خاندان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ ١٠ نبوی میں ان دونوں کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ دور ختم ہوگیا اور چوتھا دور شروع ہوا جس میں مسلمانوں پر مکے کی زندگی تنگ کر دی گئی یہاں تک کہ آخرکار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکل جانا پڑا۔ 


سورہ کہف کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تیسرے دور کے آغاز میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ ظلم و ستم اور مزاحمت نے شدت تو اختیار کرلی تھی، مگر ابھی ہجرت حبشہ واقع نہ ہوئی تھی۔ اس وقت جو مسلمان ستائے جا رہے تھے ان کو اصحاب کہف کا قصہ سنایا گیا تاکہ ان کی ہمت بندھے اور انہیں معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کرچکے ہیں۔ 


موضوع اور مضمون :


یہ سورۃ مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی ہے جو انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے : اصحاب کہف کون تھے ؟ قصہ خضر (علیہ السلام) کی حقیقت کیا ہے ؟ (روایات میں آتا ہے کہ دوسرا سوال روح کے متعلق تھا جس کا جواب سورۃ بنی اسرائیل رکوع ١٠ میں دیا گیا ہے۔ مگر سورۃ کہف اور بنی اسرائیل کے زمانہ نزول میں کئی سال کا فرق ہے، اور سورۃ کہف میں دو کے بجائے تین قصے بیان کیے گئے ہیں، اس لیے ہم سمجھتے کہ دوسرا سوال در اصل قصہ خضر سے متعلق تھا نہ کہ روح سے متعلق۔ خود قرآن میں بھی ایک اشارہ ایسا موجود ہے جس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے " ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر ٦١ " )۔ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے ؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا۔ اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے انکا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات کھل جائے کہ واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی غیبی ذریعہ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا، بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اس صورت حال پر چسپاں بھی کردیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان در پیش تھی : 


١)۔ اصحاب کہف کے متعلق بتایا کہ وہ اسی توحید کے قائل تھے جس کی دعوت یہ قرآن پیش کر رہا ہے، اور ان کا حال مکے کے مٹھی بھر مظلوم مسلمانوں کے حال سے اور ان کی قوم کا رویہ کفار قریش کے رویہ سے کچھ مختلف نہ تھا۔ پھر اسی قصے سے اہل ایمان کو یہ سبق دیا کہ اگر کفار کا غلبہ بےپناہ ہو اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جا رہی ہو، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہئے بلکہ اللہ کے بھروسے پر تن بتقدیر نکل جانا چاہیے۔ اسی سلسلے میں ضمناً کفار مکہ کو یہ بھی بتایا کہ اصحاب کہف کا قصہ عقیدۂ آخرت کی صحت کا ایک ثبوت ہے۔ جس طرح خدا نے اصحاب کہف کو ایک مدت دراز تک موت کی نیند سلانے کے بعد پھر جلا اٹھایا اسی طرح اس کی قدرت سے وہ بعث بعد الموت بھی کچھ بعید نہیں ہے جسے ماننے سے تم انکار کر رہے ہو۔ 


٢)۔ اصحاب کہف کے قصے سے راستہ نکال کر اس ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل پر گفتگو شروع کر دی گئی جو مکے کے سردار اور کھاتے پیتے لوگ اپنی بستی کی چھوٹی سی نو مسلم جماعت کے ساتھ برت رہے تھے۔ اس سلسلے میں ایک طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی گئی کہ نہ ان ظالموں سے کوئی مصالحت کرو اور نہ اپنے غریب ساتھیوں کے مقابلے میں ان بڑے بڑے لوگوں کو کوئی اہمیت دو۔ دوسری طرف ان رئیسوں کو نصیحت کی گئی کہ اپنے چند روزہ عیش زندگانی پر نہ پھولو بلکہ ان بھلائیوں کے طالب بنو جو ابدی اور پائدار ہیں۔ 


٣)۔ اسی سلسلۂ کلام میں قصہ خضر و موسیٰ کچھ اس انداز سے سنایا گیا کہ اس میں کفار کے سوالات کا جواب بھی تھا اور مومنین کے لیے سامان تسلی بھی۔ اس قصے میں دراصل جو سبق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ چونکہ تمہاری نظر سے پوشیدہ ہیں اس لیے تم بات بات پر حیران ہوتے ہو کہ یہ کیوں ہوا ؟ یہ کیا ہوگیا ؟ یہ تو بڑا غضب ہوا ! حالانکہ اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو تمہیں خود معلوم ہوجائے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے اور بظاہر جس چیز میں برائی نظر آتی ہے، آخر کار وہ بھی کسی نتیجہ خیر ہی کے لیے ہوتی ہے۔ 


٤ )۔ اس کے بعد قصۂ ذوالقرنین ارشاد ہوتا ہے اور اس میں سائلوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم تو اپنی اتنی ذرا ذرا سی سرداریوں پر پھول رہے ہو، حالانکہ ذوالقرنین اتنا بڑا فرمانروا اور ایسا زبردست فاتح اور اس قدر عظیم الشان ذرائع کا مالک ہو کر بھی اپنی حقیقت کو نہ بھولا تھا اور اپنے خالق کے آگے ہمیشہ سر تسلیم خم رکھتا تھا۔ نیز یہ کہ تم اپنی ذرا ذرا سی حویلیوں اور بغیچوں کی بہار کو لازوال سمجھ بیٹھے ہو، مگر وہ دنیا کی سب سے زیادہ مستحکم دیوار تحفظ بنا کر بھی یہی سمجھتا تھا کہ اصل بھروسے کے لائق اللہ ہے نہ کہ یہ دیوار۔ اللہ کی مرضی جب تک ہے یہ دیوار دشمنوں کو روکتی رہے گی۔ اور جب اس کی مرضی کچھ اور ہوگی تو اس دیوار میں رخنوں اور شگافوں کے سوا کچھ نہ رہے گا۔ 


اس طرح کفار کے امتحانی سوالات کو انہی پر پوری طرح الٹ دینے کے بعد خاتمۂ کلام میں پھر ان ہی باتوں کو دہرا دیا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوئی ہیں، یعنی یہ کہ توحید اور آخرت سراسر حق ہیں اور تمہاری اپنی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں مانو۔ ان کے مطابق اپنی اصلاح کرو اور خدا کے حضور اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے دنیا میں زندگی بسر کرو۔ ایسا نہ کرو گے تو تمہاری اپنی زندگی خراب ہوگی اور تمہارا سب کچھ کیا کرایا اکارت جائے گا۔


(تفہیم القرآن جلد سوم ص 5 ، سید ابوالاعلی مودودیؒ )

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل : زمانہ نزول، پس منظر، موضوع و مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ

نام : آیت ٤ کے فقرے " وَقَضَیْنَآ اِلیٰ بَنِیْٓ اِسْرَآ ئِیْلَ فِی اْلکِتٰبِ " سے ماخوذ ہے۔ مگر اس میں موضوع بحث بنی اسرائیل میں ہیں، بلکہ یہ نام بھی اکثر قرآنی سورتوں کی طرح صرف علامت کے طور پر رکھا گیا ہے۔

زمانہ نزول :


