بنی اسرائٰل کے علماء، مشائخ اور صوفیوں پر قرآن کی تنقید کا جائزہ

قرآنِ مجید جب انسانی تاریخ کے آئینے میں مذہبی طبقوں کا جائزہ لیتا ہے تو وہ محض تاریخ بیان نہیں کرتا بلکہ ایک زندہ تنبیہ پیش کرتا ہے—ایسی تنبیہ جو ہر دور کے علماء، مشائخ اور مذہبی پیشواؤں کے لیے آئینہ ہے۔ بنی اسرائیل اور نصاریٰ کے علماء و صوفیاء پر قرآن کی تنقید دراصل ایک طرزِ فکر اور ایک بگڑے ہوئے مذہبی رویّے کی نشاندہی ہے، جو جب بھی جنم لے، دین کی روح کو مسخ کر دیتا ہے۔

قرآن بتاتا ہے کہ بنی اسرائیل کے بعض علماء علم کے حامل ہونے کے باوجود اس کی روح سے خالی ہو گئے تھے۔ ان کے پاس کتاب تھی، الفاظ تھے، مگر شعور اور عمل ناپید تھا۔ اسی کیفیت کو ایک نہایت بلیغ مثال سے واضح کیا گیا:
“مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا” (سورۃ الجمعہ 62:5)
یعنی جن لوگوں کو تورات کا بوجھ دیا گیا مگر انہوں نے اس کا حق ادا نہ کیا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ یہ تشبیہ محض تحقیر نہیں بلکہ ایک گہرا فکری نوحہ ہے—علم جب عمل سے خالی ہو جائے تو وہ انسان کو بلند نہیں بلکہ بوجھل بنا دیتا ہے۔

اسی طرح قرآن ان علماء پر بھی تنقید کرتا ہے جو دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ” (سورۃ التوبہ 9:34)
یہاں “احبار” اور “رہبان” محض مذہبی عہدے نہیں بلکہ ایک ذہنیت کی نمائندگی کرتے ہیں—وہ ذہنیت جو دین کو خدمت کے بجائے تجارت بنا دیتی ہے، اور لوگوں کی عقیدت کو اپنی دنیاوی منفعت کے لیے استعمال کرتی ہے۔

نصاریٰ کے حوالے سے قرآن ایک اور اہم انحراف کی نشاندہی کرتا ہے: رہبانیت۔ یہ وہ خودساختہ زہد تھا جسے اللہ نے فرض نہیں کیا تھا مگر لوگوں نے اسے دین کا حصہ بنا لیا:
“وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ” (سورۃ الحدید 57:27)
یہ آیت اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ دین میں اضافہ—even اگر وہ بظاہر عبادت اور تقویٰ کے نام پر ہو—بھی گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔ جب انسان اللہ کے مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے روحانیت کے راستے گھڑتا ہے تو وہ درحقیقت دین کی اصل روح سے دور ہو جاتا ہے۔

قرآن ایک اور سنگین پہلو کو بھی بے نقاب کرتا ہے، اور وہ ہے علماء و مشائخ کی اندھی اطاعت:
“اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ” (سورۃ التوبہ 9:31)
یہاں “ارباب” بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں سجدہ کیا جاتا تھا، بلکہ ان کی بات کو بلا دلیل، بلا تحقیق، اور بلا چون و چرا مانا جاتا تھا—گویا وہی حلال و حرام کے مختار ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دین اللہ کی ہدایت سے نکل کر انسانوں کی خواہشات کا تابع بن جاتا ہے۔

یہ تمام آیات دراصل ایک بڑے اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہیں: دین کا بگاڑ ہمیشہ باہر سے نہیں آتا، بلکہ اکثر وہ ان ہی لوگوں کے ہاتھوں ہوتا ہے جو اس کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔ جب علم شعور سے خالی ہو جائے، جب عبادت بدعت میں بدل جائے، جب قیادت خدمت کے بجائے اقتدار بن جائے، اور جب اطاعت تحقیق کے بغیر ہو—تو مذہب اپنی اصل کھو دیتا ہے۔

یہود و نصاریٰ کا ذکر قرآن میں اس لیے نہیں کہ ہم انہیں موردِ الزام ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیں، بلکہ اس لیے کہ ہم ان کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ اگر آج بھی کوئی طبقہ علم کو عمل سے جدا کرے، دین کو دنیا کا ذریعہ بنائے، خودساختہ روحانیت کو فروغ دے، یا اپنی اندھی تقلید کروائے—تو وہ اسی قرآنی تنقید کا مصداق بن سکتا ہے۔

قرآن کا پیغام واضح ہے: دین کی اصل روح اخلاص، شعور، اور اتباعِ حق میں ہے، نہ کہ ظاہری علم، نمائشی زہد، یا شخصیت پرستی میں۔ جو بھی اس روح سے ہٹتا ہے، وہ چاہے کسی بھی زمانے یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، وہ اسی تنقید کے دائرے میں آتا ہے جسے قرآن نے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے۔