‏تاریخ جغرافیہ قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تاریخ جغرافیہ قرآن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

قرآنِ پاک کا تاریخی اعجاز ۔ علامہ سید سلیمان ندوی ؒ

دنیا کے ہر پیغمبر نے اپنی امت کے سامنے حیرت انگیز معجزے پیش کیے ہیں۔ حضرت نوحؑ کی دعا نے عالم کو غرقاب کر دیا؛ حضرت شعیبؑ اور حضرت لوطؑ کی دعاؤں نے آتش فشاں پہاڑوں کے دہانوں سے آگ برسائی؛ حضرت موسیٰؑ کے معجزے نے فرعون کو بحرِ احمر کا طعمہ بنا دیا؛ عصائے موسیٰؑ کی کارفرمائی نے چٹانوں کی چھاتی سے پانی کا دودھ بہایا اور بحرِ احمر کے دو ٹکڑے کر دیے؛ دمِ عیسیٰؑ نے جنم کے اندھوں کو بینا، کوڑھیوں کو چنگا کیا، اور فرشِ موت کے سونے والوں کو جگایا، اور قبروں کے مردوں کو باذنِ اللہ کہہ کر جلایا۔ یہ سب واقعات دنیا میں پیش آئے اور ختم ہو گئے۔ برق کا شرارہ تھا، دم میں چمکا اور بجھ گیا۔

لیکن ایک پیغمبر ایسا بھی آیا جس کے حیرت انگیز معجزے نے قوموں کو ہلاک کرنے کے بجائے انہیں حیاتِ تازہ بخشی؛ پتھر دلوں کو موم کیا؛ عقل کے اندھوں کو بینا کیا؛ اور بنی آدم کی جمعیت کو غفلت و بے ہوشی کی نیند سے جگا کر ہوشیار، کفر و شرک کی ہلاکت سے بچا کر زندہ کیا۔ یہ حیرت انگیز واقعہ بجلی کی چمک کی طرح دفعۃً ظاہر ہو کر غائب نہیں ہو گیا؛ یہ یدِ بیضا، عصائے موسیٰؑ اور دمِ عیسیٰؑ کی طرح اپنے امکان اور وقوع میں فلسفیانہ موشگافیوں اور عقلی نکتہ سنجیوں کا محتاج نہیں؛ یہ روزِ روشن کی طرح واقعہ کی صورت میں ظاہر ہوا، اور ہزار سال تک ممتد و متواتر واقعیت بن کر دنیا اور اہلِ دنیا کے سامنے جلوہ گر رہا۔

محمد رسول اللہ ﷺ آخری دین اور آخری صحیفہ لے کر، اور نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نیا دین آنے والا تھا، نہ کوئی نئی کتاب اترنے والی، اور نہ کوئی نئی نبوت مبعوث ہونے والی تھی۔ اس لیے ضرورت تھی کہ دوسرے انبیا علیہم السلام کی طرح آپؐ کا خاص معجزہ وقتی اور عارضی نہ ہو، بلکہ جب تک اس دنیا میں آپؐ کی نبوت کا نور چمکتا رہے، اس کی روشنی بھی قائم رہے۔ چنانچہ وقتی اور عارضی معجزوں کے علاوہ آپؐ کو ایک خاص معجزہ بخشا گیا جو قیامِ قیامت تک قائم اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن نے تحدی کی کہ میں اپنے رسول و پیغمبر کی صداقت کی گواہی ہوں؛ جن و انس مل کر بھی چاہیں تو مجھ جیسی کتاب، بلکہ مجھ جیسی کتاب کی ایک سورہ، بلکہ ایک آیت بھی بنا کر پیش نہیں کر سکتے۔

احسن القصص

سورہ یوسف کا نام قرآن میں احسن القصص (سب سےبہترین قصہ ) آیا ہے اس سورہ کے نزول کے بارے میں روایت ہے کہ یہودیوں کے اشارے پر کفار مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلّم کا امتحان لینے کے لیے، آپ کے سامنے  یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اس سوال کےجواب میں اللہ تعالی نے سورہ یوسف نازل فرمایا ۔

اس سورہ کو احسن القصص اس لحاظ سے کہاگیا کہ انسانی زندگی کے تمام بنیادی کردارں کو اس سورت میں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے ، اس قصہ میں زندگی کے ان تمام مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسان اور انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی بپچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر ، غرضکہ تمام وہ امور جو دین ، اخلاق اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں بڑی عمدگی اور تسلسل کے ساتھ ایک ہی سورت میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ قصہ کا آغازیوسف ؑ کے ایک خواب کے ذکر سے ہوتا ہے پھر اختتام بھی اسی خواب کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ گویا پورا قصہ حضرت یوسف ؑ کے خواب کی عملی تعبیر پر مشتمل ہے ۔ 

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ابراہیم ؑ کی نسل بنی اسحاق ؑ، جس کی اہم شاخ بنی یعقوب ( اسرائیل) ہے،اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پید اکیں ۔ انہیں سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ۔ ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاءاور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ بنی یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے اس سلسلہ نبوت کا سب سے پہلے نبی حضرت یوسف ؑ ہیں ۔ 

بائیبل کے مطابق یعقوب ؑ کی چار بیویاں تھیں ،جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے ۔ ان چارمیں سے ایک سے یوسف ؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین پیدا ہوئے ۔ علمائے بائیبل کی تحقیق کے مطابق یوسف ؑ کی پیدائش تقریبا 1906 قبل مسیح میں ہوئی ۔ یوسف ؑ جب سترہ سال کے تھے۔ تو ان کے بھائیوں نے ان سے حسد کرتے ہوئے ان کو کنویں میں بھینکا ، ایک قافلے نے ان کو کنویں سے نکال کر مصر لے جاکر عزیز مصر کو فروخت کردیا ۔ 

مصر پر اس زمانہ میں عربی النسل قوم کے پندرھویں خاندان کی حکومت تھی ۔ جو چرواہے بادشاہوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ لوگ ابراہیم ؑ کے زمانہ سے سلطنت مصر پر قابض تھے ۔ علماء بائیبل کے مطابق یوسف ؑ کے ہم عصر فرمانروا کا نام اپوفیس ( Apophis) تھا ۔ 

نِعمَ العَبدُ! حضرت ایوب علیہ السلام - ابوالبشر احمد طیب

اسلامی اور اسرائیلی روایات میں حضرت ایوب ؑ کا قصہ ، بہت معروف و مشہور ہے یہاں تک کہ "صبر ایوب" ایک محاورہ بن گیا ہے ، لیکن اس قصہ پر اسرائیلی روایات کی کچھ ایسی تہہ جم گئی ہے کہ اصل حقیقت خرافات کے پردہ میں چھپ گئی ہے ۔ بائیبل میں ایک صحیفہ، سفر ایّوب ؑ کے نام سے شامل ہے ، محققین کا خیال ہے کہ یہ اصلا قدیم عربی میں لکھی گئی تھی ، حضرت موسی ؑ نے اس کو عربی سے عبرانی میں منتقل کیا ہے ۔ تورات میں سب سے قدیم صحیفہ ،سفر ایوب ہے ، اس اعتبار سے حضرت ایوب ؑ کا زمانہ موسی ؑ سے بہت پہلے تھا ۔ یہ صحیفہ حکمت کے بہت سے جواہر اپنے اندر رکھنے کے باوجود یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس صحیفہ کا تعلق براہ راست حضرت ایوب ؑ سے ہے یا نہیں ۔ اور اس لیے بھی کہ قرآن میں اور خود اس صحیفہ کی ابتدا میں حضرت ایّوب ؑ کے جس صبرِ عظیم کی تعریف کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس ساری کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت ایّوب ؑ اپنی مصیبت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے خلاف سراپا شکایت بنے ہوئے تھے، حتٰی کہ ان کے ہمنشین انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے رہےکہ خدا ظالم نہیں ہے، مگر وہ کسی طرح ان کی باتوں سے مطمئن نہیں ہوئے ۔

حضرت ایوب ؑ کی نسب ، قوم ، زمانہ کے متعلق بہت شدید اختلافات ہیں، بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے آپ فرزندان یعقوب ؑ کے ہمعصر ہیں، جدید تحقیق میں بعض ان کو مصری اور بعض عرب اور بعض اسرائیلی قرار دیتے ہیں، کوئی ان کو موسی ؑ سے پہلے اور کوئی داؤد ؑاور سلیمانؑ کے زمانہ کا قرار دیتا ہے ۔ اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زوجہ، حضرت یوسف ؑ کےفرزند ابفرائین کی لخت جگر تھی جو بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں ، یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے دوران ، ان کی باوفا بیوی کے سوا گھر کے بیشتر افراد ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ کچھ روایات میں ذکر ہے کہ آپ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے بھائی عیسو کی اولاد میں سے تھے ، عیسو فلسطین سے حضرت اسماعیل ؑ کے پاس آگئےتھے ، وہاں پر اسماعیل ؑ کی صاحبزادی سے شادی کی ہے ، عیسوکا نام عرف عام میں ادوم تھا، اس لیے ان کے خاندان اور علاقہ کا نام ادوم پڑگیا ، چند صدیوں کے بعد یہ ایک عظیم قوم بن گئی ، ادوم کی ایک نسل کانام عوض تھا ، حضرت ایوب ؑ کا تعلق اسی نسل سے تھا ، جدید تحقیق کے مطابق آپ کا علاقہ عرب کے شمال و مغرب میں فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب تھا ۔ اس لیے بعض علماء نے ان کو عرب قرار دیا ، آپ کا زمانہ معین نہ ہوسکا ، بعض کا خیال ہے کہ آپ کا ز مانہ ایک ہزار قبل مسیح اور سات سو قبل مسیح کے درمیان ہے ۔

قرآن مجید پر تاریخی اعتراضات - علامہ سید سلیمان ندوی

آزر (کی تاریخی حیثت )

آج مدارس اور خانقاہوں میں غوغا ہے کہ سائنس نے مذہب کے ایوان میں تزلزل ڈال دیا ہے، لیکن شاید یہ خبر نہ ہو کہ نہ صرف سائنس اور علوم عقلی کی موجوں نے زدرق ایمان کو تلاطم میں مبتلا کر رکھا ہے، بلکہ یورپ کا ہر علم و فن منافع عامہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ اپنی تہ میں زہر کی آمیزش ضرور رکھتا ہے۔ تاریخ اب سے پہلے ایک معصوم علم تھا، لیکن اب وہ ہر قسم کے جرائم کا مجموعہ ہو گئی ہے۔
قرآن مجید پر تاریخی اعتراضات - علامہ سید سلیمان ندوی ؒ 

تاریخ کی اب دو قسمیں ہو گئی ہیں: جدید تاریخ (ماڈرن ہسٹری) اور قدیم تاریخ (انیشنٹ ہسٹری)۔ قرآن مجید میں جن اشخاص اور قوموں کا ذکر ہے، ان کا تعلق زیادہ تر دنیا کی قدیم تاریخ سے ہے۔ قدیم تاریخ کا ابتدائی حصہ عموماً افسانہ مذہبی (میتھالوجی) سمجھا جاتا ہے۔ قرآن میں قوم نوح، عاد، ثمود کے متعلق جو واقعات عبرت انگیز مذکور ہیں، عموماً اب ان کو یورپین علماے تاریخ میتھالوجی اور افسانہ کہن سمجھتے ہیں۔ ہم نے اس موضوع پر ’’ارض القرآن‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں بدلائل تاریخ و آثار اقوام کی حقیقت و اصلیت اور قرآن میں ان کے متعلق جو کچھ مذکور ہے، یورپ کے مسلم تحقیقات اور علم الآثار سے اس کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔

اس مضمون میں اسی قسم کے ایک اور سلسلۂ اعتراضات کی طرف ہم کو توجہ کرنا ہے، یورپ کے علماے مشرقیات اور مسیحیت کے حامیان دین نے قرآن مجید کے متعلق ایک عجیب و غریب اصول موضوعہ بنا لیا ہے جن کے مطابق قرآن مجید کا کوئی نقطہ بھی اپنی جگہ پر صحیح نہیں، اصول مذکورہ یہ ہے کہ قرآن کا ہر واقعہ تاریخی یا تو کسی دوسری مذہبی کتاب میں مذکور ہے یا وہ اس سے خاموش ہے۔ صورت اول میں قرآن کا سرقہ ثابت اور وہ حکایت اس سے ماخوذ اور اگر وہ بدقسمتی سے تنہا قرآن کی روایت ہو تو وہ افسانہ محض اور میتھالوجی، لیکن اس اصول کے مطابق تو دنیا کی کوئی مذہبی تاریخ حملۂ ایراد سے محفوظ نہیں۔