پہلی ہی آیت اس بات کی نشان دہی کر دیتی ہے کہ یہ سورت معراج کے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ معراج کا واقعہ حدیث اور سیرت کی اکثر روایات کے مطابق ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا تھا اس لیے یہ سورت بھی انہی سورتوں میں سے ہے جو مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئیں۔ 

پس منظر :


اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو توحید کی آواز بلند کرتے ہوئے ١٢ سال گزر چکے تھے۔ آپ کے مخالفین آپ کا راستہ روکنے کے لیے سارے جتن کرچکے تھے۔ مگر ان کی تمام مزاحمتوں کے با وجود آپ کی آواز عرب کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی تھی۔ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہ رہا تھا جس میں دو چار آدمی آپ کی دعوت سے متاثر نہ ہوچکے ہوں۔ خود مکے میں ایسے مخلص لوگوں کا ایک مختصر جتھا بن چکا تھا جو ہر خطرے کو اس دعوت حق کی کامیابی کے لیے انگیز کرنے کو تیار تھے۔ مدینے میں اوس اور خزرج کے طاقتور قبیلوں کی بڑی تعداد آپ کی حامی بن چکی تھی۔ اب وہ وقت قریب آلگا تھا جب آپ کو مکے سے مدینے کی طرف منتقل ہوجانے اور منتشر مسلمانوں کو سمیٹ کر اسلام کے اصولوں پر ایک ریاست قائم کر دینے کا موقع ملنے والا تھا۔


ان حالات میں معراج پیش آئی، اور واپسی پر یہ پیغام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کو سنایا۔ 

موضوع اور مضمون :


اس سورت میں تنبیہ، تفہیم اور تعلیم، تینوں ایک متناسب انداز میں جمع کر دی گئی ہیں ۔

تنبیہ، کفار مکہ کو کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل اور دوسری قوموں کے انجام سے سبق لو اور خدا کی دی ہوئی مہلت کے اندر، جس کے ختم ہونے کا زمانہ قریب آلگا ہے، سنبھل جاؤ، اور اس دعوت کو قبول کرلو سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے ذیعہ سے پیش کیا جا رہا ہے، ورنہ مٹا دیے جاؤ گے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگ زمین پر بسائے جائیں گے۔ نیز ضمنا بنی اسرائیل کو بھی، جو ہجرت کے بعد عنقریب زبان وحی کے مخاطب ہونے والے تھے، یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ پہلے جو سزائین تمہیں مل چکی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو اور اب جو موقع تمہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے مل رہا ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ، یہ آخری موقع بھی اگر تم نے کھو دیا اور پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو دردناک انجام سے دوچار ہوگے۔


تفہیم کے پہلو میں بڑے دلنشین طریقے سے سمجھا یا گیا ہے کہ انسانی سعادت و شقاوت اور فلاح و ان شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو ان بنیادی حقیقتوں کے بارے میں کفار مکہ کی طرف سے پیش کیے جاتے تھے۔ اور استدلال کے ساتھ بیچ بیچ میں منکو ین کی جہالتوں پر زجرو وبیخ بھی کی گئی ہے۔


تعلیم کے پہلو میں اخلاق اور تمدن کے وہ بڑے بڑے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر زندگی کے نظام کو قائم کرنا دعوت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش نظر تھا۔ یہ گویا اسلام کا منشور تھا جو اسلامی ریاست کے قیام سے ایک سال پہلے اہل عرب کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ اس میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ یہ خاکہ ہے جس پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ملک کی اور پھر پوری انسانیت کی زندگی کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں ۔


ان سب باتوں کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشکلات کے اس طوفان میں مضبوطی کے ساتھ ساتھ اپنے موقف پر جمے رہیں اور کفر کے ساتھ مصالحت کا خیال تک نہ کریں۔ نیز مسلمانوں کو، جو کبھی کبھی کفار کے ظلم و ستم اور ان کی کج بحثیوں، اور ان کے طوفان کذب و افتراء پر بےساختہ جھنجھلا اٹھے تھے، تلقین کی گئی ہے کہ پورے صبر وسکون کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے رہیں اور تبلیغ و اصلاح کے کام میں اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ اس سلسلہ میں اصلاح نفس اور تزکیہ نفس کے لیے ان کو نماز کا نسخہ بتایا گیا ہے، کہ یہ وہ چیز ہے جو تم کو ان صفات عالیہ سے متصف کرے گے جس سے راہ حق کے مجاہدوں کو آراستہ ہونا چاہیے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب پنج وقتہ نماز پابندی اوقات کے ساتھ مسلمانوں پر فرض کی گئی۔

----------------------------------------------------

(تفہیم القرآن جلد دوم ، سید ابوالاعلی مودودیؒ )

سورة الْجِنّ : زمانہ نزول، موضوع و مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : الجن اس سورت کا نام بھی ہے اور اس کے مضامین کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں جنوں کے قرآن سن کر جانے اور اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول :


بخاری اور مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چند اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں نخلہ کے مقام پر آپ نے صبح کی نماز پڑھائی، اس وقت جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گذر رہا تھا، تلاوت کی آواز سن کر ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا۔ اسی واقعے کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔


اکثر مفسرین نے اس روایت کی بنا پر یہ سمجھا ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشہور سفر طائف کا واقعہ ہے جو ہجرت سے تین سال پہلے 10 نبوی میں پیش آیا تھا لیکن یہ قیاس متعدد وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ طائف کے اس سفر میں جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کا قصہ سورۃ احقاف آیات 29 – 32 میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس موقع پر جو جن قرآن مجید سن کر ایمان لائے تھے وہ پہلے سے حضرت موسیٰ اور سابق کتب آسمانی پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے برعکس اس سورت کی آیات 2 – 7 میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرکین اور منکرین آخرت و رسالت میں سے تھے۔ پھر یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ طائف کے اس سفر میں حضرت زید بن حارثہ (رض) کے سوا اور کوئی حضور کے ساتھ نہ تھا۔ بخلاف اس کے اس سفر کے متعلق ابن عباس فرما رہے ہیں کہ اس میں چند صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔ مزید برآں روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس سفر میں جنوں نے قرآن اس وقت سنا تھا جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طائف سے مکہ واپس تشریف لاتے ہوئے نخلہ میں ٹھہرے تھے۔ اور اس سفر میں ابن عباس کی روایت کے مطابق جنوں کے قرآں سننے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ مکہ سے عکاظ تشریف لے جا رہے تھے۔ ان وجوہ سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورۃ احقاف اور سورۃ جن میں ایک ہی واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ دو الگ واقعات تھے جو دو مختلف سفروں میں پیش آئے تھے۔


