بنی اسرائیل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بنی اسرائیل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بنی اسرائٰل کے علماء، مشائخ اور صوفیوں پر قرآن کی تنقید کا جائزہ

قرآنِ مجید جب انسانی تاریخ کے آئینے میں مذہبی طبقوں کا جائزہ لیتا ہے تو وہ محض تاریخ بیان نہیں کرتا بلکہ ایک زندہ تنبیہ پیش کرتا ہے—ایسی تنبیہ جو ہر دور کے علماء، مشائخ اور مذہبی پیشواؤں کے لیے آئینہ ہے۔ بنی اسرائیل اور نصاریٰ کے علماء و صوفیاء پر قرآن کی تنقید دراصل ایک طرزِ فکر اور ایک بگڑے ہوئے مذہبی رویّے کی نشاندہی ہے، جو جب بھی جنم لے، دین کی روح کو مسخ کر دیتا ہے۔

قرآن بتاتا ہے کہ بنی اسرائیل کے بعض علماء علم کے حامل ہونے کے باوجود اس کی روح سے خالی ہو گئے تھے۔ ان کے پاس کتاب تھی، الفاظ تھے، مگر شعور اور عمل ناپید تھا۔ اسی کیفیت کو ایک نہایت بلیغ مثال سے واضح کیا گیا:
“مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا” (سورۃ الجمعہ 62:5)
یعنی جن لوگوں کو تورات کا بوجھ دیا گیا مگر انہوں نے اس کا حق ادا نہ کیا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ یہ تشبیہ محض تحقیر نہیں بلکہ ایک گہرا فکری نوحہ ہے—علم جب عمل سے خالی ہو جائے تو وہ انسان کو بلند نہیں بلکہ بوجھل بنا دیتا ہے۔

قرآن میں بنی اسرائیل کا تذکرہ: ایک تجزیاتی مطالعہ

قرآنِ کریم میں بنی اسرائیل کا ذکر تقریباً 40 سے زائد مقامات پر آیا ہے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام تمام انبیاء میں سب سے زیادہ (136 بار) لیا گیا ہے۔ 

بنی اسرائیل کا ذکر قرآن میں محض ایک قوم کی تاریخ نہیں بلکہ "بنیادی دعوتی ضرورت" تھی۔ مدینہ کے یہودی قبائل کا نبی ﷺ کے زمانے سے متصل ہونا اور بڑی مدنی سورتوں کا ان کے تذکرے سے بھرا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام ان کے بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح کرنا چاہتا تھا اور مسلمانوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے سے خبردار کرنا چاہتا تھا۔

1. مدنی زندگی اور براہِ راست مخاطبین

ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا واسطہ ایک ایسی قوم سے پڑا جو "اہلِ کتاب" تھی۔ جس طرح مکہ میں مشرکینِ مکہ اولین مخاطب تھے، مدینہ میں یہودی قبائل (بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ) اسلام کے بڑے مخاطب بن کر ابھرے۔ سورۃ البقرہ، آلِ عمران، اور المائدہ جیسی بڑی مدنی سورتوں میں بنی اسرائیل کا تفصیلی ذکر اسی لیے ہے کہ وہ اس وقت کی ایک اہم سماجی اور سیاسی قوت تھے۔

امامُ النّاس

امام الناس - ابوالبشر احمد طیب 
نوح ؑ کے بیٹے سام کی اولاد سب سے پہلے عرب میں پھیلی ، سامی قبائل میں سب سے پہلا نامور اور ممتاز قبیلہ بنو ارم پیدا ہوئے ، انہیں سے ہود ؑ کی قوم عاد اور صالح ؑ کی قوم ثمود ؑ بنی، حسب تورات ان دو قوموں کی حکومت بابل (عراق )، شام (فلسطین) عرب ، مصر تک پھیلی ہے ، قرآن میں "ارم ذات العماد " ( عظیم الشان عمارتوں والے ) سے انہی اقوام کی طرف اشارہ ہے ۔۔ ابراہیم ؑ سے پہلے ہود ؑ جنوبی عرب قبائل عاد میں توحید کی دعوت لیکر اٹھے، پھر ان کے بعد صالح ؑ شمالی عرب قبائل ثمود میں اٹھے ۔ ابراہیم ؑ جس زمانہ میں پیدا ہوئے بنو ارم یعنی عاد اور ثمود بابل ، شام اور مصر میں حکمران تھے ۔ 

تورات کے مطابق نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے ۔ ابراہیم ؑان کی گیارہویں پشت پر ہے۔ قرآن میں ابراہیم ؑ کے والد کا نام آزر آیا ہے ۔ اپنے وقت کے بڑ ے بت تراش ،آرٹسٹ اور حکومت کے سب سے بڑے عہدے دار تھے ۔ 