حضرت الیاس ؑ (یا ال یاسین ؑ ) اور ان کی قوم

حضرت الیاس( ال یاسین ؑ  ) اور ان کی قوم 
حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے۔ ایک یہ مقام اور دوسرا سورۃ انعام آیت 85۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جِلْعاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے ۔) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبِی (elijah theTishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے۔ ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں : 

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam) کی نااہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے۔ ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنوبی فلسطین پر مشتمل تھا، آل داؤد کے قبضے میں رہا، اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہوگئی اور بعد میں سامریہ اس کا صدر مقام قرار پایا۔ اگرچہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگرگوں تھے، لیکن اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان ) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Iazebel) سے شادی کرلی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہوگیا، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔ 

بعل دیوتا کی تاریخی حیثیت

بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورۃ بقرہ آیت 228، سورۃ نساء آیت 127، سورۃ ہود آیت 72، اور سورۃ نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔ بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے، اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کر دیے، تو ان کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہوگیا تھا :

لقمان ؑ کی شخصیت - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

لقمان کی شخصیت عرب میں ایک حکیم و دانا کی حیثیت سے بہت مشہور تھی ۔شعرائے جاہلیت،مثلاً امراؤ القیس ،لَبِید،اَعْشیٰ، طَرَفہ وغیرہ کے کلام میں اُن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اہل عرب میں بعض پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان کے نام سے اُن کے حکیمانہ اقوال کا ایک مجموعہ بھی موجود تھا ۔ چنانچہ روایات میں آیا ہے کہ ہجرت سے تین سال پہلے مدینے کا اوّلین شخص جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متاثر ہوا وہ سُوَید بن صامت تھا۔ وہ حج کے لئے مکہ گیا ۔ وہاں حضورؐ اپنے قاعدے کے مطابق مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کی قیام گاہ جا جا کر دعوتِ اسلام دیتے پھر رہے تھے ۔اس سلسلہ میں سُو ید نے جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریر سنی تو اس نے آپ سے عرض کیا کہ آپ سے عرض کیا کہ آپ جو باتیں پیش کر رہے ہیں ایسی ہی ایک چیز میرے پاس بھی ہے ۔ آپ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا مجلّۂ لقمان ۔ پھر آپؐ کی فرمائش پر اس نے اس مجلّہ کا کچھ حصہ آپؐ کو سنایا۔ یہ بہت اچھا کلام ہے ،مگر میرے پاس ایک اور کلام اس سے بھی بہتر ہے ۔ اس کے بعد آپ نے اسے قرآن سنایا اور اس نے اعتراف کیا کہ یہ بلا شبہ مجلّہ لقمان سے بہتر ہے (سیر ۃ ابن ہشام،ج ۲، ص ۶۷۔۶۹۔ اُسُد الغابہ ،ج ۲، صفحہ ۳۷۸) 

مؤرخین کا بیان ہے کہ یہ شخص ( سُوَید بن صامت) مدینہ میں اپنی لیاقت، بہادری، شعر و سخن اور شرف کی بنا پر ’’ کامل‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا تھا ۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کے بعد جب وہ مدینہ واپس ہوا تو کچھ مدّت بعد جنگ بُعاث پیش آئی اور یہ اس میں مارا گیا ۔ اس کے قبیلے کے لوگوں کا عام خیال یہ تھا کہ حضورؐ سے ملاقات کے بعد وہ مسلمان ہو گیا تھا ۔ 

سورۂ روم کا تاریخی پس منظر : سید ابوالاعلی مودودی ؒ

جو پیش گوئی اس سورة کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہٰی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے ۸ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس (Maurice) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوکاس (Phocas)تخت سلطنت پر قابض ہوگیا۔اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا، پھر خود قیصر کو قتل کراکے باپ بیٹوں کےسر قسطنطنیہ میں بر سر عام لٹکوا دیے، اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو روم پر حملہ آور ہونے کے لئے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوکاس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے۔ ٦۰۳ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے درپے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا ﴿موجودہ اُورفا﴾ تک اور دوسری طرف شام میں حَلَب اورانطاکیہ تک پہنچ گیا۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے۔ اس نے بیٹے ہرقل (Heracllus) کو ایک طاقتور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا۔ اس کے پہنچتے ہی فوکاس معزول کردیا گیا، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوکاس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ٦١۰ء کا واقعہ ہے، اور وہی سال ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے۔

ابراہیم ؑ ، ذریت نوح ؑ نہیں : قرآن کا ایک انکشاف

ساجد حمید 

ماہنامہ اشراق 

 تاریخ اشاعت ، ستمبر 2018


بائیبل کے مطابق طوفانِ نوح کے بعد کشتی میں سوار جانوروں اور انسانوں کے سوا تمام مخلوقات مرگئی تھیں۔ گویا طوفانِ نوح عالم گیر طوفان تھا،جس نے زمین کے ہر گوشے سے زندگی کا خاتمہ کردیا تھا۔۱؂ اسی طرح بائیبل یہ بتاتی ہے کہ طوفانِ نوح کے وقت کشتی میں صرف نوح علیہ السلام کے بہو بیٹے ہی سوار تھے، کوئی اور نہ تھا۔ کتاب پیدائش میں لکھا ہے:
’’طوفانی سیلاب سے بچنے کے لیے نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اور بہوؤں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔‘‘ (۷: ۷)


اسی ساتویں باب ہی میں لکھا ہے:
’’چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا، پانی چڑھا تو اس نے کشتی کو زمین سے اٹھا لیا۔ پانی زور پکڑ کر بہت بڑھ گیا، اور کشتی اس پر تیرنے لگی آخر کار پانی اتنا زیادہ ہو گیا کہ تمام اونچے پہاڑ بھی اس میں چھپ گئے۔بلکہ سب سے اونچی چوٹی پر پانی کی گہرائی بیس فٹ تھی۔ زمین پر رہنے والی ہر مخلوق ہلاک ہوئی۔ پرندے، مویشی، جنگلی جانور، تمام جان دار جن سے زمین بھری ہوئی تھی اور انسان، سب کچھ مرگیا۔ زمین پر ہر جان دار مخلوق ہلاک ہوئی۲؂۔ یوں ہر مخلوق کو روے زمین پر سے مٹا دیا گیا۔ انسان، زمین پر پھرنے والے اور رینگنے والے جانور اور پرندے، سب کچھ ختم کردیا گیا ۔ صرف نوح اور کشتی میں سوار اس کے ساتھی بچ گئے۔ سیلاب ڈیڑھ سو دن تک زمین پر غالب رہا۔‘‘ (۱۷۔۲۴) 


کتاب پیدائش ہی کے آٹھویں باب میں لکھا ہے:
’’پھر اللہ نے نوح سے کہا: اپنی بیوی، بیٹوں اور بہوؤں کے ساتھ کشتی سے نکل آ۔ جتنے بھی جانور ساتھ ہیں، انھیں نکال دے، خواہ پرندے ہوں، خواہ زمین پر پھرنے یا رینگنے والے جانور۔ وہ دنیا میں پھیل جائیں، نسل بڑھائیں اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔چنانچہ نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اور بہوؤں سمیت نکل آیا۔ تمام جانور اور پرندے بھی اپنی اپنی قسم کے گروہوں میں کشتی سے نکلے۔‘‘(۱۵۔۱۹)

بنی اسرائیل کی تباہی (2) ، سید ابوالاعلی مودودیؒ


فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا   (بنی اسرائیل : 7) 

پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد ﴿بیت المقدس﴾ میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کر کے رکھ دیں ۔ 

--------------------------------

اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے :

مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ پومپی سن ٦٣ ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی جو بالآخر سن ٤٠ ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی۔ یہ ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر سن ٤٠ سے ٤ قبل مسیح تک رہی۔ اس نے ایک طرف مذہبی پیشواؤں کی سر پرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا، اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصل کی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔

ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

بنی اسرائیل کی تباہی (1) ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل آیت 5 ) 

آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ 
----------------------------------
" اس سے مراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔ اس کا تاریخی پس منظر سمجنے کے لیے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاء سے نقل کرچکے ہیں، بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو امامت اقوام کے منصب سے گر اکر ایک شکست خوردہ، غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔

حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوٹے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ حتِّی اَمَّوری کنعانی، فِرِزِّی، حَوِی، یبوسی، فِلستی وغیرہ سان قوموں میں بد تیرن قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔ ان کے سب سے بڑے معبود کا نام ایل تھا جسے یہ دیوتاؤں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموما سانڈے سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عشیرہ تھا اور اس سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی جن کی تعداد ٧٠ تک پہنچتی تھی۔ اس کی اولاد میں سب سے زیادہ زبردست بعل تھا جس کو بارش اور روئیدگی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ شمالی علاقوں میں اس کی بیوی اناث کہلاتی تھی اور فلسطین میں عستارات۔ یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔ ان کے علاوہ کوئی دیوتا موت کا مالک تھا، کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی۔ کسی دیوتا کو وبا اور قحط لانے کے اختیارات تفویض کیے گئے تھے، اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔ ان دیوتاؤں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی ان کے ساتھ مشتہر ہونا پسند نہ کریں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسی کمینہ ہستیوں کو خدا بنائیں اور ان کی پرستش کریں وہ اخلاق کی ذلیل ترین پستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جو حالات آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں وہ شدید اخلاقی گراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی کا عام رواج تھا۔ ان کے معابد زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔ عورتوں کو دیوداسیاں بنا کر عبادت گاہوں میں رکھنا اور ان سے بدکاریاں کرنا عبادت کے اجزاء میں داخل تھا۔ اور اسی طرح کی اور بہت سی بد اخلاقیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں ۔

تحویل قبلہ کی حقیقت

مولانا ابوالکلام آزاد ؒ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اقوام عالم کی امامت ملی تھی۔ انہوں نے مکہ میں عبادت گاہ کعبہ تعمیر کی اور امت مسلمہ کے ظہور کی الہامی دعا مانگی۔ مشیت الٰہی میں اس ظہور کے لیے ایک خاص وقت مقرر تھا۔ جب وہ وقت آگیا تو پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا اور ان کی تعلیم و تزکیہ سے موعودہ امت پیدا ہوگئی۔ اس امت کو نیک ترین امت ہونے کا نصب العین عطا کیا گیا اور اقوام عالم کی تعلیم اس کے سپرد کی گئی۔ ضروری تھا کہ اس کی روحانی ہدایت کا ایک مرکز بھی ہوتا۔ یہ مرکز قدرتی طور پر عبادت گاہ کعبہ ہوسکتا تھا چنانچہ تحویل قبلہ نے اس کی مرکزیت کا اعلان کردیا۔ یہی حقیقت قلبہ کے تقرر میں پوشیدہ تھی۔ چنانچہ سیقول السفہاء سے یہی بیان شروع ہوتا ہے۔ پیروان دعوت قرآنی مخاطب ہیں اور انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عمل حق نے جو بیج بویا تھا وہ بار آور ہوگیا ہے اور نیک ترین امت تم ہو۔

مولانا مودودیؒ کاسفرنامہ ارض القرآن ۔ ایک مطالعہ


محمد رضی الاسلام ندوی

ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ



اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں اور ان کا اندازِ تالیف بھی مختلف ہے۔ کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی، کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا سفر کیا گیا تھا۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، کچھ میں دیگرمقاصد کارفرما رہے ہیں۔ ان سفرناموں میں سے کچھ کیفیاتی و تاثراتی طرز کے ہیں، مثلاً ممتاز مفتی کا سفرنامہ ’لبیک‘، شورش کاشمیری کا سفرنامہ ’شب جائے کہ من بودم‘ اور عاصی کرنالی کا سفرنامہ ’اپنی منزل کی طرف‘ وغیرہ۔ کچھ سفرناموں میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے، جیسے مولانا عبدالماجد دریابادیؒ کا سفرنامہ ’سفر حجاز‘، مولانا ماہرالقادریؒ کا سفرنامہ ’کاروانِ حجاز‘ اور مولانا غلام رسول مہرؒ کا ’سفرنامہ حجاز‘ وغیرہ، جب کہ کچھ سفرناموں میں جزیرۃالعرب کے اہم آثار و مقامات پر مستند تاریخی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔



تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ایک ہے ڈاکٹر ایچ-بی خان کا سفرنامہ بہ عنوان ’کراچی سے گنبدِ خضراء تک‘۔ یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں، بلکہ مکہ معظّمہ ، مدینہ منوّرہ اور حکومت سعودی عرب پر ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس میں مصنف نے تاریخ کے بہت سے بکھرے ہوئے اوراق اور مواد کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح یہ کتاب حجاج کرام اور زائرین کی رہ نمائی کے ساتھ محققین اور تاریخ کے طلبہ کے لیے بالخصوص اور عام مسلمانوں کے لیے بالعموم دل چسپی اورتاریخی معلومات کا باعث ہے۔ دوسرا ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر کا سفرنامہ نجد و حجاز بہ عنوان ’دشت ِامکان‘ ہے۔ موصوفہ نے اس کتاب میں اپنے سفرہائے حج و عمرہ کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ اس سفرنامہ میں ادب اور تاریخ کا خوب صورت امتزاج پایا جاتا ہے، تاریخی واقعات کے سلسلے میں قرآن کریم کے علاوہ تاریخ کی مستند کتابوں کا بھی سہارا لیا گیا ہے۔ اس موضوع پر تیسرا اور اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’سفرنامۂ ارض القرآن‘ ہے، جسے جناب محمد عاصم نے مرتب کیا ہے۔ یہ حج و عمرہ کا سفرنامہ نہیں، بلکہ آثار و مقاماتِ قرآنی کی تحقیق و زیارت کے لیے کیے گئے ایک سفر کی روداد ہے۔ یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیاء کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ دینی اور تاریخی لٹریچر میں یہ ایک اہم اور مفید اضافہ ہے۔


آئندہ سطور میں آثار و مقاماتِ قرآنی کی تحقیق کے پہلو سے اسی موخر الذکر سفرنامہ کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا جارہا ہے۔ 


سفرنامۂ ارض القرآن – اجمالی تعارف 


مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (۱۹۰۳-۱۹۷۹ئ) کا شمار بیسویں صدی عیسوی کے عظیم مفکرین میں ہوتا ہے۔ فکر اسلامی کے احیاء کا جو غیر معمولی کارنامہ انھوں نے انجام دیا ہے اس کے نمایاں اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے گئے ہیں۔ ان کا علمی کام اسلامی علوم کے تمام میدانوں کو محیط ہے۔ خاص طور سے ان کی تفسیر ’تفہیم القرآن‘ قرآنیات کے میدان میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ بہ قول مولانا صدرالدین اصلاحیؒ (م۱۹۹۸ئ) ’’یہ تفسیر موجودہ دور کے ذہن کو قرآن حکیم اور اس کے بیان کردہ حقائق اور تعلیمات کے بارے میں جس طرح یقین و اطمینان کی ٹھنڈک سے بہرہ ور کرتی ہے وہ اسی کا حصہ ہے۔ یہ پڑھنے والے کے اندر صرف قرآن کا فہم ہی نہیں پیدا کرتی ہے، بلکہ طالبانِ حق کو ایمان کی تازگی اورعمل کی سرگرمی بھی عطا کرتی ہے اور ان کے اندر داعیانہ جذبات کو حرکت میں لاتی ہے‘‘۔ (تلخیص تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ص۳) 


تفہیم القرآن کی تالیف کا آغاز مولانا مودودی ؒنے محرم ۱۳۶۱ھ/ فروری ۱۹۴۲ء سے کیا اور یہ کام تیس سال کے بعد ربیع الثانی ۱۳۹۲ھ/ جون ۱۹۷۲ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ دورانِ تالیف انھوں نے محسوس کیا کہ جن مقامات و آثار کا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے یا رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے ان کا تعلق ہے انھیں بہ چشم خود دیکھ لینا بہتر ہوگا۔ اس کے لیے انھوں نے ۱۹۵۹ء کے اواخر اور ۱۹۶۰ء کے اوائل میں یہ سفر کیا تھا۔ دورانِ سفر مولانا نے اپنے اس مقصد کا تذکرہ بار بار کیا۔ سعودی عرب میں ڈاکٹر عبداللہ عباس ندویؒ نے ،جو اس وقت سعودی ریڈیو جدّہ میں اردو پروگرام کے ذمہ دار تھے، ان سے ایک انٹرویو میں مقصدِ سفر سے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: 


’’میرے اس سفر کی غایت عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ یہ ہے کہ ان مقامات اور علاقوں کا بہ چشم خود مشاہدہ کروں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے، یا جن سے قرآن مجید کے نزول یا سیرت نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا خاص تعلق ہے۔ اس سلسلے میں مکۂ معظمہ اور طائف کے بعد اب میں بدر، مدینہ منورہ، خیبر، مدائن صالح، تبوک اور مدین کا قصد رکھتا ہوں۔ پھر اردن میں خاص خاص مقامات کو دیکھتا ہوا دمشق جاؤںگا اور وہاں سے مصر اور جزیرۂ سینا کا رخ کروں گا‘‘۔ 


(سفرنامہ ارض القرآن ، ص۱۷۳) 


بعد میں اردو میں عمّان ریڈیو کے نمائندہ کے ایک سوال کے جواب میں بھی مولانا نے یہی وضاحت کی ۔ انھوں نے فرمایا: 


’’اس سفر سے میرا مقصد انبیاء علیہم السلام کے آثار اور ان تاریخی مقامات کو دیکھنا اور سمجھنا ہے جن کا ذکر قرآن پاک یا سیرت کی کتابوں میں ہوا ہے۔ میں ان دنوں تفہیم القرآن کے نام سے قرآن مجید کی ایک تفسیر لکھ رہا ہوں۔ اس تفسیر کی تیاری کے دوران میں نے یہ محسوس کیا کہ قرآن کے بہت سے مقامات کو آدمی اس وقت تک اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا جب تک ان علاقوں اور مقامات کو دیکھ نہ لے جن کا قرآن پاک میں ذکر ہوا ہے۔ اس وجہ سے میں نے یہ سفر کیا ہے‘‘۔ (ایضاً، ص۲۵۷) 


اس سفر میں جماعت اسلامی پاکستان کی دو شخصیات نے مولانا مودودی کی مصاحبت کی تھی۔ ایک چودھری غلام محمد (۱۹۱۶-۱۹۷۰ئ) اور دوسرے جناب محمد عاصم (م۱۹۸۹ئ) ۔ چودھری صاحب تقسیم ہند سے قبل جماعت اسلامی کے رکن بنے تھے۔ تشکیل پاکستان کے بعد عرصہ تک کراچی کے امیر رہے۔ ۱۹۵۷ء میں دوماہ کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر بھی مقرر ہوئے۔ انھوں نے جماعت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا مودودی کے ذاتی نمائندے کی حیثیت سے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ وہ جماعت کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے (ان کے حالات کے لیے دیکھیے چودھری غلام محمد- ایک شخص، ایک تحریک، ازمحمد موسیٰ بھٹو، حیدرآباد ، پاکستان، ۱۹۸۳ئ) جناب محمد عاصم تقریباً دو دہائیوں تک رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ سے منسلک رہے ہیں۔ وہاںکی ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد لاہور میں مقیم ہوئے اور مختلف علمی و تصنیفی کام انجام دیے۔ مولانا مسعود عالم ندویؒ (م۱۹۵۵ئ) کی وفات کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کے شعبۂ عربی ’دارالعروبۃ‘ کے ناظم رہے۔ ان کی تصانیف میں ’فقہ السنۃ‘ معروف و متداول ہے۔ 


سفر کی پوری روداد بعد میں جناب محمد عاصم نے مرتب کی، جو ’سفرنامۂ ارض القرآن‘ کے نام سے پہلے پاکستان (۱۹۷۲ئ) اور بعد میں ہندوستان (۱۹۸۶ئ) سے شائع ہوئی۔ 


سفر کی اجمالی روداد 


مولانامودودیؒ نے پہلی مرتبہ ۱۹۵۶ء میں سرزمین عرب کا سفر کیا تھا اور حج و زیارت سے مشرف ہوئے تھے۔ اس موقع پر ان کا ارادہ حرمین کے آثار کو بھی دیکھنے کا تھا، لیکن حج کی مصروفیات اور دیگر اسباب سے ان کی یہ دلی خواہش اس وقت پوری نہ ہوسکی۔ سفر سے واپسی پر انھوں نے طے کیاکہ آئندہ کبھی سردی کے موسم میں عمرہ کیا جائے اور سرزمین عرب کے تمام تاریخی آثار و مقامات کا بھی تفصیل سے مطالعہ کیا جائے، لیکن صحت کی خرابی اور مشاغل کی زیادتی نے تین سال تک انھیں اس کی مہلت نہ دی۔ پاکستان میں مارشل لا نافذ ہونے اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں پر پابندی عائد ہونے کے بعد جب انھیں اپنی تحریکی کاموں سے یک گونہ فرصت ملی تو اپنے علمی کاموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی فکر ان کے دماغ پر مسلّط رہنے لگی۔ چناںچہ انھوں نے سرزمین عرب کے سفر کا وسیع نقشہ بنایا اور طے کیا کہ نہ صرف حرمین کی زیارت کی جائے، بلکہ نجد، حجاز، شرقِ اردن، فلسطین، شام اور مصر کے بھی ان تمام آثار و تاریخی مقامات کو دیکھا جائے، جن کا ذکر قرآن مجید اور سیرتِ پاک کی کتابوں میں آیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب جمہوریہ (مصر و شام) کے سفراء سے رابطہ قائم کیا۔ سعودی سفیر الاستاذ محمد الحمد الشبیلی نے نہ صرف ویزا دینے کا وعدہ کیا، بلکہ یقین دلایا کہ سعودی حکومت مولانا کو اپنے ملک میں داخل ہونے کے بعد سفر کے سلسلے میں ہرطرح کی سہولت بہم پہنچائے گی۔ دیگر ممالک کے سفراء سے بھی مثبت جوابات موصول ہوئے تو مولانا نے سفر کا پروگرام فائنل کردیا۔ 


یہ سفر ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۵۹ء کو لاہور سے شروع ہوا اور ۶؍ فروری ۱۹۶۰ء کو وہیں واپسی پر اختتام کو پہنچا۔ لاہور سے کراچی تک کا سفر بذریعہ ٹرین ہوا، وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے مسقط، دبئی، قطر اور بحرین ہوتے ہوئے سعودی عرب میں داخلہ ہوا (مولانا مودودی بحرین سے ہوائی جہاز کے ذریعے ظہران پہنچ گئے تھے، جناب محمد عاصم بحرین سے بحری جہاز کے ذریعے سعودی عرب کے ساحلی شہر خُبَر اور وہاں سے ظہران پہنچے۔ چودھری غلام محمد صاحب پہلے ہی اپنے بعض احباب سے ملنے کویت چلے گئے تھے، وہ وہاں سے ظہران پہنچ کر قافلے میں شامل ہوگئے) سعودی عرب میں مولانا نے پچاس دن (۱۰؍نومبر تا ۳۰؍ دسمبر ۱۹۵۹ئ) گزارنے اور وہاں حرمین شریفین اور ان کے اطراف کے علاوہ طائف اور عقبہ کے آثار کا بھی تفصیلی مشاہدہ کیا۔ وہاں سے وہ اردن تشریف لے گئے جہاں بارہ دن (۳۰؍ دسمبر ۱۹۵۹ء تا ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۰ئ) قیام کرکے اردن و فلسطین کے تاریخی مقامات کی زیارت کی۔ آخر میں شام و مصر (۱۱-۲۸؍ جنوری ۱۹۶۰ئ) ہوتے ہوئے (جہاں جزیرہ نمائے سینا کے تاریخی آثار دیکھے) کویت میں ایک ہفتہ (۲۸؍ جنوری تا ۴؍ فروری ۱۹۶۰ئ) گزار کر واپس آگئے۔ 