جہاں تک سورۃ احقاف کا تعلق ہے، اس میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں روایات متفق ہیں کہ وہ 10 نبوی میں سفر طائف میں پیش آیا تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ دوسرا واقعہ کس زمانے میں پیش آیا، اس کا کوئی جواب ہمیں ابن عباس (رض) کی روایت سے نہیں ملتا، نہ کسی اور تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ کے بازار میں کب تشریف لے گئے تھے۔ البتہ اس سورت کی آیات 8 – 10 پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ نبوت کے ابتدائی دور کا واقعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جن عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے کے لیے آسمان میں سن گن لینے کا کوئی نہ کوئی موقع پا لیتے تھے، مگر اس کے بعد یکایک انہوں نے دیکھا کہ ہر طرف فرشتوں کے سخت پہرے لگ گئے ہیں اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے جس کی وجہ سے کہیں ان کو ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں ٹھہر کر وہ کوئی بھنک پا سکیں۔ اس سے ان کو یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ زمین میں ایسا کیا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کے لیے یہ سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ غالباً اسی وقت سے جنوں کے بہت سے گروہ اس تلاش میں پھرتے رہے ہوں گے اور ان میں سے ایک گروہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے قرآن سن کر یہ رائے قائم کی ہوگی کہ یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر جنوں پر عالم بالا کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں ۔

جن کی حقیقت :


اس سورت کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ جنوں کی حقیقت کیا ہے تاکہ ذہن کسی الجھن کا شکار نہ ہوں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جن کسی حقیقی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بھی پرانے زمانے کے اوہام اور خرافات میں سے ایک بےبنیاد خیال ہے۔ یہ رائے انہوں نے کچھ اس بنا پر قائم نہیں کی ہے کہ کائنات کی ساری حقیقتوں کو وہ جان چکے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ جن کہیں موجود نہیں ہیں۔ ایسے علم کا دعویٰ وہ خود بھی نہیں کرسکتے مگر انہوں نے بلا دلیل یہ فرض کرلیا ہے کہ کائنات میں بس وہی کچھ موجود ہے جو ان کو محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ انسان کے محسوسات کا دائرہ اس عظیم کائنات کی وسعت کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جو سمندر کے مقابلے میں قطرے کی نسبت ہے۔ یہاں جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ محسوس نہیں ہے وہ موجود نہیں ہے اور جو موجود ہے اسے لازماً محسوس ہونا چاہیے، وہ دراصل خود اپنے ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے۔ یہ طرز فکر اختیار کرلیا جائے تو ایک جن ہی کیا، انسان کسی ایسی حقیقت کو بھی نہیں مان سکتا جو براہ راست اس کے تجربے اور مشاہدے میں نہ آتی ہو اور اس کے لیے خدا تک کا وجود قابل تسلیم نہیں ہے کجا کہ وہ کسی اور غیر محسوس حقیقت کو تسلیم کرے۔


مسلمانوں میں جو لوگ اس طرز فکر سے متاثر ہیں، مگر قرآن کا انکار بھی نہیں کرسکتے، انہوں نے جن اور ابلیس اور شیطان کے متعلق قرآن کے صاف صاف بیانات کو طرح طرح کی تاویلات کا تختۂ مشق بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد کوئی ایسی پوشیدہ مخلوق نہیں ہے جو اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہو، بلکہ کہیں تو اس سے مراد انسان کی اپنی بہیمی قوتیں ہیں جنہیں شیطان کہا گیا ہے، اور کہیں اس سے مراد وحشی اور جنگلی اور پہاڑی قومیں ہیں، اور کہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو چھپ چھپ کر قرآن سنا کرتے تھے۔ لیکن قرآن مجید کے ارشادات اس معاملے میں اس قدر صاف اور صریح ہیں کہ ان تاویلات کے لیے ان کے اندر کوئی ادنٰی سی گنجائش بھی موجود نہیں ہے۔


قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر جن اور انسان کا ذکر اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ یہ دو الگ الگ قسم کی مخلوقات ہیں۔ سورۃ اعراف آیت 38، ہود آیت 119، حم السجدہ آیات 25 – 29، الاحقاف آیت 18، الذاریات آیت 56، الناس آیت 6 اور سورۃ رحمان تو پوری کی پوری اس پر ایسی صریح شہادت دیتی ہے کہ جنوں کو انسانوں کی کوئی قسم سمجھنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی۔


سورۂ اعراف آیت 12، سورۃ حجر آیات 26 – 27 اور سورۃ رحمان آیات 14 – 15 میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ انسان کا مادۂ تخلیق مٹی ہے اور جنوں کا مادۂ تخلیق آگ۔


سورۂ حجر آیت 27 میں صراحت کی گئی ہے کہ جن انسان سے پہلے پیدا کیے گئے تھے۔ اسی بات پر قصۂ آدم و ابلیس شہادت دیتا ہے جو قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کے وقت ابلیس موجود تھا۔ نیز سورۃ کہف آیت 50 میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے ہے۔


سورۂ اعراف آیت 27 میں بالفاظ صریح یہ کہا گیا ہے کہ جن انسانوں کو دیکھتے ہیں مگر انسان ان کو نہیں دیکھتے۔


سورۂ حجر آیات 16 – 17، سورۃ صافات آیات 6 – 10 اور سورۃ ملک آیت 5 میں بتایا گیا ہے کہ جن اگرچہ عالم بالا کی طرف پرواز کرسکتے ہیں، مگر ایک حد سے آگے نہیں جا سکتے۔ اس سے اوپر جانے کی کوشش کریں اور ملاء اعلٰی کی باتیں سننا چاہیں تو انہیں روک دیا جاتا ہے۔ چوری چھپے سن گن لیں تو شہاب ثاقب ان کو مار بھگاتے ہیں۔ اس سے مشرکین عرب کے اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ جن غیب کا علم رکھتے ہیں یا خدائی کے اسرار تک انہیں کوئی رسائی حاصل ہے۔ اسی غلط خیال کی تردید سورۃ سبا آیت 14 میں بھی کی گئی ہے۔


سورۂ بقرہ آیات 30 – 34 اور سورۃ کہف آیت 50 سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی خلافت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اور انسان جنوں سے افضل مخلوق ہے۔ اگرچہ بعض غیر معمولی طاقتیں جنوں کو بھی بخشی گئی ہیں جن کی ایک مثال ہمیں سورۃ نمل آیت 7 میں ملتی ہے، لیکن اسی طرح بعض طاقتیں حیوانات کو بھی انسان سے زیادہ ملی ہیں، اور وہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہیں کہ جانوروں کو انسان پر فضیلت حاصل ہے۔


قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جن انسان کی طرح ایک با اختیار مخلوق ہے اور اس کو طاعت و معصیت اور کفر و ایمان کا ویسا ہی اختیار دیا گیا ہے جیسا انسان کو دیا گیا ہے۔ اس پر ابلیس کا قصہ اور سورۃ احقاف اور سورۃ جن میں بعض جنوں کے ایمان لانے کا واقعہ صریح دلالت کرتا ہے۔


قرآن میں بیسیوں مقامات پر یہ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ ابلیس نے تخلیق آدم کے وقت ہی یہ عزم کرلیا تھا کہ وہ نوع انسانی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اسی وقت سے شیاطینِ جن انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں، مگر وہ اس پر مسلط ہو کر زبردستی اس سے کوئی کام کرا لینے کی طاقت نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں، اس کو بہکاتے ہیں اور بدی و گمراہی کو اس کے سامنے خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات : النساء 117 تا 120، الاعراف 11 تا 17، براہیم 22، الحجر 30 تا 42، النحل 98 تا 100، بنی اسرائیل 61 تا 65۔