جدید تحقیق کے مطابق ابراہیم ؑ کا سال پیدائش 2160 قبل مسیح ہے ۔ آپ کا آبائی وطن بابل (یا کلدانیہ ) ہے جسے آج کل عراق کہتے ہیں۔ جس شہر میں آپ کی ولادت ہوئی اس کا نام تورات میں" اُر (UR) " ہے ۔ یہ شہر خلیج فارس کے دہانہ فرات اور عراق کا جدید شہر بغداد کے تقریبا درمیانی راستہ پر ہے ۔ یہ نہایت مقدس ، بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز تھا ۔ شہر کا ریاستی مذہب ،قوم کے رسوم و آداب مشرکانہ تھے، ہر جگہ صنم خانوں کی رونق ، دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کی ریل پیل تھی ۔چنانچہ جس گھرانہ میں ابراہیم ؑ پیدا ہوئے وہ بھی شرک، بت پرستی اور کواکب پرستی کا گہوارہ تھا ۔ 

حضرت شعيب عليہ السلام اور ان کى قوم

ابراہیم ؑ کی نسل :  بنی اسماعیل ، بنی اسرائیل اور بنی مدین تین مشہور شاخیں ہیں، اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پیدا کیں ۔ جن سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ، آپ کے فرزند اسحاق ؑکے بیٹے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاء اور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ ابراہیم ؑ کا بیٹا مدین سے بنی مدین وجود میں آئے ، انہیں میں حضرت شعیب ؑ نبی بنے۔ ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند اسماعیل ؑکو وادی غیر ذی زرع بکہ ( مکہ ) میں آباد کیا تھا ، جن سےبنی اسماعیل کی نسل چلی ، اسماعیلؑ کے بعد بنی اسماعیل میں کوئی نبی نہیں آیا، اس دوران نبوت کا سلسلہ بنی مدین اور بنی اسرائیل میں جاری رہا ۔ اسماعیل ؑ کے بعد اس سلسلہ نبوت کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اللہ نے جن کی رسالت کوتمام جہاں کے لیے تاقیامت رحمۃ للعالمین اور کافۃ للناس بنادیا ۔ 
آثار مدین 

بنو مدین کا تعلق حضرت ابراہیم ؑ کی ایک تیسری بیوی قطورا سے تھا ، ان کے بطن سے ایک بیٹا مدین پیدا ہوا ، جو سب سے زیادہ مشہور ہو ا ، مدین کے کئی اور بھی بھائی تھے ، ان کی اولادیں بھی تھیں ، تورات میں صرف دو کی اولاد کا ذکر ہے ، بنی دوان اور بنی مدین ، اور شعیب ؑ کا تعلق بنی مدین سے تھا ، دوان کا ذکر قرآن مجید میں اصحاب الایکہ (جنگل والے ) کے نام سے آیا ہے ، جبکہ بنی مدین کو قوم شعیب کہاگیا ۔ یہ دونوں تاجر قوم تھیں ، ان دونوں قوموں اور علاقوں کے بیک وقت شعیب ؑ نبی تھے ۔ حضرت شعیب ؑ کا نام تورات میں جوباب یا ثیرومذکور ہے ، عربی میں بدل کرشعیب مشہور ہوا ۔ مدین اور ایکہ ان دونوں علاقوں کا آپس میں گہرا تعلق تھا ، ان کا زمانہ بھی باہم ایک تھا ، جس کی بنا پر دونوں آبادیوں کے لیے ایک ہی نبی کی بعثت ہوئی ، نیز قرآن مجیدنے دونوں کے اخلاق اور کردار کا نقشہ بھی ایک ہی پیش کیا ۔ 

احسن القصص

سورہ یوسف کا نام قرآن میں احسن القصص (سب سےبہترین قصہ ) آیا ہے اس سورہ کے نزول کے بارے میں روایت ہے کہ یہودیوں کے اشارے پر کفار مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلّم کا امتحان لینے کے لیے، آپ کے سامنے  یہ سوال پیش کیا تھا کہ بنی اسرائیل کے مصر پہنچنے کا کیا سبب تھا ؟ اس سوال کےجواب میں اللہ تعالی نے سورہ یوسف نازل فرمایا ۔

اس سورہ کو احسن القصص اس لحاظ سے کہاگیا کہ انسانی زندگی کے تمام بنیادی کردارں کو اس سورت میں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے ، اس قصہ میں زندگی کے ان تمام مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسان اور انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی بپچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر ، غرضکہ تمام وہ امور جو دین ، اخلاق اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہوسکتے ہیں بڑی عمدگی اور تسلسل کے ساتھ ایک ہی سورت میں بیان کردیے گئے ہیں ۔ قصہ کا آغازیوسف ؑ کے ایک خواب کے ذکر سے ہوتا ہے پھر اختتام بھی اسی خواب کے ذکر سے ہوتا ہے ۔ گویا پورا قصہ حضرت یوسف ؑ کے خواب کی عملی تعبیر پر مشتمل ہے ۔ 