سفر نامہ کی اہمیت 


یہ سفرنامہ متعدد پہلوؤں سے بڑی اہمیت کا حامل ہے: 


۱- اس سے نصف صدی قبل کے جزیرۃ العرب کے جغرافیائی اور تمدنی حالات کا علم ہوتا ہے۔ مولانا سعودی عرب کے مختلف شہروں میں جہاں جہاں بھی تشریف لے گئے ان میں سے بیش تر مقامات تک پہنچنے کے لیے انھوں نے موٹرگاڑی کا استعمال کیا۔ اس ضمن میں راستوں کی دشواری، سڑکوں کی ناہمواری، پہاڑوں کی کثرت اور پتھریلی زمین کا تذکرہ بار بار ملتا ہے۔ سعودی حکومت کے ذریعے سڑکوں کی درستگی اور راستوں کی ہمواری کے لیے جو کام انجام پارہے تھے ان پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً مولانا نے مکّہ سے طائف جانے کے لیے جو راستہ اختیار کیا اس پر مکہ سے طائف کا فاصلہ ۱۲۰ کلو میٹر (۷۵ میل) تھا۔ اس پر جعرانہ، شرائع، زیمہ، السیل الکبیر اور السیل الصغیر نامی مقامات پڑتے تھے۔ ان دنوں ایک دوسرا راستہ تیار کیا جارہا تھا جو طائف سے وادی ہدّا، کرا، شداد، عرفات سے ہوتا ہوا مکہ معظمہ جاتا تھا۔ کرا نامی بلند پہاڑ پر دونوں طرف سڑک بن چکی تھی، صرف اس پہاڑ کو کاٹ کر راستہ ملانے کا کام باقی تھا۔ مرتب سفر نامہ نے لکھا ہے کہ یہ کام مکمل ہوجانے کے بعد طائف اور مکہ مکرمہ کے درمیان مسافت صرف ۶۵ کلو میٹر (۴۰ میل) رہ جائے گی۔ (ص۱۶۰) 


بعض مقامات پر مولانا ٹرین کے ذریعے تشریف لے گئے۔ ترکوں کے ذریعے بچھائی گئی ریلوے لائن اس زمانے میں کہیں کہیں کام کررہی تھی۔ مدینہ سے عقبہ کا سفر انھوں نے موٹر سے کیا، لیکن مرتب سفر نامہ نے لکھا ہے کہ پورے راستے ریلوے رائن بچھی ہوئی ہے، جو جگہ جگہ سے کٹ گئی ہے، کہیں کہیں انجن اور ڈبے کھڑے ہوئے ہیں، اسٹیشنوں کی عمارتیں مضبوط ہیں، لیکن ان سے کھڑکیاں اور دروازے اکھاڑ لیے گئے ہیں۔ بعض اسٹیشن سرکاری دفاتر کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ وغیرہ 


ان دنوں حرم مکّی کی توسیع ہورہی تھی،اس سفر نامہ میں اس کا بھی تذکرہ ملتا ہے: 


’’توسیع و تعمیر کا یہ کام بڑے زوروں پر جاری ہے۔ اس وقت صرف ڈیڑھ طرف سے عمارت مکمل ہوئی ہے۔ ساری عمارت دومنزلہ بنائی جارہی ہے۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو بھی دوراہا اور دوہرا بنایا جارہا ہے، بلکہ اسے تو مکمل کرلیا گیا ہے۔ جس وسیع پیمانے پر یہ تعمیر ہورہی ہے اسے دیکھ کر لوگوں کا اندازہ ہے کہ اس کی تکمیل میں کم از کم بارہ تیرہ سال اور لگیں گے، لیکن مکمل ہوجانے کے بعد حرم کی وسعت پہلے سے ڈھائی گنا ہوجائے گی اور اس میں بیک وقت پانچ لاکھ آدمی نماز پڑھ سکیں گے اور اس کا شمار دنیا کی چند بڑی عمارتوں میں ہوگا۔ اندازہ یہ ہے کہ پوری عمارت پر دو ارب روپیہ کے قریب سرمایہ صرف ہوجائے گا ۔ یہ ساری تعمیر شاہ سعود اپنے ذاتی مصارف پر کرارہے ہیں۔ شاہ سعود کے کارناموں میں اس کا شمار یقیناً سرِفہرست ہے‘‘۔(ص۱۵۱-۱۵۲) 


۲- اس سفرنامہ سے اس وقت کے سعودی حکم رانوں اور مختلف سطح کے اصحابِ مناصب کی قدر افزائی، علم دوستی اور اعزاز و اکرام کا اظہار ہوتا ہے۔ مولانا مودودی نے آثار و مقامات قرآنی کے مشاہدہ کے لیے عرب ممالک کے سفر کا ارادہ ان ممالک کے سفراء کے سامنے ظاہر کیا تو سب سے پہلے سعودی سفیر نے اپنے ملک کی جانب سے اس سلسلے میں ہرممکن سہولت بہم پہنچانے کا وعدہ کیا۔ شیخ عبدالعزیز بن بازؒکے ذریعے شاہ سعود بن عبدالعزیز نے مولانا کے اس سفر میں دل چسپی لی اور اپنے ذاتی مصارف کی مد سے انھیں سفر خرچ کے لیے تین ہزار سعودی ریال بھیجے (ص۱۱۷) قائم مقام وزیر اعظم امیر مساعد نے وزارت داخلہ اوروزارت تعلیم کو تار دیے۔ پھر مولانا جس شہر میں بھی پہنچے وہاں کے حکومتی اہل کاروں نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انھیں سرکاری مہمان کی حیثیت دی۔ 


۳- اس سے عربوں کی سماجی زندگی، رسم و رواج اور عادات و اطوار کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ مثلاً ایک جگہ مرتب سفر نامہ نے لکھا ہے: 


’’خبر کے بازاروں میں بہت ہی کم بے پردہ عورتیں گھومتی نظر آئیں، بے پردہ عورتیں یا تو امریکن تھیں یا کچھ شامی، فلسطینی، مصری اور لبنانی۔ یہ سب امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے ڈنڈے کا اثر ہے کہ کوئی مقامی عورت پردہ کے بغیر بازار میں نہیں نکل سکتی‘‘۔ (ص۶۵) 


عربوں کی مہمان نوازی کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ ہو: 


’’عربوں کے یہاں یہ بڑی معیوب بات سمجھی جاتی ہے کہ مہمانوں کے سامنے کھانا ان کی تعداد کے مطابق رکھا جائے، بلکہ مہمانوں کی عزت افزائی اس میں ہے کہ کھانا ان کی تعداد سے بہت زیادہ ہو، تاکہ وہ جسے چاہیں اپنے ساتھ شامل کرسکیں‘‘۔ (ص۳۲) 


’’در اصل عربوں کے ہاں مہمان کے استقبال اور تواضع کے جو اصول ہیں ان میں ’القادم یزار‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے(یعنی یہ کہ پہلے مہمان سے اس کی جائے قیام پر جاکر ملاقات کی جائے اور پھر اسے اپنے ہاں بلایا جائے)‘‘۔ (ص۷۷) 


’’اہل نجد کی عادت ہے کہ وہ اپنے مہمان اور ملنے والے سے بار بار کیف حالکم کہتے ہیں اور عساکم طیّبین، عساکم بخیر کے اس قدر پے در پے سوالات کرتے ہیں کہ ایک غیر عرب حیران رہ جاتا ہے۔ اس پر مزید یہ کہ بات بات پر وہ اپنے مخاطب کو دعائیں دیتے ہیں‘‘۔ (ص۷۸) 


سعودی عرب میں امن وامان کے حوالے سے یہ واقعہ دل چسپی سے سناجائے گا کہ ظہران میں مولانا مودودی کے میزبان ان کے استقبال کے لیے ایرپورٹ گئے تو اپنا مکان کھلا چھوڑ گئے تھے۔ ان سے وجہ دریافت کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ ہم تو بسا اوقات اسی طرح مکان کھلا چھوڑجاتے ہیں۔ ایک دوسرے صاحب نے بتایا کہ ہم تو کئی کئی روز کے لیے اسی طرح مکان کھلا چھوڑکر چلے جاتے ہیں اور واپسی پر ہرچیز محفوظ پاتے ہیں۔ اس حوالے سے مرتب سفرنامہ نے لکھا ہے: 


’’سعودی حکومت میں امن وامان کے بہت سے واقعات تو ہم نے پہلے بھی سنے تھے اور گزشتہ سفر میں اس کیفیت کا مشاہدہ کیا تھا، لیکن یہ دو واقعات ہمارے لیے حد درجہ حیرت انگیز تھے۔ سوچیے، آخر کس چیز کی برکت ہے؟ ہمارے ہاں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر یہاں شرعی نظام قائم ہوگیا تو لوگوں کے ہاتھ کٹنا شروع ہوجائیں گے۔ جی ہاں ،چند ہاتھ کٹیں گے، لیکن سارا ملک چین پائے گا‘‘۔ (ص۵۳) 


۴- اِس سفرنامہ سے اُس زمانے کے سعودی عرب کے علماء و فضلائ، دانش وروں اور نوجوان طبقہ کے علمی و فکری ارتقاء اور مختلف مسائل پر ان کے اندازِ فکر کا اظہار ہوتا ہے اور واضح ہوتا ہے کہ ان میں اسلام سے وابستگی کس حد تک پائی جاتی تھی ؟اور جدید نظریات سے وہ کس حد تک متاثر ہورہے تھے؟ مولانا مودودی جہاں بھی تشریف لے گئے وہاں کے اصحاب علم ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے اور ان کی دعوت پر مولانا بھی ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ مفتی اکبر شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ ؒ، الشیخ عمر بن حسن آل الشیخ ؒصدر محکمہ الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، الشیخ عبدالعزیز بن بازؒ، الشیخ عبداللطیف بن ابراہیم آل الشیخ ؒنگران اعلیٰ کلیۃ الشریعۃ ریاض، الاستاذ عبدالحکیم عابدین ؒجنرل سکریٹری الاخوان المسلمون مصر، الشیخ منّاع القطانؒ پروفیسر کلیۃ الشریعۃ ریاض، الشیخ حمد الجاسرؒ (عرب جغرافیہ پر اتھارٹی) الاستاد محمد احمد باشمیلؒ (مشہور ادیب) اور دیگر بہت سے علماء و ادباء سے ملاقات کا تذکرہ اس سفرنامہ میں ملتا ہے۔ مختلف شہروں میں ان کے اعزاز میں چھوٹے بڑے جلسے اور علمی مجلسیں منعقد ہوئیں ،جن میں خاص طور سے نوجوانوں نے مولانا سے بھرپور استفادہ کیا ۔ اس زمانے میں عرب قومیت کا فتنہ عرب ممالک میں سراٹھارہا تھا۔ مولانا کو جب بھی موقع ملا اس پر تنقید کی اور اس کے خطرات سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ 


۵- اس سفر کا اصل مقصد آثار و مقامات قرآنی کا بہ راہ راست مشاہدہ تھا۔ یہ چیز اس سفرنامہ کو جزیرۃالعرب کے دیگر سفرناموں سے ممتاز کرتی ہے۔ آئندہ سطورمیں اس پہلو پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ 