قرآں مجید میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مشرکین عرب زمانۂ جاہلیت میں جنوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے تھے، ان کی عبادت کرتے تھے، اور ان کا نسب خدا سے ملاتے تھے۔ ملاحظہ ہو الانعام، آیت 100، سبا آیات 40 – 41، الصافات 158۔


ان تفصیلات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جن اپنا ایک مستقل خارجی وجود رکھتے ہیں اور وہ انسان سے الگ ایک دوسری ہی نوع کی پوشیدہ مخلوق ہے۔ ان کی پراسرار صفات کی وجہ سے جاہل لوگوں نے ان کی ہستی اور ان کی طاقتوں کے متعلق بڑے مبالغہ آمیز تصورات قائم کر رکھے ہیں، حتٰی کہ ان کی پرستش تک کر ڈالی گئی، مگر قرآن نے ان کی اصل حقیقت پوری طرح کھول کر بیان کر دی ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں ۔


موضوع اور مباحث :


اس سورت میں پہلی آیت سے لے کر آیت 15 تک یہ بتایا گیا ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن مجید سن کر اس کا کیا اثر لیا اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کے دوسرے جنوں سے کیا کیا باتیں کہیں۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری گفتگو نقل نہیں کی ہے، بلکہ صرف وہ خاص خاص باتیں نقل فرمائی ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ اسی لیے طرز بیان ایک مسلسل گفتگو کا سا نہیں ہے، بلکہ ان کے مختلف فقروں کو اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا اور یہ کہا۔ جنوں کی زبان سے نکلے ہوئے ان فقروں کو اگر آدمی بغور پڑھے تو با آسانی یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ان کے ایمان لانے کے اس واقعے اور اپنی قوم کے ساتھ ان کی اس گفتگو کا ذکر قرآن میں کس غرض کے لیے کیا گیا ہے۔


اس کے بعد آیت 16 سے 18 تک لوگوں کو فہمائش کی گئی ہے کہ وہ شرک سے باز آ جائیں اور راہ راست پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں تو ان پر نعمتوں کی بارش ہوگی ورنہ اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت سے منہ موڑنے کا انجام یہ ہوگا کہ وہ سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔ پھر آیت 19 سے 23 تک کفار مکہ کو اس بات پر ملامت کی گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول دعوت الی اللہ کی آواز بلند کرتا ہے تو وہ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، حالانکہ رسول کا کام صرف اللہ کے پیغامات پہنچا دینا ہے، وہ اس بات کا مدعی نہیں ہے کہ لوگوں کو نفع یا نقصان پہنچا دینا اس کے اختیار میں ہے۔ پھر آیات 24 – 25 میں کفار کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آج وہ رسول کو بےیار و مددگار دیکھ کر اسے دبا لینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اصل میں بےیار و مددگار کون ہے۔ وہ وقت دور ہے یا قریب، رسول کو اس کا علم نہیں ہے، مگر بہرحال اسے آنا ضرور ہے۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ رسول کو صرف وہ علم حاصل ہے جو اللہ اسے دینا چاہتا ہے۔ یہ علم ان امور سے متعلق ہوتا ہے جو فرائض رسالت کی انجام دہی کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور یہ علم ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کا امکان نہیں ہوتا۔



(تفہیم القرآن جلد ششم ص 107 ،مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی ؒ )


سورة النَّحْل: زمانہ نزول، موضوع اور مرکزی مضمون و مباحث - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : یت ٦٨ کے فقرے وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی محض علامت ہے نہ کہ موضوع بحث کا عنوان۔ 

زمانہ نزول :


متعدد اندرونی شہادتوں سے اس کے زمانہ نزول پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلًا :


آیت ٤١ کے فقرے والَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِی اللہِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہجرت حبشہ واقع ہوچکی تھی۔


آیت ١٠٦ مَنْ کَفَرَ باللہِ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِہ الآ یہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ ہو رہا تھا اور یہ سوال پیدا ہوگیا تھا کہ اگر کوئی شخص ناقابل برداشت اذیت سے مجبور ہو کر کلمہ کفر کہہ بیٹھے تو اس کا کیا حکم ہے۔


آیات ١١٢ – ١١٤ وَضَرَ بَ اللہُ مَثَلًا قَرْ یَۃً ۔۔ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّا ہُ تَعْبُدُوْنَ کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد مکہ میں جو زبردست قحط رونما ہوا تھا وہ اس سورے کے نزول کے وقت ختم ہوچکا تھا۔


اس سورۃ میں آیت ١١٥۔ ایسی ہے جس کا حوالہ سورۃ انعام آیت ١١٩ میں دیا گیا ہے، اور دوسری آیت (نمبر ١١٨) ایسی ہے جس میں سورۃ انعام کی آیت ١٤٦ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں سورتوں کا نزول قریب العہد ہے۔


ان شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس سورۃ کا زمانہ نزول بھی مکے کا آخری دور ہی ہے، اور اسی کی تائید سورۃ کے عام انداز بیان سے بھی ہوتی ہے۔ 


موضوع اور مرکزی مضمون :


”شرک کا ابطال، توحید کا اثبات، دعوت پیغمبر کو نہ ماننے کے برے نتائج پر تنبیہ و فہمائش، اور حق کی مخالفت و مزاحمت پر زجرو توبیخ۔ 


مباحث :


“ سورۃ کا آغاز بغیر کسی تمہید کے یک لخت ایک تنبیہی جملے سے ہوتا ہے۔ کفار مکہ بار بار کہتے تھے کہ ”جب ہم تمہیں جھٹلا چکے ہیں اور کھلم کھلا تمہاری مخالفت کر رہے ہیں تو آخر وہ خدا کا عذاب آکیوں نہیں جاتا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہو“۔ اس بات کو وہ بالکل تکیہ کلام کی طرح اس لیے دہراتے تھے کہ ان کے نزدیک یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغمبر نہ ہونے کا سب سے زیادہ صریح ثبوت تھا۔ اس پر فرمایا کہ بیوقوفو! خدا کا عذاب تو تمہارے سر پر تلا کھڑا ہے، اب اسکے ٹوٹ پڑنے کے لیے جلدی نہ مچاؤ بلکہ جو ذرا سی مہلت باقی ہے اس سے فائدہ اٹھا کہ بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس کے بعد فورا ہی تفہیم کی تقریر شروع ہوجاتی ہے اور حسب ذیل مضامین بار بار یکے بعد دیگرے سامنے آنے شروع ہوتے ہیں :


(١) دل لگتے دلائل اور آفاق و انفس کے آثار کی کھلی کھلی شہادتوں سے سمجھایا جاتا ہے کہ شرک باطل ہے اور توحید ہی حق ہے۔