اس کی تفصیل یوں ہے کہ ابراہیم ؑ کی نسل بنی اسحاق ؑ، جس کی اہم شاخ بنی یعقوب ( اسرائیل) ہے،اللہ تعالی نے ان کی نسل سے عظیم قومیں پید اکیں ۔ انہیں سے نبوت کا سلسلہ آگے چلا ۔ ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوبؑ کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے ، جوشام اور مصر میں آبادہوئے۔ ان میں جلیل القدر انبیاءاور بادشاہ پیدا ہوئے ۔ بنی یعقوب یعنی بنی اسرائیل کے اس سلسلہ نبوت کا سب سے پہلے نبی حضرت یوسف ؑ ہیں ۔ 

بائیبل کے مطابق یعقوب ؑ کی چار بیویاں تھیں ،جن سے بارہ بیٹے پیدا ہوئے ۔ ان چارمیں سے ایک سے یوسف ؑ اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین پیدا ہوئے ۔ علمائے بائیبل کی تحقیق کے مطابق یوسف ؑ کی پیدائش تقریبا 1906 قبل مسیح میں ہوئی ۔ یوسف ؑ جب سترہ سال کے تھے۔ تو ان کے بھائیوں نے ان سے حسد کرتے ہوئے ان کو کنویں میں بھینکا ، ایک قافلے نے ان کو کنویں سے نکال کر مصر لے جاکر عزیز مصر کو فروخت کردیا ۔ 

مصر پر اس زمانہ میں عربی النسل قوم کے پندرھویں خاندان کی حکومت تھی ۔ جو چرواہے بادشاہوں کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ لوگ ابراہیم ؑ کے زمانہ سے سلطنت مصر پر قابض تھے ۔ علماء بائیبل کے مطابق یوسف ؑ کے ہم عصر فرمانروا کا نام اپوفیس ( Apophis) تھا ۔ 

نِعمَ العَبدُ! حضرت ایوب علیہ السلام - ابوالبشر احمد طیب

اسلامی اور اسرائیلی روایات میں حضرت ایوب ؑ کا قصہ ، بہت معروف و مشہور ہے یہاں تک کہ "صبر ایوب" ایک محاورہ بن گیا ہے ، لیکن اس قصہ پر اسرائیلی روایات کی کچھ ایسی تہہ جم گئی ہے کہ اصل حقیقت خرافات کے پردہ میں چھپ گئی ہے ۔ بائیبل میں ایک صحیفہ، سفر ایّوب ؑ کے نام سے شامل ہے ، محققین کا خیال ہے کہ یہ اصلا قدیم عربی میں لکھی گئی تھی ، حضرت موسی ؑ نے اس کو عربی سے عبرانی میں منتقل کیا ہے ۔ تورات میں سب سے قدیم صحیفہ ،سفر ایوب ہے ، اس اعتبار سے حضرت ایوب ؑ کا زمانہ موسی ؑ سے بہت پہلے تھا ۔ یہ صحیفہ حکمت کے بہت سے جواہر اپنے اندر رکھنے کے باوجود یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس صحیفہ کا تعلق براہ راست حضرت ایوب ؑ سے ہے یا نہیں ۔ اور اس لیے بھی کہ قرآن میں اور خود اس صحیفہ کی ابتدا میں حضرت ایّوب ؑ کے جس صبرِ عظیم کی تعریف کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس ساری کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت ایّوب ؑ اپنی مصیبت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے خلاف سراپا شکایت بنے ہوئے تھے، حتٰی کہ ان کے ہمنشین انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے رہےکہ خدا ظالم نہیں ہے، مگر وہ کسی طرح ان کی باتوں سے مطمئن نہیں ہوئے ۔

حضرت ایوب ؑ کی نسب ، قوم ، زمانہ کے متعلق بہت شدید اختلافات ہیں، بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے آپ فرزندان یعقوب ؑ کے ہمعصر ہیں، جدید تحقیق میں بعض ان کو مصری اور بعض عرب اور بعض اسرائیلی قرار دیتے ہیں، کوئی ان کو موسی ؑ سے پہلے اور کوئی داؤد ؑاور سلیمانؑ کے زمانہ کا قرار دیتا ہے ۔ اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زوجہ، حضرت یوسف ؑ کےفرزند ابفرائین کی لخت جگر تھی جو بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں ، یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ایوب ؑ کی بیماری کے دوران ، ان کی باوفا بیوی کے سوا گھر کے بیشتر افراد ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔ کچھ روایات میں ذکر ہے کہ آپ حضرت یعقوب ؑ کے بڑے بھائی عیسو کی اولاد میں سے تھے ، عیسو فلسطین سے حضرت اسماعیل ؑ کے پاس آگئےتھے ، وہاں پر اسماعیل ؑ کی صاحبزادی سے شادی کی ہے ، عیسوکا نام عرف عام میں ادوم تھا، اس لیے ان کے خاندان اور علاقہ کا نام ادوم پڑگیا ، چند صدیوں کے بعد یہ ایک عظیم قوم بن گئی ، ادوم کی ایک نسل کانام عوض تھا ، حضرت ایوب ؑ کا تعلق اسی نسل سے تھا ، جدید تحقیق کے مطابق آپ کا علاقہ عرب کے شمال و مغرب میں فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب تھا ۔ اس لیے بعض علماء نے ان کو عرب قرار دیا ، آپ کا زمانہ معین نہ ہوسکا ، بعض کا خیال ہے کہ آپ کا ز مانہ ایک ہزار قبل مسیح اور سات سو قبل مسیح کے درمیان ہے ۔