آثار و مقاماتِ قرآنی کی تحقیق 


مولانا مودودی نے سب سے پہلے سعودی عرب کے آثار کا مشاہدہ کیا۔ان میں بھی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے آثار کا تفصیلی مشاہدہ و معاینہ کیا۔ مکہ کے آثار میں دار ارقم، جبل ابوقبیس، شعب ابی طالب، مسجد الرایۃ، مسجد الجن، قبرستانِ المعلّی، طریقِ کدا، جبل نور، منٰی، عرفات، مسجد خیف، جمرات، وادیٔ محسّر، مزدلفہ، مسجد النمرۃ، وادیٔ مرنہ، مسجد محصّب، مسجد الکبش، جبل ثور وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ مدینہ منورہ میں قبا، مسجد الجمعۃ، دارکلثوم بن ہدم، دار سعد بن خیثمہ، بئر اریس، بئر خاتم، بئر رومہ، مسجد القبلتین، وادیٔ عقیق، خندق، جبل سلع، مسجد ذوباب، مسجد فتح، مساجد خمسہ، کہف بنی حرام ، مسجد شمس، حصن کعب بن اشرف، مسجد الغمامۃ، بئر بضاعۃ، سقیفۂ بنی ساعدہ، دار ابی ایوب انصاری وغیرہ کا مشاہدہ کیا۔ ان کے علاوہ وادیٔ حنیفہ (مسیلمہ کذّاب کا وطن) حنین، حدیبیہ، بدر وغیرہ کا بھی مشاہدہ کیا۔شمالی جزیرۃ العرب میں مدائن صالح ، خیبر، تیما، تبوک اور مغایر شعیبؑ (مدین) وغیرہ کے تاریخی مقامات مشاہدہ میں آئے۔ مرتب سفرنامہ نے ان تمام مقامات کے مشاہدہ کی تفصیل درج کی ہے اور ساتھ ہی ان کی تاریخی اہمیت، قرآن کریم میں ان کا تذکرہ اور سیرت نبوی سے ان کے تعلق کی بھی وضاحت کی ہے۔ انھوں نے جابہ جا لکھا ہے کہ ان مقامات کی اہمیت اور ان کی صحیح نوعیت ان کو دیکھ کر سمجھ میں آتی ہے۔ ان تمام مقامات کا تذکرہ اور ان کے مشاہدہ کی تفصیل طول کا باعث ہوگی۔ بہ طور مثال چند مقامات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ 


سیرت نبوی میں غارثور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر آںحضرت ﷺ نے اسی میں تین دن پناہ لی تھی۔ اس کے مشاہدہ کاتذکرہ مرتب سفر نامہ نے یوں کیا ہے: 


’’جب سڑک کے نشانات کے مطابق مکہ معظمہ ۹ میل رہ گیا تو جبل ثور ہمارے بالکل سامنے تھا ۔اگرچہ اس کا فاصلہ سڑک سے آدھ میل ہوگا۔ جبل نور کی نسبت اس کی اونچائی زیادہ ہے اور اس پر چڑھنے کا راستہ بھی بہت خطرناک ہے۔ غارثور اس کے عین اوپر ہے ۔۔۔غار ثور وہ جگہ ہے جہاں ہجرت کے موقع پر کفّار مکہ سے چھپنے کے لیے نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پناہ لی تھی اور جس کا قرآن کریم کی اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ إِذْ أَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ ثَانِیَ اثْنَیْْنِ إِذْ ہُمَا فِیْ الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّہَ مَعَنَا (التوبۃ:۴۰) یہ غار مکہ معظمہ کے جنوب میں واقع ہے۔ قدیم زمانہ میں مکہ سے یمن کو جو راستہ جاتا تھا وہ اس کے قریب سے گزرتا تھا۔ اس لیے تعجب ہوا کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ تو مدینہ منورہ جانا چاہتے تھے اور مدینہ منورہ مکہ کے شمال میں ہے اس لیے وہ جنوب کی طرف کیسے آئے اور پھر خاص طور پر اس غار کا انتخاب انھوں نے کیوں کر کیا۔ جب کہ پہاڑ کی اس قدر بلندی پر اس کا پتا لگانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔ اور پھر اردگرد کے بہت سے پہاڑ ایسے ہیں جو اپنی شکل و صورت اوراونچائی میں اس پہاڑ سے مشابہ ہیں۔ ممکن ہے یہ انتخاب نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ کیا ہو، یا یہ کہ آپؐ کو یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مکہ معظمہ کے اردگرد پہاڑوں سے اتنی واقفیت ہو کہ آپؐ اس غار کو پہلے سے جانتے ہوں۔ بہرحال چھپنے کے لیے اس غار کے انتخاب میں مصلحت یہ تھی کہ کفارمکہ آںحضرت ﷺ کو مدینہ کے راستے میں تلاش کرتے رہے، حالاںکہ حضور اس کے برعکس سمت میں یمن کے راستے پر ایک ایسے غار میں چھپے ہوئے تھے جس کی طرف ان کا گمان بھی نہ جاسکتا تھا‘‘۔ (ص۱۴۷-۱۴۹) 


مسجد القبلتین کا تذکرہ اس انداز سے کیا ہے: 


’’اس کے بعد ہم مسجد القبلتین (دو قبلوں والی مسجد) آئے، جو مدینہ سے شمال مغرب ہی میں ڈیڑھ دو میل کے فاصلہ پر العقاب نامی ایک بستی میں واقع ہے۔ یہ در اصل قبیلۂ بنوسلمہ کی مسجد تھی۔ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ اس مسجد میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ظہر کی نماز ادا فرمارہے تھے کہ تحویل قبلہ کی وحی نازل ہوئی اور حضورؐ نے نماز ہی میں بیت المقدس کی طرف سے منہ پھیر کر بیت اللہ کی جانب رخ کرلیا۔ اسی لیے اس مسجد کو مسجد القبلتین کہا جاتا ہے۔ گزشتہ سفر میں جب ہم نے اس مسجد کی زیارت کی تھی تو یہاں دو محرابیں بنی ہوئی تھیں۔ ایک کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا اور دوسری کا بیت اللہ کی طرف۔ اب کی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ مسجد کی ساری عمارت نئی اور نہایت پختہ و شان دار بنادی گئی ہے اور اس میں دو کے بجائے ایک محراب بنادی گئی ہے۔ بیت المقدس کے رخ والی محراب توڑ دی گئی ہے‘‘۔ (ص۲۰۹) 


میدان بدر کا معاینہ کرتے ہوئے اس کی تاریخی اہمیت پر یوں روشنی ڈالی ہے: 


’’مفرق کا فاصلہ مدینہ سے ۱۵۵ کیلو میٹر اور جدہ سے ۲۶۹ کیلو میٹر ہے۔ جدّہ سے آتے ہوئے یہاں سے پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ۷ کیلو میٹر اور چلنے کے بعد ہم ۲-۱ ۱۱ بجے کے قریب بدر پہنچ گئے ۔۔۔ یہ مقام بدر کی بستی سے دو کیلو میٹر (۴-۱ میل) پر مغرب کی طرف واقعہ ہے۔ وہاں ایک چھوٹے سے احاطہ میں ۱۳ شہدائے بدر مدفون ہیں اور قریب ہی اہل بدر کا موجودہ قبرستان بھی ہے۔ اس جگہ پہنچنے کے لیے مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والے کو دائیں جانب اور جدہ سے آنے والے کو بائیں طرف مڑناہوتاہے۔یہ مقام یعنی بدر مفرق سے ۷ کیلو میٹر ہے۔ جہاں سے ینبع سے آنے والی سڑک مدینہ سے آنے والی سڑک سے مل جاتی ہے۔ کفار کا قافلہ جو شام سے آرہا تھا وہ اسی کے راستے سے مکہ کی طرف چلا گیا اور کفار کا لشکر آگے بڑھ کر بدر کے مقام پر اس لیے ٹھہر گیا کہ مسلمانوں کا راستہ روک سکے۔ شہداء کی قبریں جس جگہ واقع ہیں وہاں اب کوئی نشان نہیں ہے۔ صرف ایک حوض ہے جس کے چاروں طرف منڈیر بنی ہوئی ہے۔ جو مقامی آدمی ہمارے ساتھ تھا اس کی مدد سے ہم نے العدوۃ القصوی، العدوۃ الدنیا اور کفار اور صحابۂ کرام کے آنے کی سمتوں کو سمجھنے کی کوشش کی‘‘۔ (ص۱۹۴-۱۹۵) 


مدینہ سے قریب جبل احد کا مشاہدہ کرنے کے لیے گئے تو اس کے بارے میں اپنے تاثرات اور اس کی تاریخی اہمیت کاان الفاظ میں اظہار کیا: 


’’یہ وہ پہاڑ ہے جس کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ہذا جبل یحبنا ونحبّہ (یہ وہ پہاڑ ہے جوہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں) اسی پہاڑ کے دامن میں ۳ھ میں مشہور غزوۂ احد پیش آیاتھا، جس میں نبی ﷺ کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور بہت سے دوسرے صحابۂ کرام کے علاوہ حضور کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت واقع ہوئی۔ مدینہ سے اس کا فاصلہ شمال کی جانب تین چار میل ہے اور یہ مشرق سے مغرب کو ۴ میل کے قریب لمبا ہے۔ جب تک انسان اس کے قریب نہیں پہنچ جاتا، دور سے دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ متعدد پہاڑی سلسلوں کا مجموعہ ہے۔ اس تک پہنچنے سے پہلے دائیں طرف ایک چھوٹی سی پہاڑی آتی ہے، جس کا قدیم نام جبل عینین ہے، لیکن اب یہ جبل الرماۃ (تیر اندازوں کا پہاڑ) کے نام سے مشہور ہے۔ اسی پہاڑی پر غزوۂ احد کے موقع پر نبی ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کو متعین فرمایا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، خواہ جنگ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہو یا شکست ۔ جبل الرماۃ اور جبل احد کے درمیان وہ وادی ہے جسے وادی قناۃ کہا جاتا ہے اور جس میں غزوۂ احد واقع ہوا۔ مسلمانوں کا لشکر ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مشرق کی طرف تھا اور کفار مکہ کا لشکر جبل احد کے گرد چکّر کاٹ کر مغرب کی طرف سے آیا تھا۔ اس وادی میں جبل الرماۃ سے کچھ مغرب کو ایک چاردیواری کے اندر وہ صحابۂ کرام مدفون ہیں جو غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے‘‘۔ (ص۲۰۱- ۲۰۲) 


خیبر ایک سر سبز علاقہ ہے۔عہد نبوی میں یہاں یہودی قبیلے آباد تھے۔رسول اللہﷺ نے جب مدینہ کے یہودی قبائل: بنو قینقاع اور بنو نظیر کو ان کی سرکشی اور بد عہدی کی بنا پر جلا وطن کر دیا تھا تو وہ بھی یہاں آکر آباد ہو گئے تھے۔ ۷ھ میں غزوہ خیبر پیش آیا تھا۔ مرتب سفر نامہ نے خیبر کی زیارت کی روداد ان الفاظ میں بیان کی ہے: 


’’ہم خیبر کے آثار دیکھنے نکلے۔سب سے پہلے ہم ایک کھلے میدان میں پہنچے،جو خیبر کی آبادی سے ملحق شمال کی طرف واقع ہے۔اس میدان سے متعلق ہمیں بتایا گیا کہ یہ وہی میدان ہے جہاں لشکر اسلام اور یہودیوں کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔اس میدان کے شمال میں اور البشر نامی ایک چھوٹی سی بستی کے مشرق میں وہ مقام بھی واقع ہے جہاں شہداء کو دفن کیا گیا تھا۔۔۔۔خیبر میں چلنے پھرنے اور وہاں کے لوگوں کے بتانے سے معلوم ہوا کہ خیبر میں کل سات وادیاں ہیں،جو سب ایک دوسرے سے الگ الگ واقع ہیںاور ان میں سے ہر وادی دوسری سے بڑھ کر سر سبز و شاداب ہے۔جگہ جگہ ہمیں پانی کے چشمے اور کنویں نظر آئے۔لوگوں نے بتایا کہ ان وادیوں میں چشموں کی تعدادسو کے قریب ہے اور ان میں کھجور کے علاوہ انگور،انار،ترنج،لیموں اور انجیر کے درخت بھی کثرت سے موجود ہیں۔۔۔۔خیبر کو دیکھنے کے بعد سب سے اہم بات جس کا ہمیں اندازہ ہوا وہ یہ کہ عہد نبوی کے بہت سے غزوات کو انسان اس وقت تک ٹھیک ٹھیک نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ جاکر ان کے مواقع کو بہ چشم خود نہ دیکھ لے۔یہودیوں نے یہاں الگ الگ سات قلعے کیوں تیار کر رکھے تھے؟ اورنبی ﷺ اور صحابہ کرام کو ان کے فتح کرنے میں سخت دشواری کیوں پیش آئی تھی؟اس کی وجہ وہاں جاکر آسانی سے معلوم ہو جاتی ہے‘‘ [ص:230-232] سیرت نبوی میں سفر تبوک کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ رومیوں نے مسلمانوں کے خلاف بھاری لشکر جمع کرلیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی تو آپؐ نے موسم کی سختی اور راستہ کی دشواری کے باوجود یہ سفر کیا۔راستے کی دشواریوں کا تذکرہ مرتب سفر نامہ نے ان الفاظ میں کیا ہے: 