(٢) منکرین کے اعتراضات، شکوک، حجتوں اور حیلوں کا ایک ایک کر کے جواب دیا جاتا ہے۔


(٣) باطل پر اصرار اور حق کے مقابلہ میں استکبار کے برے نتائج سے ڈرایا جاتا ہے۔ 


(٤) ان اخلاقی اور عملی تغیرات کو مجمل مگر دل نشین انداز سے بیان کیا جاتا ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لایا ہوا دین انسانی زندگی میں لانا چاہتا ہے، اور اس سلسلہ میں مشرکین کو بتایا جاتا ہے کہ خدا کو رب ماننا، جس کا انہیں دعویٰ تھا، محض خالی خولی مان لینا ہی نہیں ہے بلکہ اپنے کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے جو عقائد، اخلاق اور عملی زندگی میں نمودار ہونے چاہییں ۔


(٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کی ڈھارس بندھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کفار کی مزاحمتوں اور جفاکاریوں کے مقابلہ میں ان کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔

(تفہیم القرآن جلد دوم ، سید ابوالاعلی مودودیؒ ) 

سورة الْحِجْر: زمانہ نزول، موضوع اور مرکزی مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : آیت ٨٠ کے فقرے کَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِیْنَ سے ماخوذ ہے۔ 

زمانہ نزول :


“ مضامین اور انداز بیان سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ اس سورۃ کا زمانہ نزول سورۃ ابراہیم سے متصل ہے۔ اس کے پس منظر میں دو چیزیں بالکل نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دیتے ایک مُدّت گزر چکی ہے اور مخاطب قوم کی مسلسل ہٹ دھرمی، استہزا، مزاحمت اور ظلم و ستم کی حد ہوگئی ہے، جس کے بعد اب تفہیم کا موقع کم اور تنبیہ کا موقع زیادہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اپنی قوم کے کفر و جحود اور مزاحمت کے پہاڑ توڑتے توڑتے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھکے جا رہے ہیں اور دل شکستگی کی کیفیت بار بار آپ پر طاری ہو رہی ہے، جسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دے رہا ہے اور آپ کی ہمت بندھا رہا ہے۔ 


موضوع اور مرکزی مضمون :


یہی دو مضمون اس سورۃ میں بیان ہوئے ہیں۔ یعنی تنبیہ ان لوگوں کو جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا انکار کر رہے تھے اور آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ کے کام میں طرح طرح کی مزاحمتیں کرتے تھے۔ اور تسلی وہمت افزائی آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سورۃ تفہیم اور نصیحت سے خالی ہے۔ قرآن میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ نے مجرد تنبیہ، یا خالص زجر و توبیخ سے کام نہیں لیا ہے۔ سخت سے سخت دھمکیوں اور ملامتوں کے درمیان بھی وہ سمجھانے اور نصیحت کرنے میں کمی نہیں کرتا۔ چنانچہ اس سورۃ میں بھی ایک طرف توحید کے دلائل کی طرف مختصر اشارے کیے گئے ہیں، اور دوسری طرف قصہ آدم و ابلیس سنا کر نصیحت فرمائی گئی ہے۔


تفہیم القرآن جلد دوم ، سید ابو الاعلی مودویؒ )


سورہ ابراھیم : زمانہ نزول، مرکزی مضمون اور مدعا - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : آیت ٣٥ کے فقرے وَاِذْ قَالَ اِبْرٰ ھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا لْبَلَدَ اٰ مِنًا، سے ماخوذ ہے۔ اس نام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سورۃ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سوانح عمری بیان ہوئی ہے، بلکہ یہ بھی اکثر سورتوں کے ناموں کی طرح علامت کے طور پر ہے۔ یعنی وہ سورۃ جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر آیا ہے۔ 

زمانہ نزول :


عام انداز بیان مکہ کے آخری دور کی سورتوں کا سا ہے۔ سورۃ رعد سے قریب زمانہ ہی کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے۔ خصُوصًا آیت ١٣ کے الفاظ وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْ دُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (انکار کرنے والوں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے) کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ اس وقت مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اہل مکہ پچھلی کافر قوموں کی طرح اپنے ہاں کے اہل ایمان کو خارج البلد کر دینے پر تل گئے تھے۔ اسی بنا پر ان کو وہ دھمکی سنائی گئی جو ان کے سے رویہ پر چلنے والی پچھلی قوموں کو دی گئی تھی کہ لَنُھْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ (ہم ظالموں کو ہلاک کر کے رہیں گے) اور اہل ایمان کو وہی تسلی دی گئی جو ان کے پیش روؤں کو دی جاتی رہی ہے کہ لَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِھِمْ (ہم ان ظالموں کو ختم کرنے کے بعد تم ہی کو اس سر زمین میں آباد کریں گے)۔ 

مرکزی مضمون اور مُدّعا :



جو لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے اور آپ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کی بدتر سے بدتر چالیں چل رہے تھے ان کی فہمائش اور تنبیہ۔ لیکن فہمائش کی بہ نسبت اس سورۃ میں تنبیہ اور ملامت اور زجر و توبیخ کا انداز زیادہ تیز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تفہیم کا حق اس سے پہلے کی سورتوں میں بخوبی ادا کیا جا چکا تھا اور اس کے باوجود کفار قریش کی ہٹ دھرمی، عناد، مزاحمت، شرارت اور ظلم وجود میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا تھا۔

(تفہیم القرآن ، جلد دوم، سید ابوالاعلی مودوی ؒ )

سورۃ الرعد: زمانہ نزول، مرکزی مضمون - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


نام : آیت نمبر ١٣ کے فقرے " وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ " کے لفظ الرعد کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ اس نام کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سورۃ میں بادل کی گرج کے مسئلے سے بحث کی گئی ہے، بلکہ یہ صرف علامت کے طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں لفظ الرعد آیا ہے، یا جس میں رعد کا ذکر آیا ہے۔ 

زمانہ نزُول :


رکوع ٤ اور رکوع ٦ کے مضامین شہادت دیتے ہیں کہ یہ سورۃ بھی اسی دور کی ہے جس میں سورۃ یونس، ہود، اور اعراف نازل ہوئی ہیں، یعنی زمانہ قیام مکہ کا آخری دور۔ انداز بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ایک مدت دراز گزر چکی ہے، مخالفین زک دینے اور آپ کے مشن کو ناکام کرنے کے لیے طرح طرح کی چالیں چلتے رہے ہیں، مومنین بار بار تمنائیں کر رہے ہیں کہ کاش کوئی معجزہ دکھا کر ہی ان لوگوں کو راہ راست پر لایا جائے، اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھا رہا ہے کہ ایمان کی راہ دکھانے کا یہ طریقہ ہمارے ہاں رائج نہیں ہے اور اگر شمنان حق کی رسی دراز کی جا رہی ہے تو یہ ایسی بات نہیں ہے کہ جس سے تم گھبرا اٹھو۔ پھر آیت ٣١ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کفار کی ہٹ دھرمی کا ایسا مظاہرہ ہوچکا ہے جس کے بعد یہ کہنا بالکل بجا معلوم ہوتا ہے کہ اگر قبروں سے مردے بھی اٹھ کر آجائیں تو یہ لوگ نہ مانیں گے بلکہ اس واقعے کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کر ڈالیں گے۔ ان سب باتوں سے یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ سورۃ مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی۔ 

مرکزی مضمون :