رب العالمین ، موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ

موسی ؑ اور فرعون کا مکالمہ 

اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ  ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا :

 ظالم قوم کے پاس جا ۔۔۔۔ فرعون کی قوم کے پاس ۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“

  موسی نے عرض کیا :

” اے میرے ربّ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھُٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔  اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 
اللہ تعالی نے  فرمایا :

” ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر  ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جاوٴ اور اس سے کہو، ہم 
  کو ربّ العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“

فرعون نے کہا :

” کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟  تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے، اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا  ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔

موسیٰؑ نے جواب دیا:

” اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔  پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا  اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی پیشين گوئی اور انجیل برنا باس - سید ابوالاعلی مودودی ؒ

انجیل برناباس
" حقیقت یہ ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشن گوئیوں کو نہیں ، خود حضرت عیسیٰ کے اپنے صحیح حالات اور آپ کی اصل تعلیمات کا جاننے کا بھی معتبر ذریعہ وہ چار انجیلیں نہیں ہیں جن کو مسیحی کلیسا نے معتبر و مسلم انا جیل(Canonical Gospels) قرار دے رکھا ہے ، بلکہ اس کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ وہ انجیل برنا باس ہے جسے کلیسا غیر قانونی اور مشکوک الصحت (Apocryphal) کہتا ہے ۔ عیسائیوں نے اسے چھپانے کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ صدیوں تک یہ دنیا سے ناپید رہی ہے ۔ سولہویں صدی میں اس کے اطالوی ترجمے کا صرف ایک نسخہ پوپ سکسٹس (Sixtus) کے کتب خانے میں پایا جاتا تھا اور کسی کو اس کے پڑھنے کی اجازت نہ تھی۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں وہ ایک شخص جان ٹولینڈ کے ہاتھ لگا۔ پھر مختلف ہاتھوں میں گشت کرتا ہوا 1738ء میں ویانا کی امپریل لائبریری میں پہنچ گیا۔ 1907ء میں اسی نسخے کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس سے شائع ہو گیا تھا مگر غالباً اس کی اشاعت کے بعد فوراً ہی عیسائی دنیا میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ یہ کتاب تو اس مذہب کی جڑ ہی کاٹے دے رہی ہے جسے حضرت عیسیٰ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس لیے اس کے مطبوعہ نسخے کسی خاص تدبیر سے غائب کر دیے گۓ اور پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آ سکی۔ دوسرا ایک نسخہ اسی اطالوی ترجمہ سے اسپینی زبان میں منتقل کیا ہو اٹھارویں صدی میں پایا جاتا تھا، جس کا ذکر جارج سیل نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں کیا ہے ۔ مگر وہ بھی کہیں غائب کر دیا گیا اور آج اس کا بھی کہیں پتہ نشان نہیں ملتا۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ انگریزی ترجمے کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بہ لفظ ہے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسیٰ کی پیشين گوئی کا تفصیلی جائزہ

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسی ؑ کی بشارت کا تفصیلی جائزہ 
ارشاد باری تعالی : 

وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ " ﴿سورہ الصف: ۶﴾

اور یاد کرو عیسی ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہو ا رسول ہوں تصدیق کر نے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے ،  اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آۓ گا جس کا نام احمد  ہو گا۔

سید ابوالاعلی مودودی ؒ  اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

 " یہ قرآن مجید کی ایک بڑی اہم آیت ہے ، جس پر مخالفین اسلام کی طرف سے بڑی لے دے بھی کی گۓ ہے اور بدترین خیانت مجرمانہ سے بھی کام لیا ہے ، کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صاف صاف نام لے کر آپ کی آمد کی بشارت دی تھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ بحث کی جاۓ۔