’’مدینہ سے مدائن صالح تک جس راستے سے ہم گزرے یہ قریب قریب وہی راستہ ہے جس سے رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تھے۔موٹر میں اور وہ بھی سردی کے موسم میں سفر کرنے کے باوجود یہ راستہ جس قدر کٹھن اور دشوار گزار ہے اس کے پیش نظر ہم راستے بھر یہی سوچتے اور اس موضوع پر گفتگو کرتے رہے کہ اس راستے کو نبی ﷺ نے سخت گرمی کے موسم میں تیس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ کیوں کر طے کیا ہوگا۔یقیناً یہ ایک ایسی آزمائش تھی جس میں کوئی شخص ،جس کے دل میں ذرہ بھر بھی نفاق موجود تھا،اپنا نفاق ظاہر کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا‘‘[ص224-226] آگے میدان تبوک کے بارے میں مرتب سفرنامہ نے لکھا ہے: 


’’جب تبوک صرف پچاس کیلو میٹر رہ گیا تو ایک بہت وسیع اور ہموار میدان شروع ہوا، جسے دیکھ کر یہ وجہ سمجھ میں آگئی کہ رومیوں نے اپنا بھاری لشکر جمع کرنے کے لیے تبوک کو کیوں منتخب کیا تھا؟ واقعی یہ میدان اس قابل تھا کہ یہاں رومیوں کا عظیم لشکر اور اسلامی لشکر کے تیس ہزار آدمی بہ یک وقت جمع ہوسکتے تھے‘‘۔ (ص۲۳۵) 


اس سفر نامہ میں مولانا نے مدائن صالح کی بھی زیارت کی،جو قوم ثمود کا علاقہ تھا اور جہاں حضرت صالح ؑ کی بعثت ہوئی تھی۔مرتب سفر نامہ نے اس کاتذکرہ تفصیل سے کیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو: 


’’ہم مدائن صالح کے لیے روانہ ہوئے۔جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے ،بلند اور پھٹے ہوئے پہاڑوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہوتی گئی۔بعض پہاڑ اس قدر بلند اور سیدھے کھڑے ہوئے تھے کہ انھیں دیکھ کر خوف آرہا تھا۔بعض پہاڑوں کی شکل مندروں اور قلعوں کی سی تھی۔انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ شاید قوم ثمود نے ان پر اپنے محلات،قلعے اور مندر بنائے ہوں اور اب وہ زلزلہ کی وجہ سے پھٹ گئے ہوں۔۔۔مدائن صالح کا قدیم نام الحجرآج بھی لوگوں میں معروف ہے اور قرآن مجید اور سیرت کی کتابوں میں اس کا اسی نام سے ذکر کیا گیا ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں آج سے چھ ہزار سال پہلے حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود آباد تھی۔اسی قوم ثمود کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ وہ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اپنے گھر بناتی تھی اور اسے اپنی طاقت اور پائداری پربڑا ناز تھا۔۔۔ 


پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر قوم ثمود نے جو گھر بنائے تھے وہ چاروں طرف بہ کثرت نظر آتے تھے۔درمیان میں ایک وسیع وادی ہے،جس میں اب کوئی آبادی نہیں ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ثمود کی اصل آبادی اس وادی کے اندر تھی اور پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر جو مکانات انھوں نے بنائے تھے وہ دراصل سامان رکھنے اور مردوں کو دفن کرنے کے لیے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ ان مکانات میں ان کی رہائش بھی تھی۔ہم نے چل پھر کرچند مکانات دیکھے اور ان کے اندر سے بھی اور باہر سے بھی متعدد فوٹو لیے۔ان مکانات کے دروازے باقاعدہ تراشے ہوئے ہیںاوران پربعض جانوروں[گھوڑوں،عقاب وغیرہ] کی تصاویر کندہ ہیں۔ایک مکان کے دروازے کے اوپر عبارت بھی موجود ہے ،جس کا پڑھنا اور سمجھنا بہ ہر حال ہمارے لیے نا ممکن تھا۔بعض مکانات کے اندر الماریاں اور سامان رکھنے کی جگہیں بھی بنی ہوئی ہیں۔چوکھٹ کسی مکان کے دروازے پر نہیں ہے۔ایک بڑے کمرے کے متعلق وہاں کے ایک آدمی نے ،جو ہمارے ساتھ تھا،بتایا کہ یہ ثمود کے باہمی مشورے کی جگہ تھی۔یہ صرف لوگوں کا قیاس ہے،اصل حقیقت لوگوں کو کیسے معلوم ہو سکتی ہے۔ 


ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی ایک پرانا ترکی قلعہ منہدم صورت میں موجود ہے اور اس کے اندر ایک پرانا کنواں ہے جو اب خشک پڑا ہے ۔اس کنویں کے متعلق وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وہی کنواں ہے جس سے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ممکن ہے ان لوگوں کا بیان صحیح ہو،کیوں کہ وہ کنواں،جس سے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی، نبی ﷺ کے زما نے تک قطعی طور پر موجود تھا۔ تبوک جاتے وقت حضور ﷺ جب الحجر[مدائن صالح] سے گزر رہے تھے توآپ نے صحابہ کرام کو ہدایت فرمائی تھی کہ یہاں کے کسی کنویں سے پانی نہ لیا جائے،سوائے اس ایک کنویں کے جس سے حضرت صالح ؑکی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔حضور کے بعد سے اب تک مسلمان آبادی برابر اس علاقہ میں رہی ہے۔اس لیے اس کنویں کی تعیین کے متعلق مقامی روایت اگر صحیح ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں‘‘[ص223-225] آثار و مقامات قرآنی میں ’ مدین‘ کی خاص اہمیت ہے۔یہاں کے لوگوں کے پاس حضرت شعیبؑ مبعوث کیے گئے تھے۔مولا نا مودودی نے اس کے آثار کابھی مشاہدہ کیا۔اس کی تفصیل مرتب سفر نامہ نے ان الفاظ میں بیان کی ہے: 


’’ ہم تبوک سے مغایر شعیب کے لیے روانہ ہوئے،جو تبوک سے207 کلو میٹر[ 145میل]کے فاصلے پر مغرب کی جانب خلیج عقبہ کے ساحل سے متصل ہے۔۔۔مغایر شعیب وہی جگہ ہے جس کا قدیم نام مدین تھا اور جہاں حضرت شعیبؑ کی قوم آباد تھی۔ اگر چہ حضرت شعیبؑ کی بعثت اس علاقہ کے علاوہ علاقہ تبوک کے لیے بھی تھی اور بہت سے مفسرین نے تبوک ہی کو ایکہ کا علاقہ قرار دیا ہے،جس کے رہنے والوں کا قرآن حکیم میں اسحاب الایکۃ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے،لیکن حضرت شعیبؑ کی دعوت کا مرکز یہی تھا۔ 


مغایر شعیب[یا مدین]ایک سر سبز و شاداب وسیع وادی ہے اور اس کے پہاڑو ںمیں بھی اسی طرح کے مکانات پائے جاتے ہیںجس طرح کے مکانات مدائن صالح میں ہم نے دیکھے تھے۔اس کے قریب دو بہت پرانے کنویں ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں،جن کے متعلق وہاں کے عام لوگوں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی میں سے ایک وہ ہو جس پر حضرت موسیٰ ؑ ایک قبطی کو قتل کرنے کے بعد مصر سے پہنچے تھے۔ان دونون کنووں کو وہاں کے لوگ اب ’بیر مدنی‘ کہتے ہیں۔ان کا فاصلہ مغایر شعیب کے آثار سے تقریباً ایک میل اور البدع کی بستی سے ڈیڑھ اور دو میل کے درمیان ہے‘‘[ص240-242] مولانا مودودی نے سعودی عرب کے علاوہ اردن و فلسطین اور مصر کے تاریخی آثار کی بھی زیارت کی تھی۔ 


اردن میں انھوں نے عقبہ (ایلہ یعنی اصحاب السبت کا علاقہ) وادیٔ موسیٰ، بطرا، الکرک، قوم لوط کا علاقہ، مؤتہ، القدس، وادیٔ شعیبؑ ، اریحا، بیت لحم، الخلیل، مقام سیدنا لوطؑ، اصحاب کہف کا غار اور بیت المقدس کے آثار میں مسجد صخرہ، مسجد اقصیٰ، مسجد عمرؓ اور عیسائیوں کے مختلف کنیسوں کا مشاہدہ کیا تھا اور مصر میں وادیٔ سینا، روشن جھاڑی جس میں حضرت موسٰیؑ کو آگ جلتی ہوئی دکھائی دی تھی، وہ درخت جہاں سے اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوا تھا، جبل موسٰی اور مقام سامری وغیرہ کی زیارت کی تھی۔ان مقامات کے مشاہدہ کے احوال کی تفصیل سفرنامہ کے اقتباسات کی صورت میں بیان کرنا طول کا باعث ہوگا، اس لیے اسے قلم انداز کیا جا رہا ہے۔ 


اس سفر نامہ میں فاضل مرتب نے مختلف امور و مسائل پر اپنے جذبات و احساسات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔یہاں صرف ایک معاملہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔سعودی حکم رانوں نے بعض مصالح کے پیش نظر قدیم تاریخی آثار کی حفاظت کا کوئی اہتمام نہیں کیا ہے۔ مرتب نے جا بہ جا اس رویّہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً عہد نبوی میں جس جگہ دار ارقم تھا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے: 


’’دار ارقم کا نصف حصہ نئی تعمیرات کے سلسلے میں اب اس سڑک کے نیچے آ گیا ہے اور بقیہ نصف حصہ قریب کی دوکانوں میں سے ایک دوکان میں شامل کر دیا گیا ہے۔گویا اب دار الارقم نامی کوئی عمارت مکہ معظمہ میں موجود نہیں ہے‘‘(ص۱۳۵) 


پھر سیرت نبوی میں دار ارقم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے: 


’’یہ گھر،جس کی تاریخ اسلام میں یہ حیثیت اور اہمیت ہو،اس کا سرے سے نام و نشان مٹ جانا ہمارے لیے انتہائی روحانی اذیت کا باعث ہوا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔کیا کوئی بھی ایسی اسکیم نہیں بن سکتی تھی کہ یہ گھر اپنی جگہ قائم رہتا اور سڑکوں اور دوکانوں کو کسی اور طرح سے تعمیر کر لیا جاتا‘‘(ص۱۳۶) 


آگے مسلم بادشاہوں اور امراء کے ذریعے اس جگہ کی حفاظت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: 


’’تاریخی آثار سے سعودی حکومت کا تغافل ایک ایسی چیز ہے جو عرب کی سیاحت کرنے والے ہر شخص کو بری طرح کھٹکتی ہے۔مشرکانہ افعال کو روکنا بالکل برحق، مگر اسلام کے نہایت قیمتی آثار کو ضائع کرنا کسی طرح درست نہیں ہے‘‘(ص۱۳۷) 


اس سفرنامہ کا مطالعہ کرتے ہوئے بعض مقامات پر قاری یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہتا کہ بعض آثار و مقامات قرآنی کا مشاہدہ کرنے کے معاملے میں تن آسانی اور آرام پسندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔مثلاً جبل نور(جس میں غار حرا واقع ہے) کے مشاہدہ کے ضمن میں مرتب سفر نامہ نے لکھا ہے: 