”سورۃ کا مدعا پہلے ہی آیت میں پیش کردیا گیا ہے، یعنی یہ کہ جو کچھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں وہی حق ہے، مگر یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ اسے نہیں مانتے۔ ساری تقریر اسی مرکزی مضمون کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار مختلف طریقوں سے توحید، معاد اور رسالت کی حقانیت ثابت کی گئی ہے، ان پر ایمان لانے کے اخلاقی و روحانی قوائد سمجھائے گئے ہیں، ان کو نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہیں، اور یہ ذہن نشین کیا گیا ہے کہ کفر سراسر ایک حماقت اور جہالت ہے۔ پھر چونکہ اس سارے بیان کا مقصد محض دماغوں کو مطمئن کرنا ہی نہیں، دلوں کو ایمان کی طرف کھینچنا بھی ہے، اس لیے نرے منطقی استدلال سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ ایک ایک دلیل اور ایک ایک شہادت کو پیش کرنے کے بعد ٹھہر کر طرح طرح سے تخویف، ترہیب، ترغیب، اور مشفقانہ تلقین کی گئی ہے تاکہ نادان لوگوں کو اپنی گمراہانہ ہٹ دھرمی سے باز آجائیں ۔


دوران تقریر میں جگہ جگہ مخالفین کے اعتراضات کا ذکر کئے بغیر ان کے جوابات دیے گئے ہیں، اور ان شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے یا مخالفین کی طرف سے ڈالے جاتے تھے۔ اس کے ساتھ اہل ایمان کو بھی جو کئی برس کی طویل اور سخت جدوجہد کی وجہ سے تھکے جا رہے تھے اور بےچینی کے ساتھ غیبی امداد کے منتظر تھے، تسلی دی گئی ہے۔


سورہ یوسف ؑ : زمانہ نزول، مقاصد نزول، اجزائے مضمون ، مباحث و مسائل - مولانا سید ابوالاعلی مودودی ؒ


زمانہ نزول اور اجزائے مضمون :

اس سورے کے مضمون سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بھی زمانہ قیام مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ قریش کے لوگ اس مسئلے پر غور کر رہے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کر دیں یا جلا وطن کریں یا قید کر دیں۔ اس زمانہ میں بعض کفار مکہ نے (غالبا یہودیوں کے اشارے پر) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امتحان لینے کے لیے آپ سے سوال کیا کہ بنی اسرائیل کے مصر جانے کا کیا سبب ہوا۔ چونکہ اہل عرب اس قصہ سے ناواقف تھے، اس کا نام و نشان تک ان کے ہاں کی روایات میں نہ پایا جاتا تھا، اور خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے بھی اس سے پہلے کبھی اس کا ذکر نہ سنا گیا تھا، اس لیے انہیں توقع تھی کہ آپ یا تو اس کا مفصل جواب نہ دے سکیں گے، یا اس وقت ٹال مٹول کرنے کے بعد کسی یہودیی سے پوچھنے کی کوشش کریں گے، اور اس طرح آپ کا بھرم کھل جائیگا۔ لیکن اس امتحان میں انہیں الٹی منہ کی کھانی پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کیا کہ فورا اسی وقت یوسف (علیہ السلام) کا یہ پورا قصہ آپ کی زبان پر جاری کردیا، بلکہ برآں اس قصے کو قریش کے اس معاملہ پر چسپاں بھی کردیا جو وہ برادران یوسف کی طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کر رہے تھے۔


مقاصد نزول :


اس طرح یہ قصہ دو اہم مقاصد کے لیے نازل فرمایا گیا تھا :


ایک یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ثبوت، اور وہ بھی مخالفین کا اپنا منہ مانگا ثبوت بہم پہنچایا جائے، اور ان کے خود تجویز کردہ امتحان میں یہ ثابت کردیا جائے کہ آپ سنی سنائی باتیں بیان نہیں کرتے بلکہ فی الواقع آپ کو وحی کے ذریعہ سے علم حاصل ہوتا ہے۔ اس مقصد کو آیات ٣، ٧ میں بھی صاف صاف واضح کردیا گیا ہے اور آیات ١٠٢ - ١٠٣ میں بھی پورے زور کے ساتھ اس کی تصریح کی گئی ہے۔


دوسرے یہ کہ سرداران قریش اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اس وقت جو معاملہ چل رہا تھا اس پر برادران یوسف اور یوسف (علیہ السلام) کے قصے کو چسپاں کرتے ہوئے قریش والوں کو بتایا جائے کہ آج تم اپنے بھائی کے ساتھ وہی کچھ کر رہے ہو جو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ مگر جس طرح وہ خدا کی مشیت سے لڑنے میں کامیاب نہ ہوئے اور آخرکار اسی بھائی کے قدموں میں آرہے جس کو انہوں نے کبھی انتہائی بےرحمی کے ساتھ کنویں میں پھینکا تھا، اسی طرح تمہاری زور آزمائی بھی خدائی تدبیر کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکے گی اور ایک دن تمہیں بھی اپنے اسی بھائی سے رحم و کرم کی بھیک مانگنی پڑے گی جسے آج تم مٹا دینے پر تلے ہوئے ہو۔ یہ مقصد بھی سورۃ کے آغاز میں صاف صاف بیان کردیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا لَقَدْکَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخوَتِہۤ١ اٰیٰتٌ لِّلسَّاۤئِلِینَ۔” یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں ان پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں“۔


حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے قصے کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قریش کے معاملے پر چسپاں کر کے قرآن مجید نے گویا ایک صریح پیش گوئی کر دی تھی جسے آئندہ دس سال کے واقعات نے حرف بحرف صحیح ثابت کر کے دکھا دیا۔ اس سورۃ کے نزول پر ڈیڑھ دو سال ہی گزرے ہوں گے کہ قریش والوں نے برادران یوسف کی طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی اور آپ کو مجبورا ان سے جان بچا کر مکہ سے نکلنا پڑا۔ پھر ان کی توقعات کے بالکل خلاف آپ کو بھی جلا وطنی میں ویسا ہی عروج و اقترار نصیب ہوا جیسا یوسف (علیہ السلام) کو ہوا تھا۔ پھر فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک ٹھیک وہی کچھ پیش آیا جو مصر کے پایہ تخت میں یوسف (علیہ السلام) کے سامنے ان کے بھائیوں کی آخری حضوری کے موقع پر پیش آیا تھا۔ وہاں جب برادران یوسف (علیہ السلام) انتہائی عجز و درماندگی کی حالت میں ان کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تَصَدَّقْ عَلَینَا ط اِنَّ اللہَ یَجزِی المُتَصَدِّقِینَ،” ہم پر صدقہ کیجیئے، اللہ صدقہ کرنے والوں کو نیک جزا دیتا ہے“، تو یوسف (علیہ السلام) نے انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود انہیں معاف کردیا اور فرمایا لَا تَثرِیبَ عَلَیکُمُاالیَومَ، یَغفِرُ اللہُ لَکُم وَھُوَ اَرحَمُ الرّٰحِمِینَ ” آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے“۔ اسی طرح جب یہاں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شکست خوردہ قریش سرنگوں کھڑے ہوئے تھے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ایک ایک ظلم کا بدلہ لینے پر قادر تھے تو آپ نے ان سے پوچھا ” تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا ؟ “ انہوں نے عرض کیا اخ کریم و ابن اخ کریم ”آپ ایک عالی ظرف بھائی ہیں، اور ایک عالی ظرف بھائی کے بیٹے ہیں“۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فانی اقول لکم کما قال یوسف لاخوتہ، لا تثرب علیکم الیوم، اذھبوا فانتم الطلقاء ” میں تمہیں وہی جواب دیتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو دیا تھا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تمہیں معاف کیا“۔ 