حضرت الیاس ؑ (یا ال یاسین ؑ ) اور ان کی قوم

حضرت الیاس( ال یاسین ؑ  ) اور ان کی قوم 
حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے۔ ایک یہ مقام اور دوسرا سورۃ انعام آیت 85۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جِلْعاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے ۔) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبِی (elijah theTishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے۔ ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں : 

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam) کی نااہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے۔ ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنوبی فلسطین پر مشتمل تھا، آل داؤد کے قبضے میں رہا، اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہوگئی اور بعد میں سامریہ اس کا صدر مقام قرار پایا۔ اگرچہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگرگوں تھے، لیکن اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان ) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Iazebel) سے شادی کرلی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہوگیا، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔ 

بعل دیوتا کی تاریخی حیثیت

بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورۃ بقرہ آیت 228، سورۃ نساء آیت 127، سورۃ ہود آیت 72، اور سورۃ نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔ بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے، اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کر دیے، تو ان کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہوگیا تھا :

قوم لوط پر عذاب کی تفصیل بائیبل ، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں کی روشنی میں ۔

ارشاد باری تعالی ہے : 

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ لُوۡطٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۚ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۶۲﴾ۙ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۱۶۳﴾ۚ وَ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۴﴾ؕ اَتَاۡتُوۡنَ الذُّکۡرَانَ مِنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۵﴾ۙ وَ تَذَرُوۡنَ مَا خَلَقَ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ عٰدُوۡنَ ﴿۱۶۶﴾ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰلُوۡطُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُخۡرَجِیۡنَ ﴿۱۶۷﴾ قَالَ اِنِّیۡ لِعَمَلِکُمۡ مِّنَ الۡقَالِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾ؕ رَبِّ نَجِّنِیۡ وَ اَہۡلِیۡ مِمَّا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ فَنَجَّیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗۤ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۙ اِلَّا عَجُوۡزًا فِی الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِیۡنَ ﴿۱۷۲﴾ۚ وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۱۷۳﴾ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۴﴾ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۷۵) (سورۃ الشعراء : 140 تا 1759 )

ترجمہ :

"لُوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔  یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لُوط ؑ نے ان سے کہا تھا”کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔

کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو اور تمہاری بیویوں میں تمہارے ربّ نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟  بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔“ انہوں نے کہا”اے لُوطؑ ، اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔“  اس نے کہا”تمہارے کرتُوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں۔

اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے۔“  آخر کار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا، بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔  پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ "



 اس بارے میں  یہاں سید ابوالاعلی مودودی ؒ کی تفہیم القرآن سے  سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :114 ملاحظہ کریں،  وہ لکھتے ہیں :

" قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت لوط جب رات کے پچھلے پہر اپنے بال بچوں کو لے کر نکل گۓ تو صبح پو پھٹتے ہی یکایک ایک زور کا دھماکا ہوا (فَاَ خَذَ تْھُمُ الصَّیْحَۃُمُشْرِقِیْنَ O )، ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کر کے رکھ دیا (جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا )، ایک زبردست آتش فشانی اِنفجار سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر بر ساۓ گۓ (وَاَمْطَرْ نَا عَلَیْھَا حِجَا رَ ۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ O) اور ایک طوفانی ہو سے بھی ان پر پتھراؤ کیا گیا (اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ حَاصِباً)۔ 

بائیبل کے بیانات، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں ، جدید زمانے کی طبقات الارضی تحقیقات اور آثار قدیمہ کے مشاہدات سے اس عذاب کی تفصیلات پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں : 

زنا کے قانونی، اخلاقی اور تاریخی پہلوؤں کا جائزہ ۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ  ۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔  (سورہ النور : 2 ) 

ترجمہ :
زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔  اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔  اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ 

--------------------------
آیت کی تفسیر میں  سید مودودیؒ لکھتے ہیں : 

" اس مسئلے کے بہت سے قانونی، اخلاقی اور تاریخی پہلو تشریح طلب ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا جائے تو موجودہ زمانے میں ایک آدمی کے لیے اس تشریع الہی کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے ذیل میں ہم اس کے مختلف پہلوؤں پر سلسلہ وار روشنی ڈالیں گے :

(١) زنا کا عام مفہوم جس سے ہر شخص واقف ہے، یہ ہے کہ " ایک مرد اور ایک عورت بغیر اس کے کہ ان کے درمیان جائز رشتہ زن و شوہر ہو، باہم مباشرت کا ارتکاب کریں"۔

 اس فعل کا اخلاقا برا ہونا، یا مذہبا گناہ ہونا، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہونا، ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں۔ اور اس میں بجز ان متفرق لوگوں کے جنہوں نے اپنی عقل کو اپنی نفس پرستی کے تابع کردیا ہے، یا جنہوں نے خبطی پن کی اپچ کو فلسفہ طرازی سمجھ رکھا ہے، کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاق رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت خود زنا کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے۔ 