’’ جبل نور اس پہاڑ کا نیانام ہے،ورنہ اس کا قدیم نام جبل حرا ہی مشہور ہے۔اسی کے اندر وہ غار واقع ہے جس میں نبیﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔حرم سے اس کا فاصلہ ڈھائی یا تین میل ہوگا۔ مولانا کا اندازہ ہے کہ یہ دو ہزار فٹ کے قریب اونچا ہے۔غار حرا تک پہنچنے کے لیے دومرتبہ پہاڑ پر چڑھنا اور اترنا پڑتا ہے اور اس میں لوگوں کے بتانے کے مطابق کم از کم دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ہم اس پر چڑھنے کی کوشش کرتے،مگر وقت بہت تنگ تھا۔اس لیے اسے کسی اور دن کے لیے ملتوی کر دیا،مگر افسوس کہ بعد میں بھی اس کا موقع نہ مل سکا اور دل کی حسرت دل ہی میں رہ گئی‘‘(ص۱۴۰) 


اسی طرح جبل ثور(جس میں غار ثور واقع ہے) کے تذکرہ میں لکھتے ہیں: 


’’جبل نور کی نسبت اس کی اونچائی زیادہ ہے اور اس پر چڑھنے کا راستہ بھی خطرناک ہے۔غار ثور اس کے عین اوپر ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو اس پر چڑھنے کی ہمّت کرتے ہیں اور جو لوگ چڑھتے ہیں وہ پانی اور کھانا ساتھ لے کر علی الصبح چڑھنا شروع کرتے ہیں اور دوپہر تک اوپر غار تک پہنچتے ہیں۔شاید ہم اس پر چڑھنے کی ہمّت کر جاتے،لیکن وقت بہت زیادہ ہو گیا تھا اور دھوپ تیز ہو گئی تھی اور پھر ہمارے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ تھا(اس لیے واپس آگئے) (ص۱۴۷) 


اس سفر کے ذریعہ مولانا مودودیؒ نے قرآن کریم میں مذکور آثار و مقامات کے مشاہدہ سے جو بلا واسطہ معلومات حاصل کیں انھیں اپنی تفسیر’ تفہیم القرآن‘ میں استعمال کیا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو تفہیم القرآن کو دیگر معاصر تفسیروں سے ممتاز کرتی ہے۔چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض تاریخی مباحث کو سمجھانے کے لیے اس میں نقشوں،خاکوں وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہے اوربعض مقامات کے فوٹوز بھی شائع کیے گئے ہیں۔مثلاً:حضرت ابراہیمؑ کی مہاجرت اور ان کے تبلیغی مشن کے مراکز، نقشہ مقامات حج، نقشہ جنگ بدر، نقشہ جنگ احد، نقشہ جنگ خندق ،بنی اسرائیل کی صحرانوردی،غزوۂ تبوک کے زمانے کا عرب،مدائن صالح کی عمارات،وہ کنواں جس پر حضرت صالح ؑکی اونٹنی پانی پیتی تھی، وہ درخت جس سے حضرت موسیٰ کو کلام الٰہی کی آواز آئی تھی،وہ جگہ جہاں حضرت موسیٰ کو جھاڑی میں آگ لگی ہوئی نظر آئی تھی،مدین کا وہ کنواں جہاں حضرت موسیٰؑ نے بکریوں کو پانی پلایا تھا وغیرہ(تفہیم القرآن میں اس طرح کے کل 42نقشے اور فوٹوز شائع کیے گئے ہیں) 



(www.raziulislamnadvi.com › Articles )

نزول قرآن سے پہلے دنیا کے حالات پر ایک نظر

 نزول قرآن سے پہلے   دنیا  کے  مذہبی سیاسی اور سماجی حالات  کا جائزہ 

 مذاہب
چھٹی صدی عیسوی میں بد پرستی، شرک  ساری دنیا کا مذہب تھا ۔ قرآن کے الفاظ میں  " ظھر الفساد فی البر و البحر بماکسبت ایدی الناس "  کا منظر پیش کررہی تھی ۔

تمام سامی مذہب یہودیت ، عیسائیت اور ہندومذاہب اور بدھ مت  شر ک اور  نت نئی مذہبی بدعت میں  ایک دوسرے سے بازے لے جانے کی کوشش میں مصروف تھے   ایک اندازے کے مطابق صرف  ہندومذہب میں  33کروڑ دیوی اور دیوتاؤں کی پرستش ہوتی تھی۔(1)

چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کے بڑے بڑے مذاہب اور ان کے صحیفے تحریف کا شکار ہوئے  ان کی  اصل صورت مسخ کئ گئی۔ حتی کہ  تالمود سے بھی شہادت ملتی ہے کہ بت پرستی میں یہود کو حد درجہ کشش تھی،  دیوتاوں اور بتوں کی پرستش  اسرائلی عوام کے دلوں میں   گھر کر چکی تھی ۔(2)

عیسائیت رومیوں کی بت پرستی کا شکار ہوگئی تھی ان میں عقیدہ تثلیث پوری زندگی میں سرایت کر چکا تھا  پوری مسیحی دنیا میں اس کو سرکاری عقیدہ کی حیثیت حاصل تھی  ایک سکالر عسائیت پر تبصرہ کرتے ہوئے  لکھتا ہے " تقریبا سب ہی کچھ  جو بت پرستی میں تھا ، عسائیت کے نام پر چلتا رہا  ۔۔۔انہوں نےغیر شعوری طور پر بہت آسانی سے کسی شہید کو پرانے دیوتاؤں کے اوصاف سے متصف کرکے کسی مقامی مجسمہ کو اس کا نام دے دیا۔۔۔۔۔400ء تک پہنچتے پہنچتے سورج دیوتا کے قدیم تیوہار نے مسیح کے یوم پیدائش کی شکل اختیار کرلی  " (3)
چھٹی صدی کے آغاز میں شام ،  عراق کے عیسائیوں اور مصر کے عیسائیوں کے درمیان  اس بات پر جنگ ہورہی تھی کہ حضرت مسیح کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کی تکفیر میں مشغول تھے ۔ (4)

باز نطینیوں کے سماجی زندگی میں زبر دست تضاد تھا ، ایک طرف  مذہبی رجحان   ان کے  ذہنوں میں سوار تھا ، ترک دنیا، رہبانیت ملک کے طول وعرض میں پھیلی  ہوئی تھی عام شہری بھی مذہبی مباحث میں گہری دلچسپی لیتا تھا ، ان  کے روزمرہ کی زندگی پر روحانیت اورباطنیت کی گہری چھاپ تھی لیکن یہی لوگ ہر قسم کے کھیل تماشوں کے غیر معمولی شائق بھی تھے سرکس کے میدان میں اسی ہزار تماش بینوں کے بیٹھنے کی گنجائش  تھی  ، رتھوں کے دوڑ کے مقابلے ہوا کرتے تھے عوام کو "نیلے " اور "ہرے " دو گروہوں میں بانٹ دیا گیا تھا  ان کے کھیل اکثر خونریز ہوا کرتے تھے ۔ (5)

مجوسی (ایران کے پارسی ) قدیم زمانہ عناصر اربعہ کی عبادت کرتے تھے جس میں سے سب سے پڑا عنصر آگ تھا انہوں نے جگہ جگہ آتش کدے تعمیر کی تھیں آگ اور سورج کی پرستش کے سوا ہر عقیدہ مٹ چکا تھا  اس کے لیے سخت احکام مقرر تھے جن پر ہر شہری کے لیے عمل درآمد لازمی تھا ۔ سرکاری ملازم کے لے لازم تھا کہ وہ دن میں چار بار سورج کی پوجا کریں چاند کی ، آگ کی اور پانی کی پوجا اس کے علاوہ تھی سونے جاگنے ، نہانے  کھانے پینے چھینکنے ، حجامت بنوانے ،  ناخن ترشوانے ، قضاء حاجت اور شمع جلانے غرض  ہر کام کے لیے دعائیں تھیں سرکاری حکم تھا کہ آگ کسی وقت بھی نہ بجھنے پائے اور آگ پانی ایک دوسرے سے نہ ملیں ، دھات کو زنگ نہ لگے ، اس لیے کہ معدنیات بھی ان کی نگاہ میں مقدس تھیں ۔ (6) ایران کا آخری بادشاہ یزد گرد نے عیسائیوں کو جنہوں نے عیسائیت سے توبہ کر لی تھی پابند کیا تھا کہ وہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے سورج کی پوجا کریں ۔  (7)

ایران میں مذہب زرتشت ساتویں صدی قبل مسیح میں ظاہر ہوا  اس کے پیرو کار  دو خداؤں کے قائل تھے ایک روشنی یا خیر کا خدا جس کو وہ آہورمزدایا یرزداں کہتے تھے دوسرا ظلمت یا شر کا خدا جس کا نام اہرمن تھا ، ان دونون خداؤں میں ہمیشہ کش مکش جاررہتی ۔ (8)
چھٹی صدی عیسوی میں بودھ مذہب صرف ہندوستان نہیں بلکہ پورے وسط ایشیاء میں پھیلاہواتھا  جہاں اس کے قافلہ کا پڑاؤ ہوتا وہاں  بدھ کی مورتی نصب کی جاتی اور ساتھ ہی ایک معبد تیار ہو جاتا  ۔ یہ مذہب انکار خدا سے شروع ہوا تھا لیکن اس کے پیروکاروں نے  بدھ کو ہی سب سے بڑا خدا بنا لیا ، حتی کہ  بدھ خود  بد پرستی کا  ہم نام ہوگیا۔ (9)

عرب بھی ان سے کم نہ تھے یہ عہد قدیم میں دین ابراہم کے پیروکا ر تھے جو دین توحید تھا ، بعد میں توحید کی  جگہ شرک نے لے  لی ۔ ہر قبیلہ اور علاقہ کا الگ الگ خدا تھا بلکہ ہر گھر صنم خانہ تھا۔ (10)   بیت اللہ (کعبہ ) کے اندر اور اس کے صحن میں تین سو ساٹھ بت تھے(11) اس کے علاوہ ارواح پرستی جیسے ان کے عقیدہ کے مطابق فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ، جن بھی خدا کے شریک ہیں ، ان کی عبادت کرنا ضروری سمجھتے تھے ۔ (12)
عرب اختلاف عقائد اور کثرت مذاہب کی بنا پر گویا کائنات مذہبی کا عالم اصغر تھا اور تعجب نہیں  کہ قرآن کے نزول کے لئے عرب کی سرزمین کا انتخاب منجملہ اور وجوہ کے ایک اس بناء پر بھی ہو کہ یہاں بحث و مناظرہ کے لئے اس کو ہر قسم کے مخاطب اور ہر مذہب کے وکیل مل جائیں گے ۔  نزول قرآن کے وقت عرب میں جو مستند مذاہب رائج تھے و ہ حسب ذیل تھے ، یہودیت ، نصرانیت ، مجوسیت(یہ ایران کاقدیم مذہب ہے جس کا بانی زرتشت بتا یا جا تا  ہے ) ، صائبیت  (محققین کا خیال ہے کہ  یہ بابل کا قدیم مذہب  ہے ارواح پرستی اور ستارہ پرستی کا اس میں رواج تھا  حضرت ابراہیم کی بعثت اس مذہب کی اصلاح کے لے ہوئی تھی )، حنفیت (قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفیت حضرت ابراہیم ؑ کے مذہب کا نام  تھا ) (تفصیل دیکھیں : علامہ سید سلیمان ندوی ؒ  کی  کتاب تاریخ ارض القرآن ص 447۔527)

بازنطینی سلطنت :
مشرق کے رومن شہنشاہی میں جس کا آغاز 395ء میں ہوا اور اختتام 1453ء  میں جب قسطنطنیہ پر عثمانی ترکوں کا قبضہ ہوگیا ۔ اس کا ذکر تاریخ میں  بازنطینی سلطنت کے نام سے آتاہے  عرب اس کو روم کہتے تھے ، چھٹی صدی عیسوی میں اس کے ماتحت یونان ، بلقان ، ایشیائے کوچک ، سیریا اور فلسطین ، پورا بحر روم کا علاقہ اور کل شمالی افریقہ  کے ممالک  شامل  تھے  ۔ اس کا پایۂ تخت قسطنطنیہ تھا ۔
  عوام پر  ظلم و ستم اور ٹیکسوں کے بھر مار کے خلاف 533ء کے ایک فساد میں قسطنطنیہ کے تیس ہزار آدمی قتل کئے گئے ۔  ان کا سب سے بڑا مشغلہ کسی نہ کسی ذریعہ سے مال حاصل کرنا پھر عیش و عشرت میں اس کو خرچ کرنا تھا ۔ دوسری طرف سماج میں عوام کی ایک بڑی تعداد کی  زندگی پر  رہبانیت اور ترک دنیا  کی چھاپ لگی ہوئی  تھی ۔  عوام میں افلاس کا یہ حال تھا کہ شامی اپنا قرض ادا کرنے کیے لیے اپنے بچوں کو فروخت کر دیتے ۔ (13)