مباحث و مسائل 


یہ دو پہلو تو اس سورۃ میں مقصدی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اس قصے کو بھی قرآن مجید محض قصہ گوئی و تاریخ نگاری کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ اپنے قاعدے کے مطابق وہ اسے اپنی اصل دعوت کی تبلیغ میں استعمال کرتا ہے۔


وہ اس پوری داستان میں یہ بات نمایاں کر کے دکھاتا ہے کہ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کا دین وہی تھا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور اسی چیز کی طرف وہ بھی دعوت دیتے تھے جس کی طرف آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دے رہے ہیں۔ 


پھر وہ ایک طرف حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کے کردار اور دوسری طرف برادران یوسف، قافلہ تجار، عزیز مصر، اس کی بیوی، بیگمات مصر اور حکام مصر کے کردار ایک دوسرے کے مقابلہ میں رکھ دیتا ہے اور محض اپنے انداز بیان سے سامعین و ناظرین کے سامنے یہ خاموش سوال پیش کرتا ہے کہ دیکھو، ایک نمونے کے کردار تو وہ ہیں جو اسلام، یعنی خدا کی بندگی اور حساب آخرت کے یقین سے پیدا ہوتے ہیں، اور دوسرے نمونے کے کردار وہ ہیں جو کفر و جاہلیت اور دنیا پرستی اور خدا و آخرت سے بےنیازی کے سانچوں میں ڈھل کر تیار ہوتے ہیں۔ اب تم خود اپنے ضمیر سے پوچھو کہ وہ ان میں سے کس نمونے کو پسند کرتا ہے۔


پھر اس قصے سے قرآن حکیم ایک اور گہری حقیقت بھی انسان کے ذہن نشین کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ بہرحال پورا ہو کر رہتا ہے۔ انسان اپنی تدبیروں سے اس کے منصوبوں کو روکنے اور بدلنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بلکہ بسا اوقات انسان ایک کام اپنے منصوبے کی خاطر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے ٹھیک نشانے پر تیر مار دیا مگر نتیجہ میں ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے اسی کے ہاتھوں سے وہ کام لے لیا جو اس کے منصوبے کے خلاف اور اللہ کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جب ان کو کنویں میں پھینک رہے تھے تو ان کا گمان تھا کہ ہم نے اپنی راہ کے کانٹے کو ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا۔ مگر فی الواقع انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اس بام عروج کی پہلی سیڑھی پر اپنے ہاتھوں لاکھڑا کیا جس پر اللہ ان کو پہنچانا چاہتا تھا اور اپنی اس حرکت سے انہوں نے خود اپنے لیے اگر کچھ کمایا تو بس یہ کہ یوسف (علیہ السلام) کے بام عروج پر پہنچنے کے بعد بجائے اس کے کہ وہ عزت کے ساتھ اپنے بھائی کی ملاقات کو جاتے انہیں ندامت و شرمساری کے ساتھ اسی بھائی کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا۔ عزیز مصر کی بیوی یوسف (علیہ السلام) کو قید خانے بھجوا کر اپنے نزدیک تو ان سے انتقام لے رہی تھی، مگر فی الواقع اس نے ان کے لیے تخت سلطنت پر پہنچنے کا راستہ صاف کیا اور اپنی اس تدبیر سے خود اپنے لیے اس کے سوا کچھ نہ کمایا کہ وقت آنے پر فرمانروائے ملک کی مربیہ کہلانے کے بجائے اس کو علی الاعلان اپنی خیانت کے اعتراف کی شرمندگی اٹھانی پڑی۔ یہ محض دوچار مستثنٰی واقعات نہیں ہیں بلکہ تاریخ ایسی بےشمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جو اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ جسے اٹھانا چاہتا ہے، ساری دنیا مل کر بھی اس کو نہیں گرا سکتی۔ بلکہ دنیا جس تدبیر کو اس کے گرانے کی نہایت کارگر اور یقینی تدبیر سمجھ کر اختیار کرتی ہے، اللہ اسی تدبیر میں سے اس کے اٹھنے کی صورتیں نکال دیتا ہے، اور ان لوگوں کے حصے میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا جنہوں نے اسے گرانا چاہا تھا۔ اور اسی طرح اس کے برعکس، خدا جسے گرانا چاہتا ہے اسے کوئی تدبیر سنبھال نہیں سکتی، بلکہ سنبھالنے کی ساری تدبیریں الٹی پڑتی ہیں، اور ایسی تدبیریں کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔


اس حقیقت حال کو اگر کوئی سمجھ لے تو اسے پہلا سبق تو یہ ملے گا کہ انسان کو اپنے مقاصد اور اپنی تدابیر، دونوں میں ان حدود سے تجاوز نہ کرنا چاہیے جو قانون الہٰی میں اس کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ کامیابی و ناکامی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن جو شخص پاک مقصد کے لیے سیدھی سیدھی جائز تدبیر کرے گا وہ اگر ناکام بھی ہوا تو بہرحال ذلت و رسوائی سے دوچار نہ ہوگا۔ اور جو شخص ناپاک مقصد کے لیے ٹیڑھی تدبیریں کرے گا وہ آخرت میں تو یقینا رسوا ہوگا ہی مگر دنیا میں بھی اس کے لیے رسوائی کا خطرہ کچھ کم نہیں ہے۔ دوسرا اہم سبق اس سے توکل علی اللہ اور تفویض الی اللہ کا ملتا ہے۔ جو لوگ حق اور صداقت کے لیے سعی کر رہے ہوں اور دنیا انہیں ہٹا دینے پر تلی ہوئی ہو وہ اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں تو انہیں اس سے غیر معمولی تسکین حاصل ہوگی، اور مخالف طاقتوں کی بظاہر نہایت خوفناک تدبیروں کو دیکھ کر وہ قطعا ہراساں نہ ہوں گے، بلکہ نتائج کو اللہ پر چھوڑتے ہوئے اپنا اخلاقی فرض انجام دیے چلے چائیں گے۔ 


مگر سب سے بڑا سبق جو اس قصے سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک مرد مومن اگر حقیقی اسلامی سیرت رکھتا ہو اور حکمت سے بھی بہرہ یاب ہو، تو وہ محض اپنے اخلاق کے زور سے ایک پورے ملک کو فتح کرسکتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کو دیکھیے۔ ١٧ برس کی عمر، تن تنہا، بےسروسامان، اجنبی ملک اور پھر کمزوری کی انتہا یہ کہ غلام بنا کر بیچے گئے ہیں۔ تاریخ کے اس دور میں غلاموں کی جو حیثیت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس پر مزید یہ کہ ایک شدید اخلاقی جرم کا الزام لگا کر انہیں جیل بھیج دیا گیا جس کی میعاد سزا بھی کوئی نہ تھی۔ اس حالت تک گرا دیے جانے کے بعد وہ محض اپنے ایمان اور اخلاق کے بل پر اٹھتے ہیں اور بالآخر پورے ملک کو مسخر کرلیتے ہیں۔ 