حضرت ایوب ؑ کی شخصیت ، سید ابوالاعلی مودودیؒ

ارشاد باری تعالی :

 "وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ،  فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ ذِکۡرٰی لِلۡعٰبِدِیۡنَ " سورۃ الانبیاء : 83-84)

ترجمہ : 
اور یہی ﴿ہوشمندی اور حکم و علم کی نعمت﴾ ہم نے ایوبؑ  کو دی تھی۔ یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ ” مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تُو ارحم الراحمین ہے۔“ 77 ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، 78 اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ 

-----------------

ان آیات کی تفسیر میں مولانا مودوی ؒ  لکھتے ہیں : 

" حضرت ایوب کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت، ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے ۔ جدید زمانے کے محققینِ میں سے کوئی ان کو اسرائیلی قرار دیتا ہے ، کوئی مصری اور کوئی عرب ۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے کا ہے ، کوئی انہیں حضرت داؤد سلیمان کے زمانے کا آدمی قرار دیتا ہے ، اور کوئی ان سے بھی متاخر ۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سِفْرِ ایوب یا صحیفہ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں شامل ہے ۔ اسی کی زبان، انداز بیان، اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں ، نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سِفْرِ ایوب کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے اور اس کا بیان قرآن مجید کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جا سکتا۔ لہٰذا ہم اس پہر قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے ۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ یسعیاہ نبی اور حزقی ایل نبی کی صحیفوں میں ان کا ذکر آیا ہے ، اور یہ صحیفے تاریخی حیثیت سے زیادہ مستند ہیں ۔ یسعیاہ نبی آٹھویں صدی اور حزقی ایل نبی چھٹی صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں ، اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی یا اس سے پہلے کے بزرگ ہیں ۔ رہی ان کی قومیت تو سورہ نساء آیت 163 اور سورہ انعام آیت 84 میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان تو یہی ہوتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے ، مگر وہب بن منَبّہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے بیٹے عیسُو کی نسل سے تھے ۔ 

بائبل کے ترجمے کی کہانی


ڈاکٹر کوثرمحمود

ہمارے اُردو دان طبقے کو لفظ بائبل ذرا نامانوس لگے گا ۔ ہم نے قرآن سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں تورات، زبور اور انجیل کا نام سُن رکھا ہے لیکن ان پر فرداً فرداً بات کرنے سے پہلے یہ سُن لیجئے کہ حدیث میں وارد ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے جن میں 315صاحبِ کتاب تھے۔ آدم ؑ کے دس صحیفوں کا ذکر ملتا ہے لیکن اب وہ ناپید ہیں ۔ قدیم ترین صحائف میں حضرت ادریس ؑ (ا خنوخ یا انوخ) کا صحیفہ بحرِ مردار کے پاس دریافت ہوا ہے جس کا حال ہی میں انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔

علاوہ ازیں آتش پرستوں کے ہاں قدیم مذہبی کتاب؛ زردشت کی ’’اوستا‘‘ پائی جاتی ہے جو ژند زبان میں لکھی گئی پھر جب ژند زبان متروک ہو گئی تو اس کا خلاصہ اور شرح ’’ پاژند‘‘ نامی زبان میں لکھا گیا اور اب اس کا بھی صرف دسواں حصہ محفوظ ہے۔

ہندوستان میں بھی کچھ مذہبی کتابیں مثلاً وید ، پران ، اپنثد اور دوسری کتابیں پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ہندو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاکھوں سال پرانی ہیں لیکن علمائے مستشرقین نے ان کی قدامت کو 1500سے1200 قبل مسیح کے لگ بھگ مانا ہے۔ ’سر ایڈورڈ کا لبروک ‘نے اسے1400قبل مسیح کی تصنیف مانا ہے۔ *۱

عام طور پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ تورات ،زبور اورانجیل مستقل اور علیحدہ علیحدہ کتابیں ہیں لیکن ہمارے ہاں جو بائبل ملتی ہے یہ ایک کتاب نہیں بلکہ تین زبانوں عبرانی، آرامی اور یونانی کی بہت سی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ آج تک دُنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے اور اب تک اس کے531 زبانوں میں مکمل تراجم ہو چکے ہیں تین ہزار کے لگ بھگ اِس کے جزوی تراجم موجود ہیں۔ بائبل کے دو حصے ہیں ،

