سورہ فاتحہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا ہے پھر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اقرار اور اس کا اظہار ہے کہ ہم اسکے سوا کسی کو اپنا حاجت روا نہیں سمجھتے یہ گویا حلف وفاداری ہے جو انسان اپنے رب کے ساتھ کرتا ہے اس کے بعد پھر ایک اہم دعا ہے جو تمام انسانی مقاصد وضروریات پر حاوی ہے اور اس میں بہت سے فوائد اور مسائل ضمنی آئے ہیں ان میں سے چند اہم مسائل کو لکھا جاتا ہے :
(١) دعا کرنے کا طریقہ:
اس خاص اسلوب کلام کے ذریعہ انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب اللہ جل شانہ سے کوئی دعا ودرخواست کرنا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کی حمد وثنا کا فرض بجا لاکر پھر حلف وفادری اس بات کا کرو کہ ہم اس کے سوا نہ کسی کو لائق عبادت سمجھتے ہیں اور نہ کسی کو حقیقی معنی میں مشکل کشا اور حاجت روا مانتے ہیں اس کے بعد اپنے مطلب کی دعا کرو اس طریقہ سے جو دعا کی جائیگی اس کے قبول ہونے کی قوی امید ہے (احکام جصاص)
اور دعا میں بھی ایسی جامع دعا اختیار کرو جس میں اختصار کے ساتھ انسان کے تمام مقاصد داخل ہوجائیں جیسے ہدایت صراط مستقیم کہ دنیا ودین کے ہر کام میں اگر انسان کا راستہ سیدھا ہوجائے تو کہیں ٹھوکر لگنے اور نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے غرض اس جگہ خود حق تعالیٰ کی طرف سے اپنی حمد وثناء بیان کرنے کا اصل مقصد انسان کو تعلیم دینا ہے،