ساسانی سلطنت :
اس کی بنیاد 224ء  میں ایران کا بادشاہ  ارد شیر نے  رکھی اس کی قلم رو میں اسیریہ، خوزستان، میڈیا ، فارس ، آذربائیجان ، طبرستان ، سرخس ، مرجا ن ، کرمان، مرو، بلخ ، سغد، سیستان ، ہرات ، خراسان ، خوارزم ، عراق اور یمن سب شامل تھے۔  المدائن اس کا پایہ تخت تھا یہ پانچویں صدی  اور اس کے بعد کے زمانے میں  اپنے تمدن و ثقافت ترقی، تعیش، اسراف و تبذیر کے آخری نقطہ پر تھا ۔ (14)

عوام سخت مفلوک الحال اور مصیبت زدہ تھے مختلف قسم  کے ٹیکسوں نے ان کی زندگی کو بوجھل کردیا تھا ، وہ زندگی سے تنگ آکر خانقاہوں اور معبدوں میں پناہ لے تھے یا  مختلف جنگوں میں حقیر ایندھن کی طرح کام آتے ۔
 اس کا اندازہ اس  واقعہ سے ہوگا جب مسلمانوں نے  ایران کا آخری بادشاہ یزد گرد کو شکست دی تو  اپنے دارالحکومت  مدائن سے   فرار ہوا۔   اس کے ساتھ ایک ہزار باورچی ایک ہزار مغنی ، ایک ہزار چیتوں کے منتظم اور ایک ہزار شکروں کی دیکھ کرنے والے موجود تھے۔(15)
 ملک کی تمام دولت اور وسائل بادشاہوں اور ان  کے تعلق داروں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے ، بادشاہ اپنے کو عام انسانوں سے بالا تر سمجھتے تھے اور خود کو  آسمانی خداؤں کی نسل میں شامل کرتے تھے  ۔خس-+رو دوم پرویز اپنے نام کے ساتھ درج ذیل القاب لکھتا تھا :
" خداؤں میں انسان فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی ، اس کے نام کا بول بالا، آفتاب کے ساتھ طلوع کرنے والا ، شب کی آنکھوں کا اجالا" (16)

ایرانی سلاطین خود کو مافوق البشر سمجھے جاتے تھے اگر ایرانی باشاہ فصد کھلواتا یا کوئی دوا استعمال کر تا تو دارالسلطنت میں اعلان کر دیا جاتا کہ آج بادشاہ سلامت نے فصد کھلوائی ہے یا دوا استعمال کی ہے ، اس اعلان کے بعد شہر میں نہ کوئی پیشہ ور اپنے کام میں  مشغول ہوتا اور نہ کوئی سرکاری دربار ی آدمی کوئی کام کر سکتا  ۔۔۔۔۔اگر اس کوچھینک آتی تو کسی کو دعائیہ کلمات کہنے کا حق نہ تھا ، وہ خود اگر دعا کر تا  تو  کوئی آمین بھی نہیں کہہ سکتا تھا ، اگر وہ اپنے کسی وزیر یا امیر کے گھر مہمان  ہوتا تو  اس دن سے  اس خاندان  کی ایک  نئی  زندگی اور  نئی جنتری شروع ہوتی   اور خطوط میں نئی تاریخ ڈالی جاتی،  ایک معینہ مد ت کے لئے ٹیکس معاف کر دئیے جا تے  اس کو  مختلف قسم کے اعزازات معافیوں او ر ترقیوں سے نواز ا جا تا صرف اس بناپر کہ بادشاہ سلامت نے اپنی تشریف آوری سے اس کو سرفراز کیا ۔
ایران میں پانچویں صدی کے آغاز میں "مزدک" ظاہر ہوا اس نے مال دولت اور عورت میں مکمل مساوات کی دعوت دی اس دعوت عام کے نتیجے میں ایرانی سماج کی حالت یہ ہوگئی کہ لوگ جس کے گھر میں چاہتے  گھس جاتے اور اس کے مال اور عورتوں پر تصرف کرتا۔(17)

ایران میں مانی کی تعلیمات کا اثر اب بھی باقی تھا ، مانی دنیا سے شر و فساد کا مادہ ختم کرنے کے لیے تجرد کی زندگی کا داعی تھا یہ مذہب زر تشتی کے ریفارمر کی حیثیت سے سامنے آیا تھا  اس کی رائی  ہے کہ  نور و ظلمت کا امتزاج بجائے خود ایک برائی ہے اس سے انسان کو چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے اس نے فنائیت سے ہم آغوش ہونے اور ظلمت پر غلبہ حاصل کرنے لیے نسل انسانی کے سلسلہ کو ختم کرنے  کے لے ازدواجی زندگی سے کنارہ کشی  کی دعوت دی۔ (18)

ہندوستان کی سیاسی حالت :
مورخین کی رائی ہے کہ ہندوستان کا  مذہبی اخلاقی اور معاشرتی طورپر سب سے تاریک دورچھٹی صدی عیسوی ہے مندروں میں بے حیائی کو عبادت کا رنگ دے دیا گیا تھا ستی جیسی انسانی تاریخ کی  بدترین رسم انگریزی اقتدار کے بعد ہی ختم ہوئی ۔(19)
ایک ظالمانہ طبقاتی نظام  نے ہندوستان  کے باشندوں کو چار طبقوں میں تقسیم کر دیا تھا :
1۔ مذہب کے اجارہ دار اور پروہت جن کو برہمن کہا جاتاتھا ۔
2۔ چھتری یعنی سپاہی اور فوج میں بھر تی ہونے والے افراد ۔
3۔ زراعت پیشہ اور تجارت کرنے والے یعنی ویش ۔
4۔ نوکر چاکر اور خدمت گار جن کو  اچھوت کہا جاتا تھا ۔
 یہی طبقہ آخری طبقہ   ہندو سماج  میں  سب بڑی تعداد میں   ہونے کے باوجود  سب سے زیادہ  پستی  میں  تھا ۔ اس  کے متعلق یہ تصور تھا کہ وہ خالق کائنات کے پاؤں سے پیدا  ہوا ہے ۔ اس لے اس کا کام باقی تینوں طبقوں کی خدمت کرنا  ہے ۔
ہندو سماج میں  سارے حقوق برہمنوں کے لیے تھے  ان کے سارے گنا ہ معاف تھے ، ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا تھا ، کوئی سزائے موت نہیں دی جاسکتی تھی  دوسری طرف  اچھوت نہ کما سکتے تھے نہ مال دولت جمع کرسکتے تھے نہ کسی برہمن کےقریب بیٹھ سکتے تھے نہ اس کے بدن کو چھو سکتے تھے ، مقدس کتابوں کا پڑھنا سننا  ان پر حرام تھا ۔(20)
اہل حرفہ و صنعت  جن کو وہ چنڈال کہتے تھے شہر سے باہر رہتے تھے غروب آفتاب کے بعد  ان کا شہر میں رہنا  جرم تھا طلوع آفتاب کے بعد وہ شہر میں داخل ہو سکتے تھے ۔ یہ  جابرانہ نظام قطب الدین ایبک (1206ء۔ 1210ء ) کے عہد میں ختم ہو ا  ان کے دور میں شہروں میں امراء کے محلات اور فقراء کے جھوپڑے ایک ساتھ تھے ۔

 جزیرۃ العرب  
قرآن مجید ، کتب حدیث اور اشعار عرب   کے مطابق عرب کے بعض لوگ حد درجہ بد اخلاق ہو چکے تھے شراب جوئے کے دیوانےتھے  ، قافلوں کو لوٹنا ، بے گناہوں کو تہ تیغ کر نا  عام با ت تھی ، بعض شقی  القلب لوگ غیرت کے نام سے  اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے اور کچھ  لوگ اپنی  اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل کر ڈالتے تھے ۔ عورتیں سامان کی طرح ورثہ  میں تقسیم ہوتی ، کوئی مرد  جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کر سکتا تھا۔ قبائلی ،خاندانی اور نسلی عصبیت کی بنا پر اکثر باہم جنگ جاری رہتی معمولی واقعہ پر طویل جنگوں کا سلسلہ چلتا جو چالیس چالیس سال تک جاری رہتی ۔

یورپ  
مشہور مورخ رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں کہ  پانچویں صدی سے لے کر دسویں صدی تک یورپ پر گہری تاریکی چھائی  ہوئی تھی ۔۔۔اس دور کی وحشیت و بر بریت زمانہ قدیم سے کئی درجہ بڑھی ہوئی تھی ۔اس کی مثال سڑ ی ہوئی لاش کی مانند تھی ۔۔۔ اٹلی ، فرانس جیسے ملکوں میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا  ۔ (21)
جہالت، ناخواندگی ، جسمانی گندگی،  اوہام و خرافات کی وجہ سے ان کی زندگی  وحشیوں  کی طرح  تھی،   ان کے پادری اور مذہبی لوگ جسم کو اذیت پہونچاتے ،  انسانی معاشرہ سے  فرار ہوکر جنگلوں اور بیابان میں  جنوروں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ۔اور مذہبی لوگوں میں  یہ بحث جاری تھی کہ عورت انسان ہے یا حیوان ؟ اس کے اندر ابدی روح ہے یا نہیں ؟ اس کو ملکیت اور خرید و فروخت کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟

--------------------------------------

(1)  (آر۔ سی دت کی کتاب ANCENT INDIA ج 3 ص 276 ،  نیز دیکھئے : L.S.S, O'MALLEY POPULAR HINDUISM THE RELIGION OF THE MASSES,(CAMBRIDGE, 1935, P 6.P)
(2)      (جیویش انسائیکلو پیڈیا ، جلد 12 ص 568، 569)
(3)     (the history of christianity in the light of modern knowleedge :p 407)
(4)     (ALFRED J. BUTLER کی کتاب " ARABS"  ONQUEST OF EGYPT AND THE LAST TEHIRTY YEARS OF ROMAN DOMINION" (OXFORD 1902) P . 44-45)
(5)     (T.WALTER WALL BANK AND ALASTAIR.M. TAYLOR . CIVILAZATION PAST AND PRESENT , 1954, P. 261)
(6)       (آرتھر کرسٹین سین : "ایران بعہد ساسانیان" ص اردو ترجمہ پروفیسر محمد اقبال اورنٹیل کالج لاہور 155)
(7)      ("یران بعہد ساسانیان " ص 186)
(8)      (ایران بعہد ساسانیان ص 183)
(9)      (ہندوستانی تمدن اردو ، ایشور اٹوپا ص 209 اور DSCOVERY OF INDIA  پنڈت جوہر لال نہرو ص 201-202)
نیز دیکھئے بودھ مذہب پر مقالہ " انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا"
(10)     (تفصیل دیکھیں : کتاب الاصنام ، ابن الکلبی ص 33)
(11)    (صحیح بخاری : کتاب المغازی ، باب فتح مکہ )
(12)    (کتاب الاصنام ص 44)
(13)    ( انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ، مقالہ : " JUSTINIAN”)
(14)    ( تفصیل دیکھیں :  پروفیسر آر تھر کرسٹن سین کی کتاب " ایران بعہد ساسانیان  " )
(15)    (تاریخ ایران ،  شاہین مکاریوس عربی طبع ص 98)
(16)    ("ایران بعہد ساسان " ص 339)
(17)    (ایران بعہد ساسانیان ص 535۔536، مزید 543))
(18)    ( تفصیل دیکھیں : ایران بعہد ساسانیان ص 233- 269)
(19)    ( آر ، سی ، دت : ( ANCENT INDIA )ج 3  نیز  ستیارتھ پر کاش ، ص 344، دیانندسر سوتی )
(20)    ( اس ظالمانہ قانون کی تفصیل دیکھیں  : منوشاستر کے باب : 1۔2۔8۔9۔10۔11)
(21)    THE MAKING OF HUMANITY P 1164