1۔۔۔عہد نامۂ عتیق ( یا عہدنامۂ قدیم)
2۔۔۔ عہد نامہ جدید

عہد نامۂ عتیق میں حضرت موسی ؑ سے منسوب پانچ کتابیں ہیں جن میں ایک نام تورہ (Torah) بمعنی قانون ہے جسے ہم تورات کے نام سے جانتے ہیں یہ اُن احکامات کا مجموعہ ہے جو موسیٰ ؑ پر الواح کی شکل میں نازل ہوئے تھے۔
اسی طرح اسلامی تعلیمات کے مطابق داؤد ؑ پر اُترنے والی کتاب کا نام زبور تھا۔ یہ زبور بھی عہدنامۂ عتیق میں ’سام‘ (Psalm) نامی کتاب میں ’’ خدا کی حمد و ثنا کی نظمیں‘‘ کے نام سے موجود ہے۔

سامری اور بچھڑے کی حقیقت

ارشاد باری تعالی : 

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ 95؀  قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِيْ نَفْسِيْ 96؀ (سورۃ طہ )

ترجمہ : " موسیٰ نے کہا کہ اے سامری، تمھارا کیا معاملہ ہے۔  اس نے کہا کہ مجھ کو وہ چیز نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تو میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھائی اور وہ اس میں ڈال دی۔ میرے نفس نے مجھ کو ایسا ہی سمجھایا۔" 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید ابوالاعلی مودودیؒ نے کی تفسیر میں لکھا ہے کہ " اس آیت کی تفسیر میں دو گروہوں کی طرف سے عجیب کھینچ تان کی گئی ہے۔ 

ایک گروہ جس میں قدیم طرز کے مفسرین کی بڑی اکثریت شامل ہے، اس کا یہ مطلب بیان کرتا ہے کہ " سامری نے رسول یعنی حضرت جبریل کو گزرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اور ان کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھا لی تھی، اور یہ اسی مٹی کی کرامت تھی کہ جب اسے بچھڑے کے بت پر ڈالا گیا تو اس میں زندگی پیدا ہوگئی اور جیتے جاگتے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی۔ " حالانکہ قرآن یہ نہیں کہہ رہا ہے فی الواقع ایسا ہوا تھا۔ وہ صرف یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت موسیٰ کی باز پرس کے جواب میں سامری نے یہ بات بنائی۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ مفسرین اس کو ایک امر واقعی، اور قرآن کی بیان کردہ حقیقت کیسے سمجھ بیٹھے۔ 

دوسرا گروہ سامری کے قول کو ایک اور ہی معنی پہناتا ہے۔ اس کی تاویل کے مطابق سامری نے دراصل یہ کہا تھا کہ " مجھے رسول، یعنی حضرت موسیٰ میں، یا ان کے دین میں وہ کمزوری نظر آئی جو دوسروں کو نظر نہ آئی۔ اس لیے میں نے ایک حد تک تو اس کے نقش قدم کی پیروی کی، مگر بعد میں اسے چھوڑ دیا "۔ یہ تاویل غالباً سب سے پہلے ابو مسلم اصفہانی کو سوجھی تھی، پھر امام رازی نے اس کو اپنی تفسیر میں نقل کر کے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا، اور اب طرز جدید کے مفسرین بالعموم اسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ لیکن یہ حضرات اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ قرآن معموں اور پہیلیوں کی زبان میں نازل نہیں ہوا ہے بلکہ صاف اور عام فہم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کو ایک عام عرب اپنی زبان کے معروف محاورے کے مطابق سمجھ سکے۔ کوئی شخص جو عربی زبان کے معروف محاورے اور روز مرہ سے واقف ہو، کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ سامری کے اس مافی الضمیر کو ادا کرنے کے لیے عربی مبین میں وہ الفاظ استعمال کیے جائیں گے جو آیت زیر تفسیر میں پائے جاتے ہیں۔ نہ ایک عام عرب ان الفاظ کو سن کر کبھی وہ مطلب لے سکتا ہے جو یہ حضرات بیان کر رہے ہیں۔ لغت کی کتابوں میں سے کسی لفظ کے وہ مختلف مفہومات تلاش کرلینا جو مختلف محاوروں میں اس سے مراد لیے جاتے ہوں۔ اور ان میں سے کسی مفہوم کو لا کر ایک ایسی عبارت میں چسپاں کر دینا جہاں ایک عام عرب اس لفظ کو ہرگز اس مفہوم میں استعمال نہ کرے گا۔ زباں دانی تو نہیں ہو سکتا، البتہ سخن سازی کا کرتب ضرور مانا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے کرتب فرہنگ آصفیہ ہاتھ میں لے کر اگر کوئی شخص خود ان حضرات کی اردو تحریروں میں، یا آکسفورڈ ڈکشنری لے کر ان کی انگریزی تحریروں میں دکھانے شروع کر دے، تو شاید اپنے کلام کی دو چار ہی تاویلیں سن کر یہ حضرات چیخ اٹھیں۔ بالعموم قرآن میں ایسی تاویلیں اس وقت کی جاتی ہیں جبکہ ایک شخص کسی آیت کے صاف اور سیدھے مطلب کو دیکھ کر اپنی دانست میں یہ سمجھتا ہے کہ یہاں تو اللہ میاں سے بڑی بےاحتیاطی ہوگئی، لاؤ میں ان کی بات اس طرح بنا دوں کہ ان کی غلطی کا پردہ ڈھک جائے اور لوگوں کو ان پر ہنسنے کا موقع نہ ملے۔ 