تاریخی و جغرافیائی حالات :


اس قصے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مختصرا اس کے متعلق کچھ تاریخی و جغرافی معلومات بھی ناظرین کے پیش نظر رہیں :


حضرت یوسف (علیہ السلام)، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پر پوتے تھے۔ بائیبل کے بیان کے مطابق (جس کی تائید قرآن کے اشارات سے بھی ہوتی ہے) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے چار بیویوں سے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین ایک بیوی سے، اور باقی دس دوسری بیویوں سے۔


فلسطین میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی جائے قیام حبرون (موجودہ الخیل) کی وادی میں تھی جہاں حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) رہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی کچھ زمین سکم (موجودہ نابلس) میں تھی۔


بائیبل کے علماء کی تحقیق اگر درست مانی جائے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیدائش سن ١٩٠٦ قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں ہوئی اور سن ١٨٩٠ ق م کے قریب زمانے میں وہ واقعہ پیش آیا جس سے اس قصہ کی ابتدا ہوئی ہے، یعنی خواب دیکھنا اور پھر کنوئیں میں پھینکا جانا۔ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر سترہ برس کی تھی۔ جس کنویں میں وہ پھینکے گئے وہ بائیبل اور تلمود کی روایات کے مطابق سکم کے شمال میں دوتَن (موجودہ دثان) کے قریب واقع تھا، اور جس قافلے نے انہیں کنویں سے نکالا وہ جلعاد (شرق اردن) سے آرہا تھا اور مصر کی طرف عازم تھا۔ (جلعاد کے کھنڈر اب بھی دریائے اردن کے مشرق میں وادی الیابس کے کنارے واقع ہیں)۔


مصر پر اس زمانے میں پندرہویں خاندان کی حکومت تھی جو مصری تاریخ میں چرواہے بادشاہوں (Hyksos Kings) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ عربی النسل تھے اور فلسطین و شام سے مصر جاکر ٢ ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں سلطنت مصر پر قابض ہوگئے تھے۔ عرب مؤرخین اور مفسرین قرآن نے ان کے لیے ”عمالیق “ کا نام استعمال کیا ہے جو مصریات کی موجودہ تحقیقات سے ٹھیک مطابقت رکھتا ہے۔ مصر میں یہ لوگ اجنبی حملہ آور کی حیثیت رکھتے تھے اور ملک کی خانگی نزاعات کے سبب سے انہیں وہاں اپنی بادشاہی قائم کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ یہی سبب ہوا کہ ان کی حکومت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عروج حاصل کرنے کا موقع ملا اور پھر بنی اسرائیل وہاں ہاتھوں ہاتھ لیے گئے، ملک کے بہترین زرخیز علاقے میں آباد کیے گئے اور ان کو وہاں بڑا اثر و رسوخ حاصل ہوا، کیونکہ وہ ان غیر ملکی حکمرانوں کے ہم جنس تھے۔ پندرھویں صدی قبل مسیح کے اواخر تک یہ لوگ مصر پر قابض رہے اور ان کے زمانے میں ملک کا سارا اقتدار عملا بنی اسرائیل کے ہاتھ میں رہا۔ اسی دور کی طرف سورة مائدہ آیت ٢٠ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اِذ جَعَلَ فیکُم اَنبِیَآءَ وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً اس کے بعد ملک میں ایک زبردست قوم پرستانہ تحریک اٹھی جس نے بکسُوس اقتدار کا تختہ الٹ دیا۔ اڑہائی لاکھ کی تعداد میں عمالقہ ملک سے نکال دیے گئے۔ ایک نہایت متعصب قبطی النسل خاندان برسر اقتدار آگیا اور اس نے عمالقہ کے زمانے کی یادگاروں کو چن چن کر مٹا دیا اور بنی اسرائیل پر ان مظالم کا سلسلہ شروع کیا جن کا ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں آتا ہے۔


مصری تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ان چرواہے بادشاہوں نے مصری دیوتاؤں کو تسلیم نہیں کیا تھا، بلکہ اپنے دیوتا شام سے اپنے ساتھ لائے تھے اور ان کی کوشش یہ تھی کہ مصر میں ان کا مذہب رائج ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہم عصر بادشاہ کو ”فرعون“ کے نام سے یاد نہیں کرتا۔ کیونکہ ”فرعون“ مصر کی مذہبی اصطلاح تھی اور یہ لوگ مصری مذہب کے قائل نہ تھے۔ لیکن بائیبل میں غلطی سے اس کو بھی ”فرعون“ ہی کا نام دیا گیا ہے۔ شاید اس کے مرتب کرنے والے سمجھتے ہوں گے کہ مصر کے سب بادشاہ ”فراعنہ“ ہی تھے۔


موجودہ زمانہ کے محققین، جنہوں نے بائیبل اور مصری تاریخ کا تقابل کیا ہے، عام رائے یہ رکھتے ہیں کہ چرواہے بادشاہوں میں سے جس فرمانروا کا نام مصری تاریخ میں اپوفیس (Apophis) ملتا ہے، وہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ہم عصر تھا۔


مصر کا دارالسلطنت اس زمانہ میں ممفِس (منف) تھا جس کے کھنڈر قاہرہ کے جنوب میں ١٤ میل کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ١٧، ١٨ سال کی عمر میں وہاں پہنچے۔ دو تین سال عزیز مصر کے گھر رہے۔ آٹھ نو سال جیل میں گزارے۔ ٣٠ سال کی عمر میں ملک کے فرمانروا ہوے اور ٨٠ سال تک بلا شرکت غیرے تمام مملکت مصر پر حکومت کرتے رہے۔ اپنی حکومت کے نویں یا دسویں سال انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے پورے خاندان کے ساتھ فلسطین سے مصر بلا لیا اور اس علاقے میں آباد کیا جو دمیاط اور قاہرہ کے درمیان واقع ہے۔ بائیبل میں اس علاقے کا نام جشن یا گوشن بتایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک یہ لوگ اسی علاقے میں آباد رہے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک سو دس سال کی عمر میں وفات پائی اور انتقال کے وقت بنی اسرائیل کو وصیت کی کہ جب تم اس ملک سے نکلو تو میری ہڈیاں اپنے ساتھ لے کر جانا۔


یوسف (علیہ السلام) کے قصے کی جو تفصیلات بائیبل اور تلمُود میں بیان کی گئی ہیں ان سے قرآن کا بیان بہت کچھ مختلف ہے، مگر قصے کو اہم اجزاء میں تینوں متفق ہیں۔ ہم اپنے حواشی میں حسب ضرورت ان اختلافات کو واضح کرتے جائیں گے۔


(تفہیم القرآن جلد دوم ، سید ابوالاعلی مودودیؒ )