بنی اسرائیل کی تباہی (2) ، سید ابوالاعلی مودودیؒ


فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا   (بنی اسرائیل : 7) 

پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد ﴿بیت المقدس﴾ میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کر کے رکھ دیں ۔ 

--------------------------------

اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے :

مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ پومپی سن ٦٣ ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی جو بالآخر سن ٤٠ ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی۔ یہ ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر سن ٤٠ سے ٤ قبل مسیح تک رہی۔ اس نے ایک طرف مذہبی پیشواؤں کی سر پرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا، اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصل کی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔

ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

یہودیوں کا عروج ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا  ( سورۃ بنی اسرائیل : 6)

اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ 
--------------------------
" یہ اشارہ ہے اس مہلت کی طرف جو یہودیوں (یعنی اہل یہودیہ) کو بابل کی اسیری سے رہائی کے بعد عطا کی گئی۔ جہاں تک سامریہ اور اسرئیل کے لوگوں کا تعلق ہے، وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اٹھے، مگر یہودیہ کے باشندوں میں ایک ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ان لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو یہودیہ میں بچے کھچے رہ گئے تھے، اور ان لوگوں کو بھی توبہ و انابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کر دیے گئے تھے۔ آخرکار رحمت الہی ان کی مدد گار ہوئی۔ بابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ سن ٥٣٩ قبل مسیح میں ایرانی فاتح سائرس (خورس یا خسرو) نے بابل کو فتح کیا اور اس کے دوسرے ہی سال اس نے فرمان جاری کردیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔ چنانچہ اس کے بعد یہودیوں کے قافلے پر قافلے یہودیہ کی طرف جانے شروع ہوگئے جن کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔ سائرس نے یہودیوں کی ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی اجازت بھی دی، مگر ایک عرصے تک ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آباد ہوگئی تھیں، مزاحمت کرتی رہیں۔ آخر داریوس (وارا) اول نے سن ٥٢٢ ق م یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے زرو بابل کو یہودیہ کا گورنر مقرر کیا اور اس نے حِجِّی نبی، زکریا نبی اور سردار کاہن یشوع کی نگرانی میں ہیکل مقدس نئے سرے سے تعمیر کیا۔ پھر سن ٤٥٧ ق م میں ایک جلاوطن گروہ کے ساتھ حضرت عزیر (عزرا) یہودیہ پہنچے اور شاہ ایران ارتخششتا (ارٹا کسر سزیا اردشیر) نے ایک فرمان کی رو سے ان کو مجاز کیا کہ :

بنی اسرائیل کی تباہی (1) ، سید ابوالاعلی مودودی ؒ

ارشاد باری تعالی ہے : 

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل آیت 5 ) 

آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ 
----------------------------------
" اس سے مراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔ اس کا تاریخی پس منظر سمجنے کے لیے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاء سے نقل کرچکے ہیں، بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو امامت اقوام کے منصب سے گر اکر ایک شکست خوردہ، غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔

حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوٹے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ حتِّی اَمَّوری کنعانی، فِرِزِّی، حَوِی، یبوسی، فِلستی وغیرہ سان قوموں میں بد تیرن قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔ ان کے سب سے بڑے معبود کا نام ایل تھا جسے یہ دیوتاؤں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموما سانڈے سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ اس کی بیوی کا نام عشیرہ تھا اور اس سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی جن کی تعداد ٧٠ تک پہنچتی تھی۔ اس کی اولاد میں سب سے زیادہ زبردست بعل تھا جس کو بارش اور روئیدگی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ شمالی علاقوں میں اس کی بیوی اناث کہلاتی تھی اور فلسطین میں عستارات۔ یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔ ان کے علاوہ کوئی دیوتا موت کا مالک تھا، کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی۔ کسی دیوتا کو وبا اور قحط لانے کے اختیارات تفویض کیے گئے تھے، اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔ ان دیوتاؤں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی ان کے ساتھ مشتہر ہونا پسند نہ کریں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسی کمینہ ہستیوں کو خدا بنائیں اور ان کی پرستش کریں وہ اخلاق کی ذلیل ترین پستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جو حالات آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں وہ شدید اخلاقی گراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی کا عام رواج تھا۔ ان کے معابد زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔ عورتوں کو دیوداسیاں بنا کر عبادت گاہوں میں رکھنا اور ان سے بدکاریاں کرنا عبادت کے اجزاء میں داخل تھا۔ اور اسی طرح کی اور بہت سی بد اخلاقیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں ۔